00:00In the name of the Lord
00:30کہاں یہ ممکن کہ حقِ مدھت ادا ہو ربِ انام تیرا
00:33میرے تخیل کی دسترس میں نہیں ہے
00:37ہرگز مقام تیرا
00:39نہیں ہے کوئی بھی چیز ایسی
00:42بقا ملی ہو دوام جس کو
00:45مگر ہمیشہ رہے گا باقی
00:47الہی بس ایک نام تیرا
00:49سیاہ تیرا
00:50سفید تیرا
00:52برے بھی تیرے
00:53بھلے بھی تیرے
00:54نہیں ہے تفریق نیک و بد کی
00:56کرم جہاں میں ہے عام تیرا
00:59نہیں ہے کس پہ تیری حکومت
01:02نہیں ہے کس شے پہ چھاپ تیری
01:05ارے زمین پہ ہے تیری صبح و روشن
01:08فلک پہ ماہ تمام تیرا
01:11نگاہ اس کی اٹھی نہیں ہے
01:14تیرے علاوہ کسی کی جانتی
01:15ملا ہے وحدت کے میکدے سے
01:18جسے تقرب کا جانتی
01:21تیرے سوا کون ہے خدا
01:23مدد بھی چاہیں تو کس سے چاہیں
01:25اس تجھی کو ہر دم پکارتے ہیں
01:28کہ اسمِ عاظم ہے نام تیرا
01:32جنابِ اقتص میں تیری حافظ شفیع لاتا ہے اس نبی کو
01:37جنابِ اقتص میں تیری حافظ شفیع لاتا ہے اس نبی کو
01:41کہ جس پہ آتا ہے لا مقام سے درود تیرا سلام تیرا اور ربِ کعبہ کے حضور یوں بھی عرض
01:52گزار ہوتے ہیں کہ یہ زمین آسمان بھی تیرا ہے
01:55یہ زمین آسمان بھی تیرا ہے ارے عرش کیا لا مقام بھی تیرا ہے میرا کچھ بھی نہیں ہے دنیا
02:02میں یہ میرا قسرِ جان بھی تیرا ہے
02:05یہ خلا میں جو دیکھتے ہیں ہم جادہِ کحکشہ بھی تیرا ہے رنگ اور نور کا ہے تو خالق
02:13ارے گل تیرے گل ستا بھی تیرا ہے سجدہ واجب ہوا ہے تیرے لیے اور حکمِ عذا بھی تیرا ہے
02:21جو پیمبر زمین پہ بھیجے ہیں ان کا حسنِ بیان بھی تیرا ہے دارِ فانی ہے تیرے قبضے میں عالمِ
02:29جانویدہ بھی تیرا ہے یہ فرشتے ہیں آسمان کے سفیر حکمِ پیغمبران بھی تیرا ہے
02:35سب جبینے چھکی ہیں سجدے میں سب جبینے چھکی ہیں سجدے میں
02:42ارے سجدے کو آستا بھی تیرا ہے یہ سمندر یہ آبشار نگار اور یہ خاکتا بھی تیرا ہے
02:51تو اس آخر میں ان دعائیہ کلمات کے ساتھ یا دعائیہ اشار کے ساتھ اختتام کرتے ہیں
02:56اے خالقِ کونین اے خالقِ کونین مجھے بھی یہ ہنر دے لفظوں کو میرے روشنی شمس و قمر دے
03:08جب تیری سنا لکھو تو خوشبو ہو فضا میں سانسوں کو بھی تو میری فضائے گلے تر دے
03:17در تیرا ہو جس پر کے چھکی میری جبی ہوں کیسے میں گزاروں
03:22مجھے وہ شام و سہر دے جو گمبدِ خزران پہ ہے انوار کی بارش
03:28جلوے تیرے میں دیکھ سکوں ایسی نظر دے وہ دل دے
03:33کہ جس میں ہو محبت تیری مولا جو تیری حضوری میں چھکے وہ مجھے سردے سکے
03:41بیٹھا ہوں میں مدت سے تیری آس لگائے
03:44بیٹھا ہوں میں مدت سے تیری آس لگائے
03:47مکہ کا مدینہ کا مجھے حضنِ سفر دے
03:52یہ بندے تیرے بھیڑ میں دنیا کی نہ بھٹکے
03:55جو تیری حدوں سے ملے وہ راہ گزر دے
04:01جس کا ہے ازل اور عبد وہ میرا معبود
04:05جب حمد لکھوں لفظوں کے وہ لالو گوھر دے
04:09اور مقبول نگار اس کی غزوری میں ہو ہر شیر
04:13مقبول نگار اس کی غزوری میں ہو ہر شیر
04:18میرے بھی قلم میں میرے مولا وہ اثر دے
04:24اشتراہ
Comments