00:00حضور علیہ السلام پر جب حج کی فرضیت کے احکام نازل ہوئے
00:03تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کو جمع کیا
00:06اور جمع کرتے ہوئے ایک طویل خدبہ دیا
00:08اور اس خدبے میں حضور سید عالم نے یہ ارشاہ فرمایا
00:11اے لوگو تم پر اللہ نے حج کو فرض کر دیا ہے
00:15فحجو
00:16تو تم حج کرو
00:18اب کچھ لوگوں کو یہ تشویش الہی خوئی
00:20کہ جناب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم
00:21یعنی سمجھنے کے
00:22کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرما
00:24کہ حج کرو
00:25اب سوال ہوا کہ یہ حج کا ٹائم جو آج زلہجہ کی نو تاریخ کا ہے
00:29تو
00:30یعنی جو بنتا ہے
00:31اسی طرح ہر سال زلہجہ آتا ہے
00:34ہر سال جناب جو حج کے ایام آتے ہیں
00:37اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں
00:39کہ تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے
00:42تو تم حج کرو
00:42تو سرکار کے ایک صحابی کھڑے والی صلی اللہ علیہ وسلم
00:45انہوں نے اپنا سوال حضور کی بارگاہ میں
00:47سمجھنے کے لئے ارز کیا
00:49کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جو آپ فرمانے ہیں
00:51حج کرو تو کہیے حج جو ہے
00:53وہ ہر سال ہم پر فرض رہے گا
00:54یہ سے نماز فرض ہے
00:55تو فسقتن نبی صلی اللہ علیہ وسلم
00:57حضور خاموش ہو گئے
00:58کوئی جواب نہیں دی
00:59اور سرکار نے
01:00دگر اور جو ضروری باتیں تھی
01:01وہ آپ نے فرمائی
01:02دوبارہ حضور اسی موڑ پر آئے
01:04اور فرمایا
01:15سرکار خاموش ہو گئے
01:16سرکار نے جواب نہیں دیا
01:17پھر حضور نے چند احکامات
01:19اور ضروری باتیں
01:20کہ پھر دوبارہ حضور اسی بات کی طرف آئے
01:21لوگوں تم پر حج فرض ہو گیا ہے
01:23اور تم حج کرو
01:24پھر وہ کھڑے ہوئے
01:25کہ لگے
01:26یا رسول اللہ کے ہر سال فرض ہو گیا ہے
01:28تو سرکار نے ان کی طرف دیکھ کے فرمایا
01:30مجھ سے بار بار نہ پوچھو
01:31اگر میں ہاں کہہ دوں گا
01:33کہ ہر سال فرض ہے
01:34تو تم پر فرض ہو جائے گا
01:35جب میں نے یہ کہا ہی نہیں ہے
01:38جب میں نے تمہیں یہ کہا ہی نہیں ہے
01:40کہ ہر سال ہے
01:41میں نے کہا تم کو حرج کرو
01:42تو جب میں نے عمر کی ایک بات کی ہے
01:44تو اس کے ایک فرد کامل کو ادا کر لو
01:45تم تمہاری طرف سے وہ
01:46گوئے کہ فرض ادا ہو جائے گا
01:48لیکن تم جو بات کو کریت کر
01:50مجھ سے پوچھ رہے ہو
01:51ہر سال ہر سال
01:52تو اللہ حب العالمین نے
01:53جناب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم
01:54کو جو مقام و مرتبہ فرمایا
01:56سرکار نے فرما
01:57اگر میری زبان سے ہاں نکل گیا
01:59تو لوجبت
02:01تو تم پر ہر سال
02:03حج فرض ہو جائے گا
02:04یہاں سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
02:06کی منصب نبوت کی
02:08وہ تشریعی حیثیت پتا چل گئی
02:10کہ حضور کا ہاں کہنا
02:12رب کا ہاں کہنا ہے
02:13حضور کا نہ کہنا
02:14رب کا نہ کہنا ہے
02:15اور یہاں پر تمام محدثین
02:17لکھتے چلے آئے ہیں
02:18کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
02:20کو اللہ نے
02:21نفاذ شریعت کا اختیار دیا ہے
02:23اور تشریعی اختیار دیا ہے
02:25کہ حضور علیہ السلام چاہیں
02:27تو ایک حکم کو
02:29جو ایک بندے کے لیے ہیں
02:31اس کو دوسرے پر بھی نافذ کر دیں
02:32اور چاہیں تو ایک عام حکم کو
02:35ایک بندے کو اس سے مستثنہ کر دیں
02:37تو یہاں پر حضور علیہ السلام کا اختیار جو ہے
02:39وہ فرما
02:40میں اگر
02:41لو کنتو
02:42میں اگر
02:42میں اگر ہاں کہدو
02:45تو تم پر یہ بات فرض ہو جائے گی
02:46پھر سرکار نے شریعت کا ایک چلن بتایا
02:48کیونکہ قرآن نے بھی سور المائدہ میں کہا ہے
02:50کہ نبی سے قصر سوال نہ کرو
02:51جب تمہیں کہہ دیا گیا ہے
02:53تو گائیں زبا کرو
02:54تم نے کہا جی کلر کیا ہونا چاہیے
02:55عمر کیا ہونی چاہیے
02:56یہ کیا ہونی چاہیے
02:57تو تمہیں اتنے سوال کر کے
03:00اپنے لئے خود تنگی کر لی ہے
03:01تو جب تمہیں کہا ہے کر لو
03:02تو تم کر لیتے
03:03کوئی بھی گائیں کاٹ لیتے
03:04تو یہاں پر فرمایا
03:05حج ہے تو کر لو
03:06لیکن پھر حضور علیہ السلام نے
03:08کیونکہ شریعت نے قیامت تک
03:09باقی رہنا تھا
03:11تو اس کا پورا
03:12ڈسپلین نے ذکر کیا
03:13جیسے جامعہ ترمیزی کے اندر موجود ہے
03:15سرکار دوالم صلی اللہ علیہ وسلم
03:16صحابی نے پوچھا
03:17حضور یہ کھانا کیسا ہے
03:18کھا جائی زکا
03:19حضور یہ کھانا کیسا ہے
03:20حضور یہ کھانا کیسا ہے
03:22تو سرکار نے فرمایا
03:23ہر چیز کے بارے میں
03:24تم مجھ سے پوچھتے رہو گے
03:25تو فرمایا سنو
03:29حلال وہی ہے جو اللہ نے
03:31اپنی کتاب میں نام لے کر
03:33حلال کر دیا ہے
03:37حرام وہی ہے جس کو
03:38اللہ نے نام لے کر
03:39اپنی کتاب میں حرام کر دیا
03:41یہ ہے
03:41اور جس کو شریعت متحرہ
03:43نے نومینیٹ کر کے
03:44کچھ بھی نہیں کہا
03:46نہ اسے حلال کہا
03:48نہ حرام کہا
03:48اس کا نام ہی نہیں لیا
03:49یہ تمہارے لئے معاف ہے
03:51لہٰذا
03:52تم اس کے بارے میں سوال نہ کرو
03:54اسی سے امام عاظم حنیفہ رحمہ اللہ
03:56اور دگر اہیمان مسئلہ نکالا
03:57الاصلن فیلشی آئی باہا
03:59اصل میں ہر چیز جائز ہوتی ہے
04:01جب تک شریعت متحرہ
04:03جو ہے اس کا نام لے کر
04:04اس کو منانا کرے
04:05سرکاری دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:07ارشاہ فرما
04:07یہ اب قائدہ آ رہا ہے
04:08لوگ جو بدت بدت کے فتوے لگاتے ہیں
04:10اس بات کو یہاں سمجھایا جا رہا ہے
04:12فرمایا دیکھو اگر میں ہاں کہہ دوں گا
04:14تو حج فرض ہو جائے گا
04:15لیکن شریعت کا ڈسپلن سمجھو
04:17ارشاہ فرما
04:18جب میں کسی کا نام لے کر تم سے کہوں
04:20تو فوراں وہ کام کر لو
04:21جب میں کسی چیز کو نام لے کر کہوں نہیں
04:24تو پھر تم اس سے بعد آ جاؤ
04:26یعنی کیا کہنے کا مقصد تھا
04:28کہ جس کو میں خود ڈسکس نہ کروں
04:30تو اس کا مطلب وہ تمہارے لئے جائز ہوتا ہے
04:32تو تم اس سے اس بات کو کریدہ نہ کرو
04:35جس چیز لئے اہل سنت کہتے ہیں
04:37یہ جیسا ہم سے سوال ہوتا ہے
04:38یہ فلان چیز جناب جو ہے
04:48تو ہمارے علماء سادہ سا جواب پوچھتے ہیں
04:50کہ اس کے ناجائز ہونے کی دلیل کیا ہے
04:52بہت اچھے واہ واہ
04:53تو کہنے کے جائز کی دلیل بتاؤ
04:55میں نے کہا یہی تو حضور کہہ رہے ہیں
04:56جس چیز کو ذکر ہی نہیں کیا
04:57تو وہ اس کے جائز ہونے کی دلیل تھی
04:59آپ منع کی دلیل بتاؤ گے
05:02جائز ہونے کی دلیل صرف یہی کافی ہے
05:04کہ اس کو منع نہیں کیا گیا ہے
05:05اس کو منع نہیں کیا گیا ہے
05:08ایسے بے شمار حوالے یہاں پر گویا کہ
05:10ذکر کیے جا سکتے ہیں
05:11تو یہ بتدریش شریعت متحرہ نے
05:13اس احکام کو فرض کیا
05:15اور جناب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم
05:17ارکن آزم کے لئے جب روانہ ہوئے ہیں
05:19تو اس چوبیس زل قادا کو
05:21رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:23مدینہ منورہ میں
05:24زہر کی نماز آپ نے پڑھائی ہے
05:26اور اثر کی نماز آپ نے بیر علی پر پڑھی ہے
05:28جیسے مقات مدینہ چاہتے ہیں
05:30اور رات بھر حضور وہاں پر رکے ہیں
05:32چوبیس کو حضور چلے ہیں
05:40صلی اللہ علیہ وسلم
05:40وہ مکہ مکرمہ میں پہنچے
05:43اور آپ نے حجی قرآن کا احرام پانا
05:46زندگی کے تمام شعبوں میں
05:48دینی رہنمائی حاصل کرنے
05:49اور آخرت کو بہتر کرنے کے لئے
05:52ہمارے یوٹیوب چینل
05:53اسلامی لیجیٹل سٹوڈیو کو
05:55سبسکرائب کرلیں
05:56اور بیل آئیکن بھی پریس کرلیں
05:58ہمارا آئی ڈی ایس
06:01قرآن سے بھی ملاتا ہے
06:04ہمارا آئی ڈی ایس
Comments