00:00Pakistan has 45,000 MW
00:02in the way we have 16,500 MW
00:08in the way we have 16,500 MW
00:09in the way we have 8-10 hours of load shedding
00:14in the way we have 8-10 hours of load shedding
00:17so what happens to be the case?
00:22Pakistan has 24,5% of the load shedding
00:26in the way we have 7,8% of the load shedding
00:29in the way we have 12,2% of the load shedding
00:34in the way we have 25% of the load shedding
00:39in the way we have 100% of the load shedding
00:40why do we have so much of the load shedding?
00:44because we have IPPs
00:46which we call independent power producers
00:48these plants have been made for years
00:52and these plants are like
00:55these plants do not do it
00:57or do not do it
00:58the government has given them
01:00and it is called capacity charges
01:04for capacity
01:04for example one power plant
01:07can be 100 MW
01:08but it can be 90 MW
01:12or it can be 10 MW
01:14but the government
01:15who has payment
01:16100 MW
01:18should be 10 MW
01:21or 90 MW
01:53which was the capacity
01:53ڈیا جا رہا ہے اور عوام کو بجلی بھی نہیں مل رہی ان کپیسٹی چارجز
01:56نے پاکستان کی بجلی کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے پاکستان
02:00سالانہ پچیس سو سے اٹھائیس سو ارب روپے ان پاور پلانٹس
02:04کو کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کر رہا ہے جس کی وجہ سے
02:07حکومت پر کرزہ چڑھتا جا رہا ہے اور حکومت کرزوں کے نیچے
02:11آتی جا رہی ہے اور جب حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے پھر وہ
02:14آئی ایم ایف سے کرزے لیتی ہے اور ان کی ادا کیا کرتی ہے آئی ایم ایف
02:18کو سود الگ سے ادا کیا جاتا ہے پاکستان مکروز بھی ہوتا جاتا ہے
02:22اور یہ کپیسٹی چارجز بھی دینے ہی دینے ہیں لوڈ شیڈنگ ہوتی
02:25جا رہی ہے اور عوام کا بھرکس نکلتا جا رہا ہے ساری دنیا سولر
02:29پر شفٹ ہو رہی ہے اور سولر سارفین کو سہولیات دے رہی ہے لیکن پاکستان
02:33میں الٹی گنگا بہ رہی ہے عمران خان صاحب کی گورنمنٹ تھی تو
02:36سترہ فیصد سیل ٹیکس سولر پینلز پر لگایا گیا تھا پی ڈیم کی
02:41حکومت میں شہباز شریف صاحب وزیراعظم بنے تو انہوں نے اعلان
02:44کیا کہ یہ تمام ٹیکسز ختم ہو جائیں گے سولر کو ریلیف دیں گے اور
02:48نیٹ میٹرنگ کو متعارف کروایا جائے گا جس سے لوگوں نے دھڑا دھڑ
02:52اپنے زیور پلاٹ انویسمنٹ بیچ باج کر سولر خریدنا شروع کر دی
02:56ہے اب شہباز شریف صاحب دوبارہ وزیراعظم بنے پی ایم ایل این کی
03:00گورنمنٹ میں اور انہوں نے دو ہزار پچیس سبیس کے بجڑ میں سولر
03:03پینلز پر اٹھارہ فیصد ٹیکس لگا دیا مطلب عمران خان کی گورنمنٹ
03:07سے بھی ایک فیصد زیادہ کچھ مہینوں پہلے تھا پانچ سو اسی وارٹ کا
03:14سولر پینل سولہ سے سترہ ہزار کا آ جاتا تھا جس کی اب موجودہ
03:18مارکیٹ میں قیمت 26 سے 27000 روپے ہے اور نیٹ میٹرنگ کو بھی
03:21ختم کر دیا گیا ہے پہلے کیا ہوتا تھا ایک شخص جس نے اپنے گھر
03:24میں ہزار یونٹ استعمال کیے وابڈا کے اور 900 یونٹ اس کے سولر
03:29نے خود پروڈیوز کیے تو وہ 900 یونٹ وابڈا کو واپس کر دیتا تھا
03:33اور 100 یونٹ کا اس کو بل ادا کرنا پڑتا تھا اور 100 یونٹ کے
03:36بجلی کے بل پر اس کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا لیکن جو آپ پولیسی
03:40بنائی ہے اس میں اگر کسی شخص نے ہزار یونٹ وابڈا کے استعمال کیے
03:43900 یونٹ اس کے سولر نے پروڈیوز کیے تو اس کو بجلی کا بل ہزار
03:48یونٹ کا ادا کرنا پڑے گا اور ٹیکس بھی ہزار یونٹ کے مطابق
03:51پڑے گا یعنی سارف سولر لگواہ کر بھی ٹیکس بھی دے گا اور بل
03:55بھی دے گا پہلے یونٹ سے یونٹ مائنس ہوتے تھے اگر کسی شہری
03:59نے اپنے گھر سولر لگوایا اور وہ 300 یونٹ وابڈا کے استعمال
04:02کر رہا ہے اور 300 یونٹ اس نے اپنے سولر سے پروڈیوز کیے
04:06تو 300 مائنس 300 بل زیرو لیکن اب نئی سسٹم میں اس پولیسی
04:10کو بھی ختم کر دیا گیا ہے اب اگر آپ نے 300 یونٹ استعمال
04:13کیے وابڈا کے اور 300 یونٹ آپ کے سولر نے پروڈیوز کیے تو
04:17حکومت آپ کو یونٹ مہنگا دے گی اور آپ نے جو یونٹ حکومت
04:21کو واپس کرنا ہے وہ سستا ہوگا
04:24اس وقت پاکستان میں 4,66,000 سولر سارفین ہیں جنہوں نے حکومت
04:29کے ساتھ نیٹ میٹرنگ کا معاہدہ کر رکھا ہے یعنی یہ 4,66,000
04:34وہ سولر سارفین ہیں جو حکومت کو بجلی بنا کر دیتے ہیں اور
04:38ایک اندازے کے مطابق یہ سولر سارفین 32 میگا وارٹ بجلی جس کی
04:43قیمت 3 ارب ڈالرز بنتی ہے یہ سارفین حکومت کی 3 ارب ڈالر کی
04:48بچت کر رہے ہیں لیکن بجائے ان کو ریلیف دینے کے حکومت ان پر
04:51ٹیکسیز بھی لگا رہی ہے اور ان سے بھاری بھرکم بجلی کے بل
04:54بھی وصول کر رہی ہے دنیا میں سب سے زیادہ سولر سے بجلی پیدا
05:00کرنے والا ملک چائنا ہے دوسرے نمبر پر امریکہ ہے اور
05:03تیسرے نمبر پر ہمسایہ ملک انڈیا ہے یہ ممالک اپنے سارفین
05:07کو سہولیات بھی دیتے ہیں مراد بھی دیتے ہیں ٹیکس چھوٹ بھی
05:10دیتے ہیں اور سولر زیادہ سے زیادہ لگے اس کی حوصلہ افضائی بھی
05:13کرتے ہیں انڈیا میں اگر آپ ایک سولر لگباتے ہیں تو اس کا
05:1640% آپ کو پہلے سال میں ہی حکومت انڈیا واپس کر دیتی ہے
05:21مثال کے طور پر اگر آپ نے انڈیا میں پانچ لاکھ کا سولر پینل
05:25لگوایا ہے تو دو لاکھ روپیا آپ کا پہلے سال میں حکومت
05:28واپس کر دے گی جس سے سارف کے لگے ہوئے پیسے بھی واپس آ گئے
05:32اور وہ بجلی بھی فری میں استعمال کر رہا ہے اس کو حکومت
05:35سہولیات بھی دے رہی ہے مراد بھی دے رہی ہے اگر آپ چائنا میں
05:38کسی گھر میں سولر لگوانا چاہتے ہیں تو حکومت
05:40آپ کو کم شرائع سودھ پر کردے دیتی ہے اور اگر آپ
05:43امریکہ میں سولر لگواتے ہیں تو 26% تک آپ کو
05:45ٹیکس کریڈٹ دیا جاتا ہے اگر بہت کریں برطانیہ کی
05:48تو وہاں پر سولر پر ٹیکس زیرو ہے اگر کوئی شخص
05:51برطانیہ میں اپنے گھر سولر لگواتا ہے اس کو
05:54گرین ہاؤس کا حکومت درجہ دے دیتی ہے کہ یہ
05:57ماحول دوست بجلی پیدا کر رہا ہے لہٰذا اس کو
06:00سہولیات بھی دی جائیں مراد بھی دی جائیں اور
06:02اس کے حوصلہ افضائی بھی کی جائے اسی طریقے سے
06:04دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی یہی ریلیف مل رہے
06:06ہیں لیکن پاکستان میں ہم نے کیونکہ کپیسٹی
06:08چارجز ادا کر رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے
06:10عوام کو زیرو ریلیف الٹا بھاری بھرکم ٹیکسز اور
06:14بھاری بھرکم بل ادا کرنے پڑے ہیں پاکستان دنیا
06:18میں ٹاپ سکس ممالک میں ہے جہاں پر سولر
06:20انرجی سے بجلی بنائی جا سکتی ہے پاکستان میں
06:23آٹھ سے دس گھنٹے سورج پوری اپنی انرجی کے
06:27ساتھ دھوپ چپے چپے پر دیتا ہے سردیوں میں اگر
06:30یہ آٹھ دس گھنٹے نگلتا ہے تو گربیوں میں پاکستان
06:32میں تیرہ سے چودہ گھنٹے سورج کی روشنی موجود
06:35ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان میں یہ جو
06:37سولر کا انقلاب آیا ہے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے
06:40تحت کی ہے اپنی جیف سے پیسے خرچ کر کے اپنی
06:42چھتوں پر سولر پینل لگوائے ہیں
06:44ٹاپ سکس ممالک میں ہونے کے باوجود پاکستان
06:47پہلے ٹاپ فیفٹین میں بھی نہیں آتا یہ سن کر
06:50آپ کو ہرانی ہوگی اب لوگ کیا کر رہے ہیں
06:52لیتھیم کی بیٹریز لے رہے ہیں جو پانچ
06:54کیوئے یا ٹین کیوئے کی ہیں اور ان کی
06:56ورینٹی بھی دس سے پندرہ سال کی ہوتی ہے
06:58لوگ اپنے ہی سولر پینل اور اپنی ہی بیٹری
07:01آنس گھر میں لگا رہے ہیں اور وابڈا کی
07:02بجلی اور میٹرز کو ٹاٹا بائی بائی کر رہے ہیں
07:04تاکہ بھاری بھرگم ٹیکسز اور
07:06بجلی کی یونٹ سے ان کی جان چھوڑ جائیں
07:08اور مستقبل قریب میں ہر گھر
07:10اپنی بجلی پیدا کرے گا اور اپنی استعمال
07:12کرے گا اب جب جنگ لگی تو ہمیں پتا
07:14چلا کہ تیل کتنا ضروری ہے
07:16اب تیل اگر دنیا میں نہیں ہوگا
07:18تو جو ممالک سولر پر شفٹ ہو گئے وہاں پر
07:20لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی پاکستان میں تو
07:22انقلاب آرہا تھا لیکن اس پر اتنے
07:24ٹیکسز لگا دیئے گئے اتنے ٹیکسز لگا دیئے گئے
07:26کہ لوگ جو ہیں بلکل متنفر ہو گئے
07:28کہ ہم نے پندرہ پندرہ لاکے سولر لگوا کر بھی
07:30دو دو لاکے اگر بل دینے ہیں تو ہمیں کیا فائدہ
07:33حکومت کوئی ریلیف تو دے نہیں رہی
07:34اب امیر طب کا سولر لگوا لے گا بیٹریز لیتھیم کی لگوا لے گا
07:37لیکن مرے گا وہ غریب جس کے پاس دو وقت کھانے کی روٹی نہیں ہے
07:41ایک اس کا پنکھا ایک اس کا بلب چلتا ہے
07:44وہ بھی کبھی چلتا ہے اور کبھی نہیں چلتا ہے
07:46لیکن بل اس کو اتنا بڑا آجاتا ہے
07:47ایسا لگتا ہے اسمانی بجلی بھی اس کے بل میں ہی ڈال دی گئی ہے
07:52حکومت کو اس طرف ضرور سوچنا چاہیے اور امام کو ریلیف دینا چاہیے
07:55اپنے مزبان یاسر شامی کو اجازت دیجئے
07:57اللہ حافظ
Comments