00:28Hello, hello.
00:30ڈیپٹی سیم ایک ناچ شنڈے نے
00:31ذمہ داری لی کہ عادل حسین شاہ
00:34جو اس میں گوڑے بان حلاق
00:36ہوا تھا وہ ایک مکان
00:38تعمیر کر کے دیں گے اس کے اہل و ایال کی
00:40کفال کریں گے انسانیت
00:42کی بنیاد پر تو آج
00:44وہ وعدہ پورا ہو گیا
00:45بازہ طور پر آپ کو دکھا دیں
00:48کہ وہ مکان بن چکا ہے
00:50پوری طرح سے جو ہے
00:52تقریباً ایک سٹوری کا جو
00:53مکان ہے وہ پورا ہو چکا ہے
00:55مکمل ہو چکا ہے پختہ مکان ہے اور
00:57اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف مکان بلکہ
00:59جو ضروریات زندگی کے لیے
01:01جو سامان درکار ہوتا ہے وہ بھی
01:03مہیا کیا گیا ہے اور بازہ طور پر
01:06آج اس کا اناؤگریشن
01:07کیا گیا ہے اور اس میں وہاں کے جو
01:09میشٹر سے وہ بھی یہاں پہ آئے اور
01:11ایک ناچ شنڈے صاحب نے ورچیولی
01:13اس میں جو ہے اناؤگریشن میں حصہ دیا
01:15تو جو وہاں سے مہاراشتہ سے
01:17جو ٹیم یہاں پہ پہنچی تھی اناؤگریشن
01:20کرنے کے لیے تو اس میں موجود
01:22ہمارے ساتھ ایک ساتھ ہی موجود ہیں
01:23جو یوہ سینہ
01:25کے ساتھ جو تعلق رکھتے ہیں
01:28جو شیو سینہ کی پارٹی
01:30ہے تو ان سے بات کریں گے
01:31سر خیر مگد میں آپ کا پہلے اپنا نام
01:33جانا جائے
01:34میں میرا نام باجرہ چاہون ہوئی
01:35میں یوہ سینے کا مہاراشتہ میں کام کرتا ہو
01:37اور یہ ایک ناچ شنڈے صاحب
01:39نے مجھے جب ہم
01:4122 اپریل دوہزار پچیس میں
01:43جو بیسرم ایلی میں جو
01:45اٹیک ہوا تھا تب
01:46اس میں پچیس لوگ کی
01:48توریس لوگ کی جان گئی تھی
01:51تب اس میں آپ کا ایک
01:53کشمیر کا ایک یوہ تھا
01:55اس کا نام تھا
01:57سید عدیلوشنشا
01:58اس میں جو توریس لوگ کو
02:00بچا رہا تھا
02:02تب اس کے بھی
02:04اٹیک ہوا تھا
02:05اٹیک میں اس کا دیان تھوگا تھا
02:06اور ان کا پورا پہمیلی
02:08اس کے ہی دیپینڈ تھا
02:09جائیسا وہ گھوڑے
02:10وہ تو گھوڑا ان کا خود کا گھوڑا بھی نہیں تھا
02:12وہ گھوڑے دوسرے پہ گھوڑے پہ
02:16ہوا تھا تب مانک سندے صاحب نے مجھے بتایا
02:18کہ بجرہ تو ادھر اٹھ کے گھر پہ جا کے آجاؤ
02:21ادھر ان کو کیا کیا جروع ہوتے ہیں
02:22تو ہم ادھر میں ادھر میں اور میرا
02:24ہمارا ٹیم آیا تھا سندے صاحب کا پورا
02:26ہم نے دیکھا تو ان کو گھر بھی اچھا نہیں تھا
02:28ان کے گھر والے کو لیے تو پیسے بھی نہیں تھے
02:30سندے صاحب نے ہم ان کو ارتیک مدد بھی کیا تھا
02:34پچیس اپریل دو ہزار پچیس کو
02:35تب سندے صاحب نے بولا تھا کہ ان کو ہم مکان بان کے دینے کا ہے
02:38تب ہم نے مکان کا کام شروع کیا تھا
02:40پر مکان چھ مہینے سے پہلے پورا ہوا تھا
02:45پر جب آدھل ہشین شاہ کے جو پھادر تھے وہ سہید آئیدر
02:49تو وہ بولے کہ نہیں ہم کو جب وہ پروگرام کے ٹائم ہی
02:52ہمارے کو گھر میں رہنے کو جانا ہے
02:54تب تو نہیں جانا ہے
02:55تب ہم وہ گھر کا انگوریشن آپ کے سامنے بھی کیا ہے
02:58جیسا سندے صاحب آن لائن تھے
03:00اور ہمارے منسٹر کے سنجے شیر صاحب اور یوگی جی قدم صاحب ہے
03:05جیسا وہ جو گھر میں ایسا گھر آپ دیکھ سکتے ہیں
03:08گھر کئیسا مکان کئیسا بان کے دیا ہے سندے صاحب نے
03:10وہ اتنا ایمشنل آدمی ہے
03:12وہ جو اسیو سینے کے لیڈر ہے
03:15اور مہارشتے کے ابھی دیپیٹی سی ایم ہے
03:17تو جب میں کل ایدر آیا تھا
03:20آ رہا تھا تو ہمارے ایدر جو ایک تیوار رہتا
03:22ایک اکشتوٹی بول کے ہے
03:24اکشتوٹی میں ہمارے جو گھر میں آم کا جو آمرز مانا کے اور پولی ہوگرے کھا سکتے ہیں پوراں پولی
03:29تو صاحب نے ان کے گھر پہ بھی آم آم لے کے جاؤ
03:32تو میں کل ان کو فیملی کو آم بھی دیکھیں
03:34اب بھی ان کو پوچھ سکتے ہیں
03:36کہ سندے صاحب کتنا ان کا
03:38یہ دیان رکھتے ہیں
03:41تو جو میں یہ کہنا چاہتا ہوں
03:43جب جیسا ہم نے جو پورا صاحب نے وعدہ کیا تھا
03:45وہ آپ موادہ کر کے دیا ہے
03:47پورا گھر میں جو سوئی تک
03:49پورا ان کو دیا ہے
03:51آپ گھر بھی آندر جا کے دیکھ سکتے ہیں
03:53اور دوسری بات ہے
03:54کہ میں جو کشمیر کی یوہ کو یہ بولنا چاہتا ہو
03:57کہ ہم جو آتنکی کے ساتھ
03:59لڑنا چاہے
04:00کہ وہ نہیں
04:00کہ جب ابھی ٹوریجم آئے گے
04:02آپ کا تو پورا ٹوریجم کے اوپر ہے
04:04آپ کا ٹوریجم کا تو پورا عرثی کرن ہے
04:06تو جیسا آپ لوگنے میں ٹوریجم کو
04:09ہلپ کرنا چاہے
04:10اور جیسا میں ٹوریجم لوگ کو
04:12بولنا چاہتا ہو
04:13کہ ابھی ادھر کا پورا ماحول آچھا ہو گئے
04:15آپ ادھر ٹوریجم
04:16ٹوریجم لوگ آ سکتے
04:18ادھر کا کشمیر دیکھنے کے لئے
04:20جس طرح سے جو دہشتگردوں نے
04:22وہاں پہ جو کشمیریت یہاں پہ مانی جاتی ہے
04:25مہمان نوازی مانی جاتی ہے
04:27آپسی بھائی چارہ جو ہے کشمیر وادی
04:29تو اس کو سبوتاج کرنے کی جو کوشش کی گئی تھی
04:32عادل حسین شاہ کی مدد کے لئے آپ آگے آگئے
04:35تو کیا کہنا چاہیں گے آپ
04:36جو دہشتگردوں کا جو منصوبہ تھا
04:38کیا اس طرح سے وہ ناکام ہوگا
04:40ہندر پر سے ناکام ہوگا
04:42جیسا ادھر کے بھی جو کشمیری یوہاں نے بھی جو ساتھ دیا
04:45تو اور آرمی بھی اپنا جیسا سندھر آپریشن ہو گیا
04:48جیسا جو آتنکو بھی اپنے آرمی لوگ نے مارایا
04:51جیسا اپنا انڈین کا آرمی تو بہت اچھا سے کام کر رہا ہے
04:55یہ ان کے ہمارے اوپر گروہ ہے
04:57انڈین آرمی کے اوپر
04:59جیسا کہ سندھر آپریشن کر دیا
05:01ادھر جو آتنکو بھی جس کے حلہ کیا تھا
05:04ان کو بھی انہوں نے کچھ آتنکو بھی پکڑا ہے
05:06تو سب ہم ملکے کچھ کریں گے
05:08تو آپ کا بھی ادھر
05:09توریزم کو بھی آئیں گے
05:11جیسا آپ کا بھی وہ گھر سب کا گھر
05:13وہ جو توریزم کے اوپر چلتا ہے
05:15آپ توریزم لوگ نے بھی بہت ان کو
05:16جو توریسٹ لوگ کے لئے
05:18اس کی وجہ سے جو کشمیر کے ایمیج پر
05:22جو داغ لگا تھا
05:23اس کے بارے میں کیا کہیں گے
05:24نہیں ابھی جیسا کشمیر کے ایمیج پر
05:26ڈاغ لگایا تھا
05:27تو مجھے میں ابھی کل سے دو تین دن سے
05:29ادھر پھر گھما ہو
05:30تو آپ پورا ادھر کا توریزم
05:31اچھا ہوگا ہے
05:32تو میں توریزم لوگ کو بھی بتا رہا چاہتا ہوں
05:35کہ جیسا کشمیر کا جو داغ لگایا تھا
05:37آتنکو بھائی کا
05:37وہ تو مجھے دیکھتا ہے
05:39کہ ابھی یہ کم ہوگا
05:40ادھر جیسا میں ابھی میں تو ہندو ہوں
05:42تبھی بھی میں مسلم کے لوگ کے گھر پہ رہتا ہوں
05:44آپ لگاتار ایک سال سے
05:46آدل حسین شاہ کے گھر آ رہے ہیں
05:47یہاں پہ ان کا گھر تعمیر کروا رہے ہیں
05:49اور کر بھی لیا
05:50آپ نے جو وعدہ کیا تھا
05:51وہ پورا ہو گیا
05:52تو اس دوران کیا آپ نے دیکھا
05:54کہ جس طرح سے کشمیر میں ہمان نواز ہیں
05:56آپ سی بھائی چارے کی جو مثال دی جا رہی ہے
05:58کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ قائم ہے
06:00نہیں قائم رہے گی
06:01جیسا میں کل اندر آیا تو میرے لئے کھانا
06:04جیسا آدل کے فیملی نے چکن
06:06روپی سب بنا کے رکھاتا
06:08جیسا ہوں
06:09جیسا میں ہمارے جو پارٹی کے
06:11آدھیک شاہ محمد سپی
06:12ان کے گھر میں کھانا کھاتا ہوں
06:15ان کے ساتھ رہتا ہوں
06:16اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ
06:18ادھر کے لوگ برے ہیں
06:19ادھر کے بہت لوگ اچھے ہیں
06:20یہ سورا آتنگوادی کے بجے سے
06:22لوگ جو ٹوریزم لوگ ڈرتے ہیں
06:24پر ابھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
06:26مجھے کہا لگ رہا ہے ابھی
06:28تو اور کیا آگے مستقبل میں
06:31کیا اور ارادہ ہے آپ کا
06:32جس طرح سے آپ نے ان کی مدد کی
06:34تو وقتاں فاوقتاں کسی اور
06:36مدد کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے
06:37تو اس طرح سے کس طرح کی
06:39جب ادھر کچھ بھی مدد لگے گی
06:41تو ہمارے مہاراشتہ کے
06:42ڈرکوڈے سہم یکناجی سندے صاحب
06:44ہنڈر پرشن ادھر کے کاشمیر کے
06:46یوہ کے پیچھے کھڑا رہیں گے
06:48یہ مجھے ان کا وشواس ہے
06:50اور ہم ادھر کچھ بھی لگے گا
06:52ابھی آدل اس پیمیلی کو کچھ لگے گا
06:53ان کے لئے بھی ہم کھڑا ہیں
06:54اور ادھر کاشمیر کو بھی آئی سے کچھ مدد لگے
06:56ہم مدد کرنے کے لئے ہیں
06:58تینکیو
06:59تو یہ تھے ہمارے ساتھ ابھی
07:02جو ایک ناش شندے کی جو ٹیم یہاں پہ آئی تھی
07:04انہوں نے بازائب تطور کا آپ کو پھر سے دکھا دیں
07:06کہ آدل حسین شاہ جو گوڑے بان
07:08جنہوں نے اپنی جان کا نظانہ پیش کیا تھا
07:11ٹورسٹ اس کو بچانے کے دوران
07:13جب ٹورسٹ اس پہ اٹیک ہوا تھا
07:15تو بازائب تطور پر شندے صاحب نے
07:17اپنا وعدہ آج پورا کیا ہے
07:19اور ان کو ایک مکان
07:20اختہ مکان تعمیر کر کے دیا
07:22اور ساتھ ساتھ میں جو
07:23ضروریات زندگی کی جو چیزیں ہیں
07:25وہ بھی مہیا کرائی ہے
07:26اور ان کا جو ہمارے ساتھ بات کر رہے
07:29تو ان کا یہ بھی کہنا ہے
07:30کہ وقتاں پھاوقتاں
07:31اگر کسی مستقبل میں
07:33کسی اور چیز کی ان کو ضرورت پڑے گی
07:35تو اس وقت بھی ان کی حکومت
07:37جو ہے جو ایک ناش شندے کی جو ٹیم ہے
07:39وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی
07:40تو آدل حسین شاہ کے فادر
07:43جو وہ بھی ہمارے ساتھ اس وقت موجود ہیں
07:45ان سے بھی بات کریں گے
07:47اور جاننا چاہیں گی
07:47کہ ان کو جو وعدہ ان سے کیا گیا تھا
07:50تو اس کے بارے میں وہ کیا کہیں گے
07:52اپنا نام بتایا
07:53سید حیدر شاہ
07:54تو جس طرح سے
07:56سید آدل حسین شاہ
07:57جو آپ کے بیٹے تھے
07:59وہ سانے میں
08:00ٹورسٹس کی جان بچاتے بچاتے
08:02اس نے اپنا جان کا نظرانہ پیش کیا تھا
08:04تو آج جب وعدہ کیا تھا
08:08ایک ناش شندے صاحب نے
08:09کہ آپ کو ایک مکان تیمیر کر کے دیں گے
08:11پورا ہو گیا
08:12کیا لگتا ہے آپ کو
08:13کیا وہ وعدہ ان نے پورا کیا
08:15جی
08:16انہوں نے تو پورا وعدہ کر لیا
08:18انہوں نے مکان بنانے کا وعدہ کیا تھا
08:21اس وقت ہمیں بولا تھا
08:22کہ ہم آپ کو مکان بنا کے دیں گے
08:25تو انہوں نے
08:26کچھ نگت پانچ لاکھ کا کیش بھی دیا تھا
08:30تو آج بھی وہ یہاں پہ آئے ہیں
08:33انہوں نے سب کچھ کھانے پینے کے
08:35راشن اور کچن کا جو سامان ہے
08:38وہ بھی انہوں نے لائے
08:39یہاں جو مکان بنایا ہے
08:41مکان پورا کمپلیٹ بنایا ہے
08:43اس میں میٹنگ ڈالی ہے
08:44پردے وردے
08:45سب کچھ شیشے ویشے
08:47سب کچھ لگا کے پورا فٹ کر کے
08:49ہم کو دیا ہے
08:54جی اسی خوشی سے تو جی رہا ہوں کہ ہم اگر آدل چلا گیا
08:58تو ہمارے ساتھ اکنات جی شنڈے صاحب جو ہمیں سہارہ دے رہے ہیں
09:06یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ہم خوش ہو رہے ہیں کہ ہاں ہمارا بھی کوئی ہے
09:11تو کیا لگتا ہے آپ کو ایک سال ہو گیا ہے
09:14اور آدل کی یاد آج بھی آپ کی ذہن میں تازہ ہوگی
09:17تو کیا لگتا ہے آپ کو ایک سال کے بعد
09:19کیا سورت ہے
09:20یہ آدل کی یاد تو تازہ ہوتی ہے
09:24ایک سال پورا ہو گیا تائی تو بہت ہی تازہ ہے
09:27لیکن شکریہ کا ایسے کر سکو میں ان لوگوں کا جو باجی رام جی یہاں ہیں
09:32یہاں اکنات جی شنڈے کے لوگ اس وقت بھی اس زخم جب اس وقت بھی زخم پھول جاتا ہے
09:41تو اس وقت بھی وہ ہمارے ساتھ کھڑے کھڑے ہیں
09:44تو تھوڑا بہت پھکر ہو جاتا ہے ان سے سہارہ مل جاتا ہے کہ ہاں ہمارے ساتھ بھی کوئی ہے
09:51جس طرح سے آپ کے بیٹے نے کشنیریت زندہ رکھی
09:54اور انہوں نے تیورسٹ اس کی جان بچاتے بچاتی
09:57اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا تھا
09:59تو کتنا فقر ہو رہا ہے
10:00ایک تو آپ کو دکھ ہے ہی
10:01لیکن ساتھ میں کتنا فقر ہو رہا ہے
10:03جی دکھ تو ہے لیکن فقر اس بات کا ہے
10:07کہ وہاں پہ کئی لوگ تھے جن کی جانیں بچ بھی گئی
10:12اور کئی لوگ تھے جن کی جانیں چلی گئی
10:15جن کی جانوں کو بچاتے بچاتے عادل نے خود اپنی جان دے دی
10:20اور عادل نے اپنا نام بھی روشن کیا
10:23اور سب لوگوں کو یہ بھی دکھایا
10:25کہ آپ ہندو مسلم مت کہو
10:28آپ انسانیت کو قائم کرو
10:30انسانیت انسان ایک ہی ہے
10:32انسان کے رگوں میں ایک ہی خون ہے
10:34تو اس پہ تو فقر ہو رہا ہے
10:36کہ عادل نے بہت سارے لوگوں کی جان بچائی
10:39اور سب سے بڑا انسانیت کو قائم کیا
10:42شکریہ
10:44تو یہ تھے ہمارے ساتھ عادل حسین شاہ جو
10:47ٹیورسٹی کی جان بچاتے بچاتے
10:49گزشتہ سال جو ہے انہوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا تھا
10:53تو بازہ تب دو طور پر جو ہے ان کو ایک مکان دیا گیا ہے
10:56اس کی اناؤگریشن بھی ہو گئی تو ان کا یہی کہنا ہے
10:59کہ یہ جو ٹی سی ایم ہیں مہاراشرہ کے ایک ناشنڈے ان کے بہت شکور گزار ہیں
11:04اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عادل کی جو قربانی ہے وہ رائیگاں نہیں گئی
11:09آج بھی ان کا زخم تازہ ہے لیکن ساتھ ساتھ میں ان کو یہ فقر محسوس ہو رہا ہے
11:15کہ ان کے بیٹے نے جو ہے انسانیہ کے جو ہے مثال قائم کیا ہے
11:20انہوں نے مذہب نہیں دیکھا
11:21تو انہوں نے بلا مذہب و ملت جو ہے اپنی جان کا جو ہے نظرانہ پیش کیا
11:28اس سے نہ صرف ان کا سار بلکہ پورے جمعہ کشمیر کا سار اونچا کیا ہے
11:32میری شفاق ایٹی بھارت انتناک
11:40موسیقی
Comments