Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:12Surah Al-Malika
00:32So many people have thought that this is a journey of fear.
00:36So many people have thought that this is not a dream.
00:38So it has thought that this is a dream of fear.
00:43It has thought that some people came to fear.
00:59and 7 shared
01:01if you will
01:01Got a experience
01:05what do you know
01:11utis
01:26good
01:27foreign
01:40foreign
01:41foreign
01:41foreign
01:41foreign
01:46foreign
01:47foreign
01:47foreign
01:48foreign
01:56foreign
01:56foreign
01:56foreign
01:56So, I have to say that, I don't think that the word that was true.
01:58It's not.
02:01But I don't know why it's not.
02:03But it's because I have to tell you two years ago.
02:06My friends have to tell you to tell you.
02:10If you tell me, tell me it's true.
02:11I have to tell you, my mind is not.
02:13I don't know what the word is.
02:15I don't know what the word is.
02:17But I don't know what the word is,
02:18but it was a very much bigger than my friends.
02:19And I have to say,
02:21I don't know what the word is.
02:23I have to say that.
02:24ھائی مجھے اس کی تعبیر معلوم نہیں ہے
02:26کسی اور سے پوچھ
02:27ایک شیر سناوں
02:28ذرا غور سے سنو
02:29آگے آتا نہیں
02:30کسی اور سے سنو
02:31ٹھیک ہے نا
02:32یہ والا شیر ہم نے ان کو سنا دیا
02:34وہ پھر جبک گئے
02:35نہیں جی مجھے تعبیر بتاؤ
02:36اب پتہ نہیں خواب کیا تھا
02:38اللہ کی قدرت کہ
02:39میں ایک دن چائے پی رہا ہوں
02:40اور مجھے خواب کی تعبیر دماغ میں آگئی
02:43اور ایسی خاندانی آئی
02:44کہ بلکل جو بھی سنتا وہ کہتا ہے
02:46ڈالتے ہیں تو میں نے ان کو خواب کی تعبیر بتائی اور وہ ان کے حالات پر بالکل فٹ آ
02:51رہی ہے تو بعض دفعہ انسان کے دماغ میں اللہ تعبیر ڈال دیتے ہیں بعض دفعہ تعبیر نہیں ڈالتے ہیں
02:57اکثر میں خواب بتاتا ہوں نا ایک خاتون نے مجھے کہا کہ میں نے اپنے شوہر کو دیکھا گندے کپڑوں
03:02میں گندے لباس میں وہ خاتون اپنے شوہر کے خلاف یہ خواب مجھے سنانا چاہ رہی تھی کہ شوہر گندے
03:08کپڑوں میں اس کا مطلب بندہ میلہ ہے یہ بندہ کیا ہے کہتا ہے ن
03:11میلہ اور اس کے بچے بھی ہوتے ہیں اس کے اببہ کو لوگ کہتے ہیں میلے کا باپ آ رہا
03:15ہے ٹھیک ہے نا تو میں نے اس خاتون سے کہا کہ مجھے اس کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے
03:20کہ آپ ٹھیک نہیں ہو وجہ اس کی یہ کہ شوہر کا لباس میلہ تو شوہر کا لباس تو بیوی
03:26ہے قرآن کہتا ہے نا ہنہ لباس لکم وہانتم لباس اللہن بیوی کا لباس شوہر ہے اور شوہر کا لباس
03:33کیا ہے بیوی تو اللہ نے آپ کو تنبی کی ہے کہ آپ ٹھیک ہو جاؤ تو وہ پھر جب
03:38ان کی حالات سامنے آئی نا تو پتہ چلا
03:40کہ واقعی عورت کا سلوک شوہر کے ساتھ
03:42ٹھیک نہیں تھا
03:42بعض دفعہ اس کے برقس بھی ہوتا ہے
03:43میاں ٹھیک نہیں ہوتا
03:44لیکن کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے
03:45کہیں کہیں چیدہ چیدہ
03:47ایسے واقعات بھی مل جاتے ہیں
03:48کہ کہیں خاتون کا سلوک ٹھیک نہیں ہوتا
03:50تو خواب کی تعبیر
03:51بعض دفعہ ذہن میں آتی ہے
03:52بعض دفعہ نہیں آتی
03:53جب نہیں آئے
03:54تو انسان بول دے
03:55بھائی مجھے معلوم نہیں
03:57لیکن ان کو یہ توفیق نہیں ہوئی
04:10foreign
04:15foreign
04:17ڈایرہ تینشن میں آدمی کو جیسے ساس سام کی شکل میں اور چٹھانی چھپکلی کی شکل میں آ سکتی ہے
04:23تو آپ کو بھی موٹی پتلی گائیں خواب میں کیا ہو رہی ہیں آ رہی ہیں وما نحنو بتعویل الاحلام
04:28بعالمین اور اس قسم کے جو الٹے الٹے خواب ہوتے ہیں نا ان کی تعبیریں ہم نہیں جانتے یہ تو
04:33خواب ہی نہیں ہے تو یہ دماغ میں الٹ پٹان خیالات تھے جو گائے اور بھیڑ بن کے یہ والے
04:38خوابوں کی تعبیریں ہم نہیں جانتے وہ خاندانی خواب ہوتے سنائیں ہم تعبیر بھی بتائیں
04:43جس کو نجات ملی تھی نا جو بادشا کو شراب پلانے پر معمور تھا اس کو ایک دم یاد آیا
04:48ارے خواب کی تعبیر تو یوسف نے بتائی تھی اور بڑی صحیح تعبیر نکلی تھی فوراں نمبر بنانے کے لیے
04:55بادشاہ سے کہنے لگا
04:56میں بتاؤں گا تعبیر مجھے ایک بندہ معلوم ہے اس کے پاس مجھے بھیجو حالانکہ اب تک وہ بندہ اس
05:05کو یاد نہیں تھا اپنا مفاد ہے نا تو بندہ بھی یاد آ گیا پھر کیا کہتا ہے
05:08یوسف اے دوست بھائی اتنی گہری دوستی تھی تو بندے کو بھول کیوں گئے مفاد میں انسان القاب بھی لگاتا
05:17ہے اور یاد بھی رکھتا ہے جہاں مفاد ختم بھول جاتا ہے
05:21یوسف اے میرے دوست افتنا فی زب سبعی بقارات سمانن ذرا فتوہ دے ہمیں ذرا مسئلہ بتائیں ذرا تعبیر بتائیں
05:31ساتھ موٹی موٹی گائیں ہیں جو ساتھ دبلی گائیں کو کھا رہی ہیں اور ساتھ ہرے خوشے سوکھے خوشوں کو
05:37کھا رہے ہیں
05:38لالی ارجعو الناس میں فوراً یہ تعبیر لے کے لوگوں کے پاس جاؤں گا ان کو پتا چل جائے گا
05:44حضرت یوسف نے ایک لمحہ بھی توقف کیے بغیر فوراً تعبیر بتانا شروع کر دی
05:50یہ موجزہ تھا ان کا
05:51آج یوٹیوب پہ خوابوں کی تعبیروں کے نام پہ چینل بنے ہوئے ہیں
05:55اللو بنانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کر رہے خوب سمجھ لو
05:58دیکھو دنیا میں جو بے روزگار ہوتا ہے اس کو کوئی نہ کوئی ٹیکنیکل طریقہ چاہیے ہوتا ہے
06:02جس آدمی کے پاس عزت کے صحیح راستے نہیں ہوتے
06:06تو کیا وہ بیسلی برداشت کر لے گا
06:07تو وہ عزت کے دوسری دو نمبر راستے اختیار کر لیتا ہے
06:10تو یوٹیوب پہ چینل بنا لیا
06:11پھر پھیکتے رہتے ہیں وہاں بیٹھ کے
06:12کبوتر نظر آیا تو یہ مطلب ہے
06:14بلی نظر آئی تو یہ مطلب ہے
06:15دودھ نظر آیا تو یہ مطلب ہے
06:17پھیکتے رہتے ہیں پھر لوگ ان سے رابطہ کرتے رہتے ہیں
06:19یہ ادھر سے پھیک رہے ہیں
06:20تو یہ آسان کام نہیں ہے
06:23بعض دفعہ اللہ کسی کے دماغ میں ڈال دیتے ہیں
06:25بعض دفعہ کرامت کے طور پر کسی کو بتا دیتے ہیں
06:28انبیاء کو موجزوں کے طور پر بتا دیتے ہیں
06:30تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا
06:32تَذْرَعُونَ السَّبْعَ سِنِينَ دَعَابَا
06:34بھئی اس کی تعبیر یہ ہے
06:35کہ تم لوگ سات سال تک زراعت کروگے
06:38اور خوب خوب پیدوار ہوگی
06:40مصر میں سات سال تک ہیں تمہارے پاس
06:42فَمَا حَسَتْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُمْبُلِهِ
06:44جب کھیتی کاتو
06:46تو وہ جو سنبل ہے نا
06:47سنبل جو کیا کہتے ہیں اس کو
06:49خوشش جس کو کہتے ہیں
06:50گندم کو اس سے نہ نکالنا
06:51وجہ کیا ہے کہ اگلے سات سال تک
06:54اسی گندم کو استعمال کرنا ہے تم نے
06:55یعنی سٹور کرو ابھی سے
06:56اگلے سات سالوں کے لیے
06:58یہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایسا کام
07:00مصر کو بتا دیا کہ قہد پوری دنیا میں پڑا تھا
07:02پوری دنیا کو پتا چل گیا
07:04کہ مصر والوں نے ایڈوانس میں
07:06سات سال کا راشن جمع کر کے رکھا ہوا ہے
07:08یعنی اس خواب کی وجہ سے نا
07:09بہت بڑی تباہی سے مصر کو بھی بچایا
07:11اور باقی دنیا کو بھی
07:13اور مصر کی جو گورنمنٹ تھی
07:15وہ معاشی لحاظ سے بہت اسٹیبل ہو گئی
07:17وجہ اس کی یہ ہے
07:18کہ جب چینی مارکیٹ سے شارٹ ہو
07:20تو جس کے پاس چینی ہوگی وہ مالدار بنے گا
07:23کی نہیں بنے گا
07:23تو یوسف علیہ السلام ان کو بتایا
07:25بھئی سات سال تک تمہارے پاس پیداوار کو
07:27کھانے کا اور جمع کرنے کا آفٹین ہے
07:28تھوڑا تھوڑا کھاتے رہو
07:29اور باقی اسٹور کرو
07:31اسٹور کرنے کا طریقہ یہی تھا
07:32کہ بھئی اس کو نکالو نہیں
07:33ورنہ وہ پیڑا لگ جائے گا
07:34تو اگلے سات سال کے لیے اس کو اسٹور کر لو
07:37اور پھر کیا ہے
07:41اس کے بعد سات سال بہت سخت آئیں گے قہد کے
07:46جو کچھ تم نے جمع کیا ہوگا
07:49وہ سات سال اس کو کیا کر دیں گے
07:50کھاپی کے ختم
07:54سوائے اس کے جو تم نے بچا کے رکھ لیا
07:56پہلے سے منیجمنٹ کے تحت
07:57اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے
07:59کہ مستقبل کی پہلے سے پلاننگ کرنا
08:02یہ توقع کے خلاف
08:03بول لو نا کیا ہو گیا یار
08:05نہیں
08:05لوگ کہتے ہیں نہیں پہلے سے پلاننگ نہیں کرتے
08:07کھاو پیو
08:08اڑا دو
08:09پھیک دو
08:09ادھر دعوتیں کر دی
08:10جتنا پیسہ آیا
08:11ادھر بانٹ بوڑھ کے
08:12اس کے بعد اگلے دن لوگوں سے کرزہ مانگتے
08:14پان گھٹکے کے پیسے بھی نہیں ہوتے
08:15اگلے دن اس کے پاس
08:16اس لیے قرآن نے کہا
08:18کہ نہ اپنا ہاتھ اتنا پھیلاؤ
08:19کہ کل بھیگ مانگنی پڑے
08:21اور نہ اتنا تنگ کر دو
08:22کہ کنجوس
08:23لوگ کہنا شروع کر دیں تمہیں
08:24اس لیے اعتدال والا راستہ
08:26تو یوسف علیہ السلام نے کیا کیا بھئی
08:28ان کو یہ بتایا
08:31باشا بڑا خوش ہوا
08:32باشا کو تھا کہ اگر یہ واقعی سات سال بات قہد پڑ جاتا ہے
08:34تو یہ تو بڑا
08:35یعنی زبردست شخص ہے یہ
08:36تو باشا نے کہا
08:38کہ اس کو لے کر آو یوسف کو
08:39پہلے بھی باشا کو بتا تھا
08:40کہ میری بیوی نے کس قدر ورغلانے کی کوشش کی
08:42مگر یہ پاکدامن نوجوان
08:44اس نے بڑائی کی طرف نہیں گیا
08:46اس سے پہلے ہی بڑا متاثر تھا
08:47یوسف علیہ السلام کی صلاحیت پر
08:49لیکن جب تعبیر بتائیے
08:50باشا نے کہا کہ لے کر رہا ہوں
08:51تو قرآن کہہ رہا ہے
08:52فَلَمَّا جَا أَحُ الرَّسُولُ
08:53جب قاصد آیا نا
08:54کہ چلو جی آپ کی رہائی کا فیصلہ ہوا ہے
08:56باشا نے آپ کو بلائی آئے
08:57قَالَ اَرْجِعْ
08:58یوسف علیہ السلام نے کہا
09:00نَا نَا نَا
09:12میری صفائی کی بات کرو
09:14پہلے پوچھو غلطی پر کون تھا
09:16میں تھا یا وہ تھی
09:18کیا میں نے کسی کو برائی سے
09:19کسی کی طرف دیکھا
09:20پہلے میری یہ پوزیشن واضح ہونی چاہیے
09:22کیونکہ لوگ میں
09:23کنفیوشن تو ہو گئی تھی نا
09:24کچھ کہہ رہا تھا یہ صحیح ہے
09:25کچھ کہہ رہا تھے وہ صحیح ہے
09:27تو یوسف علیہ السلام کو یہ بات معلوم تھی
09:29کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں
09:30میں نے دعوت کا کام کرنا ہے
09:32اگر میرے کردار مشکوک ہو گیا
09:34تو لوگ میری بات نہیں سنیں گے
09:36یہاں بھی دیکھیں
09:37ویجن کو ترجی دی جا رہی ہے
09:39رہائی پر
09:40نہیں آئی بات سمجھ میں
09:41حالکہ اس کا خطرہ تھا
09:42کہ بادشاہ بول دے جاؤ
09:43پھر میں رہائی نہیں کر رہا
09:44یہ تو اسی بات کو لے کے بیٹھے ہوئے
09:45ابھی تک
09:46میں کیا اپنی بیوی کی بدنامی کروں
09:47لوگوں کے سامنے
09:48سمجھ میں نہیں آرہی آرہ بات
09:49کہہ سکتا تھا نا بادشاہ
09:51کہ بھئی واپس جاؤ
09:51پھر وہیں رہ لو
09:52ہم تو نہیں
09:53بس کنفیوزن میں ہی رہنے دو
09:54تاکہ میری عزت رہے
09:55یوسف علیہ السلام کو پتا تھا
09:57کہ بھئی میں نے دین کی دعوت دینی ہے
09:58میں یہ سب کچھ دنیا کے لیے نہیں کر رہا
10:00تو میرے کردار پہ اگر انگلی اٹھے گی
10:03تو میری دعوت میں جان نہیں رہے گی
10:05اس لیے یوسف علیہ السلام نے فرمایا
10:07جاؤ جاؤ جاؤ
10:08پہلے جا کے بولو میری برات کا اعلان کرے
10:10پہلے عورتیں بتائیں
10:11جمع ہو کے
10:12کہ یوسف صحیح تھے
10:13ہم کیا تھے
10:14ہم غلط تھے
10:15نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توازو ہے
10:17آپ نے فرمایا
10:18کہ صحیح حدیث ہے
10:19کہ یوسف کا صبر تھا
10:21حدیث کا مفہوم ہے
10:22کہ جیل سے قیدی بلانے کے لیے آیا
10:24اور نہیں گئے
10:26آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:27میں اگر ہوتا تو چلا جاتا
10:29یہ توازو تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:31کہ یعنی ایسے موقع پہ
10:32ہر آدمی یہی کرتا ہے
10:32بھائی پہلے جیل سے نکلو
10:34یہ چیزیں بعد میں
10:35نمٹاتے رہیں گے بیٹھ کے
10:36کون صحیح تھا کون غلط تھا
10:37لیکن یوسف علیہ السلام کو یہ خطرہ تھا
10:39کہ بعد میں ہو سکتا ہے
10:40بادشاہ اس کو زیادہ ویلیو نہ دے
10:42جب رہائی ہو گئی
10:43تعبیر بتا دی
10:43کہا گیا بس
10:44ہری ابھی تو میں
10:45میں بادشاہ کی ضرورت ہوں
10:46ابھی جو کام کروا سکتے ہو
10:47کروالو
10:48اس سے خوب سمجھ لو
10:49بہت اہم پوائنٹ کی بات ہے
10:51نوٹ کرنے کی
10:51کچھ علماء حکومت سے ملتے ہیں
10:53اپنے فائدے کے لیے
10:55کچھ ملتے ہیں
10:56قوم کے فائدے کے لیے
10:57تو دونوں طرح کے علماء میں
10:59فرق کرنا
10:59ضروری ہے
11:00ہم ہر طرح کے عالم پر
11:02تحمد لگا دیتے ہیں
11:04کہ یہ سرکاری ملہ ہے
11:05یہ آرمی کے آفیسر سے مل رہا ہے
11:06یہ
11:07وزیراعظم سے مل رہا ہے
11:08یہ
11:09صدر سے مل رہا ہے
11:10یوسف علیہ السلام بھی تو
11:11بادشاہ سے مل رہے تھے نہ جا کے
11:12بادشاہ نے جب بلایا
11:13محل میں
11:14یوسف علیہ السلام کہہ
11:15جا میں کچھ سرکاری لوگوں سے
11:16تھوڑی ملتا ہوں
11:16مجھے رہا کرو
11:17بس چھوڑ دو
11:18تعبیر بتا نہیں تھی
11:18بتا دی
11:19چلو
11:19نہیں نہیں نہیں
11:20یوسف علیہ السلام جانتے ہیں
11:22بادشاہ کے پاس
11:23رہ کے جو کام ہو سکتا ہے
11:25وہ گلی محلوں میں
11:26نہیں ہو سکتا
11:27تو موقع ہاتھ سے جانے
11:29نہیں دینا چاہیے
11:30تو اس لیے کسی عالم کو
11:31اگر کوئی حاکم
11:32دعوت دے بلائے
11:33اور وہ عالم سمجھتے ہیں
11:34کہ اس سے تعلقات سے
11:35ملک کو فائدہ ہوگا
11:36تو ایسا عالم
11:37اگر اس حاکم کے پاس
11:38نہیں جاتا
11:39تو گناہ کا خطرہ ہے
11:40اور آج میڈیا پہ
11:41آپ کا جو لیڈر ہے
11:43وہ کتنے بڑے آدمی سے ملے
11:45اس کی تعویل کرتے ہیں
11:46قوم کے وسیطر مفاد میں
11:47حضرت نے حضرت سے ملاقات کی
11:49لیکن آپ
11:50جس سے آپ کو دشمنی ہے
11:52وہ کسی چھوٹے افسر سے بھی ملے گا
11:54ہم تو پہلے ہی کہتے تھے
11:55فوج کا پٹھو ہے
11:56تمہارے والے جو مرضی کرتے رہے
11:58نہ وہ فوج کے پٹھو
11:59نہ وہ ایجنسیوں کے پٹھو
12:00نہ وہ امریکہ کے غلام
12:01اور تمہارے اگر کوئی ہو
12:03تو وہ کسی سے بھی ملے
12:04اس پہ الزام
12:05یہ مارکیٹ میں
12:06ہول سیل کے حساب سے
12:07چل رہا ہے
12:08ہاں ایسے بھی لوگ ہیں
12:09جو واقعی سرکاری ملہ ہیں
12:10وہ گورنمنٹ سے ملتے ہیں
12:12اپنے فائدے کے لیے
12:13لوگوں کے فائدے کے لیے
12:14نہیں
12:14تو عام طور پر
12:15فرق کیسے ہو سکتا ہے
12:17دیکھو
12:17کون پیسے لے رہا ہے
12:19اور کون الٹا
12:20خرش کر رہا ہے
12:21ہم ایسے علماء کو جانتے ہیں
12:22جو افسروں سے ملتے ہیں
12:24ان کو حدیعہ دیتے ہیں
12:25الٹا
12:25وہ افسر بھی حیران ہوتے ہیں
12:27کہ یہ مولانا ہو کے
12:28ہم کو الٹا حدیعہ دے رہا ہے
12:29وہ الٹا ان پر خرش کر رہے ہوتے ہیں
12:31اور ایسے بھی ہوتے ہیں
12:32کہ وہاں سے چھپڑویں لفافے
12:33لے رہے ہوتے ہیں
12:34ہر طرح کی چیز مارکیٹ میں
12:35آپ کو ملے گی
12:36سب کو ایک لارڈی سنیہا کرنا چاہیے
12:38تو یوسف علیہ السلام
12:39کیا کہہ رہے ہیں
12:40اپنے لیے نہیں
12:40لوگوں کے لیے
12:41کہ میں جب دعوت دوں گا
12:42تو میری پوزیشن واضح ہونی چاہیے
12:44کہنے لگے
12:45جاؤ اس کو جا کے بولو
12:46مَا خَتْبُكُنَّ اِذَرَ آوَتْتُنَّ
12:47یوسف آن نفسی عورتوں
12:49کو جمع کر کے پوچھو
12:49کہ اس میں غلطی پر کون تھا
12:51بادشاہ نے جمع کیا
12:52سب عورتوں کو
12:53بھئی ایک بیان ریکارڈ کروا ہو
12:54ٹھیک ہے نا
12:54یوسف آنے کے لیے تیار نہیں ہے
12:56جب تک صفائی بیان نہ ہو
12:57ان عورتوں نے کہا
12:58الْآنَ حَسْحَسَ الْحَقُ
13:00بادشاہ کی بیوی زولیخہ نے کہا
13:01اب اللہ نے حق کو واضح کر دیا ہے
13:03ہم کتنے الزام لگائیں دوسرے پر
13:05لیکن اللہ نے
13:06اس نوجوان کی پوزیشن کو
13:09صاف کرنا تھا
13:10اب حق واضح ہو چکا ہے
13:12اب ہم دو نمبری کریں گے
13:12کوئی فائدہ نہیں ہے
13:13اَنَا رَعَوَتُّهُ عَنْ نَفْسِي
13:15میں نے اس کو برائی کی دعوت دی تھی
13:17اِنَّهُ لَمِنَ السَّادِقِينَ
13:19وہ سچ بول رہا ہے
13:21اس نے میری طرف گناہ کا ارادہ
13:23نہیں کیا
13:24یوسف علیہ السلام نے
13:25اب اتنی اپنی پوزیشن واضح کروائی ہے
13:27تو اس میں تکبر کا انصر ہو سکتا تھا نا
13:30بھائی ایک آدمی بار بار کہہ رہا ہے
13:32میں ٹھیک ہوں میں ٹھیک ہوں
13:33میں بلکل صحیح ہوں
13:34میں بلکل صحیح ہوں
13:34تو ہم کہتے ہیں نا
13:35بھائی تو کیا ہو گیا
13:36یار اگر تو غلط بھی ہے
13:36تو تو بھائی سفار کر لے
13:38اتنا کیوں اپنے آپ کو ثابت کر رہے ہیں
13:39کہ میں ٹھیک ہوں
13:40میں غلط ہوئی نہیں سکتا
13:41اس میں ایک قسم کا تکبر کا انصر ہے نا
13:43نہیں آرہی سمجھ میں
13:43تو بتاتے ہیں بھائی
13:44ہے نا تھوڑا سا اپنی
13:45جو بعض لوگ
13:46ہر موقع پر اپنی
13:48کلیریفیکیشن جو ہے نا
13:49وہ اپنے بارے میں کرتے ہی رہتے ہیں
13:50بزاحتی بیانات
13:51ہر دو دن میں آتے رہیں گے
13:52تو اس سے بھی لگتا ہے
13:53کہ اوور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں
13:55تو حضرت یوسف علیہ السلام پر
13:57یہ جو اتنی صفائی پیش کر رہے ہیں
13:58کہ جیل سے باہر نہیں نکلوں گا
13:59پہلے یہ پتا چل جائے
14:01کہ ان میں غلط
14:01میں صحیح ہوں
14:02میں غلط نہیں ہوں
14:03تو حضرت یوسف اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں
14:05ذالک لیعلم انی لم اخلہ بالغیب
14:08فرمایا کہ میں جو اپنے آپ کو
14:10اتنا صاف سترہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں
14:12شوب مارنا یا ریاکاری کے لیے نہیں
14:14بازشاہ کو پتا چل جائے
14:16کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں
14:18اس کے ساتھ خیانت نہیں کیا
14:20ورنہ وہ کہہ سکتا ہے
14:21کہ میں نے اپنے محل میں رکھا
14:22اور معاذ اللہ میری ہی زوجہ پر
14:24نظریں ڈال کے بیٹھ گیا
14:25یہ پوزیشن میری واضح ہونی چاہیے
14:28وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَحْدِي قَيْدَ الْخَائِنِينَ
14:30اور میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں
14:32لوگوں کو
14:32کہ جو خیانت کرنے والے ہوتے ہیں
14:34اللہ ان کی رہنمائی نہیں کرتا
14:36کیونکہ اگر میں مشکوک
14:38مجھ پر الزام لگتے اور ترقی ملتی
14:40تو لوگ کہتے ہیں
14:40دو نمبر ہو کے بھی بڑی ترقیہ مل سکتی ہیں
14:42تو میں بتانا چاہتا ہوں
14:43کہ تقوی کے ساتھ جو کچھ ملتا ہے
14:45انجام متقیوں کا اچھا ہوتا ہے
14:47میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا
14:50کہ میرا نفس بڑا پاک دامن ہے
14:52مجھ سے گناہ ہوئی نہیں سکتا
14:53نا نا نا
14:54نفس کا تو کام ہی برائیوں کی دعوت دینا ہے
14:59کتنی توازو ہے آپ دیکھو
15:01کتنی توازو
15:01اور آج ہم تھوڑی سی کوئی تعریف کر دے
15:04تو کیسا چوڑے میں آ جاتے ہیں
15:06اپنی اپنی تعریف کی ویڈیو بنا بنا کے
15:07یوٹیوب پہ خود ہی ڈال رہے ہوتے ہیں
15:09میں بہت اچھا ہوں
15:09میں نے یہ کیا
15:11میں نے یہ کیا
15:12میں بہت اچھا
15:13توازو اللہ کو پسند ہے
15:14یوسف علیہ السلام نے
15:16اپنی پاک دامنی بیان کی
15:18اور پھر کیا کہنے ہیں
15:19وہ ماں ابر رئیوں نفسی
15:20بھائی میں یہ نہیں کہہ رہا
15:21میں اچھا ہوں
15:21انسان کی جو اندر کی میں ہے
15:23وہ تو برائی ہی کی دعوت دیتی ہے
15:25اللہ ماں رحم ربی
15:26ہاں جس پر میرا رب رحم کر دے
15:29تو یہ میرے رب نے
15:30مجھ پر رحم کیا تھا
15:31کہ مجھے برائی سے
15:32بچا لیا
15:33گویا میں اچھا نہیں ہوں
15:34اللہ اچھا ہے جس نے مجھے بچا لیا
15:35سمجھ میں آ رہی ہے
15:37کہ نہیں آ رہی ہے
15:37آج ہمارے والد صاحب
15:39ایک بڑی اچھی بات کیا کرتے تھے
15:40کہ آج ایک آدمی
15:41اگر تھوڑا سا ذکر
15:42اذکار شروع کر دے
15:43تھوڑا سا تحجد میں
15:44رونے کی توفیق مل جائے
15:45تو اس کو اپنے بارے میں
15:46یہ وہم ہونے لگتا ہے
15:59میرے والد صاحب نے بتایا
15:59مسجد میں ایک بندہ بیٹھا رہا تھا
16:00تو وہ شام ذکر کرتا تھا
16:02کہتے ہیں ایک دن میرے پاس آیا
16:03میرے والد صاحب کا نام تھا
16:04مسعود صاحب
16:05کہنے لگا حافظ مسعود صاحب
16:06ایک بات کرنی ہے آپ سے
16:06میرے والد صاحب کہتے ہیں
16:07میں نے کہا جی بتاؤ بیٹا
16:08کہنے لگے چھپیے نا
16:09چھاؤں میں لے جا کے
16:10کہنے لگا
16:11مجھے لگ رہا ہے
16:12کہ شاید امام مہدی میں ہی ہوں
16:13تو والد صاحب کہتے ہیں
16:14میں نے اس سے کہا
16:15بیٹا یہ بات
16:15مجھے بتائیے
16:16میرے علاوہ کسی اور کو
16:18نہیں بتا
16:19بھروسہ نہیں ہے
16:19یہ کوئی بندہ پیل
16:20کتنا چڑھا ہے
16:21یہ تو میں اپنی طرف سے
16:22الفاظت سمال کر رہا ہوں
16:22کوئی مار مور نہ دے
16:24کہہ رہے ہیں
16:24اس کو میں نے سیدھا کر لیا
16:25تو انسان کا بچہ بن گیا
16:26برنا ہوتا کیا ہے
16:27آدمی کہتا ہے
16:28چل تو امام مہدی
16:29اور میں تیرا
16:30اسسٹنٹ
16:30ٹھیک ہے نا
16:31مل کے دکان چلاتے ہیں
16:35جب بادشاہ نے یہ باتیں
16:36سنی ہے نا
16:36یوسف علیہ السلام
16:37کہ پاک دامن بھی ہیں
16:38اور شو بھی نہیں مار رہے
16:40یہ کہہ رہے ہیں
16:41کہ یہ میرا کمال نہیں ہے
16:42کس کا کمال ہے
16:43حالکہ ایسے موقع پہ
16:44تو انسان کتنا
16:45کوشش کرتا ہے نا
16:46آگے نکلنے کی
16:47بادشاہ تھا
16:48ذہین آدمی
16:48ذہین آدمی کیا کرتا ہے
16:50تھوڑی دیر میں
16:51اوبزرف کر لیتا ہے
16:51کہ اس آدمی کی شخصیت میں
16:53وزن کتنا ہے
17:01بیان سے
17:03لوگ
17:03اوبزرف کر لیتے ہیں
17:04کسی کی بات چیز سے
17:05یہ حقیقت ہے
17:06جن میں
17:07اوبزرف کرنے کی
17:08صلاحیت ہوتی ہے نا
17:08وہ بندے کو
17:09دس پندرہ منٹ میں
17:10جانچ لیتے ہیں
17:11کہ اس کا وزن کتنا ہے
17:12بادشاہ کو اندازہ ہو گیا
17:14بھئی یہ معمولی
17:15نہیں ہے
17:15یہ بہت زیادہ
17:16اچھے خلاق کے حامل ہیں
17:17اور بڑے ذہین ہیں
17:18لہذا بادشاہ نے کہا
17:19صرف رہائی نہیں ملے گی
17:20ایتونی بھی
17:21ان کو لے کر آؤ
17:24میں ان کو
17:25اپنا مشیر خاص بناوں گا
17:28یہ میں نے جو
17:28مسٹنڈے بٹھائے ہوئے ہیں نا
17:29مشورے کے لیے
17:30جن کو خواب کی تابیر
17:32آتی نہیں ہے
17:32اور بول رہے ہیں کہ
17:33الٹے الٹی باتیں
17:34ہمیں نہیں پتا
17:34یہ مسٹنڈے مارکیٹ سے
17:36کیا ہوں گے اب
17:36یہ مروائیں گے مجھے
17:37ٹھیک ہے یہ بھی رہیں گے
17:39وزیر ان کو عہدے رہیں گے
17:40لیکن جو میرا خاص
17:41مشیر ہوگا
17:42وہ کون ہوگا
17:43وہ یوسف ہوگا
17:44مجھے ایسے لوگ چاہیئے
17:45تو
17:45فلمہ کلمہو
17:47جب
17:48یوسف کو بلایا
17:49علیہ السلام کو
17:49اور بادشاہ نے
17:50مزید کلام کی
17:51اب بات چیت کی
17:52اور بادشاہ کے دل میں
17:53آپ کی قدر بڑی
17:54اور کہا
17:55انکل یوم لدینا
17:56مکین امین
17:58آپ میرے مشیر خاص ہی نہیں ہیں
18:00بلکہ آپ کو
18:01میرے پاس
18:01ایک زبردست ٹھکانہ ملے گا
18:03اور میں اب آپ پر اعتماد کروں گا
18:05حکومتی معاملات میں
18:06میں کیا کروں گا
18:07آپ امین بھی ہیں میرے
18:08دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام نے
18:09اس موقع پہ
18:10نہیں کہا کہ
18:11بادشاہوں کے
18:12ٹکڑوں کے مہتاج نہیں ہیں
18:13آپ مجھے خان کا بنا کے دے دو
18:15میں وہاں اللہ اللہ کیا کروں گا
18:16اور بادشاہ بھی کافر
18:18کافر کے بچے
18:19تو اپنی چگل تو دیکھ
18:20ایسے کہہ سکتے دے نا
18:22تو بدپرست آدمی ہے
18:23پوری قوم کو بدپرستی پر ڈالا ہوا ہے
18:25کافر کافر جو نہ مانے
18:26جو تجھے کافر نہ مانے
18:27وہ بھی کافر
18:28اور
18:28بدوں کی عبادت کرتا ہے
18:30بیٹھ کے اور باتیں کر رہا ہے
18:31کچھ بھی نہیں
18:32بائی گراؤن ریالٹی کے حساب
18:33یہ تو ویسے بھی کسی عام کافر کو بھی بولیں گے
18:35تو دین کے قریب آنے کے بجائے
18:36کیا ہو جائے گا
18:37دور ہو جائے گا
18:38تو ہر جگہ کا ایک مقام ہے
18:40یوسف علیہ السلام کو جب اس نے کہا
18:41کہ آپ کے پاس آج
18:43آپ کے لیے
18:44ہمارے پاس آج سے بہت اچھا
18:46ٹھکانہ
18:47شکر ہے ہم لوگ اس وقت مصر میں نہیں تھے
18:49ورنہ کوئی بھروسہ نہیں ہے
18:50معاذ اللہ
18:51یوسف علیہ السلام کو بھی نہیں چھوڑنا تھا قوم نے
18:53الزامات لگانے تھے
18:54کافر بادشاہ سے مل رہے ہیں
18:55کافر بادشاہ بولا رہے ہیں
18:56تو جا کے بیٹھ رہے ہیں
18:57کافر بادشاہ
18:58اہدے دے رہے ہیں
18:59تو قبول کر رہے ہیں
19:00تو اپنے آپ کو نا
19:01سوچیں ہم کدھر کو جا رہے ہیں
19:03جب یوسف علیہ السلام نے دیکھا
19:04کہ بادشاہ سلامت بھی فارم میں آئے ہیں
19:05نہیں بھئی
19:07مسلسل تعریفوں پر تعریف ہیں
19:08اور کہہ رہے ہیں
19:09آپ کے ہمارے پاس ٹھکانہ ہیں
19:10تو یوسف علیہ السلام نے
19:11خود سے وزارت کی پیشکش کی
19:13کہ بھئی تو جو مبہم باتیں کر رہے ہیں
19:15کہ آج سے مشیر خاص اور ٹھکانہ
19:17تو میں آپ کو بتاتا ہوں
19:18مجھے اہدہ کیا چاہیے
19:19یوسف علیہ السلام
19:20اصل میں جانتے تھے
19:21کہ فیوچر میں جب قہد پڑے گا
19:23تو آپ کو پتا ہے
19:24جب ملک کی معیشت ڈاؤن ہو
19:25بارش بند پیداوار زیرو ہو جائے
19:27تو سب سے زیادہ ویلیو
19:29وزیر معیشت کی ہوتی ہے
19:31کیا خیال ہے
19:32بادشاہ کی بھی پھر ویلیو نہیں رہتی
19:33لوگ دیکھتے ہیں
19:34کہ جو وزیر معیشت کا وزیر ہے
19:37وہ اب ملک کو بچاتا کیسے ہے
19:39وہ بجٹ کیا نکالتا ہے
19:40بجٹ کیا آناؤنس کرتا ہے
19:42کتنا اسٹور کرنا ہے
19:43کتنا ایکسپورٹ کرنا ہے
19:45اور جو ایکسپورٹ ہوگا
19:46اس کی ویلیو کیا ہوگی
19:47تو یہ کام
19:48نالج اور علم کے بغیر
19:50یہ دیسی طریقے سے نہیں ہوتا
19:51کہ جناب آپ نے کہا
19:52کہ ہم یوں کریں گے
19:53کہ جی وہ قرضہ
19:54ماف کرانے کے لیے
19:55ہم کہیں گے یہ والا
19:56ٹندہ لے کے
19:57آئی ایم ایف کا قرضہ دیں گے
19:58مزید سود مانگو
19:59کہ تم غوری میزائل سے
20:00اڑا دیں گے ہم
20:01بعض لوگوں کی یہ بھی رائے ہے
20:02ان کا اپنا ایک نظریہ ہے
20:04تو یہ دیسی طریقے سے نہیں ہوتا
20:05اس کے لیے اکاؤنٹنٹ ہوتے ہیں
20:08ایکنومس کے ماہرین ہوتے ہیں
20:09یہ جو سی اے کرتے ہیں نا
20:11آج گورے
20:11سی اے کرواتے ہیں نا
20:12چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ
20:13آپ کو پتا ہے کہ
20:14اکاؤنٹنگ کے علم کی بنیاد
20:15مسلمانوں نے رکھی ہے
20:16بلکہ کچھ استلاحات بھی
20:17اکاؤنٹنگ میں وہی استعمال ہو رہی ہیں
20:19جو مسلمانوں کی تھی
20:20کیونکہ مسلمانوں نے
20:21انیس سو بیس میں جا کے
20:22خلافت عثمانیہ ختم ہوئی ہے
20:23تو پوری
20:24پتہ نہیں
20:25کتنے کنٹری تھے
20:26آپ ذرا گوگل پر لکھیں
20:27کتنے ملک تھے
20:28جو خلافت عثمانیہ کے تحت تھے
20:30تو اتنی بڑی دنیا کو سنبھالنا
20:33سات آٹھ سو
20:34بلکہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا تھا
20:36یہ دیسی طریقے سے ممکن نہیں ہے
20:38تو بڑے بڑے سائنسدان تھے
20:40مسلمانوں کے پاس
20:41تو یہ علم کی بنیاد
20:42مسلمان اور اکاؤنٹنگ کے علم کی
20:43تو ویلیو قرآن سے بھی پتا چلتی ہے
20:45قرآن نے
20:45مالی معاملات کو لکھنے پڑنے کا
20:47اور کیلکولیٹ کرنے کا حکم دیا ہے
20:48تو یوسف علیہ السلام نے دیکھا
20:50کہ بھئی بادشاہ سلامت آئے ہوئے ہیں
20:52فارم میں
20:52اور مجھے عہدہ دینا چاہتے ہیں
20:54تو خود پیشکش کی
20:55کہ آپ مجھے وزیر خزانہ بنا دیں
20:57کیوں انی حفیظ علیم
20:59وزیر خزانہ میں دو کولیٹی کا ہونا ضروری ہے
21:01ایک تو یہ کہ
21:02اس کے پاس ایکنومکس کا علم ہو
21:04معیشت کا علم ہو
21:05یہ God gifted علم
21:06اللہ نے مجھے دیا ہوا ہے
21:08موجزاتی طور پر
21:09دوسری بات یہ
21:10کہ وزیر خزانہ ایماندار ہو
21:12خزانے کو اس سے محفوظ کیسے کرے آدمی
21:14ہمارے ہاں وزیر خزانہ سے
21:16جتنا خزانے کو خطرہ ہوتا ہے
21:17ڈاکووں سے اتنا خطرہ نہیں ہوتا
21:19ٹھیک ہے نا
21:20تو میں امین بھی ہوں
21:22میں اس خزانے میں
21:23ایک روپے کی بھی خیانت
21:24نہیں کروں گا
21:25قرآن کہتا ہے
21:27یوسف علیہ السلام کا ویجن تھا نا
21:28دیکھو ہر فیصلہ کر رہے ہیں
21:29یہ نہیں اس لیے
21:30نہیں وزیر خزانہ بننے
21:31کہ میری تنخواہ ہوگی
21:32پھر یہ گاڑیوں میں گھوموں گا
21:33ان کو پتا ہے بھئی
21:34وزیر خزانہ بننے کے بعد ہی
21:36مصر کی حکومت میرے پاس آ سکتی ہے
21:38اور میں یہاں دعوت کا کام کر سکتا ہوں
21:40آج بعض لوگ کیا کرتے ہیں
21:42مدرسوں کی ضرورت اپنی جگہ
21:43مسجدوں کی ضرورت اپنی جگہ
21:45لیکن ہر دین کا کام
21:47مسجد اور مدرسے سے نہیں ہوتا
21:48میں لوگوں سے کہتا ہوں
21:49مدرسے بھی ہیں
21:50ان کی بھی کوشش کرو
21:51ان کو مالی تعابون کرو
21:52لیکن اب اسکولوں پر محنت کرو
21:53ہماری جو کریم تیار ہو رہی ہے
21:55جو پیک کے اداروں میں لوگ جا رہے ہیں
21:57وہ مدرسوں سے نہیں
21:58بلکہ اسکول سے جا رہے ہیں
22:00تو اب اسلامی اسکول کو
22:01زیادہ فوکس کرنے کی ضرورت ہے
22:03ایسے اچھے اسکول بناو
22:05کہ تعلیم بہت میعاری ہو
22:07اور محول ان کا اسلامی ہوں
22:09وہاں سے جب بچے نکل کے جائیں
22:11تو اچھے اچھے اہدوں پر جائیں
22:12کیونکہ بہت سارے کام اہدوں سے ہوتے ہیں
22:14ہر کام مولوی بننے سے نہیں ہوتا
22:16مولویوں کی ضرورت اپنی جگہ ہے
22:18لیکن ضرورت اچھے سائنسدانوں کی بھی ہے
22:20اچھے فوجیوں کی بھی ہے
22:21اچھے ججوں کی بھی ہے
22:22اگر صرف مولویوں کے پاس ہی دین ہوگا
22:25تو آپ دیکھ لو نا
22:26ادھر مولوی فتوہ دے رہے ہیں
22:27کہ خلا کل ادم ہے
22:28جج کیا کہہ رہے ہیں
22:29خلا ہو گیا
22:30لوگ سن کس کی رہے ہیں
22:32ججوں کی سن رہے ہیں
22:33اتنے کیسز ہر ہفتے عدالتی خلا کے
22:35عدالتی خلا کے
22:35وہ عورتیں خلا لے لے کے
22:36شادیاں کر رہی ہیں
22:37وہ زنا ہو رہا ہے
22:38وہ نکاح تھوڑی ہے
22:39طلاق کا اختیار تو قرآن میں
22:40صاف طور پر ہے کہ
22:41جج کے پاس نہیں ہے
22:42شوہر کے پاس ہے
22:43مگر دی مار ساڑھے چار
22:44ڈگریوں پر ڈگریوں
22:45جا رہی ہیں خلا کی
22:46تو اگر ججز جب تک
22:48دین کا علم رکھنے والے نہیں ہوں گے
22:50اسمبلیوں میں لوگ
22:50دین کا علم رکھنے والے نہیں پہنچیں گے
22:52اس وقت تک
22:53ملک میں
22:53صحیح معنوں میں
22:54تبدیلی نہیں ہو سکتی
22:56تو یوسف
22:56جلدی سے اب چلتا ہوں میں آگے
22:57یوسف علیہ السلام نے کہا
22:58مجھے آپ وزیر خزانہ بنا دیں
23:00اس سے پتہ چلتا ہے
23:00کہ وزیر بننے کی کوشش کرنا
23:02آرمی میں اچھا آفیسر بننے کی کوشش کرنا
23:04کسی اچھے عہدے تک جانے کی کوشش کرنا
23:06یا دنیا پرس ہونے کی علامت نہیں ہے
23:08ہاں وزن آپ کا اچھا ہونا چاہیے
23:11سمجھتے ہوگے نہیں سمجھتے
23:12ہمارے ہاں دیکھ لو
23:13جو دید پر چلتا ہے
23:14سب سے بڑا مہنچو وہی ہوتا ہے
23:15گھر میں پڑا رہتا ہے
23:16ایک صاحب نے کہا
23:17کہ میں روزہ رکھ کے فجر کے بعد سوتا ہوں
23:18زہر میں اٹھ کے زہر پڑھ کے پھر سو جاتا ہوں
23:20اثر میں اثر پڑھ کے پھر سو کے افطار کرتا ہوں
23:21میرے روزہ تو نہیں حراب ہوگا
23:23تو روزہ تو ہو گیا آپ کا
23:25بھوکے پیاسے تو رہ لئے آپ
23:26لیکن یہ کوئی لائف اسٹائل ہے
23:28یہ کیا کرے گا بندہ دنیا میں بیٹھ میں
23:30اچھا بھائی خیر
23:31تو وَقَذَا لِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ
23:34قرآن کہتا ہے
23:34اس طرح ہم نے یوسف کو زمین میں
23:36ٹھکانہ دے دیا
23:38یَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْفُ يَشَا
23:39اور ایسی پاورفل حکومت آگئی
23:41کہ مصر میں جہاں چاہیں ٹھکانہ بنائیں
23:43پورا مصر ان کے کنٹرول میں آگیا
23:45نصیب بی رحمتی نام النشا
23:47ہم جس کو چاہتے ہیں
23:48اپنی رحمت پہنچاتے ہیں
23:50وَلَا نُضِعُ عَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
23:51جو سب سے بہترین آیت
23:53کہ ہم اچھے عمل کرنے والوں کے
23:55عجر کو ضائع نہیں کرتے
23:57کیا مطلب
23:57آپ اچھا کر رہے ہو
23:59ہو سکتا ہے
23:59ابھی آپ کے ساتھ خراب ہو
24:00لیکن ڈیزلٹ
24:01آپ کے حق میں ہوگا
24:03سمجھتے ہو
24:03وَلَا جُرُ الْآخِرَتِ خَيْرَ
24:05اللہ فرماتے ہیں
24:06تو دنیا کہا جا رہا ہے
24:06آخرت کا اس سے بھی
Comments

Recommended