Skip to playerSkip to main content
  • 3 days ago
Islamic Legacy Stories Episode 17 Story of Abdullah Ibn Ubayy Part-4 رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:01شروع کرتا ہوں
00:03اللہ کے نام سے جو بہت بڑا
00:05میربان نہا ہے تو رہے ہیں
00:07دوستو بینو بھائیو بزرگو
00:10السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:12ہم تاریخ اسلام
00:14میں
00:14اس تاریخی
00:18اسلام میں
00:19ہم خوشحامدیت کہتے ہیں آپ کو
00:20ہم نے ایک سلسلہ یہاں
00:23صرف شروع کی وی
00:26اسلامی
00:28لیکسی سٹوریز
00:32This is what we call Abdullah bin Abiyah
00:37which is a leader of the Prophet
00:42One day there is a
00:44one that he was
00:46when the Prophet said to him
00:47where he was in the United States
00:50that was a man of the Prophet
00:53and that was a man of the Prophet
00:54that was a man of the Prophet
00:56who was a man of the Prophet
00:57who was a man of the Prophet
00:58After that, when we had already visited His dad in Akbar, he said that he had already done that in
01:03the years.
01:06And he had kept the value of his father, and he had called himself and had like a-
01:14He told me that that he had already said, when he said that he was not going in a lowr,
01:20,
01:21,
01:21,
01:21,
01:21,
01:22And when he was a man of the day, he said,
01:25he says,
01:26When he was a man of the day,
01:33He said,
01:34That he didn't give away his mind
01:36He said,
01:38He said,
01:39He said,
01:44I'm not a child,
01:45I'm not a child
01:46He said,
01:49He said,
01:49can you just let us know it will because we read it and then we said that our parents
01:52will leave it there we go and you will leave it there it is very nice
02:00that's it when abdullah bin abhi waiting was on the back then his son's son's head
02:09and abhi said he said he did not like he said he did not have a good name
02:23كون محززة قون ضلیل ہے
02:26ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہے
02:28کہ جب تک آپ یہ نہ کہہ دے
02:30کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم محزز ہے
02:32اور آپ ضلیل ہیں
02:35ابن ابی نے کہا
02:37کہ کیا تم بھی میرے لئے
02:38عام آدمی کی طرح ہو
02:40جو بیٹا ہو کر
02:41اس طرح کا سلوک کر رہے ہو
02:43اضلاف اللہ نے کہا
02:44کہ ہاں میں بھی عام لوگوں کی طرح ہوں
02:48آخر
02:49عبداللہ بن ابی
02:50رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا
02:53اور آپ سے اپنے بیٹے کی شکایت کی
02:55رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
02:57نے ایک شخص کے ذریعے
02:58حضرت عبداللہ کے پاس پیغام بھیجا
03:01کہ ابن ابی کو جانے
03:04ایک رویت کے مطابق
03:06حضرت عبداللہ
03:07نے باپ سے کہا
03:09کہ اگر آپ اللہ و رسول کی عزت
03:11اور سربلندی کے اقرار نہیں کریں گے
03:13تو میں آپ کی گردن مار دوں گا
03:14ابن ابی نے کہا تیرا ناس ہو
03:17کیا تیرے یہ ارادیں
03:19آخر جب ابن ابی نے
03:21بیٹے کی یہ تیور دیکھے
03:22تو جوابن کہہ دیا کہ میں گواہی دیتا ہوں
03:25کہ تمام عزت اور سربلندی
03:27اللہ تعالیٰ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
03:29اور مومنوں کے لیے ہیں
03:32رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:33نے حضرت عبداللہ سے فرمایا
03:35کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے سور
03:37اور تمام مومنوں کی طرف سے جزائے خط
03:39خیر عطا فرمائے اس موقع پر
03:42اللہ تعالیٰ نے سورہ منافقین
03:43نازل فرمائے
03:46ایک حدیث میں ہے
03:47کہ جب سورہ منافقین نازل ہوئی
03:49جس میں ابن ابی کو جھٹلایا گیا ہے
03:52اس وقت لوگوں نے
03:53ابن ابی سے کہا کہ جا کر
03:55رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگو
03:59مگر اس نے
04:00ترخ کر جواب دیا
04:01تم نے کہا ان پر اعمال لاؤ
04:03میں اعمال لیا تم نے کہا
04:05مال کی زکاعت دو میں نے زکاعت بھی دے دی
04:08اب بس یہ قصر رہ گئی ہے
04:10کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو
04:11سجدہ کن
04:15ایک روز
04:15عبداللہ بن ابی کے ساپ زادے
04:17حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:20رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
04:22بیٹھ ہوئے تھے
04:23رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:25کوئی چیز نوش فرمائی تو حضرت عبداللہ
04:27نے عرض کیا
04:29باخدہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:31آپ جو کچھ پی رہے ہیں
04:33اس میں سے کچھ بچا دیں
04:34تاکہ میں
04:35وہ اپنے باپ کو پڑا دوں
04:37ممکن ہے اس کے ذریعے
04:39اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پاک کر دیں
04:41حضرت عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:43اس میں کچھ بچا کر انہیں دے دیا
04:44جیسے وہ اپنے باپ کے پاس لائے
04:47ابن ابی نے پوچھا یہ کیا ہے
04:50حضرت عبداللہ نے جواب دیا
04:52کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
04:53مشروع میں سے بچا ہوا ہے
04:55یہ میں آپ کے پاس اس لئے لائم
04:58کہ آپ اسے پی لیں
04:59شاید اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے
05:01آپ کے دل کو پاک کر دیں
05:05ابن ابی نے کہا
05:06تو میرے لئے اپنے ماں کا پشاک
05:08کیوں نہ لے آیا
05:09اسے زیادہ پاک تو میرے لئے یہ وہی ہے
05:11یہ سن کر حضرت عبداللہ
05:13سخت غصہ غزب ناک ہو گئے
05:15اور فوراں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:17میں پاس آ کر کہنے لگے
05:18یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:21کیا آپ مجھے اجازت نہ دیں گے
05:23کہ میں اپنے باپ کا قصہ ہی پاک کر دوں
05:26آپ نے فرمائے نہیں
05:28اپنے باپ کے ساتھ
05:29میربانی کا معاملہ کرو اور اس کا
05:31عدب کیا کرو
05:33دارالکتنی نے ایک مسند رویت
05:35نکل کی ہے کہ ایک بار رسول پاک
05:37صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے
05:39گزے جس میں عبداللہ بن ابی
05:41مجود تھے رسول پاک
05:43صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا
05:45اور پھر وہاں سے واپت تشریف
05:47لے آئے اسی دن عبداللہ
05:49بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا
05:51کہ ابن ابو پیشا
05:53یعنی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
05:55نے اس علاقے میں بڑا ساروں
05:57بار لیا ہے یہ بات ابن
05:59ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ
06:01نے بھی سنی انہوں نے رسول پاک
06:03صلی اللہ علیہ وسلم سے اجاز چاہیے کہ اپنے
06:05باپ کا سر لاکھر خدمت
06:06درامیوں میں پیش کرو
06:09حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
06:10ہرگز نہیں بلکہ اپنے باپ کے ساتھ
06:13نیک سلوک کیا کرو
06:17اور جس شخص
06:19نے اس کی ذمہ دار ہے کہ بڑا حصہ اپنے سال لیا
06:21اس کے لئے تو عذاب عظیم ہے
06:25ام المومنین حضرت عیشہ صدیقہ فرماتی ہے
06:27کہ جس نے پہلے پہل اس تعمت کے ابتدا کی تھی
06:31وہ عبداللہ بن عبی بن سلول ہے
06:34اور یہ آیت اس کے لئے بارے میں نازل ہوئی ہے
06:38کہ اس سے مراد عبداللہ بن عبی سلول ہے
06:41بخاری میں اس کا ذکر ہے
06:46تو دوستو بینوں بھائیوں
06:50حضرت عیشہ صدیقہ پر تعمت لگانے کا جو واقعہ ہے
06:53اب ہم وہ بیان کرتے ہیں
06:56اس کا واقعہ خود ہی نہیں کی زبان سے سنی ہے
06:58جس سے پوری صورتحال سامنے آ جائے گی
07:01جناب صدیقہ فرماتی ہیں
07:04رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کہتا تھا
07:07کہ جب آپ سفر پر جانے لگتے
07:08تو قرآ ڈال کا فیصلہ کرتے
07:11کہ آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے گی
07:15غزوہ بڑی مستلق کے موقع پر
07:18قرآ میرے نام نکلا
07:19اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی
07:22واپسے پر جابہ مدینہ کے قریب تھے
07:24ایک منزل پر رات کے وقت
07:26رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا
07:29اور ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا
07:31کہ کوچھ کی تیاری شروع ہو گی
07:32میں اٹھکا رفعہ حاجت کے لیے گئی
07:35اور جب پلٹھنے لگی
07:36تو کیام گا کیام گیا کی پاس
07:43کیام گیا کی پاس ہی تھی
07:50کہ محسوس ہوا کہ میرے گڑے کا ہاتھ ٹوٹ کر
07:53کہیں گر پڑا
07:56میں اسے تلاش کرنے میں لگی
07:57اور اتنے میں کافڑا روانہ ہو گیا
08:00قیدہ یہ تھا کہ میں کوچھ کے وقت
08:02اپنے ہودے پر بیٹھ جاتی تھی
08:05اور چار آدمی اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے
08:08ہم عورتیں ہیں
08:09اس زمانے میں غزہ کی کمی کے سبب سے
08:12ہلکی پل گی تھی
08:13میرا ہودہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا
08:16کہ میں اس میں ہوں یا نہیں ہوں
08:19وہ بے خبری میں خالی ہودہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہو گیا
08:23میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا
08:27آخر اپنی چادر اوڑ کر وہیں لیٹ گئے
08:30اور دل میں سوچ دیا کہ آگے جا کر
08:32جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے
08:34تو خود ہی ڈھونٹے ہوئے آ جائیں گے
08:36اسی حال میں مجھے نیند آگی
08:38اس صبح کے وقت صفوان بن موطب
08:41سلمہ
08:43اس جگہ سے گزرے
08:45جہاں میں سو رہے تھے
08:46اور مجھے دیکھتی پچان گیا
08:48کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے
08:50وہ مجھے بار بار دیکھ چکے تھے
08:52یہ صاحب بدری صاحبیوں میں سے تھے
08:54ان کی صبح دیر تک سونے کی عادت تھی
08:57اس نے لشکرگاہ سے کہیں پڑے سوتے رہ گئے تھے
09:01اور اب اٹھ کر مدینہ جا رہے تھے
09:02مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا
09:04اور بے سخت زبان سے نکلا
09:06انہا لیلہ و انہا لیلہ رہ جاؤں گے
09:09رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی یہیں رہ گئی
09:11اس آواز سے میری آنکھ کھل گئی
09:13اور میں نے فوراں اپنے موں پر چادر ڈالی
09:16انہوں نے مجھ سے کوئی بازنہ کی
09:18لا کر اپنا اونٹ میرے پاس بٹا دیا
09:20اور اللہ گھٹ کر کھڑے ہوئے
09:22میں اونٹ پر سوار ہوگی
09:23اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہو گئے
09:27دوپہ کے قریب
09:28ہم نے لشکر کو جا لیا
09:29جبکہ وہ بھی ایک جگہ جا کر ٹھہ رہی تھا
09:32ٹھہ رہی تھا
09:33اور لشکر والوں کو ابھی
09:35یہ پتہ ہی نام چالا تھا
09:37کہ میں پچھے رہ گئی
09:39اس پر بوتان اٹھانے والوں نے بوتان اٹھا دیئے
09:42اور ان میں سے سب سے پیش پیش
09:44عبداللہ بن عبیدہ مغر
09:46میں اس سے بے خبر تھے
09:48کہ مجھ پر کیا باتیں بڑھ رہی ہیں
09:51دوسری روایت میں آیا
09:52کہ جس وقت صفوان کے اونٹ پر
09:54عزت عیشہ رضی اللہ تعالی
09:56لشکر کا پہنچی
09:57اور معلوم ہوا
09:58کہ آپ اس طرح پیشے رہ گئی تھے
10:01اسی وقت عبداللہ بن عبی بکار اٹھا
10:03کہ خدا کی قسم یہ بچ کا نہیں آئی ہے
10:05لو دیکھو تمہارے نبی کی بیوی نے
10:08رات ایک اور شخص کے ساتھ گزاری
10:10اور اب وہ اسے
10:12اللہ نیا لیے چلا آ رہا ہے
10:15مدینہ پہنچ کر
10:17میں بیمار ہوگی
10:19یہ عیشہ
10:20رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بیان کر رہی ہیں
10:23کہ میں بیمار ہوگی
10:25اور ایک مہنے قریب
10:26پلنگ پر پڑی رہی
10:27شہر میں اس وقت برطان کی قبر اڑ رہی تھی
10:29رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک
10:32بھی بات پہنچ چکی تھی
10:33مگر مجھے پتا نہ تھا
10:35البتہ جو چیزیں
10:36مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ
10:38رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تجبت جو
10:41میری طرف نہ تھی
10:42جو کہ بیماری کے زمانے میں ہوا کرتے تھے
10:45آپ گھر میں آتے تو
10:46گھر والوں سے یہ پوچھ کر رہ جاتے
10:49کیسی ہیں یہ
10:50خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے
10:52اس سے مجھے شبہ ہوتا
10:53کہ کوئی بات ہے
10:56اگر آپ سے اجازتے لے کر
10:58میں اپنی ماں کے گھر چلے گی
10:59تاکہ وہ میری تمارداری اچھی طرح کر سکے
11:04ایک روز
11:05رات کے وقت
11:06حاجت کے لیے
11:07میں مدینہ سے بہر گئی
11:09اس وقت تک
11:10ہمارے گھر میں بیت الخلان آتے
11:12اور ہم لوگ
11:13جنگل میں جایا کرتے تھے
11:15میرے ساتھ
11:15مستع بن اساسہ کی ماں بھی تھی
11:18جو میرے والد کی خلازات بھیٹھتے
11:20دوسری رعیت سے ملوم ہوتا ہے
11:22کہ اس پورے خاندان کی
11:24کفالت حضرت ابو بکر صدیق
11:26رضی اللہ تعالیٰ نے
11:27اپنے ذمہ لے رکھی تھی
11:28مگر اس احسان کے باوجود
11:30مستع بھی ان لوگوں میں شریک نہ ہو گئی
11:33جو حضرت عیشہ رضی اللہ تعالیٰ کے خلاف
11:36اس بہتان کو پھلا رہے تھے
11:38راستہ بھی ان کی اٹھوکر لگی
11:41اور بے سختہ ان کی زبان سے نکلا
11:43غارت و مستع
11:44میں نے کہا
11:46اچھی ماں ہو
11:47جو بیٹے کو کوشتی ہے
11:49اور بیٹا بھی وہ
11:50جس نے جنگِ بدر میں حیثیٰ لی ہے
11:53انہوں نے کہا
11:54بیٹا کیا تجھے اس کی بات تو کیا کچھ خبر نہیں
11:56پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا
11:58کہ افترہ پرداز
12:00لوگ میرے بطلق
12:02کیا باتیں اڑا رہے ہیں
12:04نافکین کے سوا خود مسلمان
12:06نومے سے جو لوگ
12:08اس فتنے میں شامل تھے
12:10ان میں مستع حسان بن
12:12ثابت مشہور شہر
12:14اسلام
12:16رحمت بن حبش
12:18حضرت زینب کی بہنڈ کا
12:20اس ساتھ سب سے نمائی تھا
12:21داستان سنکا میرا خون خوش ہو گیا
12:24اور حاجت بھی پوٹ گئی
12:26جس کے لئے آئی تھی سیدھی گھر گئی
12:28اور رات پھر
12:30رات پھر روتی ہی رہی
12:32رو رو کر کاتی
12:34آنگے چال کے حضرت عیشہ
12:35رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں
12:36میرے پیچے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:38علی رضی اللہ تعالیٰ عنو
12:40اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ کو لیا
12:42اور ان سے مشورہ طلب کیا
12:44کہ اسامہ نے میرے حق میں کلمہ خیر کہا
12:46اور عرض کیا
12:47یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:49بھلا ہی کہ اسوا آپ کی بیوی میں
12:51کوئی چیز ہم نے نہیں پائے
12:53یہ سب کچھ قذب اور باطل ہے
12:56جو اڑایا جا رہا ہے
12:58رہے علی کرم اللہ بجاو
13:00تو انہوں نے کہا
13:01یا رسول اللہ
13:02عورتوں کی کمی نہیں ہے
13:03آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:04اس کی جگہ دوسری بیوی کر سکتے
13:06اور تحقیق کرنا چاہیں
13:08تو خدمتگار لونڈی کو بلا کر
13:10حالات دریافتہ فرمائے
13:11چنانچہ خدمتگار کو بلایا گیا
13:14اور پوچھ کچھ کی گئی
13:15اس نے کہا کہ
13:16اس خدا کی قذم
13:17جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے
13:19میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھے
13:21جس پر حرف رکھا جاتا سکے
13:24بس اتنا عیب ہے
13:25کہ میں آٹا گوند کر
13:27کسی کام کو جاتی ہوں
13:28اور کہا جاتی ہوں
13:29کہ بیوی ذرا آٹے کا خیار رکھنا
13:32مگر وہ سو جاتی ہیں
13:34اور بکری آ کر آٹا کھا جاتی ہیں
13:37اسی روز رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
13:38نے خطبہ ارشاد فرمایا
13:40مسلمانوں کون ہیں
13:42جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے
13:44جس نے میرے گھر والوں پر
13:46ارزامات لگا کر مجھے عزیت پرچانے کی حد کر دی
13:49بخدا
13:50میں نے نہ تو اپنے بیوی ہی میں
13:53کوئی برائی دیکھی ہے
13:54اور نہ اس شخص میں
13:55جس کے متعلق تعمل لگائی جاتی ہے
13:57وہ تو کبھی میری غیر موجودی میں
14:00گھر آیا بھی نہیں
14:00اس پر عصید بن حزید
14:03بعض روایت میں سعید بن معازز
14:06نے اٹھ کر کہا
14:07یا رسول اللہ
14:09اللہ اگر ہمارے قبیلے کا آدمی ہے وہ
14:12تو وہ اس کے گردر مار رہے
14:14اور اگر ہمارے بھائی خضرجیوں میں سے ہے
14:18تو آہ حکم دے کہ ہم تعمیر کے لیے خاضر ہیں
14:20یہ سنتے ہیں سعید بن عباد
14:23رائیس خضرج اٹھ کر کھڑے ہوئے
14:25اور کہنے لگے جھوٹ کہتے ہو
14:27تم ہرگز اسے نہیں مار سکتے
14:29تم اس کی گردر مار کرنے کا نام
14:31صرف اس لیے لے رہے ہو
14:33کہ وہ خضرج میں سے ہے
14:34اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا
14:37تو تم کبھی نہ رکھتے
14:38کہ ہم اس کی گردر مار دیں گے
14:40اسید بن حضیر نے جواب دیا
14:42میں کہا تم منافق ہو
14:45اس لیے تم منافقوں کے حمیت کرتے ہو
14:47اس پر مسجد نبوی میں
14:49ایک حکامہ پر پاہ ہو گیا
14:52حالانکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
14:53ممبر پر تشیروں ڈکھتے تھے
14:55قریب تھا کہ اوز اور خضرج
14:57مسجد ہی میں لار پڑتے
14:58مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
15:00نے ان کو تھنڈا کیا
15:01اور وہے ممبر سے اترائے
15:05منصر قرآن
15:08مفسر قرآن مولانا مددتی رحمت اللہ علیہ
15:10کہتے ہیں
15:11اور لکھتے ہیں کہ
15:12عبداللہ بن عبی نے یہ شوشہ چھوڑ کر
15:15بیق وقت کہی شکار کرنے کی کوشش کی
15:18ایک طرف اس نے
15:18رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
15:20اور حضرت ابو بکر صدیق کی
15:22عزت پر حملہ کیا
15:23دوسری طرف اسلامی تحریک کی
15:25بلانترین اخلاقی وقار کو گرانے کی کوشش کی
15:28تیزی طرف اس نے یہ ایک ایسی چنگاری پھینکی تھی
15:31کہ اگر اسلام اپنے پیروں کی قائع نہ بڑھ چکا ہوتا تو
15:35مہاجرین اور انسان
15:37اور خود انسان کے بھی دونوں قبیلے آپس میں لڑ مرتے
15:44اللہ پاک نے اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکشیزہ بیوی
15:49حضرت عمر المومنین حضرت عیشہ رزیدکہ کی برات میں
15:53قرآنی سورہ نور کو نازل فرمایا ہے
15:56عبداللہ بن عبی کے ملزام کی قطع کھول دی
15:59اور اس کے ناپاک عظیم کا پھنہ پھوڑ دیا
16:03ارشاد باری طالع ہے
16:05سورہ نور
16:07جس کا ترجمہ ہے یہ لوگ بہتان کھڑ لائے ہیں
16:10وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہے
16:12اس واقعہ کے اپنے حق میں نہ شرط سمجھو
16:16بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے
16:18جس نے اس میں جتنا حصہ لیا
16:19اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا
16:21اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ
16:24اپنے سال لیا
16:25اس کے لئے عظام عظیم ہے
16:27حضرت احشاد رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتی
16:29کہ زینب بن حبش
16:32تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کے ساتھ بچا لیا
16:35یعنی ان کا دین محفوظ رکھا
16:37چنانچہ انہوں نے میرے بارے میں
16:39پڑھائی کس واقع کچھ نہیں کہا
16:41رہی ان کی بہن ہمنا
16:43بنت حبش
16:44سو وہ ہلاک ہونے والوں میں
16:46ہلاک ہو کر رہی
16:48یعنی حضرت زینب بن حبش
16:50نے تو اس بہتان میں حصہ نہیں لیا
16:52مگر ان کی بہن ہمنا بہتان لگانے باروں میں شامل تھی
16:56اور جو لوگ اس کے متعلق بات چیت کرتے تھے
16:58اور اس احوا کو پھلاتے تھے
17:00وہ مستح حسان بن ثابت
17:02اور عبداللہ بن ابی تھے
17:04یہی چوگلیاں کھاتا
17:06اور ان کی جمع کرتا تھا
17:08اور انہی ہی
17:09یہ بات
17:10کا مالک ہوا
17:12یعنی اس قطرناک فتنہ کا بانی
17:14عبداللہ بن ابی ہی تھا
17:17حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہے
17:20جب میری براد نازل ہوئی
17:22تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں
17:24ممبر پر کھڑے ہو کر
17:26اس کا ذکر فرمایا
17:27اور قرآن پاک کی تلاوت کی
17:29اس کے بعد جب ممبر پر سے اترے
17:31تو دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق
17:33حد مارنے کا حکم رمایا
17:35چنانچہ لوگوں نے انہیں حد ماری
17:37یعنی حضرت حسان بن ثابت
17:40حضرت مستہ
17:41اور حضرت حمنہ
17:42کے دلے لگائے گئے
17:45عبداللہ بن ابی مردود
17:46اور قبیز کے خلاف
17:48کوئی گواہ فرام نہیں ہو سکت
17:50اس لئے اس پر حد جاری نہیں ہو سکتے
17:52جبکہ ان باقی لوگوں کے خلاف
17:53گواہ اور شاہتیں حاصل ہو گئی تھی
17:55ایک قول کے مطابق اس پر حد
17:57اس لئے جاری نہیں کی گئی
17:58کہ وہ تمتے یہ کہہ کر
18:00نہیں لگاتا تھا
18:01کہ وہ خود ایسا سمیتا ہے
18:03بلکہ یہ کہتا تھا
18:04کہ دوسرے لوگ ہیوں کہتے ہیں
18:06رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
18:08نے خبر کے لئے کوچھ کیا
18:09تو عبداللہ بن ابی نے
18:11خبر کے یہودیوں کے پیسے
18:13اطلاع کرا دیتی
18:14کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
18:16تمہارے مقابلے کے لئے
18:17نکل کھڑے ہوئے ہیں
18:18لہٰذا اپنے احتیاطی تدابیری
18:21کر لو
18:21اور تمام مال اور دولت
18:23حویلیوں کے اندر چھپا لو
18:25عبداللہ بن ابی نے یہ بھی کلایا
18:27کہ تم لوگ
18:28محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے
18:30بہر نکل کر جنگ کرنا
18:31ان سے ڈھڑنے کی ضرورت نہیں
18:32کیونکہ تمہاری تعداد بہت زیادہ
18:34جبکہ ان کے ساتھ
18:35ایک ممولی سا گروہ ہے
18:38جن کے پاس ہیتھیال بھی تھوڑے ہیں
18:41جب
18:42ابو حباب
18:43مبارک اور تمہارے بادشاہ
18:45بننے کا وقت آ گیا
18:47یار تمہیں تو ہر وقت
18:49مزاق سوچتا ہے
18:49پھر ایک آہ بار کر
18:51جب سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
18:52مدینے میں آیا
18:53ہماری امیدوں پر پانی پھیر گیا
18:56یہ عبداللہ بن ابھی کہہ رہا ہے
18:58سنائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
19:01سلطنت روم سے ٹکر لینے کی لشکت جمع کر رہے ہیں
19:03اور اس کا اعلان عام بھی ہو گیا ہے
19:05لوگ پورے جوش اور خروش سے
19:08اس کی تیاریاں میں لگے ہوئے ہیں
19:10پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا
19:12محمد صلی اللہ علیہ وسلم
19:14پوری راز داری سے بڑھتے تھے
19:16چونکے
19:18چونکر کہا
19:19کہ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
19:21اور ہر کل
19:21عظم کی فوج کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں
19:24کہیں تم پاغل تو نہیں ہو گئے ہو
19:26کہاں سلطنت روم دنی کی
19:28سب سے بڑی طاقت جس کے پاس فوج کسیر ہے
19:31اسلا کے زخیر ہیں
19:32اور جس کے بہری جہاں سمندر میں
19:34مڈلاتے پھرتے ہیں
19:35ہنستے ہوئے
19:36اور یہ چھوٹی سی اسلامی راست کے فوج
19:38بھلا اس کا کیا مقابلہ کرے گی
19:41ابن قیس نے کہا
19:42کہ تم
19:44سمجھ رہے ہو
19:44کہ میں جھوٹ بار رہا ہوں
19:45جیسا کہ تم باری پرانی عادت ہے
19:48ابن ابھی
19:49دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا
19:51کیونکہ اسے اپنا خواہ پورا ہوتا
19:53نظر آ رہا تھا
19:54اسے یقین تھا
19:56کہ اسلامی لشکر رومی فور سے
19:57ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گا
19:59اسلامی سپاہ
20:00یا تو قتل کر دیا جائیں گے
20:02یا جنگی قیدی بنا لیا جائیں گے
20:04جاد بن قیس سے
20:06پھر تو تمہارا کیا رہ دا ہے
20:09بن قیس
20:11نے کہا
20:12کہ میں نے محمد
20:13صلی اللہ علیہ وسلم سے
20:14عذر پیش کر دیا
20:15میں
20:15جیتے جی موت کے موں میں
20:17جانا پرسند نہیں کروں
20:19اور تمہارا کیا رہ دا ہے
20:20ابن ابھی نے کہا
20:22کہ ہمیں مدینہ میں رہ کر
20:23اپنا کام کرنا ہے
20:24اور یہ کام پوری رازداری سے
20:26کرنا ہے ہوگا
20:27مدینہ کا تاجدار بننے کا
20:29یہ آخری موقع ہے
20:31اچھا یہ تو بتاؤ
20:32کہ کون کون جا رہا ہے
20:34من قیس نے کہا
20:35خاطر جمع رکھو
20:37ابن ابھی
20:38اب کی بار
20:39تم ضرور بادشاہ بننے گے
20:43لشکر کے روانہ ہونڈ سے
20:44قبل کوئی شوشہ چھوڑنا پڑے گا
20:46تاکہ مدینہ کی وضا
20:47مقدر ہو جائے
20:49اور ان لوگوں کے ارادت پست ہو جائے
20:51ابن قیس فکر نہ کرو
20:53میرے دوست
20:54میں نے ان کا انتظام کر رہا ہے
20:56ہمارے ساتھی اس کام میں لگے ہیں
20:58ابن ابھی
20:59نے کہا
21:00اچھا
21:01چلو
21:01مسجد ذرار چلیں
21:03وہاں ساتھی ہمارا انتظار کر رہے ہوں
21:06غزوہ طبق کے زمانے میں
21:08منافقین
21:09اکثر اپنی
21:10مجلسوں میں بیٹھ کر
21:11نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:12اور
21:13مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے
21:16اور اپنی تحذیق سے
21:17ان لوگوں کی
21:18احمد پست کرنے کی کوشش کرتے تھے
21:20جنہیں وہ نیک نیتے کے ساتھ
21:23امادہ جہاد پاتے
21:27محفل میں چند منافق بیٹھے گپ اڑھا رہے تھے
21:30ایک نے کہا
21:31اجی کیا رومیوں کو بھی تم نے
21:33کچھ عربوں کی طرح سمجھ رکھا ہے
21:35کل دیکھ لینا کہ یہ سب سورما
21:37جو لڑنے تشیب لائیں
21:39رسیوں میں بندے ہوئے ہوں گے
21:41دوسرا بولاو
21:42مزہ ہو جو
21:43اوپر سے سو سو کوڑے بھی لگانے کا حکم دو جائے
21:45ایک اور منافق نے
21:47حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی سرگرمیاں
21:50تیاریاں کرتے دیکھ کر
21:51اپنے یاروں دوستوں سے کہا
21:53آپ کو دیکھئے آپ روم اور شام کی قریب فتح کرنے چلے ہیں
21:59کچھ ایسی باتیں
22:02جنگِ خندق کے موقع پر بھی کہیں گئی تھیں
22:05چنانچہ اس وقت ایک منافق نے کہا تھا
22:07محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم سے وعدہ کرتے تھے
22:10کہ ہم قیسر و قسرہ کے خزانوں کو ہڑپ کر جائیں گے
22:13مگر اس وقت حالت یہ ہے
22:15کہ کوئی شخص بیت و خلا میں بھی
22:17اتمنان سے نہیں جا سکتا
22:19حضر جابر بن
22:22حضر جابر رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں
22:24کہ صلح دیبہ کے موقع پر
22:26رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
22:28کون ہے جو شنطل اور مرار
22:31گھاٹی پر چڑھنا پسند کرتا ہے
22:33اس کے دو گناہ معاف کر دی جائیں گے
22:36جو بن اسرائیل کے معاف کیے گئے تھے
22:39حضر جابر رضی اللہ تعالی بیان کر
22:40رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سن کر
22:43سب سے پہلے
22:45ہمارے قبیلہ بن خزرج کے سوار
22:47سوار گھاٹی پر چڑھے
22:49اور اس کے بعد بہتر بہتر
22:50کہ لوگ گھاٹی پر چڑھنا شروع ہو گئے
22:53حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
22:55تمہارے تمام گناہوں کے
22:56لوگوں کے گناہوں کو بخش دیا گیا
22:59مگر اس شخص کو نہیں بخشا گیا
23:01جو سرخ اونٹ والا ہے
23:03ہم لوگ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشاد سن کر
23:05سرخ اونٹ والے
23:07یعنی جد بن قیس کے پاس پہنچے
23:10اور اس سے کہا کہ چلو
23:11تم بھی سرکار رسالت محب سے
23:14آپ نے لیے دعا مغفرت کرو
23:15اس معلوم نے کہا
23:17مجھ کو میری گنشدہ اونٹنی کا
23:20مل جانا تمہارے صاحب
23:22یعنی آقا نامدار
23:23صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مغفرت سے زیادہ عزیز ہے
23:26اس وقت یہ شخص
23:28اپنی گنشدہ اونٹنی کو تلاش کر رہا تھا
23:31عبداللہ بن عبیز بن سلول
23:33صدقے دل سے ایمان لائے ہوتا
23:35تو صحابی کا لاتا
23:36اور صحابہ کرام کے مقدس جماعت میں شامل ہوتا
23:39شمار ہوتا
23:41جیسے اس کے بیٹے حضرت عبداللہ
23:43شرف صحابیہ سے مشرف ہوئے
23:46اور اس کے سینے میں دل نہیں
23:47آق کا ایک انگارہ تھا
23:49جو صلی اللہ علیہ وسلم کے بغض
23:51اور انار میں شولہ زن تھا
23:54اور ان شولہ میں
23:55اس کا پورا جسم دھڑا دھڑ جار رہا تھا
23:57اور یہ آق روز بروز تیز ہو رہی تھی
24:00اس کے ساتھ اس کی حضیانی
24:02کفیت میں بھی عذابہ ہو رہا تھا
24:04وہ اور اس کے ساتھ تھی
24:06زیان بک رہتے
24:09اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
24:11گستاگی کر کے خود کو رسوا کر رہتے
24:15عبداللہ بن ابھی کے دل میں
24:16ذرا برابر ایمان ہوتا
24:18تو وہ غزبہ تبوک میں
24:20شریک ہو کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتا
24:22لیکن وہ تو ایک پکا کافر تھا
24:25اس کی ساری ہمدردی
24:26اہلِ باطل سے تھی
24:27غزبہ تبوک میں پیچھے رہ کر
24:30اس تابکار اور ناجہہار نے
24:33اپنے کفر کا ثبوت فرام کر دیتا ہے
24:36للشکرِ اسلام کی رواننگی کے بعد
24:38مدینہ میں رہ کر اس میں کیا گل کھلائے
24:40اس کی تفسیر ہم آگے چل کے
24:44اپنے ایک بیان میں
24:45انشاءاللہ تعالی بیان کریں گے
24:50غزبہ تبوک
24:52اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ذکر کر دیتا ہے
24:55کیا ان سے کہو کہ تم ہمارے معاملے میں
24:57جس چیز کے منتظر ہو
24:58وہ اس کے سوا اور کیا کہ
25:00دو بلائیوں میں سے ایک بلائی ہے
25:04اور ہم تمہارے معاملہ میں
25:06جس چیز کے منتظر ہیں
25:07وہ یہ ہے کہ
25:08اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے
25:10یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے
25:12اچھا
25:13تو اب تم بھی انتظار کرو
25:15ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں
25:18منافقین حضب عادت
25:20اس موقع پر بھی
25:21کفر اور اسلام کی
25:22اس کشم کشم حصہ لینے کی
25:24بجائے اپنی دانست میں
25:26کمال اور دانشمندی کا ساتھ
25:27دور بیٹھے ہوئے
25:28یہ دیکھنا چاہتے تھے
25:29کہ اس کشم شوش کا
25:32کشم کش کا
25:34انجام کیا ہوتا ہے
25:35رسول پاک اور انصاب
25:37فتح یاب ہو کر آتے ہیں
25:38یا رومیوں کی فوجی طاقت سے
25:40ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں
25:42اس کا جواب انہیں یہ دیا گیا کہ
25:44جن دو نتیجوں میں سے
25:46ایک کے ظہور قطم میں انتظار ہے
25:47اہل ایمان کیلئے
25:49وہ دونوں ہی سرازر بلائی ہیں
25:51اور اگر فتح یاب ہوں
25:53تو اس کا بلائی ہونا تو زہر ہی ہے
25:55لیکن اگر ہم اپنے مقصد کے
25:57راہ میں جانے لڑاتے ہوئے
25:59سب کے سب پیونت خاک ہو جائیں
26:01تب بھی دنیا کی نگاہ میں
26:03چاہے یہ انتہائی نکامی ہو
26:05مگر حقیقت میں یہ بھی
26:06ایک دوسری کامیابی ہے
26:07اس لئے کہ مومن کی کامیابی ہے
26:10نکامی کا بیار یہ نہیں ہے
26:11کہ اس نے کوئی ملک فتح کیا ہو
26:12یا نہیں
26:13یا کوئی کرنے کے لئے
26:15آپ نے دل اور دماغ اور جسم
26:16اور مال کی سائی کرتے لڑا دیں
26:18یا نہیں
26:19یہ کام اگر اس کے لئے کر دیا
26:21تو درحقیقت وہ کامیاب ہے
26:23خوادنی کے اطبال سے
26:24اس کی صحیح کا نتیجہ
26:25صبر ہی کیوں نہ ہو
26:29اس طرح
26:32نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
26:35مدینہ تشریف لے جانے سے پہلے
26:38قبلہ خضرز میں ایک شخص
26:40ابو عامر نامی
26:41تھا جو زمانہ جہلیت میں
26:44عیسائی راہ بڑھ گیا
26:45اس کا شمار علماء اہل کتاب میں ہوتا تھا
26:49اور رباہیت کا وجہ سے
26:52اس کی علمی وقال کے ساتھ ساتھ
26:54اس کی درویشی کا سکہ بھی
26:56مدینہ اور اطراف کے جاہل
26:58جاہل عربوں میں بیٹھا ہوا تھا
27:00جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
27:02مدینہ پہنچے
27:04تو اس کی متحصت
27:06وہاں خوب چاہ رہی تھا
27:08مگر یہ علم اور
27:10درویشی اس کے اندر حق کے شناسی
27:12اور حق گوئی پیدا کرنے کی بجائے
27:15الٹی اس کے لیے ایک زملدہ سا
27:16حجاب بڑھ گئی
27:17اور اس حجاب کا نتیجہ یہ ہوا
27:20کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف
27:22آبری کے بعد وہ نعمت
27:24ایمان ہی سے مرہوم نہ رہا
27:26بلکہ آپ کو اپنی مشریخت
27:29کا حریف اور
27:30اپنے کاروبار درویشی کا دشمن سمجھ گا
27:33آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
27:34اور آپ کے کام کی مخالفت پر
27:36کمر بستہ ہو گیا پہلے دو سال تک
27:39تو اسے یہ امید رہی
27:41کہ کفار قریش کی طاقت ہی
27:43اسلام کو مٹانے کیلئے کافی ثابت ہو لی
27:45لیکن جنگ بدر میں
27:47جب قریش نے شکست فاش کھائی
27:49تو اسے یارہ زبط نہ رہا
27:52اسی سال وہ
27:53مدینہ سے نکل کھڑا ہوا
27:54اور اس نے قریش اور دوسرے عرب
27:57قبیل میں اسلام کے خلاف
27:59تبریخ شروع کر دی
28:00جنگ عود جن لوگ کی صحیح سے
28:03برپا ہوئی ان میں یہ بھی شاملتا
28:06اور کہا جاتا ہے کہ عود کے میدان
28:08جنگ میں اسی نے
28:10وہ گڑے خدوائے تھے
28:11جن میں سے ایک مین نبی کریم
28:14صلی اللہ علیہ وسلم گر کر زخمی
28:15ہو گئے تھے پھر جنگ عذاب
28:18میں جو نشکر ہر طرف سے
28:19مدینہ پر چڑھائے تھے ان کو
28:21چڑھا لانے میں بھی اس کا حصہ
28:24نمائی تھا اس کے بعد جنگ
28:25حنین تک جتلر لڑائیاں
28:28مشرقان نے عرق اور مسلمان کے
28:30دمیان ہوئے انسام میں
28:32یہ عیسائی درویش اسلام کے خلاف
28:34شرق کا سرگن ہمی رہا
28:37آخر کار
28:38اس بات میں سے محیوسی ہو گئی
28:40کہ عرب کی کوئی حد طاقت
28:42اسلام کے سلاب کو روک سکے گی
28:44اس نے عرب کو چھوڑ کر
28:45اس نے روم کا روک کیا
28:48تاکہ کیسر کو
28:50اس خطرے سے اگاہ کرے
28:51جو عرب سے سر اٹھا رہا تھا
28:53یہ وہی موقع تھا جب مدینہ میں
28:57یہ اطلاعات کولچی کے
28:58قیسر عرب پر چڑھائی کی تیاریاں
29:01کر رہا
29:01اور اسی کے روک تھا ہم کے لیے
29:03نوے کریم صلی اللہ علیہ وسلم
29:05وہ تبو کی محل پر
29:07جانا پڑا
29:10تو دوستو بیٹھو بھائی
29:12ابزرگو
29:12ہم یہی پہ رکھتے ہیں
29:15کل انشاءاللہ
29:17اگلے حصے میں
29:18عبداللہ بن ابی
29:22کہ اس اگلے حصے میں
29:24ہم یہی سے شروع کریں گے
29:26ابو عامر رہب کی
29:27ان تمہار سرگرمیوں میں
29:29مدینہ کے منافقین کا ایک گروہ
29:31اس کے ساتھ شریف شاجرتہ
29:34یہاں سے ہم
29:35انشاءاللہ
29:37اب لیے کسی شروع کریں گے
29:40اللہ حافظ
Comments

Recommended