Skip to playerSkip to main content
  • 8 hours ago
Islamic Legacy Stories Episode 14 Story of Abdullah Ibn Ubayy Part-3 رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Bismillah ar-Rahim
00:01I am the best of all the people who are really happy to be here
00:05Alright, I am the best of all
00:08Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:11In our Islam in our channel, we have
00:16Islamic Lexi Stories series of the series, which is the series of series
00:23The series series of series
00:25We have a good catch on the channel
00:29Um
00:32Um
00:34Um
00:34Um
00:58Um
00:59誰س نے آپ ﷺ کے مطالبوں کو منظور کیا اور اس شرط پر صلا کی کہ ان کو قتل نہ
01:05کیا جائے۔
01:07مگر ان کے وطن اور زمینے سے ان کو بے دخل کا دیا جائے گا
01:12اور ان کو شام کے بیابانوں میں جلا وطن کا دیا جائے گا۔
01:16صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خط تین شخصوں پر ایک اوٹ اور ایک مشک پانی کا دی۔
01:24with regard to the peace and peace of mind.
01:27He has had a sin in his coming
01:28and the peace of mind was made.
01:31He has had a peace and peace
01:36and he has had a peace
01:36that peace of mind,
01:37he has had a peace
01:38for his other people.
01:41So what happened to him,
01:43is the peace of mind
01:45of the peace of mind
01:50When Abdullah bin Abi Salol bin Abukokal, Swede and Daas
01:56There were people who had been Ben-N-N-N-Z-E-R to say that you would have to
02:01be your own
02:02and you would have to be your own.
02:04And you would have to be your own.
02:05We will not have to be your own.
02:08If you have to be your own, we will have to be your own.
02:11If you have to be your own, then we will have to go with your own.
02:14Therefore, you would have to wait for your own.
02:17So, Ben-N-N-Z-E-R نے ان کی مدد اور نصرت کا انتظار کیا
02:22مگر اس گروہ کے لوگ کوئی مدد کو نہ آسکے
02:26Allah تعالیٰ نے ان کے دلوں میں روپ پیدا کر دیا
02:28کہ خود انہوں نے سولے پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی
02:32کہ آپ ہمیں قتل نہ کریں
02:33جلا وطن کر دیں
02:35اس شرط بار کے اسلح کے علاوہ
02:38جس قدر سمان اونٹ اٹھا سکے
02:41وہ ہم ساتھ لے جائے
02:43سولے پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست منزول کی
02:46انہوں نے اپنا تمام سمان
02:48جو اونٹوں پر لاتا جا سکا ساتھ لے لیا
02:51چلانچہ یہ لوگ اپنے گھروں کے دروازے تک
02:54چوکٹ کے ساتھ نکال کر
02:56اونٹوں پر بار کر کے لے گئے تھے
03:00یہ خبر گئے
03:02اور پھر سے شام چلے گئے
03:05ان کی شرفہ میں جو خبر آئے
03:06وہ سلام بن ابی الحقیق
03:11کنانہ بن ربی بن ابی حقیق
03:15اور حبی بن اختب تھے
03:17جب یہ وہیں رائے پڑے
03:19اہلِ خبر نے ان کی اطاعت قبول کر دی
03:24اس پر سورہ حشر میں
03:27اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
03:28کہ اللہ ہی کی تصویر کی ہے
03:30جس چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے
03:33اور وہی غالب اور حکیم ہے
03:35وہی ہے جس نے اہلِ کتاب
03:37کافروں کو پہلے ہی
03:38حلے میں ان کے گھروں سے نکال بہر کیا
03:42تمہیں ہرگز یہ گماننا تھا
03:44کہ وہ نکل جائیں
03:45اور وہ یہ بھی کہہ سمجھ بیٹھے
03:48کہ ان کی گڑیاں
03:50انہیں اللہ تعالیٰ سے بچا لیں گی
03:52مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر
03:55ابا جدر ان کا خیال بھی نہ کیا گیا تھا
03:59اس نے ان کے دلوں میں رخ ڈال دیا
04:01یہ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے
04:04بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے
04:07اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے
04:10پس عبرت حاصل کرو
04:11اے دیدہ بنار
04:13رکھنے والوں
04:15اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں جلاوتیں
04:18لکھ دیتی ہوتی تو
04:19دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دیتا
04:22اور آخر میں تو ان کے لئے
04:24دوزب کا عذاب ہے ہی
04:25یہ سب کچھ اس لئے ہوا
04:27کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول
04:29صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا
04:31اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے
04:33اللہ اس کو سزا دینے میں
04:35بہت سخت ہے
04:37تم لوگوں نے جو خجونوں کے درخت
04:39کاٹے یا جن کو اپنے جگہ پر
04:41کھڑا رہنے دیا یہ سب اللہ ہی کے
04:43ازن سے تھا اور
04:45اللہ نے یہ ازن اس لئے دیا
04:47تاکہ فاسقوں کو زلیل اور
04:49خوار کرے
04:51سورہ حشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
04:53جس کا ترجمہ ہے تم نے دیکھا
04:55نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت
04:57کی روش اختیار کیا ہے
04:59یا اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے
05:01کہتے ہیں اگر تمہیں نکالا
05:03گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے
05:05اور تمہارے معاملہ میں
05:07ہم کسی کے بعد ہرگز نہ مانیں گے
05:09اور اگر تم سے جنگ
05:11کی گئی تو ہم تمہاری
05:13مدد کریں گے مگر اللہ
05:15گواہ ہے کہ یہ لوگ
05:17قطعی جھوٹے ہیں اگر وہ
05:19نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ
05:21ہرگز نہ نکلیں گے اور اگر
05:23یہ ان کی مدد کریں
05:25بھی تو پیٹ پھیر جائیں گے
05:27اور پھر کہیں سے
05:29کوئی مدد نہ پائیں گے ان کے دلوں میں
05:31اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے
05:32اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوچ
05:35نہیں رکھتے
05:37الحشر میں
05:38اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
05:40یہ کبھی اکٹھے ہو کر کھلے مدان میں
05:43تمہارا مقابل نہ کریں گے
05:45لڑیں گے بھی تو قلعہ بند
05:47بستیوں میں بیٹھ کر
05:48یا دیواروں کی پیچھے چھپ کر
05:50یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہے
05:52تمہیں اکٹھا سمجھتے ہو
05:54مگر ان کے دل ایک دوسر سے پھٹے ہوئے ہیں
05:57ان کا یہ حال اس لیے ہے
05:58کہ یہ بے اکل لوگ ہیں
06:00یہ انہی لوگوں کی ماند ہیں
06:02جو ان سے تھوڑی ہی مدد پہلے
06:04اپنے کیے کا مزہ چک چکے ہیں
06:06اور ان کی دردناک عذاب ہے
06:13اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
06:14سورہ المنافقوں میں
06:17جس کا ترجمہ ہے
06:18یہ منافق کہتے ہیں
06:20کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں
06:22تو جو عزت والا ہے
06:23وہ ضلیل کو
06:24وہاں سے نکال بہر کرے گا
06:26حالانکہ عزت تو اللہ
06:28اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
06:29اور مومنین کے لیے
06:31مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
06:35سول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
06:37کی توہین اور آنت اور روحانی
06:39عذیت رسانی
06:40پہلا حدف تھا
06:42عبداللہ ابھی کے اہداف
06:44کب ہم بیان کر رہے ہیں
06:46دوسرا اس کا حدف تھا
06:48کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
06:50کے مبارک گھرانے اہل بیت کی
06:52پاکیزہ بیوی پر تومت رازی
06:55تیسرا حدف
06:57رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
06:58کے جانسار
06:59ساتھیوں خصوصا حدد ابو بکر
07:02صدی اللہ علیہ وسلم
07:03کے مرتبہ اور مقام کا انکار
07:05ان کی قیادت اور بارگاہ نبوی
07:07صلی اللہ علیہ وسلم
07:08میں ان کی تقرب کو دیکھا جننا
07:11صدی اللہ علیہ وسلم
07:12کے اکبر کو دکھ دینا
07:13انہیں مسلمانے کے نظر سے گھرانے کی
07:16کوشش کرنا اور اسلامی قیادت پر
07:18عدم اعتباد کی جذبات کو پروانٹ چڑھانا
07:21چوتھا عدب اس کا تھا
07:22عبداللہ بن
07:24عبی کا
07:26حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
07:27کے خلاف مسلمانوں کے دل میں
07:30اختلاف پیدا کرنا
07:31انہیں ہوا دینا گروہی مصیبتوں
07:34کو عبارنا بددلی پھلانا
07:36امن و سکون کی فضاء کو مقدر کرنا
07:39بدغمانیاں پیدا کرنا
07:41مسلمانوں کے ٹو میں رہنا
07:43اجتماعی فیصلوں کو مان سے انکار کرنا
07:46اپنی رہے پر مصر رہنا
07:47اور اس کو بقار کا مسئلہ بنا لینا
07:51مجسمہ شرفسار
07:52عبداللہ بن عبی بن سلول
07:54ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتا تھا
07:56لیکن آپ دیکھیں گے
07:58اللہ تعالیٰ نے کس طرح
07:59اس زلیل و کمینہ کی
08:00تمام ان صبحوں کو نقام بڑھا دیا
08:02اور اس کا پور کھول کر رکھ دیا تھا
08:06اسلامی معاشرہ میں
08:08اس کی ساخ باقی نہ رہی تھی
08:09وہ مسلمانوں کی نظروں سے گر گیا تھا
08:11اس کی رہاکاری مقاری جھوٹ
08:13اور دغہ بازی کا پرتہ چاک ہو گیا تھا
08:15اس کے اندر چھپا و انفاق زہر ہو گیا تھا
08:18اس نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرنا چاہا
08:21اس نے لوگ کو
08:22اللہ کے راستے سے رکنا چاہا
08:24اس نے مسلمانوں کو
08:26آپس میں لڑانا چاہا
08:27لیکن ذلت اور اسوائے اس کے حصے میں آئی
08:29اور وہ غیب اور خاص سر ہو کر رہے گیا
08:35سورہ
08:37منافقون
08:37یہ وہ خاص سورہ ہے جو
08:39عبداللہ بن ابی کی مضمت میں ناظر ہوئی تھی
08:45اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
08:47جس کا ترجمہ
08:49اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
08:51جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو
08:53کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں
08:56کہ آپ یقین ہیں
08:58اللہ کے رسول ہیں
08:59ہاں اللہ جانتا ہے
09:00کہ تم ضرور اس کے رسول ہو
09:02مگر اللہ گواہی دیتا ہے
09:03کہ یہ منافق قدی جھوٹے ہیں
09:05انہوں نے اپنے قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے
09:08اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکھتے ہیں
09:11اور دنیا کو رکھتے ہیں
09:13کیسی بری حرکت ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
09:16یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے
09:18کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر
09:20پھر کفر کیا ان کے دنوں پر مور لگا دی
09:23اب یہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں
09:27انہیں دیکھو تو ان کے
09:29تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں گے
09:31ان کے حبشے
09:32بہت شاندار نظر آئیں گے
09:35بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ
09:38مگر اصل میں گوئے لکڑی کے کندے ہیں
09:41جو دیواروں کے ساتھ چل کر رکھ دیئے گئے
09:45ہر روز کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں
09:48یہ پکے دشمن ہیں
09:50ان سے بچ کرو
09:51اللہ کی مار ان پر یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں
09:56اور جب ان کی سے کہا جاتا ہے
09:58کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم
10:01تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے
10:03تو سر چھٹکتے اور تم دیکھتے ہو
10:05کہ وہ بڑے مند کے ساتھ آنے سے رکھتے ہیں
10:08اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
10:10تم چاہے ان کے لئے مغفرت دعا کرو
10:12یا نہ کرو
10:13ان کے یہ یقصہ ہیں
10:14اللہ ہرگز انہیں معاف نہیں کرے گا
10:17اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز
10:19ہدایت نہیں دیتا
10:22یہ وہی لوگ ہیں
10:23جو کہتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر
10:26خرچ کرنا بند کر دو
10:28تاکہ یہ منتشر ہو جائیں
10:31حالانکہ زمین اور اسمان کے خزانوں کا مالک
10:34اللہ ہے
10:34مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں
10:36یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ باپ پر پہنچے ہیں
10:39تو وہ جو عزت والا ہے
10:41وہ زلیل کو
10:43وہاں سے نکال بہر کرے گا
10:45حالانکہ عزت تو
10:46اللہ اور اس کے رسول
10:48اور مومنین کے لئے ہے
10:50مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
10:53اس سورہ کی تفسیر
10:54اور تو
10:56انشاءاللہ ہم بیان کریں گے
10:58نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملوم ہوا کہ
11:01بنی
11:04المستقلق کے سردار حارس بن
11:07زرار نے
11:08آپ سے جنگ کرنے کے لئے
11:09ایک لشکر جمع کیا
11:11جس میں اس کی قوم کے لوگ بھی ہیں
11:15اور دوسرے ایسے عرب بھی ہیں
11:16جن پر حارس کا اثر
11:18رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:20فوراں ہی کوچ کا اعلان کرا دیا
11:23مسلمانوں بہت تیزی سے تیار کی
11:24اور جلدی
11:25جنگ کے لئے کوچ کر دیا
11:27اس غزوہ میں
11:28رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
11:30آپ کی ازواجیں
11:31محترات بھی
11:33شاملتیں
11:34جس میں حضرت عیشہ صدیقہ
11:36اور حضرت عم سلمہ
11:38نیز آپ کے ساتھ
11:40اس موقع پر
11:40منافقوں کی بھی
11:41اتنی بڑی تعداد چلی
11:43کہ اس سے کبھی
11:43پہلے کبھی
11:44اتنی بڑی تعداد نہیں ہوتی تھی
11:46ان میں عبداللہ بن عبی
11:48اور زید بن سلط
11:50ان لوگ کے حقیقت میں
11:52جہاز سے کچھ دلچسپ بھی نہیں تھی
11:54ان کے جانے کی
11:55اصل غرض یہ تھی
11:56کہ دنیاوی مال اور دولت
11:58ہاتھ آئے گا
11:59اور فاصلہ
12:00یعنی سبر بھی زیادہ نہیں
12:02تیک کرنا تھا
12:03کیونکہ جگہ زیادہ دور نہیں ہے
12:05اس غزوہ سے کامیاب
12:07و کامران فارغ ہونے کے بعد
12:08اسلامی لشکر مدینہ روانہ ہو
12:10تو راستے میں
12:11دو اہم واقعات پیش آئے
12:13جن کے پیچھے
12:14عبداللہ بن عبی بن سلول کا ساجشی
12:16ذہن کام کر رہا تھا
12:20نمبر ایک پہ تھا
12:21آنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:23دو نمبر پہ
12:24زوجہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:26عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر
12:28تعمت لگانا
12:30پہلے ہم عبداللہ بن عبی کی آنت
12:32رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے
12:34واقعے پر بیان کریں گے
12:35بعد میں رسول محظم صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:38زوجہ موترہ
12:39عم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ
12:42تہرہ اور عمتہ رابہ
12:44عبداللہ بن عبی کی لگائی کی
12:46تعمت کا بیان یہاں پہ ہم آج
12:48بیان کریں گے
12:50حضرت زید بن عرکم فرماتے ہیں
12:52کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے
12:54ہمراہ میں
12:54ایک سفر میں گیا
12:56اس سفر میں لوگوں کو سخت تقدیر ہوئے
12:58عبداللہ بن عبی نے
13:00اپنے ساتھیوں کے ہمراہیوں سے کہا
13:02رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
13:04جو لوگ رہتے ہیں
13:05ان کو کھانے پینے کی
13:07چیزیں نہ دو
13:08تاکہ وہ ان کے پاس سے
13:09الادہ آجائے
13:10اس کے بعد
13:11عبداللہ بن عبی نے
13:12یہ بھی کہا کہ
13:14جب ہم لوٹ کر
13:15مدینہ میں پہنچیں گے
13:17تو ہم میں سے باعزت آدمی
13:19ظلیل آدمی کو نکال دیں گے
13:20میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
13:23خطروں پر حاضر ہوگا
13:24اس کی خبر دی
13:26حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:27عبداللہ بن عبی کو بلا کر پوچھا
13:29اس نے پختہ قسم کھا کر کہا
13:32میں نے یہ بات نہیں کی
13:34زید بن عرقم نے
13:35آپ سے غلط بیانے کیا
13:37مجھ کو آپ نے جھٹلائے جانے کا
13:39سخت راجعہ
13:40آخر خدا نے میری تصدیق میں
13:42یہ آیت ناظر فرمائے
13:46سورہ المقنافقین میں
13:47جس کا ترجمہ ہے
13:50اس آیت کے نزول پر
13:52رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
13:53منافقین کو
13:54طلب فرمائے
13:55تاکہ ان کے لئے
13:55دعا مغفر فرمائے
13:57راوی کا بیان ہے
13:59کہ جب یہ لوگ آئے
14:00تو اس طرح سر جھکا کر
14:01بیٹ گئے گوئے
14:02یہ لکڑی کے ستون ہیں
14:06حضرت زید بن عرقم
14:07فرماتے ہیں
14:08کہ میں اپنے چچا کے ساتھ جا رہا تھا
14:10میں نے سنا کہ
14:11عبداللہ بن عبی بن سلول
14:13اپنے ساتھیں سے کہہ رہا ہے
14:14کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
14:16کے ساتھیوں پر
14:17اپنا مال وغیرہ خرچ نہ کرو
14:19یہاں تک کہ
14:20وہ آپ کے پاس سے
14:21منتشر ہو کر
14:23ادھر ادھر ہو جائیں
14:25اور جماعت مسلمین کا
14:27شرازہ درم برم ہو جائیں
14:29اگر ہم مدینہ لوٹ کر آئے
14:31تو جو عزت والا ہے
14:33وہ زلیل کو
14:34وہاں سے نکال دے گا
14:36میں نے اس کا تذکرہ
14:37اپنے چچا سے کیا
14:39اور میرے چچا نے اس کا تذکرہ
14:40جناب رسالت
14:41ماب صلی اللہ علیہ وسلم
14:42صلی اللہ علیہ وسلم کیا
14:43حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
14:45نے یہ سن کر
14:46مجھے بلائیا
14:47میں نے جو واقعہ تھا
14:49آپ کے سامنے
14:49اسی طرح بیان کر دیا
14:52رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
14:53نے مجھے
14:55جھوٹا سمجھا
14:56اور عبداللہ کو
14:57سچا سمجھا
14:58اس سے مجھے
14:58اتنا صدمہ ہوا
14:59کہ اس سے پہلے
15:00کبھی نہیں ہوا تھا
15:01پس میں اس گھام سے
15:03اپنے گھر میں بیٹھا رہا
15:04میرے چچا نے کہا
15:05کہ تیرا انجام
15:06یہی ہوا
15:08کہ تجھے رسول پاک
15:10صلی اللہ علیہ وسلم
15:10جھوٹلایا
15:11اور تجھے ناراض
15:12اور خواہ ہوئے
15:13کیا تُو نے
15:14یہی سوچا تھا
15:15اس پر اللہ تعالی نے
15:18آیت ناظر کی
15:20جس کا ترجمہ
15:21جب تیرے پاس
15:22منافق آتے ہیں
15:23تو کہتے ہیں
15:24کہ ہم گواہی دیتے ہیں
15:25کہ آپ اللہ کے رسول ہیں
15:26اور اللہ جانتے ہیں
15:28کہ آپ اللہ کے رسول ہیں
15:28لیکن
15:29اللہ گواہی دیتا ہے
15:30کہ منافقیں
15:31جھوٹے ہیں
15:33رسول پاک
15:33صلی اللہ علیہ وسلم
15:34نے مجھے بلا گئے جا پھر
15:35اور اسے پڑا
15:36اور فرمایا
15:37کہ اس میں
15:38اللہ نے
15:39تمہاری تصدیق کی ہے
15:42یہ ترمیسی میں
15:43اس کے حدیث ہے
15:45حضر زید بھی
15:46ارکم فرماتے
15:48کہ ہم نے
15:48رسول پاک
15:49صلی اللہ علیہ وسلم
15:50کہ ہمرا جہاد کیا
15:52اور ہمارے ساتھ
15:53کچھ
15:54بدوی بھی تھے
15:55ہم پانی کی طرف
15:57جندی جندی جا رہے تھے
15:58کہ کون پہلے پانی
15:59کی تشمع پر پہنچتا ہے
16:01تو بدو
16:02ہم سے پہلے پانی پر
16:03جا پہنچے
16:04جو بدو پہلے پہنچتا
16:06خوز کے
16:07کو بھرد لیتا
16:09اور اس کی
16:10ارد گرد پتھر
16:11رکھ دیتا
16:12اور اس پر
16:13چمڑے کا
16:13بستر رکھ دیتا
16:15یہاں تاکہ
16:16اس کے ساتھ ہی آ جاتے
16:17چنانچہ
16:18ایک مرتبہ کا واقعہ ہے
16:19ایک بدو پہلے پہنچا
16:21اور اس کے ساتھ ہی
16:22ایک انسانی بھی پہنچا
16:24اس نے اپنے
16:25اونٹنی کی نکیل
16:26گھلی کی تاکہ
16:27وہ پانی پی لے
16:27مگر بدو نے
16:29اسے پانی پینے کا
16:30موقع دینے سے انکار کر دیا
16:31اس پر انسانی نے
16:32پانی پر قبضہ
16:33کی کوئی چیز
16:35کو اٹھا کر
16:35اللہ کر دیا
16:37اس پر بدو نے
16:38ایک لکڑی اٹھا کر
16:39انسانی کی ماری
16:40جسے اس کا سرزخمی ہو گیا
16:42وہ ریسل منافقین
16:44عبداللہ بن
16:45ابی کے پاس آیا
16:46اور اس کو
16:47تمام واقعہ بتایا
16:48ان دونوں میں دوستی تھی
16:50ان دونوں میں دوستی تھی
16:52عبداللہ بن ابی کو غصہ آیا
16:54اور کہا کہ
16:54رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
16:55کے ساتھ پر خرچ نہ کرو
16:57یہاں تاکہ وہ
16:58آپ کے پاس سے
16:59منتشر ہو جائیں
17:00مطلب یہ تھا کہ
17:01جب تک
17:02یہ بدو نہ چلے جائیں
17:04اپنا کھانا بغیرہ
17:06حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
17:07کے پاس نہ لاؤ
17:08کیونکہ وہ
17:09بدو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
17:11کے پاس کھانے کے
17:12وقت آتے ہیں
17:14عبداللہ بن ابی نے کہا
17:15کہ جب یہ محمد
17:17صلی اللہ علیہ وسلم
17:18کے پاس سے چلے جائیں
17:19تاکہ وہ
17:22کھائیں
17:23ان کے پاس والے کھائیں
17:24پھر عبداللہ
17:26نے اپنے دوستوں سے کہا
17:27کہ اگر ہم
17:29پھر مدینہ پہنچے
17:30جو عزت والا ہے
17:31وہ ضلیل کو نکال دے گا
17:32یہ نہیں ہم آپ کو نکال دیں گے
17:37حضرت زید بن ارکم
17:40فرماتے ہیں کہ
17:40میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
17:42کی سواری پر
17:42آپ کا ہم رکاب تھا
17:44چنانچہ میں نے عبداللہ کو
17:46یہ کہتے سن لیا
17:47اور اپنے چچا کو
17:49اس کی خبر دی
17:50انہوں نے جا کر
17:51رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا
17:53آپ نے ایک آدمی اس کے پاس بھیجا
17:55اس نے قسم کھائی
17:56اور انکار کر گیا
17:57تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
18:00اس کی تصدیر کی
18:00اور مجھے جھوٹا سمجھا
18:02آپ فرماتے ہیں
18:03کہ پھر میرے چچا میرے پاس آیا
18:05اور کہنے لگے
18:06کہ وہ بات تم سے
18:07نے بس اس لیے کہی تھی
18:09کہ تمہارا ارادہ یہ تھا
18:10کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
18:11تم سے نراز ہوں
18:12اور تجھے جھوٹا بتا دیں
18:15اور سب مسلمان بھی
18:17تیری تقضیم کریں
18:18وہ کہتے ہیں
18:19کہ یہ سن کر
18:20مجھ پر اتنا غم تاریخ ہوا
18:22کہ کسی پر
18:23نہ ہوا ہوگا
18:25فرماتے ہیں کہ
18:25میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے
18:27ہمارے عقصہ پر کر رہا تھا
18:28اور اپنا سرخ
18:30غم کی وجہ سے
18:31نیچے جھکا لیا تھا
18:33کہ اتنے میرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
18:35میرے پاس آئے
18:35اور میرے کانوں کو مسئلہ
18:37اور مجھے دیکھ کر ہنس پڑے
18:39مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
18:41اس ہنسی کے بدلہ دینے
18:43دنیا میں ہمیشہ رہتا بھی
18:44پساندنا تھا
18:46پھر ابو بکر مجھے ملے
18:47اور پوچھا کہ
18:48تم سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
18:49نے کیا فرمایا
18:50میں نے کہا کچھ نہیں
18:51بس میرا کان سالایا
18:53اور چیرہ دیکھ کر ہنس پڑے
18:56حضرت ابو بکر صدیق
18:57رضی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
18:58کہ برشارت ہو
18:59پھر حضرت عمر رضی اللہ علیہ وسلم
19:02ملے تو
19:02ان سے وحی کا
19:05جو حضرت ابو بکر نے کہا
19:06پھر جب صبح ہوئی
19:07رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
19:09نے
19:09سورہ
19:10منافقین پڑی
19:13حضرت زیاد بن ارکم
19:14رضی اللہ تعالیٰ آنے سے
19:16روایت ہے کہ
19:16عبداللہ بن ابی نے
19:17غزوہ تبوک میں کہا
19:19کہ اگر ہم مدینہ واپس جائیں گے
19:21تو باعزت
19:22زلیل شخص کو نکال دیں گے
19:25رماتے ہیں کہ
19:26نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:27کے پاس گیا
19:28اور یہ بات بتائی لیکن
19:32مکر گیا
19:33اس پر میری قوم نے
19:34مجھے ملامت کی
19:34اور کہا کہ
19:36تیرہ اس حرکت سے
19:37کیا مقصد تھا
19:39میں گھر آیا
19:40اور حجرہ میں غم زدہ ہو کر
19:41سو رہا
19:42اتنے میں میرے پاس
19:43رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
19:44تشریف لائے
19:45میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا
19:48حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
19:50میں فرمایا
19:51اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق کی
19:53چنانچہ یہ آیت نازل ہے
19:55جس کا ترجمہ ہے
19:57یہ وہ لوگ ہیں
19:58جو کہتے ہیں کہ
19:58ان پر خرچ نہ کرو
20:00جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں
20:02یہاں تک کہ وہ
20:03منتشر ہو لیا ہیں
20:05ابن ساکھ
20:07نے کہا
20:08یا رسول اللہ
20:09کو خبر ملی
20:11کہ بنی المطلق
20:12آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
20:14مقابلے کے لئے
20:15لوگوں کو جمع کر رہے ہیں
20:16ان کا قید حارس بن
20:17ابھی زرار تھا
20:19یہ خبر سنکا
20:20آپ
20:20ان کے مقابلے کے لئے نکلے
20:23اور ان کے ایک چشمہ
20:24بنام
20:25مرسیع پر جا کر رکھے
20:26رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
20:28ابھی اس چشمے
20:29مرسیع پر تشریف فرماتے
20:31کہ ایک واقعہ رونما ہوا
20:32حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
20:35ایک انساری عجیر
20:36بنام
20:37صحاہ ابن مسود
20:39ان کے ساتھ تھا
20:40جو ان کا گھوڑا لے کر چاہ رہا تھا
20:42چشمے پر
20:44پہنچا اور
20:45سنان ابن دویر
20:46بنو عوف بن عزلش
20:48کے خلیب میں
20:49بامی ٹکرا ہو گیا
20:51دونوں لڑنے لے گئے
20:53جنی نے
20:54آواز دیں
20:56یا محشر و مہاجرین
20:58اے مہاجرین کے
20:59گروہ
21:00اس پر عبداللہ بن ابھی
21:01سلول کو غصہ آیا ہے
21:03اس کی ہم
21:03قوموں کی ایک ٹولی ساتھ تھی
21:06اس ٹولی میں
21:07ایک نو عمر لڑکا
21:08زیاد من ارکم بھی مجود تھا
21:10عبداللہ بن ابھی
21:11نے کہنا شروع کیا
21:13اچھا
21:13کیا ان لوگوں نے یہ خوصلہ کیا ہے
21:15انہوں نے ہمارے اندر
21:16منافر
21:17پھلا کر
21:19پیدا کر دیا ہے
21:20اور ہمارے ہی شہروں میں
21:22ہم پر
21:22اکثریت اور طاقت حاصل کرنا چاہئے
21:24خدای قسم
21:25ہم ان
21:27جلابیت
21:28قریش
21:28قلاش قریشیوں کو
21:30اپنے برابر شمار کر کے
21:31ان کے سوا کیا ترین گے
21:33کہ پہلے لوگوں کی کمی ہوئی
21:35اس مثال کی مصداق بن جائیں
21:39یعنی
21:40اپنے کتوں کو
21:42کتے کو
21:43موٹا کھار
21:43تاکہ وہ تجھے کھا جائے
21:45مطلب یہ ہے
21:46کہ جو کتے کو پال پال
21:48موٹا تازہ کرتا ہے
21:49اس کا انجاب
21:49اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا
21:51کہ کتہ اسے کھا جاتا ہے
21:52دشمن کو پالنا
21:54کتے کو پالنا ہے
21:55ہاں
21:56سن لو
21:56خدا کی قسم
21:57ہم واپس جب ہو کر
21:59مدینہ پہنچے گے
22:01تو ان میں جو زیادہ
22:02طاقت اور غلبہ والے ہیں
22:03وہ
22:04اپنے سے کمزوروں کو
22:06یقینی طور پر نکال کر رہیں گے
22:07یعنی ہم طاقتور ہیں
22:09اور یہ کمزور
22:11اس لئے ہم
22:12مدینہ پہنچ کر
22:13ان مسلمانوں کو
22:14وہاں سے نکال کر رہیں گے
22:16اس کے بعد
22:17اس کی ٹولی کو
22:17جو لوگ وہاں موجود تھے
22:19ان کی طرف متوجہ ہوئے
22:21اور کہا
22:21کہ یہ سب کچھ
22:22تمہارا ہی کیا ہوا ہے
22:25تم نے انہیں
22:27اپنے
22:29بلاو میں
22:30جگہ دی
22:31اور اپنے مقام
22:32جہداد
22:32مال اور مطا
22:34سب کچھ تقسیم کر کے دیا
22:35ہاں دیکھو خدای قسم
22:37کاش تم ان
22:38سب سے
22:38اپنا ہاتھ کھائیں چلو
22:40انہیں اپنے شہر کے سوا
22:42کسی جگہ
22:42اور جگہ
22:43جانے پر مجبور کر دو
22:46حضرت زید بن ارکم نے
22:47سالی تقریب سنے
22:48اور جا کر
22:49رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
22:50کو سنا دی
22:51اس وقت
22:51رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
22:52دشن کی طرف سے
22:53فارغ ہو چکے تھے
22:55آپ کے پاس
22:56عمر رضی اللہ تعالیٰ بن
22:57خطاب بھی موجود تھے
22:58انہوں نے کہا
22:59آپ
22:59عباد بن بشر کو
23:01حکم دیجئے
23:01کہ جا کر
23:02اسے قتل کر دیں
23:04رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
23:05نے قرمائے
23:05عمر
23:06یہ کیوں کر
23:07ہو سکتا ہے
23:08لوگ کہیں گے
23:09کہ محمد
23:09صلی اللہ علیہ وسلم
23:10اپنے ساتھیوں
23:12صحابہ کو
23:13قتل کرتے ہیں
23:14یہ مناسب نہیں
23:15مگر اب
23:15کچھ کا اعلان کر دو
23:17ابھی
23:18رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
23:19وہاں سے کچھ نہیں کر رہے تھے
23:20اعلان ہونے کے بعد
23:21سب کچھ کا
23:22یہ تیار ہوگا ہے
23:24عبداللہ بن ابی
23:25کو زید بن ارکم
23:26نے جو کچھ
23:27اس سے سناتا جا کر
23:28رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
23:29کو بتا دیا تھا
23:30تو وہ
23:37یعنی خدا کی قسم
23:39زید بن ارکم نے
23:40جو بیان دیا
23:41وہ میں نے نہیں کہا
23:42نہ اس سلسلے میں
23:43کوئی بات کی
23:44عبداللہ بن ابی
23:45چونکہ
23:46اپنی قوم میں
23:47بہت مزز شخص تھا
23:48اس لئے صحابہ میں
23:49جو انساری
23:51اس وقت حاضر تھے
23:52انہوں نے
23:52کہا کہ
23:53یا رسول اللہ
23:54ممکنے لڑکے کو
23:55عبداللہ بن ابی
23:55کی بات سے
23:56وہمو
23:57ہوا ہو
23:58جو کچھ اس نے کیا
23:59کہا ہو
24:00اسے یاد نہ رکھا ہو
24:01یہ مفتگو
24:02عبداللہ بن ابی
24:03کی پشت بنائی
24:04اور حمایت
24:05میں کی گئی تھی
24:06ابن عساق نے
24:08کہا کہ جب
24:08رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
24:09اونٹ پر مال راکھ
24:11شام کے موقع
24:12چلے
24:12تو حضرت
24:13اسید بن حضیر
24:15آکر نبی
24:16کی حصیت میں
24:18آپ کو
24:18سلام کیا
24:21سلام آپ پر
24:22اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
24:23اور اللہ کی رحمت
24:25اور اس کی برکتیں
24:26اور عزقی
24:26کہ اے اللہ کے نبی
24:27خدای قسم
24:29آپ شام کے
24:30ناپسنددہ
24:31وقت میں چاہے ہیں
24:32ایسے وقت میں
24:33تو آپ
24:33صفح نہیں کرتے تھے
24:34حضیر پاک صلی اللہ علیہ وسلم
24:36نے فرمایا
24:37کہا تمہارے ساتھی
24:38نے
24:38جو کہا ہے
24:39وہ تمہیں
24:40نہیں ملوم
24:42حضرت
24:43حسید
24:46حضرت حسید
24:47بن حسید
24:48نے پوچھا
24:49یا
24:49رسول اللہ
24:50کون سا
24:51ساتھی
24:51آپ نے فرمایا
24:53عبداللہ
24:53بن ابی
24:54حضرت حسید
24:55بن حضیر
24:56نے پوچھا
24:56عبداللہ
24:57بن ابی
24:57نے کیا
24:58کہا
25:08Surah Al-Fatihah
25:55To be continued...
25:58They were all so tired that they were in the middle of the earth.
26:03This is why you said that Abdullah bin Abiyah's story, which was written in the past,
26:09that they were in the past, and that they were in the past.
26:14Abdullah bin Abiyah and other people, which was in the past,
26:21which was in the past,
26:22kinkah zikr kiya gya is khe nazul hottehi rasul paak sallallahu alaikum
26:26ni zaid abn al-kcm ka khan pukhda or fahmaya ki ye wo hai
26:31jis khe khan se Allah te'ala ni maafakt khar di
26:34or Abdullah bin abhi bin abhi ko paas bhi
26:39ye khaber paol kha bih jen ke baap ka ye maafira ta
26:43abn aisaab ni mung se
26:47Aasam bin Umrah bin Qatadaan ni bian kiya hai
26:50کہ عبداللہ بن عبی
26:54رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:55کی خدمت میں حاضر ہوئے
26:56اور کہا کے مجھے معلوم ہوا ہے
26:58کہ آپ نے عبداللہ بن عبی کے بارے میں
27:00جو سنا ہے اس کی بیعث
27:02آپ نے قتل کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں
27:05اگر آپ قتل ہی
27:06کرنے والے ہیں تو میں خود جان
27:08جاتا ہوں اس کا سر
27:10کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
27:12خدا کی قسم قبیلہ خزرش
27:14کو معلوم ہے کہ اس قبیلہ کا
27:16کوئی آدمی ایسا نہیں جو
27:18اپنے باپ کا اتنف اور ممبردار ہو
27:20جتنا میں
27:23مجھے ڈر ہے
27:24کہ میرے سوا کسی دوسرے
27:27شخص کو آپ نے اس کے قتل کرنے
27:28کا حکم دیا اور اس نے
27:30قتل کر دیا تو شاید میرا نفس
27:33اس بات پر قابل نہ پاسکے
27:34کہ میں عبداللہ بن عبی کی قاتل کو
27:36لوگوں میں چلتا پرتے دیکھوں
27:38اس طرح ایک کافر کے بدلے
27:40ایک محمد کو قتل کر دوں اور میں
27:42دوزگی بن جاؤں
27:44مسند حمیدی میں ہے
27:47کہ حضرت
27:48عبداللہ حضور پاک
27:50صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
27:52حاضر ہوئے
27:53اور عرض کیا یا رسول اللہ
27:55اپنے باپ کی حیبت کی وجہ سے
27:57میں نے آجتا نگاہ انچی کر کے
27:59اس کے چیرے کو بھی نہیں دیکھا
28:02لیکن آپ اگر اس پر نراض ہے
28:04تو مجھے حکم دیجئے
28:05ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں
28:07کسی اور کو قتل کا حکم نہ دیجئے
28:09ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل
28:12کو اپنے آنکھوں چلتا پرتا
28:14نہ دیکھ سکوں
28:15یہ تفسیر ابن قصیر میں لکھا ہوئے
28:19رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
28:20نے فرمایا نہیں بلکہ میں ان کے
28:22ساتھ نرمی کا برطاق کر رہا ہوں
28:24اور جب تک وہ ہمارے ساتھ ہیں
28:26ان کی صحبت کو اچھا رکھنا چاہتا ہوں
28:28اس کے بعد عبداللہ بن ابی
28:30جب فتنہ برپا کرتا تو
28:32خود اس کی قوم ناراض ہو کر
28:34اسے پکڑ دی اور اس کے ساتھ
28:36سختی کا برطاق کر دی
28:38رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جب
28:40حال میں معلوم ہوا
28:42تو حضرت عمر سے فرمایا
28:46عمر اب تم کیا رہے رکھتے ہو
28:48خدا کی قسم
28:49اگر میں اس روز
28:51اسے قتل کر دیتا جب تم نے
28:54کہا تھا کہ اسے قتل کر دو
28:55تو اس کے لیے ان لوگوں کی ناک
28:57بھونج ضرور چڑ جاتی
28:59یعنی آج میں اس کے قتل کا حکم
29:02دوں تو وہ خود ہی اسے قتل کر دیں
29:05حضرت عمر
29:06رضی اللہ علیہ وسلم کیا واللہ
29:07مجھے ملوم ہے کہ
29:09رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میری بات سے کہیں زیادہ
29:12بابرکت ہے
29:13حضرت جعبر فرماتے ہیں
29:16کہ ہم ایک گزوہ میں تھے
29:18صفیان کہتے ہیں کہ
29:20لوگوں کا خیال ہے کہ یہ گزوہ بنو
29:22مستلق ہے تھا
29:23ایک دن کا واقعہ ہے کہ ایک مہاجر نے
29:26ایک انسانی کو لکنی سے مارا
29:28اس مہاجر
29:29اس پر مہاجر اور انسان دونے نے
29:32اپنی اپنی قوم کو آواز دی
29:33وہ دوڑو اور میری مدد کرو
29:36رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
29:38یہ سنا تو فرمایا
29:40یہ جہلیت کی
29:41پکار کیسی
29:43لوگوں نے ارز کیا ایک مہاجر نے ایک انسانی
29:46کو مارا ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
29:47فرمایا
29:49تم لوگ کہاں اور یہ جماعت کی
29:52پکار کہاں اسے چھوڑ دو
29:54یہ بڑی گندی چیز ہے
29:55عبداللہ بن عبی بن سلول نے یہ
29:57مہاجر رسول نے تو کہا اچھا
29:59ان لوگوں نے یہ کہا خدا کی قسم
30:02اگر ہم لوگ واپس مدینہ گئے
30:03تو جو مزد ہے وہ زلیل کو
30:05نکال دے گا
30:09اس پر حضرت عمر فروق
30:11رضی اللہ تعالی نے ارز کیا
30:12یا رسول اللہ
30:13مجھے اجازت دیجئے کہ میں
30:15اس منافق کی گردم رڑا رہا دوں
30:18رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
30:19فرمایا اسے جانے دو
30:20در گزر کرو
30:22لوگ کہیں گے کہ محمد
30:23اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے
30:27ایک راوی نے
30:28اس میں اتنا اضافہ کیا ہے
30:30کہ اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن
30:32ابھی نے اپنے باپ سے کہا
30:34خدا کی قسم
30:38خدا کی قسم
30:39تو مدینہ میں نہیں جائے گا
30:41یعنی میں تجھے نہیں جانے دوں گا
30:43جب تک
30:43تو یہ اقرار نہ کرے
30:45کہ تو زلیل ہے
30:46اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
30:47عزت بار گیا
30:49چنانچہ اس نے یہ اقرار کیا
30:51ایک روایت ہمیں کہ
30:52روایت میں ہے
30:53کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
30:55کو جب یہ حال ملوم ہوا
30:56تو آپ نے انہیں کہلا بھیجا
30:59کہ عبداللہ بن ابھی کو جانے دو
31:01چنانچہ اس کے بیٹے ہٹ گئے
31:03اور اسے جانے دیا
31:06تو دوستو
31:09ہم یہی پہ رکھتے ہیں
31:10کل انشاءاللہ
31:12ہم یہی سے شروع کریں گے
31:14کل تک کے لئے اجازت چاہتے ہیں
31:16اللہ حافظ
Comments

Recommended