Skip to playerSkip to main content
  • 8 minutes ago
Story video shoked

Category

😹
Fun
Transcript
00:00The story of Lahore is a story of a man-in-law of a man-in-law,
00:04where a night a man-in-law happened to a man-in-law of an hour.
00:08The story of a man-in-law was the man-in-law.
00:09It was a day-in-law, and it was a day-in-law,
00:13a man-in-law was the one that was written by himself.
00:16It was a man-in-law who was a man-in-law.
00:25लोग कहते थे के अहमद एक इमानदार मगर सखत मिजाज शख्स था और उसके कुछ पेशावर दुश्मन भी थे
00:32उसी रात अचानक महले में चीखों की आवाज गुनजी
00:36लोग घरों से झांकने लगे लेकिन बारिश और अन्धेरे की वजह से कुछ नजर ना हाया
00:42صبح جب بارش تھمی تو خبر پھیل چکی تھی
00:46وکیل احمد رزوی اپنے گھر میں مردہ پایا گیا ہے
00:50پولیس پہچی تفتیش شروع ہوئی
00:53کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا
00:56کھلکی بھی لوک تھی
00:57لاش کے قریب صرف ایک خالی کافی کا کپ تھا
01:01اور ایک پھٹے ہوئے کاغذ کا ٹکرا
01:04جس پر صرف اتنا لکھا تھا
01:07گواہ سب کچھ دیکھ رہا ہے
01:10افسران حیران تھے
01:12گواہ کون
01:13کمرہ بند تھا
01:14کوئی آتا جاتا دکھائی نہیں دیا
01:16پھر یہ کاغذ کس نے لکھا
01:18ایک تفتیش آگے بڑھی
01:21سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے گئے
01:24لیکن بنگلے کا کیمرہ اس رات بند تھا
01:27نوکرانی نے بتایا کہ احمد صاحب کو کسی نے رات کو فون کیا تھا
01:31فون ریگارڈ سے معلوم ہوا کہ آخری کال شہزاد علی کے نام سے تھی
01:36جو احمد رزوی کا پرانا دوست اور مقدمے میں مخالف وکیل تھا
01:40پولیس نے شہزاد کو حراست میں لیا
01:43لیکن وہ مسلسل کہتا رہا
01:45میں نے صرف فون کیا تھا
01:47باقی کچھ نہیں جانتا
01:49عدالت میں مقدمہ شروع ہوا
01:51مگر کوئی پکا ثبوت نہ تھا
01:53تب ہی اچانک ایک نیا گواہ سامنے آیا
01:56بنگلے کے سامنے والا پرندہ پالنے والا
01:59بابا رحمت
02:00بابا رحمت نے کہا
02:02میں نے اس رات ایک سایہ دیکھا
02:04جو بنگلے کی چھت سے اندر گیا
02:06اور جب وہ نکلا تو ہاتھ میں
02:08وہی کافی کا کپ تھا
02:10پولیس کو ایک نئی راہ ملی
02:12چھت کی تلاش پر ایک پرانی
02:15وینٹیلیشن ونڈو ملی
02:16جس کے ذریعے کوئی اندر جا سکتا تھا
02:19فنگر پرنس نے ایک حیران
02:21کن نام سامنے لیا
02:22مدیہہ رزوی احمد کی بیوی
02:25مزید تفتیش پر
02:27حقیقت کھلی
02:28مدیہہ اور شہزاد کے درمیان
02:30خفیہ تعلق تھا
02:32اور احمد کو ان دونوں پر شک ہو چکا تھا
02:35وہ قتل کی رات
02:36سب کچھ جان چکا تھا
02:38اور کافی میں زہر ڈال کر
02:40اسے مار دیا گیا
02:41لیکن وہ آخری لمحے میں جان گیا
02:43کہ اس کا قاتل کون ہے
02:44اس نے خون سے کاغذ پر لکھا
02:46گواہ سب کچھ دیکھ رہا ہے
02:49اور وہ گواہ واقعی سب دیکھ رہا تھا
02:51بابا رحمت
02:52سچ کبھی نہ کبھی سامنے آ ہی جاتا ہے
02:55چاہے قاتل کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو
02:58اگر آپ کو کہانی پسند آئی
03:01تو چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولے
03:03شکریہ

Recommended