- 24 minutes ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Mareez ke Huqooq
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Mufti abu bakar Siddique RA, Qari Yunus Qadri, Dr. Mufti Umair Aslam,
Sana Khuwan: Muhammad Akram Madni
#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Mufti abu bakar Siddique RA, Qari Yunus Qadri, Dr. Mufti Umair Aslam,
Sana Khuwan: Muhammad Akram Madni
#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:25ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی
00:27اور روزانہ کی بنیاد پر ہم نے حقوق العباد کے بہت سے پہلوں پر بات کی
00:33اور الحمدللہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے مہمانوں نے اور جتنے بھی لوگ یہاں تشریف لاتے رہے
00:40انہوں نے اپنی بہترین علمی صلاحیتوں سے آپ سکت تک ان موضوعات کو پہنچایا
00:47اور بہت اچھی اور بڑی خوبصورت گفتگو ہوئی اس کا فیڈ بیک بھی آپ کی طرف سے آتا رہا
00:52اور بالکل ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم نے کل ہی یہ پروگرام شروع کیا تھا
00:58اور آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ 29 رمضان المبارک ہے
01:02اور ہم اس مبارک مہینے کو الودا کر رہے ہیں
01:06اور پھر جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا
01:11کہ صحابے رسول اس مہینے کے آنے کا انتظار بھی کیا کرتے تھے
01:16اور جانے کا بھی انہیں بہت غم ہوتا تھا کہ وہ جو بہار تھی عبادتوں کی ذکر کی تلاوت کی
01:22جو عام دنوں سے بہت زیادہ ہو جاتی ہے
01:25اس سے کہیں زیادہ اس سے غم زیادہ ہوا کرتے تھے
01:29کہ اب یہ جو بہار ہے کم از کم یہ اس طرح سے قائم نہیں رہے گی
01:32اللہ تعالیٰ ان گھڑیوں کی براکات سے نہ صرف ہمیں مستفید فرمائے
01:37اور ہمیشہ جب ہمیں رمضان المبارک عطا فرمائے
01:40تو ان کی براکات کو اسی طرح سے زیادہ سے زیادہ ان سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے
01:46روزانہ کی بنیاد پر ہم حمد سے آغاز کرتے رہے
01:50اور حضرت میر تقی میر کی بہت ایک معروف زمین ہے
01:55اس کے اندر حمد کے چند اشار آپ کی خدمت میں ارز کرتا ہوں
01:58اور آج کے موضوع کی طرف چلتے ہیں
02:00ماؤں سے بڑھ کے وہی ناز اٹھاتا ہے میاں
02:09درد کیوں اپنے زمانے کو سناتا ہے میاں
02:14دور سمجھو تو بہت دور بہت دور ہے وہ
02:22دیکھنا چاہو تو ہر جا نظر آتا ہے میاں
02:26دیکھنا چاہو تو ہر جا نظر آتا ہے میاں
02:29خود عطا کرتا ہے توفیق مناجات ہمیں
02:33بندگی کے وہی آداب سکھاتا ہے میاں
02:37روشنی حرف سخن میں ہے اسی کے دم سے
02:40سوز کی شمہ جو سینے میں جلاتا ہے میاں
02:45خود عطا کرتا ہے توفیق مناجات ہمیں
02:49بندگی کے وہی آداب سکھاتا ہے میاں
02:53فکر بھی اس کی عنایت سے ترو تازہ ہے
02:57پردہ خاک سے جو پھول اگاتا ہے میاں
03:01اس کی رحمت سے کسی طور بھی مایوس نہ ہو
03:05سینہ سنگ پہ جو سبزہ اگاتا ہے میاں
03:09دل کی ہر تان پہ جاری ہیں اسی کے نغمے
03:13ہر نفس اس کا ہی پیغام سناتا ہے میاں
03:16اور خود بخود پچھلے پہر آنکھ جو کھل جاتی ہے
03:21اپنا ہونے کی وہ یوں مہر لگاتا ہے میاں
03:25اپنا ہونے کی وہ یوں مہر لگاتا ہے میاں
03:29تیرگی بخت کی پھیرے گا وہ ایسے سرور
03:33رات کو دن سے وہ جس طرح ملاتا ہے میاں
03:38درد کیوں اپنے زمانے کو سناتا ہے میاں
03:41ناظرین اکرام آج 29 رمضان المبارک ہے
03:44اور اگر ایک روزہ مزید ہو جاتا ہے
03:48رمضان المبارک کا ایک اور دن ہمیں مل جاتا ہے
03:51تو انشاءاللہ کل آپ سے ملاقات ہوگی
03:53اور ایک اور موضوع پر بات کریں گے
03:54لیکن آج اس مہینے کو جب ہم الودا کرتے ہیں
03:58اور اس سے بچھڑتے ہیں
04:01اور یہ خیر و برکات کی گھڑیاں جو ہیں وہ
04:03اس کے بالکل یہ قیمتی لمحات ہیں
04:05تو اس مہینے کے استقبال کے بھی عداب ہیں
04:09اور اس کو الودا کرنے کے بھی عداب ہیں
04:11تو آج ہم الودا رمضان کے موضوع پر انشاءاللہ
04:15اپنے مہمانوں سے بات کریں گے
04:16ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
04:18جناب مفتی محمد ابو بکر صدیق العظری صاحب
04:21خوش آمدے جناب آپ کو
04:22بہت شکریہ آپ کی تشریف فاوری کا
04:24جناب قاری محمد یونس قادری صاحب
04:26تشریف فرما ہے آپ کا بھی بہت شکریہ
04:29جناب دکٹر مفتی عمیر اسلم صاحب
04:31تشریف فرما ہے آپ کا بھی بہت شکریہ
04:33جناب اور جناب بحمد اکرم
04:35مدنی صاحب تلہ گنگ سے
04:37ہمارے مہمان سناخا ان سے گزاری
04:39شاہ بسم اللہ کلام عطا فرمائیے
04:41زندگی آد مدینہ میں گزاری ساری
04:56زندگی آد مدینہ میں گزاری ساری
05:09زندگی آد مدینہ میں گزاری ساری
05:23عمر بھر کی عمر بھر کی یہ کمائی
05:33ہے ہماری ساری
05:39عمر بھر کی یہ کمائی
05:45ہے ہماری ساری
05:52دیکھ کر کھل دے بری دل نے کہا یہ فورا
06:09دیکھ کر کھل دے بری دل نے کہا یہ فورا
06:23کس نے تصویر کس نے تصویر
06:30مدینہ کی اتاری ساری
06:38زندگی آد مدینہ میں گزاری ساری
06:52ایسا اللہ نے سلطان بنایا تجھ کو
07:11ایسا اللہ نے سلطان بنایا تجھ کو
07:24رب کی مخلوق
07:27رب کی مخلوق
07:31ہوئی تیری بھکاری ساری
07:39زندگی آد مدینہ میں گزاری ساری
07:52ہر نبی نور محمد سے ہوا ہے پیدا
08:08ہر نبی نور محمد سے ہوا ہے پیدا
08:23اسی دریاں
08:26اسی دریاں
08:29سے یہ نہریں
08:33ہوئیں جاری
08:36ساری
08:38زندگی آد مدینہ
08:43میں گزاری ساری
08:50ماشاءاللہ
08:50ماشاءاللہ
08:51سلامت رہے جناب محمد صورت
08:52ملام آپ نے عطا فرمایا
08:55گفتمو کا آغاز
08:56مفتی صاحب کرتے ہیں الودا
08:58رمضان ہمارا موضوع ہے
09:00ماہر رمضان المبارک
09:03جب اختتام پذیر ہو رہا ہوتا ہے
09:05رخصت ہو رہا ہوتا ہے
09:06اس وقت بھی جیسے استقبال کے بارے میں حکم دیا گیا ہے
09:10کہ کیسے اس کا استقبال کرنا ہے
09:12تو اس کو رخصت کرنے کے بھی کوئی عداب ہیں
09:14کوئی ہماری ذمہ داریاں ہیں اس پر
09:17جی ڈوکٹ صاحب
09:19کیو ٹی وی کا
09:20یہ امتیاز رہا ہے
09:22کہ اپنے ناظرین
09:24و سامعین کو ہمیشہ
09:26موقع کے مطابق جو اسلامی
09:28گائیڈلائن ہوتی ہے وہ فراہم کی جاتی ہے
09:30اور خصوصاً اسیان
09:32رمضان کے سارے پروگرامز
09:34میں ہم نے حت المقدور
09:36کوشش کی کہ اپنے سامعین و ناظرین
09:38کو مختلف انداز سے ان کے
09:40جو اسلامی تربیتی پہلو ہیں ان پر بات
09:42کی جائے انہی میں سے یہ اہم پہلو ہے
09:44کہ جسرا ماہ رمضان کی آمد
09:46پر استقبال ہے تو اس کے
09:48جانے پر کیفیات کیا ہونی جائیے
09:50تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے
09:52اسوہ میں جو سب سے پہلی اور بنیادی
09:54بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
09:56علیہ وسلم ان ایام میں
09:57اپنی عبادات کے اندر شدت
10:00یوں جیسے کوئی چیز بچھرنے کے
10:02قریب ہے اور اس کے
10:04بچھرنی کی کیفیات دل میں کوئی
10:06اداسی پیدا کر رہی ہے تو پہلا
10:08تو یہ اداسی کی کیفیات ہونی چاہیے
10:10دوسرا کہ اللہ سبحانہ
10:12تعالی نے جو قرآن مجید فرقان
10:14حمید میں ارشاد فرمایا یا ایوہ
10:15اللہ تعالی نے اینام اتا فرمایا ہے
10:28اور اینام ملنے پر
10:30کہ زندگی میں بہار ملی ہے
10:32شکر کے جذبات بھی ہونے چاہیے
10:34رب تعالی کا وعدہ ہے
10:37اگر تم شکر کروگے تو تمہیں
10:39اور زیادہ آتا کریں گے
10:40تیسرا پہلو یہ کہ
10:42قطبہ علیکم السیام
10:44ذمہ داری ہے اور جب
10:46ذمہ داری آتی ہے تو
10:48ذمہ داری کے بارے میں ہی قرآن
10:50مجید فرقان نے بھی یہ کہتا ہے
10:51فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
10:55أَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
10:57کہ ہم ضرور
10:58ان سے سوال کریں گے
11:00جو ان چیزوں کے بارے میں جو ان پر
11:02لاغو کی گئیں ذمہ داریاں آئیت ہوئیں
11:09ہمیں اس موقع پر
11:10اس ذمہ داری میں دو جہتے ہیں
11:12یا ہم کر سکے یا نہیں کر سکے
11:15نہیں کر سکے تو توبہ
11:17استغفار کر سکے ہیں
11:18تو پھر ایک اور فکر ہے
11:20اور وہ فکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کی دعا
11:23ذرا اس تاریخی عظیم
11:25مرحلے کی طرف آئیے
11:26جب جناب ابراہیم علیہ السلام اور جناب اسماعیل
11:29علیہ السلام وہ عظیم
11:31ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے گھر کی
11:33تعمیر سے پر سرخ روح ہوئے
11:35تو سرنڈر کیسے کیا
11:37اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ارز کرتے ہیں
11:39ربنا تقبل مننا
11:41انکا انت السمیع العلیم
11:44یہاں جبیں بھی جک جائے
11:46کلب بھی جک جائے
11:47اور قیفیات پوری طرح
11:50عمل کا رنگ ڈالیں
11:51اور بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہا ہو
11:54کہ یا اللہ عطا بھی تُو نے کیا تھا
11:56توفیق بھی تُو نے دی تھی
11:58اب ہماری طرف سے قبول بھی تُو فرمالے
12:00اور آخری پہلو
12:02کہ رمضان وہ جانے کے لیے نہیں آتا
12:06بلکہ عملی زندگی میں نفوس کے لیے آتا ہے
12:09اب باقی ماندہ جو مہینے آ رہے ہیں
12:14ان میں اس رمضان نے جو کچھ ہمیں دیا ہے
12:17اس کی عملی زندگی میں اس کا رنگ دکھانے کی ضرورت ہوگی
12:20بلکل ٹھیک
12:22اچھے کاری صاحب مفتی صاحب نے بھی فرمایا
12:24کہ رمضان مبارک جو ہے یہ ہماری تربیت کے لیے آتا ہے
12:28اور ہمیں سکھانے کے لیے آتا ہے
12:30ہم نے اگلے جو مہینے ہم کو کس طرح سے گزارنا ہے
12:33یہ ہماری تربیت کرتا ہے
12:35تو مساجد کی رونک جو ہے جو رمضان مبارک میں ہوتی ہے
12:39ظاہر ہے کہ اس کے فوراں بعد ایسا 90 ڈگری کا
12:42بلکہ 180 ڈگری کی تبدیلی اس میں آ جاتی ہے
12:45تو یہ جو رونک رمضان کے جاتے ہی چلی جاتی ہے
12:48اس کے حوالے سے کیا کہیں گے
12:51محترم ڈاک صاحب آپ تو رمضان کی اختتام پہ
12:54لوگوں کو الویدہ ہوتا دیکھتے ہیں
12:56میں نے تو ستائیسویں بھی دیکھا
12:58ستائیسویں کو سمجھ دیا رمضان ختم ہو گیا
13:00اور مساجد کی رونکیں بہت کم ہو جاتی ہیں
13:03تو یہ بہت بڑا عالمیاں ہیں
13:04اصل میں رمضان جو ہے یہ ایک تربیتی مہینہ ہے
13:08جو انسان کی تربیت کرتا ہے
13:11اور جو بندے کا ٹوٹا ہوا تعلق جو رب سے ہے وہ جوڑ دیتا ہے
13:15اور جو نمازوں سے ٹوٹا ہوا تعلق ہے وہ جوڑ دیتا ہے
13:18اور جس طرح علماء کی صحبت ملتی ہے
13:20قرآن بھی کہتا نا
13:24بس صحبت میں رہو
13:26علماء کی صحبت میں رہو
13:27مساجد میں
13:28اللہ کی گھر کی صحبت میں رہو
13:30تو یہ بڑا ضروری ہے
13:31ہم تو دیکھتے ہیں کہ جو ہی
13:34ستائیسویں جاتی ہے تو لوگ
13:36شاپنگ کی طرف توجہ کر دیتے ہیں
13:38لیکن علمیہ یہ ہے کہ
13:39ہمیں زیادہ توجہ کرنی چاہیے
13:41بلکہ حدیث پاک اندر آتا ہے
13:43کہ پورے رمضان میں
13:45پورے رمضان میں جتنے لوگوں کی
13:47بخشش کا مزدہ جانفضہ سنایا جاتا ہے
13:50پورے رمضان میں
13:51چاند رات کو
13:53تمام رمضان کے برابر لوگوں کی
13:55مغفرت کا اعلان ہوتا ہے
13:56اور یہ علمیہ ہے کہ میں نے دیکھا
13:58کہ لیلت القدر کا احتمام ہوتا ہے
14:00دیگر اشرا کا احتمام کیا جاتا ہے
14:03تو جو چاند رات ہے یہ بڑی عام ہے
14:05ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں
14:06اس رات کو رب کائنات
14:09بخشش اور
14:11اپنی رحمت کی عدیت آفرماتا ہے
14:13تو اس رات بھی
14:14صحابہ کے معمولات میں یہ ہے
14:16کہ جب وہ
14:17یہ اس نعمت
14:19ہمیں حدیث مبارکہ سے یہ بات ملتی ہے
14:21رمضان کے آمد
14:23آمد پر کریم آقا علیہ السلام نے استقبال کیا
14:25لیکن جانے پر کس طرح استعمائی نہیں ہے
14:28انفرادی طور پر ہے
14:29تو بات یہ ہے
14:30کہ بندہ اللہ کی بارگاہ میں جو کہ
14:32صحابہ تو آنے پر چھے ماہ پہلے
14:34استقبال کی تیاریاں کرتے ہیں
14:36اور چھے ماہ کے بعد انفرادی طور پر
14:38اللہ کی بارگاہ میں
14:39التجاہ کرتے ہیں
14:40مالک اس نیکی کو
14:41اپنی بارگاہ میں قبول فرما
14:42بلکل ٹھیک
14:43ناظرین قرام بریک کا وقت ہے
14:45ہمارے ساتھ رہیے
14:46لوٹتے ہیں ایک مختصر سے وقت
15:10آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں آپ حقوق العباد اور آج جو رمضان المبارک کے اوبرال جو حقوق ہیں
15:17اور اس کو ودا کرنے کا جو حق ہے وہ کیا ہے
15:21اس کے اوپر ہم بات کر رہے ہیں
15:23جنابی ڈاکٹر مفتی عمیر اسلام صاحب
15:26مفتی عمیر اسلام
15:27اور آج آپ ڈاکٹر مفتی عمیر اسلام ہو گئے ہیں
15:30اللہ تعالیٰ آپ کو مزید برکتوں سے نوازے
15:32اور بہت آپ کو مبارک بات
15:34یہ جو استقامت ہے
15:36کہا جاتا ہے کہ یہ استقامت ہی کرامت ہے اصل میں
15:40کسی بھی کام کو
15:42کنٹینیوٹی اس کو کرنا
15:44اور کنٹینیوٹی اس کے اندر لے کے آنا
15:45یہ بہت اہم چیز ہے
15:47اور یہ انسان کی فطرت ہے
15:48کہ وہ کوئی بھی کام جو ہے
15:50اس کو مسلسل کرنے سے اکتہات کا شکار ہو جاتا ہے
15:53تو یہ جو رمضان المبارک ہمیں سکھاتا ہے
15:57کہ آپ نے یہ عبادات
15:58قرآن کریم سے تعلق
16:00اور اپنے جو کھانے پینے کے معمولات ہیں
16:03ان کے اندر کنٹرول
16:04یہ ساری چیزیں
16:06اس میں استقامت جو ہے وہ کیسے ممکن ہیں
16:09بسم اللہ الرحمن الرحیم
16:10بہت شکریہ ڈاک سب
16:12ڈاک سب
16:12مہ رمضان المبارک کا جو بنیادی مقصد ہے
16:16وہ یہی ہے
16:16لَأَلَّكُمْ تَتَّقُون
16:18تاکہ تمہیں تقویٰ کی دولت نصیب ہو جائے
16:21حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رسی اللہ تعالیٰ نہ ہو
16:25آپ نے اس کے والے سے فرمایا
16:26فرمایا کہ تقویٰ اس چیز کا نام ہے
16:28کہ انسان جو محارم ہیں
16:30جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء ہیں
16:33ان سے اپنے آپ کو بچا کے رکھے
16:35اور جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے
16:37ان پہ عمل کرے
16:38اگر ہم اس تعریف کو مدنظر رکھ کر
16:41روزے کے مقصد کو ہم جاننے کی کوشش کریں
16:44تو ہمیں معلوم ہوگا
16:45کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو ہماری بنیادی خواہشات ہیں
16:48ان سے منع کیا
16:49وہ بنیادی خواہش کیا ہے
16:50ہماری جسم کی
16:51ہماری باڈی کی نیڈ کیا ہے
16:53کھانا پینا
16:54اور باقی نفسانی خواہشات کی تکمیل
16:57اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے منع کر دیا
16:59جبکہ باقی ایام میں
17:00یہ چیزیں ہمارے لئے حلال ہیں
17:01یقین ہم کھار سکتے ہیں
17:03پی سکتے ہیں
17:03یہ ساری کے سارے چیزیں
17:05ہماری جسم کی بنیادی ضرورت
17:06قدرت کے نظام کے تحت رکھ دی گئی
17:08اللہ تعالیٰ نے ہمیں
17:09ان چیزوں سے منع کر کر
17:11ماہ رمضان المبارک میں
17:12ہماری یہ پریکٹس کروائی
17:13کہ ہم نے جو حلال کردہ اشیاء
17:16اور ہمارے جسم کی جو بنیادی ضروریات ہیں
17:18ہم نے ان سے کس طرح سے بچنے
17:19ان چیزوں سے بندے کو منع کر کر
17:23باقی ایام کے لئے
17:24باقی مہینوں کے لئے
17:25تیار کیا جا رہا ہے
17:26وہ تیار کس طرح سے کیا جا رہا ہے
17:28کہ اگر جو حلال کردہ اشیاء ہیں
17:30آپ ان سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں
17:32تو جو پہلے ہی حرام کردہ اشیاء ہیں
17:34ان سے ہم آپ کو کیوں نہیں بچا سکتے ہیں
17:36آپ سمجھتے ہیں
17:37کہ یقین دنیا میں
17:38ٹریننگ ورکشاپس ہوتی ہیں
17:40تو جب بھی ٹریننگ ورکشاپس ہوتی ہیں
17:42تو ہر سٹاف
17:44ہر ادارہ اپنے سٹاف کو
17:46ایمپلائیز کو
17:48جو مشکل ٹریننگ ہوتی ہے
17:49اس میں سے گزارت ہے
17:50مشکل ٹریننگ کا مقصد یہ ہوتا ہے
17:52تاکہ وہ آنے والے وقت کے لئے
17:54اپنے آپ کو تیار کر سکے
17:55ماہ رمضان کا بھی یہ مقصد ہے
17:57کہ بندہ مومن کو
17:58آنے والے مہینوں کے لئے تیار کیا جا رہا ہے
18:01اور اس میں کیا کیا آسانیاں پیدا کر دی گئی
18:02شیطان کو قید کر دیا گیا
18:04جنت کے دروازوں کو کھول دیا گیا
18:06اس میں ایک محول کا اثر ہوتا ہے
18:08لیکن اصل مقصد یہ ہے
18:10کہ ماہ رمضان کے علاوہ
18:11باقی ایام کے لئے تیار کیا جائے بندہ مومن کو
18:14حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا فرمان
18:16بہت اہم ہے
18:17میں ارز کرنا چاہتا ہوں
18:19آپ فرماتے ہیں
18:20کہ جو بندہ اس نیت کے ساتھ عمل کرتا ہے
18:23ماہ رمضان میں نیکیاں کرتا ہے
18:24کہ وہ باقی ایام کے اندر بھی
18:27اللہ تعالیٰ کی اسی طرح سے اطاعت کرے گا
18:29استقامت اختیار کرے گا
18:30تو حضرت کعب فرماتے ہیں
18:32فرماتے ہیں کہ
18:32ایسا بندہ کل قیامت کے دن
18:34بغیر حساب کے جنت میں چلا جائے گا
18:36اللہ اکبر
18:36اور آگے آپ نے کیا اشارت فرمایا
18:38آپ نے فرمایا
18:39جو بندہ اس نیت کے ساتھ
18:40ماہ رمضان میں عمل کرے
18:42کہ صرف ماہ رمضان میں میں نے عمل کرنا ہے
18:44باقی اس کے بعد دیکھی جائے گی
18:46عام طور پر ہمارے معاشرے میں
18:47لوگوں کی سوچ ہی ہوتی ہے
18:48کہ ماہ رمضان میں تو عبادت کر لی جاتی ہے
18:51ماہ رمضان کے علاوہ
18:52ہمیں وہ استقامت حاصل نہیں ہو پاتی
18:54تو ڈاکسر بحضرت کعب کیا فرماتے ہیں
18:56آپ نے فرمایا
18:57کہ جو بندہ اس نیت کے ساتھ عمل کرتا ہے
18:59اس کی ساری ماہ رمضان کی عبادت
19:01اس کے موہ پہ مار دی جاتی ہیں
19:02تو اس سوالے سے میرا ناظرین کے لیے
19:04آپ کی اس پروگرام کے توسط سے
19:06خصوصی یہ پیغام ہے
19:07کہ ہم نے استقامت اختیار کرنی ہے
19:09ماہ رمضان کی جو
19:10بھی یہ چان ساتیں باقی ہیں
19:12ہمیں یہ نیت بنانی ہے
19:13کہ ہم نے ماہ رمضان کے علاوہ
19:15بھی ہم نے نیک عمال پر
19:16استقامت اختیار کرنی ہے
19:18جو فرائض ہیں
19:19ڈاکسر اب ہمارے ہاں ہوتا گیا
19:20کہ ہم تو فرائض میں
19:21کتاہی برتنا شروع ہو جاتے ہیں
19:22یعنی فرض نماز کو ادا نہیں کیا جاتا
19:24ماہ رمضان میں تو یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں
19:25عمال کے اندر بھی تبدیلی آجاتی ہے
19:27تو لَأَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
19:29روزے کا مقصد
19:30ہمیں بوکھا اور پیاسا رکھنا نہیں ہے
19:31حدیث انبار کا بھی ہے
19:33فَلَيْسَلِلَّهِ حَاجَتُنُ
19:34اَنْ يَدْعَ تَعَمَهُ وَا شَرَابَهُ
19:36فرمی اللہ تعالیٰ کوئی حاجت ہی نہیں ہے
19:38کہ تم بوکھ پیاسا رکھا
19:39اصل میں وہ تمہیں تربیت کے مراحل سے گزارنا چاہتا ہے
19:41اور تمہیں بڑے مقصد کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے
19:44تو یہ تقویٰ کا
19:45ماہِ رمضان کا بنیادی میسیج ہے
19:47کہ ہمیں استقامت کو احتیار کرنا ہوگا
19:49آجا مفتی صاحب ایک بہت امپورٹن
19:52جیسے ہم استقامت کی ہی بات کر رہے ہیں
19:54اور معاملاتِ رمضان المبارک کی بات کر رہے ہیں
19:57تو دسترخان ہم دیکھتے ہیں
19:59کہ افطار کے اعتمام ہو رہے ہیں
20:01سیریوں کے اعتمام ہو رہے ہیں
20:03اجزاء وقارب کو
20:04حباب کو دعفت دی جا رہی ہے
20:06بہت زیادہ خانوں کا اعتمام ہوتا ہے
20:09لیکن یہ صرف
20:10یہ بھی اسی طرح سے جیسے مساجد میں رونک ہوتی ہے
20:13ایسی یہ دسترخان بھی خاص طور پر
20:15رمضان المبارک میں ہی سچتے ہیں
20:17تو بھوک تو ظاہر ہے کہ رمضان المبارک کے علاوہ بھی لگتی ہے
20:20تو یہ سلسلہ کیسے
20:21اس کو جوڑا جا سکتا ہے
20:23کہ یہ کم از کم پورا سال
20:25جتنی توفیق ہے اس کے مطابق
20:27اس کو کرتے رہنا چاہیے
20:29یہ سوال ایک مورل شوق ہے
20:33کہ بھوک کا تعلق
20:36رمضان کے ساتھ نہیں ہوتا
20:38بھوک تو عید کے بعد بھی لگتی ہے
20:42ماہ رمضان کے روزوں کا جو
20:44ultimate goal ہے
20:45وہ ہے تقوی
20:46you become peace
20:47inner peace
20:49اور تقوی
20:50وہ ایک
20:53مستقل وصف ہے
20:54اور یہ مستقل وصف بنتا ہے
20:57جب تقوی
20:59جن چیزوں سے حاصل ہوتا ہے
21:00ان پر مستقل استقامت
21:02اختیار کی جائے
21:03اور حصول تقوی میں سے
21:05نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
21:07نے ماہ رمضان کا ایک وصف ذکر کیا
21:09کہ حاضر شہر المواسط
21:11یہ ہمدردیوں کا مہینہ ہے
21:13خیر خائیوں کا ہے
21:14بلائیوں کا ہے
21:15کھلانے کا مہینہ ہے
21:16تو ماہ رمضان المبارک میں
21:19اگر ہماری ہمدردی جاگ جائے
21:21اور ماہ رمضان گزر جائے
21:23تو یہ ہمدردی ہم بھول جائیں
21:25تو یہ ایک وقتی جذبہ تو ہو سکتا ہے
21:28پھر یہ عبادت نہیں ہے
21:30یہ ہمارے انر پیس پر
21:32اور ہمارا جو الٹیمیٹ گول ہے
21:34تقوی
21:34اس پر یہ کوئسن مارک ہو جائے گا
21:36قرآن مجید فرقان عبید نے
21:38سورہ دہر میں
21:39اس پہلو پر بہت
21:41منفرد انداز میں
21:42ہماری رہنمائی کی
21:47کہ وہ جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں
21:49ان کا الٹیمیٹ گول
21:51اپنے رب کی رضا ہوتی ہے
21:53اور ان کی رضا رمضان ہو
21:55تو تب بھی وہی رہتی ہے
21:57اور غیر رمضان ہو
21:58تو ان کی رضا وہی رہتی ہے
22:00یہ رمضان کے ساتھ خاص نہیں
22:02بلکہ جناب سینا علی المرتدار
22:05رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلے سے
22:06پہلو سے بات کریں
22:07تو آپ فرمایے کرتے تھے
22:08یہ تو مستقل کردار کا حصہ بن جاتا ہے
22:10رمضان جانے کے لیے نہیں آتا
22:13بلکہ رمضان المبارک
22:15تو ہمارے کردار میں
22:16زندہ رہنے کے لیے آتا ہے
22:17اور کردار کی زندگی کا
22:19ایک خوبصورت پہلو
22:21لوگوں کی ہمدردی
22:22خیر خواہی
22:23بھوکوں کو کھانا کھلانا
22:25وہ بھوک جس کو محسوس کر کے
22:27آپ نے اپنے اندر
22:28ایک درد اور پیدا ہوا
22:30کہ بھوکے رہنے کی کیا کیفیات ہوتی ہیں
22:34تو آپ دوسرے کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں
22:36نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
22:38آپ کے بارے میں
22:41صحابہ فرماتے ہیں
22:42کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
22:44سارا سال ہی سخاوت فرماتے تھے
22:47اور ماہ رمضان میں
22:48یہ ریح مرسلہ کی طرح ہو جاتی تھی
22:50اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک تسلسل ہے
22:52اور مستقل نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
22:55یہ کردار میں دیکھنا چاہتے تھے
22:57لہٰذا ہم سب کو
22:59اس پہلو پر ضرور توجہ کرنی چاہیے
23:01کہ ماہ رمضان المبارک
23:03جو ہے وہ
23:04عملی زندگی کو
23:07مستقل خیر
23:09کے پہلوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے آتا ہے
23:11اور جس خیر کے پہلوں کے ساتھ
23:13آپ جڑ گئے
23:14اس میں تسلسل
23:16یہ دین کا تقاضہ ہے
23:17ہم دردی سے آپ جڑے ہیں
23:19تو جس طرح ماہ رمضان میں ہم دردی تھی
23:22ماہ رمضان کے بعد بھی رہنے چاہیے
23:24جب یہاں دسترخان
23:25وسط میں تھا
23:27تو ماہ رمضان کے بعد بھی
23:29وسط رہنی چاہیے
23:30اللہ کو رمضان والے مسلمان نہیں
23:33ہر لمحے والے مسلمان بہت پسند ہے
23:35اور ہمیں وہی بننا ہے
23:36بلکل ٹھیک
23:37بلکل ٹھیک
23:38اچھا ہم اگر اس موقع پر
23:41جب رمضان المبارک کی
23:42کاری صاحب آخری لمحات ہیں
23:44تو کیا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے
23:47یہ بات سوچنے کی ضرورت ہے
23:48کہ ہم نے کیا تربیت حاصل کی
23:51اس رمضان المبارک نے ہمیں کیا دیا
23:53آج کے دن جب ہم
23:55بیدا کر رہے ہیں رمضان المبارک کو
23:57تو جو تربیت ہماری ہوئی
23:59اس پہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے
24:01کہ ہم نے صرف رمضان کو گزارا
24:03یا اس میں کوئی تبدیلی بھی ہمارے اندر آئی
24:06ڈاکٹر کبلا
24:07جس طرح کبلا
24:08ڈاکٹر مفتی عمیر صاحب کبلا نے فرمایا تھا
24:10کہ روزے کا جو مقصد ہے
24:18اگر ہمارے اندر تقویٰ نہیں آیا
24:20تو پھر سوائے بھوک اور پیاس کے
24:21ہم نے کچھ نہیں کم آیا
24:23تقویٰ دیکھیں روزہ یہ رمضان
24:25جو ہماری تربیت کرتا ہے
24:27یہ جب انسان روزہ رکھتا ہے
24:29تو وہ اس کے تقویٰ کے حسار میں آ جاتا ہے
24:32اس کی آنکھ کا روزہ ہو جاتا ہے
24:33اس کی زبان کا روزہ ہو جاتا ہے
24:35اس کی سماعت کا روزہ ہو جاتا ہے
24:36اس کے قدموں کا چلنے پھرنے کا روزہ ہو جاتا ہے
24:38وہ تقویٰ کے حسار میں آ جاتا ہے
24:40تو جناب بات یہ ہے
24:42کہ پھر تربیت رمضان ایسی کرتا ہے
24:44اما عاش صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں
24:46کہ خیر الاموری ادواموہا وینقلہ
24:50پھر تقویٰ یہ ہے
24:51رمضان تربیت یہ کرتا ہے
24:53کہ تم عمل کے اندر دمام آجائے
24:56عمل کے اندر یہ نہیں
24:57کہ جناب جذبہ آیا
24:59رمضانی مسلمان ہو گئے
25:01اور اس کے بعد رمضان گیا
25:02تو ہم نے بھی الویدہ کر دیا
25:04تو روزہ ہماری تربیت کرتا ہے
25:06کہ
25:16رمضان ہمیں تقوی عطا کرتا ہے
25:18اور تقوی استقامت
25:20پر لا کے کھڑا کر دیتا ہے
25:22اور جب بندے کو استقامت مل جاتی ہے
25:24تو پھر بندہ جناب استقامت
25:26جب عطا ہو جاتی ہے
25:28تو ایسے بندے کی زیارت کے لیے
25:30آسمان سے فرشتے بھی آتے ہیں
25:31پھر اللہ پاک نے بے پناہ خوشخبری عطا فرمائی ہے
25:34تو روزہ جو ہمیں وہ تقوی عطا کرتا ہے
25:37پھر بھوک کے ذریعے ہم لوگوں کی
25:38جو افلاس کا معاملہ ہے
25:41وہ ہمیں ہمارے اندر
25:42ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے
25:43جس طرح رمضان میں دسترخان نہیں لگانے
25:45پھر ہم نے دسترخان لگانا ہے
25:47جس طرح مولا کائنات
25:48مولا علی کرماللہ واجل کریم
25:50آپ نے منت مانگی گھر والوں نے
25:52شہزادے بوکھے تھے
25:53یہ تو تین روزے رکھے
25:54تو جناب ایک دن
25:55وَيُتُ عِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ
25:57مِسْكِينَ وَيَتِيمَ وَاسِيرَ
26:00تینوں دن مِسْكِين آتا رہا
26:01تو جناب یہ جذبہ پیدا ہونا چاہیے
26:04کہ جناب پھر رمضان میں نہیں
26:06یہ رمضان کے روزوں کا معاملہ نہیں تھا
26:08یعنی یہ جذبہ بوکھ
26:10یعنی مسکین کے ساتھ محبت کرنا
26:12یتیم کے ساتھ محبت کرنا
26:14عصیر کے ساتھ محبت کرنا
26:15یہ رمضان میں نہیں رہنا چاہیے
26:17بلکہ رمضان کے بعد بھی رہنا چاہیے
26:18بلکل ٹھیک
26:20جناب محمد نبیل قادری صاحب
26:22جو ہمارے ساتھ موجود ہیں
26:23ایک تو خوش آمدیت کہتے ہیں
26:25اپو جناب اور بسم اللہ کلامتہ فرمائی
26:27ان کی چوکھٹے
26:31ہو تو کاسا
26:36بی پڑا
26:40سجدہ
26:41ہے
26:42ان کی چوکھٹے
26:46ہو تو کاسا
26:50بی پڑا
26:51سجدہ
26:53ہے
26:56در بڑا
26:59ہو
26:59در بڑا
27:02ہو
27:03تو
27:04سوالی
27:06بی کھڑا
27:11سجدہ
27:12ہے
27:13در بڑا
27:16ہو
27:17تو
27:18سوالی
27:20بی کھڑا
27:25سجدہ
27:26ہے
27:27یہ
27:29غلامی
27:31کہیں کم تر
27:35نہیں ہونے دیتی
27:39یہ غلامی
27:44یہ غلامی
27:46یہ غلامی
27:48کہیں کم تر
27:51نہیں ہونے دیتی
27:57یہ غلامی
28:00کہیں کم تر
28:03نہیں ہونے دیتی
28:09ان کا نوکر
28:13ان کا نوکر
28:18ہو تو شاہوں
28:20میں کھڑا
28:23سجدہ
28:25ہے
28:26در بڑا
28:30ہے
28:31در بڑا
28:31تو
28:32سوالی
28:34بی کھڑا
28:39سجدہ
28:40ہے
28:41در بڑا
28:44ہو
28:45تو
28:46سوالی
28:48بی کھڑا
28:54سجدہ
28:55ہے
28:58شاہ
29:00رمضان
29:01شاہ
29:03رمضان
29:03شاہ
29:05رمضان
29:06شاہ
29:07رمضان
29:08شاہ
29:09رمضان
29:09شاہ
29:09ہے مومنوں کے دل کا
29:11اجالا شاہ
29:13رمضان
29:14ہے
29:14موش آمدید کہتے ہیں
29:15وقفے کے بعد آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں
29:17آپ حقوق العباد
29:19نعمت افطار میں لہور شوڑیو سے اور آج ہم
29:21رمضان مبارک کی ان اختتامی گھڑیوں کے حوالے سے اس کو ودا کرنے کے اس کی حق ہیں اس کے
29:28حوالے سے بات کر رہے ہیں مفتی صاحب جو گفتگو ہم نے آج روکس اپ کی ہے اس پر کنکلوزن
29:34کیا ہے کہ ہمیں اس مبارک مہینے کی اندر جو تربیت حاصل کی ہے جو ہمارے اندر اس مہینے کی
29:42مبارک گھڑیوں سے جو ہم نے حاصل کیا ہے اس کو کس طرح سے اس کے اندر جو ہے وہ
29:47کنٹینیوٹی لاسل کیا ہے
29:49دوکس اپ جب اوورال دنیا کی سٹڈیز کو پڑھا جاتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ
29:55ون ویک کی ورکشاپس ہوتی ہیں ٹریننگ ورکشاپس ٹو ویکس کی ہوتی ہیں اور دنیا کے ماہر نفسیات کہتے ہیں
30:01کہ اگر آپ نے کوئی ٹریننگ کو پختہ کرنا ہے تو اس کے لیے میکسیمم جو ٹریننگ ہے وہ ٹرین
30:06ویکس کی ہوتی ہے
30:06اگر ہم دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے ہماری یہ فور ویکس کی ہماری یہ ٹریننگ کروائی ہے اور اس میں
30:12جو میں باقی سکالرز نے ماشاءاللہ بڑی خوبصورت گفت کی
30:15میں صرف جو ایک خلاصے کے طور پر ارز کرنا چاہتا ہوں کہ ماہ رمضان میں اگر دیکھا جائے تو
30:20صرف روزے کا اضافہ ہوئے جو کہ فرض ہے
30:22باقی اس کے علاوہ تمام تر احکامات وہی رہتے ہیں یعنی نوافل کی ادائیگی ہے قرآن کی تلاوت ہے صدقہ
30:28و خیرات کرنا ہے
30:29زکاة کو ہم نے ماہ رمضان کے ساتھ جوڑ دیا جبکہ زکاة کا تعلق ماہ رمضان کے ساتھ نہیں ہے
30:34یہ تو ہم اپنے اضافے کے لیے کرتے ہیں
30:36تو اس لیے ہمارے سامین کو اہل ایمان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ روزہ ماہ رمضان صرف فرضیت روزہ کے
30:42ساتھ خاص ہے
30:43باقی اس کے علاوہ باقی تمام تر مہینوں میں جو احکامات ہوتے ہیں وہی ماہ رمضان میں احکامات ہوتے ہیں
30:48اس میں نوافل کی ادائیگی کے اوپر ثواب زیادہ دیا جاتا ہے وہ اس لیے تاکہ ہماری عادت بغتا ہو
30:53جائے
30:53اور اللہ تعالیٰ کا ہم سے جو تقاضہ ہے
30:58اور اب ہم سے یہ تقاضہ کرے اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ
31:03یعنی ایسا نہیں ہے کہ تم ایک مہینے کے لیے مسلمان بن جاؤ
31:06ایک مہینے کے لیے تم عبادت کرنے لگ جاؤ
31:08بلکہ ہمیں کوشش کرنی ہے کہ جیسے ہم ماہ رمضان میں نمازیں پڑھتے رہے
31:12فرض تو باقی مہینوں میں بھی ہیں
31:14ہم اسی طرح استقامت اختیار کریں
31:17دنیا کے اندر یہ سٹڈیز ہوتی ہیں
31:18کہ پوری دنیا کے اندر مسلمان ممالک میں بھی اور غیر مسلم ممالک میں بھی
31:23کرائم ریٹ جو ہوتا ہے ماہ رمضان میں کم ہو جاتا ہے
31:26یعنی ماہ رمضان میں ہمارے اندر یہ تبدیل ہی آتی ہے
31:28اخلاق کے اندر ہمارے معاملات کے اندر
31:30تو ہمیں یہی تبدیل جو ہے
31:32باقی ایام میں بھی باقی مہینوں میں بھی
31:34اس کو ہم نے جاری رکھنا ہے
31:35یہی ماہ رمضان کا بنیادی پیغام ہے
31:37ماہ رمضان ہمیں تیار کرنے کے لیے ہے
31:39نہ کہ صرف یہ کہ ہم نیکیوں کے اضافے کے چکروں میں صرف پڑھ جائیں
31:42وہ بھی انعامات ہوتے ہیں
31:44وہ بھی ساری چیزیں ہیں
31:45لیکن اصل مقصد جو ماہ رمضان کا ہے
31:47وہ تقوی ہمیں دینا
31:48تاکہ ہم استقامت اتیار کریں
31:49اللہ کا خوف ہمارے دلوں میں ہو
31:51ہمارے ذہنوں میں خیال پختہ ہو جائے
31:53کہ مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے
31:56گر ہوئے کی پیدا
31:57کہ خدا دیکھ رہا ہے
31:58اور اب ہمیں باقی مہینوں میں بھی دیکھ رہا ہوتا ہے
32:00اس کے عقامات اسی طرح سے ہوتے ہیں
32:02اللہ تعالیٰ
32:03ہم سب کو اس پہ استقامت کی
32:05اللہ تعالیٰ ہمیں ہو
32:06بلکل ٹھیک
32:06بلکل ٹھیک
32:07جی مفتی صاحب کیا جناب خلاصہ ہے
32:10اور کیا پیغام ہے
32:11روک صاحب
32:12لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں پیغام بھی ہے
32:15اور مقصد بھی ہے
32:17کہ الٹیمیٹ گول ہے تقویٰ
32:20اور تقویٰ ہمارے اندر ایک ایسے
32:23انسان کا بیدار ہونا ہے
32:26کہ جو تنہائی میں بھی
32:28اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو
32:29اور مجمع میں آئے
32:33تو انصاف کی خاطر
32:34وہ اللہ کی رضا کی خاطر
32:36وہ ڈٹ جائے
32:38یہ ایک خطرناک غلطی
32:40ہمارے ہاں پائی جاتی ہے
32:41کہ ہم نے بہت ساری چیزوں کو
32:44دین میں رسم بنا لیا ہے
32:47اور بس اوقات
32:48ماہ رمضان کے روزے کو بھی
32:51رسم بنا لیا ہے
32:52حالانکہ دین
32:53رسم کا نام نہیں ہے
32:55دین تو مزاج کا نام ہے
32:57دین تو کردار کا نام ہے
32:59ایسا نہیں ہو سکتا
33:00کہ ہم رمضان میں بدل جائیں
33:02اور جو ہی رمضان جائے
33:04تو پلٹ جائیں
33:05پھر بدل جائیں
33:06پلٹ جائیں
33:07یہ نہیں ہو سکتا
33:08یہ رمضان ایکٹیوٹی کا نام نہیں ہے
33:11رمضان تو ایڈنٹیٹی ہے
33:13ہم نے چیزوں کو
33:15ایکٹیوٹی بیسیس پہ نہیں لینا
33:16ہم نے ماہ رمضان کو
33:18اپنی پہچان کے طور پر
33:20مخلوق خدا کے سامنے پیش کرنا ہے
33:23ہمیں رمضان والے نہیں
33:25بلکہ ہر لمحے والے مسلمان بننا ہے
33:27اور یہ پہلو پیش نظر رکھنا ہے
33:30کہ خدا بھی ہماری طرف دیکھ رہا ہے
33:32اور خدا کی مخلوق بھی ہماری طرف دیکھ رہا ہے
33:36سبحان اللہ
33:36سبحان اللہ
33:37بہت اچھا میسے جناب آپ نے
33:39عطا فرمایا
33:40جی کاری صاحب کیا فرماتے ہیں جناب
33:41جی کمینا ڈاکس صاحب
33:42میرا پیغام یہ ہے
33:43کہ رمضان میں میں نے بہت سے
33:45لوگوں کا یہ عمل دیکھا
33:47وہ تحجد بھی پڑھتے ہیں
33:49چاشت بھی پڑھتے ہیں
33:50اشراغ بھی پڑھتے ہیں
33:51سہری کے وقت اٹھتے ہیں
33:52تو تحجد انہوں نے شروع کر دی
33:53تو پھر وہی بات ہے
33:56کہ وہ ان کے عمل میں دوام آنا چاہیے
33:58یہ رمضان میں جو ہمیں
34:00اللہ پاک نے نور عطا کیا
34:01تربیت کا
34:01تو اس کو بقیہ گیرہ مہینوں کے اندر بھی
34:04ہمیں قائم رکھنا چاہیے
34:05اور ایک اور میں میں نے عمل دیکھا
34:06کہ اکثر ہمارے مساجد کے اندر
34:09لوگ قرآن سے جڑ جاتے ہیں
34:11اور قرآن پڑھتے ہیں
34:12اور یقین ہے
34:13قرآن کی بڑی برکت ہے
34:21فرمایا ایمان والوں کی کیا نشانی ہے
34:24کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے
34:25تو ان کے دل دھال جاتے ہیں
34:27اور فرمایا ان کے سامنے جب قرآن پڑھا جائے
34:29تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے
34:31تو میری ناظرین سے یہ بھی عرض ہوگی
34:34کہ جس طرح آپ رمضان میں
34:35کسی نے دس قرآن پڑھے
34:36کسی نے سات پڑھے
34:37کسی نے پانچ پڑھے
34:38تو بقیہ گیارہ ماہ
34:40ہم قرآن کو الویدہ کر دیتے ہیں
34:42تو میں عرض کروں گا
34:43کہ قرآن سے جڑ جائیں
34:45جو بندہ قرآن سے جڑ گیا
34:46یقین کریں
34:47کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
34:49کہ جو بندہ چاہتا ہے نا
34:50کہ اللہ سے ایک لمحہ میں رابطہ کر لے
34:53ہم ٹیلی فون میں آتے ہیں
34:54تو کہاں ایک سیکنڈ میں رابطہ ہو جاتا ہے
34:56فرمایا اگر اللہ سے رابطہ چاہتے ہو
34:58تو وَعَتَسِمُ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِعَا
35:00ادھر قرآن پڑھنے والا قرآن پڑھتا ہے
35:03میرے کریم آقا نے فرمایا
35:04ایک سرہ اس کاری کے ہاتھ میں ہوتا ہے
35:07اور دوسرا سرہ مولا کے ہاتھ میں ہوتا ہے
35:09تو قرآن سے جڑ جائیں
35:11نماز سے جڑ جائیں
35:12مسئل سے جڑ جائیں
35:13بلکل ٹھیک
35:13مفتی صاحب آپ بھی پیغام جناب کو یہ
35:15ڈاکس صاحب جیسے کہ عرض کیا جا رہا ہے
35:17بات ہو رہی ہے
35:18کہ یعنی ماہِ رمضان کو
35:20اگر ہم کوشش کریں
35:21ماہِ رمضان کے جو ظاہری صورت
35:23وہ ہے بوکھے اور پیاسے رہنے کا نام ہے
35:26لیکن اصل جو اس کی روحانی صورت ہے
35:28وہ کہا ہے کہ تقویٰ ہے
35:29علامہ اکبال نے جیسے کہ فرمایا تھا
35:31وَاعِزِ قُمْ کی پُختہ خیالی نہ رہی
35:33برکِ طبعی نہ رہی
35:34شولہِ مکالی نہ رہی
35:35فلسفہ تو رہ گیا
35:36تلقینِ غزالی نہ رہی
35:37رہ گئی رسمِ آزان روحِ بلالی نہ رہی
35:40تو ہم نے رسومات سے نکل کر
35:41ہم نے حقیقت کی طرف جانا ہے
35:43نماز کا جو مقصد ہے
35:45ہم اس کے فلسفے کو حاصل کریں
35:46عمرے کا جو مقصد ہے
35:48حج کا جو مقصد ہے
35:49ہم اس کو حاصل کریں
35:50ماہِ رمضان میں آپ دیکھتے ہیں
35:51کہ پاکستان کا جو شمار ہے
35:53دنیا میں نمبر ون پہ آتا ہے
35:54کہ سب سے زیادہ لوگ یہاں سے عمرے پہ جاتے ہیں
35:56لیکن عمرہ کر کے آئیں گے
35:58وہ تبدیلی نہیں آتی
35:58وہ عمل میں تبدیلی نہیں آتی
36:00وہ اخلاق میں تبدیلی نہیں آتی
36:01باقی بھی کئی چیزوں میں
36:03ہم پھر زیادہ مشہور ہیں
36:04ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے
36:06دینِ اسلام انقلابی دین ہے
36:08ماہِ رمضان انقلابی مہین ہے
36:10اللہ کی کتاب قرآنِ کریم انقلابی کتاب ہے
36:12جس نے دنیا میں انقلاب اپا کر دیا
36:14اور صحابہ دنیا کی بہترین قوم بن گئے
36:17تو ہمیں بہترین قوم بننا ہے
36:18پاکستان کے اندر آج مسائلی مسائل ہیں
36:20تو لوگ پریشان ہوتے ہیں
36:22حل ہمارے پاس پریشان ہونے نہیں چاہئے
36:24کیونکہ ہمارے پاس اسلام ہے
36:25قرآن ہے
36:26دینِ مصطفیٰ ہے
36:27حضور کی صیرت ہے
36:28تو لوگ صاحب اس کے ہوتے ہیں
36:29ہمیں صرف ضرورت اس عمل کی ہے
36:30کہ ہم جذباتی مسلمان ہونے کی بجائے
36:32ہم پریکٹیکسنگ مسلمان بنیں
36:34ہم عملی طور پر مسلمان
36:35اپنے کردار کے اندر خوبصورتی لیں
36:37جب لے آئیں گے تو انشاءاللہ
36:38جو ہے وہ اللہ کے فضل سے ہر طرح
36:40بلکل ٹھیک
36:40بہت شکریہ
36:41جنابِ مفتی محمد ابو بکر صدیق
36:43علیہ زری صاحب
36:44جنابِ قاری محمد یونس قادری صاحب
36:46جنابِ ڈاکٹر مفتی عمیر اسلم صاحب
36:48جنابِ محمد اکرم مدنی صاحب
36:50ابھی آپ ہم کلام لیتے ہیں آپ سے
36:53اور جنابِ نبیل قادری صاحب
36:54آپ کا بھی بہت شکریہ
36:55تشریف آوری کا ناظرین اکرام
36:57نات کے چند اشار میں ارز کرتا ہوں
36:59اور پھر کلام جو ہے وہ شامل کرتے ہیں
37:02اور اگر ایک رمضان مبارک کا روزہ مزید
37:05اللہ نے ہمیں عطا فرمایا
37:07تو کل آپ سے پھر ملاقات ہوگی
37:09کہ دعا کو ہاتھ اٹھاتا ہوں پھر یقین کے ساتھ
37:13دعا کو ہاتھ اٹھاتا ہوں پھر یقین کے ساتھ
37:17درود پڑتا ہوں ایا کنستعین کے ساتھ
37:20درود پڑتا ہوں ایا کنستعین کے ساتھ
37:25نبی کا نام لبوں سے ادا ہوا تو لگا
37:28کہ تر ہوئی ہو زبان جیسے انگمین کے ساتھ
37:32کبھی بٹھاؤ محبت سے اپنے پاس ان کو
37:41میرے رسول کو نسبت ہے مفلسین کے ساتھ
37:48نہ جس کے گھر میں تھی آسائشیں زمانے کی
37:52جواز کونوں مکاں ہے اسی مکین کے ساتھ
37:57جواز کونوں مکاں ہے اسی مکین کے ساتھ
38:00جہاں میں کذب و خیانت سے جانے جاتے ہیں
38:09جڑے ہیں کہنے کو ہم صادق و امین کے ساتھ
38:17اور مجھے یقین ہے چمکے گی حشر میں سرور
38:25کہ خاکِ تیبہ لگی ہے میری جبین کے ساتھ
38:29کہ خاکِ تیبہ لگی ہے میری جبین کے ساتھ
38:33درود پڑتا ہوں ایا کنستہین کے ساتھ
38:37کلام شامل کرتے ہیں جنابِ محمد اکرم مدنی صاحب
38:43بسم اللہ
39:03حضور جانتے ہیں
39:20حضور جانتے ہیں
39:23کہاں ہے علش مولا
39:29حضور جانتے ہیں
39:36کہاں ہے علش مولا
39:44کہاں ہے علش مولا
39:49حضور جانتے ہیں
40:01پہنچے کے صدرہ
40:08پہ روح الامین یہ بولے
40:18پہنچے کے صدرہ
40:22پہ روح الامین یہ بولے
40:28یہاں سے آگے کا رسا
40:35حضور جانتے ہیں
40:41کہاں ہے علش مولا
40:51حضور جانتے ہیں
40:59بروز حشر شفاعت کریں گے چل چل کر
41:13بروز حشر شفاعت کریں گے چل چل کر
41:23ہر ایک غلام کا چہرہ
41:30حضور جانتے ہیں
41:36ہر ایک غلام کا چہرہ
41:42حضور جانتے ہیں
41:48میں الکی شان
41:57کہوں کہاں ہے
42:00میری اوقات
42:04کہ شان سیدہ زہرا
42:10حضور جانتے ہیں
42:16کہاں ہے
42:18عرش مولا
42:22کہاں ہے
42:24عرش مولا
42:27حضور جانتے ہیں
42:33شانِ رمضان
42:36شانِ رمضان
42:39شانِ رمضان
42:42شانِ رمضان
42:44شانِ رمضان
Comments