Skip to playerSkip to main content
📖 Ilm o Ulama | Rehmat e Sehr – Topic: Shab e Qadr Ki Fazilat Aur Azmat

📌 Host: Muhammad Raeed
📌 Guest: Mufti Muhammad Akmal, Atif Aslam Rao
📌 Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi

📌 Key Highlights:
Understanding the consequences of hurting others
Islamic teachings on empathy and kindness
Guidance from scholars and Islamic experts

✨ Watch more Ramzan specials:
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on

Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG

#shan_e_ramzan #Ramzan2026 #ARYQtv #IlmOULama #Rehmat_e_Sehr #IslamicContent #RamzanSpecials #MuftiMuhammadAkmal #AllamaLiaquatHussainAzhari #IslamicGuidance

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00ڈسکرائب کا سفینہ زندگی کا قرینہ روح مکہ مدینہ آدمی کو بناتا ہے یہ انسان
00:17جی ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے علم و علماء آپ جانتے ہیں یہ وہ سیگمنٹ ہے
00:21جس میں ہم ایک موضوع کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس موضوع
00:25کو ڈسکرائب کرنے کے لئے اس کی وضاحت کے لئے چند سوالات کا سہارا لیا جاتا ہے
00:29تاکہ علماء حضرات جو ہیں اس پر اپنی وقی مطالعے کی روشنی میں جوابات
00:33ان آیت فرمائیں اور میرے اور آپ کے ذہنوں پر دستک دینے والے سوالات کے
00:37جوابات بھی مل جائیں اس موضوع کے تناظر میں اور آج جو موضوع ہے شب
00:41قدر کی عظمت اور فضیلت ہے اس پر ہم انشاءاللہ بات کریں گے ہماری
00:45زندگیوں میں کئی صبحیں ہوتی ہیں کئی شامیں ہوتی ہیں کئی راتیں آ جاتی
00:49ہیں لیکن قدر والی رات وہ ہوتی ہے کہ جس کی ہم قدر کر سکیں
00:54وہ اسی لئے کسی نے کہا کہ ہر شب شب قدر استگر قدر بدانی جس
00:58رات کی ہم نے قدر کر لی وہی رات قدر والی ہے لیکن بطور خاص یہ جو
01:04پانچ تاک راتیں ہیں ماہ رمضان المبارک کی اس میں موجود وہ
01:08مخفی لیلت القدر جو اللہ نے اخفہ میں رکھی ہے ہمارے لئے آسانی
01:14کہ ہم اگر ایک نہ پا سکے تو دوسری کیلئے دوسری نہیں تو تیسری یہ پانچ راتیں
01:17جو ہے ان کی فضیلت اور احمیت کے حوالے سے ضرور قرآن و حدیث
01:20انشاءاللہ بات ہوگی آج تاکہ آج یہ گزرتے ہوئے لمحات ممکن
01:25ہے کہ آپ بہت سی گفتگو سننے کے بعد کچھ آمال و افعال ایسے
01:29اختیار کریں کہ ممکنہ طور پر آج کی جو لیلت القدر ہے اس کے فیض
01:33و برکات آپ حاصل کر سکیں استاذ العلماء حضرت اللہ مفتی محمد
01:37اکمل بدنی صاحب آپ جانتے ہیں کہ ہمارے گیسٹ ہوا کرتے ہیں آج بھی تشریف
01:40فرمائے اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا خوبصورت گفتگو
01:44فرمائی آپ نے ڈیجیٹل پر ماشاءاللہ ہم دیکھ رہے تھے اور ناظرین
01:47دنیا بھر میں دیکھی جا رہی تھی ماشاءاللہ آج کی رات کے اعتبار
01:50سے ماشاءاللہ قبلہ یہاں بھی تشریف فرمائیں انشاءاللہ آپ سے
01:52ضرور سنیں گے اور ڈاکٹر عاطف اسلام راو صاحب تشریف فرمائے
01:56اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
01:58مفتی صاحب آپ کی خدمت میں قرآن مجید کی روشنی میں شب قدر
02:02کی عظمت کے حوالے سے کچھ اشارت فرمائی
02:08اللہ تعالیٰ نے اس رات کی عظمت کے لیے پوری ایک سورہ نازل
02:12فرمائی اور اس کا نام بھی سورة القدر رکھا اور بڑی معروف
02:17ہے کہ بے شک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور
02:21اے مخاطب تو نے کیا جانا کہ شب قدر کیا ہے یہ جو
02:25question ہے بیچ میں یہ عربوں کا ایک اسلوب ہے کہ جب کسی
02:28اہم بات کو ذکر کرتے ہیں تو question پہلے ایک ریز کرتے ہیں
02:32تاکہ توجہ مکمل طور پر اس طرف ہو جائے اور اس کے بعد
02:36اللہ نے فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے
02:39اس رات میں فرشتے اور جبریل امین مختلف کاموں کے لیے
02:44اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور یہ رات
02:48صبح تک سلامتی کی رات ہے اس سے چند باتیں میں معلوم ہوئی پہلی
02:52بات تو یہ کہ اس رات کی عظمت کا تعلق نوزل قرآن سے اللہ
02:56تعالیٰ نے معین فرمایا کہ اس رات میں لوہ محفوظ سے اسمان دنیا
03:00پر یک بار کی پورا قرآن نازل ہوا اور پھر سینہ مصطفیٰ پر
03:05تقریباً تئیس سال کی مدت میں تمام ہوا اس سے یہ بات پتا
03:08چلی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بڑا قادر مطلق ہے اور اس کی
03:12بڑی عظمت ہے کہ پورا قرآن اگر نازل ہوا تو اس کے مطلب
03:16تمام مضامین ایک ساتھ نازل ہوئے سینہ مصطفیٰ پر جیسے جیسے
03:20ضرورت پہ شاتی رہی حالات ہوئے ان کا حصہ نازل ہوتا رہا
03:23اس کا مطلب ہے کہ اس سے بات ثابت ہوئی کہ جیسے اللہ کی ذات
03:27قدیم ہے اس کی صفات بھی چونکہ قدیم ہیں تو کلام بھی قدیم
03:30ارادہ بھی قدیم ہے اس کا مطلب ہے قرآن میں ہماری پیدائش سے
03:34پہلے ہی سب کچھ درست تھا اور اللہ جانتا ہے اس کا علم
03:39وسی ہے اس کا علم ازلی ہے وہ اس کو کوئی ذرہ مخفی نہیں ہے
03:42کہ کیا کچھ ہونے والا تو بس میں سننے والوں سے ذرا یہ
03:45گزارش بار بار میں کر دیتا ہوں کہ آج کل سوشل میڈیا پر اس
03:49قسم کے کچھ بیانات یا ایسی ڈیبیٹ آپ دیکھیں گے جس سے بظاہر
03:53ایسا لگتا ہے کہ صحابہ اکرام یا آہلِ بیعتِ اتھار میں کچھ
03:57کھچاؤ تھا کوئی ٹکراؤ تھا اور ایک کو فوقع دے کر کبھی اس کو
04:02بلند کیا جاتا ہے کبھی اس کو کیا جاتا ہے اور لا محالہ جو
04:05ینگ جنیشن ہے بعض اوقات وہ واقعات کو سن کر الفاظ کے اتھار
04:10چڑھاؤ سے کسی ایک کے بارے میں دل میں کچھ کینا سا بغض سا یا
04:14بعض اوقات ایک نفرت اور کراہ سی محسوس کر دی ہے یہ ذہن میں رکھیں
04:18کہ اللہ تعالیٰ عزل سے جانتا ہے کیا کچھ ہونے والا ہے اور قرآن
04:22یا اکبار کی نازل ہوا آیت خود یہ صورت بتا رہی ہے اور اللہ نے
04:25اس میں واضح فرمایا رضی اللہ عنہم وردو عنہم اللہ ان سے راضی
04:29ہو گیا وہ اللہ سے راضی ہو گیا یہ صحابہ اکرام کے بارے میں خاص
04:33اللہ نے بیان فرمایا اس کا مطلب ہے ہمارا عرف سب جاننے کے باوجود
04:37ان سے راضی تو پھر ہم نراض ہونے والے کون ہوتے ہیں یہ ذہن میں
04:41رکھیں اس رات کی قدر کرنی چاہیے چونکہ یہ صبح تک سلامتی
04:45کے رات ہے اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اجتماع اٹینڈ کرنے کے بعد آدمی
04:48سوچے بس اب بے پروہ ہو جاؤ ایسا نہیں ہے یہ تو صبح تک
04:51سلامتی ہے طلوع فجر تک ساری رات یہ برکات نازل ہوتی رہیں گی
04:56اور اس میں جبریل امین اور فرشتے بہت ساری رحمتیں برکتیں
05:00لے کر آتے ہیں کوشش یہی ہوگی جیسے ہم نے نیچے ڈیجرل میں بھی
05:03آپ فرما رہے تھے حوصلہ افضائی کے لیے کہ بیان کیا کہ جہاں
05:07ہم فضائل کو جمع کریں وہیں جمع شدہ نیکیوں کی حفاظت کا بھی
05:11احتمام کریں تو ان چیزوں کے بارے میں غور کریں جو برودے
05:14قیامت ہماری نیکیوں ختم کر سکتی ہیں کوشش کریں کہ اس کا
05:17تدارک بھی اس رات کم از کم سوچ اور فکر کے اعتبار سے ہوئے
05:20کہ لایہ حمل ہم تیار کریں اور آئندہ اس پر عمل کر کے
05:23اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں بہت امدانداز میں قبلہ ازنے
05:26جواب انعیت فرما یہی فرمایا مفتی صاحب نے وہاں پر بھی کہ
05:29ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا کس کا حق کھایا آپ نے
05:33کس پر ظلم کیا کس پر تشدد کیا کسی کو قتل کیا
05:37کسی کو ناحق تنگ کیا کسی کی بیزتی کی بہت سارے یہ وہ
05:41چیزیں ہیں جو ہمیں سوچنی چاہیے از خود لیکن جب علماء
05:44حضرات توجہ دلاتے ہیں اس طرف تو یقینا پھر بہت سارے
05:47لوگوں کی توجہ مبزول ہوتی ہے اب ہم یہ قرآن کریم کی
05:50ظاہرہ سورہ قدر ہے اس حوالے سے مفتی صاحب نے بہت
05:53اچھے انداز میں اس کو بیان فرمایا اب ہمارے پر دوسری
05:56سور سے سب سے مضبوط قرآن کے بعد وہ حدیث رسول کریم
05:59صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے تو احادیث کی روشنی میں آج
06:02کی رات یعنی لیلت القدر کی فضیلت اور اس کی وجہ
06:05تسمیہ تو میرا خیال ہے بہت کم لوگ جانتے ہوں گے تو
06:08ظاہر اس کو بھی ہم شامل کر لیتے ہیں وجہ تسمیہ کیا ہے
06:11لیلت القدر کی اور حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ
06:14علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اس کی فضیلت
06:21اس رات کو شب قدر کہا جاتا ہے اور سورة القدر میں قدر
06:25کے الفاظ تین مرتبہ آئے ہیں قدر کے ایک معنی تو یہ ہے
06:28کہ قضاء قدر کے فیصلے سورہ دخان میں جس سے لیلہ مبارکہ
06:32کہا گیا ہے تو بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد بھی لیلت القدر
06:36ہے اور اللہ تبارک وطالعہ آئندہ سال کے تمام فیصلے اس
06:39مبارک رات کو فرشتوں کو ہینڈ اوور کر دیتا ہے اسی طریقے سے قدر
06:44کے ایک معنی یہ ہے کہ علوہ مرتبت اور شان کا اظہار ہو
06:47رہا ہے کہ اللہ تبارک وطالعہ نے اس رات میں قرآن کو
06:51نازل فرمایا اللہ تبارک وطالعہ نے نسبت فرمائی کہ ہم نے
06:54اس رات کو قرآن نازل کیا ہے تو یہ وجہ ہے اور تیسری وجہ
06:59جو مفسرین نے لکھی ہے وہ جیسے سورة الفجر میں قدر کے
07:02معنی آئے ہیں تنگی کے فرمایا گیا تو اس رات جبرائیل
07:08علیہ السلام کے ساتھ فرشتے اتنی بڑی تعداد میں عرش سے فرش
07:13پر آتے ہیں کہ جگہ تنگ پڑ جاتی ہے اور اہلِ ایمان سے
07:17عبادت کرنے والوں سے مسافہ کرتے ہیں جبرائیل علیہ السلام
07:20اور ملاقات کرتے ہیں تو ان وجوہات کی بنا پر اس رات کو
07:24شب قدر کہا جاتا ہے جہاں تک احادیث مبارکہ کی بات ہے
07:28تو حضور علیہ السلام کا ایک تو مبارک عمل کی ام المومنین
07:31فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام اپنا تہبند کس لیا کرتے تھے
07:35ان پانچ راتوں میں خصوصیت کے ساتھ آخری عشرے میں کسرت سے
07:39عبادت کرتے تھے اور وجہ اور سبب یہی تھا کہ شب قدر مل
07:43جائے یہ نعمت حاصل ہو جائے اور یہی تلقین آپ حضرات
07:46صحابہ اکرام علیہ وردوان کو کرتے تھے پھر ایک اور حدیث
07:49مبارکہ ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے ایمان اور
07:54احتساب کے ساتھ شب قدر میں عبادت کی غفرہ لہو ما تقدمہ من
07:59ذنبی تو اللہ تبارک وطالعہ اس کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے
08:03یہاں ایمان سے مراد یقین ہے اس یقین کے ساتھ کہ اگر اس
08:07رات کو عبادت کروں گا تو اللہ تبارک وطالعہ ہزار مہینوں کی
08:11عبادت کے برابر سواب اتا فرمائے گا اور احتساب کا معنی یہ
08:14ہے کہ کوئی دنیاوی خواہش نہ ہو ریاکاری نہ ہو کسی کو دکھانے
08:18کے لیے نہ ہو صرف اللہ تبارک وطالعہ کے لیے عبادت اختیار
08:21کی جائے اس کا انام کیا ہے حدیث مبارکہ میں غفرہ لہو ما تقدمہ من
08:26ذنبی کہ اللہ تبارک وطالعہ تمام صغیرہ گناہوں کو معاف فرما
08:30دیتا ہے اور بعض شارعین نے اس کے بارے میں لکھا کہ حقوق
08:34اللہ سے متعلق جو جو ہے گناہ ہیں ان کو اللہ تبارک وطالعہ
08:38معاف فرما دیتا ہے تو احادیث مبارکہ میں اس رات کی بڑی
08:42فضیرت بیان کی گئی ہے صحابہ اکرام علیہ مردوان حضور
08:45علیہ السلام کو جب عبادت میں دیکھتے کسرت کے ساتھ رکو
08:49اور سجود کرتے عبادات بجالاتے کہ اللہ تبارک وطالعہ ہمیں یہ
08:54فضیرت عطا فرما دے کہ جس طرح پچھلی امتوں میں لوگوں کی عمریں
08:58طویل ہوا کرتی تھی وہ دن میں روزے رکھتے جہاد کرتے رات میں
09:01عبادت کرتے تو اللہ تبارک وطالعہ نے نبی کریم صلی اللہ
09:05علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے یہ رات عطا فرمائی تو اس رات کی قدر
09:10کریں اور اس رات کے اندر ہم عبادت کریں تو صحابہ اکرام علیہ
09:14مردوان کا بھی یہ معمول تھا کہ کسرت سے عبادت کیا کرتے تھے
09:17تاکہ اللہ تبارک وطالعہ کو رازی کر سکیں ہمیں بھی چاہیے کہ
09:21ان تاک راتوں میں سے اب ستائیسویں شب ہمارے پاس ہے جس کا کچھ
09:24حصہ باقی ہے ہو سکتا ہے بعض ملکوں کے اندر مزید لوگوں کو
09:27وقت مل جائے تو اس رات کی قدر کریں حضرت فاروق آزم رضی اللہ
09:31تعالیٰ عنہ حضرت عبی بن قاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
09:34کہ اگر ہم قسم کھائیں تو حانس نہیں ہوں گے
09:38کہ شب قدر کو اللہ تبارک وطالعہ نے ستائیسویں شب میں رکھا ہے
09:42اور اسی طریقے سے مسلمت احمد کی روایت ہے
09:44کہ ایک ضعیف شخص حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں آئے
09:48اور آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہت کمزور ہوں
09:52ضعیف ہوں ہر رات عبادت نہیں کر پاتا مجھ میں اتنی حمد نہیں ہے
09:57آپ مجھے بس کوئی ایک رات بتا دیجئے
09:59جس کے اندر عبادت کروں تو شب قدر مل جائے
10:01امام احمد بن حنبل نے اس روایت کو نقل کیا ہے
10:04رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:06کہ تم ستائیسویں کو عبادت کرو
10:08اللہ تعالیٰ تمہیں قدر عطا فرما دے گا
10:10تو ہم خوش نصیب ہیں
10:11کہ اللہ تبارک وطالعہ نے قدر والی رات
10:15قدر والے نبی کے ذریعے
10:17قدر والی امت کو دی ہے
10:18تو ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے
10:20اور کسرت سے اس میں عبادت بزہ لانی سے
10:22قدر والی امت کو
10:23قدر والی امت کو
10:25فرمایے گا
10:26قرآن کریم ہے
10:26اچھا مفتی صاحب کی جانب بڑھنا چاہتا تھا میں
10:29اور تاکہ تفصیلا ہمیں جواب مل جائے
10:31لیکن ایک وقفہ حیل ہے
10:32وقفے کے بعد لوٹیں گے انشاءاللہ
10:34اور سوال پیش کریں گے اور جواب لیں گے
10:35ہمارے ساتھ رہیے گا
10:37جی ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے
10:39شب قدر کی فضیلت
10:41اور اس کے حوالے سے
10:43ہم بات کر رہے ہیں
10:44عظمات و فضیلت کے حوالے سے
10:45اور قبلہ مفتی صاحب جب جواب انعیت فرماتے ہیں
10:47تو سمندر کو کوزے میں
10:49بند کرنے کا فن جانتے ہیں
10:51ماشاءاللہ
10:51یہ تین چار سوالات میں
10:53وہ پیش کر رہا ہوں
10:54مفتی صاحب ایک تو یہ ہے
10:55کہ کیا یہ شب قدر جو ہے
10:57لیلت القدر جو ہے
10:58امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو
11:00کہ عطا فرمائی گئی
11:02اور اس کا عطا فرمانے میں حکمت کیا ہے
11:03دوسری بات یہ
11:04کہ شب قدر اگر مل جائے
11:06اس کی علامات کیا ہیں
11:07اس حوالے سے کوئی اشارت فرمائی گا
11:09اور کیا ایسے بھی کچھ لوگ ہیں
11:11جو اس رات سے محروم رہ جاتے ہیں
11:15بذرگان دین نے یہی فرمایا
11:16کہ یہ اس امت کا خاصہ ہے
11:17پہلے امتوں کو یہ حاصل نہیں تھا
11:19جیسے ابھی روایت بیان کی
11:21کہ پہلے زمانے میں عمر لمبی تھی
11:22بڑے بڑے عبادات کرتے تھے
11:24اور صحابے کرام نے اظہار حسرت فرمایا
11:27اور یہ دراصل
11:28اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی
11:29ایک پورا محول بنایا جاتا ہے
11:31کیونکہ ایسا تو نہیں
11:32کہ ان کے اظہار حسرت پر
11:33اللہ تعالیٰ نے کوئی ارجن فیصلہ کیا ہو
11:35فیصلے تو ازل ہی ہوئے ہیں
11:37ان کے دل میں حسرت پیدا کی
11:39انہوں نے اظہار کیا
11:40اور اللہ تعالیٰ نے کرم نوازی فرمائی
11:42تو اس امت کا خاصہ ہے
11:43اور پھر یہ رات جو ہے
11:45اس میں بعض لوگ علامات بیان کرتے ہیں
11:48جیسے حضرت نے فرمایا
11:49کچھ اکابرین نے بھی بیان فرمائی
11:50لیکن بعد اکابرین یہ کہتے ہیں
11:52کہ ان علامات کو عوام کے سامنے
11:54بڑے وسوق کے ساتھ پیش نہ کریں
11:55کیونکہ پھر وہ اسی پر تکیہ کر بیٹھیں
11:58کہ اگر ستائیس کا جیسے
11:59کوئی روایت ان کو ایسی ہے
12:00کوئی علامات ایسی ملی
12:01تو بولیں گے
12:02اب تو ستائیس مل گئی
12:03تو سب سے مظلوم تو انتیس ہے
12:05آپ دیکھیں
12:05کہ انتیس میں نہ کوئی اجتماع
12:07مسجدوں کے اندر اکثر نہیں ہوتے
12:08اور نہ لوگوں کا ذوق و شوق رہتا ہے
12:10حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:12اگر علامات ظاہر فرمانا چاہتے
12:14تو بہت آسانی سے فرما سکتے تھے
12:16آپ کو تو
12:16سب کچھ علم تھا
12:18لیکن آپ نے یہ فرمایا
12:19کہ رمضان کے آخری اشرے کی
12:21تاق راتوں میں اس کو تلاش کرو
12:22تو اس لئے علامات تلاش کرنے میں
12:24یا اکابرین نے بیان کیا
12:26تو اس پر کوئی تنقید نہیں ہے
12:27لیکن اس کو حتمی سمجھ کر
12:29باقی راتوں کو چھوڑا نہ جائے
12:30اور آخری بات یہ ہے
12:32کہ جو آپ نے فرمایا
12:33کہ اس رات میں کچھ لوگ واقعی محروم رہتے ہیں
12:35جن میں ایک تو والدین کا نافرمان
12:37جس نے بغیر کسی شرعی وجہ کے
12:39والدین کو دلازاری کی ہو
12:41ان کی نافرمانی کی ہو
12:43ایسی جو آپس میں بغیر کسی شرعی وجہ کے
12:45قطعے تعلق کر لیتے ہیں
12:47رشتے توڑ دیتے ہیں
12:48وہ چاہے تحجدیں پڑھیں
12:50چاہے اس رات میں کچھ بھی کرتے رہیں
12:51لیکن ان کے لئے بھی مغفرت کے دروازے بند ہوتے ہیں
12:54اس طرح عادی شرابی کے بارے میں کہا گیا ہے
12:57کہ اس کی بھی اس رات بخشش نہیں ہوتی ہے
12:59اسی طریقے سے جو عادی زنا کرنے والا ہے
13:03اس کی بارے میں بھی ایک روایت کے اندر موجود ہے
13:05کہ ان بڑی راتوں کے اندر
13:07اس کی بخشش و مغفرت نہیں ہوتی ہے
13:09کوشش ہی کرنے چاہیے
13:10جیسے ہماری والدہ سیدہ عاشد صدیقہ رضی اللہ تعالی
13:12فرمایا کرتی تھی
13:14کہ مومن اپنے ایک معمولی سی خطہ کو بھی پہاڑ کی طرح دیکھتا ہے
13:18اور منافق اپنی خطہ بڑی سی خطہ کو بھی ایسا سمجھتا ہے
13:22جیسے ناک پہ بیٹھی بھی مکھی
13:23اس کا مطلب یہ ہے کہ ان صرف عامال کو نہیں
13:27بلکہ ہر گناہ کو احمیت دینی چاہیے
13:29کہ ایسا نہ خدا نہ خواستہ
13:31کوئی ہم ایسی غلط حرکت کر لیں
13:32کسی کی دل آزاری کر دی
13:34کسی کے تعلق قڑوا دیا
13:35کسی اور کوئی گناہ کر دیا
13:37مسلسل کسی کو صدمہ اور رنج کے اندر مبتلا کر دیا
13:41ہو سکتا اللہ تعالی پھر اس رات کے اندر
13:42مغفرت کا دروازے بند کر دے
13:44اس لئے کامل توبہ کر کے
13:45جن کے حقوق صلب ہوئے یا تکلیف پہنچائے
13:48ان سے معافی مانگ کر
13:49پھر اللہ کی طرف رحمت کی طرف متوجہ ہوں
13:51انشاءاللہ تعالی کرم فرمائے گا
13:53اچھا ڈاکس صاحب کی جانی بڑھتے ہیں
13:55ایک تو یہ چونکہ پانچ طاق راتے ہیں
13:57جیسے کہ مفتی صاحب نے فرمایا
13:59رمضان مبارک کے آخری عشرے کی پانچ تھا
14:01اس کو مخفی کیوں رکھا گیا
14:02پہلی بات تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے
14:04کہ کیوں مخفی رکھا گیا
14:06یہ بھی ہم ڈاکس صاحب سے جاننا چاہیں گے
14:07اور دوسری بات یہ بھی جاننا چاہیں گے
14:09کہ کس طرح پایا جا سکتا ہے اس رات کو
14:13وہ کون سے آمال و فالیں
14:14دیکھیں مفسرین نے لکھا ہے
14:17کہ اللہ تعالی نے اس رات کو مخفی رکھا ہے
14:20اس کی بہت سی حکمتیں ہیں
14:21جیسے کہ اللہ تعالی نے اپنی رضا کو
14:24اطاعت میں مخفی رکھا
14:25اور اپنی ناراضگی کو معصیت میں مخفی رکھا
14:28اسی طریقے سے اللہ تعالی نے
14:30کئی چیزوں کو مخفی رکھا ہے
14:32اس کا ایک سبب یہ ہے
14:34کہ انسان اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے
14:36زیادہ کوشش کرے گا
14:38زیادہ محنت کرے گا
14:39نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:41حجرہ مبارکہ سے باہر نکلے
14:43باہر تشریف لائے
14:44اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:46نے اس رات کے تعین
14:48ایک ہی رات کا بتانے کا ارادہ فرمایا
14:50لیکن دیکھا کہ دو لوگ
14:52آپس میں جھگڑ رہے تھے
14:53تو اس واقعے سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے
14:55کہ اللہ تعالی جھگڑے کی وجہ سے
14:57اپنی رحمت اٹھا لیتا ہے
14:58اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:01نے صحابہ کو فرمایا
15:02کہ تم تاک راتوں میں اسے تلاش کرو
15:04تاکہ اکیس تیس پچیس ستائیس انتیس
15:07کو وہ خوب محنت کریں
15:08اسی طریقے سے
15:09ایک ہمیں واقعہ ملتا ہے
15:11اسی کے زیل میں
15:12سورہ قدر کے زیل میں ملتا ہے
15:13کہ ایک مرتبہ حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:15مزید نبی شریف میں داخل ہوئے
15:17حضرت علی کرم اللہ وآلہ وسلم بھی ساتھ تھے
15:20ایک شخص سویا ہوا تھا
15:21تو حضرت علی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:30نے حکم دیا
15:34خود نہیں فرمایا
15:35آپ نے مجھے کہا
15:35تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:39حکمت دیکھئے آپ
15:40کہ بساوقات انسان نیند میں ہوتا ہے
15:41وہ اٹھانے پر
15:43اپنی کیفیت میں کچھ بھی کہہ سکتا ہے
15:45بول سکتا ہے
15:46سستی کا شکار ہو سکتا ہے
15:48تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:50کہ تم نے اٹھایا
15:52اگر تمہیں یہ منع کرتا
15:53تو اس کا جرم حلکہ ہوتا
15:55تو مفہوم مخالف سے اندازہ لگا لیجئے
15:57تو اس طرح اس لیے
15:59اسے جو ہے پوشیدہ رکھا ہے
16:01کہ اگر ایک رات بتا دی جاتی
16:03اور کوئی اپنی شومی قسمت کی وجہ سے
16:05اس کے اندر بھی عبادت نہ کر پاتا
16:08آپ اندازہ لگائی ہے
16:09اللہ تبارک وآلہ
16:11کی بارگاہ سے وہ محروم لکھا جاتا
16:13تو یہ ہے
16:14حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں
16:17کہ میں نے حضور علیہ السلام سے پوچھا
16:19کہ اگر میں اس رات کو پالوں
16:21تو اللہ سے کیا دعا کروں
16:22تو حضور علیہ السلام نے فرمایا
16:24کہ یہ دعا کرو
16:25اللہم انکا افوون کریم
16:27تحب العفو فافوانا
16:29معافی کی طلبگار
16:31معافی کی درخواست کرو
16:32اللہ کی بارگاہ میں
16:32اور اگر اس رات کو آمال جو کرنے ہیں
16:36تو کوشش کی جائے
16:37کہ مختلف قسم کے آمال بجا لائیں
16:39جیسے کہ ایک تو صلاة تراوی ہو گئی
16:41اس کے بعد کچھ آرام کر لیا
16:42قرآن مجید فرقان حمید کو پڑھ لیا
16:44اس کی تلاوت کر لی
16:45کچھ حصے کچھ سمجھ لیا
16:47پھر درود پاک پڑھ لی
16:48اس سے خفار پڑھ لی
16:49اسی طریقے سے صلاة تصویح ادا کر لی
16:52تو مختلف رات کے حصوں کو بانٹ لیں
16:54جتنا بھی آپ کے پاس وقت ہے
16:55ایک ہی عمل اختیار کریں گے
16:57تو اس سے بسا اوقات
16:59عبادت میں دل نہیں لگتا
17:00تو مختلف قسم کی عبادات کو اختیار کریں گے
17:03تو اس سے یہ ہوگا
17:04کہ اچھے انداز سے عبادات بجا لائیں گے
17:07اور بس وہی حدیث جو میں نے پہلے
17:09آپ کے سامنے ذکر کی تھی
17:10ایمان اور احتساب
17:11ان دونوں باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں
17:13کہ ہم نے جو کرنا ہے
17:15اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے
17:17وہی ہمیں بدلہ دے گا
17:18عبادات ہوں
17:19معاملات ہوں
17:20اللہ تبارک وطالعہ کے احکامات
17:22اور اس کی رضا کو
17:23سامنے رکھتے ہوئے
17:25بجا لائیں
17:26تاکہ اللہ تبارک وطالعہ کی بارگاہ سے
17:28ہمیں مقبولیت حاصل ہوسے
17:29کیا کہنا ہے
17:30ڈاک صاحب نے جواب مکمل فرمایا
17:31مفتی صاحب نے جو گزشتہ جواب
17:33انعیت فرمایا
17:33اسی جواب سے ایک سوال کشید کرتا ہے
17:36مفتی صاحب کی خدمت پیش کرنا چاہوں گا
17:37مفتی صاحب نے فرمایا
17:38انتیس میں یہ بڑی مظلوم شب ہے
17:40اس کے حوالے سے بھی کچھ روشی ڈالیں
17:42کہ اس پر کیا کرنا چاہیے
17:43اور ایک لیلت الجائزہ بھی کہا جاتا ہے رات کو
17:45تو میں چاہتا ہوں اس پر بھی کچھ کلام فرمائے گا
17:47لیلت الجائزہ جائزہ انعام کو کہتے ہیں
17:50تو لیلت الجائزہ معنی انعام کی رات
17:52یہ چاند رات جس کو ہم کہتے ہیں وہ ہوتی ہے
17:55اور اس میں سارے سارے پورے مہینے جو آدمی عبادات کرتے ہیں
17:59تو کہا جاتا ہے بعض روایات کے مطابق
18:03ہر افطار کے وقت چھے لاکھ لوگوں کو
18:05جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے
18:07اور آخری جب آتا ہے
18:09تو پورے مہینے کی تعداد کے برابر
18:11لوگ جہنم سے آزاد کی جاتا ہے
18:13اور بزید انامات بھی ہوتے ہیں
18:14اس لیلت الجائزہ کہتے ہیں
18:16اور متوقع شبے قدر بھی ہو سکتی ہے
18:19لہذا چونکہ ہمارے ہاں
18:20محول ایسا ہے جیسے اب رمضان آتا ہے
18:23تو آپ دیکھیں مسجدیں بھر جاتی ہیں
18:25جو اس کے کیفیت بدلتی ہے
18:26اسی طریقے سے انہی کیفیات کے تابع ہو کر
18:29آخری دنوں میں مسجدیں خالی ہو جاتی ہیں
18:31کیونکہ وہ ذوق شوق اتنا رہتا نہیں ہے
18:33تو یہ ایک مومن کو
18:36اپنی عبادات کی بنیاد
18:38اپنے ذوق اپنے شوق
18:39کیفیات یا اطراف کے محول پہ نہیں رکھنی چاہیے
18:42بلکہ صرف تعلیم شرع پر
18:44عزاج شرع
18:45شریعت کا مطالبات کیا ہیں
18:47جب وہ یہاں بٹھا لے گا
18:48اپنے ذہن کے اندر
18:49پوری قوم ایک طرف ہوگی
18:50وہ اکیلہ بھی اگر مسجد میں ہوا
18:52تو اس کا ذوق کب نہیں ہوگا
18:53اسی اس کے ضرورت ہے
18:56کہ اللہ تبارک و تعالی
18:57اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:59جو چاہتے ہیں
19:00میں اس طریقے سے وقت گزارنا چاہیے
19:02تو اس لئے میں گزارش کروں گا
19:03سب سے
19:04اور خاص طور پر اپنی بہنوں سے
19:06کہ یہ بہنیں جو ہیں
19:07انتیس میں شہر کو جاگنے نہیں دیتی
19:10سوری جاگنے دیتی ہیں
19:11لیکن مسجد میں نہیں جاگنے دیتی ہیں
19:13بازار میں
19:13بازار میں چلو
19:15وہ شاپنگ سینٹر کی رات ہوتی ہے
19:17جس میں شہر بچارہ کہتا ہے
19:19کہ اب تم وہاں پہ چلو
19:20اور میں سائیڈ میں کھڑو
19:22کہ دور دے پاک پڑھ لوں گا
19:23تو یہ صحیح طریقہ نہیں ہوتا
19:25پہلے شاپنگ کر لیں
19:26دن میں کر لیں
19:27اس رات کو بہرحال عبادت میں
19:29صرف کرنا چاہیے
19:29یہ بہت قیمتی کلمہات ہیں
19:31مفتی صاحب نے جو رشاد فرمائے
19:32اور اس پہ ہمیں غور کرنا چاہیے
19:34داکس صاحب
19:34کیا پیغام دیجئے گا
19:35ہمارے ہاں ویرنس
19:36اتنی نظر نہیں آتی
19:38یعنی کہ شب برات ہو تو
19:39پٹاخے چلانے میں
19:41آتش بازی میں لوگ گزار دیتے ہیں
19:42اب یہ ماہ رمضان مبارک ہے
19:44آج بھی
19:45کوئی ہوتل خالی نظر نہیں آئے گا
19:46آپ کو چاہے گا
19:47کوئی بھی دھابا
19:48کوئی ایسی چیز
19:49تو آج کی رات کے حوالے سے
19:50اویرنس پیدا کرنے کے لیے
19:52کیا کرنا چاہیے والدین کو
19:54علماء حضرات تو
19:55اپنی ذمہ داری مہرہ
19:56وہ ممبر سپوری کر رہے ہیں
19:57کیا کہیے گا
19:57بلکل اصل میں بات یہ ہے
19:59کہ ہم کچھ عرصے پہلے ہی کہتے ہیں
20:00ماہ رمضان آ رہا ہے
20:01آ رہا ہے
20:02اور اب تیزی سے گزر رہا ہے
20:03بہت تیزی سے
20:03ان لمحوں کو ہمیں سمجھیں
20:06کہ یادگار بنانا ہے
20:07اللہ تبارک و تعالی کی
20:08رضا کے کام کرنے چاہیے
20:10تو یہ جو لوگ باہر ہیں
20:11دراصل میں یہ سمجھتا ہوں
20:13کہ جانتے یہ بھی ہیں
20:14کہ اس رات کی اہمیت کتنی ہے
20:15بس وہ باز وقت کمپنی
20:17اور دوست احباب
20:18جیسے اکثر
20:20کرکٹ کھیلنے لگ جاتے ہیں
20:21اس رات کے اندر
20:22تو کبھی ہوتل میں بیٹھے ہیں
20:23تو سہری کہیں دور پر جا کرنی ہے
20:25تو یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے
20:27تو توجہ ہونی چاہیے
20:28اس بات پر
20:28کہ اللہ تبارک و تعالی نے
20:30یہ قیمتی تحفہ ہمیں دیا ہے
20:32یہ ماہ رمضان ہیں
20:33مبارک ساتھیں ہیں
20:34اب چند دن رہ گئے ہیں
20:35تو ان دنوں کے اندر
20:37زیادہ سے زیادہ عبادات بجا لائیں
20:39اللہ تبارک و تعالی کی
20:40رضا والے کام کریں
20:49ان سزاؤں کی طرف دیکھیں
20:50کہ رسول اللہ علیہ السلام کی
20:51حدیث مبارکہ
20:52بہت مشہور ہے
20:53کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:55نے ممبر پر قدم رکھ کر
20:56تین مرتبہ جب آمین فرمایا تھا
20:58تو ایک آمین کا نتیجہ یہ تھا
21:00کہ آپ فرماتے ہیں
21:01کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے
21:02ارز کی
21:03کہ کوئی رمضان کا مہینہ پائے
21:05اور اپنی مغفرت نہ کرا سکے
21:07تو وہ تباہ و برباد ہو جائے
21:08اندازہ لگائیں
21:09جبریلِ امین فرشتوں کے سردار
21:11دعا کرنے والے ہیں
21:12اور امام الانبیاء نے آمین کرا ہے
21:14اور اس سے یہ بھی اندازہ لگائیں
21:15کہ اللہ تبارک وطالعہ
21:17مغفرت کے پروانے جاری فرما رہا ہے
21:18اللہ کو نجات مل رہی ہے
21:20مغفرت حاصل ہو رہی ہے
21:22ایسے موقع پر بھی
21:23اگر کوئی شخص محروم رہ جائے
21:25تو یقیناً یہ بہت بڑی محرومی ہے
21:27اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا چاہیے
21:29گناہوں پر توبہ کرنی چاہیے
21:31اور ان سعاتوں میں
21:32اللہ تبارک وطالعہ کی عبادت کر کے
21:34اسے راضی کرنا چاہیے
21:35ان لوگوں کو دیکھیں
21:36جو پسل سال رمضان میں تھے
21:38اور اب نہیں ہیں
21:38یہ ذرا خیال کریں
21:40کہ ہو سکتا ہے
21:41کہ ہمیں بھی آئندہ سال
21:42یہ مبارک مہینہ نہ ملے
21:44تو اگر
21:45اکل مند شخص اسے کہتے ہیں
21:47کہ اگر کہیں سیل لگ جائے
21:48تو وہ سیل میں
21:49چیزیں خریدنے کے لئے سلہ آتا ہے
21:51کہ چلو دو روپے کا فائدہ ہو جائے گا
21:53تو ماہ رمضان کے دیکھیں
21:54کہ اس میں
21:55نیکیوں کی لوٹ سے لگی ہوئی ہے
21:57نیکیاں خوب کریں
21:58خوب کریں
21:59اللہ تبارک وطالعہ
22:00نفل کا ثواب فرضوں کے برابر
22:02اور فرضوں کا ستر فرضوں کے برابر
22:03دے رہا ہے
22:04تو انسان محروم نہ رہ جائے
22:06کسرت سے عبادت کرنے کی کوشش کریں
22:07عید کے بعد کے دن بھی
22:09انشاءاللہ اللہ تعالیٰ نے
22:10موقع صحت دیا
22:12تو مل جائیں گے
22:12تو ان کے اندر دیگر ایکٹیویٹیز کر لیں
22:14اور اب بقیہ دنوں کو
22:16عبادت کے لیے مختصت
22:17کیا کہنا ہے
22:17بلا شبہ یہ نیکیوں کا مہینہ ہے
22:19نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے
22:20ویسے تو زندگی کا ہر لمحہ ہی ہے
22:22لیکن ماہ رمضان البارک
22:24اچھا مف صاحب
22:24چلیں اب یہاں تک پہنچ گئے
22:26لوگوں نے کہا
22:27اچھا بھئی ہم نے فضیلت بھی سمجھ لی
22:28ہم سے تو بہت گناہ ہو گئے
22:32اب یہ
22:32ہیہ حتی مطلعہ الفرج
22:34جیسے کہ آپ نے فرمایا
22:35کہ یہ
22:35تلوے صبح تک سلامتی کی رات ہے
22:37تو کیا
22:38اس وقت کیا کر لیں
22:40چونکہ ہم یہ بھی نہیں کہتے ہیں
22:41حتمی طور پر
22:41کہ آج ہی لیلت القدر ہے
22:42ممکنہ طور پر لیلت القدر ہے
22:44تو میں چاہتا ہوں
22:45اس حوالے سے
22:46پیغام ارشاد فرمائی گا
22:47بس یہی ہے
22:48کہ وقت کی قدر کریں
22:49اور اس کو
22:50ایسے کام میں استعمال کریں
22:52کہ کم از کم آخرت میں
22:53شرمندگی ندامت نہ ہو
22:55اس لئے
22:55علماء نے فرمایا
22:56کہ عبادت کرو
22:57اور نہ کر سکو
22:58تو سو جاؤ
22:59کہ کم از کم
23:00گناہ تو نہ کرے آدمی
23:01فضول تو
23:01ٹائم زائع نہ کرے
23:02اگر کوئی عیشہ
23:04اور فجر جماعت سے پڑھ لے
23:05تو اسے پوری رات کی
23:06عبادت کا ثواب ملتا ہے
23:07بعد بدگر نے فرمایا
23:08کم از کم یہ تو کر لے آدمی
23:09تو اس لئے
23:10کوشش ہی کرنی چاہیے
23:11حتی الامکان
23:12کہ جو علمہیں رہ گئے ہیں
23:13وہ اگر تھوڑا بہت
23:15ادھر ادھر کئی چلے بھی گئے ہیں
23:16تو اپنے واپس آئیں
23:17اپنے گھر پر پہنچیں
23:18مسجد میں پہنچیں
23:19اور اپنی عبادت کو
23:20کنٹینیو کریں
23:21ماشاءاللہ
23:21خوبصورت انداز
23:23اور خوبصورت الفاظ میں
23:24مفتی صاحب نے
23:25جوابت انعاش فرمائے
23:26ناظرین محترم
23:27یہ وہ کلمات ہیں
23:28جو محرابی ممبر سے
23:29پیش کی جاتے ہیں
23:30لیکن ایک میلان ہوتا ہے
23:31دل کا
23:32ایک پسندیدہ شخصیت ہوتی ہے
23:33اور ان سے کچھ سن کر
23:35بہت کچھ
23:36ہمارے قلوب و ذہان میں
23:37محفوظ ہو جائے کرتا ہے
23:38تو اس اعتبار سے
23:39مفتی صاحب کو
23:40اور دیگر ہم
23:41سکولرز کو موقع دیتے ہیں
23:42اور بلکہ
23:43ان سے ہم
23:44فیض و برکات حاصل کرتے ہیں
23:46علم کے حوالے سے
23:47ڈاکس صاحب آپ کی آمد
23:48کا بھی بہت شکریہ دعا کروں
23:49آپ تشریف لائے
23:49اور بہت مندہ کلمات
23:50ارشاد فرمائے
23:51ناظرین مہترم
23:51ایک مختصر سا وقفہ ہے
23:53وقف کے بعد لوٹتے ہیں
23:54مجھے امید ہے
23:55آپ کا اور ہمارا ساتھ رہے گا
23:56ملتے ہیں وقف کے بعد
23:57رحمتوں کا مہینہ
24:02عظمتوں کا سفینہ
24:04زندگی کا قرینہ
24:07روح مکہ مدینہ
24:10آدمی کو بناتا ہے
24:13یہ انسان
Comments

Recommended