Sultan-ul-Ashiqeen | Masjid-e-Zahra | 23 Ramadan | Laylatul Qadr 2026 | Special Broadcast
Speaker: Professor Sultan Hafiz Hammad-ur-Rehman
Venue: Masjid-e-Zahra, via Rangilpur Sharif Sundar Adda Multan Road, Lahore.
#sultanulashiqeen #masjidezahra #lastashra #ramadan #specialtransmission #shabeqadr #laylatulqadr #شب_قدر #لیلۃ_القدر
Speaker: Professor Sultan Hafiz Hammad-ur-Rehman
Venue: Masjid-e-Zahra, via Rangilpur Sharif Sundar Adda Multan Road, Lahore.
#sultanulashiqeen #masjidezahra #lastashra #ramadan #specialtransmission #shabeqadr #laylatulqadr #شب_قدر #لیلۃ_القدر
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:03حاضرین ناظرین اور سامین
00:05السلام علیکم
00:07آج مسجد زہرہ اور خانقہ سلطان العاشقین
00:12جو کہ گاؤں رنگیل پر شریف
00:16براستہ سندر اڈا
00:18ملتان روڑ لہور میں واقع ہے
00:20اور اس مرکز فقر سے
00:23میں آج لیلت القدر کی مناسبت سے
00:26چونکہ آج 23 رمضان المبارک کی رات ہے
00:30اور یہ آقا پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:34کہ آخری تاک راتوں میں سے
00:35کوئی رات بھی دہلت القدر ہو سکتی ہے
00:37تو اس حوالے سے آج ہم گفتگو کریں گے
00:41قرآن پاک میں ایک پوری صورت
00:43اس حوالے سے نازل ہوئی ہے
00:45اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
00:49اِنَّا اَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
00:52بے شک
00:54اِنَّا بے شک
00:57اَنزَلْنَاهُ
00:58ہم نے نازل کیا
00:59اسے
01:01فی میں لیلت القدر
01:04لیلت القدر میں
01:09وَمَا عَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
01:13اور تمہیں کیا عَدْرَاكَ
01:15یعنی تمہیں کیا پتا
01:16کہ مَا لیلت القدر
01:18کہ لیلت القدر کیا ہے
01:22لیلت القدر خیر من الف شہر
01:25یہ جو لیلت القدر ہے
01:27یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے
01:31تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَرْرُوحِ
01:34تَنَزَّلُ الْإِسْمِ نازل ہوتے ہیں
01:38اَلْمَلَائِكَةُ وَرْرُوحِ
01:42فِيهَا بِعِذْنِ رَبِّهِمْ
01:44فِيهَا اس میں بِعِذْنِ رَبِّهِمْ
01:46اپنے
01:47اللہ کے رب کے ازن سے
01:49مِنْ كُلْ اَمْرِ
01:51ہر کام کے لیے
01:54سَلَامُنْ هِيَحَتَّى مَتْلَعِ الْفَجْرِ
01:57اور یہ سلامتی ہے
01:58صبح مَتلعِ الْفَجْرِ
02:00جب تک فجر کا مطلع تلو نہیں ہو جاتا
02:05یہ تو تھا جو
02:08علماء نے اس کا ترجمہ کیا
02:10اور اس کو بیان کیا لیلت القدر کو
02:13لیکن فقراء کے نزدیک
02:18اس سے مراد
02:21اس قدر کا مغز ہے جو آپ بیان کرتے ہیں
02:24جس طرح کائنات میں مجود
02:26ہر چیز کا ظاہر اور باطن ہے
02:30بلکل اسی طرح
02:32یہ لیلت القدر کا بھی ایک ظاہر
02:35اور ایک اس کا باطن ہے
02:39قدر کو سمجھنے کے لیے
02:41جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے
02:44وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے
02:46ہم اپنے آپ کو سمجھیں
02:51کہ میں کون ہوں
02:54مجھے اللہ تعالیٰ نے کیوں پیدا کیا ہے
02:56میرا پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے
02:59مجھے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کیوں بھیج ہے
03:03ان تمام باتوں کا جواب جب ہم جان لیتے ہیں
03:05یعنی جب ہمیں عرفان نفس حاصل ہو جاتا ہے
03:08تب جا کے
03:09اس کا صورت القدر کا
03:11جو باطن ہے وہ ہم پہ کھلتا ہے
03:16اس لیے پہلے ہم جانیں گے
03:18کہ عرفان نفس
03:19کیا ہے
03:22جب سے انسان نے
03:25اس سیارہ زمین پر قدم رکھا ہے
03:28اس وقت سے
03:30اس کے ذہن میں
03:32ایک ہی سوال
03:33بار بار گردش کرتا ہے
03:35وہ کیا ہیں وہ سوالات
03:37وہ چند سوال کیا ہیں
03:38وہ یہ ہیں
03:39کہ پہلا سوال ہے کہ میں کون ہوں
03:44میری ابتدا کیا ہے
03:48اور میری انتہا کیا ہوگی
03:52میرا جو یہ ظاہر نظر آ رہا ہے
03:54کہ یہی میری حقیقت ہے
03:55یا میری حقیقت کچھ اور ہے
03:58میری پہچان یہی ہے
03:59جو میں نظر آتا ہوں
04:01یا میری پہچان کچھ اور ہے
04:04اگر مجھے تخلیق کرنے والا خالق کوئی ہے
04:07مجھے کسی نے بنایا ہے
04:09تو وہ کون سی ذات ہے
04:11جس نے مجھے تخلیق کیا ہے
04:12اور اس کی پہچان کیا ہے
04:14میری پہچان کیا یہ بھی سوال
04:16اور جس نے مجھے بنایا
04:18کس مقصد کے لیے بنایا
04:19اور اس کی پہچان کیا ہے
04:21دونوں کی پہچان
04:23اور مجھے جو یہ زندگی عطا کی ہے
04:26یعنی جب میں پیدا ہوا
04:28اس وقت سے لے کے
04:29جب تک کے لیے میرا آخری سانس چلنا ہے
04:33جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
04:37کہ ہر نفس پہ موتا نہیں ہے
04:39کل نفس زائقت الموت
04:42ہر نفس نے موت کا زائقہ چکھنا ہے
04:44تو پھر جو دیوریشن ہے
04:46میرے پیدا ہونے سے لے کے
04:47میرے مرنے کے درمیان
04:49اس کا مقصد کیا ہے
04:51اس میں میں نے کیا کرنا ہے
04:54کیا میرے میں
04:55اور کسی عام جانور میں
04:56کوئی فرق ہے
04:59جیسے ایک جانور پیدا ہوا
05:00میں بھی ویسے پیدا ہوا
05:02جیسے اسے بھوک لگی
05:03مجھے بھی بھوک لگی
05:04اس پہ شہوت نے غلبہ کیا
05:06میرے پہ بھی شہوت نے غلبہ کیا
05:08اس نے آگے بچے پیدا کیے
05:10ہم نے بھی بچے پیدا کیے
05:12پھر اس نے اپنے بچوں کا پالنے میں لگ گیا
05:15جانور
05:16انسان بھی پالنے میں لگ گیا
05:18تو پھر انسان اور جانور میں فرق کیا ہے
05:20ایک وقت آیا کہ جانور بھی مار گیا
05:22مٹی میں مٹی ہو گیا
05:23انسان بھی مٹی میں مٹی ہو جاتا ہے
05:26تو انسان میں اور جانور میں
05:28پھر مین فرق کیا ہے
05:32ان جوابات کی تلاش کے لیے
05:35انسان نے جب بھی کوشش کی
05:36یا کہ مجھے اس کا جواب ملے
05:38تو اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کی ہے
05:41وہ انسان جس دور میں بھی ظاہر ہوا ہے
05:45اسی دور میں اس کی رہنمائی کے لیے
05:48اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بھیجے
05:51جو انسانوں کو ان کے ان سوالات کا جواب دیتے ہیں
05:56حتیٰ کہ وہ زمانہ آ پہنچا
05:59جب روح زمین کے انسان
06:01ایک دوسرے کے اتنے قریب آگے
06:04کہ دنیا کے ایک سیرے پر بیٹھا ہوا انسان
06:07دنیا کے دوسرے سیرے پر بیٹھے ہوئے انسان سے
06:10باخبر رہنے لگا
06:13ایسے وقت میں
06:14اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب
06:17باعث تخلیق کائنات
06:19خاتم النبی جین
06:21حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:24کو مبعوث فرما کر
06:25بنی نوئے انسان پر
06:27اپنی رہنمائی کی حجت تمام کر دی
06:32آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:34پوری نسل انسانی کے لیے
06:36تا قیامت
06:37حادی ہیں
06:39انسانوں کے ہدایت کے لیے
06:43اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے
06:46آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:47کے وسیلے سے
06:48قرآن مجید کی صورت میں
06:50ایک مکمل ذابطہ حیات عطا ہوا ہے
06:55ایک مکمل سلیبس دے دیا گیا ہے
06:57کہ آپ نے اس کے مطابق
06:58اپنی
06:59لائف کو گزارنا ہے
07:01آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:02اس کے بارے میں
07:03اشاد فرماتے ہیں
07:05کہ وما ینتکو ان الہوا
07:08یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:11اپنی خواہص سے
07:12بات نہیں کرتے
07:14یہ اللہ تعالیٰ
07:15آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:15کے بارے میں
07:16فرما رہا ہے
07:17اور
07:18یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:19کیpak
07:20مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ وحی الہی ہی کی ایک صورت ہے لہذا
07:26قرآن مجید کے ساتھ ساتھ جو احادیثِ قدسی اور احادیثِ نبی
07:31صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں یہ ذابطہ حیات قیامت تک کے
07:36لیے اس کو سیف کر دیا کہ محفوظ کر دیا گیا کہ جب بھی کہ وہ آئے
07:41جس خوش قسمت نے ذابطہ حیات سے رجوع کر لیا جس نے ذابطہ حیات
07:48سے اپنا تعلق قائم کر لیا اسے رہنمائی ملی اور اس نے اپنا
07:52مقشدِ حیات حاصل کر لیا اللہ تعالیٰ ان سوان کی تخلیق کا مقشد
07:59اس حدیثِ قدسی میں بیان کرتا ہے کہ کنتو کنزن مخفین کہ میں ایک
08:05چھپا ہوا خزانہ تھا فآہ بابتو میں نے چاہا ان او رفا کہ میں پیش
08:11چانا جاؤں فخلقت الخلق تو میں نے اس مقشد کے لیے مخلوق کو پیدا کیا
08:17اس حدیثِ قدسی سے یہ بات تو کلیر ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ
08:21نے انسان کو کیوں پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دے رہا ہے
08:25کہ میں نے انسان کو اپنی پیشچان اور معرفت کے لیے پیدا کیا ہے
08:31اب ایک اور سوال جہاں پہ جنم لیتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی
08:36پیشچان کیسے حاصل ہوگی تو اللہ کی پیشچان کا طریقہ بھی حدیث شریف میں
08:44آقا پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا
08:46آپ فرماتے ہیں من عرف نفسہو فقد عرف ربہو جس نے اپنے نفس کو پیشچان لیا
08:53اس نے اپنے رب کو پیشچان لیا
08:57پھر ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا روحِ قدسی میں
09:04یعنی انسان میرا راز ہے وانا سی رو اور میں انسان کا راز ہوں
09:14اس پر تھوڑا سے اس کو مزید ایکسپلین کرتے ہیں
09:19کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو تخلیق کر لیا
09:25تو اللہ تعالیٰ نے روحِ قدسی سے تمام ارواح کو تخلیق کیا
09:31اور ان تمام ارواح سے سوال پوچھا
09:34سورة العراف قرآن فاق میں ہے
09:38بتاؤ تمہارا رب کون ہے
09:40تمہیں پالنے والا کون ہے
09:43رب کیا ہے پالنے والا
09:46ایک صفت ہے اللہ تعالیٰ کی
09:48جو کہ باپ کو بھی اتا کی گئی ہے
09:52ٹھیک ہے جو کسی کمبے کا سربراہ ہے
09:54اسے بھی یہ اتا کی گئی ہے
09:57اب وہاں پہ جب ارواح ہے یہ جسم نہیں ہے
10:00روحِ قدسی سے تمام ارواح کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کر لیا
10:03صرف بست آگے کھڑی ہوگی ساری
10:04اس میں انبیاء صدقین شہداء صالحین
10:08اور یہ ساری ارواح
10:10حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تخلیق ہوئیں
10:12روحِ قدسی سے ساری آگے تخلیق ہوئیں ہیں
10:15اور پھر تمام ارواح سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا
10:18اللہ اسے برربی کم بتاؤ تمہیں پالنے والا کون ہے
10:21اب یہ جو پالنے والا تھا
10:22اس وقت تو نہ پلنے کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے
10:25نہ کھانے کی ضرورت ہے روحوں کو
10:27ارواح کی بات ہو رہی ہے
10:28نہ وہاں پہ انہیں کسی دشتے داری کی ضرورت ہے
10:32نہ انہیں کسی تعلق کی ضرورت ہے
10:33تو پھر وہ کس پہ پل رہی تھی ارواح
10:36اس وقت تمام ارواح جو انسی ہیں
10:39وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے جلووں پر پل رہی تھی
10:42یعنی کہ روح کی خوراک جو انسی ہے
10:44وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے
10:48اور جب یہ دیدار عطا ہوتا ہے
10:53جب یہ دیدار عطا ہوتا ہے
10:56اور پھر اللہ تعالیٰ کیا فرمازتا ہے
10:58وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْسِرُونَ
11:01کہ میں تمہارے نفسوں میں مجود ہوں
11:03لیکن کیا تم غور سے نہیں دیکھتے
11:06میں تمہارے اندر مجود ہوں
11:08پھر فرمایا
11:09وَنَا نُوَا قِرَبُوا إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
11:11میں تو تمہاری شارق سے بھی زیادہ نزدیک ہو
11:14پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
11:16اَفَرَيْتَ مِنِتَّخَذَهُ
11:17الَحَوَا
11:19کہ آپ نے ایسے شخص کو دیکھا
11:20جس نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا الہ بنا رکھا ہے
11:24خواہشات نفس
11:26دشتے ناتے دوستیاں کاروبار
11:29زمین جائدادیں مال ڈنگر
11:31یہ تمام چیزیں
11:33نفس کی سارے الہ ہیں
11:34جن کے بارے میں ہمارا نفس سارا دن سوچ دا رہتا ہے
11:38پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
11:40اَاوَلَمْ يَتَفَقْقْرُو فِيَا نَفُسِمْ
11:42کیا وہ اپنے اندر غور نہیں کرتے
11:45پھر اللہ فرماتا ہے حدیثِ قُدسی میں
11:47لا يَسْعُنِي
11:48اَرْزِ
11:49نَا مَنَ زمینوں میں سما سکتا ہوں
11:52وَلَا سَمَائِ
11:53نَا مَا سَمَائِ سَمَائِ سَمَائِ سَمَائِ سَمَائِ سَمْتَا ہُو
11:55ہاں
11:56وَلَا کیا جا سُنِي
11:57اگر میں سما سکتا ہوں
11:58رہ سکتا ہوں
11:59فِي قَلْبِ عَبْدِ الْمُؤْمِن
12:03مُؤْمِن کے
12:03دل میں میں پایا جاتا ہوں
12:05اس لیے کہا گیا
12:07اِنَّمَ الْاَعْمَالُ بِنْنِيَاد
12:09کے اعمال کا دارو مدان نیتوں پر ہے
12:11اور ایک اور حدیث مبارکہ ہے
12:13مسلم شریف کے جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے
12:15اِنَّ اللَّهَ لَا يَنظُرُ إِلٰى صُوعِرِكُمْ
12:18کہ اللہ تعالی
12:19اِنَّ اللَّهَ بِشَكِ اللَّهَ لَا يَنظُرُ
12:22نہیں دیکھتا
12:23الَا صُوعِرِكُمْ
12:24تمہاری صورتوں کو
12:25کہ تمہارے رنگ کیسا ہے
12:29تمہارا چیرہ کیسا ہے
12:30تمہارے خد و خال کیسا ہے
12:31اللہ کچھ کیا کرتا ہے
12:32کچھ نہیں دیکھتا اللہ
12:34ہاں
12:35اگر دیکھتا ہے
12:36الہ اعمالکم
12:38اور نہ وہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے
12:40بلا کی انظرو اگر دیکھتا ہے
12:42الہ قلوبکم و نیاتکم
12:45تمہارے قلوب کو اور تمہاری نیتوں کو
12:47اللہ تعالی جونس ہے وہ دیکھتا ہے
12:51اس لئے فرمایا
12:52قلب المؤمنی عرش اللہ تعالی
12:55کہ مؤمن کا جو قلب ہے
12:56وہ اللہ تعالی کا عرش ہے
13:02اب جس وقت انسان کو
13:05یہ اپنی پہچان حاصل ہوتی ہے
13:07یہ اپنی پہچان نصیب ہوتی ہے
13:11جس لمحے
13:12وہی لمحہ اس کے لئے قدر ہے
13:16اِنَّا
13:16اَنزَلْنَاهُ
13:18بے شک ہم نے اسے نازل کیا
13:20فی می
13:21لیلت القدر
13:23لیلت القدر میں
13:24کس کو نازل کیا
13:27جہاں بھی بات ہو رہی ہے
13:28جب طالب
13:30اللہ تعالی کی طلب میں نکلتا ہے
13:33اور کسی تقدیر اسے
13:35کسی مرشد کامل اکمل
13:37جامع نور الحدا کی بارگاہ میں لے جاتی ہے
13:39تو پھر وہاں پہ کیا ہوتا ہے
13:41مرشد کی نظر سے
13:43اس کا تذکیہ نفس ہوتا ہے
13:45یعنی اس کا نفس
13:46امارہ سے لوامہ
13:47لوامہ سے ملہیمہ
13:48اور پھر
13:49مطمئنہ ہو جاتا ہے
13:50لیکن ساتھ ہی ساتھ
13:52انسان کو اللہ نے بیجھے تھا
13:53پہچان اور معرفت کے لئے
13:57پہلے سب سے پہلے جو حدیث مبارکہ
13:59میں نے تلاوت کی
14:03اس کو بھی ہم تھوڑ تھوڑا ساتھ لے کے چلتے
14:04قدر کو سمجھنے کے لئے
14:10یہاں حبیت کا مقام ہے
14:25یہ چھے ہیں
14:26ان کو بولتے ہیں تنزلات ستہ
14:29ٹھیک ہے
14:30ان میں ہر مقام پہ جائے
14:32جب انسان پہنچتا ہے
14:33تو اس کے اوپر روح کا
14:34اللہ تعالیٰ ایک پردہ ڈالتا جاتا ہے
14:37حقیقت میں انسان کی روح جو انسی ہے
14:39وہ روحِ قدسی سے تخلیق کی گئی ہے
14:41اور پھر
14:42جب اسے ملکوت
14:44جبروت ملکوت اور نسوت میں اتارا جاتا ہے
14:47تو وہاں پہ اسی روح کو
14:49ایک خاص لباس پہنا دیا جاتا ہے
14:52روحِ سرانی
14:53روحِ حیوانی کا اسے آگے نام دیا جاتا ہے
14:56اب جب ادھر نسوت میں
14:58تعالیٰ پہنچتا ہے
14:59تو یہاں پہ
15:00اس کے اندر وہ روحِ قدسی تو موجود ہے
15:03خزانے کی صورت میں وہ موجود ہے اندر
15:05لیکن یہاں پہ سروائیو کرنے کے لیے
15:08اس کے پاک پردوں میں لپیڑ دیا جاتا ہے
15:11پردے کس چیز کے ہیں
15:12ہر عالم میں اسے ایک الگ لباس
15:14عطا کیا جاتا ہے اس کی روح کو
15:17بلکل اسی طرح
15:18جب وہ ادھر نسوت میں پہنچ جاتا ہے
15:20تو اس کی وہ روحِ قدسی
15:22اس کے دل میں ایسے پاک پردوں میں لپیڑ کے رکھی ہوتی ہے
15:26اب
15:26تقدیر اسے لے گئی
15:28مرشد کامیل اکمل جامی نور الحدا کی بارگاہ میں
15:30اب وہاں پہ کیا کمال ہوتا ہے
15:33تیرا علاج نظر کے سوا کچھ بھی نہیں
15:35وہاں پہ مرشد کامیل اکمل
15:37جامی نور الحدا کی جو نظر ہے
15:39وہ کمال دکھاتی ہے
15:41وہی قدر ہے
15:42اور کیا کرتی ہے
15:44سب سے پہلا کام کیا کرتی ہے
15:48بے شک ہم نے اسے نازل کیا
15:51فی لیلت القدر شب قدر میں
15:56تم نے کیا جانا کہ لیلت القدر کیا ہے
15:59یہی قدر ہے
16:01وہ لمحہ
16:02جب طالب مولا اپنی سچی طلب لے کے
16:05مرشد کامیل اکمل کی بارگاہ میں پہنچتا ہے
16:07مرشد اپنی نظر کرم اس میں کرتا ہے
16:10وہ لمحہ اس کے لئے قدر ہے
16:11اب ہر شخص کے لئے قدر بھی
16:13علاق گلاگ گئے
16:15اس کی کیپیلٹی کا حساب سے
16:17اس کی کیپیستی کا حساب سے
16:18اس کی قدر ہے
16:19جتنا ہوں ابزورب کر سکتا ہے
16:23اب جب اس میں نظر ہوئی
16:25اس کو قدر مل گئی
16:27انسان کامل مل گیا
16:30تمہیں کیا پتا
16:31اس کی حقیقت کیا انسان کامل کی
16:37تمہیں انسان کامل کی حقیقت کا نہیں پتا
16:40یہ اللہ تعالی کلیر کٹ فرما رہا ہے
16:42یہ اللہ جانتا ہے
16:44جا اس کا محبوبی جانتا ہے
16:46وہ انسان کاملی جانتا ہے
16:48یہ اس کا عسان ہے
16:49کہ اس نے ہمیں ہر زمانے میں
16:51ہر دور میں
16:52قیامت تک کے لئے
16:53اس نے آخری نبی ہمارے لئے بیج دیا
16:55اور اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
16:57لا نبی آبادی
17:00پھر کیا ہوتا ہے
17:01لیلت القضر میں جب
17:02طالب مرشد کامل اکمل
17:03جامع نور الحدا کے پاس پہنچ جاتا ہے
17:05اس کو تو نہیں پتا کہ
17:07میں کہاں پہنچ ہوں
17:08کیا
17:08میری تقدیر مجھے کدھر لے آئی ہے
17:10پھر کیا ہوتا ہے
17:12لائلت القضر خیرم من الفشار
17:14وہ لمحہ
17:15جس لمحے میں
17:16مرشد اپنی نظر کرم سے
17:18طالب کا تسکیہ نفس کرتا ہے
17:20اس لمحے
17:21وہ لمحہ جو ان سے ہے
17:23خیرم من الفشار
17:24آپ نے جو ہزار مہینے گزار دیئے
17:27نمازوں میں
17:28عبادات میں
17:28روزوں میں
17:29تمام عمال
17:30سالے آدھا کرنے میں
17:31لیکن وہ تمام کے تمام جو ان سے ہے
17:34وہ بے روح تھے
17:36ان میں روح نہیں تھی
17:37ان میں باطن نہیں تھا
17:38صرف ظاہر تھا
17:39اور باطن کے بغیر
17:41صرف ظاہر ہو
17:42اور وہ عبادت بھی
17:44عبادت مقبول نہیں ہے
17:46روح کے ساتھ عبادت جو ان سے نا
17:47تب وہ جا کے مقبول ہوتی ہے
17:49اب یہ لمحہ
17:50جس لمحے میں
17:51یعنی لیلت القدر
17:54سمجھ گئے نا
17:54یہ لیلت القدر کا وہ لمحہ
17:56جو طالب کا دل پر نازل ہوتا ہے
17:58وہ نظر جاتی ہے دل پر
17:59تو کیا ہوتا ہے یہ نظر
18:01یہ لیلت القدر
18:02وہ باردہ
18:03انسان کامل کی
18:05یہ خیر من عالف اشار
18:07یہ ہزار سال کے عبادتوں سے
18:09بہتر ہے
18:10جیسے کہ مولانا روم نے بھی فرمایا
18:12کہ کسی ولیہ کامل کی صحبت میں بیٹھنا
18:14ایک لمحہ بیٹھنا
18:15ہزار سال کے عبادت سے
18:17افصل ہے
18:19پھر کیا ہوتا ہے
18:20جب آپ وہاں پہ پہنچ جاتے ہیں
18:22تو وہاں پہ کیا ہوتا ہے
18:23لیلت القدر میں
18:24تن ترزل الملائکہ
18:27فرشتے نازل ہوتے ہیں
18:29جانی
18:30طالب کا تذکیہ شروع ہو جاتا ہے
18:33اور مرشد کامل اکمل
18:34اسے
18:35تمام عالم
18:36عالم عمر
18:37اور عالم خلق
18:38کی حقیقت
18:39اس کے سامنے کھول کے رکھا دیتا ہے
18:41جب عالم عمر
18:43اور عالم خلق کی حقیقت
18:44اس کے سامنے کھول رہا ہوتا ہے
18:45تو اس میں
18:46اس کے اوپر
18:47تنزل الملائکہ
18:48تو فرشتے بھی
18:49نازل ہوتے ہیں
18:51کیونکہ ملکوت بھی ہے
18:52جبروت کے بعد
18:53مرشد وہ بھی دکھا دیتا ہے
18:55اور پھر
18:55جیسے
18:56اس کی ظاہری مثال ایک دے دوں
18:58غزوہِ بدر میں
18:59فرشتے نازل ہو گئے
19:00مسلمانوں کی نسرت کے لیے
19:02اقبال نے کہا
19:03کہ آج بھی
19:04قطار اندر قطار
19:04وہ نازل ہو سکتے ہیں
19:05فرشتہِ بدر تو
19:06اپنے لیے پیدا کر
19:08اپنے آپ کو
19:09ادھر تک پہنچا تو
19:10صحیح
19:10کہ تیرے پہ وہ قدر
19:11نازل ہو سکے
19:12تھوڑی جستجور تو کر
19:16تنزل الملائکہ تو
19:17ملائکہ نازل ہوتے ہیں
19:18بر روح
19:19یہ ایک عیبر روح
19:23علماء ظاہری سے مراد لیتے ہیں
19:24حضرت جبرائل علیہ السلام
19:25لیکن فقراء
19:26اس سے مراد لیتے ہیں
19:27کہ تمہیں آپ کے باطن میں
19:28جو چھپی ہوئی
19:29ارواہ ہے
19:30جو پردے ہیں اوپر
19:32اس روح کے اوپر
19:34نفسانی روح کے
19:35اس کے اوپر چلے جائیں
19:37ملکوتی کے
19:38پھر جبروتی کے
19:40ٹھیک ہے
19:41ان تمام کے جو پردے
19:42اوپر سے اترتے ہیں
19:43پھر اندر سے
19:44بر روح ظاہر ہوتی ہے
19:45یعنی روح قدسی ظاہر ہوتی ہے
19:48لیلت القدر میں
19:49جب آپ
19:50اس نظر کے سامنے پہنچتے ہیں
19:51اس لمحے میں پہنچتے ہیں
19:53تو اس لمحے میں
19:54آپ کے پر فرشتوں کے ساتھ ساتھ
19:56روح بھی نازل ہوتی ہے
19:57آپ کے روح قدسی اندر سے
19:58ظاہر ہو جاتی ہے
20:00کیسے ظاہر ہوتی ہے
20:01اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
20:02فی ہا بیزنی ربیم
20:04اللہ کے حکم سے نازل ہوتی ہے
20:06من کلی عمر
20:07جو کہ ہر کام کے لیے ہے
20:09یعنی کہ
20:10جب انسان
20:11طالب مرشد کامیل اکمل کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے
20:15اس کو ایک قدر نصیب ہو جاتی ہے
20:17تو پھر
20:18اس کا چلنا
20:19اللہ کا چلنا ہو جاتا ہے
20:21پھر اس کا سننا
20:22اللہ کا سننا ہو جاتا ہے
20:24پھر اس کا بولنا
20:25اللہ کا بولنا ہو جاتا ہے
20:26پھر اس کی دشمنی
20:28اللہ کے لیے
20:29اس کی دوستی
20:30اللہ کے لیے
20:30اس کا اٹھنا
20:31اللہ کے لیے
20:32اس کا بیٹھنا
20:32اللہ کے لیے
20:33یعنی وہ ہماتن تو ہی رو جاتا ہے
20:35یہی عمر ربی ہے
20:37یہی عرواہ اس پہ نازل ہوتی ہے
20:40روحِ قدسی ظاہر ہو جاتی ہے
20:41روحِ قدسی کے ظاہر ہونے کا مطلب ہے
20:44کہ اس پہ حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کھل جاتی ہے
20:49اور وہ شبِ قدر سے برائے
20:51وہ اس لمحے میں
20:52مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں
20:54انسانِ کامل کی بارگاہ میں جب وہ موجود ہوتا ہے
20:56تو اس کا تذکیہ ہو جاتا ہے
20:58اس کے روحِ قدسی دوبارہ سے بیدار ہو جاتی ہے
21:01پھر وہ روحِ قدسی سے ہی روحِ قدسی کو دیکھتا ہے
21:04اللہ کا دیدار اسی روح سے کیا جا سکتا ہے
21:07ان آنکھوں سے اس بشری وجود سے نہیں کیا جا سکتا
21:10جب وہ مرشد قدر کی اس لمحے میں
21:13آپ کا تذکیہ کر کے
21:15آپ کے روحِ قدسی کو ظاہر کر دیتا ہے
21:17تو پھر روحِ قدسی جو انسی ہے
21:19وہ دیدار میں مگن ہو جاتی ہے
21:21پھر دوبارہ سے ویسے ہی ہو جاتی ہے
21:23جیسے کہ عالمِ عمر میں
21:24عالمِ عرواں میں
21:25ساری عرواں اللہ تعالی کے سامنے کھڑی سی
21:27اللہ نے پوچھا
21:29بتاؤ تمہارا رب کون ہے
21:30تمہیں پالنے والا کون ہے
21:31تو سب نے جواب دیا
21:35یہاں پہ امتحان کے لیے بھیجا
21:37اس وجود میں ڈالا
21:38کس لیے؟
21:39تاکہ دوبارہ سے اپنی معرفت حاصل کر سکے
21:41اپنے آپ کو پہچان سکے
21:43اور قدر کے اس لمحے کو حاصل کر سکے
21:45جو کہ انسانِ کامل
21:47یا مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
21:50نصیب ہوتا ہے
21:52اور یہ اللہ تعالی کا عمر ہے
21:54روبی عمرِ ربی ہے
21:56اور سلامن ہی آتا
21:58مطلع الفجر
21:59اور یہ جب تک آپ ادھر موجود رہتے ہیں
22:02اس قدر کے لمحے میں
22:03یہ سلامتی ہی سلامتی ہے
22:06یہ شب قدر
22:06وہ سارا ڈیوریشن سلامتی ہی سلامتی ہے
22:09اس وقت تک کہ
22:10ہی آتا مطلع الفجر
22:12اس وقت تک کہ جب تک
22:13فجر نہیں ہو جاتی
22:16کیا مطلب فجر نہیں ہو جاتی
22:18طالب اس قابل نہیں ہو جاتا
22:20کہ وہ دائمی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
22:23اسے نصیب نہیں ہو جاتی
22:24فجر آقا پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے
22:28جب تب وہ مجلسِ محمدی میں
22:31پہنچ نہیں جاتا
22:32آقا پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بھارگاہ میں جا کے
22:36فنافی رسول نہیں ہو جاتا
22:38اس وقت تک ہی آتا
22:40مطلع الفجر
22:41اس کے اوپر سلامتی ہیں
22:42اسلامتی ہیں
22:43وہ فجر اسے جب عطا ہو جاتی ہے
22:45جب فجر عطا ہوتی ہے
22:46یہی وہ لمحہ ہے
22:48جب اس کو قدر نصیب ہوتی ہے
22:51فقراء کے نزدیک قدر سے مراد
22:53وہ جسی علامہ اکبال نے فرمایا
22:55تیرا علاج نظر کے سوا کچھ بھی نہیں
22:59وہ نظر ہی ہے وہ قدر کا لمحہ ہی ہے
23:01کہ جیسی وہ تعلیم پر پڑھتا ہے
23:04اس کی تمام ارواح اس کے نفسانی خواہشات
23:06جتنی اندر جو اس نے اپنے نفسانی خواہشات
23:09کو اپنا علاہ بنا رکھا ہے
23:10وہ تمام خواہشات ختم ہو جاتی ہیں
23:12اور مرشد کا حمل اس قدر کے لمحے میں
23:14نفی اور اسبات کی تلوار چلاتا ہے
23:16پہلے سارے تمام غیر معاصی والا
23:18اس کے دل سے بائی نکال دیتا ہے
23:20اور باقی جو چیز رہ جاتی ہے
23:21وہ یہی قدر کی نظر رہ جاتی ہے
23:23پیچھے باقی جو رہ جاتی ہے
23:25یہی فجر رہ جاتی ہے
23:26جو باقی رہ جاتی ہے
23:27پیچھے یہی نجم رہ جاتا ہے
23:29پیچھے جو باقی رہ جاتا ہے
23:30یہی روے قدس ہی باقی رہ جاتی ہے
23:32یہی جو پیچھے باقی رہ جاتا ہے
23:34یہ نون باقی رہ جاتا ہے
23:36یہ جو پیچھے باقی رہ جاتا ہے
23:37یہ کلم باقی رہ جاتا ہے
23:39یہ جو باقی رہ جاتا ہے
23:40یہ صرف محمد رسول اللہ
23:42صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی باقی رہ جاتی ہے
23:45کہ جس سے آگے بھی ساری کسرت کو
23:47تخلیق کیا گیا
23:48یعنی قدر میں ہمیں کسرت سے واپس
23:52توحید کی طرف جانا ہے
23:54وہ لمحہ جس میں آپ کسرت سے توحید کی طرف واپس پلٹ جاتے ہیں
23:58وہی لمحہ آپ کے لئے قدر کا لمحہ ہے
24:00میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
24:02کہ اللہ تعالیٰ ہمیں لیلت القدر کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
24:09اور لیلت القدر کی حقیقت
24:10مرشد کامل اتمل جامع نور الہدا
24:13ایسے انسان کامل
24:15جیسے کہ عزت الرامہ ابن عربی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا ہے
24:18کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار ولی ہر وقت زمانے میں موجود رہتے ہیں
24:23ان میں ہر ولی کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے
24:27کوئی عزت عیسیٰ کے قدم پر ہوگا
24:29کوئی عزت موسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہوگا
24:30کوئی حضرت جہیٰ کے قدم پر ہوگا
24:32کوئی حرون کے قدم پر ہوگا
24:34تمام انبیاء کے قدم پر ہوتا ہے
24:36لیکن ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو قیامت تک موجود رہے گا
24:39اور وہ قدمے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہوتا ہے
24:48پہ تھے پھر یہ سلسلہ چلتا ہوا حضرت سیدنا شیخ مہیدین عبدالقادر
24:53جلانی رضی اللہ تعالیٰ نہ ہو جس کے بارے میں یہ فرمایا آپ نے خود
24:56فرمایا کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پہ ہوں پھر چلتا
25:02جائے سلسلہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہر رحمت اللہ علیہ
25:06بھی قدم محمد پہ تھے اور آج کے اس پرفتن دور میں سلطان العاشقین
25:10حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمان مدزلہ العدس بھی قدم محمد
25:18وہی ہوتا ہے جو بالکل اسی پیٹرن سے تذکیہ نفس کرتا ہے جس
25:23پیٹرن سے آقا پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کا
25:26تذکیہ نفس کیا تھا اور یہ تمام قرآن و حدیث کے اندر ہی ہوتا ہے
25:31ٹھیک ہے اور یہ اسمیلہ ذات وہ واحد چیز ہے جب مرشد یہ عطا کرتا ہے
25:39طالب اس کا ذکر تصور اور مشک مرکوم میں وجودیہ کرنا شروع کر دیتا ہے
25:44تب اس کے اپڑے یہ قدر کا لمحہ کھلتا ہے
25:48تب وہ مجلس محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جا سکتا ہے
25:51اسمی آزم کے ذکر اور تصور کے بغیر نہ تو کسی کو عشق حاصل ہو سکتا ہے
25:55نہ کوئی اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے
25:57اور نہ کوئی مجلس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی وزوری حاصل کر سکتا ہے
26:01اور یہ قدر کا یہ لمحہ اسی اسمی آزم کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے
26:05وجہ اسمی آزم آج کے اس دور میں سلطان العاشقین سلطان الفقر حفتم حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمان مجزی
26:12اللہ علیہ وسلم
26:12عطا فرما رہے ہیں
26:14میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
26:15کہ تمام امت مسلمہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو روح انگریز نے اندر سے نکال کے باہر پھینک دی
26:23اور ہمیں ظاہر میں لگا دیا
26:24جگڑوں فسادات میں لگا دیا
26:26اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ لکھے
26:29اور تمام امت مسلمہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دوبارہ سے روح جونسی ہے
26:33روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ دوبارہ سے جونس ہے وہ بیدار ہو
26:36تاکہ پھر سے مسلمان اپنی مکمل قوت میں آسکے
26:40اور دین کو پوری دنیا میں پھیلا سکے
26:42وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينَ
Comments
1