00:06شان رمضان
00:08شان رمضان
00:14شان رمضان
00:16آٹھمے پارے کے نصف سے ہوا اور
00:21نامے پارے کے تین ربوں تلاوت کیے گئے
00:27سب سے پہلے صورت کے بنیادی مضامین پر ایک اجمالی نظر
00:36آیت نمبر ایک سے نو تک مقدمہ صورت ہے اور
00:41اس میں توحید رسالت آخرت قرآن مجید اور
00:47پہلی امتوں کے جو منکرین ہیں
00:52ان کے اوپر جو مختلف عذاب آئے ان کا ذکر ہے
01:00آیت نمبر دس سے ستائیس تک
01:04حضرت آدم علیہ السلام اور عبلیس کا واقعہ پھر
01:08ایک دفعہ بیان ہوا ہے مختلف
01:11ایک اور جہت سے جو میں آگے چل کے عرض کروں گا
01:15اٹھائیس سے پچپن تک جنت اور دوزخ کے جو عوامل ہیں
01:21یعنی جو عامال صالحہ ہیں وہ جنت میں لے جانے کا سبب ہیں
01:25اور عامال بد دوزخ میں لے جانے کا سبب ہیں
01:30اس کے بعد آیت نمبر 59 سے لے کر 93 تک
01:37حضرت نو علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے
01:40حضرت حود علیہ السلام اور ان کی قوم آد کا ذکر ہے
01:44حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے
01:48حضرت لوت علیہ السلام اور آپ کی قوم کا بیان ہے
01:52حضرت شعیب علیہ السلام اور پھر آپ کی قوم کا ذکر ہے
01:57قوم کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ
02:00ان انبیاء کی جو قومیں یعنی جن کی طرف ان کو بھیجا گیا
02:05وہ کن کن گناہوں نافرمانیوں اور معصیت میں مبدلہ تھے
02:13اور پھر جب اپنے اپنے انبیاء کی دعوت کو انہوں نے قبول نہ کیا
02:22تو بالاخر مختلف طرح کہ ہر قوم کے لئے الگ عذاب کا ذکر ہے
02:27کہ ہم نے کسی پر پتھروں کی بارش کی
02:30کسی کو بستی سمیت اٹھا کر استغفراللہ اندھا پلٹ دیا
02:36اور مختلف ہر قوم کے عذاب کا ذکر ہے
02:40اور جیسے پہلے گزر آیت نمبر نائنٹی فور سے ون ہنڈر ٹو تک
02:45نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دی گئی ہے
02:49اور جیسے میں نے پہلے بتایا تھا کہ اس تسلی کی وجہ یہ ہے
02:52کہ رب کائنات ان انبیاء کا ذکر کر کے اخوام کا ذکر کر کے
02:56اصل میں حضور علیہ السلام کو یہ بھی بتانا چاہتا ہے
02:59کہ میرے محبوب یہ جتنے میں نے اپنے محبوب پیغمبر بیجے ہیں
03:04رسول بیجے ہیں
03:05یہ ان کی قوموں کے اسی طرح ہی احوال رہے ہیں
03:10اور آپ کو بالکل پریشان ہونے کی بات نہیں
03:15جو آپ کے ہو گئے میں بھی ان کا ہوں میری کائنات بھی ان کی ہے
03:20ہمیابی بھی ان کی ہے
03:22اور باقی جو ہیں وہ وقتی اور عارضی طور پر
03:25اگر وہ کچھ ہیں آسانی اور سہولت میں
03:29تو ایٹ ڈی انڈ بالاخر ان کا انجام بھی
03:33اللہ کی ناراضگی اور عذاب کی شکل میں ہے
03:38اور آیت نمبر 103 سے 174 تک حضرت موسیٰ اور فرحون کا ذکر ہے
03:45اور اس کے بعد پھر اس صورت کا اختتام جس مضمون پر ہے
03:50وہ اللہ رب العزت نے انسان کو اس کی تخلیق
03:55اس وقت سے اس کو یاد دلایا
03:57اور وہ کن مراحل سے کس پروسیس سے کس پروسیجر سے
04:03گزر کر ایک کترے سے کیسے ایک انسان کی تخلیق ہے
04:08اور پھر اس وقت اس کا وجود ہے
04:10اور ان چیزوں کا ذکر کر کے
04:12پھر اللہ رب العزت نے اپنی وعدانیت
04:15اور اس کے اقرار کی طرف دعوت دی ہے
04:19یہ تو میں نے ایک جو اجمالی اور شارٹ مضامین ہیں
04:27ان کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا ہے
04:33اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جو ہیں وہ
04:40بنی اسرائیل
04:41اچھا ان کو نہ
04:42حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دورہ چیلنج تھے
04:46ایک فیرون کی طرف سے
04:49اور ایک اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف سے
04:52یہ ایک آگے چل کے میں بتاؤں گا
04:54کہ یہ ایک
04:56الگ سی صورتحال تھی
04:59کہ ایک طرف جو دشمن ہے
05:02دشمن خدا ہے
05:03دشمن پیغمبر ہے
05:05اس کے ساتھ مقالمہ
05:07اس کے ساتھ ایک مقابلہ
05:09اور اس کی طرف ہے
05:11دوسری طرف جو اپنی قوم ہے
05:13جو ساتھ لگے ہوئے ہیں بنی اسرائیل کے
05:15وہ بھی ماشاءاللہ
05:17ان کے احوال اگر قرآن پاک میں پڑھیں
05:20تو کیسی ہے جی
05:21مثلا ایک جگہ ذکر ہوا
05:23اسی صورت العراف میں
05:27جب یہ
05:29آسودہ ہو جاتے ہیں بنی اسرائیل
05:32تو پھر
05:33اپنی حرکتوں پہ آ جاتے تھے
05:37اللہ تعالیٰ نے ان کی
05:38ازمائش کے لیے
05:39اور ان کے لیے
05:40مختلف طرح کے عذاب
05:43ازمائش ہیں
05:44ایک کے بعد
05:45ایک کے بعد
05:49اور
05:51ایک کے بعد
05:52ایک
05:54آتے رہے
05:55اچھا جب بھی کوئی عذاب آتا
05:57پکڑ آتی
05:59تو بھاگے بھاگے
06:00حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا
06:03اور آپ کے پاس آ کر
06:06تو
06:07کہتے کہ
06:08اے موسیٰ ہمارے لیے
06:09تو اللہ سے دعا کر
06:13حضرت موسیٰ علیہ السلام
06:14کو سلام دعا فرماتے
06:15اللہ تعالیٰ
06:16پھر ٹال دیتا
06:19آچھا
06:20جدوں سوکے ہو جانے تھا
06:21پھر اسے ترہی
06:23پھر اس کے بعد
06:24دوسری آزمائش
06:25اور دوسرا عذاب
06:26پھر اللہ رب العزت کی بارگاہ
06:28محبوبہ
06:28حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتے
06:30حضرت موسیٰ علیہ السلام
06:31تو پھر اللہ کے نبی پیغمبر ہے
06:33جناب زبان اللہ
06:34آپ پھر دعا کر دیں
06:37تو
06:39ان پر مختلف طرح کے عذاب
06:41جو تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے
06:42اتارے گئے
06:44اور
06:44ہر دفعہ یہ ان کا
06:47طریقہ کارج ہے
06:48یہ اسی طرح جاری رہا
06:49اور پھر
06:50اللہ رب العزت نے فرمایا
06:51کہ آئے موسیٰ علیہ السلام
06:52بس ہونے
06:54اب ان کا جو حال ہے
06:55اب پھر
06:56کونو قیرتت انخاسئین
06:58فرمایا
06:59اب یہ جو
07:00اپنی حدیں گزر گئے ہیں
07:01اب ان کے بچنے کی
07:03کوئی صورت نہیں ہے
07:04اس سے برکت لیتے ہیں
07:06ایک تربیت کی بات
07:07میں عرض کرنا چاہتا ہوں
07:08جو امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
07:10ہمارے لئے ہے
07:11اگر ہم غور کریں
07:12تو کہیں نہ کہیں
07:13ہم بھی اسی طرح ہی
07:15کسی نہ کسی لیبل پہ
07:17بات سمجھ آگئے
07:18کوئی نقصان ہو جاوے
07:19کوئی مرنا ہو جاوے
07:20کوئی قریبی دنیا سے چلا جائے
07:21سمجھ آگئی
07:23جناب ایسی
07:24سبحان اللہ
07:26امام صاحب تھے
07:27پھر سبحان اللہ تھے
07:28نمازہ تھے
07:29جدوں آل سکھا ہو جانا
07:37کہ اللہ تعالیٰ کو
07:38وہ تھوڑی نیکی پسند ہے
07:41یا یوں کہہ لیں
07:42کہ تھوڑی عبادت پسند ہے
07:44جو بے شک تھوڑی ہو
07:46لیکن ریگولر
07:50جو مسلسل ہو
07:52اللہ رب العزت کو
07:53اس نیکی کا
07:56اس کو زیادہ معدوب ہے
07:57اس کو وہ زیادہ پسند فرماتا ہے
07:59اور بھی
08:00بنی اسرائیل کے عوال ذکر کیے گئے
08:02جو ہم آگے انشاءاللہ
08:04پھر جب ان کا ذکر آئے گا
08:06تو ہم انشاءاللہ
08:07ان کو دوبارہ آپ کے سامنے بیان کریں گے
08:09ایک چیز جو بڑا خاص
08:10یہاں پہ
08:10آدم علیہ السلام اور
08:14عبلیس کا جو واقعہ
08:15یہاں ذکر ہوا ہے
08:16اس میں
08:17ایک چیز یہاں
08:19نئی بیان یہ کی گئی ہے
08:20کہ
08:20جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا
08:22کہ
08:23نکل جائے یہاں سے
08:27فخرج منہا انکا من الساغرین
08:29تو اس نے کہا
08:30قالا
08:31انذرنی الہ یوم یبعثوا
08:34فرمایا
08:34ایک تو میرے مولا
08:36مجھے عمر اتنی دے دے
08:38جب تک قیامت آنی ہے
08:40مجھے اتنی ٹائم تک عمر دے دے
08:42قالا انكا من المنسرین
08:43فرمایا جا
08:46جا
08:47تجھے اتنی عمر دے دی میں
08:52جب یہ عمر مل گئی نا جلاب
09:25Shani Ramazan
09:30Shani Ramazan
Comments