- 6 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Ilm o Ulama | Rehmat e Sehr - Topic: Tarbiyat e Aulad Aur Iske Taqazay
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Raees Ahmed
Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Muhammad Akmal, Hafiz Owais Ahmed
Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Raees Ahmed
Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Muhammad Akmal, Hafiz Owais Ahmed
Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:27A.R.Y.Q.TV
00:30پیغامات جاتے ہیں علماء حضرات کی زبانی
00:32وہ پسند کیے جاتے ہیں اور اس کا اعتبار
00:34کیا جاتا ہے نظر اللہ تعالی نے
00:36انسان کو جتنی نعمتیں عطا فرمائی ہے
00:38ان میں سے کسی کا بھی شکر عدا نہیں کیا جا
00:40سکتا چونکہ نعمتیں اتنی
00:42بہتات کے ساتھ اللہ نے عطا فرمائی ہے
00:44انسان اپنی پوری زندگی
00:46بھی اس کا شکر عدا کرتا رہے
00:48تو شکر اس کا عدا نہیں ہو سکتا
00:50اور
00:51ان نعمتوں میں اگر دیکھا جائے تو ایک
00:53اولاد جو ہے وہ بہت بڑی نعمت ہے
00:55اور اولاد کا نعمت کا حاصل
00:58ہو جانا اور اس کے بعد جو
00:59والدین کی ذمہ داری بن جاتی ہے تربیت
01:02اولاد کے حوالے سے وہ بہت زیادہ
01:04میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ داری ہے
01:06جس کے بارے میں قرآن کریم میں بھی
01:08انبیاء علیہ السلام کی دعائیں بھی ملتی ہے
01:10نبی کریم علیہ السلام کی بھی
01:12احادیث مبارکہ اور آپ کے فرامین
01:14ملتے ہیں تو آج جو ہم یہ
01:16دیکھ رہے ہیں کہ آج ہر جگہ یہ دیکھنے میں
01:18آتا ہے کہ والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں
01:19کہ اولاد بگڑ گئی اولاد نافرمان
01:22ہے بات نہیں سنتی یعنی
01:24کہ اول ہاؤسز کا قیام اور
01:26اس میں والدین کو ڈلوا دینا کیا وجہ
01:28ہے کہ والدین کے ساتھ اولاد
01:30کا وہ انٹریکشن اور وہ تعلق
01:31وہ محبت والا رشتہ نہیں رہا بلکہ
01:34آج ایسا لگ رہا ہے کہ ہر شخص
01:35ایک میٹریلیسٹک لائف گزار رہا ہے
01:38ایک مادی زندگی گزار رہا ہے
01:40تو تربیت سے آغاز ہوتا ہے
01:42اور ہم اسی حوالے سے آت بات
01:44کریں گے تربیت اولاد اور اس کے
01:46تقاضے ممتاز و معروف
01:47علم الدین استاز العلماء حضرت علامہ
01:49مفتی محمد اکمل بندنی صاحب
01:52جو کہ الحمدللہ حرونق
01:53رحمت سار کی آج ایک بار پھر تشریف فرمائیں
01:56اسلام علیکم ورحمت اللہ
01:59اور آپ کے ساتھ تشریف فرمائیں ممتاز و معروف
02:01علم الدین علامہ لیاقت حسین عزری صاحب
02:03بہت خوشباش شخصیت اور بہت امدہ کلام فرمانے والی شخصیت
02:07وقی مطالع رکھتے ہیں
02:09تشریف فرمائیں
02:09السلام علیکم ورحمت اللہ
02:12اور آپ کے ساتھ تشریف فرمائیں
02:15اللہ محافظ وعظم صاحب
02:16بہت خوبصورت مفسر قرآن
02:18بہت امدہ کلام فرماتے ہیں
02:19اور بڑے دلائل کے ساتھ
02:21اپنے جوابات ارشاد فرماتے ہیں
02:23تشریف فرمائیں
02:23السلام علیکم ورحمت اللہ
02:26اور سقلین رشید ہیں
02:27دانیال شیخ ہیں
02:28حافظ محمد علی صور وردی ہیں
02:30سیدنس کریمی
02:31آپ سب کا خیر مقدم ہے
02:32السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:33مفہوم تربیت
02:35اور اس کا حکم
02:36میں چاہتا ہوں
02:37سب سے پہلے
02:38اگر آپ اس پر روشنی ڈال دیں
02:39تو ہمارے لئے آسانی ہو جائے گی
02:40ایک کا ہمارے لئے
02:41راہ ہموار ہو جائے گی
02:43اس موضوع کے حوالے سے
02:44اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
02:46بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:47جیسے کہ آپ نے
02:49کلمات ابتدائیہ میں
02:51ارشاد فرمایا
02:51کہ اولاد ایک بہت بڑی نعمت ہیں
02:54اور ہر نعمت کے بارے میں
02:56برود قیامت
02:57انسان مسئول ہے
02:58یعنی اس سے
02:59کویسن کیا جائے گا
03:00اللہ تعالیٰ نے فرمایا
03:04وَيَوْمَا
03:04ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّا يَوْمَا اِذِنَ عَنِ النَّعِيمِ
03:09یہ جو عربی لغت جانتے ہیں
03:10یہ
03:11لام تاقید بانون تاقید
03:13سقیلہ کے ساتھ
03:14فیلِ مزارے کو ذکر کیا ہے
03:15اس کا مطلب یہ ہوتا ہے
03:16کہ ابتداء اور آخر میں
03:17دھوری تاقید ہے
03:18ضرور ضرور تم سے کویسن ہوگا
03:21جب آدمی اپنی بات میں
03:22زور پیدا کرنا چاہتا ہے
03:24کسی کلام کی اہمیت
03:26ذکر کرنا چاہتا ہے
03:27تو بعض وقت تاقیدات لاتا ہے
03:28گویا کہ اللہ تعالیٰ نے
03:30یہ اشارہ فرمایا
03:31کہ جیسے آپ نے فرمایا
03:32کہ اولاد بہت بڑی نعمت ہیں
03:33تو اس کے بارے میں بھی کویسن ہوگا
03:35وہ کس قسم کا کوئسن ہے
03:37جیسے آیت میں بارہ ہم یہاں پڑھتے ہیں
03:39کہ
03:44اے ایمان والو اپنے آپ کو
03:45اور اپنے گھر والو کو
03:46جہنم کی اساق سے بچاؤ
03:48جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں
03:50تو اس اعتبار سے
03:52اس نعمت کا کوئسن ہوگا
03:53یہ بتاؤ کہ کیا
03:54تم نے اپنی اولاد کو
03:56اپنی زوجہ کو
03:57سنجیدگی کے ساتھ
03:58جہنم سے بچانے کے لئے
03:59کوئی لاحمل اختیار کیا تھا
04:02جس کے بارے میں
04:02ایک اور اشارہ سرکار
04:03صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا
04:04کہ
04:07تم میں سے ہر شخص نگے بانے
04:09اسے اس کے ماتحت کے بارے میں
04:10کوئسن ہوگا
04:11اور پھر صراحتاً فرمایا
04:12کہ مرد سے اس کی بیوی بچوں کے بارے میں
04:14کوئسن ہوگا
04:15اور عورت سے اس کے شوہر کے گھر
04:17اور دیگر احوال کے بارے میں
04:18کوئسن ہوگا
04:19اس کا مطلب ان تمام چیزوں کا
04:21خلاصہ لے لیں
04:21تو ایک مرد کو کھڑا کر کے
04:22کوئسن کیا جائے گا
04:23کہ کیا تم نے اس نعمت کی قدر کی تھی
04:25کیا اس کو جہنم سے بچانے کی کوشش کی تھی
04:28اب اس کا جواب دو
04:29جہنم سے کیسے بچایا جائے گا
04:31کہ ان کو علم دین سکھائیں
04:32ان کو نیکی کا حکم کریں
04:34انہیں برائی سے روکیں
04:35ان کی کامل تربیت کریں
04:37اور اپنے آپ کو رول موڈل بنا کر دکھائیں
04:40تاکہ بچے
04:41اوبزرویشن کے ذریعے بھی
04:42بہت کچھ سیکھ سکیں
04:43اور اب یہ تربیت کا جو آپ نے
04:45مفہوم کے بیان فرمایا
04:46یہ بھی ہم نے بارہاں یہ ذکر کیا
04:47کہ تبلغ الشائعی الہ کمالی ہی شائعن فشائعن
04:51اسی شائع کو درجہ کمال تک پہنچانا
04:54آہستہ آہستہ
04:55اور تربیت کے جو شعبے ہیں
04:57ایک عقیدے کے اندر تربیت ہوتی ہے
04:58اس کے مطلب ہے
04:59اس میں درجہ کمال تک پہنچانا ہے بچے کو
05:01پہلے بلکل بنیادی چیزیں ہیں
05:03جسے اللہ کا انٹروڈکشن
05:05ہم صفات کے ذریعے کرتے ہیں
05:06ذات کے تعریف کے ذریعے
05:07پہلے بچوں کو نہیں کرتے ہیں
05:08کہ سمجھ میں نہیں آیا گا
05:09اللہ کون ہے
05:10جس نے ہمیں پیدا کیا
05:12وہ ہمیں رزق دیتا ہے
05:13پھر جب بچہ تھوڑا سا اور بڑا ہوتا ہے
05:15تو پھر تھوڑا اور پختگی کے ساتھ
05:16کہ اس کے لئے جگہ ثابت نہیں ہوتی
05:18بیٹا سمت اشارہ نہیں کرنا چاہیے
05:20پھر اللہ تعالی کا باقاعد انٹروڈکشن
05:22اسی طریقے سے دیگر جو عقائد ہیں
05:24ہم چونکہ ایک
05:26مسئلہ کے حقہ سے تعلق رکھتے ہیں
05:27اہل سنت و جمعات
05:29تو بچوں کو پھر یہ بتانا
05:30کہ ضروریات اہل سنت کیا ہیں
05:32اور کس طریقے سے
05:33اگر خدا نہ خاصت اس میں
05:34خرابی پیدا ہوتی ہے
05:35تو انسان بیدت ہی ہو جاتا ہے
05:37یہ مشرق ہوگا
05:37یا کافر ہوگا
05:39تو یہ احکام شرعیہ عملیہ کے اندر
05:41آئیس سے اس ترتیب
05:42جس کی طرح اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
05:45کہ جب تمہارا بچہ سات برس کا ہو جائے
05:47تو اس کو نماز کا حکم دو
05:48دس برس کا ہو جائے
05:49تو مار کر نماز پڑھاؤ
05:51اس کا مطلب ہے
05:52سات برس کے بچے کو پہلے آپ نماز کے بارے میں
05:54کچھ نہ کچھ تحارت کے بارے میں بتائیں گے
05:56تو وہ نماز پڑھنے کے قابل ہوگا
05:58یہ اشارہ ہے
05:59کہ اب اسی تربیت سٹارٹ کرو
06:01ساتھیں سال تک کی جتنی ضرورتوں سے پورا کرو
06:03پھر ساتھ سے دس سال تک
06:05اور زیادہ اس میں
06:06گریجولی آپ کو ایمپوریمنٹ لانی ہے
06:08اور جب یہ ایمپوریمنٹ آگئی
06:10تو اب اس کا پھر مظہر بھی نظر آنا چاہیے بچہ
06:13اگر نظر نہ آئے
06:14تو مار کر نماز پڑھاؤ
06:15اس کا مطلب ہے
06:16بلوغت سے پہلے پہلے ہی
06:17یہ تمام کام ہونے چاہیے
06:18اب ہمارے یہاں کیا ہوتا ہے
06:20کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں
06:21ماں بہن کی گالیاں بکتے ہیں
06:22تو خوش ہو جاتے ہیں
06:23بولتے ہیں اتنا شرارتی
06:25اتنا گندی گندی گالیاں
06:26چاچا کوئی
06:39چاچا کوئی
06:40یہ یعنی ایک خاتون
06:42کہہ رہی تھیں
06:43اپنے بچے کے بارے میں
06:44کہ یہ تو اتنا شرارتی ہے
06:45تھپڑ سے پہلے تو بات ہی نہیں کرتا
06:47اور دادا کو تو جوتا مارتا ہے
06:49وہ کمال تربیہ
06:52تبلیغ الشیلہ کمال ہی شیئن فا شیئن
06:55ابھی آپ دیکھیں آگے کرے گا
06:56شیئن فا شیئن تو بھی آنے والا
06:58تو یہ اب ہمارے ہاں ہو رہا ہے
07:00کہ جو مادرت کے ساتھ
07:03ایک دفعہ
07:03ایک صاحب نے کہا
07:04کہ کسی کی تربیت کریں
07:07تو کسی نے جواب میں کہا
07:08کہ اگر آپ کو ادارہ اچھا چلا رہا ہے
07:10تو پہلے ٹیچرز کی تربیت کر لیں
07:11سٹڈنٹس کی خود بخود ہو جائے گی
07:13پیرنٹس اگر تربیت کو قبول کر لیں
07:15عارضی کے ساتھ
07:16تو بچوں کی تربیت ہو سکتی ہے
07:18اور بچے ایک دفعہ تربیت یہ آفتہ ہو گئے
07:19خدا کی قسم
07:20خود والدین
07:21ساری زندگی اس کا برکت ناصف حاصل کریں گے
07:24سکون اتمنان
07:25فرما بردار اولاد
07:26گھر میں پرسکون ماحول
07:28اور انشاءاللہ موت کے وقت
07:30قبر میں میدانِ معاشر میں
07:31حتی جنت میں جانے تک
07:33عزتِ عزتِ ہیں
07:34رفعتِ رفعتِ ہیں
07:35یہ بڑے بنیادی اصول ہیں
07:38جو مفتی صاحب نے ارشاد فرمائے
07:40اور ہمیں غور کرنا چاہیے
07:41اللہ سے دعا تو کرتا ہے
07:42اللہ تعالی صاحبِ اولاد کر دے
07:44بہت اچھے
07:44وہ بڑا غفور رعیم ہے
07:46وہ بڑا مالک دینے والا ہے
07:47اور بے شمار نعمت ہے
07:49اس نے دیئے
07:49اولاد بھی دے دیتا ہے
07:50لیکن اس کے بعد جو ذمہ داری آئید ہوتی ہے
07:52اس کے حوالے سے مفتی صاحب نے
07:53بڑی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی
07:55جسے غور سے سننا چاہیے
07:57اچھا پھر اس کے بعد
07:58جو اس پر کاؤنٹر یہ ہے
08:00کہ والدین خود کتنے تربیت کی آفتہ ہیں
08:02یہ ایک بہت بڑی بات
08:04اگر ان کی تربیت ہے
08:05اچھی تربیت ہے
08:06تو ظاہر ہے
08:06اولاد کی بھی تربیت اچھی ہوگی
08:07اور اس کو کھلے دل سے کر قبول کیا جائے
08:09جیسے مفتی صاحب نے فرمایا
08:11تب تو یہ بات بنتی نظر آئے گی
08:12ورنہ تو یہ ہے
08:13کہ اپنا اگر کچھ عمل اور ہے
08:16اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے
08:18کچھ اور ذہن بنا ہوا ہے
08:19تو پھر وہ اثرات نہیں ہوں گے
08:20بہرحال قرآن و حدیث کی روشنی میں
08:22قرآن و سنت کی روشنی میں
08:23اللہ علیہ وآلہ وسلم رزیز صاحب فرمایے گا
08:25کہ اولاد کی تربیت کے حوالے سے
08:27اصول و ضوابط کیا ہیں
08:29اس کے حوالے سے کچھ روشن ڈالیے
08:31بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:32رئیس بھئی جیسے کہ آغاز میں
08:34قبلہ مفتی صاحب نے
08:35اور آپ نے بھی فرمایا
08:36کہ اولاد اللہ کی نعمتوں میں سے
08:37ایک بہت بڑی نعمت ہے
08:42دنیا کی یہ ساری زینات
08:44یہ رونقے
08:45یہ اولاد کے ساتھ ہیں
08:46انبیاء کرام
08:47نے بھی اللہ کی بارگاہ کے اندر
08:49اولاد کے لیے دعائیں مانگی
08:51رب حبلی من الصالحی
08:52بلکل ہے صحیح
08:57حضرت ابراہیم علیہ السلام
08:59حضرت زکریہ علیہ السلام
09:00لیکن وہی اولاد
09:02انسان کے لیے
09:03زینت بھی ہے
09:04انسان کے لیے صدقہ جاریہ
09:06بھی بن جاتی ہے
09:07اگر انسان اس اولاد کی تربیت کرے
09:09اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
09:11نے فرمایا
09:12کہ والدین
09:13اپنے اولاد کو
09:14جو تحائف دیتے ہیں
09:15گفت دیتے ہیں
09:16اس میں سب سے بہترین توفہ
09:18مانحل والدن
09:20ولدن
09:20افضل من عدب حسنین
09:23انسان ان کو بہترین عدب سکھائے
09:26اور بہترین تربیت دیں
09:27بلکل
09:28ہم کہتے ہیں کہ میں اپنے بچوں کے لیے
09:29بھئی یہ کیا کر رہے ہیں
09:30بچوں کے لیے محنت کر رہا
09:31بچوں کے لیے
09:32تو آپ جتنے بھی گفت دیتے ہیں
09:34اس میں سب سے بہترین توفہ ہے
09:36کہ ان کو آپ تعلیم و تربیت دیں
09:38ان کو عدب سکھائے
09:39اللہ اکبر
09:40اب رہا یہ سوال کہ
09:43اولاد کی تربیت
09:44کس انداز کے ساتھ کی جانے چاہیے
09:46اور اس کے حوالے سے کیا ہے
09:47دیکھیں اس کا اسلوب آپ دیکھیں
09:49تو یہی اسلوب ہے
09:51کہ اولاد کی تربیت
09:52انسان محبت و پیار و نرمی کے ساتھ کریں
09:54قرآن مجید فرقان حمید کی
09:56ایک مبارک سورت ہے
09:57سورہ لقمان
09:58حکیم لقمان نے
09:59اپنے بیٹے کی تربیت فرمائی
10:01کیا بات
10:01آپ دیکھیں
10:02ہر جملے پہ وہ کیا کہہ رہے ہیں
10:05یا بنیہ
10:06اے میرے بیٹے
10:07یا بنیہ
10:08لا تشرک باللہ
10:09انہ شرک اللہ
10:11میرے بیٹے
10:12سب سے پہلے
10:13اللہ کے ساتھ
10:13کسی کو شریک نہ کرنا
10:15میرے بیٹے
10:16تمہارا جیسے
10:16موسیٰم نے فرمایا
10:17کہ ترتیب وار اقائد
10:19اے میرے بیٹے
10:20تمہارا
10:20اللہ کی ذات پر
10:22ایمان اور توقل
10:23بہت مضبوط ہونے چاہئے
10:25یا بنیہ
10:26انہا
10:26انتکو
10:27مصقال حبت
10:28من خردرین
10:29فتکن فی سخرت
10:31او فی سماوات
10:32او فی الارض
10:33یاتی بھی اللہ
10:34میرے بیٹے
10:35تمہارا یہ ایمان ہونا چاہئے
10:36کوئی ذرہ برابر چیز
10:37وہ پہاڑ میں چلی جائے
10:39چٹان میں چلی جائے
10:40ہمارا رب
10:41اس پر قدرت رکھتا ہے
10:42کہ اٹھا کے
10:43اس کو لے کے آجائے
10:43اللہ
10:44یعنی آپ دیکھیں
10:44کہ بچپن سے
10:45بچے کا جو عقیدہ ہے
10:47اللہ کی ذات کے حوالے سے
10:48توقل ہے
10:49اور شرک سے
10:50اس کو دور کر کے
10:51رب تبارک وطالہ
10:52پھر عمل پر لے کے آگے
10:53اے میرے بیٹے
11:03اے میرے بیٹے
11:03نماز کی پابندی کرنی ہے
11:05دوسروں کو بھی
11:06نیکی کی تلقین کرنی ہے
11:07اور یہ یاد رکھنا
11:09کہ جب تلقین کروگے
11:10تو مسائل آئیں گے
11:11تو صبر کا دامن
11:13بھی تھام کے رکھنا ہے
11:14اب باشردی دور پر آگے
11:15جی جی
11:16پبلک کے اندر روگے
11:17سوسائیٹی کے اندر روگے
11:18تو لوگوں سے
11:19کٹ کے نہیں رہنا
11:20ولا تسائر خدق لنناسی
11:23ولا تمشی فی الارد مراہا
11:25نہ تکبر کے ساتھ
11:26زمین پر چلنا
11:27نہ اپنے گال کو
11:29لوگوں سے پھیر لینا
11:30کبر کرتے ہوئے
11:32اور میرے بیٹے
11:33اپنی زندگی کے اندر
11:35ایک بیلنس لے کر آنا
11:36تمہاری گفتگو میں
11:38تمہارے چلن میں
11:40تمہاری ہر چیز کے اندر
11:41ایک اعتدال ہونا چاہئے
11:43بالکل
11:44اوٹ او وے نہ ہو
11:45وقصد فی مشک
11:47وغدد من سوتک
11:49اللہ اکبر
11:50تمہاری چال کے اندر بھی
11:52اعتدال ہو
11:52تمہاری آواز کے اندر بھی
11:54اعتدال ہو
11:55اور بیٹا یہ گمان نہ کرنا
11:56کہ بڑی آواز
12:00بڑی آواز
12:03کہتا ڈیچو ڈیچو کرتا ہے
12:05پورے زمانے کو آواز جاری ہوتی ہے
12:07تو کہا کہ بڑی آواز نکالنا
12:09یہ اعزاز و اکرام کی بات نہیں ہے
12:11بڑی آواز نکل جاتی ہے
12:12لیکن فرمایا
12:13اب آپ یہ دیکھیں
12:14یہ ترتیب کا سارا انداز دیکھیں آپ
12:17اس کے اندر
12:18ہر چیز سکھائی ہے
12:20ہر اعتقاد کے اعتبار سے
12:22عمل کے اعتبار سے
12:24معاشرتی اعتبار سے
12:25سوسائٹی کے رہن سین کے اعتبار سے
12:28جب بچہ اس اعتبار سے
12:30تربیت کی جائے
12:31تو پھر کیا ہوتا ہے
12:32کہ انسان دنیا سے چلا گیا
12:34ادامات الانسان
12:35این قطعانہ
12:36املہ
12:36اللہ من صلاست
12:37صدقت
12:38جاریت
12:39علم
12:39ینتفع
12:40او والد
12:41صالح
12:42یدعو
12:43جا بات ہے
12:43سبحانہ
12:44آت اٹھا کے دعائیں دے رہا ہوگا
12:45خدایا
12:46وہ میرے والدین
12:47جنہوں نے ایسی تربیت فرمائی
12:49مجھے ایسی چیزیں سکھا کے گئے
12:51میرا دین سکھا کے گئے
12:52میری دنیا و آخرت
12:54اچھی کر کے گئے
12:55رمایا کہ یہ تب ہوگا
12:57کہ تم اپنی اولاد کی تربیت کروگے
12:59ورنہ یہی مال
13:00صدقہ جاریہ بنتا ہے
13:02یہی اولاد
13:02صدقہ جاریہ بنتی ہے
13:04یہی اولاد
13:05تمہارے لئے
13:05آزمائش اور فطرہ بن جاتی ہے
13:07انما اموالکم
13:08و اولادکم فطرہ
13:17اسی اولاد اور مال کی وجہ سے
13:19کہیں تم خسارے اور
13:21نقصان کے اندر نہ چاہیے
13:23کیا بات
13:23اللہ صاحب نے بہت خوبصورت
13:25قرآن کریم کی آیات ہے
13:26بینات کی روشنی میں
13:27اپنے جواب کو
13:28فرمایا
13:29اچھے تربیت اولاد کا
13:30انداز اور اسلوب
13:32کیسا ہونا چاہیے
13:33یہ بھی بات
13:34بڑی پیش نظر رہنی چاہیے
13:36کہ آیا کیا انداز ہو
13:37کیا اسلوب ہو
13:38اللہ محافظ
13:39اوہی صاحب فرمائے
13:40بسم اللہ الرحمن الرحیم
13:42یقیناً اس کے لیے
13:43سیرت تیبہ میں
13:44اگر ہم دیکھتے ہیں
13:45کہ بچوں کی تربیت
13:47کا جو اسلوب اور انداز ہے
13:48بڑی وضاحت کے ساتھ
13:50ہمیں یہ مل جاتا ہے
13:51بلکہ ہمیں یہ بات
13:51سمجھ میں آتی ہے
13:52کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
13:54نے تربیت اولاد کو
13:56بہت زیادہ اہمیت دی ہے
13:57حتیٰ کہ
13:58آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:59نے یہ سکھایا ہے
14:01لوگوں کو
14:01کہ زندگی میں
14:03ہر چیز سے غافل ہو جانا
14:05بچوں سے غافل نہیں ہونا
14:07اللہ اللہ
14:07یعنی یہ مفہوم نکلتا ہے
14:09سیرت تیبہ سے
14:10یعنی کمانے میں
14:11آپ نے ٹائم کم دیا
14:12دیگر جبوں پہ
14:13آپ کا ٹائم کم ہوا
14:14اتنا پرابلم نہیں ہے
14:16بچوں کے لیے
14:17آپ نے ٹائم کم کر دیا
14:18آپ پرابلم میں آ جائیں گے
14:19اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
14:21یہ سکھاتے تھے
14:22کہ جب تمہارا بچہ
14:24بولنے لگ جائے
14:25تو اس کو سب سے پہلے
14:26کلمہ تیبہ سکھاؤ
14:28بہان اللہ
14:28حضور نے فرمایا
14:29اور حضور نے کیا کہا
14:31کہا جب تم
14:31بچے کو سب سے پہلا بول
14:34کلمہ سکھاؤ گے
14:35تو اس کے مرنے تک
14:37بے فکر ہو جاؤ
14:38بہان اللہ
14:39یعنی آپ نے
14:40اس کی ابتداء کلمہ کر دی ہے
14:41تو وہ انشاءاللہ
14:42اسی نہج پہ آگے چلے گا
14:44تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
14:46کا جو
14:46ایک تو خاکہ
14:47جو ہمیں نظر آتا ہے
14:49تربیت اولاد کا یہ
14:50کہ آپ کبھی غافل نہ
14:52اس لیے خود
14:53آپ صلی اللہ علیہ وسلم
14:54اور آپ کے
14:55اہد کے بچے
14:57آپ صلی اللہ علیہ وسلم
14:58نے ان کو
14:58بھرپور وقت دیا ہے
15:00اپنی مصروفیات کے باوجود
15:02امام حسن کو
15:03کتنا پیار دیا
15:04امام حسین کو
15:05کتنا پیار دیا
15:06اچھا حضرت انس
15:07رضی اللہ تعالیٰ
15:08دس سال آپ کے ساتھ
15:10رہے بچپن
15:10انس بن مالک رضی اللہ
15:11یعنی وہ کیا کہتے تھے
15:12کہ حضور نے
15:13مجھے کبھی ڈانٹا نہیں
15:14اس سے یہ محسوس ہوتا ہے
15:15کہ بچوں کو
15:16آپ بھرپور وقت بھی دیتے تھے
15:18محبت بھی دیتے تھے
15:19خیال رکھتے تھے
15:21حتیٰ کہ
15:22اگر آپ
15:22مدینے سے باہر جاتے
15:24اور واپس آتے
15:25تو بچے
15:26مدینے سے باہر
15:27پہنچ جاتے تھے
15:28اور آپ کی سواری پہ
15:29آگے پیچھے بیٹھ کے
15:30لپٹ کے
15:31حضور کے ساتھ
15:32مدینے میں آتے تھے
15:33سبحان اللہ
15:34حضور بچوں کو
15:35سلام میں پہل کرتے تھے
15:37تو سب سے پہلی چیز
15:38سیرتِ طیبہ یہ ملتی ہے
15:40کہ بچوں کو
15:41ٹوٹ کے پیار دو
15:42ان کو وقت دو
15:43اتنا وقت دو
15:44کہ وہ آپ کے
15:45عادی ہو جائیں
15:46اور آپ ہی سے
15:47سیکھنا ان کا
15:48مطلوب بن جائے
15:49جب یہ
15:50طریقہ ہو جائے گا
15:51تو پھر آپ ان کو
15:52جو بولتے جائیں گے
15:53وہ سیکھتے جائیں گے
15:54تو یہ بڑا ایک حکمت کے ساتھ
15:56آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:57نے جو ہے
15:58کوئی اس چیز کو آگے بڑھا ہے
15:59اسی لئے ہم دیکھتے ہیں
16:00کہ وہ جو حضور کے
16:01اہد کے بچے تھے
16:02وہ بعد میں
16:03اپنے اہد کے
16:04امام بنے
16:06سبحان اللہ
16:07مام حسین
16:07جو حضور کے
16:08کندوں پہ کھیلے
16:09میدانِ کربلا میں
16:11ان کا کردار دیکھیں
16:12تربیتِ مصطفیٰ تھی
16:14جو آپ نے
16:15چھوٹے چھوٹے بچوں کی کی
16:16اچھا کھانے کے موقع پہ
16:18اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
16:19باہر ہوتے
16:20تو بچے آپ کے عدد آ جاتے
16:21عمر بن نبی سلمہ
16:23کہتے ہیں کہ
16:23میں جب کھانا کھاتا تھا
16:24تو میں پلیٹ میں
16:26ہر جگہ ہاتھ چلاتا تھا
16:27تو حضور کے ساتھ
16:28بیٹھا ہوا تھا
16:29جب کھانا کھانے لگا
16:30تو حضور علیہ السلام
16:31مجھے کھانا بھی کھلاتے
16:32اور مجھے کہتے ہیں
16:33کہ بیٹے
16:34اپنے سامنے سے کھاتے ہیں
16:36سیدھے ہاتھ سے کھاتے ہیں
16:38بسم اللہ پڑھ کے کھاتے ہیں
16:40کوئی بچے
16:41اپنے والد کے ساتھ
16:42جا رہا ہوتا نا
16:42تو اس سے پوچھتے حضور
16:44یہ کون ہے آپ کے
16:45یہ میرے والد ہیں
16:47جب یہ ذہن میں آتا
16:48تو پھر حضور کہتے
16:49کبھی ان سے آگے نہیں چلنا
16:52سبحان اللہ سبحان
16:53کبھی ان سے پہلے نہیں بیٹھنا
16:55اور کبھی ان سے پہلے نہیں کھانا
16:59کھانے میں عدب
17:00بیٹھنے میں عدب
17:01چلنے میں عدب
17:02یہ حضور اپنے زمانے کے بچوں کو سکھاتے تھے
17:05تو یہ عدب و تربیت
17:07آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
17:08کسی بھی مرحلے پر
17:10آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
17:12اپنے بچوں کے ساتھ
17:13اس میں کمی نہیں کی
17:14اس میں یہ ہوتا ہے
17:16کہ لوگ جب اس میں غفلت برتتے ہیں
17:18تو ان کو بہت آگے ہم اس پر بات بھی
17:20یہ ضرور بات کریں گے
17:21ایک وقفہ لے لیتے ہیں
17:23وقفے کے بعد لوٹیں گے
17:24اللہ محافظ اویسما صاحب
17:25اپنے جواب کا بقی ہے جو حصہ انشاءاللہ
17:27ورشاد فرمائیں گے
17:28ہمارے ساتھ رہیے گا
17:29جی نظرین آپ کا خیر مقدم ہے
17:30تربیت اولاد اور اس کے تقاضے
17:32بہت اہم موضوع
17:34بہت زیادہ اہم موضوع
17:36ہر والدین کے لیے
17:38ہر گھر کا موضوع ہے
17:39اور اس پر مزید بات کریں گے
17:41لیکن ہمارے پروگرام کا حسن یہ ہے
17:43کہ ہم گفتگو بھی رکھتے ہیں
17:44ساتھ میں کلام بھی شامل کرتے ہیں
17:46تاکہ ایک آپ کا رجحان بنتا رہے گفتگو سننے کا بھی
17:50اور کلاموں کی جانب بھی بڑھتے رہے ہیں
17:52تو میں چاروں سناخانوں سے گزارش کروں گا
17:54کہ وہ عقیدت نظر ہے
18:31سبحان اللہ
18:44مکچند بدر شاشانی
18:59مکچند بدر شاشانی
19:05ماتھے چمک دلات مورانی
19:11ماتھے چمک دلات مورانی
19:19خالی زرفت اکمس
19:24خالی زرفت اکمس
19:31خالی زرفت اکمس
19:34مکمول اتین
19:37when is the name being of the Kalau
19:40Subhan Allah
19:54। । । । । । ।
20:24। । । । । । । । ।
20:57। । । । । । । । । । । । । । । । । । । ।
21:02। । । । ।
21:03। । । । । । । । । । । । । । । । ।
21:03। । । । । । । । । । । । ।
21:04। । । । । । । ।
21:23ڈو میں جانا کا جانا کا
21:34ڈیسے شان تو شانا
21:49ڈیسے شان صلی اللہ علیہ وسلم
22:02سبحان اللہ
22:08اجمل کا محسن کا
22:21ڈیسے شان صلی اللہ علیہ وسلم
22:25سبحان اللہ
22:28اجمل کا
22:32محسن کا
22:36محسن کا
22:38کتے محر
22:40علی
22:42کتے تیری
22:44سنا
22:46کتے محر
22:48علی
22:50کتے تیری
22:52سنا
22:56کتے تیری
22:57کتے جان
23:02سبحان اللہ
23:04Allah, Subhan Allah, Subhan Allah
23:19Allah, Subhan Allah, Subhan Allah
23:35عالی حضرت سید پیر محر علی شاہ صاحب رحمت اللہ تعالیٰ کا
23:39کلام بہت ہی خوبصورت کلام شہرہ آفاق کلام
23:43ایسی آپ نے اس کے اندر حضور کی ناد بیان فرمائیے
23:46کہ حضور کے حسن و جمال کا ذکر فرمایا
23:49ہر شیر کو کمال انداز میں پیش کیا ہے
23:52بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:54ناظرین محترم آج جو موضوع ہے
23:57بہت اہم موضوع ہے
23:58تربیت اولاد اور اس کے تقاضے
24:00اس حوالے سے والدین پر جو ذمہ داری آئیت ہوتی ہے
24:04مفتی صاحب قبلہ مفتی محمد اکمل مدنی صاحب
24:06ہمارے سوال کا جواب انعیت فرمائیں گے
24:08حضرت والدین پر اس سلسلے میں جو ذمہ داری آئیت ہوتی ہے
24:10اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے
24:13جیسے کہ تمہیدی کلمات میں عرض کیا گیا
24:16سب سے بڑی ذمہ داری تو والدین پر ہی ڈالی گئی ہے
24:19جیسے تو علماء وارث انبیاء ہیں
24:23وارث نبی ہیں
24:24اور ہمارا کام ہے ہدایت دینا
24:25لوگوں کو تربیت کرنا
24:27اصلاح کرنا
24:28لیکن آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت دیکھئے
24:31کہ یقینا ہر عالم ہر گھر میں داخل نہیں ہو سکتا
24:34اس لئے گھر کے سرپرستوں کو بھی ذمہ داری دے دی
24:37کہ ابتدائی تعلیم و تربیت
24:39انہی علماء کی تعلیمات کی روشنی میں
24:41جو قرآن و حدیث سے اخذ شدہ ہیں
24:43اپنے بچوں میں منتقل کریں
24:45اب یہ حکمت کے ساتھ ایک کام کرنا ہوتا ہے
24:48اس میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے
24:50کہ خود والدین کو علوم دینیہ کا حاصل ہونا انتہائی ضروری ہے
24:55کیونکہ تربیت کے لئے علم چاہیے
24:58اور جیسے بھی عرض کیا کہ خود اپنے آپ کو رول موڈل بھی بنانا ہے
25:01تو اس کا مرتبہ کیونکہ آیت کے پہلا حصہ کیا ہے
25:03کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ
25:05تو علم دین سیکھیں نیکی پر عمل کریں
25:08برائی سے اپنے آپ کو روکیں
25:09اپنے آپ کو تعلیم شرعہ کی ایک چلتی پھرتی تصفیر بنا لیں
25:13کہ بچوں کو کچھ نہ بھی کہیں
25:15تو وہ دیکھ دیکھ کے سیکھتے رہیں
25:16اور اس کے لئے علم دین درکار ہے
25:18اب جیسے ہم اکثر سمجھاتے ہیں
25:20کہ جو عامال اللہ تبارک و تعالی کو پسندیدہ ہیں
25:25اور بلا کراہت جن کے کرنے کی
25:26یا بلجبر جن کے کرنے کا حکم ہے
25:29وہ پانچ قسم کے ہیں
25:30فرض واجب سنت موقعہ غیر موقعہ
25:33مستحب اور مبا
25:34مبا کو آپ ہٹا لیں
25:36فرض واجب سنت موقعہ میں تو کوئی چوائس نہیں ہے
25:39ان چیزوں کرنا ہے
25:41جب بچوں کی تربیت کریں تو ان تین میں تو
25:43نو کمپرومائز
25:44چھوٹے بچوں میں سنت موقعہ کو نرم رکھیں
25:48نماز کا حکم کو فرمایا
25:50اور دلالت و نس سے
25:52ہمارے علمائے کرام نے
25:54سات سال کے بچے کو روزے کا حکم بھی دیا
25:56جیسے نماز پڑھنے کا حکم دینا ہے
25:58اور دس برس کے اندر سختی کرنی ہے
26:00ایسے روزے کے اندر
26:01اس کا مطلب ہے کہ فرض واجب سنت موقعہ میں ریایت نہیں ہے
26:05اس طرح اس کے جسٹ اپوزیٹ
26:06حرام مقروع تحریمی
26:07سنت موقعہ کا ترک اساتھ
26:10پھر مقروع تنظیر اور پھر خلاف اولہ ہوتا ہے
26:12اس میں بھی پہلے تین امپورٹنٹ ہیں
26:14وہ اس میں سختی کرنی ہے
26:15اس کے اس طرف اب آ جائیں آپ
26:17سنت غیر موقعہ مستحب
26:18اس میں شریعت کا کوئی مطالبہ ایسا نہیں ہے
26:21کہ انسان قابلِ گریفت ہو
26:22اس میں ملامت تک نہیں ہے
26:24اس میں والدین کو بلکل پولائٹلی
26:26حتیٰ کہ چھوٹا ہو یا جوان تک ہو جائے
26:29بلکل نرمی سے ہی بات کرنی ہوگی
26:31اس میں سختی شدت کرنے کا مطلب
26:33مزاج شرعہ کے خلاف جانا ہے
26:35شریعت نرمی چاہتی ہی ہم سختی
26:36لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں
26:38بعض وقت بچے فرض ترک کر رہے ہوتے ہیں
26:39اس لئے کہ ماں باپ کو اس کا علم نہیں ہوتا
26:41کہ چیز ان کے لئے لازم ہے
26:42ان کے ذہن میں مستحب کی ایک اہمیت ہوتی ہے
26:45مستحب پر مار رہے ہوتے ہیں
26:47ایک بچہ اگر فرض کر لے
26:48کہ بغیر ٹوپی پہنے کھانا کھالے
26:50والد صاحب نے دو دفعہ کہا تھا
26:51بیٹا سر ڈھک کے کھانا تھی
26:52اس دفعہ تھپڑ مارتا ہے باپ زور سے
26:54کہ تم نے سر کیوں نہیں ڈھکا
26:55حالانکہ کوئی فرض واجب تو نہیں ہے
26:58ایسی ایک والد صاحب نے مجھے کہا
27:00کہ دیکھیں میرا مقدمہ آگیا ان دونوں کا
27:01بیٹا اپنے دلائل
27:02اببجان اپنے دلائل
27:03کہ میرا بیٹا بغیر ٹوپی کے نماز پڑھتا ہے
27:06اور کہہ رہا ہے جائز ہے
27:07ایسے کیسے نماز ہو جائے گی
27:09تو بھی گزارش کی کہ ٹوپی پہن کے ہی
27:11عدب اور احترام ہے
27:12لیکن خود فقہہ نے لکھا ہے
27:14کہ اگر خوشو خضو بغیر ٹوپی کے آئے
27:16تو یہی افضل ہے
27:17اس طرح آنکھیں بند کر کے آنکھیں کھول کر پڑنا
27:20دونوں میں خوشو خضو جس میں زیادہ ہے وہ مطلوب
27:22اس طرح واش روم کے اندر اگر برہانہ سر جائیں
27:25ویسے نبی کریم سر ڈھک کے جائے کرتے تھے
27:27سنت مستحبہ ہے
27:28لیکن اگر اولاد ویسے چلی گئی
27:30تو اس میں پولائٹلی ہمیشہ سمجھانا ہوگا
27:32اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے والدین کو پتا ہونا
27:34کہ فرض کیا ہے واجب کیا ہے
27:36سنت موقع ہے کہ تاکس میں ہم سختی کریں
27:38اور غیر موقعہ اور مستحب کے اندر نرمی رکھیں
27:41یہی میاں بیوی کا معاملہ ہوتا ہے
27:43بعض اوقات کے شوہر مستحبات پہ بیوی کو گالیاں بکرا ہوتا ہے
27:46اور وہ ترک فرائز کر رہی ہے
27:48اس کو پروابی نہیں ہے
27:49پتہ ہی نہیں علم نہیں ہے
27:50ایک تو یہ چیز بہت ضروری ہے
27:52دوسرا والدین کو اپنی خواہشات
27:55نفسانیہ کی قربانی دینا انتہائی ضروری ہے
27:58ایک حاجی صاحب حج کرنے کے بعد
28:00ہاتھ میں تذبیع لے کر
28:01جب آئیٹم سانگ دیکھ رہے ہوں گے بیٹھ کر
28:03تو اولاد کی تربیت کیا کریں گے وہ
28:05لیکن خواہش ہے کہ فنہ ہونے کا نام نہیں لے رہی
28:08وہ نے کہا کہ یہ حج کر لیا
28:10پہلے پاپ تو سارے دھل گئے
28:11اور آگے تذبیع سنبھال لی حاجی صاحب نے
28:13مسجد میں عزت بھی مل رہی ہے
28:14نیم پریٹ بھی لگا لی حاجی نتو خان
28:16تو اب اس کے بعد تو اپنا بلکل کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے
28:19بھئی آپ رول موڈل نہیں بنیں گے
28:20تو بچے کیسے وہ
28:21اب والد صاحب خود داڑیاں صاف کروا رہے ہوں
28:23اور بچے کو کہیں کہ بیٹا تم داڑی رکھ لو
28:26ابا جان سیگراتیں سٹے آ رہے ہیں
28:27اور بولو بیٹا پینے نہیں کینسر ہو جائے گا اس میں
28:29ماں بچی کو جھوٹ سکھا رہی ہے
28:31سولہ چھبیس سال کی بچی اور کہتی ہے
28:33ابھی سولویں سال میں لگی ہے
28:34بیٹا بولو ہاں ہاں امی ہاں
28:36وہ ابھی سولویں سال ہی اس کا پورا نہیں ہو
28:38اب پانچ چھ سال گزر گئے ہیں اس کے
28:39مو بھر بھر کے آپ جھوٹ بولیں
28:41آپ خود شریعت کے خلاف چلیں
28:44شریعت کو اپنے اوپر نافذ کرنا
28:46آپ کو بوجھ محسوس ہو
28:47تو بتائیے پھر بچوں کی صحیح تربیت کیسے ہو
28:49اس لیے خلاص کلام یہ ہے
28:52کہ سب سے پہلے ماں باپ کو
28:53سنجید کی کے ساتھ
28:55اپنے ماں باپ کی گریفت کیے بغیر
28:57میں ہمیشہ کہتا ہوں
28:58کہ ضرور دیکھیں ضرور
28:59کہ چونکہ آپ کی تربیت نہیں ہوئی
29:00تو یہ وائرس آگے منتقل ہونے والا ہے
29:02لیکن ماں باپ کو برا نہ کہیں
29:04ٹھیک ہے ان کی بھی تربیت نہیں ہوئی تھی
29:05اب آپ نے آگے کیا کرنا ہے
29:07وہ لا عمل تیار کریں
29:08اور میں تو جو غیر شادی شدہ
29:10ینگ سٹرز ہوتے ہیں
29:11میں ان کو بھی جوہ میں جیسے بیان کر رہا ہوتا
29:13میں کہتا ہوں
29:13کہ آپ لوگ اپنی فیملی کو
29:15آپ نے جنت میں لے کے جانا ہے
29:18ابھی اپنے اندر چینج لے کر آئیں
29:19لیکن اپنی فیملی کے سامنے
29:21آپ رول موڈل بن سکیں
29:22ورنہا آپ گوڈ رول موڈل نہیں ہوں گے
29:24آپ بیڈ رول موڈل ہوں گے
29:26کہ فجر میں آپ سو رہے ہوں گے
29:28خراب چیزیں آپ دیکھ رہے ہوں گے
29:29گالی گلوچ آپ کر رہے ہوں گے
29:31حرام حلال کے تمیز آپ کو نہیں ہوگی
29:33اور یہ ساری چیزیں
29:34اولاد لینے کے بعد
29:35جسے آپ نے ایک جملہ فرمایا
29:36کہ گناہ جاریہ ہو جاتی ہے
29:38اولاد بعض اوقات
29:39وہ گناہ جاریہ ہوتی رہے گی
29:40تو ایک تو یہ کہ
29:42اپنے آپ کو رول موڈل بنائیں
29:43دوسرا ان جو
29:44جو ہم کہتے ہیں
29:45کہ شریح حیثیتیں عمال کی
29:47ان پر توجہ کریں
29:48کس میں سختی کرنی
29:49کس میں نرمی کرنی
29:50تیسی چیز یہ ہوتی ہے
29:51کہ بعض اوقات
29:52ہمیں بعض چیزوں میں
29:54صرف نظر کرنا پڑتا ہے
29:56ہر چیز میں گریفت نہیں ہوتی
29:57صرف نظر کا مطلب ہے
29:59کہ تھوڑا چشم پوشی سے کام لینا
30:01دل سے راضی نہ ہوا
30:03ایک والی صاحب نے بیٹے کو منع کیا
30:05کہ بیٹا یہ آوارا گئے
30:06لڑکیں ان کے ساتھ نہ کھیلنا
30:07ایک دفعہ دو تھا
30:08وہ سختی سے منع کیا
30:09باپ آیا اور دیکھا
30:10کہ وہ کھیل رہا ہے ان کے ساتھ
30:12باپ نے سوچا
30:12سب کے سامنے کہوں گا
30:13تو یہ شاید گل فیل کرے گا
30:15یہ اس کی بیجتی ہوگی
30:16چلے گیا باپ گھر میں
30:17کہ آئے گا تمہیں
30:18پھر اس کو سمجھاؤں گا
30:19تو کیا باپ راضی ہو کر گیا
30:20نہیں
30:21اس نے صرف نظر کیا
30:22تو کچھ چیزوں سے
30:23صرف نظر بھی کرنا ہوتا ہے
30:25بعض وقت پیرنٹس
30:26اتنا زیادہ بچوں پہ
30:27فورس کرتے ہیں
30:28اور مسلط ہو جاتے ہیں
30:30کہ کسی چیز میں
30:31ان کو اسپیس دینے کے لئے
30:32تیار نہیں ہوتے ہیں
30:33اس سے بچوں میں پیدا ہوتی ہے
30:34بغاوت
30:35ایک زید
30:36ایک کوفت
30:37کیار مذہب بہت سخت ہے ہمارا
30:38ہر چیز کے اندر سختی کرتا ہے
30:40کچھ چیزوں کے اندر
30:41نرمی رکھنی چاہیے
30:42کچھ چیزوں میں
30:42تھوڑی سختی رکھنی چاہیے
30:44اور آخری بات بس یہ
30:45کہ بعض وقت
30:45بچوں کو تفریقی بھی
30:46ضرورت ہوتی ہے
30:47نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
30:49کے زمانے میں
30:49بچے کھیلا کرتے تھے
30:50کھیلونوں سے
30:51حضرت آنس کہتے ہیں
30:52ایک دفعہ باہر کے سرکار
30:53نے مجھے کام سے بھیجا
30:54بچے کھیل رہتے میں
30:55دیکھنے لگا
30:56سرکار پیچھے سیار
30:57میرے دو کندوں پہ
30:58ہاتھ رکھا
30:58کہا ہم آپ کا انتظار
30:59کر رہے ہیں
30:59اور آپ یہاں کھڑے ہوئے ہیں
31:01تو یعنی بچے
31:01بچے کو اس زمانے میں
31:02کھیلتی تھے نا
31:03یہ ایک فطرت کا تقاضی ہے
31:04بعض لوگ اپنے بچوں کو
31:05شروع سے غوث پاک
31:06بنانے کی کوشش کرتے ہیں
31:07کہ خیف سے عبادہ
31:08اے عبدالقادری
31:09تم کھیل کے لئے
31:10تو پیدا نہیں ہوئے
31:11بچوں گا سے بیڑ بھی
31:12چھین لو گاڑیاں بھی
31:13چھین لو نہیں
31:13بیٹا بس تذبیح پڑو
31:14یہ اس طرح نہیں ہوتا
31:16رمضان کے اندر بھی
31:17تھوڑا سا بچوں کے سپیس
31:18خلاص اکرام
31:19مختصر وقت میں
31:20تمہیں اتنے ہی کہہ سکتے ہیں
31:21کہ اچھی طریقے سے
31:22والدین اپنی تربیت کو
31:23اور علم کو کامل کر کے
31:25اور حسن طریقے سے
31:26ڈیلیور کرنے کی کوشش کریں
31:27ادعو الہ سبیل ربک
31:29بالحکمت والمعجزت الحسنہ
31:31اپنے رب کے راستے
31:32کے طرف بلاؤ
31:33اچھی تدبیر
31:34اور اچھی پختہ تدبیر
31:35اور اچھی نصیحت کے ساتھ
31:37بڑی حکمت ہے
31:38بڑی حکمت ہے
31:39اور ظاہر ہے
31:40یہ دین جو ہے
31:41دین فطرت ہے
31:42تو اس کی جو
31:43جتنی تعلیمات ہیں
31:44جتنے احکامات ہیں
31:45وہ این فطرت ہیں
31:47اور اگر اس کو
31:48اپنا لیا جائے
31:49تو بڑے فوائد ہیں
31:49اس کے ایک مختصر سا وقفہ
31:51وقفے کے بعد
31:52لوٹتے ہیں ہمارے ساتھ رہیے گا
32:01روح مکہ مدینہ
32:04آدمی کو بناتا ہے
32:08یہ انسان
Comments