Skip to playerSkip to main content
  • 12 minutes ago
گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں، ژالہ باری، غیر متوقع برف باری اور سیلاب جیسی قدرتی آفات نے ان فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

Category

🗞
News
Transcript
00:28ڈمو کشمیر
00:30بہت بڑا فائدہ بن جائے گا نقصان سے بچ جائے گا
00:34کراپ انسانس ہو جائے گا اس میں گورنمنٹ برپور تعاون کرے گا
00:37اور انشاءاللہ ہمیں امید ہے کہ اس سکیم سے اس کونوں سے
00:41اس سے ہمارے گروور صاحب کو جو زمیندار صاحبان ہے
00:44زمیندار خاص کر جن کے پاس باگ ہے خاص کر جو ہمارا علاقہ ہے
00:48فانیانس کا بہت بڑا ذریعہ ہے یہ فروڈ کا ہے
00:51پلواما کی بات کی جائے تو یہاں تقریباً 81,000 کسان سیپ کی کاشت سے وابستہ ہے
00:58جبکہ زافران سے تقریباً 15,000 کسانوں کا روزگار جڑا ہوا ہے
01:02بہت اچھی بات ہے اور ہمیں اپریشیٹ کرنا چاہیے
01:05اگر گورنمنٹ آف انڈیا کی طرف سے یا جیند کے گورنمنٹ کی طرف سے
01:08جو ہیں کراپ انشورنس
01:10کراپ انشورنس تو خیر یہاں اس سے پہلے بھی تھا
01:13بٹ وہ ایسی چیزوں میں تھا وہ کراپ انشورنس
01:15جس کی پرڈکشن یہاں بہت کم ہے
01:17لہذا اگر کراپ انشورنس میں
01:19یہ اپل انڈسٹری کو اور سیفران انڈسٹری کو لیا جا رہا ہے
01:23تو ہم سب کو اس کو ویلکم کرنا چاہیے
01:25اور اس سے جو ہے کسان کو بہت فائدہ ہوگا
01:27انہی حالات کے پیشی نظر جمہو کشمیر حکومت نے
01:30مالی سال 2627 کے بجٹ میں
01:33پھلوں کی فصلوں کے لیے
01:34ایک جامے کراپ انشورنس سکیم کا
01:37الہان کیا جو فروری
01:382226 کے عوائل میں پیش کی گئی
01:42یہاں ہمارے جمہو کشمیر کے
01:44تقریباً 80% لوگ جو ہیں
01:45وہ گاؤں جہاں تو میں رہتے ہیں
01:47اور اس میں
01:49میکسیمم جو آگریکلٹر سے
01:51واپستہ آگریکلٹر اور ہارٹیکلٹر سے
01:53اور اس میں تقریباً 40% لوگ
01:55وہ ہیں جن کے پاس
01:57سیب کے باغات ہے
01:58اور خاص کر یہ جو سائفران
02:01علاقہ ہے ہمارا پانپور سائیڈ ہے
02:03اور اس کے علاوہ اور بھی علاقے ہیں
02:05جہاں سائفران کی کاش ہوتی ہے
02:07اور اس میں
02:09یہاں جو یہ جو
02:10گلوبل واروینگ کی وجہ سے
02:12اور موسم کی تبدیل کی وجہ سے
02:14اس میں کبھی کبھی
02:16اس میں فصل میں کافی نقصان ہوتا ہے
02:18اور کاشکار جو
02:20ان باغو میں اپنا پیسہ لگاتے ہیں
02:23تقریباً ساتھ آٹھ مینے کی
02:25محنت پھر ان کی ضائع ہو جاتی ہے
02:27اور اس میں
02:28مجھے لگتا ہے کہ جو
02:30یہاں ہمارے کانوسرہ اسمبلی میں
02:33یہ پائنٹ آیا کہ ان کے لئے
02:35یہ جو
02:36insurance ہونا چاہے
02:38یہ مجھے لگتا ہے کہ یہ
02:40خوشائن قدم ہے
02:41اگر اس میں
02:43administration اس کی طرف توجہ دے
02:45خاص کر یہ جو
02:46lg administration ہے
02:47مجھے لگتا ہے کہ اگر
02:49اس کو وہ
02:50approve کر کے
02:51اس پر لاغو کیا کریں
02:53تو مجھے لگتا ہے کہ
02:55کافی لوگ
02:56رہت کی سانس لے
02:58کسانوں نے حالیہ برسوں میں
03:00ہونے والے نحسانات کے
03:01فوری معافضے پر بھی
03:02زور دیا ہے
03:03ان کے مطابق اگر اس اسکیم کا
03:05زمینی سطح پر موجسر نفاظ
03:07یقینی بنایا گیا
03:08تو یہ باغبانی کے شعبے کے لئے
03:10ایک سنگنیل ثابت ہوگی
03:11اور نہ صرف کسانوں کو
03:13مالی تحفظ فراہم کرے گی
03:14بلکہ جب مکشمیر کے مجموعی
03:16اقتصادی ترقی میں بھی
03:18نمائن کھردار ادا کرے گی
03:20ایٹیوی بھارت کے لئے
03:21پلوامہ سے سید عدل مستخ کی ریپورٹ
03:23موسیقی
Comments

Recommended