- 2 days ago
Who Was Safoora? The mysterious wife of Prophet Musa (A.S), also known as Zippora in the Bible, holds a deeply spiritual and historical significance. In this video by Muslim Matters TV, we explore the real story of Safoora (Zippora) — her noble lineage, her meeting with Prophet Musa (A.S), and the divine wisdom behind their marriage.
Discover how Allah (SWT) destined this powerful bond, the trials Prophet Musa (A.S) faced before meeting her, and the lessons hidden in this event for every believer. This story reflects patience, destiny, and faith in Allah’s plan.
We also shed light on ancient references and Islamic traditions that reveal why Safoora (Zippora) played an essential role in the life of one of the greatest prophets in history.
📺 Watch till the end to uncover unknown facts about:
Prophet Musa (A.S)’s journey to Madyan
The beautiful story of Safoora (Zippora)
Their divine marriage
Lessons for Muslims today
📌 Presented by: Noor TV
🔔 Follow for more authentic Islamic stories, hidden prophecies, and Quranic wisdom.
Discover how Allah (SWT) destined this powerful bond, the trials Prophet Musa (A.S) faced before meeting her, and the lessons hidden in this event for every believer. This story reflects patience, destiny, and faith in Allah’s plan.
We also shed light on ancient references and Islamic traditions that reveal why Safoora (Zippora) played an essential role in the life of one of the greatest prophets in history.
📺 Watch till the end to uncover unknown facts about:
Prophet Musa (A.S)’s journey to Madyan
The beautiful story of Safoora (Zippora)
Their divine marriage
Lessons for Muslims today
📌 Presented by: Noor TV
🔔 Follow for more authentic Islamic stories, hidden prophecies, and Quranic wisdom.
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30شہزادوں جیسی زندگی گزار رہا تھا
00:32عزت دولت طاقت
00:34ہر چیز اس کے قدموں میں تھی
00:35مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا
00:38ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ
00:40سب کچھ تبدیل ہو گیا
00:41اسے شہر چھوڑنا پڑا
00:42اور وہ اکیلا بھوکا پیاسا
00:44ایک طویل سفر پر نکل پڑا
00:46ریت کے لا متناہی میدان
00:49دھوپ کی تپش اور بھوک سے کمزور جسم
00:52بس ایک دل تھا جو اپنے رب کو پکار رہا تھا
00:54آخر اس نے آسمان کے طرف ہاتھ اٹھائے
00:57اور کہا
00:57اے میرے رب
00:59میں اس بھلائی کا محتاج ہوں
01:01جو تو میری طرف نازل فرمائے
01:03دوستے یہ وہ لمحہ تھا جب ایک بھوکے کی دعا تقدیر بن گئی
01:06اللہ تعالیٰ نے اس مسافر کو صرف کھانا ہی نہیں دیا
01:09بلکہ کھانا بنانے والی بھی عطا کر دی
01:12جی ہاں یہی وہ وقت تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات
01:15حضرت سفورہ رضی اللہ تعالیٰ انہا سے ہوئی
01:18ایک ایسی پاکیزہ اور حیادار لڑکی
01:20جس کی ایک ملاقات نے تاریخ کا دھارہ بدل دیا
01:23یہ ملاقات کیسے ہوئی
01:25کہ واقعی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
01:27ایک نہیں بلکہ دو بیویاں آتا ہوئیں
01:29اور ان کے سسر حضرت شویب علیہ السلام نے کن شرائط پر ان سے نکاح کیا
01:33یہ سب کچھ آج آپ اس ویڈیو میں سنیں گے
01:36یعنی ایک ایسا واقعہ جو محض نکاح نہیں
01:38بلکہ تقدیر کے فیصلے کی مکمل کہانی ہے
01:40دوستو یہ پورا واقعہ یہاں سے شروع ہوتا ہے
01:43جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر میں مقیم تھے
01:46آپ جوان طاقتور اور نہایت حوصلہ مند تھے
01:49ایک دن شہر میں داخل ہوتے ہی دیکھا
01:51کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے
01:53ایک بنی اسرائیل ستھار دوسرا قبطی
01:56بنی اسرائیل نے مدد کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پکارا
01:59آپ علیہ السلام آگے بڑھے اور ایک گھونسہ مارا
02:01وہ گھونسہ اتنا زوردار نکلا کہ
02:03قبطی موقع پر ہی جا بحق ہو گیا
02:05یہ واقعہ مصر میں آگ کی طرح پھیل گیا
02:08پیرون کے دربار میں جب یہ خبر پہنچی
02:10تو اعلان ہوا کہ موسیٰ کو
02:11ہر حال میں گرفتار کیا جائے
02:13لیکن ابھی رات بھی نہیں گزری تھی
02:15کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا
02:17اے موسیٰ درباری تمہیں قتل کرنے کا حکم دے چکے ہیں
02:20پوری طور پر یہاں سے نکل جاؤ
02:22بس یہی وہ لمحہ تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر چھوڑ دیا
02:25نہ کھانے کو کچھ نہ ساتھ میں کوئی سواری
02:28اور سامنے لمبا ویران سفر
02:30قرآن کریم میں ہے کہ آپ مدین کی طرف روانہ ہوئے
02:33راستے میں بھوک پیاس اور تھکن سے چور ہو گئے
02:36لیکن دل میں ایک ہی یقین تھا
02:38جس رب نے مجھے یہاں تک پہنچایا
02:39وہ آگے کا راستہ بھی دکھائے گا
02:41آخر کا جب آپ مدین کے کونے کے قریب پہنچے
02:44تو ایک حیرت انگیز منظر سامنے تھا
02:46کئی چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے
02:49اور ایک طرف دو لڑکیاں کھڑی تھیں
02:50جو شرم و حیاء کے ساتھ
02:52اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں
02:53یہی سے وہ ملاقات شروع ہوئی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی
02:57زندگی کا روح ہمیشہ کے لیے بدل دیا
02:59حضرت موسیٰ علیہ السلام میں جب وہ دو لڑکیاں دیکھیں
03:02تو دل میں نرمی پیدا ہوئی
03:04قریب جا کر پوچھا
03:05تم دونوں اپنے جانوروں کو پیچھے کیوں روکے کھڑی ہو
03:07انہوں نے عدب سے جواب دیا
03:08ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتی
03:11جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو نہ ہٹائیں
03:14اور ہمارے والد بہت بوڑھ ہیں
03:15دوستو یہ جواب سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں
03:18ایک عجیب حساس جاگا
03:20رحم غیرت اور مدد کا جذبہ
03:22آپ نے بغیر کوئی سوال کیے
03:24خود ہی کونے پر جا کر وہ بھاری پتھر ہٹا دیا
03:27جسے دس آدمیں بلکر بھی نہ ہٹا سکتے تھے
03:29پانے نکالا
03:30ان کے بکریوں کو پلایا
03:32اور پھر تھکے قدموں کے ساتھ
03:33ایک درک کے سائے تلے جا بیٹھے
03:35بھوک کی شدت تھی
03:36بدن نڈھال تھا
03:38لیکن دل میں ایمان کی حرارت زندہ تھی
03:40اور وہیں بیٹھ کر انہوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی
03:43اور وہ تاریخی دعا مانگی
03:44جس نے تقدیر کا فیصلہ بدل دیا
03:47حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا
03:49اے میرے رب میں تیری بھیجی ہوئی بھلائی کا
03:51سخت مہتاج ہوں
03:53اور دوستو یہ دعا رد نہیں ہوئی
03:55کیونکہ جس دل سے نکلی تھی
03:56وہ دل سچا
03:57ٹوٹا ہوا اور بندگی میں ڈوبا ہوا تھا
03:59ابھی وہ دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی
04:01کہ سامنے کا منظر دیکھیں
04:03ان دو لڑکیوں میں سے
04:04ایک شرم و حیاء کے ساتھ چلتی ہوئی
04:06حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی
04:08اور نرم آواز میں کہنے لگی
04:10میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں
04:12تاکہ وہ آپ کو احسان کا بدلہ دیں
04:14جو آپ نے ہمارے جانواروں کو پانی پلا کر کیا ہے
04:16دوستو یہ وہ لمحہ تھا جب ایک بھوک کے تنہا مسافر کے لیے
04:20رب نے نجات عزت اور مستقبل کے دروازے کھول دیئے
04:23حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کے ساتھ چل پڑے
04:26مگر دوستو یہاں دیکھیں ان کی امانت اور پاکیزگی
04:28حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
04:30میں راستہ نہیں جانتا
04:32تم میرے پیچھے چلو
04:33جہاں راستہ بدلنا ہو
04:34وہاں ایک کنکری پھینک دینا
04:36میں سمجھ جاؤں گا
04:37کتن عظیم مثال تھی
04:38حیاء اور کردار کی
04:40اور یہی حیاء یہی امانت
04:41بعد میں ان کے نصیب میں نکاح بن کر لکھی گئی
04:44جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بزرگ کے سامنے پہنچے
04:47تو سامنے وہی نبی خدا
04:49حضرت شویب علیہ السلام تھے
04:50حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عدب سے سلام کیا
04:53بیٹھے اور اپنا پورا واقعہ سنا ڈالا
04:55کہ کیسے غلطی کی وجہ سے
04:56وہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے
04:58حضرت شویب علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا
05:01درو نہیں
05:01تم ظالموں کے علاقے سے نکل آئے ہو
05:03یہ جگہ ان کی حکومت سے باہر ہے
05:05پھر ان کی بیٹی یعنی حضرت صفورہ رضی اللہ عنہ نے
05:08باپ سے کہا
05:09اببا جی انہیں اپنے پاس عجرت پر رکھ لیجئے
05:12کیونکہ جو عجرت پر رکھا جائے
05:13سب سے بہتر وہ ہوتا ہے
05:15جو طاقتور اور ایماندار ہو
05:16یہ سنکہ حضرت شویب علیہ السلام نے فرمایا
05:18بیٹی
05:19تم نے کیسے جانا کہ وہ قوی بھی ہے اور امین بھی
05:21صفورہ رضی اللہ عنہ نے ارز کیا
05:23اببا جان
05:24کوئے کا وہ پتھر جو دس آدمی نہ ہلا سکتے تھے
05:27انہوں نے اکیلے ہٹا دیا
05:28یہ ان کی قوت کی دلیل ہے
05:29اور جب میں انہیں بلانے گئی
05:31تو انہوں نے کہا
05:32میں تمہارے آگے نہیں چلوں گا
05:34تم پیچھے چلو
05:35یہ ان کی امانتداری ہے
05:36دوستو یہی وہ لمحہ تھا جب حضرت شویب علیہ السلام نے فرمایا
05:39میں اپنے دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کرنا چاہتا ہوں
05:42حشت پڑھ کے تم آٹھ سال تک میرے ساتھ کام کرو
05:45اور اگر دس سال پورے کرو
05:46تو یہ تمہاری مہربانی ہوگی
05:48اور میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ تم کو کسی مشقت میں ڈالوں
05:51خدا کو منظور ہے
05:52تو آگے چل کر تم مجھے نیک آدمی پاؤگے
05:54موسیٰ علیہ السلام نے کہا
05:56ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں
06:04اس پر اللہ گواہ اور کارساز ہے
06:05پیارے دوستو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ کا نام سفورہ ہے
06:09حضرت شویب علیہ السلام کی بڑی صاحب زادی ہیں
06:11ان کی شادی کا واقعہ قرآن مجید میں منقول ہے
06:14دوستو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام
06:16حضرت شویب علیہ السلام کے گھر پہنچے
06:17اور ان کے سامنے اپنا حال بیان کیا
06:19تو شویب علیہ السلام نے
06:21نہایت شفقت اور حکمت سے ان کی بات سنی
06:22آپ نے محسوس کیا کہ یہ کوئی عام مسافر نہیں
06:25بلکہ نہایت نیک باکردار اور خدا ترس انسان ہے
06:28چنانچہ تو شویب علیہ السلام نے
06:30اپنی دونوں صاحب زادیوں کے بارے میں مشورہ فرمایا
06:32مفسرین لکھتے ہیں کہ ان لڑکیوں کے نام
06:34سفورہ اور لیا تھا
06:36بعض روایت میں سفورہ اور سرکہ کا ذکر ملتا ہے
06:38اور کچھ اہلِ عرم نے بڑی بیٹی کو
06:40سفر اور چھوٹی کو سفیرہ کہا
06:42لیکن اکثر محدثین اور مفسرین
06:44جیسے کہ ابن عصاق
06:46بھاب بن ممبا
06:47بزار
06:48تبرانی
06:48سب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاہ
06:51چھوٹی بیٹی سفورہ سے ہوا تھا
06:53اسی سفورہ کے بارے میں قرآن مجید میں ذکر ہے
06:56کہ وہی لڑکی تھی جو شرم و حیاء سے چلتی ہوئی
06:58حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی تھی
07:00اور کہا اب بجان انہیں مجدور رکھ لیجئے
07:02کیونکہ بہترین شخص وہی ہے جو طاقتور
07:05اور امانتدار ہو
07:06دوستو اس نکاہ اور دانشمندی نے سفورہ کو وہ مقام دیا
07:09کہ نبی وقت نے ان سے نکاہ فرمایا
07:11شادی سے پہلے آپ اپنے والد کی خدمت کرتی رہیں
07:14اور شادی کے بعد اپنے شوہر کی
07:16دوستو ربایت میں آتا ہے کہ وقت گزرتا گیا
07:19حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعب علیہ السلام کے ساتھ
07:21وہ وعدے کے سال پورے کیے
07:23خلوص محنت اور افہداری سے
07:24وہیں ان کے ازدواج زندگی بھی
07:26محبت سکون اور برکت سے بھر گئی
07:28حضرت سفورہ ایک سالحہ حیادار
07:30اور فرما بردار بیوی ثابت ہوئی
07:32جو نبی کی شایہ نشان کردار رکھتی تھی
07:34اور پھر ایک دن جب مدت پوری ہو گئی
07:36حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ سے کہا
07:39آؤ ہم واپس وطن چلیں
07:41رات کا وقت تھا آسمان پر اندھیرہ چھائے ہوا تھا
07:44وہ اپنے خاندان کے ساتھ
07:45سہراؤں سے گزر رہے تھے
07:46اچانک دور ایک پہاڑی کی چوٹی سے
07:48روشنی دکھائے دی
07:49حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا
07:51ٹھہرو میں وہاں سے کوئی خبر لاتا ہوں
07:53کہ شاید آگ کا کوئی شولہ مل جائے
07:55جس سے تم گرمی حاصل کرو
07:57دوستو وہ روشنی دراصل کوہی تور کی تھی
07:59وہاں جا کر جو منظر موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا
08:01وہ دنیا کے لئے ایک نیا باپ بن گیا
08:03اچانک ایک آواز گونجی
08:05رحمت سے بھری
08:06جلال سے لبریز
08:08اے موسیٰ بے شک میں ہی اللہ ہوں
08:10سارے جہان و کرب
08:12یہ وہ لمحہ تھا جب ایک مسافر
08:14ایک مظلوم اللہ کے حکم سے نبی بن گیا
08:16اور دیکھئے تقدیر کا حسن
08:18جس سفر کی شروعات بھوک
08:20خوف و تنہائی سے ہوئی تھی
08:21اس کا انجام
08:22وحی نبوت اور روشنی پر ہوا
08:25دوستو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر
08:27بادی تور میں وحی نازل ہوئی
08:29تو وہ لمحہ صرف ایک ملاقات نہیں
08:31بلکہ تقدیر کی تکمیل کا تھا
08:33اللہ تعالیٰ نے فرمایا
08:34اے موسیٰ میں نے تجھ اپنے پیغام کے لئے چن لیا ہے
08:37جا فیرون کے پاس جا
08:39وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہے
08:41موسیٰ نے عدب سے عرض کیا
08:42اے میرے رب میرے سینے کو کھول دے
08:44میری زبان کی گرہ کھول دے
08:46تاکہ وہ میری بات سمجھ سکے
08:48اور میرے ساتھ میرے بھائی
08:49حارون علیہ السلام کو مددگار بنا دے
08:51اللہ تعالیٰ نے فرمایا
08:53ہم نے تیرے ساتھ قبول کیا
08:54جا ہم تمہارے ساتھ ہیں
08:56سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی ہیں
08:57یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے نیچے اترے
09:00دل میں نبوت کی روشنی
09:02اور ہونٹوں پر اللہ کا نام
09:03وہ اپنی بیوی حضرت سفورہ
09:05اور بچوں کے پاس پہنچے
09:06سفورہ نے دیکھا تو چہرے پر ایک خاص نور
09:09ایک غیر معمولی اتمنان
09:10پوچھا
09:11موسیٰ یہ کیسی روشنی ہے
09:13یہ چہرہ کیوں دمک رہا ہے
09:14موسیٰ علیہ السلام نے مسکر آ کر کہا
09:16سفورہ
09:17آج میرا رب مجھ سے ہم کلام ہوا
09:19میں اب صرف تمہارا شوہر نہیں
09:21اللہ کا پیغمبر بن چکا ہوں
09:23یہ سن کر سفورہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جھک کر
09:25شکر ادا کیا
09:27وہ جانتی تھی کہ یہ راستہ آسان نہیں ہوگا
09:29لیکن ایمان والوں کے قدم
09:31کبھی پیچھے نہیں ہٹتے
09:32کچھ دنوں بعد موسیٰ علیہ السلام
09:34اپنی فیملی کو چھوڑ کر
09:35مصر کی طرف روانہ ہوئے
09:36وہی سرزمین جہاں کبھی
09:38جان بچا کر بھاگے تھے
09:46کہ دربار میں شہزادے کی طرح رہتا تھا
09:48اب وہی دربار میں رسول بن کر داخل ہو رہا ہے
09:51جب موسیٰ علیہ السلام فیرون کے سامنے پہنچے
09:53تو فیرون نے تنزیہ انداز میں کہا
09:55اے موسیٰ
09:57کیا تو وہی ہے جو انسان کو مار کر بھاگ گیا تھا
09:59اور اب میرے سامنے پیغمبر بن کر آیا ہے
10:01موسیٰ علیہ السلام نے پورے سکون سے جواب دیا
10:04ہاں میں وہی موسیٰ ہوں
10:06لیکن آج میں اپنے رب کی طرف سے حق لے کر آیا ہوں
10:08میں تجھ سے کہنا چاہتا ہوں
10:10کہ اللہ کو مان لے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دے
10:13فیرون ہسا اور غرور سے بولا
10:15کیا میرے سوا کوئی اور رب ہے
10:16موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
10:18میرا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا
10:20اور پھر راستہ دکھایا
10:22فیرون نے کہا اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی دکھا
10:25تب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے
10:26اپنا آسا زمین پر ڈالا
10:28اور وہ زندہ اجدہا بن گیا
10:30پورا دربار دہل گیا
10:32فیرون کے جادوگر دوست ساکت رہ گئے
10:34کیونکہ وہ جانتے تھے یہ جادو نہیں حقیقت ہے
10:36مگر فیرون کے غرور نے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا
10:40اس نے کہا یہ تو جادو ہے
10:41کل کے دن میں اپنے تمام جادوگروں کو بلاؤں گا
10:44دیکھیں کون جیتتا ہے
10:45دوستو اگلے دن مصر کا سب سے بڑا میدان تیار ہو گیا
10:48لوگ جمع ہو گئے
10:49فیرون تخت پر بیٹھا اور سیکڑوں جادوگر
10:52رسیاں اور لکڑیاں لے کر میدان میں اترے
10:54انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا
10:56پہلے تم ڈالو یا ہم ڈالیں گے
10:58موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ڈالو
11:00انہوں نے رسیاں پھینکی
11:02زمین ساپوں سے بھر گئی
11:04لوگ خوف سے چیک اٹھے
11:05پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اثر ڈالا
11:08اور وہ تمام رسیاں تمام ساپ کو نگل گیا
11:11یہ منظر دیکھ کر جادوگر حیران رہ گئے
11:13وہ جان گئے کہ یہ جادو نہیں
11:22فیرون کا غروب ٹوٹ گیا
11:23مگر اس کا ظلم باقی رہا
11:25موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو سزائیں دی گئیں
11:28لیکن ایمان اب پھیل چکا تھا
11:30اور پیچھے مدین محضر صفورہ رضی اللہ عنہ
11:32اپنے شوہر کے مشن کے لیے
11:34راتوں کو جاک کر دعائیں کرتی رہتی
11:35وہ صبر و یقین کی علامت بن گئیں
11:38ایک ایسی عورت جس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں
11:40مگر اثر تاریخ کے ہر صفحے پر موجود ہے
11:43دوستو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سفر
11:45اب دعوت کا نہیں تھا
11:46یہ آزادی کا آغاز تھا
11:48وہ وقت جب بنی اسرائیل کو
11:50غلامی سے نکال کر اللہ کے راستے پر لائے گیا
11:52دوستو وقت گزرتا گیا
11:54نشانیاں ظاہر ہوتی گئیں
11:56موسیٰ علیہ السلام نے فیرون کے سامنے
11:58ایک کے بعد ایک معجزے دکھائے
11:59معجزے جو صرف نشانیاں نہیں تھے
12:02بلکہ انسان کے غرور کو جھنجوڑ دینے والے
12:04الہی پیغامات تھے
12:05اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ فیرون کو سمجھائے جائے
12:08کہ وہ حق کو پہچانے
12:09ظلم چھوڑ دے
12:10مگر فیرون کا دل پتھر بن چکا تھا
12:12اس کی آنکھوں کے سامنے وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں
12:15جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے بادشاہ بھی کانپ اٹھتے
12:17مگر وہ ہر بار اپنی زد پر قائم رہا
12:19پہلا عذاب نازل ہوا
12:21پانی کا خون بن جانا
12:23مصر کا دریائے نیل
12:24جس پر ان کی پوری زندگی کا دار و مدار تھا
12:35کھانے پینے کی ہر چیز ناپاک ہو گئی
12:37لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی
12:39جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے
12:41وہاں کا پانی صاف اور شفاف رہا
12:42فیرون نے یہ منظر دیکھا
12:44لیکن نصیت لینے کے بجائے اسے جادو قرار دے دیا
12:47اس نے جب دیکھا کہ مسئیبت بڑھ رہی ہے
12:49تو موسیٰ سے کہنے لگا
12:50اپنے رب سے دعا کرو
12:51اگر یہ مسئیبت ٹل گئی تو میں ایمان لے آؤں گا
12:54موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی
13:05بابرچی خانوں میں بستروں پر بادشاہ کے تخت پر
13:08حتیٰ کہ فیرون کے تاج کے اندر تک
13:10لوگ کھانا کھاتے
13:11تو پیالے میں مینڈک کود پڑتا
13:13سوتے تو جسم پر اچھلنے لگتے
13:14پورا مصر مینڈکوں کے شور اور گندگی سے بھر گیا
13:18لیکن پھر بھی فیرون کا دل نرم نہ ہوا
13:20پھر اس نے وہی کہا
13:21موسیٰ علیہ السلام
13:22اپنے رب سے دعا کرو میں تمہیں جانے دوں گا
13:25موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی
13:26اور جب مینڈک ختم ہوئے
13:27فیرون نے ایک بار پھر
13:29اپنے بادے سے انکار کر دیا
13:30پھر نازل ہوا تیسرا عذاب
13:32جوہوں کا
13:33زمین کی مٹی جوہوں میں بدل گئی
13:35اور وہ انسانوں اور جانوروں کے جسموں سے چمٹ گئیں
13:38کوئی سکون نہ رہا
13:39سونا ممکن نہ تھا
13:41نہ کھانا
13:41پوری سلطنت بدحالی میں ڈوب گئی
13:43فیرون کے دربار جادوگر
13:45وزیر چیخ اٹھے
13:46یہ جادو نہیں یہ خدا کا قہر ہے
13:48لیکن فیرون کے کانوں پر جون تک نہ رہیں گی
13:51وہ اپنی خدائی کے جوش میں ڈوبا رہا
13:53اور موسیٰ علیہ السلام کو بار بار جھٹلانے لگا
13:55پھر آیا چوتھا عذاب
13:57مکھیاں اور خون خار حشرات کا
13:59ہر وہ جگہ منڈلانے لگا
14:01انسانوں کے جسم پر کاٹنے لگے
14:03کھانے پینے کی چیزوں میں گرنے لگے
14:05لوگ چلا اٹھے
14:06لیکن فیرون پھر بھی باز نہ آیا
14:08اور جب قوم فیرون نے
14:09پھر زد دکھائی تو
14:10اللہ کا پانچ وعذاب نازل ہوا
14:12مویشیوں پر بیماری
14:13جانور مر گئے
14:15اونٹ گائے بھیڑ بکریاں
14:16سب ہلاک ہونے لگے
14:17زمین پر مردہ جانوروں کی بدبو پھیل گئی
14:20مصر کے معیشت تباہ ہو گئی
14:22مگر فیرون کا غرور برقرار رہا
14:24اللہ تعالیٰ نے پھر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے
14:27ایک اور نشانی ظاہر فرمائی
14:28بدن پر پھوڑے اور زخم
14:30لوگوں کے جسموں پر پھنسیوں
14:32اور زخموں نے ڈیرہ ڈال دیا
14:33کوئی مرہم کام نہ کرتا
14:35کوئی علاج فائدہ نہ دیتا
14:36پھر بھی وہ زد پر اڑے رہے
14:38پھر نازل ہوا ساتھوں عذاب
14:40زبردست اولے
14:41آسمان بادلوں سے بھر گیا
14:43بجلیاں کڑکنے لگیں
14:45آسمان سے پتھر جیسے اولے برسنے لگے
14:47درخت ٹوٹ گئے
14:48فصلیں برباد ہو گئیں
14:50گھروں کی چھتیں گڑنے لگیں
14:51یہ منظر قیامت کا ساتھا
14:53فیرون کی ریایہ خوف زدہ ہو کر چیخی
14:55اے موسیٰ اپنے رب سے کوہ ہمیں بچا لے
14:57ہم ایمان لے آئیں گے
14:59موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی
15:00عذاب ہٹا دیا
15:01لیکن جیسے یہ آسمان صاف ہوا
15:04فیرون نے کہا یہ تو بقتی جادو تھا
15:06اب آیا عذاب ٹڈی دل کا
15:08دوستو ذرا سوچیں
15:09آسمان سیاہ ہو گیا
15:11جیسے سورت ڈھک گیا ہو
15:12لاکھوں کروڑوں ٹڈیاں مصر پر چھا گئیں
15:15انہوں نے کھیتوں باغوں درختوں
15:17ہر چیز کو چٹ کر ڈالا
15:18زمین بنجر فضا سیاہ
15:20اور لوگ بھوک سے نڈھال ہو گئے
15:22یہ اللہ کا عذاب تھا
15:23تاکہ انسان غرور سے جھگ جائے
15:25مگر فیرون نے جھگنے کے بجائے
15:27اپنی گردن اکڑا لی
15:28پھر آیا نوہ عذاب
15:29اندھیرہ
15:30ایسا گھپ اندھیرہ
15:31کہ سورج تک نظر نہ آتا
15:33تین دن تک مصر پر سیاہی چھائی رہی
15:35کوئی گھر سے باہر نہ نکل سکا
15:37کوئی چراغ روشنی نہ دے سکا
15:39مگر جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے
15:41وہاں روشنی تھی
15:42سکون تھا
15:43یہ کھلی نشانی تھی
15:44لیکن فیرون پھر بھی
15:46ایمان نہ لے آیا
15:47آخر میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا دسویں
15:49اور سب سے سخت عذاب
15:51پہلوٹے بیٹوں کی موت
15:53رات کے ایک لمحے میں
15:54مصر کے گھروں میں چیخیں بلند ہوئیں
16:03جب فیرون کے غرور کی دیواریں ہلنے لگیں
16:06لیکن اس کے اندر کا شیطان اب بھی خاموش نہ ہوا
16:08ہر عذاب کے بعد وہ وعدہ کرتا
16:11اے موسیٰ اپنے رب سے دعا کرو
16:12میں مان جاؤں گا
16:13میں تمہیں جانے دوں گا
16:15اور جب مصیبت ہٹتی تو وہ کہتا
16:17میں تو خود خدا ہوں
16:18موسیٰ میرا کیا بگاڑ لے گا
16:20اس کے دل پر غرور کا ایسا پردہ پڑ چکا تھا
16:23کہ اقوازے ہونے کے باوجود انکار کیے جا رہا تھا
16:26دوستو یہ صرف واقعات نہیں تھے
16:28بلکہ اللہ کی طرف سے بار بار تنبی تھی
16:30انسان اپنی حد میں رہے
16:32مخلوق خالق بننے کی کوشش نہ کرے
16:34مگر جب انسان کے دل پر زد
16:36اور تکبر غالب آ جائے
16:38تو پھر انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے
16:40اسی زد اور اسی غرور
16:42اور اسی جھوٹے تکبر کے بعد
16:44آخر کار وہ دن آیا
16:45جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
16:47اے موسیٰ رات کو میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ
16:49اور ڈرنا نہیں
16:50کیونکہ تم سب محفوظ رہو گے
16:52حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو جمع کیا
16:55اندھیری رات تھی
16:56آسمان پر بادل اور مصر کی گلیوں میں خاموشی چھائی ہوئی تھی
16:59ہزاروں غلام اپنے گھروں سے نکلے
17:01ان کے چہروں پر امید تھی
17:03کہ آج رات وہ رات ہے
17:05جب صدیوں کے غلامی ختم ہونے والی ہے
17:07دوسری طرف فیرون کو جب خبر ملی
17:09تو اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے دوڑا
17:11فیرون کی جنگی سواریاں
17:20اور گھبرا گئے کہنے لگے موسیٰ
17:22اب تو ہم پکڑے گئے
17:23موسیٰ علیہ السلام نے پورے یقین سے کہا
17:25ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے
17:27وہ راستہ ضرور نکالے گا
17:29دوستو یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کی امید ختم
17:32اور ایمان شروع ہوتا ہے
17:33اللہ نے فرمایا اے موسیٰ اپنا آسا دریہ پر مار
17:37موسیٰ علیہ السلام نے آسا مارا
17:38اور سمندر دو حصوں میں پھڑ گیا
17:40پانی پہاڑوں کی طرح دو طرف جم گیا
17:42اور میدانوں میں خوشک راستہ بن گیا
17:44بنی اسرائیل حیرت سے دیکھتے رہ گئے
17:46پھر سب اس راستے پر چل پڑے
17:48ایک طرف ایمان دوسری طرف موجزہ
17:50فیرون نے یہ منظر دیکھا تو غرور میں آ کر بولا
17:53اگر موسیٰ علیہ السلام کا دریہ پھٹ سکتا ہے
17:55تو میرا بھی راستہ بنے گا
17:56وہ اپنے لشکر کے ساتھ اسی راستے پر اتر گیا
17:59مگر جیسے ہی بنی اسرائیل دوسری طرف پہنچے
18:01اللہ تعالیٰ نے فرمایا
18:02اے موسیٰ اپنا اصد دوبارہ مار
18:05اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی دونوں طرف سے ٹوٹ پڑا
18:07پہاڑ جیسی امٹتی ہوئی لہریں
18:09اٹھیں اور فیرون اپنے لشکر سمیت
18:11ڈوب گیا
18:12آخری لمحے میں وہ چل آیا
18:14میں ایمان لیا کہ موسیٰ اور حارون کے رب کے سوا کوئی خدا نہیں
18:17لیکن جواب آیا
18:19اب جب کہ تم نے پہلے انکار کیا
18:21اور فساد کیا
18:22یوں فیرون کی لاش سمندر کے کنارے
18:24اگل دی گئی تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے
18:27غرور کے انجام کی نشانی بن جائے
18:29دوستو اسی لمحے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
18:31اپنے رب کے حضور
18:32سجدہ شکر میں سر رکھا
18:34ان کے گرد ہزاروں لوگ تھے
18:35جو کبھی غلام تھے
18:37آج اللہ کے کرم سے آزاد تھے
18:39دوسری طرف مدین میں
18:40حضرت صفورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
18:42اپنے رب سے یہی دعا مانگ رہی تھی
18:44اے میرے رب
18:45میرے شوہر کے مشن کو کامیاب فرما
18:54ہوتی ہے
18:55دوستو یہ صرف ایک کہانی نہیں
18:57بلکہ یہ ایمان
18:58صبر حیاء اور وفہداری کے
18:59مکمل تصویر ہے
19:00حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سفر
19:02محل سے نبوت تک
19:04اور حضرت صفورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
19:06کا سفر خاموش خدمت سے
19:08عبدی عزت تک
19:09دونوں ہمیں سکھاتے ہیں
19:10کہ اللہ کا وعدہ
19:11ہمیشہ پورا ہوتا ہے
19:13بس ایمان شرط ہے
19:14دوستو یہاں یہ بھی واضح کر دوں
19:16کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ
19:18نصف قرآن کریم میں موجود ہے
19:20بلکہ توریت اور انجیل میں بھی بیان ہوا ہے
19:22تینوں مذاہب
19:23مسلمان
19:24مسیحی
19:25اور یہودی اس بات پر متفق ہیں
19:27کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
19:28سمندر کو چیر کر راستہ بنایا
19:30لیکن سوال یہ ہے
19:31کہ یہ ہوا کیسے
19:32یہی سوال
19:33آج کے سائنس دانوں کے لیے
19:35حیرت کا باعث ہے
19:36ہالی ووڈ کے سوٹ فیر انجینئر
19:38کورل ٹری
19:38جنرل فلم
19:46جو تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں
19:48اور میرا ماننا ہے
19:49کہ یہ واقعہ قدرتی طور پر ممکن تھا
19:51شاید موسمی حالات کے غیر
19:53معمولی تغیر سے
19:55پہلے پہل ان کی یہ بات
19:56محض فلمی اور خیالی سمجھی گئی
19:58لیکن جب امریکہ کی ایک یونیورسٹی نے
20:00کورل ڈرے کی تحقیق کو
20:02اپنے ماسٹر تھیسس پروگرام میں شامل کیا
20:04تو ماہرین موسمیات نے
20:06حیرت انگیز انکشافات کیے
20:07توفان پر تحقیق کرنے والے سائنسدان
20:10گریگ ہالینڈ کہتے ہیں
20:11ہم کبھی یقین نہیں کر سکتے
20:13کہ پانی دو حصوں میں بڑھ سکتا ہے
20:15لیکن کورل کی تھیوری نے
20:16ہمیں غور کرنے پر مجبور کر دیا
20:18کورل کے مطابق یہ واقعہ
20:20ریڈ سی یعنی بہر قلزم کے اس مقام پر ہوا
20:23جو آج سعودی عرب اور مصر کے درمیان واقع ہے
20:25ان کے مطابق اس وقت مشرق سے
20:27ایک نہایت طاقتور ہوا چلی
20:29ایسی ہوا جس کی رفتار
20:30ساٹھ میل فی گھنٹا سے زیادہ تھی
20:32اسے سائنسی زبان میں
20:33ونڈ سیٹ ڈاؤن ایفیکٹ کہا جاتا ہے
20:36یعنی ایسی تیز ہوا جو پانی کو
20:38ایک طرف دھکیل دیتی ہے
20:39اور نیچے کا ساحلی راستہ
20:41آرزی طور پر خوشک ہو جاتا ہے
20:43دلچسپ بات یہ کہ ایسا مشاہدہ
20:45دنیا کے مختلف علاقوں میں
20:46واقعی ریکارڈ کیا گیا
20:47دوستو یہ سب جان کر انسان حیران ہو جاتا ہے
20:50کہ سائنس آج جن قوتوں کو
20:52قدرتی قوانین کہتی ہے
20:54وہی دراصل اللہ کے حکم کا نظام ہے
20:56جب اللہ کہتا ہے ہو جا
20:58تو سمندر بھی راستہ بن جاتا ہے
21:00اور پانی بھی اطاعت گزار ہو جاتا ہے
21:02پیارے دوستو اگر آپ کو یہ ایمان
21:04افروض داستان پسند آئی ہے
21:05تو اسے دل سے لائک کیجئے
21:07اور اپنے دوستوں سے ضرور شیئر کیجئے گا
21:10تاکہ یہ روشنی کسی اور دل تک بھی پہنچ سکے
21:12اگلی ویڈیو تک کے لئے اجازت دیجئے
21:14اللہ حافظ
Comments