- 14 hours ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00:00To the consumer, the audience and everyone now has a voice.
00:00:09Whenever you see the insurance size, you make lots of視ries.
00:00:19You dress up with the
00:00:29ڈل میں اُترتے حرف سے
00:00:44ڈبالعالمین نے واضح ارشاد فرما دیا ہے
00:00:48اور دعا میں شامل کر دیئے
00:00:50کہ ربنا آتنا فی دنیا حسنتن
00:00:54وفی الاخرہ تے حسنتن
00:00:57دونوں چیزیں بتائیں ہیں
00:01:00دنیا بھی اور آخرت بھی
00:01:02دنیا میں نیکی اتنی دے
00:01:04کہ شرمندگی نہ ہو
00:01:06اور قیامت میں نیکی اتنی ہو
00:01:09قیامت کی نیکی اتنی ہو
00:01:11کہ تیری اور تیرے محبوب پاکی بارگاہ میں
00:01:14جب حاضر ہوں
00:01:15تو قبولیت کی سند بن جائے
00:01:17ڈل میں اُترتے حرف سے
00:01:26اَلَا اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
00:01:41شیخ العالم حضرت علامہ پیر علاؤ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ
00:01:49وادی کشمیر اگرچہ گحساروں
00:01:53آبشاروں اور سبز وادیوں کی وجہ سے
00:01:56پوری دنیا میں اپنی انفرادی شناخت رکھتی ہے
00:02:00مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے
00:02:03کشمیر جس عظیم صوفی اور باکمال شخصیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے
00:02:10وہ عظیم نام حضرت علامہ پیر علاؤ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ کا ہے
00:02:17یہ پروگرام کیو ٹی وی کی جانب سے
00:02:21مرد درویش پیر علاؤ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ
00:02:28ان کی ذات و حیات و دینی خدمات کے حوالے سے منقد ہو رہا ہے
00:02:38اور اس پروگرام کے حوالے سے میں اتنا عرض کروں گا
00:02:43کہ حضرت شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ کی
00:02:47تمام زندگی جس تغو دو میں گزری
00:02:51دینی خدمات کے حوالے سے علم اور اس کی اشاعت کے حوالے سے
00:02:59اور جو کچھ ان کی روحانی اقدار تھی اور خدمات اپنے مردین و متوسلین کے ساتھ
00:03:07ان تمام حوالے سے کچھ چیدہ چیدہ باتیں میں عرض کرنے کی کوشش کروں گا
00:03:13آپ رحمت اللہ علیہ یکم جنوری 1938 کو
00:03:21ازاد کشمیر کے دور افتادہ مقام نیریاں شریف میں پیدا ہوئے
00:03:26آپ کے والد گرامی غوث زمان حضرت غلام محید دین غزنبی رحمت اللہ علیہ
00:03:35اپنے وقت کے بہت بڑے ولی اللہ تھے
00:03:38جنہوں نے افغانستان کے شہر غزنی سے ہجرت کر کے
00:03:42عارفِ کامل حضرت قاسم مہڑوی رحمت اللہ علیہ کی صحبت اختیار فرمائی
00:03:48اور سروق و عرفان کی منازل تیہ کی
00:03:51اور پھر حضرت شیخ قاسم مہڑوی رحمت اللہ علیہ کے
00:03:55حسبِ ارشاد نیریاں شریف کے جنگل کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا
00:04:00حضرت پیر علیہ الدین صدی کی رحمت اللہ علیہ
00:04:05حضرت غزنبی سرکار کے ہاں دوسری اولاد تھے
00:04:09آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی
00:04:13مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے
00:04:16آپ نے نیریاں شریف کو خیر آباد کہا
00:04:19اور جلالین مشکات اور دیگر کتب متداولہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے
00:04:26آپ نے جامعہ حقائق العلوم پنٹی حضروں کا رخ کیا
00:04:31اس سفرِ علم میں آپ کے ساتھ آپ کے بڑے بھائی پیر قاسمی رحمت اللہ علیہ بھی ساتھ تھے
00:04:37درسِ نظامی کی آخری کتب کے درس کے لیے
00:04:40آپ فیصل آباد تشریف لائے
00:04:42اور جامعہ رزویہ مظہر الاسلام میں داخل لیا
00:04:46جہاں آپ نے محدثِ عاظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد قدسہ صرع العزیز کی صحبت میں
00:04:54دیگر علوم اور بالخصوص علومِ حدیث میں مہارت حاصل کی
00:04:59تفسیرِ قرآن آپ نے شیخ القرآن حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی قدسہ صرع العزیز سے پڑھی
00:05:08آپ نے دورانِ طالبِ علمی تمام صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا
00:05:14کہیں بھی مسائب سے بچنے کے لیے
00:05:17اپنے پیر زادہ اور صحب زادہ ہونے کے ٹائٹل کو استعمال نہیں کیا
00:05:21طالبِ علمی کے زمانے سے آپ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی
00:05:27اور حضور قبلہ عالم غوث الامت خواجہ پیر غلام مہیدین غز نوی رحمت اللہ علیہ کے خلفاء اکرام
00:05:34جن سے میں نے خود سنا ہے
00:05:36کہ وہ کہا کرتے تھے کہ
00:05:39نو عمری میں طالبِ علمی کے زمانے میں
00:05:42آپ کو عبادت کا اس قدر شوق تھا
00:05:45کہ آپ اکثر راتوں کو جاگہ کرتے
00:05:49اور مسلے پر اپنی پوری پوری رات گزار دیتے
00:05:52پران شریف کی تلاوت آپ کا معمول تھی
00:05:56بلکہ جب
00:05:58زمانہِ طالبِ علمی میں
00:06:00اس دور کے شہر لائلپور آج کا فیصل آباد
00:06:04جہاں حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمد خان صاحب رحمت اللہ علیہ کے
00:06:09زیر نگی آپ دورہ حدیث مکمل کر رہے تھے
00:06:15تو آپ نے انتظامیاں کے لوگوں سے فرمایا تھا
00:06:20کہ اس صحفزادے کے دروازے کو کھٹ کھٹانے کی ضرورت نہیں ہے
00:06:24یہ خود
00:06:26اپنے وقت سے اٹھ جایا کرے گا
00:06:28تمہیں آواز دینے کی ضرورت نہیں
00:06:30مگر جو لوگ انتظام پر معمول تھے
00:06:33وہ کہا کرتے تھے
00:06:35کہ جتنا عرصہ آپ یہاں دورہ حدیث کرتے رہے
00:06:38کبھی ایک روز بھی ہمیں صبح شہر کے وقت
00:06:41آپ کو اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی
00:06:43کیونکہ آپ کی اکثر راتیں عبادتوں میں
00:06:46صرف ہوتی تھی
00:06:47جب آپ علوم درس نظامی سے فارغ تحصیل ہوئے
00:06:52آپ کے والدِ گرامی قبلہِ عالم غلام محی الدین غز نبی رحمت اللہ علیہ نے
00:06:57آپ کو سلسلہِ عالیہ نقش بندیہ کی اجازت و خلافت سے نوازا
00:07:02سلسلہ زنجیر کو کہتے ہیں
00:07:05ایک کڑی سے دوسری کڑی ملے
00:07:07تو اس کو عربی میں سلسلہ کہتے ہیں
00:07:10اور یہ جو ہم بیٹھے ہوئے ہیں
00:07:11ہم بھی ایک سلسلہ ہیں
00:07:13ہم بھی ایک سلسلہ ہیں
00:07:16پوچھو دل سے
00:07:17دل سے دل کی کڑی نہیں ملی
00:07:19یہ کس نے ملائی
00:07:20گربان نہ جائیں اس پر
00:07:22جو مختلف دور رہنے والے
00:07:24توٹے ایک اٹھے کر کے
00:07:25کڑے سے کڑا ملائیا
00:07:27کنڈی سے کنڈی ملائی
00:07:28وہ سرکار سے بابستہ کر دیا
00:07:30حضور شیخ العالم
00:07:40قبلہ پیر علاو دی صدیقی صاحب
00:07:42رحمت اللہ علیہ
00:07:43آپ کا یوں تو سلسلہ نقش بندی تھا
00:07:48لیکن فیضان طریقت کے جتنے بھی ذرائع تھے
00:07:55جہاں جہاں بھی آپ کا تعلق رہا
00:07:59روحانی طور پر وہ فیض کا سلسلہ آپ کی ذات سے ظاہر ہوا
00:08:05اور آپ نے اس فیض کو دوسروں تک پہنچایا
00:08:08مختلف خانکاؤں کے گردی نشین
00:08:13اور صاحب زادگان
00:08:16کا آپ سے بڑا غیرہ ربط رہا
00:08:19جس طرح پاکستان میں مشہور
00:08:21جو خانکائیں ہیں
00:08:23جن کے گردی نشین ہیں
00:08:25جس طرح گولڑا شریف ہے
00:08:27عیدگا شریف والے مزرگ ہیں
00:08:29اور دیگر
00:08:31چورا شریف ہے
00:08:33موڑا شریف کے جانشین
00:08:35جتنے گردی نشین ہیں
00:08:37اور انگلستان میں بھی
00:08:40جس قدر مشایخ
00:08:42اپنے اپنی سلسلوں سے وابستہ ہیں
00:08:45ان سب کا آپ سے بڑا
00:08:47گہرہ تعلق
00:08:48اور بڑی محبت آپس میں رہی ہے
00:08:50اور یہی وجہ ہے
00:08:52کہ آپ کے وسال کے بعد
00:08:53اس انگلینڈ کے شہر برمنگم میں
00:08:57کوئی ایسی گردی نہیں تھی
00:09:00جس گردی کا کوئی والی
00:09:02یا جانشین
00:09:04سجادہ نشین جو ہے
00:09:05وہ انگلینڈ میں ہوتے بے
00:09:08وہاں جنازے میں نہ شریف ہوا ہو
00:09:09پھر یہاں ملک پاکستان میں بھی
00:09:12ہر طرف سے
00:09:12ہر سلسلے کے بزرگ
00:09:15گدی نشین اور مشایخ سے
00:09:17اس فکر میں
00:09:19وہ
00:09:20پیر صاحب کے لیے
00:09:22اچھے اور خوبصورت کلمات کے ساتھ
00:09:26انہیں بھر پور طریقے سے
00:09:28عقیدت اور احترام کے ساتھ
00:09:30یاد کرتے رہے
00:09:30اور بہت سارے علماء اور مشایخ کے
00:09:33تاثرات
00:09:33آپ کو اسکرین پر ملیں گے
00:09:35کہ ہر ایک نے آپ کے بارے میں
00:09:37کتنی اچھی رائے قائم کی ہوئی تھی
00:09:39اور آپ کا یوں
00:09:41ہر گدی سے ایک تعلق رہا ہے
00:09:42محبت رہی ہے
00:09:44اور آپ خود بھی جاتے
00:09:45تشریف لے جاتے
00:09:46اور جب آپ کے ہاں کوئی ایسی
00:09:48تقریب ہوتی
00:09:49پروگرام ہوتا ہے
00:09:50عرص ہوتا
00:09:51تو یہ تمام گدیوں سے بھی
00:09:53گدی نشین تشریف لائے کرتے تھے
00:09:55قبلہ پیر صاحب کی بات کی جائے
00:09:57لاودین صدیقی رحمت اللہ علیہ کی
00:10:00تو وہ ایک ایسی
00:10:02خوبصورت شخصیت کے مالک تھے
00:10:04کہ جنہوں نے
00:10:06جہاں مخلوق خدا کی
00:10:07روحانی پیاس بجائی
00:10:08وہاں آپ نے تربیت کے حوالے سے بھی
00:10:11بہترین انداز سے
00:10:13لوگوں کی تربیت فرمائی
00:10:15کہیں پہ
00:10:16کالوجز قائم فرما کے
00:10:18میڈیکل کالوج
00:10:19کہیں یونیورسٹی ہیں
00:10:20آپ کے ساتھ
00:10:23عقیدہ ترکٹر والوں کی تعداد
00:10:25اس وقت
00:10:25دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے
00:10:27کسی کے ساتھ بھی جب آپ بات کریں
00:10:29پیر صاحب کی
00:10:30تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں
00:10:32وہ ایک ایسی محبت والی شخصیت
00:10:34اتنی پیار والی شخصیت
00:10:36کہ جنہوں نے چہار جانب
00:10:38اگر پیغام دیا
00:10:39تو اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:42کا دیا
00:10:46اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو
00:10:49بے پنہ بلندی عطا فرمائے
00:10:51اور آپ کی خوبصورت تعلیمات پر
00:10:53امت مسلمہ کو
00:10:54قائم رہنے کی تحفیق عطا فرمائے
00:10:56اللہ تعالیٰ نے آپ کو
00:10:59گو نہ گو خصوص یاد سے نوازا تھا
00:11:01آپ یک وقت
00:11:02شیخ طریقہ
00:11:03عالم شریعت
00:11:05اور وائز خوش بیاء
00:11:06مناظر مسلمہ تھے
00:11:08آپ خود بھی ایک بہت بڑے
00:11:11عالم دین تھے
00:11:14ایک محقق تھے
00:11:16ایک صوفی باعمل
00:11:18شخصیت میں جو
00:11:20خوبیاں ہوتی ہیں
00:11:22ان تمام خوبیوں کے آپ
00:11:23جو سمجھ لیے کہ ایک مرکز تھے
00:11:26علماء سے نشست و برخواست جب ہوتی
00:11:29تو
00:11:31عدب آداب کے جو طریقے
00:11:33اہل علم کے درمیان ہوتے
00:11:35آپ اسے پورا کرتے
00:11:37اور مریدین سے
00:11:38متوسلین سے
00:11:40دیگر محبین سے جب ملاقات ہوتی
00:11:42تو ان کی ضرورت کے مطابق
00:11:45ان کی عادت اور مزاج کے مطابق
00:11:47عدب اور اصول کو پیش نظر رکھ کر
00:11:49نشست کیا کرتے تھے
00:11:51اور آپ کی سخاوت کا
00:11:53اور آپ کی فیاضی کا عالم یہ تھا
00:11:56کہ میں نے
00:11:58اپنی چھتیس سالہ
00:12:01نسبت اور تعلق میں
00:12:03ملک پاکستان میں رہتے ہوئے
00:12:07یا بیرون ملک
00:12:08جہاں آپ تشریف لے جاتے ہیں
00:12:10آپ کا دسترخان
00:12:13وسی سے وسی تر دیکھا
00:12:14کوئی ایسا نہیں
00:12:16آیا ہو
00:12:18اور اسے پہلے آپ نے
00:12:19یہ نہ پوچھا
00:12:20کہ تم نے کھانا کھایا
00:12:21یا نہیں کھایا
00:12:22پہلے مہمان کی
00:12:24مہمان نوازی
00:12:24دسترخان کی صورت
00:12:27مختلف
00:12:28نعمتوں کی
00:12:30صورت فرمایا کرتے
00:12:32اور پھر روحانی
00:12:34غزہ کا حتمام فرماتے
00:12:36غرص کے ظاہری باطنی
00:12:38دونوں گزاؤں کا احتمام
00:12:40ہما وقت آپ کی
00:12:41طبیعت کا حصہ رہا ہے
00:12:42آپ تمام زندگی
00:12:53سوم و صلات کی پابندی
00:12:56کے ساتھ ساتھ
00:12:57لباس سے لے کر
00:12:59نشست و برخواست تک
00:13:01اپنی تنہائی سے لے کر
00:13:03مجلس تک
00:13:04اتباع سنت کا پیکر رہے ہیں
00:13:07اگرچہ آپ کی
00:13:10طبیعت میں
00:13:11بڑی نفاست رہی ہے
00:13:13لباس کے معاملے میں
00:13:15نشست و برخواست کے معاملے میں
00:13:16لیکن آپ خلاف سنت
00:13:19کسی کام کو
00:13:20کبھی پسند نہ فرماتے
00:13:21ملکہ اگر کوئی خلاف سنت
00:13:23کام ہوتا ہوا دیکھتے
00:13:25تو آپ
00:13:26موقع محل کے ادبار سے
00:13:28لوگ کی رہنمائی فرماتے
00:13:30اور اتباع سنت کے مطابق آپ
00:13:33تمام زندگی گزارتے رہے
00:13:35اور قرآن و سنت کو ہی حوالہ بنا کر
00:13:38مایار زندگی کا جو ایک پیبغام ہے
00:13:40وہ لوگوں کو دیتے رہے ہیں
00:13:41کون ہوتے میں اور آپ
00:13:51جو ان کو یاد کرے ہیں
00:13:53یہ زمان اس قابل ہے
00:13:54یہ دھیل اس قابل ہے
00:13:56کہ یہاں ان کی یاد آکے
00:13:57اپنا مسکن بنائے
00:13:58یہ روح اس قابل ہے
00:14:01کہ یہ اس کا ڈیرہ بنے
00:14:02ان کا ڈیرہ بنے
00:14:03یہ زمان اس قابل ہے
00:14:05کہ ان کا نام لے سکے
00:14:06ارے یہ انہی کا کرم ہے
00:14:08کہ وہ اپنی یاد کسی کو
00:14:10عطا فرما دے ہیں
00:14:11یہ زمان میرا نام لے گی
00:14:13یہ دل میری محبت کا مرکز ہوگا
00:14:16یاد فرماتے نہیں
00:14:18اس کا تو کوئی غم نہیں
00:14:20نہ بلائیں نا
00:14:22کوئی پرواہ نہیں
00:14:23کہ کیا یہ تھوڑی سوغات ہے
00:14:25کہ وہ اپنی یادوں کا چراغ
00:14:27ہمارے دل کے اندر رکھے
00:14:28جلا کے دل چھوڑ گئے
00:14:29یاد فرماتے نہیں
00:14:31اس کا تو کوئی غم نہیں
00:14:33یاد رہتے ہیں
00:14:35یہی بندہ نوازی کم نہیں
00:14:38یہ ان کا کرم ہے
00:14:41کہ کس مکان میں ڈیرہ لگاتے ہیں
00:14:43یہ ان کا کرم ہے
00:14:45کہ اس دل میں
00:14:46اپنی محبت کا چراغ چلاتے ہیں
00:14:48آپ کی پوری زندگی
00:14:50سنتِ رسول سے عبارت تھی
00:14:52اٹھنے بیٹھنے
00:14:54چلنے پھرنے سے لے کر
00:14:56دیگر معاملات میں
00:14:58آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
00:15:01اسوائے مبارکہ کو مشعلِ را بناتے
00:15:05اور وظائف تعلیم کرتے ہوئے بھی
00:15:07مسنون اوراد وظائف اپنانے پر زور دیتے
00:15:11مریدین کو اپنی زندگی
00:15:13سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق
00:15:16گزارنے کی تلقین
00:15:18آپ کی تعلیمات میں سرے فیرست رہی
00:15:21اور آپ یہ اکثر فرماتے تھے
00:15:23کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں
00:15:26اگر محبتِ رسول شامل ہوگی
00:15:29تو وہ عمل سنت کہلائے گا
00:15:31ورنہ عقیدت و عشقِ رسول کے بغیر
00:15:34حضور علیہ السلام کے عامال کو اپنا لینا
00:15:37بس ایک نکلِ محض ہے
00:15:40جس کا آخرت میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا
00:15:43آپ بڑے حلیم طبیعت تھے
00:15:48اور اجزو ان کے ساری کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے
00:15:54ہاں ضرورت پڑھنے پر
00:15:58اصول کے ساتھ کسی کو سمجھانا مقصود ہوتا
00:16:02تو کچھ شختی بھی فرماتے
00:16:05لیکن وہ اس کی خیر اور بھلائی کے لیے ہوتی
00:16:08مگر عام طور پر
00:16:10آپ کی طبیعت میں جو شفقت پائی جاتی تھی
00:16:13یہی سبب تھا
00:16:14اس شفقت کو دیکھتے ہوئے
00:16:16ہر آدمی قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتا
00:16:19مجھ سمیت
00:16:20اکثر احباب جب بھی
00:16:23ملاقات کے لیے حاضر ہوتے
00:16:24یا ان کی خدمت میں جانا
00:16:27نصیب ہوتا
00:16:28تو کوشش ہوتی کہ آپ سے قریب سے قریب تر ہونے جائے
00:16:31کیونکہ آپ کے
00:16:33حسن اخلاق اور شفقت کی وجہ سے
00:16:35ہر آدمی گرویدہ ہوتا
00:16:37اور آپ کی
00:16:39محبت میں یوں مبتلا ہوتا
00:16:41کہ آپ سے دور رہنا
00:16:42اسے گوارا نہ ہوتا
00:16:44اور لوگوں کی دیوانگی کا عالم
00:16:46ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
00:16:48کہ جب جاتے تھے
00:16:50تو اکثر رخصت ہوئے
00:16:51روتے ہوئے جاتے تھے
00:16:53جب ان سے پوچھا جاتا
00:16:55کہ کیا تم اپنے گھر والوں سے رخصت ہوتے ہوئے بھی
00:16:58یوں روتے ہو
00:16:58تو وہ یہی کہتے تھے
00:17:00ہزار ہاور طبعہ ہم گھر والوں سے رخصت ہو
00:17:03تو یوں درد دل ہمیں نہ حاصل ہوتا تھا
00:17:06جب کبڑا حساب سے رخصت کا وقت آتا تھا
00:17:09تو ہم اپنے دل میں وہ درد محسوس کرتے تھے
00:17:11کہ کوئی جدائی ہو رہی ہے
00:17:12جو اب ہمیں تڑپائی
00:17:14حضرت کے ساتھ تعلق رنے والے
00:17:25اور محبت کرنے والوں کا
00:17:27اگر
00:17:27تعداد کا تعیون
00:17:30اگر ہم کرنا چاہیں
00:17:31تو یہ مشکل ہوگا
00:17:33لیکن میں اپنے ایک اندازے کے مطابق
00:17:36یہ بات کہنے میں حق بجانے
00:17:37وہ خود کو سمجھتا ہوں
00:17:38کہ میں جس شہر جس ملک
00:17:41اور جس سفر میں ساتھ رہا
00:17:43تو مجھے ایسا احساس ہوا
00:17:46کہ شاید یہاں آپ کے مریدین زیادہ ہیں
00:17:48میں ایک دفعہ ہونگ کونگ
00:17:50عید ملاد النبی کے پروگرام کے لیے
00:17:53ان کے ساتھ
00:17:54پہسیت خادم کے گیا تھا
00:17:56تو جب ہم ہونگ کونگ پہنچے
00:17:58تو اس وقت وہاں صرف دو
00:18:00شخصیات تھیں جن سے آپ کا تعرف تھا
00:18:03وہ دو اور تین اور افراد
00:18:07مل کر ہی پانچ لوگ
00:18:08ائرپورٹ پر رسیب کرنے کے لیے آئے تھے
00:18:10تین دن قیام رہا
00:18:12چوتھے دن ہماری واپسی تھی
00:18:14پاکستان کے لیے
00:18:15تو جب واپسی ہم ائرپورٹ پر
00:18:18ہونگ کونگ سے
00:18:19پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے تھے
00:18:22تو اس وقت ائرپورٹ پر کم و بیس
00:18:24دو ہزار آدمی تھا
00:18:26اس طرح جس ملک میں
00:18:28جہاں بھی جاتے
00:18:29وہاں مریدین کا سلسلہ
00:18:31خود بخود اس قدر بڑھ جاتا
00:18:34کہ ایسا لگتا کہ شاید یہ مریدین
00:18:36آپ بھی کا انتظار کر رہے تھے
00:18:38لیکن کچھ
00:18:40مقتدر احباب کی زبانی سنا ہے
00:18:42کہ کم و بیش
00:18:43پانچ سے چھے لاکھ
00:18:45آپ کے مریدین کی تعداد ہے
00:18:47آپ کی پرخلوص تقاریر نے
00:18:54ہزاروں بندگان خدا کو
00:18:56راہِ توبہ پر گامزن کیا
00:18:58تمہارا جسم
00:18:59تمہارے چمڑے
00:19:00تمہاری ہڈیاں
00:19:02تمہاری آنکھیں
00:19:03تمہاری زبان
00:19:04تمہارا دل
00:19:04تمہارے ہاتھ
00:19:05پاؤں
00:19:06یہ سب اپنے جگہ
00:19:08الہدہ
00:19:08الہدہ خدا کے سامنے گفتگو کریں گے
00:19:11وہاں کس طرح
00:19:13اپنے آپ کو چھپاؤ گے ہیں
00:19:14علماء اکرام کی
00:19:21جب بھی نشست ہوتی
00:19:23اور علماء اکرام جب آپ سے ملاقات کرتے
00:19:26تو سارا ماحول ایک علمی ماحول ہوتا
00:19:30اور آپ کی گفتگو میں
00:19:32کمال یہ ہوتا
00:19:34کہ بڑے بڑے جید علماء
00:19:37اپنے وقت کے
00:19:39قابل
00:19:40اور
00:19:42اپنی حیثیت کو
00:19:44علمی اعتبار سے
00:19:45منوانے والے علماء
00:19:47بڑی
00:19:49توجہ
00:19:50اور
00:19:51ارہماق سے آپ کی گفتگو سنتے
00:19:52میں آپ کو بہت چھری آپ کو دے رہا ہوں جس کا نام عشق ہے
00:20:05اس سے پھارتے چلے جاؤ پردے
00:20:08کیرتے چلے جاؤ پردے
00:20:10انسانیت کا چیرہ کھلتا چلا جائے
00:20:12جب انسانیت کا چیرہ کھلتا چلا جائے گا
00:20:14دیکھتے ہو جب سر پہ وزن آتا ہے
00:20:17تو سر جھکنا شروع ہو جاتا ہے
00:20:19اور جب سر سے بوجھ اٹھتا ہے
00:20:21تو سر پھر اٹھنا شروع ہو جاتا ہے
00:20:23جنابِ رومی فرماتے ہیں
00:20:24عشقی تلوار لے
00:20:26اور جو سر پہ آپ کے پردہ آگیا
00:20:28اس کو چاہ کر
00:20:29جو ہی بوجھ ہٹے گا
00:20:31گناہ کا
00:20:31یہ سر اٹھے گا
00:20:33تو آسمانوں سے نظر اٹھ کر
00:20:35خدا کے پاس چلی جائے گا
00:20:36یار باید راہ راہ تنہا مرو
00:20:40تیرے سفر میں بھی
00:20:41تجھے بھی ایک یار کی ضرورت ہے
00:20:44جو یاری نبائے
00:20:45یاری میں ہے کیا
00:20:48ہمدردی
00:20:50یار کون ہوتا ہے
00:20:51جو راہ کا واقف ہو
00:20:54جس کے اندر وفا ہو
00:20:56جس کے اندر حیاء ہو
00:20:58جس کے اندر ہمدردی ہو
00:21:00جس کے اندر احسان کر کے
00:21:05جتانے کا شوک نہ ہو
00:21:06احسان کر کے
00:21:09جتانے کا شوک نہ ہو
00:21:12جس کے اندر ریاب بناور تسنو نہ ہو
00:21:17جس کے اندر کمال کے سوا
00:21:20محبوب کی لذت جمال کے سوا
00:21:25کوئی اس کے اندر خواہش ہی نہ ہو
00:21:28اور جو اپنے ساتھی کو
00:21:31جو اپنے دوست کو
00:21:33جو اپنے ہمسفر کو
00:21:35جو اپنے ہمراہی کو
00:21:37بحفاظت منزل تک لے جائے
00:21:41اور راستے کے خطرات سے
00:21:43اس کو بچاتا ہوا لے جائے
00:21:45اس کو یار کہتے ہیں
00:21:47فسکو فجور کی دلدل میں
00:21:52پھسے ہوئے لوگ
00:21:53آپ کے دامن سے وابستہ ہو کر
00:21:55معاشرے میں شرافت و اصلاح
00:21:57کے لیے ایک مثال بنتے ہیں
00:21:59استغفر اللہ العظیم
00:22:02اللذی لا الہ الا ہو
00:22:06الحی القیوم
00:22:09و اتوبو الہ
00:22:12یا اللہ توبہ
00:22:14سب گناہوں سے توبہ
00:22:21آپ کے ہاتھ پر بیت ہونے والا
00:22:23کوئی مرید ایسا نہیں ہوتا
00:22:25جس پر آپ کی نظر نہ ہوتی ہے
00:22:28ملک کے طول و عرض میں بھی
00:22:30وہ بیرون ملک بھی
00:22:32جہاں تک مریدین کا آپ سے تعلق
00:22:35قائم ہوا
00:22:37آپ نے ہر ایک کو
00:22:40اس کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق
00:22:43اس کی تربیت بھی فرمائی
00:22:45اسے تعلیم بھی ارشاد فرمائی
00:22:47اور بالخصوص خلفاء اکرام جہاں جہاں بھی
00:22:49جس جس شہر میں
00:22:51مسنت دشین ہے
00:22:53اور آپ کی نیابت سے
00:22:55آپ کے تعلق سے وہ
00:22:56مخلوق خدا کی رہنمائی اور بھلائی
00:22:59اور ذکر و اذکار کے سلسلے قائم کیے ہوئے ہیں
00:23:02ان سب پر آپ کی
00:23:04اس طرح توجہ رہتی
00:23:06کہ خلفاء اکرام کو باقاعدہ آپ سے بلواتے
00:23:10ان کے ساتھ
00:23:12معاملات پر گفتگو فرماتے
00:23:14انہیں ہدایات جاری فرماتے
00:23:17اور مخلوق خدا کی خیر اور بھلائی
00:23:19اور رہنمائی کے لیے
00:23:20کچھ ضروری معاملات ان سے ڈسکس کرتے
00:23:23اور پھر جہاں تک ہو سکتا
00:23:26آپ مردین سے براہ راست
00:23:29خود ان کے حالات جاننے کی کوشش کرتے
00:23:32اور پھر مناسب جو ان کے لیے ہدایت ہوتی
00:23:36رہنمائی ہوتی
00:23:37آپ اسے فرمایا کرتے ہیں
00:23:39آپ کے در سے مسنوی شریف سننے والوں کی روح تک کو سرشار کر دیتے تھے
00:23:51پیش آئے آموز کندر آخرت
00:23:58اندر آیت دخل قصب و مغفرت
00:24:08دنیا میں رہنے والے انسان
00:24:14تو چاہتا ہے نا کہ تیری عزت ہو
00:24:16تجھے آرام ملے
00:24:17تجھے وقار ملے
00:24:19تجھے احترام ملے
00:24:20تجھے پیار ملے
00:24:22تو پھر ایسا عمل کر
00:24:23ایسا پیشہ اختیار کر
00:24:25کہ تُو یہاں بھی باعزت ہو
00:24:27اور کل قیامت والے دن بھی
00:24:29مغفرت کا تاج تیرے سر پر رکھ دیا جائے
00:24:31سننے والوں کا یہ کہنا ہے
00:24:39کہ دروسِ مسنوی
00:24:40دیگر علماء و مشائخ
00:24:42نے بھی دیئے
00:24:43لیکن جو قبولیتِ عامہ
00:24:45اللہ نے حضرت تیر علاو الدین
00:24:47صدیق رحمت اللہ علیہ کے
00:24:49دروسِ مسنوی کو دی
00:24:51وہ کسی اور کو نہ ملی
00:24:52حدیثِ قلصے میں آتا ہے
00:24:54کہ اللہ جل شانہو نے
00:24:56اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم
00:24:58کو اشارت فرمائے
00:25:00میرے محبوب زمین آسمان
00:25:02کتنے وسیع ہیں
00:25:03اور یہ سات زمین
00:25:05سات آسمان
00:25:06عرش کے سین میں رکھ دو
00:25:08تو گم ہو جائیں
00:25:09یوں ہی لوہ و کلم
00:25:12صدرت المنتاج
00:25:13بیت المامور
00:25:15جنت
00:25:15ساب
00:25:16وسط در وسط
00:25:18زمین و آسمان
00:25:19کتنے وسیع ہیں
00:25:20ان کی وسط اور پہنائی کا
00:25:22اندازہ کیا کرو گے تم
00:25:23اے انسانوں
00:25:26آپ کیا اندازہ کر سکیں گے
00:25:28یہ میرے جلوے
00:25:30یہ ساری کائنات
00:25:33ان کے اندر اتنی طاقت
00:25:35اور گنجائش نہیں
00:25:37کہ وہ میرے جلووں کو سمال سکیں
00:25:39ہاں
00:25:40اگر میں کہیں
00:25:42مر سکتا ہوں
00:25:43یا نظر آ سکتا ہوں
00:25:45وَلَكِنْ يَسَوْنِ فِي قَلْبِ عَبْدِ مُؤْمِنِنْ
00:25:48وہ مومن کا دل ہے جہاں جا کے میں ٹھہر جاتا ہے
00:25:51سلام علیہ وسلم
00:25:51درس مسنوی کا سلسلہ آپ نے شروع کیا
00:26:00تو میں خود اس بات کا شاہد ہوں
00:26:03کہ ایک بہت بڑے بزرگ عمر رسیدہ شخص
00:26:07جس کا علیگر یونیورسٹی سے تعلق رہا
00:26:10میری رہائشتی گلستان جوہر میں
00:26:13تو وہ مجھ سے ملنے کے لیے آئے
00:26:15اور مجھے آ کر اپنا
00:26:17ایک خیال پیش کیا
00:26:20کہ یہ جو پیر صاحب ہیں
00:26:21یہ درس مسنوی دے رہے ہیں
00:26:24میں نے ان کے کچھ پروگرام دیکھے
00:26:25ہم ساری زندگی فارسی پڑھتے رہے
00:26:28فارسی پڑھاتے رہے
00:26:30مگر مسنوی شریف کو ہم آج تک
00:26:33اس طرح نہ سمجھ سکے
00:26:34جیسے کبلہ پیر صاحب نے ہمیں سمجھایا ہے
00:26:37جبکہ ان کی عمر کم و بیش
00:26:40میرے خالے ستر سال سے زیادہ تھی
00:26:41اور وہ اپنے ایک بھائی جو
00:26:43اس وقت بھی دہلی میں آباد ہیں
00:26:45ان سے اکثر مشورہ کرتے ہوئے
00:26:47اس بات کا تسرہ کرتے تھے
00:26:49کہ مسنوی شریف کی شرح کرنے میں
00:26:51پیر صاحب نے جو حق ادا کیا ہے
00:26:53وہ اپنی مثال آپ
00:26:54یوں تو تصوف کی
00:26:59تعلیمات
00:27:00آپ کی زندگی کا
00:27:02ایک مشکلہ رہا
00:27:04اور صوفیہ اکرام کے متعلق
00:27:07آپ کا
00:27:09جذبہ محبت
00:27:12اس قدر رہا
00:27:12کہ ان کی تعلیمات کا اکثر آپ
00:27:16ذکر فرماتے
00:27:18لیکن
00:27:20نور چینل
00:27:22نور ٹی وی چینل قائم کرنے کے بعد
00:27:24درس مصنوی کے
00:27:27شگف سے جب آپ نے
00:27:30ٹی وی پروگرام کا آغاز کیا
00:27:32تو پھر آپ کی
00:27:36تمام تر محافل مجالس کا
00:27:39سلسلہ درسے
00:27:40مسنوی سے متعلق ہو گیا
00:27:43پھر مولانا جلال الدین
00:27:45رومی رحمت اللہ علیہ کے
00:27:47اشعار کی شرح میں
00:27:49جو گفتگو آپ فرماتے
00:27:50اور ان کے متعلق جو کچھ آپ
00:27:53ارشاد فرماتے
00:27:54اور پھر لوگوں کی آنے والوں کی
00:27:57مجلس میں شریک ہونے والوں کی
00:27:59آپ جس طرح تربیت فرماتے
00:28:00تو میں یہی ارز کروں گا
00:28:03کہ وہ درسے
00:28:04مسنوی نہ ہوتا
00:28:06بلکہ وہ دردے
00:28:08معنوی ہوتا
00:28:09کہ آپ لوگوں میں
00:28:11دردے دل
00:28:13دل تقسیم فرماتے تھے
00:28:14درسے مسنوی نام تھا
00:28:17مگر اصل میں تو آپ
00:28:19وہ دردے دل تقسیم فرماتے
00:28:21جس سے
00:28:22سننے والا درد مند ہو جاتا
00:28:24اور پھر اسی درد میں وہ
00:28:27اپنی احساس زندگی کو
00:28:29گزارنے کی کوشش کرتا
00:28:31تمام زندگی
00:28:37عشق رسول کا درس دیتے رہے
00:28:39اور خود بھی عملی طور پر
00:28:41آپ عاشق رسول تھے
00:28:43ہمیشہ عشق رسول کی بات
00:28:46آپ کی زبان پر رہی
00:28:48اور کبھی محفل نات ہوتی
00:28:51تو آپ کی رغبت کا
00:28:53اور آپ کی
00:28:54محبت کا عالم یہ ہوتا
00:28:57کہ آپ پر اس وقت دیوانگی تاری ہوتی
00:28:59بسا اوقات ہم نے
00:29:01آپ کو
00:29:02عشق بہاتے وے دیکھا
00:29:04اور اس کیفیت کے ساتھ
00:29:06نات سنتے وے دیکھا
00:29:08کہ پوری محفل پر
00:29:10آپ کے اس درد اور غم کا
00:29:12احساس غالب آجاتا
00:29:13آپ خود بھی
00:29:15ناتیہ اشار لکھتے
00:29:18اور آپ نے اپنی
00:29:20عمر کے عوائل دور میں
00:29:21ایک
00:29:23نات کا مجموعہ مرتب کیا
00:29:25لیکن شاید
00:29:27حضور قبل عالم
00:29:29غوث الامت
00:29:30حضرت خواجہ پیر غلام محید دین
00:29:32غزنبی رحمت صلی اللہ علیہ
00:29:33نے
00:29:34جب اس مجموعہ کا
00:29:36مطالعہ کیا
00:29:37تو آپ نے
00:29:38اجازت نہیں دی
00:29:40بلکہ ارشاد فرمایا
00:29:42کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے
00:29:45شاید لوگوں میں
00:29:46اتنی اہلیت نہ ہو
00:29:48لہٰذا
00:29:49اسے
00:29:49اس کی اشارت کرنے کی ضرورت نہیں
00:29:52مگر پھر بھی جب بھی
00:29:54موقع
00:29:55محل کے مطابق
00:29:57آپ کو موقع ملتا
00:29:58تو آپ
00:29:59کوئی نہ کوئی اشار
00:30:00ضرور ارشاد فرماتے
00:30:02عمر کے آخری سے میں بھی
00:30:04آپ نے کچھ
00:30:05ناتیا کلام لکھے تھے
00:30:06شاید وہ
00:30:07کچھ کتابوں میں
00:30:09محفوظ ہے
00:30:10ایک میں نے کتبو کی
00:30:16تو اس کے بعد
00:30:17یہ کلمہ
00:30:17در محبوب
00:30:20نہیں ملتا
00:30:21محبت کے بغیر
00:30:22محبت بھی نہیں
00:30:25ملتی
00:30:26ان آیت کے
00:30:27لا ریب یہی عشق ہے
00:30:32راہ بر اپنا
00:30:33لا ریب
00:30:36یہی عشق ہے
00:30:38راہ بر اپنا
00:30:39جیتا نہیں
00:30:41دیوانا
00:30:42معیت کے
00:30:43سبحان اللہ
00:30:44جیتا نہیں
00:30:46دیوانا
00:30:47معیت کے
00:30:49بغیر
00:30:49اشاک بھی
00:30:50شرک گوارہ
00:30:51نہیں کرتے
00:30:52اشاک
00:30:54کبھی
00:30:54شرک گوارہ
00:30:55نہیں کرتے
00:30:56لیکن آشق شرک
00:31:01جو نہیں کرتا
00:31:01ایک دن پیچھے دوسرے
00:31:03نوان دے نہیں
00:31:04جتے مالی ہوگی
00:31:05سبحان اللہ
00:31:05اشاک بھی شرک گوارہ
00:31:09نہیں کرتے
00:31:10یہ کیف کسی کو نہیں ملتا
00:31:13مہدت کے بھی شرک گوارہ
00:31:15سبحان اللہ
00:31:17اور اسائی تیرے در تک
00:31:18یہی میراج اپنی
00:31:20اور اسائی تیرے در تک
00:31:23یہی میراج اپنی
00:31:26کب ملتا ہے جلوائے جانا
00:31:28سعادت کے
00:31:29رہے معبوب میں
00:31:33دل و دیدہ کی
00:31:34تحارت لازم
00:31:35رہے معبوب میں
00:31:38دیدہ و دل کی
00:31:40تحارت لازم
00:31:41رہے معبوب میں
00:31:45دیدہ و دل کی
00:31:47تحارت لازم
00:31:48تابانی اشک
00:31:50میسر نہیں لطافت کے بغیر
00:31:52تابانی اشک
00:31:55میسر نہیں لطافت کے بغیر
00:31:58گرمی اشک سے
00:31:59جل جاتے ہیں
00:32:00حائل پردے
00:32:01سبحان اللہ
00:32:02گرمی اشک سے
00:32:05جل جاتے ہیں
00:32:06حائل پردے
00:32:09میسر نہیں
00:32:11قرب کسی کو
00:32:12تمازت کے بغیر
00:32:13سبحان اللہ
00:32:13ایک دریولہ گر
00:32:17عاشق کی صدا
00:32:18گنگی ہے
00:32:19ایک دریوزہ گر
00:32:21دریوزہ گر
00:32:22مانگتے نکھیں دے
00:32:23جو رہا گدائی دا
00:32:25کھاسا لیکن
00:32:25اس کو دریوزہ گر
00:32:27ایک دریوزہ گر
00:32:30عاشق کی صدا
00:32:31گنجی ہے
00:32:32جاؤں و ندر سے
00:32:33کبھی
00:32:34رویت کے بغیر
00:32:35سبحان اللہ
00:32:35یہ گدائی دا
00:32:37کیا مانگتے ہیں
00:32:38سبحان اللہ
00:32:38ایک دریوزہ گر
00:32:42عاشق کی صدا
00:32:43گنجی ہے
00:32:43جاؤں و ندر سے
00:32:45کبھی
00:32:45رویت کے بغیر
00:32:47توڑ کے پلکوں کی
00:32:48SubhanAllah
00:33:18توڑ کے پلکوں کی یہ دیوار نکل آئے ہنسوں
00:33:28یوں سہلِ رما نہیں ہوتا جراحت کے بغیر
00:33:32صدیقی سمل کر قدم رکھنا کوئے جانا میں
00:33:43کاروان گوبے یہاں ان کی ہدایت کرتے ہیں
00:33:46آپ نے ہمیشہ اس بات پر درس بھی دیا
00:34:01اور اپنے متعلقین کو بھی یہی تعلیم دیتے رہے
00:34:06کہ باہم محبت شفقت رواداری اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کرو
00:34:15اور بحیثیت مسلمان جہاں سے گزرو
00:34:19تمہاری صورت سیرت کردار اور عمل سے یہ ثابت ہو
00:34:24کہ تم ایک مسلمان ہو
00:34:26اور تمہاری گفتار اور رفتار اور تمہاری سیرت
00:34:30اور تمہارا اخلاق
00:34:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوائے حسنہ سے تعبیر ہے جس طرح آپ نے حکم فرمایا
00:34:41اور اس میں بالخصوص دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ اور برتاؤ
00:34:47کہ آپ اکثر اپنے مریدین کو اور بالخصوص فلفائے اکرام کو یہ تبلیغ اور تعلیم دیا کرتے تھے
00:34:55کہ جہاں جاؤ لوگوں سے ہمدردی سے پیش ہاؤ
00:34:58اور باہم مسلمانوں میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرو
00:35:02اختلاف اور انتشار سے بچو
00:35:04جس قدر ہو سکے ایک دوسرے سے رواداری اور محبت سے پیش ہاؤ
00:35:08کیونکہ یہی وقت کا تقاضہ ہے اور وقت کی ضرورت ہے
00:35:12خدمت خلق کے حوالے سے آپ کی تاریخ عمر بھر کی زمانہ یاد رکھے گا
00:35:38آپ نے اپنی تمام عمر اسی جد و جہد میں گزاری
00:35:45ملک کے طول عرض میں جہاں جہاں آپ نے ضرورت کو محسوس کیا
00:35:50پنجاب میں بہت سارے ایسے نواحی علاقے
00:35:54جہاں پر پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ پریشان حال تھے
00:36:01خوراک کا سلسلہ جہاں پہنچنا بہت مشکل تھا
00:36:05راستے نہ ہونے کی وجہ سے عام معاشرتی زندگی ایک وبال جان تھی
00:36:12آپ نے ایک ہمدرد انسان کے ناتے جہاں جس ضرورت کو محسوس کیا
00:36:18اگرچہ آپ خود کسی ایسی دولت یا ایسی شان و شوقت کے مالک نہیں تھے
00:36:29کہ یہ کہا جا سکے کہ آپ خود رئیس وقت تھے لیکن عام کی شخصیت میں یہ کمال تھا
00:36:36کہ جس طرف اپنے موریدین اپنے متوسلین کو آپ اشارہ فرماتے حکم دیتے
00:36:43کہ یہ کام ضروری ہے تو ہر طرف سے لوگ عیسار اور قربانی کے جذبے کے ساتھ آپ کے حکم پر لبیک کہتے
00:36:50کوئی غریب سے غریب آدمی آ جائے اور اپنی حاجت پیش کرے تو آپ اسے بھی مایوس نہ فرماتے تھے
00:36:59اور اگر ملکی شدہ پر کوئی بڑا ایسا تقاضہ سامنے آ جائے جہاں کوئی بہت بڑی
00:37:05کمپنی یا ادارہ یا کوئی تھنگ ٹینکس جیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کا کام ہوتا ہے
00:37:15آپ ایسے بڑے کاموں سے بھی نہیں گھبراتے
00:37:18دو ہزار پانچ میں جب کشمیر میں ایک قیامت خیز زلزلہ آیا تھا
00:37:25اور ہر طرف تباہی تباہی ور بربادی کا سما تھا
00:37:29لاکھوں خاندان اجڑ گئے سینکڑوں گھرانے بے یار و مددگار قلع آسمان کی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے
00:37:40اس وقت آپ نے حکومت آزاد کشمیر کو خود یہ اپنی طرف سے
00:37:48خدمات پیش کی کہ چار ہزار بچے جن کا کوئی سرپرست نہیں ہے وہ ہمارے کا حوالے کر دیے جائیں
00:37:56ہم ان کی کفالت کریں گے اور آپ نے حسب وعدہ ان ہزاروں بچے اور بچیوں کو
00:38:03اپنی کفالت میں لے کر ملک کے مختلف مراکز میں ان کی خوراک رہائش ان کی دیگر ضروریات کے لیے انتظامات کیے
00:38:11اور پھر کئی سال تک یہ سلسلہ جاری رہا آپ ہمیشہ اسی تغدوں میں رہتے تھے کہ مخلوق خدا کی جس طرح بھی ہو سکے مدد کی جا سکے
00:38:22آپ نے بھرپور عملی زندگی گزاری جس کی مثالیں ملک و بیرون ملک میں قائم آپ کے ادارے ہیں
00:38:33آپ نے کشمیر میں محید دین یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور اس کی تکمیل فرمائی یہ ازاد کشمیر کی پہلی یونیورسٹی تھی
00:38:41یوں تو قبلہ حضرت صاحب رحمت اللہ علیہ نے ابتدائی طور پر بہت سارے اداروں کی تخلیق فرمائی
00:38:53مگر آپ اکثر اس بات کی فکر آپ کو لاحق رہتی کہ کوئی ایسا تعلیمی منصوبہ
00:39:01کوئی ایسا تعلیمی ادارہ جو کسی خاص خطے یا ملک کے لیے نہیں
00:39:07بلکہ تمام مسلمان آنے عالم کے لیے نفع وقش ہو
00:39:11جہاں ہر خطے سے ہر ملک سے لوگ آ کر استفادہ کریں
00:39:16تو یہ آپ کا ایک منصوبہ ذہن میں آپ کے ہمیشہ رہتا
00:39:22اور اس کے لیے آپ نے پھر تعمیری اعتبار سے ایک فیصلہ کیا
00:39:28جو کہ اس وقت کے اعتبار سے بڑا ہی غیر معمولی فیصلہ تھا
00:39:33کہ آپ نے کسی شہر شہرہ یا کسی ہموار زمین کا انتخاب نہیں کیا
00:39:39بلکہ دربارِ عالیہ نیریان شریف وہ جو فلق بوش پہاڑ کی چوٹی کے دامن میں
00:39:48دربار قائم ہے جہاں عام طور پر ایک عام انسان کی گزر مشکل ہے
00:39:55کیونکہ ان پکڈنڈیوں سے گزر کر جو لوگ وہاں پہنچتے ہیں
00:39:59انہیں پتا ہے وہ سفر کتنا دوشوار گزار و مشکل ہے
00:40:02مگر اس مقام پر آپ نے ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا
00:40:08اس دور اور اس حالات کے مطابق یہ بڑا کٹھن فیصلہ تھا
00:40:13کیونکہ میں ان حالات کا اینی شاہد ہوں
00:40:15کہ جب وہ منصوبہ زیر بحث آیا
00:40:20تو آرچیٹیکٹ نے جو ایک تخبینہ اس منصوبے کا بتایا
00:40:25وہ تقریباً اس دور کے حساب سے ڈھائی کروڑ روپے پاکستانی کے لحاظ سے تھا
00:40:31جبکہ اس وقت حالات یہ تھے کہ آپ کے پاس بینک میں
00:40:35جو رقم موجود تھی وہ صرف ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے تھی
00:40:40کچھ ہمدرد لوگوں نے مشورہ دیا کہ حضرت اتنا بڑا منصوبہ
00:40:47اور ان ناغذیر حالات میں اتنی بڑی رقم کا جمع کرنا یہ مشکل ہے
00:40:52آپ کوئی دارلوم مدرسہ قائم کر لیں
00:40:55جو تشنگی ہے وہ پوری ہو جائے گی
00:40:58لیکن آپ نے فرمایا
00:40:59کہ یہ میرا کوئی ذاتی مکان یا میری ضرورت کا سامان
00:41:05یا میری اپنی کوئی غرض نہیں ہے
00:41:07یہ اللہ کے دین کا معاملہ ہے
00:41:10اللہ خود اس کا انتظام فرمائے گا
00:41:13اور یوں پھر وہ کروڑ ہا روپے کے بجٹ سے
00:41:16تعمیر یونیورسٹی نیریہ شریف محید اسلامی یونیورسٹی قائم ہوئی
00:41:21اور اس کے بعد آپ نے
00:41:22حالات و ضرورت کے تحت
00:41:24کیونکہ آزاد کشمیر میں کوئی میڈیکل کالج قائم نہیں تھا
00:41:27آپ نے ایک مصمم ارادے کے ساتھ
00:41:30میڈیکل کالج کا اعلان کیا
00:41:32اور پھر میر پور آزاد کشمیر میں آپ نے
00:41:36میڈیکل کالج قائم کیا
00:41:38ہسپٹلز بنائے
00:41:39اور بہت سارے رفائی ادارے قائم کیے
00:41:42پی سیو مساجد آپ نے قائم کی
00:41:44مدرسے بنائے
00:41:45اور نور ٹی وی کی شکل میں
00:41:48آپ نے امت کو ایک خوبصورت توفہ عطا فرمایا
00:41:53حضر علیہ محترم
00:41:54جہاں تک محید دین اسلامی یونیورسٹی کی تعمیر کا
00:41:58وہ وقت
00:42:00جب انتہائی قصب پرسی کا زمانہ تھا
00:42:05تعمیری تخمینے کو سامنے رکھ کر
00:42:07اس کی تکمیل تو بہت دور کی بات ہے
00:42:12اس کے آغاز کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئی تھی
00:42:15اس دور میں میں ذاتی طور پر
00:42:20اس بات کی گواہی دیتے ہوئے
00:42:23یہ عرض کرنا چاہتا ہوں
00:42:25کہ جب
00:42:26لاکھوں کی بات تو دور کی ہے
00:42:31ہزاروں کا بجٹ سامنے نہیں تھا
00:42:35اور جو تعمیری منصوبہ تھا
00:42:38وہ کروڑوں کی بات کر رہا تھا
00:42:40اس وقت
00:42:41جن لوگوں نے سب سے زیادہ
00:42:43آگے بڑھ کر
00:42:45حضور شیخ العالم کو
00:42:47حوصلہ بکشا
00:42:49اور مالی معاونت فرمائی
00:42:51اور
00:42:53قدم سے قدم ملا کر
00:42:55ہر موقع پر
00:42:58پیر صاحب کا
00:43:00وہ دست بازو بن کر
00:43:02خدمت کرتے رہے
00:43:04ان میں سر فیرست
00:43:06اے آر وائی
00:43:08نیٹ ورک کے روح رمان
00:43:10حاجی عبد الرزاق صاحب علیہ رحمہ
00:43:12ان کے برادر ازگر
00:43:14حاجی محمد اقبال صاحب
00:43:16ان کے صاحبزاد سلمان اقبال صاحب
00:43:19یہ تمام حضرات
00:43:20ان خدمات میں پیش پیش رہے
00:43:22اور بالخصوص
00:43:24چیئرمن
00:43:25کیو ٹی وی
00:43:26جناب حاجی عبد الرعوف صاحب
00:43:28ان سے تو
00:43:29قبلہ صاحب رحمت اللہ علیہ کے
00:43:31تعلق کا کیا کہنا
00:43:34اس قدر وہ اپنے
00:43:37ارادوں میں خیالات میں
00:43:39پروگراموں میں انہیں شریک فرماتے
00:43:41کہ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا
00:43:43تو وہ حاجی عبد الرعوف صاحب کو یاد کرتے
00:43:46انہیں دربار شریف بلا لیتے
00:43:48یا خود کراچی تشریف لاتے
00:43:50تو ایک نشست ایسی ہوتی
00:43:53جس میں صرف حاجی صاحب
00:43:54اور قبلہ صاحب
00:43:55تشریف فرما ہوتے
00:43:57اور وہ اہم معاملات پر مفتو چنید ہوتی
00:43:59اس کے بعد ترار کھل میں
00:44:05حسبتال اور میر پر آزاد کشمیر میں
00:44:09پہلا میڈیکل کالج تعمیر کروایا
00:44:11اس کے علاوہ
00:44:13مدارس
00:44:14مساجد
00:44:15سکولز
00:44:16اور کالجز کی تعداد
00:44:17دیکھ کر انسان یہی کہتا ہے
00:44:19کہ قبلہ پیر صاحب کے ارادے ہی
00:44:22ان کے ادارے ہیں
00:44:23ایک مثال قائم فرمائی
00:44:27کہ آج کے دور میں
00:44:28ایک خانقاہی نظام سے
00:44:30تعلق رکھنے والا
00:44:31ایک ایجوکیشنلی
00:44:33یعنی
00:44:33بزاہل
00:44:34دینی علوم سے تعلق رکھنے والا
00:44:37دنیاوی علوم میں
00:44:38کس طرح کیسے ماہر ہے
00:44:40اور لوگوں کو
00:44:41کیسے ایکسپرٹ بنا رہا ہے
00:44:42میڈیکل کالج
00:44:43یونیورسٹیز
00:44:44اس بات کا بیین ثبوت ہے
00:44:46اور مثال قائم کی
00:44:47کہ جو علماء ہیں
00:44:49مشایخ ہیں
00:44:49وہ بھی اس کام میں
00:44:51اس میدان عمل میں آ سکتے ہیں
00:44:53مجدد الفیسانی
00:44:57رضی اللہ عنہ
00:44:57کا ایک قول
00:44:58مجھے بہت خوبصوری
00:44:59یاد آیا
00:44:59آپ ارشاد فرماتے ہیں
00:45:02کہ جس عدالت میں
00:45:03موجود تمام وقالہ
00:45:10اس مجرم کی حمایت میں
00:45:13کھڑے ہو جائیں
00:45:15تو جیج
00:45:19اس کو قصور وار
00:45:20سمجھتے ہوئے
00:45:21سب وقیلوں کے
00:45:24اتفاق اور اتحاد
00:45:25کی عزت کرتے ہوئے
00:45:27اس مجرم کو
00:45:28بری کر دیتا
00:45:29تو وہ فرماتے ہیں
00:45:31کہ جب قیامت میں
00:45:32جاؤ گے
00:45:32تو جس کی آنکھیں
00:45:35اس کے حق میں بولیں
00:45:37جس کی زبان
00:45:37صحیح بولیں
00:45:38جس کا جسم
00:45:39صحیح بولیں
00:45:39تو یہ سارے آزا
00:45:41جب خدا کے سامنے
00:45:43اس کے ساتھ
00:45:45جب محبت کے وقت
00:45:47گزاریں
00:45:47وہ جب بیان کریں گے
00:45:48تو جب سارا
00:45:49ہی وجود
00:45:50حق اور نیکی کی
00:45:52گواہی دے گا
00:45:54تو رب العالمین
00:45:55اس سے
00:45:56سرزد جتنے گناہ ہیں
00:45:58ان سے سرف نظر
00:45:59کر کے فرمائے گا
00:46:00کہ یہ سارے وقالہ
00:46:01تیرے حق میں
00:46:02اس لیے ہم تمہیں بھیج رہے ہیں
00:46:04حضرات
00:46:04یہ جو کیمیا گر ہوتے ہیں
00:46:08ان کے پاس
00:46:08ایک نسخہ آجاتا ہے
00:46:10یہ تانبے کو
00:46:11پگلا کر
00:46:12اس میں ایک ذرہ ڈالتے ہیں
00:46:15اس اصل جوہر کا
00:46:19تو وہ سب سونہ بن جاتا ہے
00:46:21یہ ان کو کہتے ہیں
00:46:22کیمیا گر
00:46:23تو فرماتے ہیں
00:46:24کہ تیری یہ جو خاک
00:46:26یہ جسم ہے نا
00:46:27یہ سارا تانبہ ہی بنا ہوا ہے
00:46:29تانبہ
00:46:30اب اس کو وہ
00:46:31عشق میں پگلا کر
00:46:32نور نبوت کی
00:46:34یہ کرن ڈالیں گے
00:46:35تو یہ خالص تلاہ بن جائے گا
00:46:37وہ کیمیا گر لوگ ہیں
00:46:40سجدہ تو تیرے پاس پہلے بھی ہے
00:46:43مگر ذوکِ سجدہ نہیں ہے
00:46:45عبادت تو تیرے پاس پہلے بھی ہے
00:46:47مگر لذتِ عبادت نہیں ہے
00:46:50جب تم کیمیا گر کے پاس جاؤگے
00:46:52تو وہ سجدے کی عدا بھی بتائے گا
00:46:55سجدے کی عدا بھی بتائے گا
00:46:57اور لذت کی تاثیر بھی بتائے گا
00:46:59حضرت پیر محمد
00:47:02اللہ علیہ الدین سجدہ کی
00:47:03اپنی ذات میں ایک انجمند
00:47:06انہوں نے جو
00:47:09روحانیت کی خدمت کی
00:47:12جو مخلوقِ خدا کے رفائی کاموں میں
00:47:16تارہائے نمائیں سر انجام دیئے
00:47:19ان کا احاطہ ممکن نہیں ہے
00:47:22اپنی کم و بیش
00:47:25اٹھتر سالہ زندگی
00:47:27ان کی جہد مسلسل سے عبارت
00:47:30انہوں نے اپنی زندگی کا
00:47:33کوئی لمحہ زائے نہیں کیا ہے
00:47:35پاکستان ہو
00:47:36آزاد کشمیر ہو
00:47:39برطانیہ ہو
00:47:41اور پھر اب
00:47:43عمر کے آخری حصے میں
00:47:45تو
00:47:46ان کا سلسلہ احباب
00:47:49اور سلسلہ طریقت
00:47:51پورے
00:47:53یورپ اور افریقہ میں پھیلا ہوا تھا
00:47:55حضرت پیر صاحب نے
00:47:57علم کے میدان میں
00:48:00مہید دین جیسی
00:48:02اسلامی کی یونیورسٹی
00:48:04نیرین شریف کی فلک بوس پہاڑیوں پر قائم کر کے
00:48:07اپنی عزت و عظمت کو چار چاند لگا دیئے
00:48:11میڈیکل کالیج
00:48:14رہتی دنیا تک
00:48:16ان کے نام کو زندہ و تابندہ رکھے گا
00:48:19اور
00:48:21الحمدللہ کے وابستگانِ نیرین شریف
00:48:26یا جو بھی
00:48:28حضرت پیر علاو دین صدیقی رحمت اللہ تعالی سے محبت کرنے والے ہیں
00:48:33وہ
00:48:35دنیا کے جس کونے میں بھی
00:48:37لا الہ الا اللہ کی گونج سنیں گے
00:48:40ایک خاص انداز سے
00:48:42ذکر اللہ کو سمات کریں گے
00:48:45تو
00:48:46ان کا
00:48:49دل
00:48:49ان کی گردن
00:48:51ان کا سر
00:48:52عقیدت اور محبت سے
00:48:53حضرت پیر صاحب کے سامنے
00:48:55چھک جائے گا
00:48:57اللہ رب العالمین
00:48:59ان کے مزار پرانوار پر
00:49:01اپنی رحمتوں اور برکتوں کی برسات فرمائے
00:49:04اور ان کے سابزادگان
00:49:06ہر دو سابزادگان
00:49:07کو اللہ رب العالمین
00:49:09یہ توفیق مرحمت فرمائے
00:49:11کہ وہ ان کے کام کو جاری و ساری رکھ سکیں
00:49:14وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَا
00:49:16آپ اکثر دل کی صفائی
00:49:20باطن کی طہارت پر گفتگو فرماتے
00:49:23اور اس حقیقت کو آشکار کرتے
00:49:25کہ عشقِ الٰہی کی حلاوت
00:49:27وہی پاسکتا ہے
00:49:29جس کا باطن پاک ہو
00:49:31جب آپ رحمت اللہ علیہ
00:49:33عشق کے معارف اور حقائق بیان کرتے
00:49:37تو سامعین پر استراب
00:49:39اور رکت کی کیفیت تاری ہو جاتی
00:49:41بسا اوقات
00:49:42آپ خود بھی آپ دیدہ ہو جاتے
00:49:45اور فرماتے
00:49:46ان آنسوں کو حقیق نہ سمجھا کرو
00:49:49یہ دربارِ الٰہی میں
00:49:51ہیرِ جواہرات سے بھی
00:49:52زیادہ قدر رکھتے ہیں
00:49:54محبوبِ ازلی کا جب
00:49:58جماعت سامنے آتا ہے
00:50:00تو دل اور روح چمکنا شروع ہو جاتے ہیں
00:50:02تو یہ دوریاں ختم ہو جاتی ہیں
00:50:05دوریاں ختم ہوتی ہیں
00:50:06قرب کی منزل پر فائز ہو جاتے ہیں
00:50:09اس لیے فرمایا
00:50:10کہ
00:50:10اندر سے اپنے محبوب کی ہو رہو
00:50:17اور باہر سے بے شک
00:50:18بے گانے ہی سے ہی
00:50:20دنیا میں جو رہتے ہو
00:50:21دنیا ہے جو بے گانی
00:50:23دنیا ہی میں رہتے ہو
00:50:25دنیا ہے جو بے گانی
00:50:26تو دنیا میں بے گانے ہی رہو
00:50:28لیکن اندر سے با خدا ہو کے رہو
00:50:30اس لیے کہ وہ فانی نہیں
00:50:32تم فنا سے نکل کر بقا کی طرف چلے گئے
00:50:35اب پردہ جب اٹھے گا
00:50:36تو تیرا دل اور تیرے محبوب کا جمال
00:50:39یہ ایک ہی رہیں گے
00:50:40حضرت پیر علیہ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ
00:50:48امت کے حقیقی درد سے آشنا تھے
00:50:50آپ امت مسلمہ کو ہمیشہ
00:50:53متحد کرنے کے جذبے سے سرشار رہے
00:50:56اسی اتحاد امت کی راہ میں
00:50:58غیروں کی بے رخی
00:51:00اپنوں کی مخالفت
00:51:02کبھی آپ کے رستے کی رکاوٹ نہ بنی
00:51:05یہی وجہ ہے کہ عالمِ کفر کی اسلام کے خلاف
00:51:09ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے
00:51:11جب بھی یورپ میں کوئی مہم چلی
00:51:14تو تمام مسالک کے لوگوں نے
00:51:16حضرت علامہ پیر علیہ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ کی شخصیت کو ہی
00:51:21اپنا قائد مقرر کیا
00:51:23اور آپ کی بے لوس قیادت نے بھی کبھی
00:51:26بھروسہ کرنے والوں کو مایوس نہیں کیا
00:51:29کہ اللہ کے اس فرمان پر عمل کریں
00:51:35اللہ کی رسی کو سب پکڑو
00:51:39مرد سب پکڑو
00:51:41عورتیں سب پکڑو
00:51:42بچے ہوں کے جوان
00:51:44بوڑے ہوں کے جوان
00:51:46بچے ہوں
00:51:47بلکل بچے ہوں
00:51:48یا مراحقت کی عمر ہو
00:51:50عورتیں ہوں یا مرد
00:51:51جس نے پڑھ لیا لا الہ الا اللہ
00:51:53محمد الرسول اللہ
00:51:56اس اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو
00:51:57اور اختلافات باہمی کا جنازہ نکال دو
00:52:00اختلافات باہمی کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دو
00:52:04اور خود محبت کے کفن میں سمٹ جاؤ
00:52:06اپنے اندر بھی محبت رکھو
00:52:09باہر بھی محبت رکھو
00:52:10زبان میں بھی محبت رکھو
00:52:12نگاہ میں بھی محبت رکھو
00:52:14قدم میں بھی محبت رکھو
00:52:15روح جسم جان تن من
00:52:17ظاہر باطن میں
00:52:19محبت خدا محبت رسول
00:52:21اور محبت مومن رکھو
00:52:23جس راستے سے گزرتے جاؤ
00:52:24کسی پر عیب بینی
00:52:26نکتہ چینی
00:52:28اے مومن یہ تیرا مقام نہیں
00:52:29عیب مٹانا
00:52:31دوسرے کی توہین کرنا
00:52:33تیری شان نہیں
00:52:34توہین کی جگہ تعریف کرنا
00:52:35تیرا حق ہے
00:52:36زبان کھلے تو خشبو سے
00:52:39آنکھ اٹھے تو حیاء سے
00:52:41سر جھکے تو سجدے کے لیے
00:52:43قدم بڑے تو نیکی کے لیے
00:52:45ہاتھ اٹھے تو خدا کے لیے
00:52:47دل پھڑ کے تو ذکر میں
00:52:49احساس جوانی پائیں
00:52:50تو محبت رسول میں
00:52:52اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہیں کروگے
00:52:54جب تک ایمان بالو ایک ہو کر
00:52:56نبی کے کلمے کا نور
00:52:58ہر دل میں نہیں اتارو
00:53:00اس کے لیے اتحاد لازمی ہے
00:53:03محبت لازمی ہے
00:53:05اختلافات ختم کرو
00:53:07محبت اور پیار کا چراغ جلاو
00:53:09محبت کے دیپ جلاو
00:53:12عشق و الفت کے چراغ جلاو
00:53:15جدر جاؤ محبت کا پیغام عام کرو
00:53:26شیخ العالم
00:53:37حضرت قبلہ پیر
00:53:39علاو الدین صدیقی
00:53:41رحمت اللہ تعالی علیہ
00:53:42ان کی شخصیت
00:53:44خانقہی نظام کے لیے
00:53:45بالخصوص ہم نقشمندیوں
00:53:48اور نقشمندی خانقہوں کے لیے
00:53:49ایک قابل فخر شخصیت تھی
00:53:51یقینا ہم سب حضرت پر
00:53:54ناز کرتے ہیں
00:53:55اور حضرت کی جات پر
00:53:56فخر کیا کرتے تھے
00:53:58اور کرتے ہیں
00:53:58حضرت کی وسال سے
00:54:01صرف ان کے موریدین
00:54:02اور ان کے عقیدت مند
00:54:04غمغین نہیں ہیں
00:54:04بلکہ تمام
00:54:06خانقہی نظام سے
00:54:07محبت کرنے والے
00:54:08اور سجاد غان بھی مغموم ہیں
00:54:09یقینا ہم سب ان کی
00:54:11کمی محسوس کرتے ہیں
00:54:12کیونکہ ان کی شخصیت
00:54:14صرف ایک اپنی خانقہ کے لیے
00:54:16وہ نہیں مفید منتی
00:54:18بلکہ وہ الحمدللہ
00:54:19پورے خانقہی نظام کا ایک تعریف تھی
00:54:21اگر علمی دنیا میں
00:54:22حضرت کا کام دیکھا جائے
00:54:23تو علم دین کے لیے بھی
00:54:24اور دنیاوی علم کے لیے بھی
00:54:26میڈیکل کے لیے
00:54:27مخلوق خدا کی خدمت کے لیے
00:54:29جس طرح حضرت کی
00:54:30ایرئیورسٹی
00:54:31اپنی خدمات
00:54:32سرانجام دے رہی ہیں
00:54:34وہ اپنی مثال آپ ہے
00:54:35الیکٹرانک میڈیا کے تھروں
00:54:36اے آوائی کیو ٹی وی کے تھروں
00:54:38جس طرح انہوں نے دین کی تبلیغ کی
00:54:40یا اپنے درس و تدریس کے ذریعے
00:54:43اپنے مدارس کے ذریعے
00:54:44جس طرح انہوں نے دین کی تبلیغ کی
00:54:46انشاءاللہ
00:54:47ان کی خدمات کو
00:54:49اور ان کی شخصیت کو
00:54:50تا صبح قیامت
00:54:51یاد رکھا جائے گا
00:54:53آج ہم سب پر ضروری ہے
00:54:55جب حضرت نے ہمارے لیے
00:54:56ہماری نسلوں کے لیے
00:54:57اتنا کچھ کیا
00:54:59تو ہمیں چاہیے
00:55:00کہ ہم آج حضرت کی برسی آ رہی ہے
00:55:02حضرت کا عرص آ رہا ہے
00:55:03زیادہ سے زیادہ
00:55:04احسالِ ثواب کریں
00:55:05حضرت کے لیے
00:55:06آہرت کی
00:55:07بلندی دراجات کے لیے
00:55:08دعا کریں
00:55:09حضرت یہ جو کیمیا گر ہوتے ہیں نا
00:55:26ان کے پاس ایک نسخہ آ جاتا ہے
00:55:28یہ تانبے کو پگلا کر
00:55:30اس میں ایک ذرہ ڈالتے ہیں
00:55:32اس اصل جوہر کا
00:55:37تو وہ سب سونہ بن جاتا ہے
00:55:39یہ ان کو کہتے ہیں کیمیا گر
00:55:41تو فرماتے ہیں
00:55:43کہ تیر یہ جو خاک
00:55:44یہ جسم ہے نا
00:55:45یہ سارا تانبہ ہی بنا ہوا ہے
00:55:47تانبہ
00:55:48اب اس کو وہ عشق میں پگلا کر
00:55:51نورِ نبوت کی یہ کرن ڈالیں گے
00:55:53تو یہ خالر طلاع بن جائے گا
00:55:55وہ کیمیا گر لوگ ہیں
00:55:58سجدہ تو تیرے پاس پہلے بھی ہے
00:56:01مگر ذو کے سجدہ نہیں ہے
00:56:02عبادت تو تیرے پاس پہلے بھی ہے
00:56:06مگر لذتِ عبادت نہیں ہے
00:56:08جب تم کیمیا گر کے پاس جاؤ گے
00:56:11تو وہ سجدے کی ادا بھی بتائے گا
00:56:13سجدے کی ادا بھی بتائے گا
00:56:16اور لذت کی تاثیر بھی بتائے گا
00:56:18آپ نے تبلیغ دین کے لیے
00:56:20افوانستان، مصر، شام، ترکی اور برطانیہ کے
00:56:24کئی اسفار فرمائے
00:56:26برطانیہ میں آپ نے وقفے وقفے سے طویل قیام فرمایا
00:56:29آپ نے وہاں مہیدین ٹرسٹ، ال احیاء ٹرسٹ کی بھی بنیاد رکھی
00:56:34برطانیہ کا پہلا اسلامی ٹی وی چینل
00:56:37نور ٹی وی بھی آپ کی کابشوں کا سمر تھا
00:56:40حضور شیخ العالم حضرت قبلہ پیر علاو دین صدیقی رحمت اللہ علیہ
00:56:44اپنی عمر کے ایک طویل عرصے تک
00:56:49اس کی تبلیغی مشن کے تحت آپ نے مختلف ممالک کے دورے کی
00:56:57برطانیہ میں تو ایک طویل عرصہ آپ مقیم بھی رہے
00:57:03یورپ کے مختلف ممالک کے دورے بھی کرتے رہے
00:57:07یہاں تک کہ آپ نے افریقہ ممالک میں بھی دورے کیے
00:57:11وسط ایشیا آپ تشریف لے گئے
00:57:14امریکہ کے مختلف ٹاؤنز میں بھی آپ نے جا کر تبلیغی اجتماعات کیے
00:57:21کینیڈا بھی آپ کئی بار تشریف لے گئے
00:57:25اور ابھی عمر کے آخری عصے میں
00:57:27غالباً دو ہزار سولہ میں
00:57:30جو ہندوستان کا آپ نے دورہ کیا
00:57:34اس دورے میں آپ جمہ کشمیر
00:57:38سری نگر سے لے کر
00:57:39دہلی اور دہلی سے پھر اجمیر شریف
00:57:42اور سرہن شریف مختلف شہروں میں
00:57:45جا کر آپ نے وہاں
00:57:47اپنی اسی تبلیغی مشن کے تحت
00:57:49مختلف اجتماعات کیے
00:57:51پروگرام کیے
00:57:53اور یہاں پاکستان میں بھی آپ نے
00:57:55تمام عمر
00:57:56ملک پاکستان کے تمام سوبوں میں
00:58:00کوئی شہر ایسا نہیں
00:58:01اور پھر خصوصیات کے ساتھ آپ کے اندر
00:58:04یہ بات بھی بڑی
00:58:06مانیخیص تھی
00:58:07کہ بہت ساری زبانوں پر آپ کا عبور حاصل تھا
00:58:10سرائی کی زبان
00:58:12اور پشتون زبان میں
00:58:14جتنے قبائلی زبانیں ہیں
00:58:16پھر پنجاب کی تمام
00:58:18اور اردو کی زبان میں
00:58:20آپ
00:58:21علاقے آپ خود پشتو زبان ہیں
00:58:23مگر
00:58:24اردو کا لب و لہجہ آپ کا ایسا تھا
00:58:27کہ جب آپ گفتگو فرماتے
00:58:29تو لوگ شاید یہ سمجھتے
00:58:31کہ آپ
00:58:32اہل زبان اردو ہی میں سے ہیں
00:58:34اور
00:58:36پنجاب
00:58:37سے تعلق رکھنے والے
00:58:38جب سمات کرتے
00:58:39تو وہ سمجھتے
00:58:40کہ آپ کا تعلق پنجاب سے ہے
00:58:42پشتون حضرات جب ان سے گفتگو کرتے
00:58:44تو وہ کہتے یہ ہمارے ہیں
00:58:46لیکن میں آپ کو عجیب بات بتاؤں
00:58:48انیس سو پچاسی میں
00:58:49حج کے موقع پر
00:58:51میں خادم کی حیثیت کے
00:58:53آپ کے ہمراہ تھا
00:58:54تو عرفات کے میدان میں آپ
00:58:56تشریف فرما تھے
00:58:57خیمے کے اندر
00:58:58سامنے خیمے میں
00:59:00کچھ شامی حضرات بیٹھے تھے
00:59:02جو حج کے لیے تشریف لائے تھے
00:59:04اب احرام کی شکل میں
00:59:06کوئی امتیاز نہیں تھا
00:59:07کہ یہ شخص کہاں کا رہنے والا ہے
00:59:09لیکن آپ کی
00:59:10مسرور کن شخصیت
00:59:13اور دل آویز
00:59:15آپ کی
00:59:16نورانی صورت کو دیکھ کر
00:59:18وہ متاثر ہو کر قریب آئے
00:59:19اور جب گفت و شریعت کا سلسلہ شروع ہوا
00:59:22تو ان شام کے رہنے والے
00:59:24حجاز اکرام
00:59:26یہ کہنے پر مجور ہو گئے
00:59:28کہ ہمیں یقین یہ تھا
00:59:30کہ آپ کا تعلق
00:59:31اسی عرب علاقے سے ہے
00:59:32شام سے ہے
00:59:33کیونکہ آپ نے اتنی
00:59:35خوبصورت طریقے سے
00:59:37عربی زمان میں
00:59:38ان سے گفتگو فرمائی
00:59:39پیر طریقت رہبر شریعت
00:59:44حضرت پیر علاو الدین صدیقی
00:59:46رحمت اللہ تعالی
00:59:47ہمارے وطن ملک پاکستان میں نہیں
00:59:51بلکہ پوری دنیا میں
00:59:52خدمت اسلام اور تصوف کے حوالے سے
00:59:55ایک بڑی معروف اور نمائی ہستی
00:59:58کے حامل تھے
01:00:00اور آپ نے
01:00:01اس پورے خطے میں
01:00:03اور خاص طور پر بیرون ممالک میں
01:00:05نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
01:00:07کے عشق کو حضور علیہ السلام کی
01:00:09محبت کو اور تصوف کی اقدار کو
01:00:11عام کرنے کے لیے
01:00:12بڑا بنیادی کردار عطا فرمایا
01:00:14بیلفیر کے جتنے کام ہیں
01:00:17مہی الدین اسلامی انویسٹری ہو
01:00:18یا عرمی میدان میں
01:00:20مسنو شریف کا درس ہو
01:00:22یقیناً آپ یادگار اصلاف تھے
01:00:24اور اپنے تمام معاملات میں
01:00:26اور تمام چیزوں میں
01:00:27نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت
01:00:29اور حضور علیہ السلام کی سنت کے
01:00:31علم بردار تھے
01:00:33اور آنے والے تمام متوسلین اور مریدین کے لیے
01:00:36آپ کا پیغام اپنے تمام ظاہر و باطن میں
01:00:39حضور علیہ السلام کی محبت کا
01:00:41اور مخلوق خدا کی خدمت کر رہا ہے
01:00:43اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے
01:00:46اور ان کے فیوز و برکات کو جاری و ساری فرمائے
01:00:48رب العالمین نے واضح ارشاد فرما دیا ہے
01:00:57اور دعا میں شامل کر دیئے
01:00:59کہ ربنا آتنا فی دنیا حسنتن
01:01:03و فی ال آخرت حسنتن
01:01:06دونوں چیزیں بتائیں
01:01:09دنیا بھی اور آخرت بھی
01:01:11دنیا میں نیکی اتنی دے
01:01:13کہ شرمندگی نہ ہو
01:01:15اور قیامت میں
01:01:17نیکی اتنی ہو
01:01:18قیامت کی نیکی اتنی ہو
01:01:20کہ تیری اور تیرے محبوب پاکی بارگاہ میں
01:01:23جب حاضر ہوں
01:01:24تو قبولیت کی سند مل جائے
01:01:26یقیناً آپ کی زندگی
01:01:34کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والوں کے لیے
01:01:37ایک نمونہ عمل ہے
01:01:39آپ تمام عمر
01:01:41اس کوشش میں رہے
01:01:44کہ تقریر کے ساتھ ساتھ
01:01:47تحریر کو بھی
01:01:50عام کیا جائے
01:01:53لیکن خود اپنی مصروفیات کے باعث
01:01:56اس شعبے کو آپ
01:01:58وقت نہ دے سکے
01:02:01اور
01:02:02کوئی خاص کتاب آپ کی
01:02:04تصریف نہ ہو سکی
01:02:06لیکن آپ کے کچھ خدبات
01:02:09اکتباسات
01:02:10آپ کی کچھ تعلیمات
01:02:12مختلف کتابوں میں موجود ہیں
01:02:15کچھ مصنفین نے اسے تحریر کیا ہے
01:02:18اور ابھی
01:02:20ایک کتاب
01:02:21قبل اپیر صاحب کے
01:02:23ایک خلیفہ ہیں
01:02:24محمد انیس صاحب
01:02:26انہوں نے مرتب کی ہے
01:02:28اس میں وہ خدبات
01:02:29موجود ہیں
01:02:31اور اس کے علاوہ بھی
01:02:33مختلف تصانیف میں
01:02:35آپ کی خدبات موجود ہیں
01:02:36اللہ نے وقت
01:02:40جدا کر دیا
01:02:42چونکہ اگر فجر
01:02:43ایک وقت
01:02:43فجر کا وقت ایک ہوتا
01:02:44تو فجر سے لے کر
01:02:46زہر تک
01:02:46کوئی نماز پڑھنے والا نہ ہوتا
01:02:48اور اثر سے مغرب تک
01:02:50وقت خالی ہوتا
01:02:51پھر مغرب سے
01:02:52عشاء تک دنیا خالی ہوتی
01:02:53پھر عشاء سے لے کر
01:02:55فجر تک
01:02:55کوئی عبادت کرنے والا نہیں ہوتا
01:02:57خدا نے
01:02:58اوقات جدا کر دیئے
01:02:59کہ کوئی زمانہ ایسا ہے
01:03:01کہ جہاں ہر ہر بطن میں
01:03:03ہر ملک میں
01:03:03ہر پانڈ میں
01:03:04ہر شہر میں
01:03:05ہر فضا میں
01:03:06ہر دریا میں
01:03:07ہر جنگل میں
01:03:08ہر عبشار کے قریب
01:03:10ہر کوسار پر
01:03:12اور کوسار کے دامن میں
01:03:13خود توحید والے ہیں
01:03:15رسالت کے نور والے ہیں
01:03:17توحید کے جلوے سینوں میں
01:03:18اور رسالت کی محبت روحوں میں
01:03:21رکھے ہوئے موجود ہیں
01:03:22اور کوئی ایسا نہیں
01:03:23جو سائدہ نہ کرے
01:03:24وقت ایک ہوگا
01:03:25تو زمین خالی ہوگی
01:03:26جدا وقت کر دو
01:03:28کوئی سویا ہوگا
01:03:29کوئی اٹھا ہوگا
01:03:30زمین کسی وقت بھی
01:03:31سجدوں سے خالی نہیں رہے گی
01:03:34اللہ غنی
01:03:48جانا ہوتے ہیں
01:03:50جو مصطفیٰ کی ملکیت ہے
01:03:53آپ کا مالک کون ہے
01:03:55آپ کس کی ملکیت ہیں
01:03:56چھوڑو یار
01:03:57آپ غلام کس کے ہیں
01:03:58ارے آپ کس کے نام سے زندہ ہیں
01:04:00کس کے نام سے زندہ ہیں
01:04:04تو آپ بھی انہی کے
01:04:05جنت بھی انہی کی
01:04:06ارے ان سے لگے رہنا
01:04:08شفاعت کر کے لے ہی جائیں گے
01:04:10آپ نے تین فروری
01:04:17دو ہزار سترہ کو لندن میں
01:04:20وصال فرمایا
01:04:20آسٹن پار پرمنگم میں
01:04:22ہزاروں افراد نے آپ کا
01:04:24نماز جنازہ ادا کیا
01:04:26پھر آپ کے جزد خاکی کو پاکستان
01:04:28لائے گیا
01:04:29اور آزاد کشمیر نیریا شریف میں
01:04:32حضرت غلام محید دین غزنوی کے پہلو میں
01:04:35آپ کی تدفین کی گئی
01:04:37میں آخر میں اپنے
01:04:40سامعین و ناظرین سے یہی عز کروں گا
01:04:43کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے
01:04:47کہ حضور شیخ العالم نے
01:04:50اپنی تمام زندگی
01:04:52جس جد و جہد کے ساتھ گزاری
01:04:54اپنی انتھک محنت کے ساتھ
01:04:58امت کی خیر خواہی کا
01:05:01جو سامان کیا
01:05:03تو یہ بات ان پر صادق آتی ہے
01:05:06نگاہ بلند
01:05:11سخن دل نواز
01:05:13جان پرسوز
01:05:16یہی رخت سفر ہے میر کاروان کے لیے
01:05:19اور آپ نے
01:05:21جو کام کر دکھایا
01:05:23جو کام کیا
01:05:25اور جس طرح
01:05:27اپنی
01:05:29صلاحیت قابلیت کے ساتھ
01:05:31ایک جہاں آباد کیا
01:05:35زمانہ یاد کرے گا
01:05:38کیونکہ
01:05:39اسی
01:05:41احساس کو
01:05:43بیان کرتے ہوئے کسی نے کہا
01:05:46ہزاروں سال
01:05:47نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
01:05:50بڑی مشکل سے ہوتا ہے
01:05:53چمن میں دید آور پیدا
01:05:55اللہ پاک آپ کی قبر مبارک پر
01:05:58کروڑ ہا رحمتیں
01:06:00عادل فرمائے
01:06:01ہم
01:06:01مریدین
01:06:03متعلقین
01:06:05اور جو ان سے محبت کرنے والے ہیں
01:06:07اللہ
01:06:08ہم سب کو ان کے نقش قدب پر
01:06:10چلتے ہوئے
01:06:12دین کی خدمت
01:06:13اسی طرح جس طرح آپ نے کی
01:06:15ایسا کرنے کا
01:06:16اللہ ہم سب کو حوصلہ
01:06:18نصیب فرمائے
01:06:19آمین
01:06:20میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا
01:06:23کہ کیو ٹی وی نے
01:06:24ہمیشہ
01:06:25حضور قبلہ عالم
01:06:27غوث الامت
01:06:28حضرت خواجہ پیر غلام
01:06:30مہیتین
01:06:30غزنوی رحمت اللہ علیہ
01:06:31قبلہ پیر صاحب کے
01:06:33وہ سالانہ
01:06:34عرص کے پروگرام کو
01:06:36لائف کورج دی
01:06:38اور کئی سال تک یہ پروگرام
01:06:41پوری دنیا میں
01:06:42دکھایا جانے لگا
01:06:44اور لوگوں نے دیکھا
01:06:45آج بھی
01:06:47آپ ہی کی ذات پر
01:06:49یہ جو خصوصی پروگرام ہے
01:06:51میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
01:06:54موطرم
01:06:55حاجی عبدالرم صاحب
01:06:57چیئرمن کیو ٹی وی
01:06:58اور ان کے تمام
01:06:59متعلقین کا
01:07:00جنہوں نے
01:07:01قبلہ صاحب شیخ العالم
01:07:03پیر علیہ الدین صدیقی رحمت اللہ علیہ
01:07:05کے لیے
01:07:06یہ وقت انعائیت فرمایا
01:07:08اللہ تعالیٰ دو جہاں میں
01:07:09انہیں جزائے خیر عطا فرمائے
01:07:11مر گئے احساس جدائی میں
01:07:13تیرے شہدہ
01:07:15سبحان اللہ
01:07:16مر گئے احساس جدائی میں
01:07:19تیرے شہدہ
01:07:21دل ہی نہ رہا باقی کیو
01:07:23اب جی جانتا ہے
01:07:24کس دون سے سٹھا ہے
01:07:29جنازہ تیرے عاشق کا
01:07:31کس دون سے سٹھا ہے
01:07:34جنازہ تیرے عاشق کا
01:07:37تجھ سے ملکہ جو گیا
01:07:39تو اسے مر گئے
01:07:40اس نے میت کے لیے
01:07:44لائے ہشاہ
01:07:46کانسو
01:07:47اس نے میت کے لیے
01:07:54لائے ہشاہ
01:07:55کانسو
01:07:56اب تو ہی بتا کے
01:07:58ہمیں کرکا
01:07:59تیرے عاشق کی نماز پڑھائے
01:08:07کوئی اور
01:08:08تیرے عاشق کی نماز پڑھائے
01:08:15کوئی اور
01:08:16کوئی جرب میں ہی صادر
01:08:20تو نہ آنے
01:08:22کا بہانہ کیا
01:08:23کوئی جرب میں ہی صادر
01:08:27تو نہ آنے
01:08:28کا بہانہ کیا گیا ہے
01:08:30کبر میں جاتے ہی
01:08:31کھل جائیں یہاں کے
01:08:32کبر میں جاتے ہی
01:08:37کھل گل
01:08:45I love you, I love you.
01:09:15I love you, I love you.
Comments