Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago

Category

🐳
Animals
Transcript
00:00شب برات ایک ایسی رات ہے
00:01جس کے اندر انسانوں کی زندگیوں کے بارے میں
00:09نہایت اہم اور خاص فیصلے کیے جاتے ہیں
00:11کہ آپ زندہ رہیں گے یا نہیں
00:13کون مرے گا اور کون زندہ رہے گا
00:15آپ پر آسانی آئے گی یا آزمائش
00:30آپ کے رزق میں کشادگی ہوگی یا تنگی
00:37کون گریب سے امیر بن جائے گا
00:43اور کس کی زندگی میں مصیبتوں کا آگاز ہونے والا ہے
00:46اور کن لوگوں کے نام مردہ لوگوں کی فہرست میں لکھ دیے جائیں گے
00:51تو کیا وہ رات آپ کے لئے عام رہ جائے گی
00:53پیارے دوستوں آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے
00:57کہ شبی برات کی حقیقت کیا ہے
00:59اس رات نامہ اعمال کیوں بدلے جاتے ہیں
01:02اور اس رات انسانوں کے بارے میں کون کون سے خاص فیصلے کیے جاتے ہیں
01:07اور اگر خدا نہ خواستہ ہمارا نام بھی مردہ لوگوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہو
01:12تو ہمیں کیا کرنا چاہیے
01:14اس رات کتنے اور کن لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے
01:18اور اس رات وہ کون سے بدقسمت لوگ ہوتے ہیں جن کی مغفرت نہیں کی جاتی
01:23اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کون کون سے کام کرنے کا ارشاد فرمایا ہے
01:29اور ضرورت کے مطابق مسلمانوں کو شبی برات کس طرح گزارنی چاہیے
01:34پیارے دوستوں
01:35ان تمام سوالات کے جواب یہ ہیں
01:37شبی برات اسلامی سال کے آٹھوے مہینے شابان الموجزم کی پندرہویں رات کو آتی ہے
01:43شابان کی پندرہویں رات کو شبی برات کہا جاتا ہے
01:47اور یہ رات پندرہ شابان کی فجر تک رہتی ہے
01:50یہی وہ رات ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خبردار کیا
01:56یہ رمضان سے پہلے آنے والی آخری بڑی رات ہے
02:00شب کے مانی رات کے ہیں اور برات کے مانی ہیں بری ہونا
02:04کیونکہ اس رات مسلمان توبہ کر کے
02:07اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں
02:11اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کو چھوڑنے کا پختہ وعدہ کرتے ہیں
02:17تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے صدقے بے شمار مسلمانوں کو جہنم سے رہائیتہ فرما دیتا ہے
02:23اسی لئے اس رات کو شب برات کہا جاتا ہے
02:26ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رجی اللہ عنہ فرماتی ہیں
02:32ایک دن میں نے دیکھا کہ حضور میرے حضرے میں نہیں ہیں
02:35تو میں حضور کو تلاش کرنے نکلی
02:38جنت البقیہ میں پہنچی تو وہاں کا منجر عجیب تھا
02:43میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں تشریف فرما ہے
02:48سر جھکا ہوا
02:49ہاتھ اٹھے ہوئے
02:50لبوں پر دعا
02:51اور دل میں امت کا درد
02:53یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ لوگ آرام کر رہے تھے
02:56جو کبھی ہمارے جیسے زندہ تھے
02:58ہستے تھے
02:59بولتے تھے
03:00دنیا میں مصروف تھے
03:02مگر آج خاموش قبروں میں سو رہے تھے
03:04حضور صلی اللہ علیہ وسلم
03:06اپنی امت کے لیے دعا فرما رہے تھے
03:09اللہ سے مغفرت مانگ رہے تھے
03:11ان لوگوں کے لیے بھی جو کبروں میں ہیں
03:13اور ان کے لیے بھی جو ابھی زندہ ہیں
03:16مگر گفلت میں ہیں
03:17مجھے دیکھ کر فرمایا
03:18اے آئیشہ
03:19کیا تم نے یہ سمجھا کہ
03:20اللہ کا رسول تم سے زیادتی کرے گا
03:23میں نے عرض کی
03:24یا رسول
03:25میں نے سمجھا کہ شاید آپ کسی دوسری
03:27جوجہ اے محترمہ کے حضرے میں
03:29تشریف لے گئے ہیں
03:30فرمایا
03:31آج لیلتن نصف من شابان ہے
03:33شابان کی پندرہویں رات
03:39اس رات اللہ تعالیٰ بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے
03:42میں چاہتا ہوں کہ میری امت کو موت یاد رہے
03:45قبروں کا انجام یاد رہے
03:48اور وہ اللہ کی طرف پلٹ آئے
03:49اس رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے
03:53اور قبیلہ بنو قلب کی بکریوں کے بالوں سے
03:56زیادہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آجات فرما دیتا ہے
04:00قبیلہ بنو قلب عرب کا بہت بڑا قبیلہ تھا
04:03جو بکریاؤں اور بھیڑیں پالتے تھے
04:05ان کے ریور لاکھوں کی تعداد میں تھے
04:07تو اس قبیلے کی بکریوں کے بالوں سے بھی
04:10زیادہ گناہگاروں کو جہنم سے آجات کر دیا جاتا ہے
04:13یہ وہ بابرکت رات ہے
04:15جس کے دامن میں اتنی برکت ہے
04:18کہ کوئی محروم نہیں رہتا
04:20سوائے ان بدنصیب لوگوں کے جو شرک میں مبتلا ہے
04:23سخت کینا پرور ہیں
04:25قطر رحمی کرتے ہیں
04:26قاتل ہیں
04:27آدھی شرابی ہیں
04:28یا بدکار ہیں
04:30انہیں اس مبارک رات میں محروم رکھا جاتا ہے
04:33ورنہ اللہ کی رحمتوں کا سیلاب ہے
04:35حضرت عطاب بن یاسر
04:37رجی اللہ تعالیٰ انہو بیان فرماتے ہیں
04:40کہ لیلت القدر کے بعد
04:42شابان کی پندرہویں رات
04:44سب سے افضل
04:45یعنی سب سے بہترین رات ہے
04:47پیارے دوستوں
04:48شبی برات فرشتوں کے لیے
04:50اللہ تعالیٰ نے
04:52عید کا دن مقرر فرما دیا ہے
04:54جس طرح اللہ تعالیٰ نے
04:56زمین پر رہنے والے انسانوں کو
04:58دو عیدیں عطا فرمائی
05:00اسی طرح اللہ تعالیٰ نے
05:03آسمان والوں کے لیے بھی
05:04دو عیدیں مقرر کر رکھی ہیں
05:06ایک شبی برات اور دوسری شبی قدر
05:09انسان چونکی یہ دونوں عیدیں
05:11دن میں مناتے ہیں
05:12جبکہ فرشتے یہ دونوں عیدیں
05:14رات کو مناتے ہیں
05:15اللہ تعالیٰ نے ان دونوں راتوں کو
05:18فرشتوں کے لیے عید اس لیے مقرر فرمایا ہے
05:21کیونکہ انسان رات کو سو جاتا ہے
05:23جبکہ فرشتے رات کو نہیں سوتے
05:25بلکہ وہ ہر وقخت
05:27اللہ تعالیٰ کی عبادت میں
05:29مصروف رہتے ہیں
05:30پیارے دوستوں
05:31شبی برات کے بارے میں
05:33اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں
05:35ارشاد فرماتا ہے
05:37قسم ہے اس روشن کتاب کی
05:38بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت
05:40رات میں ناجل کیا
05:41بے شک ہم ڈرانے والے ہیں
05:43اس رات میں ہر حکمت والا کام
05:45بانٹ دیا جاتا ہے
05:46اس آیتی کریمہ کی تفسیر میں
05:48مفسرین لکھتے ہیں
05:49کہ اس شب سے مراد شبی قدر
05:52یا شبی برات ہے
05:53اور حضرت اکریمہ
05:55رجی اللہ تعالیٰ انہو
05:56اور دوسرے مفسرین بیان کرتے ہیں
05:58کہ لیلت القدر اے مبارکہ سے
06:01مراد ہی شبی برات ہے
06:02پیارے دوستوں
06:03اس رات کے اندر
06:05ان تمام لوگوں کی فہرست
06:07تیار کی جاتی ہے
06:08جو اس دنیا کے اندر
06:09زندہ رہنے والے ہوں گے
06:11اور جو اس سال کے اندر
06:12مرنے والے ہوں گے
06:13اور جو حج کرنے والے ہوں گے
06:15ان تمام لوگوں کے نام
06:17اس فہرست کے اندر
06:18لکھ دیے جاتے ہیں
06:20اس فہرست میں درج ہونے والے
06:22ہر حکم کو پورا کرنے میں
06:23ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی جاتی
06:26حضور اے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
06:29نے ایک مثال بیان فرمائی
06:30ایک شخص سہرہ میں سفر کر رہا تھا
06:33دوپہر کے وقت
06:34ایک درخت کے نیچے
06:35آرام کے لیے رک گیا
06:36اونٹ کو درخت سے باندھا
06:38اور خود لیٹ گیا
06:39تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی
06:41تو دیکھا کہ اونٹ سامان سمیت گائب ہے
06:43سہرہ میں اونٹ کا گم ہو جانا
06:45گویا زندگی کا ختم ہو جانا ہے
06:47وہ ادھر ادھر دوڑا
06:48تلاش کی
06:49مگر کوئی نشان نہ ملا
06:51تھک ہار کر
06:52واپس اسی درخت کے نیچے بیٹھ گیا
06:54پیاس سے ہلکان ہو رہا تھا
06:55موت کا انتظار کرنے لگا
06:57سہرہ کے مسافر جانتے ہیں
06:59کہ سینکڑوں میل تک آبادی نہیں ہوتی
07:01نہ کھانے کو کچھ
07:02نہ پینے کو
07:03اونٹ بھی گیا
07:04توشہ بھی ساتھ چلا گیا
07:05اب سیدھی موت نظر آ رہی تھی
07:07وہاں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
07:10اور موت کا منتظر ہو گیا
07:12تھوڑی دیر بعد دوبارہ آنکھ لگ گئی
07:14جب آنکھ کھلی
07:15تو دیکھا کہ وہ اونٹ
07:16ساج و سامان سمیت
07:18واپس اس کے پاس کھڑا ہے
07:19سہرہ میں ایسی حالت میں
07:21اونٹ کا مل جانا
07:22زندگی کا مل جانا ہے
07:23وہ اتنا خوش ہوا
07:24کہ خوشی کی انتہا نہ رہی
07:26مسررت کے عالم میں
07:28بے اختیار کہنے لگا
07:29یعنی اے اللہ
07:34تو میرا بندہ ہے
07:35اور میں تیرا رب ہوں
07:36دراصل کہنا تو یہ تھا
07:38تو میرا رب ہے
07:39اور میں تیرا بندہ
07:41مگر خوشی کا عالم اتنا تھا
07:43کہ زبان پر قابو نہ رہا
07:44حضور نے صحابہ سے پوچھا
07:46بتاؤ
07:48اس بندے کو کتنی خوشی ہوئی
07:49کہ زبان بھی قابو سے باہر ہو گئی
07:51صحابہ نے ارض کی
07:52بہت زیادہ خوشی ہوئی
07:54تو حضور نے فرمایا
07:55جس طرح اسے گمشدہ اونٹ ملا
07:57اور خوشی کی انتہا ہو گئی
07:59اس سے بھی زیادہ اللہ خوش ہوتا ہے
08:01جب کوئی بندہ توبہ کر کے
08:04اس کی طرف پلٹ آتا ہے
08:05گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے
08:07اس کی دہلیز پر آ جاتا ہے
08:09اللہ اکبر
08:10ایک اور واقعہ حضرت محمود گزنوی
08:12اور ان کے گلام عیاج کا ہے
08:14ان دونوں کے درمیان
08:16محبت کا رشتہ بہت گہرا تھا
08:19عیاز کو بادشاہ بہت چاہتا تھا
08:21دی کر وجراہ حسد کرتے
08:23بگز رکھتے
08:24وہ کہتے
08:25اس میں کیا خاص ہے
08:26کہ بادشاہ اسے اتنا چاہتا ہے
08:28حسد حد سے بڑھ گیا
08:29تو ایک دن بادشاہ نے
08:31سب وجراہ کو دربار میں بلائیا
08:33دربار میں ایک تالاب تھا
08:36اس میں مٹھی بھر موتی ڈال دیئے
08:37اور ہر وزیر سے کہا
08:39یہ موتی نکال کر لاؤ
08:40مگر تمہارا لباس بھی نہ بھیگے
08:42اور جسم بھی نہ بھیگے
08:43سب نے کہا
08:44یہ کیسے ممکن ہے
08:46پھر عیاج آیا
08:46بادشاہ نے اسے بھی یہی حکم دیا
08:49عیاج نے فوراں چھلانگ لگائی
08:51موتی نکالے
08:52باہر نکلا تو جسم اور لباس
08:54دونوں پانی سے تر تھے
08:55موتی پیش کیے
08:57بادشاہ گصے سے بولے
08:58عیاج
08:59تمہارا جسم بھی بھیگ گیا
09:01کپڑے بھی بھیگ گئے
09:02میں نے تو کہا تھا
09:04لباس اور جسم دونوں نہ بھیگیں
09:06عیاج نے
09:06عدب سے عرض کی
09:07بادشاہ سلامت
09:09آپ کے دو حکم تھے
09:10موتی نکال کر لانا
09:12لباس اور جسم نہ بھیگنا
09:13میں نے ایک حکم پورا کر دیا
09:15دوسرے کی معافی چاہتا ہوں
09:17یہ واقعہ بتاتا ہے
09:19کہ اللہ کے حضور بھی
09:20بندہ اگر ایک حکم پورا کر دے
09:22اور دوسرے میں کمی رہ جائے
09:24تو اللہ اس کی معافی قبول کر لیتا ہے
09:27حضرت عائشہ صدیقہ رجی اللہ
09:29تعالیٰ انہا بیان فرماتی ہے
09:31کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
09:34نے ارشاد فرمایا
09:36کیا تم جانتی ہو
09:37کہ شابان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے
09:39تو حضرت عائشہ رجی اللہ تعالیٰ انہا نے ارج کیا
09:43یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:46آپ ہی ارشاد فرما دیجئے
09:48تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
09:52آنے والے سال میں جتنے بھی لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں
09:56وہ اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں
09:58اور جتنے لوگ آنے والے سال میں مرنے والے ہوتے ہیں
10:01وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں
10:03اور اس رات لوگوں کے پورے سال کے آمال اٹھا لیے جاتے ہیں
10:07اور اسی رات لوگوں کا رجق مقرر کیا جاتا ہے اور رجق اتارا جاتا ہے
10:12حضرت اتھا بن سائب رجی اللہ تعالیٰ انہو بیان فرماتے ہیں
10:17کہ شابان کی پندرہویں رات اللہ تبارک و تعالیٰ ملکل موت کو ایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے
10:24کہ جن جن لوگوں کے نام اس فہرست میں لکھے ہیں
10:27ان کی روحیں آئندہ سال مقرر وقت پر قبض کرنی ہیں
10:32پیارے دوستوں اس رات میں لوگوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے
10:38جبکہ لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں
10:43کوئی اپنا بینک بیلنس بڑھانے کی چکر میں ہوتا ہے
10:46تو کوئی اپنی کوٹھی اور بنگلہ تیار کرنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے
10:50تو کوئی اپنی شادیوں کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے
10:53جبکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا نام مردہ لوگوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہے
10:59حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
11:03کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:09ارشاد فرمایا کہ ایک شابان سے دوسرے شابان تک لوگوں کی زندگی ختم ہونے کا وقت
11:15اسی رات میں لکھ دیا جاتا ہے
11:17یہاں تک کہ انسان شادی بیعہ کرتا ہے
11:19اور اس کے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں
11:21حالانکہ اس کا نام مردہ لوگوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے
11:26حضرت اببو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں
11:30کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
11:34شابان کی پندرہویں شب میں
11:36اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر
11:39اپنی شان کے مطابق جلوہ گر ہوتے ہیں
11:42اور اس رات ہر ایک کی مغفرت فرما دیتے ہیں
11:45سوائے ان لوگوں کے جو شرک کرنے والے ہوں
11:48اور دل میں بگج رکھنے والے ہوں
11:50اور ایک دوسری روایت میں آتا ہے
11:52کہ نبی اے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
11:56اللہ تبارک و تعالیٰ شابان کی پندرہویں شب میں
11:59اپنے رحم و کرم سے تمام مخلوقن کی بخشش فرما دیتا ہے
12:03سوائے ان لوگوں کے جو شرک کرنے والے ہوں
12:07اور کینا رکھنے والے ہوں
12:08حضرت عبداللہ بن عمر بن عس رجی اللہ
12:11تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
12:12کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
12:16کہ شابان کی پندرہویں رات میں
12:18اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے
12:21سب لوگوں کی مدد فرماتا ہے
12:23سوائے دو آدمیوں کے
12:24ایک وہ شخص جو دل میں کینا رکھنے والا ہو
12:28اور دوسرا وہ شخص جو کسی کو ناحق قتل کرنے والا ہو
12:32پیارے دوستوں
12:32شبی برات میں فرشتوں کو کچھ خاص کام سوپے جاتے ہیں
12:36اور شبی برات ایک ایسی رات ہے
12:38جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کی مغفرت فرماتا ہے
12:43اور دعاوں کو قبول کرتا ہے
12:45جیسا کی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں
12:49کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
12:53جب شابان کی پندرہویں رات آتی ہے
12:56تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے
12:59کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے
13:01کہ اس کے گناہ بخش دیے جائیں
13:03کیا کوئی مجھ سے معافی مانگنے والا ہے
13:06کہ میں اسے عطا کروں
13:07اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ سے جو کچھ مانگا جائے
13:10وہ سب عطا فرمایا جاتا ہے
13:12اور وہ سب کی دعاوں کو قبول فرماتا ہے
13:15سوائے بدکار عورت اور مشرک انسان کے
13:18دوستو شب برات اور پندرہ شابان کیا ہے
13:22سب سے پہلے لفظ شب فارسی اور عربی زبان کا لفظ ہے
13:26اور اس کا مطلب ہے رات
13:28وہ رات جو دن کے شور کے بعد آتی ہے
13:31جب بازار بند ہو جاتے ہیں
13:33لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں
13:35لیکن اصل کہانی تو لفظ برات میں چھپی ہوئی ہے
13:38برات عربی کے لفظ برات سے نکلا ہے
13:40اور برات کا مطلب ہوتا ہے
13:43کسی الزام سے بری ہو جانا
13:45کسی سزا سے نجات پا جانا
13:47کسی قید سے آزاد ہو جانا
13:50کسی پکڑ سے چھوٹ جانا
13:51یعنی بہت سادہ لفظوں میں اگر کہا جائے
13:54تو برات کا مطلب ہے
13:56رہائی
13:57پیارے دوستوں
13:58اب ذرا اپنے دل سے پوچھئے
14:00ہم میں سے کون ایسا ہے
14:01جو گناہوں کی قید میں نہیں
14:05کوئی کسی کا دل توڑنے کے بوجھ میں دبا ہوا ہے
14:09کوئی نماز چھوڑنے کی عادت میں گرفتار ہے
14:11اور کوئی گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتا
14:14یہ سب گناہوں کی قید ہے
14:16نظر نہ آنے والی
14:17لیکن دل کو جکڑ لینے والی قید
14:20اور شبیب رات
14:21اسی قید سے رہائی کی رات ہے
14:24اسی لیے اس رات کو شبیب رات کہا جاتا ہے
14:27یعنی وہ رات
14:28جس میں اللہ اپنے بندوں کو گناہوں کی سزا سے
14:32آزاد فرما دیتا ہے
14:33اس رات کی اتنی بڑی فضیلت ہے
14:36کہ اگر کوئی بندہ
14:38سواب کی امید کے ساتھ
14:39عبادت کرتے ہوئے
14:40اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے
14:43تو اللہ تبارک و تعالی
14:44بہت جلد اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
14:47اس رات میں بندہ اگر سچے دل سے کہہ دے
14:50یا اللہ
14:51میں مان گیا
14:52میں گلت تھا
14:53تو اللہ کی طرف سے جواب آتا ہے
14:55جا میں نے تجھے بری کر دیا
14:57پیارے دوستوں
14:58یہاں ذرا ایک منجر سوچئے
15:00برسوں سے جھیل میں ایک قیدی ہے
15:03ہر رات وہ لوہے کی سلاکھوں کو دیکھ کر سوتا ہے
15:06ایک دن اچانک دروازہ کھلتا ہے
15:08اور جیلر کہتا ہے
15:10تیری سزا ماف ہو گئی
15:12تو آجاد ہے
15:13بتائیے
15:13اس قیدی کے دل پر اس لمحے کیا گزرتی ہوگی
15:16بلکل ویسا ہی احساس
15:18شب برات کی رات گناہگار بندے کے دل میں پیدا ہوتا ہے
15:22فضیلت والی راتیں کون کون سی ہیں
15:24یہ بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیے
15:26نمبر ایک
15:27لیلت القدر جو رمضان کے آخری اشرے میں ہوتی ہے
15:31نمبر دو
15:32ایدل فطر کی رات
15:34نمبر تین
15:35ایدل اجھا یعنی قربانی کی رات
15:37نمبر چار
15:38پندرہ شابان کی رات
15:40یعنی شب برات
15:41پیارے دوستو
15:42اس رات کی ایک خاص بات یہ ہے
15:44کہ جس طرح پورے سال کا بجٹ
15:46حکومت پیش کرتی ہے
15:47کہ پورے سال میں کیا کیا ہوگا
15:49اسی طرح شب برات وہ رات ہے
15:51جس میں کائنات کا سالانہ بجٹ تیار ہوتا ہے
15:54حکومت کا بجٹ بن رہا ہو
15:56کاغذات پر عداد لکھے جا رہے ہو
15:58کہاں خرچ ہوگا
15:59کہاں بجٹ ہوگی
16:00کہاں کٹ لگے گا
16:02اور کہاں اضافہ ہوگا
16:03اب سوچیں
16:04جب انسانوں کی حکومت کا بجٹ
16:06اتنا اہم ہوتا ہے
16:07تو اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر کی فائل
16:10کتنی اہم ہوگی
16:11اسی لیے مفسرین فرماتے ہیں
16:13کہ شب برات میں
16:14اللہ تعالیٰ لوہ محفوظ سے
16:16اگلے ایک سال کے فیصلے نکال کر
16:18فرشتوں کے حوالے فرما دیتا ہے
16:20یہاں ایک بات بہت غور سے سمجھنے کی ہے
16:23لوہ محفوظ میں تو
16:24سب کچھ پہلے سے لکھا ہے
16:26لیکن فرشتوں کے سپرد کرنا
16:28یہ اس بات کی علامت ہے
16:30کہ اب وہ فیصلے عمل میں آنے والے ہیں
16:32یعنی جو کچھ لکھا جا چکا تھا
16:35اب اس کی گھڑی آ پہنچی ہے
16:37پیارے دوستوں
16:38اب ایک منظر سوچئے
16:40ایک نوجوان ہے
16:41وہ اگلے مہینے شادی کرنے والا ہے
16:43گھر میں خوشیاں ہیں
16:45کپڑے سل رہے ہیں
16:46دعوت کی باتیں ہو رہی ہیں
16:48لیکن اسی نوجوان کا نام
16:50شب برات کی رات
16:51مرنے والوں کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے
16:54وہ خود نہیں جانتا
16:56اس کے گھر والے نہیں جانتے
16:58اس کے دوست نہیں جانتے
16:59لیکن فرشتے جانتے ہیں
17:01یہی ہے فیصلوں کی رات
17:03شب برات ہمیں خوشیاں نہیں
17:05حقیقت دکھانے آتی ہے
17:06یہ رات انسان کو جھنجھوڑتی ہے
17:09کہ تو جس زندگی پر ناز کر رہا ہے
17:11وہ تیرے اختیار میں نہیں
17:13ایک دفعہ حضرت عائشہ
17:15رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا
17:16کہ اس رات کیا لکھا جاتا ہے
17:19تو انہوں نے نبی کریم
17:20صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان نکل کیا
17:23کہ اس رات آنے والے سال میں
17:25پیدا ہونے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں
17:27اور مرنے والوں کے نام بھی
17:29لوگوں کے عمال اٹھا لیے جاتے ہیں
17:31اور رزق تقسیم کر دیا جاتا ہے
17:33اسی طرح اس رات آنے والے سال کے
17:35تمام قدرتی کاموں کا
17:37حساب کتاب
17:38اللہ تبارک وطالہ فرشتوں کے حوالے کر دیتا ہے
17:41جیسے لوگوں کی زندگی
17:43اور موت وغیرہ کے فیصلے
17:45پیارے دوستوں
17:46کیا اس رات کوئی خاص عبادت ہے
17:48تو اس کا جواب ہے
17:49نہیں
17:50اس رات میں کوئی ایسی خاص عبادت نہیں
17:52جو سنت سے ثابت ہو
17:54لیکن ہاں
17:55نفلی عبادت کوئی بھی کر سکتا ہے
17:57جیسے نفل نماز پڑھنا
17:59قرآن کی تلاوت کرنا
18:01اللہ تبارک وطالہ کا ذکر کرنا
18:03اور دعا کرنا
18:05کیونکہ یہ رات بخشش کی رات ہے
18:07اس لئے اللہ کے سامنے
18:09اپنے گناہوں کی معافی
18:10ضرور مانگنی چاہیے
18:11دوستوں
18:12کیا اس رات
18:13صلاتت تزبیح پڑھنا ضروری ہے
18:15تو اس کا جواب بھی ہے
18:16نہیں
18:16جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا
18:18کہ اس رات کوئی عبادت خاص نہیں ہے
18:20لیکن ہاں
18:21نفلی عبادت جو چاہے کر سکتا ہے
18:23جہاں تک صلاتت تزبیح کا تلک ہے
18:26تو یہ نفل نماز ہے
18:28اور بڑی فضیلت والی ہے
18:29آپ چاہیں
18:30تو اسے پڑھ سکتے ہیں
18:32کیونکہ اس نماز کی اتنی فضیلت ہے
18:34کہ اسے صرف اسی رات میں نہیں
18:36بلکہ پورے سال میں
18:37کئی مرتبہ پڑھنا چاہیے
18:38پیارے دوستوں
18:40بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں
18:42کیا صلاتت تزبیح جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے
18:45تو اس کا جواب ہے
18:47نہیں
18:47نفل نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی
18:50بلکہ اسے
18:51الگ الگ
18:52اپنے اپنے طور پر پڑھا جاتا ہے
18:54اس رات عبادت مسجد میں کرنی چاہیے
18:56یا اپنے گھر میں
18:57تو اس کا جواب
18:58ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے
19:01یہ ارشاد فرمایا
19:02کہ اپنے گھروں کو
19:04قبرستان نہ بناو
19:05یعنی
19:06فرض نماز کے علاوہ
19:07نفل
19:08سنتوں
19:08اور ذکر کے ذریعے
19:10اپنے گھروں کو
19:10منور اور روشن کرو
19:12اور چونکہ اس رات کی عبادت نفلی ہے
19:14اس لیے
19:15اگر یہ عبادت گھر میں کی جائے
19:17تو زیادہ بہتر ہے
19:18کیونکہ نفلی عبادت کے لیے
19:19لوگوں کو
19:20جمع کرنا درست نہیں
19:22آدمی کو چاہیے
19:23کہ اپنے طور پر
19:24جتنا ہو سکے
19:25عبادت کرے
19:26عبادت کے لیے
19:27قبرستان جانا
19:28ضروری نہیں
19:29عبادت تو
19:30گھر میں بھی ہو سکتی ہے
19:31مسجد میں بھی
19:32اور اللہ کی یاد
19:34تو ہر جگہ ممکن ہے
19:35قبرستان جانے کا
19:36اصل مقصد یہ ہے
19:37کہ قبروں کی دیکھ بھال کی جائے
19:39صفائی کی جائے
19:41بے عدبی نہ ہو
19:42اور اہلِ کبور کے لیے
19:44دعا کی جائے
19:45بس اتنا
19:45اور جب انسان
19:46قبروں کے پاس
19:47کھڑا ہوتا ہے
19:48تو دل خود بخود
19:50نرم پڑ جاتا ہے
19:51گھرور ٹوٹتا ہے
19:52گفلت ہلتی ہے
19:53اور آدمی سوچتا ہے
19:54میرا انجام بھی یہی ہے
19:56پھر اگر آج
19:57کوئی بندہ
19:58واقعی اللہ سے دور ہے
19:59اور سچے دل سے پلٹ آئے
20:01تو اللہ کی خوشی کا
20:03عالم وہی ہے
20:04جس کا حضور
20:05صلی اللہ علیہ وسلم
20:07نے مثال میں بتایا
20:08جیسے سہرہ میں
20:09گمشدہ اونٹ
20:11واپس مل جائے
20:12اور آدمی خوشی کے
20:13حجوم میں
20:13اپنے الفاظ
20:15تک بھول جائے
20:16اسی لیے
20:16شب برات کی رات
20:18حضور صلی اللہ علیہ وسلم
20:20کا قبرستان
20:21جانا ہمیں
20:21یہ پیغام دیتا ہے
20:22کہ موت کو
20:24یاد کرو
20:24دل کو نرم کرو
20:26گناہوں سے
20:27توبہ کرو
20:27اور اللہ کی
20:28رحمت کی
20:29دہلیز پر آ جاؤ
20:30لیکن عبادت کو
20:31قبرستان سے
20:32لازم نہ کر لو
20:33بلکہ قبرستان
20:35کو احترام
20:35دعا
20:36اور دیکھ بھال کی
20:37جگہ سمجھو
20:38کیونکہ شاید
20:39یہ ہماری آخری
20:40شب برات ہو
20:41اور یاد رکھیں دوستوں
20:42اس رات ایسا
20:43کوئی کام نہ کریں
20:45جس سے
20:45آپ کے نامہ
20:46اے عمال میں
20:47گناہ لکھے جائیں
20:48جس سے
20:49اللہ تبارک و تعالی
20:50آپ سے ناراج ہو جائے
20:51اور کوئی ایسا
20:52فیصلہ آپ کے حق میں
20:53نہ ہو جائے
20:54جو آپ کے لئے
20:55بہتر نہ ہو
20:56خدا کے لئے
20:57ایسا کوئی کام نہ کریں
20:58جس سے
20:58اللہ
20:59اور اس کے
21:00رسول
21:00صل اللہ علیہ وسلم
21:02ناراج ہو
21:03ہم امید کرتے ہیں
21:04کہ آپ کو
21:05آج کی ہماری
21:06یہ ویڈیو
21:07پسند آئی ہوگی
21:08آپ اس ویڈیو کو
21:09صرف اپنے تک ہی
21:10محدود نہ رکھیں
21:11بلکہ اپنے دوستوں میں
21:13بھی ضرور شیئر کریں
21:14اور کمنٹ باکس میں
21:16شب برات لفظ
21:17ضرور لکھئے گا
21:18ہم ملتے ہیں
21:18اگلی ویڈیو میں