00:00سنیری دھوکہ لاہور کے صادق اور آمین نے ایک عرب دیسے لوٹے
00:16لاہور کے پرحجوم اچھرا بازار کے مناظر
00:21جو ایک نمد بیران دکان اور اس پر لگے
00:24طول پرے بینرز پر ختم ہوتے ہیں
00:28اس میں تیس سال تک وہ لاہور میں اعتماد کی علامت رہا
00:36اور ایک ایسا شخص جسے مارکیٹ کے لوگ اس کی دیانتداری کی وجہ سے
00:45صادق اور آمین کہتے تھے
00:47ویکن دسمبر کے مہینے میں شیخ وسیع مختر نے وہ کر دکھایا
00:54جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا
00:57وہ صرف بی سے کلو سونا لے کر نہیں بھگا
01:02بلکہ اپنے ساتھ بیواؤں کی زدگی پر کی جمع پونجی
01:08یتینوں کے جہیر اور ایک پوری انڈسٹری کا اندہ اعتماد بھی لے اڑا
01:15یہ ایک عرب روپے کے سکیم کی وہ کہانی ہے جس کا جام صرف پانچ سو روپے کی ایک معمولی غلطی پر ہوا
01:27اب اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی آپ کو بتاتے ہیں
01:31کہ شیخ وسیع کا عروج آج کا نہیں تیس پیتی سال پہلے کا ہے
01:40اس جورم کو سمجھنے کے لیے پہلے اس شخص کو سمجھنا ضروری ہے
01:46شیخ وسیع مختر کا بیک گراؤنڈ صرف ایک ہورڈ سیل جولر نہیں تھا
01:53بلکہ وہ اچھڑا مارکیٹ ایسیسیشن کا صدر بھی تھا
01:59تین دہائیوں تک اس نے ایک ایسا ناقابل تسخیر وقار بنایا
02:06کہ تاجر اسے اپنی دکانوں کی چابیاں گاڑیوں کے کاغذات اور گھروں کی ورسکیاں تک سما دیتے تھے
02:15اور مکمل اعتماد کے ساتھ
02:19بس وہ مارکیٹ میں ایک متوازی بینکنگ سسٹم چلا رہا تھا
02:25لوگ اس پر اتنا بھروسہ کرتے تھے
02:29کہ بغیر کسی رسید کے اپنی دولت اس کے حوالے کر دیتے تھے
02:36کیونکہ ان کے نزدیک وسیع کی زبان کسی بھی قانونی مہد سے بڑھ کر تھی
02:44وہ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے تاجروں کو اپنے خرچے پر حج اور عمرے کرواتا
02:53اور کبھی کبار نقصان کے باوجود غیر معبولی منافع دے کر انہیں اپنے جال میں جکڑے رکھتا تھا
03:04اس کا طریقہ وہی تھا جو ڈبل شاہ کا تھا اور اس نقاب کے پیچھے
03:14اس نے صادق اور امین کے چہرے کے پیچھے ایک الگ دنیا بسا رکھی تھی
03:25جیسے جیسے اس کے بچے بڑے ہوئے ان کی عیشیاں بھی بڑھتی گئیں
03:32ملیشیا میں بچوں کی تعلیم اور دبائی و سعودی عرب کے مہنگے دوروں نے
03:40اس کے سرمایے کو ختم کرنا شروع کر دیا تھا
03:44بلکہ چاٹنا شروع کر دیا تھا
03:47یہ ایک کوئی اچینک ہونے والی چوری نہیں تھی
03:51بلکہ ایک سست رفتار طبعی تھی
03:54وسیم نے اپنے خاندان کے شہنہ اخراجات پورے کرنے کے لیے
04:01دوسروں کی امانتوں کو پگھلانا شروع کر دیا تھا
04:05جیسے وہ سونے کو پگھلا دیتے ہیں
04:08وہ ڈبل شاہ تقنیق کا مہر بان چکا تھا
04:11جہاں وہ پرانے قرضے اتارنے کے لیے نئی سرمایہ کاری کا استعمال کرتا تھا
04:18جہاں تک کہ سونے کا ڈھیر ختم ہو گیا
04:22اور اس طرح کیسے برکت بھی ختم ہو جاتی ہے
04:26فرار اور خالی تجوریاں دیکھ کر ایسے لگتا ہے
04:33کہ اس نے یہ بڑی پیننے کی سوچی سمجھی ایک پینننگ کی ہوئی تھی
04:39چار دسمبر کو اس نے اپنا آخری وار کیا
04:43دکان پر ایک بینر لگایا
04:45اور کلچی میں فوضی کی وجہ سے جا رہا ہوں
04:48چند دن میں واپسی ہوگی
04:50لیکن یہ ایک چھوٹ تھا
04:53جب مرکیٹ اس کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی
04:58وسیم لاہور میں
05:00اپنی زندگی سمیٹ رہا تھا
05:03اور اس نے اپنا ساڑھے چھین کروڑ کا گھر اور چھین گاڑیاں بھیج دیں
05:09یہاں تک کہ مرکیٹ کی ساٹھ لاکھ رپے کی کمیٹی بھی لے اڑا
05:15اور جب اس کا فون بند ہوا
05:19تو تاجروں نے دکان کے تالے توڑے
05:22اندر سے دس خالی تجوریاں ملی
05:27اس نے اپنے خاندان کو بھی نہیں بخشا
05:32اس کی ستیلی ماں کا دعوہ ہے
05:34کہ اس کا تین کلو سونا
05:38اس کا تین کلو سونا بھی لے گیا
05:41کراچی کا جنازہ دراصل لاہور اور اسلام آباد
05:45کی طرف فرار کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا
05:50اور اس سے
05:54اور وجہ پتہ ہی کیا بنی
05:57وہ پانچ سر روپے کی مہنگی غلطی
05:59اس کو ایسی پڑھی
06:01کہ شیخ وسیم حلیہ بدلنے کا مائر تھا
06:05ہفتوں تک وہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں
06:09دس قرائے کے مختلف مقامات
06:14مقامات بدلتا رہا
06:16وہ پولیس سے بچنے کے لیے
06:18چھے مختلف پون اور مسلسل سمکار بدل رہا تھا
06:22لاہور پولیس ایک ہفتے تک جنوان شہروں میں
06:27ڈیرے ڈا رہی رہی تھی
06:29لیکن کیس میں عام مرتبہ آیا جب
06:32وزیر اللہ مریم نواز صاحبہ نے
06:36سوشل میڈیا پر اس قرنل کا ذکر کیا
06:40وہ کس طرح
06:42کہ ایک ٹویسٹ ہے
06:49اس کیس میں ایک عرب روپے پر بیٹھے
06:52اس شخص کی بربادی اس کی اپنی کجوسی سے ہوئی
06:55وہ اس رنباد میں دو پرانے مباہر بجھنے گیا
06:58اور وہاں دکاندار سے نیز پانچ سو روپے
07:03کے لیے ایک گھنٹہ بیس کرتا رہا
07:05یہ تاجر اس کے لیے کے لیے جانلیوہ ثابت ہوا
07:09دکاندار نے اس یاد رکھا
07:13اور جیسے ہی نے خریدار نے پھول میں سم ڈالی
07:16نمبر اس نے پولیس کو الٹ آئی ایم ای آئی کر دیا
07:23اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ
07:27پھول بیٹھتے ہوئے بازہ دیکھا جا سکتا ہے
07:30اور اس طرح
07:34اب اس کا نتیجہ یہ نکلا
07:38کہ یہ وہ اسی طرح پکڑا گیا
07:43اور انجام اور قانونی کاروائی کی چیزیاں شروع ہو گئی
07:49شیخ وسیم اب پولیس کی گریفت میں ہے
07:54لیکن متاثرین کے لیے ڈرونہ خواب ابھی ختم نہیں ہوا
07:59اگرچہ اقتدائی طور پر بیس کلو سونے کا ذکر تھا لیکن پولیس کا اندازہ ہے
08:07کہ یہ تقریباً پیتیس متاثرین کا دس کلو کے قریب سونا بنتا ہے جس میں پیتیس متاثرین شامل ہیں
08:18تو لیکن حقیقت چونکہ تاجروں نے ٹکس بچانے یا بلیک منی کو وائٹ رکھنے اور چھپانے کے لیے بغیر رسیدوں کے سونا دیا تھا
08:28اس لیے قانونی طور پر ریکوری اتنی آسان نہیں ہے تقریباً ناممکن نظر آتی ہے
08:36اور مختلف لا نومنگ پرسنس کا جاننا ہے کہ ریکوری کے عقامات بہت کم ہیں
08:47وسین پر دفعہ چانس اچھے کے تحت مقدمہ ہے لیکن جیسا کہ ایک صحافی نے کہا کہ وہ دولت واپس کرنے کی بوجائے
08:55چانسل جیل میں گزارنے کو ترجیز دے سکتے ہیں
08:59اور اس کا نتیجہ اب کیا ہے کہ شیخ وسین کا یہ اسکندل اس بات کا سبق ہے
09:08ان للچیوں کے لیے بھی کہ اندہ اعتماد کتنا خطرناک ہو سکتا ہے
09:14اور یہ ثابت کرتا ہے کہ لالج کی دنیا میں تیس سال کی شورت بھی محض ایک دھوکہ ہو سکتی ہے
09:22اور لاہور کی یہ سب سے بڑی سنیری ڈکیتی
09:26کسی بندوق سے نہیں بلکہ
09:30مسکرات
09:32تسبیح کے دانوں
09:35اور تین دہائیوں کے جھوٹ سے
09:38کی گئی تھی جو وسین
09:40شیخ وسین نے کی ہے
09:42اور اٹرہ پلیس سٹیشن کا
09:46تھانہ اب بھی موجود ہے
09:48ہیلپ لین حضر ہے
09:49ریکوری کر کے دکھائیں
09:51تو پھر بات بنے گی
09:53سنیری دھوکہ
10:08لاہور کے صادق اور آمین
10:10نے ایک عرب دیسے لوٹے
10:11لاہور کے پرحجوم
10:14اچھرا بازار کے مناظر
10:15جو ایک دم بیران دکان
10:18اور اس پر لگے
10:19طول پرے بینرز پر
10:22ختم ہوتے ہیں
10:23اس میں
10:26تیس سال تک وہ
10:28لاہور میں اعتماد کی
10:30لامت رہا
10:31اور ایک ایسا شخص
10:33جسے مارکیٹ کے
10:35لوگ اس کی جانتداری کی
10:38وجہ سے
10:40صادق اور آمین
10:41کہتے تھے
10:41لیکن دسمبر کے
10:44مہینے میں
10:45شیخ مسیح مختر نے
10:47وہ کر
10:48دکھایا جس کا
10:49کوئی سوچ بھی نہیں
10:51سکتا تھا
10:52وہ صرف
10:53بی سے
10:54کلو سونہ لے کر
10:56نہیں بھگا
10:57بلکہ
10:58اپنے ساتھ
10:59بیواؤں
11:00کی زدگی
11:01پر کی
11:02جمع پونجی
11:03یقینوں کے
11:04جہیر
11:05اور ایک پوری
11:07انڈسٹری کا
11:08اندہ اعتماد
11:09بھی لے اڑا
11:10یہ ایک
11:11عرب روپے کے
11:12سکیم کی
11:14وہ کہانی ہے
11:15جس کا
11:16جان صرف
11:17پانچ سو روپے کی
11:19ایک معمولی
11:20غلطی پر ہوا
11:22اب
11:23اس کی جو
11:24تفصیل ہے
11:25وہ بھی
11:25آپ کو بتاتے ہیں
11:27کہ
11:27شیخ وسین
11:28کا
11:29عروج
11:30آج کا نہیں
11:32تیس پیتی سال
11:33پہلے
11:34کہہ
11:35اس جورم کو
11:36سمجھنے کے لیے
11:37پہلے اس شخص کو
11:38سمجھنا
11:40ضروری ہے
11:40شیخ
11:42وسیم
11:43اختر کا
11:44بیک گراؤنڈ
11:45صرف ایک
11:46ہورڈ سیل
11:47جولر
11:47نہیں تھا
11:48بلکہ وہ
11:49اچھرا مارکیٹ
11:50اسیف سیشن
11:51کا
11:52سابق
11:53صدر بھی تھا
11:53تین
11:55دہائیوں
11:56تک
11:56اس نے
11:57ایک
11:57ایسا
11:59ناقابل تسخیر
12:00وقار
12:01بنایا
12:01کہ تاجر
12:02اسے
12:03اپنی دکانوں
12:04کی
12:04کیا بینی آگا
Comments