Please follow me on dailymotion.com DARK SECRET OF KALA PANI AND SHER ALI KHAN, THE REAL HERO OF SUB-CONTINENT
This video uncovers the dark secrets of Kala Pani (Cellular Jail) and the heroic act of Sher Ali Khan, the man who struck the heart of the British Empire.
Learn about the unimaginable horrors faced by Indian freedom fighters in the Andaman Islands, where they were kept in solitary 7.5-foot cells to break their spirit. We explore the systematic economic loot of India, where Britain reduced India’s share of the global economy from 23% to less than 4% through de-industrialization and exploitation.
Discover the story of Sher Ali Khan, a brave Pathan from the Tirah Valley (THE THEN KHAIBER AGENCY NOW PART OF KPK PAKISTAN who assassinated the British Viceroy Lord Mayo in 1872 to avenge the humiliation of his people. From being fed boiled wild grass to enduring 12 hours of grueling labor at oil mills, this video pays tribute to the 80,000 prisoners who sacrificed everything for liberty.
Key Topics Covered:
• The construction of Cellular Jail in 1906 and its 698 isolation cells.
• The truth behind British "civilization" and the destruction of the Indian weaving industry.
• Shashi Tharoor’s insights on the 8 billion pound cost of India's forced participation in World Wars.
• The bravery of revolutionaries like Sher Ali Khan, Savarkar, and Mahavir Singh."
--------------------------------------------------------------------------------
SEO Keywords (سرچ انجن آپٹیمائزیشن)
• Primary Keywords: Sher Ali Khan Kala Pani, Cellular Jail History, British Loot of India, Lord Mayo Assassination, Shashi Tharoor Oxford Speech.
• Secondary Keywords: Andaman Nicobar Jail secrets, Indian Freedom Struggle, British War Debt to India, Boiled Grass in Kala Pani, Inglorious Empire Shashi Tharoor.
• Long-tail Keywords: How Britain destroyed Indian weaving industry, Why was Lord Mayo killed in Andaman, Life of political prisoners in Cellular Jail.
--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (ہیش ٹیگز)
#SherAliKhan #KalaPani #CellularJail #BritishRaj #IndianHistory #ShashiTharoor #FreedomStruggle #LordMayo #LootedIndia #HistoryOfAndaman #IngloriousEmpire #MartyrsOfIndia#CapCut I made this amazing video with CapCut. Open the link to try it out: capcut.com/tools/desktop-video-editor
This video uncovers the dark secrets of Kala Pani (Cellular Jail) and the heroic act of Sher Ali Khan, the man who struck the heart of the British Empire.
Learn about the unimaginable horrors faced by Indian freedom fighters in the Andaman Islands, where they were kept in solitary 7.5-foot cells to break their spirit. We explore the systematic economic loot of India, where Britain reduced India’s share of the global economy from 23% to less than 4% through de-industrialization and exploitation.
Discover the story of Sher Ali Khan, a brave Pathan from the Tirah Valley (THE THEN KHAIBER AGENCY NOW PART OF KPK PAKISTAN who assassinated the British Viceroy Lord Mayo in 1872 to avenge the humiliation of his people. From being fed boiled wild grass to enduring 12 hours of grueling labor at oil mills, this video pays tribute to the 80,000 prisoners who sacrificed everything for liberty.
Key Topics Covered:
• The construction of Cellular Jail in 1906 and its 698 isolation cells.
• The truth behind British "civilization" and the destruction of the Indian weaving industry.
• Shashi Tharoor’s insights on the 8 billion pound cost of India's forced participation in World Wars.
• The bravery of revolutionaries like Sher Ali Khan, Savarkar, and Mahavir Singh."
--------------------------------------------------------------------------------
SEO Keywords (سرچ انجن آپٹیمائزیشن)
• Primary Keywords: Sher Ali Khan Kala Pani, Cellular Jail History, British Loot of India, Lord Mayo Assassination, Shashi Tharoor Oxford Speech.
• Secondary Keywords: Andaman Nicobar Jail secrets, Indian Freedom Struggle, British War Debt to India, Boiled Grass in Kala Pani, Inglorious Empire Shashi Tharoor.
• Long-tail Keywords: How Britain destroyed Indian weaving industry, Why was Lord Mayo killed in Andaman, Life of political prisoners in Cellular Jail.
--------------------------------------------------------------------------------
Hashtags (ہیش ٹیگز)
#SherAliKhan #KalaPani #CellularJail #BritishRaj #IndianHistory #ShashiTharoor #FreedomStruggle #LordMayo #LootedIndia #HistoryOfAndaman #IngloriousEmpire #MartyrsOfIndia#CapCut I made this amazing video with CapCut. Open the link to try it out: capcut.com/tools/desktop-video-editor
Category
📚
LearningTranscript
00:00کالا پانی یہ نام سنتے ہی ذہن میں ایک عجیب سی وحشت اور تنہائی کا حساس ہے
00:05یہ صرف ایک جیل نہیں تھی بلکہ ایک ایسی سزا تھی جسے موت سے بھی پتر سمجھا جاتا تھا
00:13ایک ایسی جگہ جہاں سے واپسی نامم کل تھی
00:16آج ہم اسی سیلیلر جیل یعنی کالا پانی اور اس سے جڑی اون کہانیوں کی گہرائی میں اتریں گے
00:22جو ظلم مزاہمت اور آزادی کی جدوجہد کی داستان سناتی ہیں
00:26اور یہ کہانیاں آج بھی بہت اہم ہیں
00:29ہمارے پاس جو ذرائع ہیں جن میں یوٹیوب کی دو تفصیلی گفتگو کی ٹرانسکرپٹس
00:34اور ششی تھرور کی مشہور کتاب اہد زلمات کا مواد شامل ہے
00:38وہ ہمیں صرف ایک جیل کی تاریخ نہیں بتاتے
00:41کہ آپ نے برطانلی راج کے اس پورے نظام کی اصلیت دکھاتے ہیں
00:45جس کی بنیاد ہی استحصال پر رکھی گئی تھی
00:48تو ہمارا مقصد صرف یہ جاننا نہیں کہ وہاں کیا ہوا
00:51بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ انگلیزوں نے یہ جیل کیوں بنائی
00:55اس کا ڈیزائن ایسا کیوں تھا
00:57اور یہ جگہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی قاقتور علامت کیسے بن گئی
01:02چلیں شروع کریں
01:04یہ نام کالا پانی خود ہی کتنا خوفناک ہے
01:07ذہن میں آتا ہے کہ آخر اس جگہ کو یہ نام دیا ہی کیوں گیا ہوگا
01:11اس کی دیکھیں کئی وجہات بتائی جاتی ہیں
01:14اور ہر ایک اس جگہ کی ہولناکی کو مزید بڑھا دیتی ہے
01:18ایک نظریہ تو سنسکرٹ سے جڑا ہے
01:21جہاں لفظ کال کا مطلب وقت بھی ہے اور موت بھی
01:26یعنی موت کا پانی
01:27جی موت کا پانی
01:29یا وہ جگہ جہاں وقت ختم ہو جاتا ہے
01:32مطلب ایک ایسی جگہ جہاں سے کوئی واقع نہیں آتا تھا
01:35یعنی نام میں ہی سزا کا پورا فلسفہ چھپا ہوا تھا
01:39بلکل دوسری وجہ زیادہ آپ کہہ سکتی ہیں
01:42زمینی حقیقت پر مپنی ہے
01:44یہ اینڈومان و لکوبار کے جزائر ہیں
01:47تقریباً پانچ سو بہتر جزیروں کا مجھ ہوا
01:50ہزاروں کلومیٹر دور سمندر کے بیچ میں
01:54یہاں کا پانی گہرا اور کیچڑ والا تھا
01:58جو دیکھنے میں کالا لگتا تھا
02:00اس کے علاوہ ذرائع بتاتے ہیں
02:02کہ یہاں زہریلے کالے بچھووں اور ساپوں کی بھرمار تھی
02:06تو یہ نام اس جگہ کے ماحول کی بھی اکاسی کرتا تھا
02:09اور جغرافیہ ہی طور پر بھی
02:11تو یہ جگہ قیدیوں کے لیے قدرتی جیل تھی
02:14چاروں طرف سمندر اور جزیروں کا پانوے فیصد حصہ
02:18گھنے جنگلات پر مشتمل تھا
02:20تو پھر فرار ہونا تو ناممکن ہی رہا ہوگا
02:24ناممکن سے بھی بڑھتا
02:25اگر کوئی قیدی جیل سے بھاگنے میں کامیاب ہو بھی جاتا
02:29تو وہ یا تو پھنے جنگلات میں
02:31بھوک پیاس یا زہریلے جانوروں کا شکار ہو جاتا
02:34یا پھر وہاں کے مقامی قبائل
02:36جی یا پھر وہاں کے مقامی قبائل
02:39جیسے کہ چاروہ قبیلہ
02:41اسے مار ڈالتے جو پہر کی دنیا سے
02:43کسی بھی قسم کے رابطے کے سخت خلاف تھا
02:45تو یہ ایک ایسی جیل تھی
02:48جس کی دیواریں سمندر اور جنگان سے بنی تھی
02:50اچھا تو یہ جیل ایک در سے نہیں بن گئی
02:53اس کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی
02:59پہلے سترہ سو نووے کی دہائی میں کی گئی تھی
03:02سترہ سو نووے میں
03:03جی لیکن وہاں کا موسم اور بیماریاں
03:06اتنی مہلک تھیں
03:07کہ امواد کی شرعہ نا قابلے یا پین حد تک بڑھ گئے
03:10ملیریا سے لوگ اتنی تیزی سے مرنے لگے
03:13کہ سترہ سو چینوے میں
03:15انگریزوں کو یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا
03:17تو پھر دوبارہ ہاں جانے کی کیا ضرورت پر شئی
03:20وہ کیا بڑا واقعہ تھا
03:22جس نے انگریزوں کو
03:23اس جگہ کو دوبارہ آباد کرنے پر مجبور کیا
03:26وہ واقعہ تھا
03:27اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی
03:30جب ہندوستان بھر میں بغاوت پھیلی
03:33تو ہزاروں کی تعداد میں
03:34ہندوستانیوں کو قیدی بنایا گیا
03:37یہ عام مجرم نہیں تھے
03:39یہ وہ لوگ تھے
03:39جنہوں نے انگریز راج کی بنیادوں کو ہلا گیا تھا
03:43انگریزوں کو ڈر تھا
03:45کہ اگر انہیں ہندوستان کی جینوں میں رکھا گیا
03:47تو یہ بغاوت کی آب کو
03:49مزید بھرکاسب تھا
03:51انہیں ایک ایسی جگہ چاہیے تھی
03:53جو ہندوستان سے اتنی دور ہو
03:55کہ ان قیدیوں کی آواز
03:57وہی دفن ہو جائے
03:58تو یہ جیل خاص طور پر سیاسی قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی
04:01یہ صرف سزا نہیں تھی
04:03بلکہ یہ بغاوت کی یاد کو مٹانے کی ایک کوشش تھی
04:06بلکل درست
04:07اٹھارہ سو ستاون کے مجاہدین کے بعد
04:10یہاں قیدیوں کی دوسری بڑی لہر
04:13وہابی تحریک کے مجاہدین کی تھی
04:15ایک منٹ
04:16یہ وہابی تحریک کیا تھا
04:18کیا یہ بھی انگریزوں کے خلاف کے ایک منظم جدو جہت تھی
04:21یہ انیسویں صدی میں
04:24ایک بہت بڑی اسلامی
04:25اصلاحی اور سیاسی تحریک تھی
04:28جس نے بڑے صغیر میں
04:29انگریزوں کے قبضے کو چیلنج کیا
04:32یہ لوگ انگریزوں کو خاصب سمجھتے تھے
04:36اور ان کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیتے تھے
04:38یہ بہت منظم تھے
04:41اور انگریزوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئے تھے
04:43لہٰذا ان کے ہزاروں حامیوں کو پکڑتا
04:46کالا پانی بھیج دیا گیا
04:47تاکہ اس تحریک کا سر کچلا جا سکے
04:49بلکل
04:50تو پہلے قیدیوں کو کھلے میں رکھا جاتا تھا
04:52لیکن پھر اس مشہور سیلیولر جیل کی امارت بنانے کا فیصلہ ہوا
04:56اس امارت کا ڈیزائن
04:57وہ خود ایک کہانی ہے
04:58جی یہ امارت 1896 میں بننا شروع ہوئی
05:02اور 1906 میں مکمل ہوئی
05:04اس کا ڈیزائن ہی قیدیوں کی روح کو کچلنے کے لیے بنایا گیا تھا
05:08وہ ستارے کی شکل والا ڈیزائن ہے نا؟
05:10بلکل
05:11ایک ستارے کی شکل کی امارت تھی
05:13جس کے ساتھ بازو تھے
05:15جو ایک برکزی ٹاور سے نکلتے تھے
05:17کل 698 سیل تھے
05:19اور ان سیلز کا ڈیزائن ایسا تھا
05:21کہ کوئی قیدی دوسرے کو دیکھ بھی نہ سکے
05:23جی
05:24ہر سیل کا دروازہ
05:25اس کے سامنے والے بازو کی دیوار کی طرف کلتا تھا
05:29یعنی آپ اپنے سیل سے دوسرے قیدی کے سیل کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے
05:33یعنی مقصد صرف جسمانی قید نہیں تھا
05:37بلکہ مکمل سماجی اور نفسیاتی تنہائی
05:39یہی اس کا بنیادی مقصد تھا
05:41ہر قیدی اپنے ساڑھے تیرہ بائی ساڑھے ساتھ فٹ کے سیل میں اکیلا رہتا تھا
05:46کسی سے بات کرنے کی جازت نہیں
05:48سوچیں
05:49سالہ سال آپ کے کیسے جگہ قید ہیں
05:52جہاں آپ کسی دوسرے انسان سے بات نہیں کر سکتے
05:55اس کی شکل نہیں دیکھ سکتے
05:56یہ آزیت جسمانی تشدد سے کہیں زیادہ تھی
06:00اس ڈیزائن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا ہے
06:02کہ اندر کی زندگی کتنی عذیتناک ہوگی
06:05ذرا اس بارے میں کیا بتاتے ہیں
06:07وہ کون سے طریقے تھے جن سے اس جیل کو زندہ جہنم بنائے گیا
06:11سب سے بدنام زمانہ سزا کولو کی تھی
06:14کولو
06:15جی
06:16قیدیوں کو بیل کی جگہ کولو میں جوتا جاتا تھا
06:19اور ان سے ناریل یا سرسوں کا تیل نکلوایا جاتا تھا
06:22انسانوں سے؟
06:23جی انسانوں سے
06:24یہ کام انتہائی مشکت طلب تھا
06:27ہر قیدی کو روزانہ کم از کم تیس پاؤن ناریل کا تیل نکلنا ہوتا تھا
06:32تیس پاؤن؟
06:33جی اور اگر وہ اپنا حدف پورا نہ کر پاتا
06:36تو اسے زنجیوں سے باندھ کر کولو سے مارا جاتا تھا
06:40کئی قیدی اسی کام کے دوران بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے
06:44اور کھانے پینے کا کیا انتظام تھا
06:46کیا انہیں اتنی مشکت کے بعد مناسب خوراک دی جاتی تھی؟
06:49خوراک بھی تشدد کا ایک ہتھیار تھا
06:52ذرائے بتاتے ہیں کہ قیدیوں کو کھانے کے لیے
06:55اکثر جنگلی گھاس اُبال کر دی جاتی تھی
06:58جس میں کوئی غزائیت نہیں ہوتی تھی
07:00جنگلی گھاس؟
07:01جی جو تھوڑے بہت چاول ملتے
07:04ان میں کیرے، کنکر اور مٹی ملی ہوتی تھی
07:07پینے کا پانی بھی محدود تھا
07:09مقصد قیدیوں کو جسمانی طور پر اتنا کمزور کر دینا تھا
07:13کہ ان میں مزہامت کی کوئی حمد ہی نہ بچے
07:16یہ تو ناکابلے تصور ہے
07:17جسمانی آذیت کے ساتھ یہ نفسیاتی تنہائی
07:21کیا ہمارے ذرائع کسی خاص جیلر کا ذکر کرتے ہیں
07:25جو اس ظلم میں بدنام ہو؟
07:26ہاں ایک نام بار بار آتا ہے
07:28ڈیویڈ بیری
07:29وہ ایک آئرش جیلر تھا
07:31اور اپنی صفاقی کے لیے مشہور تھا
07:33وہ قیدیوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر
07:36انتہائی وحشیانہ سزائیں دیتا تھا
07:39اس کا ایک تلیقہ یہ تھا
07:40کہ قیدی کے ہاتھوں میں ہتکڑیاں لگا کر
07:43اسے کئی کئی گھنٹوں تک ہوا میں لٹکا دیتا تھا
07:46جس سے اس کے بازوں کے جوڑ نکل جاتے
07:50وہ قیدیوں کو چار چار دن تک پھوکا رکھتا تھا
07:53اور کہا جاتا ہے کہ اسے ان کی سسکیاں سن کر لطف آتا تھا
07:57وہ کہتا تھا کہ خدا نے بھی یہ جگہ چھوڑ دی ہے
08:00اور اس نفسیاتی تشدد کی سب سے تکلیف دے
08:03مثال شاید ویر ساورکر اور ان کے بھائی کی ہے
08:06جی یہ واقعہ اس جیل کی تنہائی کی سب سے بڑی مثال ہے
08:10ویر ساورکر اور ان کے بڑے بھائی
08:12گنیش تامودر ساورکر
08:14دونوں اسی جیل میں قید تھے
08:16یہ کی جیل میں
08:17جی لیکن جیل کے قانون اتنے سخت تھے
08:20کہ کئی سال تک ویر ساورکر کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکا
08:23کہ ان کا اپنا بھائی بھی اسی عمارت کے کسی دوسرے سیل میں قید ہے
08:27یہ تو ناقابل یقین ہے
08:29وہ سالوں تک ایک دوسرے سے چند سو گس کے فاصلے پر رہے
08:33لیکن ایک دوسرے کی موجودگی سے بے خبر تھے
08:36یہ جان کر ہی روح کام جاتی ہے
08:38اس ماحول میں تو کسی کا بھی ذہنی توازن کھو دینا بہت آسان ہوگا
08:43لیکن کیا اس زنگ کے خلاف کبھی کوئی مزاہمت نہیں ہوئی؟
08:47نہیں ایسا بلکل نہیں تھا
08:49قیدیوں نے بار بار مزاہمت کی
08:51اور ان کی سب سے بڑی طاقت بھوک ہڑتال تھی
08:54وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس اپنے جسم کے علاوہ کوئی اور ہتھیار نہیں ہے
08:59تو وہ اجتماعی بھوک ہڑتالیں کرتے تھے؟
09:01جی تاکہ جیل کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے
09:04اور ان کے ساتھ سیاسی قیدیوں جیسا سلوک کیا جائے
09:07لیکن جیل انتظامیاں ان بھوک ہڑتالوں سے کیسے نمٹتی تھی؟
09:11بہت بے رہمی سے ایسی ہی ایک مشہور بھوک ہڑتال کے دوران
09:14جو 1933 میں ہوئی
09:17بھگت سنگھ کے تین ساتھیوں
09:18مہاویر سنگھ، مہت مطرہ اور موہن کشور نمداز نے بھوک ہڑتال کی
09:23جب ان کی حالت بگڑنے لگی
09:25تو جیل انتظامیاں نے انہیں زبردستی دودھ پلانے کا فیصلہ کیا
09:29اس عمل کے دوران دودھ ان کے پھپڑوں میں چلا گیا
09:33وہ تینوں تڑپ تڑپ کر مر گئے
09:35اور پھر ان کی لاشوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟
09:38جیل انتظامیاں کو ٹین ہاکے
09:40اگر ان کی موت کی خبر باہر نکلی
09:42تو بغاوت پھیل جائے گی
09:43لہٰذا انہوں نے رات کے اندھیرے میں
09:46ان تینوں کی لاشوں کے ساتھ بھاری پتھر باندھے
09:49اور انہیں سمندر کی گہرائیوں میں پھینک دیا
09:52تاکہ کوئی نشان تک پاک نہ آئے
09:54یہ تو ظلم کی انتہا ہے
09:56لیکن مضاحمت کی ایک اور کہانی بھی ہے
09:58جو بہت غیر معمولی ہے
10:00ذرا یہ بتا رہے ہیں کہ
10:02ایک قیدی نے اس جیل کے اندر
10:03وائس رائے کو قتل کر دیا تھا؟
10:05جی ہندوستان کے سب سے بڑے بریٹش حلکار کو
10:09یہ کیسے ممکن ہوا؟
10:10یہ شیر علی خان آفریدی کی حیران کن کہانی ہے
10:13شیر علی آفریدی ایک سابق فوجی تھے
10:16جنہیں ایک خاندانی جھگڑے میں
10:18قتل کے الزام میں کالا پانی بھیج دیا گیا تھا
10:21ان کے دل میں انگریزوں کے خلاف شدید غصہ بھرا ہوا تھا
10:25تو انہوں نے وائس رائے تک رسائی کیسے حاصل کی؟
10:281872 میں وائس رائے لارڈ میو ان جزائر کے دورے پر آئے
10:33دن بھر کے دورے کے بعد جب وہ شام کے وقت
10:36اپنی کشتی کی طرف واپس جا رہے تھے
10:39تو شیر علی خان جو اس وقت حجام کا کام کرتے تھے
10:43جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے
10:44اور انہوں نے انتظار کیا؟
10:46جی جیسے ہی لارڈ میو قریب آئے
10:49انہوں نے بجلی کسی تیزی سے ان پر حملہ کیا
10:52اور خنجر کے پیدر پیوار کر کے انہیں ہلاک کر دیا
10:55اس کا ردی عمل کیا ہوا ہوگا؟
10:58پورے برطانوی سلطنت میں تو حلچل مجھ گئی ہوگی
11:00بہت شدید
11:01یہ برطانوی راج کے لیے ایک بہت بڑی تظلیل تھی
11:04ان کے سب سے بڑے نمائندے کو
11:06ایک قیدی نے ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے
11:09سب سے محفوظ قید خانے میں قتل کر دیا تھا
11:12شیر علی آفریدی کو فوراں پکڑ کر
11:15خانسی دے دی گئی
11:16لیکن ان کا یہ عمل
11:18آزادی کی جدو جہد میں
11:20ایک علامت بن گیا
11:21اب اگر ہم تمام واقعات کو
11:23ششی تھرور کی کتاب
11:24عہد زلمات کے وسیع تناظر میں دیکھیں
11:27تو یہ جیل ایک بڑی تصویر کا حصہ نظر آتی ہے
11:30بلکل
11:31تھرور اپنی کتاب میں یہی دلیل دیتی ہے
11:33کہ کالا پانی جیسے مظالم
11:36کوئی اکادو کا واقعات نہیں تھے
11:38بلکہ یہ برطانوی راج کے
11:40اس انسان دشمن چہرے کا ثبوت ہے
11:42جسے اکثر ترقی اور تہزیب کے پردے میں چھپایا جاتا ہے
11:46لیکن اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے
11:47کہ انگریزوں میں ہندوستان کو ریلوے دیں
11:49جو ان کا ایک توفہ تھا
11:51ثرور اس بارے میں کیا کہتے ہیں
11:52دیکھے لیے نہیں بنائی گئی تھی
11:54تو پھر کس لیے تھی
11:55اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کے
11:58انگرونی علاقوں سے خام مار
12:00جیسے کپاس اور آناج
12:02کو لوٹ کر بندر گاہوں تک پہنچانا تھا
12:05تاکہ اسے انگلنڈ بھیجا جاسے
12:07اور دوسرا بڑا مقصد
12:09اپنی فوج کی نقلو حرکت کو
12:11تیز بنانا تھا
12:12تاکہ اگر اٹھارہ سو سٹاون جیسی
12:15کوئی بغاوت دوبارہ سر اٹھائے
12:16تو اسے فوراں کچلا جاسے
12:18اور اس کا سارا خرچ بھی ہندوستانیوں سے
12:20وصول کیا گیا
12:21جی جبکہ اس سے ہونے والا
12:23تمام منافع برطانوی سرمایہ کاروں کی جیبوں میں گیا
12:27یعنی جسے توفہ کہا جاتا ہے
12:28وہ دراصل اس طرح سال کا ایک اور ذریعہ تھا
12:30یہی تھرور کا مرکزی نکتہ ہے
12:32وہ آداد و شمار پیش کرتی ہیں
12:34کہ جب انگریز ہندوستان آئے
12:36تو عالمی معیشت میں
12:38ہندوستان کا حصہ تقریباً
12:40تیس فیصد تھا
12:41تیس فیصد؟
12:42جی لیکن دو سو سال کی غلامی کے بعد
12:46جب وہ انیس سو سنتالیس میں یہاں سے گئے
12:49تو یہ حصہ کم ہو کر
12:50صرف چار فیصد سے بھی کم رہ گیا تھا
12:53یہ تو
12:54ہوتنا فرق ہے
12:55یہ سب کچھ ایک منظم اور قانونی لوٹمار کا نتیجہ تھا
12:59کالا پانی کی جیل
13:00اسی استحسالی نظام کی ایک علامت کی
13:04تو پھر اس عذیتناک جیل
13:05اور اس نظام کا خاتمہ کیسے ہوا
13:07اس سلسلہ کب اور کیسے رکا
13:09اس کا خاتمہ
13:11قیدیوں کی اپنی مسلسل جدو جہر
13:13اور ہندوستان میں بدلتی ہوئی
13:15سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہوا
13:17نائنٹین ترٹی سیون میں
13:19قیدیوں نے ایک بہت طویل بھوک ہرطال شروع کی
13:22جو پیتالیس دن سکھ جاری رہی
13:24پیتالیس دن؟
13:25جی
13:25اس ہرطال نے پورے ہندوستان میں حلچل بچا دی
13:29اس وقت تک ہندوستان کے کئی صوبوں میں
13:32کانگریس کی حکومتیں بن چکی تھی
13:34اور گاندی جی اور نہرو جیسے رہنماوں نے
13:37انگریز سرکار پر شدید دباؤ ڈالا
13:39یعنی آپ قیدیوں کی آواز
13:41ہندوستان تک پہنچ رہی تھی
13:43اور ان کی حمایت میں ایک سیاسی تحریک کھڑی ہو چکی تھی
13:46جی
13:46اور انگریزوں کے لیے
13:48اس دباؤ کو نظر انداز کرنا
13:49مشکل ہو گیا تھا
13:51بلاخر حکومت کو جھکنا پڑا
13:53اور قیدیوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا
13:55آخری جتھا 18 جنوری
13:581938 کو وہاں سے روانہ ہوا
14:00اور دوسری جنگ عظیم کا
14:02اس پر کیا اثر پڑا؟
14:03دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک نیا
14:05اور شاید اس سے بھی زیادہ تاریخ
14:08واپ شروع ہوا
14:091942 میں جاپان نے انجزائر پر
14:12قبضہ کر لیا
14:13جاپان نے قیدیوں اور مقامی آبادی پر
14:17انگریزوں سے بھی زیادہ ظلم کیا
14:19انہوں نے سیکڑوں لوگوں کو
14:21محض شک کی بنیاد پر
14:22بے دردی سے قتل کر دیا
14:24تو جنگ کے بعد کیا ہوا؟
14:26جنگ کے بعد 1945 میں
14:28جب انگریزوں نے دوبارہ قبضہ کیا
14:30تو اس وقت تک ہندوستان کی آزادی
14:32یقینی ہو چکی تھی
14:33لہٰذا انہوں نے یہاں قیدیوں کو
14:36سزا دینے کا یہ وحشیانہ سلسلہ
14:38مستقل طور پر بند کر دیا
14:40تو ہمارے ذرائع سے جو سب سے بڑا نکتہ نکلتا ہے
14:42وہ یہ ہے کہ کالا پانی صرف ایک جیل نہیں تھی
14:46بلکہ یہ برطانوی راج کا ایک مایکروکوزم تھا
14:49ایک ایسا نظام جو باہر سے تہذیب کا دعویٰ کرتا تھا
14:53لیکن اندر سے اس کی بنیاد
14:55منظم ظلم اور انسانی روح کو کچلنے کی کوشش پر رکھی گئی تھی
15:00بلکل اور اسی لیے ششی تھرور
15:03جیسے مصنفین آج بھی یہ سوال اٹھاتی ہے
15:06کہ کیا برطانیہ کو اپنی نو آبادیات میں کیے گئے
15:10ان مظالم کا ازالہ نہیں کرنا چاہیے
15:13کم از کم اخلاقی طور پر
15:15اپنی تاریخ کے اس تاریخ باپ کو تسلیم کر کے
15:18اور اس پر معفی مانگ کر
15:19یہ گفتگو سننے کے بعد ایک سوال ذہن میں اُبھرتا ہے
15:23جب ہم تاریخ کے ایسے تاریخ ابواب کے بارے میں جانتے ہیں
15:27تو ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہیے
15:29کیا صرف ان کہانیوں کو یاد رکھنا کافی ہے
15:32یا پھر اُن سے سبق سیکھ کر حال اور مستقبل میں
15:36انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے
15:38کالا پانی یہ نام سنتے ہی
15:40ذہن میں ایک عجیب سی بحشت اور تنہائی کا حساس ہوتا ہے
15:45یہ صرف ایک جیل نہیں تھی
15:48بلکہ ایک ایسی سزا تھی جسے موت سے بھی بتر سمجھا جاتا تھا
15:52ایک ایسی جگہ جہاں سے واپسی نام دن تھی
15:54آزادی کتنا خوبصورت لفظ ہیں
15:56لیکن اس ایک لفظ کو حقیقت بنانے کے لیے
15:59نا جانے کتنے ہی بہدروں نے اپنی جانے قربان کی
16:02یہ کہانی انہی لوگوں کی ہے
16:04جنہیں آزادی مانگنے کی ایک ایسی سزا ملی
16:06جو لوگ کہتے تھے کہ موت سے بھی بتر ہے
16:08چیہاں یہ کہانی ہے
16:10سیلیولر جل کی جسے تاریخ کالا پانی کے نام سے جاندی
16:14کہا جاتا ہے کہ جب انگریز نے دنیا میں انسان کے لیے
16:17جہنم بنانا چاہیے
16:18تو اس نے کالا پانی کی سزا بنا دی
16:21یہ الفاظ ہی اس جگہ کی خالنا کی بتانے کے لیے کافی ہیں
16:25ایک ایسی جگہ جسے بنایا ہی اس ارادے سے گیا تھا
16:28کہ وہ زمین پر جہنم کا نمونہ ہو
16:30لیکن آخر سوال یہ ہے
16:33کہ اس دور دراز جزیرے پر بنی جیل سے
16:35لوگ موت سے زیادہ کیوں ڈرتے تھے
16:37آخر ان دیواروں کے پیچھے ایسا کیا تھا
16:40کہ اس کا نام سن کر ہی لوگوں کی روح کام جاتی تھی
16:43آئیے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں
16:45اس خوف کی شروعات آپ جانتے ہیں
16:48اس کے نام سے ہی ہوگی ہے
16:50کالا پانی یہ صرف ایک نام نہیں تھا
16:53یہ اپنے آپ میں دہشت کی ایک علامت تھی
16:56دیکھیں اس نام کے کئی مطلب تھے
16:58سنسکرط میں کال کا مطلب موت بھی ہے
17:01اور وقت بھی
17:01ان جزیروں پر کالے بچوں کی بھرمار تھی
17:04اور اردگردہ گردلہ
17:05بدبودار پانی بھی کالا ہی لگتا تھا
17:08تو یہ نام ہر طرح سے موت ومائیوز
17:10کے نمیشان بن چکا تھا
17:11اور پھر یہ جزیریں خود بھی تو
17:13ایک قدرتی قید خانہ تھے
17:14ذرا تصور کیجئے
17:15پانچ سو ستر سے زیادہ جزیروں کا ایک سلسلہ
17:19جس کا باہر میں بھی ستر حصہ
17:20گھنے جنگلوں سے بھرا تھا
17:22جہاں ہر طرف زہریلے سانپ اور بچوں تھے
17:25یہاں کے مقامی قبائل
17:26کسی بھی باہر والے کو برداشت نہیں کرتے تھے
17:29اور سمندر وہ تو شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا تھا
17:32یعنی یہاں سے بھاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
17:35تو سوال یہ ہے کہ برطانوی سلطنت کو
17:37اتنی صفاق
17:39اتنی زیادہ جے بنانے کی ضرورت
17:41آخر پڑی کیوں
17:42اس کی جڑیں دراصل
17:44بغاوت کی آگ میں پیوست ہیں
17:46اچھا تو کہانی شروع ہوتی ہے
17:49سترہ سو نواسی سے
17:50انگریزوں نے یہاں ایک کولنی بنانے کی کوشش کی
17:52لیکن اتنی زیادہ امباد ہوئیں
17:55کہ انہیں یہ منصوبہ چھوڑنا پڑا
17:57پھر آیا اٹھارہ سو ستاون
17:58وہ جنگ آزادی جس نے برطانوی سلطنت کی بنیادیں ہلا دی
18:02اب دیکھیں
18:03اس بغاوت نے نہ صرف ان کے کنٹرول کو چیلنج کیا
18:06بلکہ اس سے ملنے والے جو بے تہاشا معاشی فائدے تھے
18:09وہ بھی خطرے میں پڑے
18:10تو اس کا جواب کیا تھا
18:11اسی جگہ کو دوبارہ کھولا گیا
18:13لیکن اس بار ایک ہی مقصد کے ساتھ
18:15سب سے خطرناک سمجھے جانے والے سیاسی قیدیوں کو یہاں لاؤ
18:19اور ان کا حوصلہ ہمیشہ لے لٹھوڑ
18:21اور اسی مقصد کے لیے
18:221906 میں سیلیلر جیل کی یہ خوفناک امارت مکمل
18:25تو کالا پانی کے اندر کی سندگی کیسی تھی
18:29سچ پچھے تو یہ ایک ایسا نظام تھا
18:32جسے انسانوں سے ان کی انسانیت چھیننے کے لیے ہی
18:35دیزائن گیا گیا تھا
18:36قیدیوں سے جنگل صاف کروانے
18:38اور انسانوں سے چلنے والا کونو چلوانے جیسے کمر دور کام لیا جاتے
18:41اگر کوئی نامنکن حد پورا نہ کر پاتا
18:44تو اس پر کوڑے برسائے جاتے
18:46کہ اموات کی شرعہ ناقابل نے یقین حد تک پڑھ گئے
18:50اور ان کے لیے ایک لوہے کی پلیٹ اور دو گلاس
18:53ایک پینے کے لیے اور دوسرا رفا حاجت کے لیے
18:56یہ سب کچھ ساڑے ساتھ بائی تیرہ فٹ کی چھوٹی چھوٹی کوٹریوں میں
19:00جہاں قیدی آپس میں بات تک نہیں کر سکتے تھے
19:03مکمل تنہائی
19:05وہ کولو چلوانا تو ایک خاص قسم کی عذیت تھی
19:07اس کام سے شدید پیاس لگتی
19:10لیکن بینے کا پانی بہت ہی کم ملتا تھا
19:12بہت سے قیدی تو پیاس اور تھکن سے بے ہوش ہو کر وہیں گر پڑھتے تھے
19:16یہ صرف محنت نہیں تھی
19:18یہ باقاعدہ تشدد تھا
19:21اور اس دور مرافقت تو دیکھئے
19:22اسی ایک جزیرے پر دو دنیا آباد تھیں
19:26ایک طرف قیدی تھے
19:27تو یہ بغاوت کی پاک کو مزید پڑھا سکتے ہیں
19:30اور دوسری طرف بردان بھی اثران تھے
19:32جو پکنک منا رہے تھے
19:33شاہی کھانے کھا رہے تھے
19:35اور جن کی خدمت کے لیے نوکر چاکر موجود تھے
19:38یہ دو الگ دنیا ہیں
19:40جو ایک ہی زمین پر
19:42ایک ہی وقت میں موجود تھیں
19:44اس مسلسل جسمانی
19:46اور ذہنی عذیت کا نتیجہ کیا ہوتا تھا
19:48بہت سے قیدی
19:50اپنا ذہنی توازن ہی کھو بڑھتے تھے
19:52لیکن حکام
19:54وہ اس سے ملیریا کا اثر بتا کر
19:56بات ہی ختم کر دیتے تھے
19:58یہ صرف جسم کو نہیں
20:00یہ روح کو بھی توڑنے والا نظام تھا
20:03لیکن اتنی مایوسی کے عالم میں بھی
20:05مزاحمت کی چنگاری پوری طرح بوجھی نہیں تھی
20:08اس جہنم کے اندر بھی
20:10کچھ آوازیں تھیں جو خاموش ہونے کو تیار نہیں تھی
20:12جی ہاں
20:13اس اتنی منصوبہ بندی سے بنائے گے
20:16جہنم میں بھی بدلے کی آگ
20:18اندر ہی اندر سلگ رہی تھی
20:20اور نشانہ کوئی چھوٹا موٹا افسر نہیں
20:23بلکہ برطانوی ہندوستان کا سب سے بڑا عودے دار تھا
20:26یہ تھے شیر علی خان
20:28خیبر ایجنسی کے ایک قیدی
20:30جن کا مانا تھا کہ انہیں غلط سزا دیوی ہے
20:33انہوں نے بستی میں حجام کا کام کرتے ہوئے
20:36گارڈز کا حرصہ جیت لیا
20:37اور سلطنت پر ایک کاری ضرب لگانے کے لیے
20:40صحیح موقع کا سبر سے انتظار کرتے رہے
20:42اور وہ لما آیا
20:441872 میں
20:46جب شیر علی خان نے ہندوستان کے وائس رائل
20:48لورڈ میو کو ایک معاینے کے دوران
20:50قتل کر دیا
20:51یہ تاریخ میں واحد موقع ہے جب ہندوستان کے کسی وائس رائے
20:54کو قتل کیا گیا
20:55یہ برطانوی سلطنت کے وقع کو ایک بہت بہت بڑا حملہ تھا
20:58مزاہمت کا ایک اور طریقہ
21:00بھوکھڑتال تھی
21:01بھگت سنگھ کے ساتھیوں
21:03موہت مہترا اور محاویر سنگھ نے
21:05حالات کے خلاف بھوکھڑتال شروع کی
21:07جواب میں جیل حکام نے
21:09ان کے ساتھ کیا کیا
21:10زبرستی خوراق دینے کی کوشش کی
21:13جس کا نتیجہ یہ نکلا
21:14کہ دور اور کھانے ان کے پھیپروں میں چھڑا گیا
21:17اور وہ تڑپ تڑپ کر
21:18مر گئے اور اس کے بعد
21:20ان کی لاشوں کے ساتھ پتھر بانگ کر
21:22انہیں سمندر میں پھینک دیا گیا
21:24اس جیل کے دور کا خاتمہ بھی اتنا ہی پرتشدد تھا
21:27جتنا اس کا آغاز تھا
21:28اور دوسری جنگ عظیم نے
21:31اس ظالمانہ باپ کو پرن کرنے میں
21:32ایک اہم کردار آدھا کیا
21:341937 میں
21:36گاندھی اور ٹیگور کی کوششوں سے
21:38بہت سے سیاسی قیدیوں کو واپس بھیجا گیا
21:40پھر 1942 میں
21:41جاوان نے جزیروں پر پملہ کر کے
21:43قبضہ کر لیا
21:44اور باقی بچ جانے والے قیدیوں پر
21:46انگریزوں سے بھی زیادہ زنگ کیا
21:47سیکڑوں کو مار ڈالا
21:491945 میں انگریزوں نے جزیرے واپس لیا
21:51اور آخر کار
21:521947 میں ہندوستان کی آزادی کے ساتھ
21:55یہ جیل ہمیشہ کے لیے بھنگ کر دی گئے
21:58تو سیلولر جیل کی کہانی
21:59صرف ایک جیل کی کہانی نہیں ہے
22:01یہ دراصل نو آبادیاتی
22:03اس تحصال کے ایک چھوٹی سی مثال ہے
22:05جس نے پورے ہندوستان کو
22:07اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا
22:08ذرا ان آداد و شمار پر ایک نظر ڈالتے ہیں
22:11جب انگریز ہندوستان آئے
22:13یعنی تقریباً سن سترہ سو میں
22:15تو پوری دنیا کی معیشت میں
22:17ہندوستان کا حصہ جانتے ہیں کتنا تھا
22:1923 فیصد ایک بہت بڑا حصہ
22:22اور جو 1947 میں
22:24یہاں سے گئے
22:25تو یہ حصہ گھٹ کر
22:27صرف 4 فیصد رہ گیا تھا
22:29یہ آداد و شمار ششید حرور کے کام سے لیے ہیں
22:32اور یہ خود بتاتے ہیں
22:33کہ نو آبادیاتی دور نے
22:35معاشی طور پر کتنی بڑی تباہی بچائے
22:37تو اہم نکتہ یہ ہے
22:39سیلولر جیل صرف ایک قید خانہ نہیں تھی
22:42یہ ایک ایسی سلطنت کا صفحہ کانہ
22:44ہتھیار تھی جو معاشی لوٹ مار
22:46اور اختلاف رائے کو تشدد سے کچلنے کی
22:48مقصد قیدیوں کو جسمانی طور پر
22:50اتنا کمزور کر دینا تھا
22:52کہ ان میں مضامت کی کوئی حمد ہی نہ بچے
22:55یہ تو ناقابلے تصور ہے
22:56جنہوں نے اس کی دیواروں کے اندر
22:59ناقابلے بیان تکالیف برداشت کی
23:01اور اپنی جانے پر بانگلنی
23:03اور یہ ہمیں ایک بہت اہم سوال پر
23:06لاکر چھوڑ دیتا ہے
23:07ایک جگہ جو کبھی عذیت کا مرکز تھی
23:10اب ایک یادگار ہے
23:11اتنی تکلیف دے تاریخ کو یاد رکھنے کا
23:13صحیح طریقہ آخر ہے کیا
23:15اس پر سوچنا ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے
Comments