Skip to playerSkip to main content
Good News For Lahore | Police Ny Shehriyon Ko Checking K Nam Pr Loota Ya Daraya To SHO Giraftar hoga

لاہوریوں کیلئے خوشخبری! آئندہ لاہور پولیس نے شہریوں کو چیکینگ کے نام پر لوٹا یا ڈرایا دھمکایا تو اس تھانے کے SHO کو ہتھکڑیاں لگا کر حوالات میں بند کیا جائیگا، DIG آپریشن کا بڑا اعلان۔۔۔

#LahorePolice #diglahore #PositiveFace #DailyPakistan #YasirShami #Foryou #trendingvideo

Category

🗞
News
Transcript
00:00First of all, when they opened the car, I was scared.
00:05I was afraid that it was a place in Punjab police, where I was going to go to my house,
00:08which I had to go to my house, and I didn't have any identity or name plate,
00:12I didn't have a number plate.
00:14After that, they had a lot of telegrams with me.
00:17I was thinking about this video, and I said,
00:21you can take one person, you can take one person.
00:24So, they said, you're going to get me,
00:27and they said, first of all, phone to me.
00:29the other one beat me from the floor and the other one beat me there
00:33my accountant said to me, stop it, the other one beat me from the floor
00:37the other one beat me from the floor
00:38later on the side of the floor, they told me that my child is a prom
00:43they told me that they have been taken from the floor
00:48and they started this way, they gave me a 302
00:52the sale was a lot in my shop and I was like to go to the jail
00:57He gave me the money and gave me the money and gave me the money and gave me the money.
01:02Constable was given to me and gave me a note.
01:05I gave him 2,000 rupees.
01:07He said that the authorities gave me 5,000 rupees.
01:10I gave 35,000 rupees.
01:11He said that he gave me 5,000 rupees.
01:16There was a whole police meeting in Lahore.
01:18Police line in the police.
01:19Kaisal has put them on their behalf on their behalf.
01:22They gave me the police.
01:23He gave me the police.
01:27There is only one request from CM Sahiba.
01:30These are all the police.
01:32First of all, they need their identification.
01:35They need their name plate.
01:37They need their name plate.
01:39After all, they need their check-in.
01:41They need their check-in.
01:45Assalamualaikum.
01:46Lahore Police.
01:48This is what you see with me.
01:51Shafiqabad Police.
01:55After the other, they buy them on the rear.
01:59They get out of this car about the car.
02:01They put it on the vehicle here.
02:02They make it on the brake.
02:04They get on the car.
02:05They take the seat at the other side.
02:07They take care of them.
02:08They take it on the car.
02:10They take it on the car.
02:12Now, these guys have this.
02:13They do not have any name plate.
02:15they had two hondos and their number plates didn't even have bikes
02:21and then they started making a video
02:24as they started making a video
02:26one of them has a mobile car
02:29the other one has a face of their face
02:31the other one has a purse
02:32which is going to be $15,000
02:34which is for their purse
02:36which is a license
02:38so they say that you have a license
02:40on which they say that this is my bag
02:42and you can see this bag
02:44in which their license and pistol was also put in place
02:47they go to the car
02:48they go to the park
02:50when they reach the park
02:54there was one ASI
02:55that ASI is deleted from their mobile
02:58which has been made
03:00after that they say that you are very good
03:03you go from here
03:04they go outside and give it $2,000
03:08they say that this is less
03:10they give it $35
03:11they say that they cut it
03:13they tell it the same
03:15then they give it to the food
03:15and then they will reach the food
03:17they go out there
03:19they take it
03:20they give it a 3 January
03:21after it they get
03:22they go out there
03:23which is a Mercedes-Benz
03:24ڈرخواست دیتے ہیں اور یہ سارا مدہ جو میں نے آپ کو بتایا ہے اس درخواست میں لکھ دیتے ہیں فیصل کامران صاحب پورے لاہور کی پولیس کے سامنے ان کو بلاتے ہیں جس میں پورے لاہور کے 84 تھانوں کے ایسے چوز 38 چوکین چارچ 22 ایس پیز جس میں ڈالفن کے ایس پی بھی ہوتے ہیں سیس پی آپریشنز بھی ہوتے ہیں
03:44مطلب کوئی سوا دو سو ڈھائی سو بندہ ہوتا ہے پوری لاہور کی پولیس کا اور ان تمام کے سامنے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ ہوا گیا یہ سارا کا سارا معاملہ بتاتے ہیں اس کے بعد فیصل کامران ان اہلکاروں کو ہتھکڑیاں لگا کر پوری لاہور کی پولیس کے سامنے پیش کرتے ہیں
04:02اور تمام ایسے چوز کو یہ انسٹرکشنز دیتے ہیں کہ اب اگر آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار نے لاہور میں شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراسہ کیا تشدد کیا یا ان کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس تھانے کا ایسے چو بھی محتل ہوگا
04:18جس کے بعد وہ ان تین اہلکاروں کو حوالات میں بند کرتے ہیں جو ایسے چو تھا اس کو ڈی موٹ کر دیا جاتا ہے اس کا ایک پھول اتھار دیا جاتا ہے وہ انسپیکٹر تھا اس کو ہی سب انسپیکٹر پر تنزلی کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی موتل کر دیا جاتا ہے
04:34اور یہ تھانا کونسا تھا شفیق آباد کا جس کے یہ چار سے پانچ اہلکار جو ہیں اس وقت موتل ہو چکے ہیں سمیت ایسے چکے
04:43تین جنوری کو رات کو سوا دو بجے کا ٹائم تھا میں یہ اپنے ملازم کو بس ٹینڈ پہ بطی چونگ چھوڑنے جا رہا تھا
04:51تو اچانک سے وہاں پہ اندیرہ ہے تین لائٹیں میری گاڑی کے آگے آتی ہیں ہونڈے پہ تین اہلکار موجود ہوتے ہیں پولیس کے
04:57اس نے شیشہ کھڑکایا میں نے شیشہ نیچے کیا اس نے پوچھا کہ ایتھے کی کارے ہیں تو میں نے اس کو بتایا سر میں نے اپنے بھائی کو بٹھانا ہے بس پہ اکارے کی
05:05ساتھ ہی اس نے کہا اتھے تو نہیں جان دی کٹ فلانے یا چمکانے یا گالیاں اس نے مجھے اس طرح کی بہت دی نظیبہ تو اس کے بعد ایک دم میں باہر آنے کی لگا اس نے سیڈ پیل سمیت میرا گیرے بان سے باہر نکالا
05:16میں نے کہا سر ایک منہ میں باہر آتا ہوں میں نے نکلتے ساتھ ہی سب سے پہلے میں نے ویلڈ نکالایا ڈینٹی کے لیے
05:21ٹھیک ہے تو اس نے سب سے پہلے میرا بٹوہ چھینہ ہے بٹوہ چھینہ ہے جب اس کے بعد تینوں دروازے جب انہوں نے کھولے گاڑی کے تو میں ڈر گیا
05:28مجھے یہی لگا کہ یہ پنجاب پولس کی جگہ ہیں یہ کوئی ڈاکو مجھے پڑ گئے ہیں جس طرح انہوں نے میرے ساتھ بیو گیا اور نہ ان کی کوئی ڈینٹی تھی نہ نیم پلیٹ تھی بائیک پر نمبر پلیٹ بھی نہیں تھی اس کی
05:37اس کے بعد جو ہے انہوں نے بہت زیادہ تلق کلامی کی میرے ساتھ میں نے اس وجہ سے اپنا موبیل نکال کے ویڈیو بنانے لگا کہ میں نے کہا بھائی آپ ایک بندہ جول تراشی لے رہا لے لے
05:46تو اس نے کہا تیری میں گال کڑ گئے انہوں نے سب سے پہلے فون چھینہ میرے سے اور دوسروں نے بھی مجھے ایک نے ادھر سے مارا ایک نے ادھر سے یہ میرا ملازم ان کو کہہ رہا رکھو اس کو بھی پکڑ لیا اس کو بھی گرمان سے کھینچا اس کا موبیل بھی چھین لیا اور تو اور پھر پیچھے ڈگی والی سیڈ پہ گئے انہوں نے میرے بچے کا پرام نکالا میں نے ان کو بولا سر یہ میرے بچے کا پرام ہیں انہوں نے نکال گئے انہوں نے کہا دس نہ تینوں میں اٹھا کر کے نی
06:16جب میرا بٹوا نکالا اس کے بعد اس نے کہا درکول پسٹل ہے میں نے کہا سر جی میرے پاس پسٹل بھی ہے میں آپ کو خود دیتا ہوں لسینسی پسٹل ہے میرے پرس میں سارے پیسے کافی زیادہ تھے جس میں سیل تھی میری جو میں جیب میں لے کے نکلا تھا انہوں نے پیسے نکال لیے میرے سارا اور اس کے بعد میرا بٹوا ہی پگڑ لیا مجھے تھانے لے گئے ہیں ادھر جا کے انہوں نے لائسنس چھپا دیا انہوں نے کہا لائسنس تھی ہے نہیں آپس میں تینوں کہتے ہیں ہاں تُو ویک
06:46ہی تھا اس نے سب سے پہلے مجھے سارے ڈاکومنٹس ان سے لے کے چیک کیے انہوں نے ڈاکومنٹس ڈاکومنٹس جب ویریفائی ہوئے تو شباز صاحب پھر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے بچے تو شریف ہے گارو باری بندہ ہے تو جہاں سے جا لیکن ایک بات سن کھلوتا ہے باہر ایک بندہ تو انہوں مل کے لازمی جانا ہے تو باہر گیا ہوں وہ جو ایک کانسٹیبل تھا اس کو جا کے اس نے مجھے کا نوٹ دے میں اس کو دو ہزار پیہ پکڑایا تو کہتا نہیں تھوڑ
07:16اور لاکھ بھی مانگتے میں جان چھوڑا کے نکلتا کیونکہ وہ بہت زیادہ انہوں نے خوف و راست پہلا دی تھی کہ جس طرح ایک ملزم انہوں نے پکڑ لیا ہے
07:23جب میں باہر موف کیا ہوں انہوں نے کہا آپ کی گاڑی بند ہے گاڑی نہیں لے کے جا سکتے آپ میں نے کہا سرکار کیا ہے کہ اندر تیرے کل کنی چرس بھڑی گئی ہے
07:32میں سر ہم شریف بندے کارو باری بندے ہیں مارا تو یہ کام ہی نہیں ہے کوئی پھر کہتا ہے آپ کی گاڑی بند ہے اندر جاؤ مرر سے ایک پچی لے کر آؤ پھر میں آپ کو جانے دوں گا
07:41تو پھر میں موقع پر کھڑا ہوا پھر وہ اے آس آئی کو بتاتا ہوں دوبارہ میں اے آس آئی صاحب جب آتے ہیں وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے ٹھیک ہے کلیر رہ گا ہے بس جان دے ہو جان دے ہو
07:48پھر میں ڈی آئی جی آپریشن کے آفیس جاتا ہوں ان کی میں نے ویڈیوز دیکھیں کھولی کچیری کی پہلے بھی
07:56ادھر جا کے میں ایک اپنی اپلیکیشن دیتا ہوں جس میں میں یہ جتنا وقوعہ ابھی بتا رہا ہوں وہی سارا میں اس پر منشن کرتا ہوں
08:03اور اس کے بعد جو ان کی ٹیم ہے وہ ایکشن لیتی ہے پورے لاہور کی پولیس کی میٹنگ تھی پولیس لائن میں انہوں نے وہاں پہ مجھے بلایا
08:12جتنا بھی میرے سے یہ وقوعہ ہوا ہے میں نے بیان کیا ہے وہاں پر سارے افسرز کے سامنے اور اس کے بعد فیصل صاحب نے وہاں پہ موقع پر ہی ان کو ہتھکڑیاں لگوائی ہیں
08:20سارے اہلکاروں کو اور انہوں نے مجھے موقع پر انصاف دیا ہے
08:23پولیس والے آئے تھے آپ کے پاس تو کوئی ناکہ لگا ہوا تھا وہاں پر
08:29کچھ بھی نہیں تھا ناکہ لگا ہوا تھا وہ بہت ہی اندھیرے والی جگہ تھی
08:33ایڈینٹیفیکیشن کچھ بھی نہیں تھی ان کی نیم پلیٹ بھی نہیں تھی
08:36ایون میں نے ان سے پوچھا تھا سار آپ اپنا مجھے نام تو بتائیں
08:39تو انہیں آپ ہمارے محافظ ہیں آپ کیا پہیوئر کر رہے ہیں
08:42انہیں کہا پہنچ پسنا دنوں جے تو بولے ہاں تیرے تھے میں دو پرچے دھانگا
08:45جناب یہ ساری رودہ جو ہے یہ آپ نے ان کی زبانیں سن لی ہے اور خراج تحسین پیش کرنا جاؤں گا
08:58فیصل کامران صاحب کو فیصل کامران صاحب اگر تھانہ کلچر کو آپ واقعی چینز کرنا چاہتے ہیں
09:02تو یہ ایک بارش کا پہلا کترہ ہے یہ افغانیوں والا جو معاملہ ہوا ہے
09:06اس میں لاہور پولیس نے جس طریقے سے اپنی جیبیں گرم کی ہیں
09:10اس پر بھی آپ ذرا تھوڑی سی اپنی نظر دھڑائیں اور اس میں یہ دیکھیں
09:15کہ یہ کس طریقے سے انہوں نے ایک جو کلدم مذہبی جماعت ہے
09:20اس کے نام پر پیسے بٹو رہے ہیں
09:22افغانیوں کے نام پر انہوں نے جیبیں گرم کی ہیں
09:25اور یہ اتنی بڑی انہوں نے کرپشن کی ہے اور تو اور اب سردی آگئی ہے
09:29فوق پڑی ہوتی ہے کوئی بھی بندہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی باہر نہیں نگلتا
09:33یہ لائٹیں جو ہیں یہ لیڈیس ساتھ بیٹھی ہوتی ہیں
09:35ان کے مو کے اوپر مار رہے ہوتے ہیں ان کو یہ بھی نہیں پتا
09:38سگریسی کیا ہوتی ہے پرائیویسی کیا ہوتی ہے
09:40یہ گاڑی آپ کا گھر ہوتی ہے
09:42اگر آپ نے اس کی کوئی چیکنگ بھی کر رہی ہیں
09:44تو آپ کے پاس سرچ وارنٹ ہونے چاہیے ہیں
09:46قانونی طور پر آپ کا اختیار ہے
09:47آپ چیکنگ کریں آپ ان سے پوچھ کچھ کریں
09:49ان کی آئیڈنٹیفیکیشن پوچھ سکتے ہیں
09:52لیکن آپ اپنی آئیڈنٹیٹی تو شو کریں
09:54آپ کی بائکز کے ہونڈوں کی نمبر پلیٹس نہیں ہیں
09:56آپ کی اپنی نیم پلیٹس نہیں ہیں
09:58پھر آپ نے کوئی ناکہ نہیں لگایا واہ
10:00کوئی مجسٹریٹ کا آپ کے پاس کوئی حکم نامہ نہیں ہے
10:02کوئی کسی قسم کا آپ نے بیریئر نہیں لگایا واہ
10:05اور اندھیرے میں ان کو روکنے کا کیا مقصد تھا
10:07صرف اور صرف ایک ہی
10:08کہ ان سے دھیاری لگا لی جائے
10:10میری صرف ایک ہی ریکویسٹ ہے
10:13سی ایم سائیبہ سے
10:14کہ یہ جتنے بھی پولیس اہلکار ہیں
10:17سب سے پہلے جو بھی ہے
10:18ان کی ڈینٹیفیکیشن ہونی چاہیے
10:20ان کی نیم پلیٹ ہونی چاہیے
10:21اور جس سے یہ اپنا تعروفیں کروائیں
10:23اور اس کے بعد اپنی جس طرح چیکنگ کرنی ہے
10:26بلکل عزت سے چیکنگ کریں اپنی
10:28آپ کا کوئی سرکاری افسران جو پولیس کے ہیں
10:30بڑے ان سے بھی کوئی تعلق آتا ہے
10:32یہ خبریں چل رہی ہیں
10:33سر خبریں تو چلتی رہتی ہیں
10:34ہم بزنس مین ہیں
10:35ہمارا جو کام ہے
10:36ایک بہت انٹیک لگزری آئی فون کا کام ہے
10:40تو آپ کو پتا ہے ہمارے پاس
10:41تو بہت لوگ تعلق ہو بھی سکتا ہے سر
10:43لیکن تعلق ہونے کے بعد
10:44یہ چھوڑ دیں
10:45ایک ڈزن میٹر
10:46کہ یہ لوگ ہم سے بدماشی کریں گے
10:48ہمیں گرے بان سے کھینچیں گے
10:49ہمیں گالیاں نکالیں گے
10:50یہاں پہ جو یہ پولیس کی کالی بھیڑے ہیں
10:55ان کو تو ہم بے نگاب کر رہے ہیں
10:56تو یہ باقی
10:57جتنے بھی چوراسی تھانوں کے
10:58ایسے چوز اور ان کی نفریز ہیں
11:00یہ ان کے لیے لمحے فکری ہے
11:02کہ اب وہ قانون سے بالا تر ہو کر
11:04کوئی بھی اقدام کریں گے
11:05تو ایسے چو بھی سیٹ پر نہیں رہے گا
11:07اپنے بزمان یاسر شامی کو اجازت دیجئے
11:08اور دیکھ تیری ایڈیلی پاکستان
11:10اللہ حافظ
Comments

Recommended