00:00سائنس بتاتی ہے کہ عموماً کسی بھی جاندار کی موت کے بارہ گھنٹوں کے اندر جسم سرنا شروع ہو جاتا ہے
00:06اس کی بنیاری وجہ جسم میں موجود بیکٹیریہ ہیں
00:10لیکن بعض وقت دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کی لاشے دفن کی جانے کے کافی عرصے بعد بھی خراب نہیں ہوتی
00:17کبھی کبھار پرانی قبروں کی خدائی کے دوران ایسی لاشے ملتی ہیں
00:22جو کافی وقت گزرنے کے بعد بھی صحیح حالت میں ہوتی ہیں
00:25لوگ اس کے لیے مختلف مذہبی توجہات پیش کرتے ہیں
00:29لیکن یہ واضح ہے کہ ان لاشوں کے خراب نہ ہونے کی کچھ سائنسی وجوہات بھی ہوتی ہیں
00:36وہ کیا ہیں؟
00:37ویسے تو لاشوں کے خراب نہ ہونے کی پیچھے کئی عوامل ہیں
00:40لیکن فورنزک ماہرین دو پہلو پر زیارہ توجہ دیتے ہیں
00:45ایک ہے مومیفیکیشن اور دوسرا جسم کے اوپر ایڈیپوسٹ ٹیشو یا موم جیسی کوٹنگ کا بن جانا
00:52لاش جس ماحول میں دفنائی جاتی ہے وہ کافی اہم ہوتا ہے
00:56اگر وہاں کی ہوا خوشک ہو درجہ حرارت گرم ہو اور ہوا میں نمی کا تناسب بھی کم ہو
01:02تو ایسے میں لاش کے وہ حصے جن میں پانی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے وہ جلد خوشک ہو جاتے ہیں
01:09پانی کے خوشک ہونے کے باعث جسم میں بیکٹیریا کی افضائش رک جاتی ہے
01:14دھاکہ میں سر سلیم اللہ میڈیکل کالج ہسپتال کی اسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر نازمی نہر روزی کہتی ہیں
01:21کہ اس سارے عمل کو مومیفیکیشن کہا جاتا ہے
01:25ان کا کہنا ہے کہ سہرائی علاقوں میں بہت سی لاشوں میں قدرتی مومیفیکیشن کا پروسس عام ہے
01:31اور لاشے دفنائے جانے کے بعد کئی برسوں تک سلامت رہتی ہیں
01:36جس علاقے کی زمین خوشک اور مٹی رہتی لی ہو وہاں ایسا ہونا عام بات ہے
01:41اس کے برعکس ہیومیڈ آب و ہوا والے علاقوں میں قدرتی مومیفیکیشن کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں
01:48ایڈی پوسٹ ٹیشو بنیادی طور پر ایک موم جیسا مادہ ہے
01:52جو جسم میں موجود چربی کو محفوظ رکھتا ہے اور اسے گلنے سڑنے نہیں دیتا
01:59یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق
02:03اس پرت کے بننے اور ختم ہونے کا انحصار ماحول پر ہوتا ہے
02:08ایڈی پوسٹ ٹیشو ایک بار بننے کے بعد سیکڑوں سال تک برقرار رہ سکتے ہیں
02:13ڈاکٹر روزی کہتی ہے کہ کسی بھی لاش پر ایڈی پوسٹ ٹیشو کے بننے کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے
02:20جیسا کہ ماحولیاتی درجہ حرارت آب و ہوا مرنے والے کی غزائی عادات
02:25دفناتے وقت لاش کی حالت اور یہ بھی کہ اسے کس انداز میں دفنایا گیا ہے
02:31ڈاکٹر روزی کہتی ہیں کہ ایسی جگہوں پر جہاں نمی زیادہ پائی جاتی ہے
02:36جسم سفید پڑ جاتا ہے تو دیکھنے میں کسی کوٹنگ یعنی تہ یا پرت کی طرح لگتا ہے
02:41جسم کا وہ حصہ جہاں زیادہ چربی پائی جاتی ہے
02:46پانی کے ساتھ مل کر کیمیکل ریاکشن کرتا ہے
02:49اور ایک تیل والے گیلے موم جیسے مادے میں تبدیل ہو جاتا ہے
02:53ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے ایڈی پوسٹ ٹیشوز لاش پر بن جائیں
02:57تو جسم کئی سال بلکہ کئی بار تو کئی دہائیوں تک محفوظ ہو جاتا ہے
03:03نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ایک اور تحقیق کے مطابق
03:06یہ عمل لاش کو کئی دہائیوں تک محفوظ رکھ سکتا ہے
03:11ایڈی پوسٹ ٹیشوز کے بننے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے
03:14جس میں ہائیڈوروکسی فیٹی ایسٹڈ کا بننا
03:17لاش کے آس پاس کے ماحول میں نمی کا ہونا اور آکسیجن کی کمی
03:22ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ لاش کو زمین میں بہت گہرائی میں دفن کیے جانے پر بھی
03:28جسم پر ایڈی پوسٹ ٹیشوز بن سکتے ہیں
03:31اس کے علاوہ کئی ایسی عدویات بھی ہوتی ہیں جو جسم میں ایڈی پوسٹ ٹیشوز بنا سکتی ہیں
03:37ڈاکٹر روزی کہتی ہے کہ جسم میں مختلف دھاتو اور سنکھیا کی موجود کی بھی
03:43لاش کے گلنے سرنے کی رفتار کو کم کر سکتی ہے
03:46ڈاکٹر میڈیکل کالج ہسپتال کے سابق فورنسک ماہی ڈاکٹر کبیر سوہیل
03:51اس سارے عمل کی وضاحت تھوڑے مختلف انداز میں کرتے ہیں
03:55ڈاکٹر سوہیل کا کہنا ہے کہ جب جسم میں موجود چربی سخت ہو جاتی ہے
04:00تو پھر وہ بیکٹیریا جو لاش کے گلنے کا سبب بنتے ہیں
04:04صحیح سے اپنا کام نہیں کر پاتے
04:06اور ایسی صورت میں جسم زیادہ عرصے تک اپنی اصل شکل برقرار رکھتا ہے
04:12وہ کہتے ہیں کہ ظاہری طور پر لاش پہلے جیسی ہی دیکھتی ہے
04:16پھر کہا جاتا ہے کہ لاش کو کافی عرصہ پہلے دفنائے گیا تھا
04:21لیکن اب بھی اس کی حالت پہلے جیسی ہی ہے
04:24ڈاکہ یونیورسٹی کے دپارٹمنٹ آف مایکرو بائیولوجی کے اسوسیٹ پروفیسر
04:29ڈاکٹر محمد میزان الرحمان کا کہنا ہے
04:32کہ اگر جسم میں چربی کی مقدار بہت زیادہ ہو
04:35تو بھی ایسا ہونے کے امکان زیادہ ہیں
04:38ان کا کہنا ہے کہ اگر تتفین کی جگہ پر ہوا موجود ہو
04:41یا وہ زمین جہاں لاش کو دفن کیا گیا ہو
04:44بلکل ذرقیز نہ ہو
04:46یا اگر زمین ریتیلی ہو
04:47تو بھی جسم کے گلنے سرنے کا عمل سست ہو سکتا ہے
04:51ان کا کہنا ہے کہ ہیومیٹ ماحول میں جسم کی جلد
04:54چھے سے بارہ دنوں کے اندر ڈھیلی پر جاتی ہے
04:57لیکن فربر جسم میں اس عمل میں ایک مہینہ
05:00یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے
05:03بعض صورتوں میں لاش کو محفوظ رکھنے کے لیے
05:06مختلف کیمیکلز جیسے فارمیلین کو جسم پر لگا دیا جاتا ہے
05:10ڈاکٹر سوہیل کہتے ہیں کہ اس طرح کے کیمیکلز کے استعمال سے
05:14جسم زیادہ دیر تک گلنے سرنے سے بچایا جا سکتا ہے
05:18وہ ایک مثال دیتے ہیں
05:19جب کسی شخص کی بیرون ملک موت ہو جاتی ہے
05:22اور لاش کو مرنے والے کے آبائی ملک لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے
05:27تو لاش کو فارمل ڈی ہائیڈ میتھنول یا دیگر اس طرح کے کیمیکلز لگا کر
05:32محفوظ کر لیا جاتا ہے
05:34اور اس سارے عمل کو ایمبامنگ کہتے ہیں
05:37ایسی لاشی جب دفنائی جاتی ہیں
05:39تو جسم پر موجود کیمیکلز کے اثرات کی وجہ سے
05:42لاش کافے دیر تک اپنی اصل حالت برقرار رکھتی ہے
05:45بعض صورتوں میں مٹی میں اس طرز کے کیمیکل کی موجود کی
05:49کے نتیجے میں بھی لاش کافی عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے
05:53جنرل آف آکیلوجیکل سائنس کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے
05:57کہ مٹی کی کیمیائی خصوصیات
05:59جیسا کہ اس میں پائے جانے والی دھاتو
06:01مادنیات اور تہزابیت بھی
06:03بعض وقت جسم کے گلنے سرنے میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں
06:08اس کے علاوہ جہاں لاش دفن کی گئی ہے
06:11اس جگہ کا درجہ حرارت بھی
06:13بعض وقت لاش کے گلنے کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتا ہے
06:17مثال کے طور پر
06:19ہمالے جیسے تھنڈے علاقوں میں دفنائی جانے والی لاشیں
06:22کئی دنوں اور مہینوں تک
06:25اپنی اصل حالت میں برقرار رہ سکتی ہیں
Comments