Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Watch the most talented students from Karachi schools as they compete in a big speech competition, showcasing their exceptional public speaking skills and confidence. The competition brings together some of the best young orators in the city, all vying for the top spot and a chance to make their schools proud. With thought-provoking topics and impressive delivery, these students are sure to inspire and impress. Find out who will be crowned the winner in this exciting speech competition. Don't miss out on the passion, energy, and talent on display as Karachi's young minds take the stage.

Category

😹
Fun
Transcript
00:01کراچی کے اسکولوں کے درمیان کتابات کے مقابلے کا انعقاد
00:06کراچی کے اسکولوں کے لیے منقل کیے جانے والے سالانہ اور مقبول کتابات کے مقابلے کا شاندار فائنل تاریخی قائد
00:15عظم ہاؤس میزیم میں منقل ہوا
00:17اس مقابلے کا اعتمام بورڈ آف منیجمنٹ جنہ سوسائیٹی اور کراچی کانسل برائے خارجہ امور کی جانب سے کیا گیا
00:25تھا
00:25اس مقابلے میں چونتیس اسکولوں نے حصہ دیا اور دو روز سخت مرہاوار مقابلوں کے بعد اکبر مرچند اور سارا
00:34دانیال پر مستمل ججو کی دو رکنی پینل نے دس اسکولوں کو فائنل کے لیے منتخب کیا
00:41فائنل تک پہنچنے والے سکولوں میں سٹی انٹرمیلیر کالج دی ایک اے سی ایس ایس ایس ایٹھ ماما پارسی سکول
00:51حبیب گلز سکول آگا خان سکول مارننگ گریس فل گرامر ہائی سیکنڈری سکول کمپس ون اگریو بلینڈ اینڈ گیف سکول
01:01پی وی ایس پارسی سکول اور المرتضی سکول شامل تھے
01:07ان مقابلوں کے فائنل کے لیے جیوری میں صحافی غازی صلحہ الدین آئی وی ایس کی بانی نور جہان بلگرامی
01:16اور جینا فانڈیشن کے بانی نسیم مرچند شامل تھے
01:19مقابلہ کرنے والے دس شرکہ کے درمیان ہونے والی سنسنی خیص مقابلے کے بعد
01:26تین شرکہ پہلے نمبر پر سیدہ فاطمہ زہرہ ماما پارسی سکول دنسے نمبر پر روبن عابد علی خان سکول مارننگ
01:34جبکہ تیسے نمبر پر چوسیز احمد اڈیاریو بلینڈ اینڈ دیف اسکول فاطر قرار پائے
01:41جنہیں شاندار انعامات اور ایک پروفیٹ دی گئی
01:44یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان مقابلوں کا تصور دراصل جنا سوسائٹی نے پیش کیا تھا
01:51اور گزرشتہ دو دہائیوں سے یہ مقابلے کامیابی کے ساتھ ملقب کیے جا رہے ہیں
01:56جناب جب قائدی آزم ہاؤس میزیم صبائی حکومت کے تحت آیا تو اس کی ملکیت اور انتظامات سندھ حکومت کو
02:05منتقل ہو گئے
02:06چار سال قبل وزیارہ سندھ سید ملات علی شاہ اور اس وقت کے کور کمانڈر ہمائیو عزیز نے اس کے
02:13لیے بورڈ آف منیجمنٹ تشکیل دیا
02:15جس کے بعد سندھ حکومت جنا سوسائٹی اور کراچی کانسل برائے خارجہ امور کے درمیان سیر فریقی یادداشت مفاہمت پر
02:24دستگت کیے گئے
02:25بورڈ آف منیجمنٹ 18 اراکین پر مشتمل ہے جن میں جنا سوسائٹی کراچی کانسل برائے خارجہ امور مخیر حضرات موزش
02:34شہری اور سندھ حکومت کے نوائندے شامل ہیں
02:37بورڈ آف منیجمنٹ کے تین عدداروں میں لاکت ایچ مرچل بطور سینئر نائب چیئرمن اکرم سیگل بطور چیئرمن اور کموڈو
02:46ریٹائر سید ملک بطور سیکرٹی شامل ہیں
02:50چیئرمن اور شریف چیئرمن کے عدے سرکاری حیثیت کے حامل ہیں جو دلہ ترکیز وزیالہ اور چیف سیکرٹی سن کے
02:58پاس ہوتے ہیں
02:59جنا سوسائٹی کراچی کانسل برائے خارجہ امور اور بورڈ آف منیجمنٹ قائدی آزم ہاؤس
03:05میزیم کے قیام کا مقصد قائدی آزم محمد علی جنہ کے ویجن اصولوں اور نظریات کو قوم کی تعمیر کے
03:12عمل کے طور پر فروغ دینا ہے
03:14اس وجہ سے بورڈ آف منیجمنٹ کی تشکیر کے وقت قائدی آزم ہاؤس میزیم کو ادارہ تعمیر قوم قرار دیا
03:22گیا
03:22چنانچہ قائدی آزم ہاؤس میزیم میں منقض ہونے والی تمام تقریبات باشمول کتابات کا بدیانی مقصد پاکستان کے نوجوانوں کو
03:32متحرک کرنا ہے
03:34کیونکہ پاکستان کی پچاس سے زائد عبادی تین تیس برس سے کم عمر افراد پر مستمر ہے
03:40اور انہیں پاکستان کی جددہت اور قیام سے متعلق تاریخی حقائق نیئر ان کے امن خوشحالی اور ترقی کے خوابوں
03:49سے آگاہ کرنا ہے
03:50تاکہ شاعر مشرق محمد اقبال اور قائد آزم محمد علی جنہ کی امیدوں کو حقیقت میں بدلہ جا سکے
03:58رپورٹیٹ بائی امران احمد تراکی
Comments

Recommended