00:00There was a beautiful stare of which was to be a mother of Anarkali.
00:07Anarkali's heart was pastel and bright and he was always painting.
00:13He was painting with a long time.
00:16He was painting with different nthurt left by pushing star and a big no wonder.
00:25He knew that he would be a famous artist and would be a famous artist and would be his own world.
00:32But he didn't have a shock to him.
00:36He was a strong massage and said to him,
00:39He said to him,
00:41If he had a son, he would be a good man.
00:45He was a good man and a good man.
00:47He was a good man and a good man.
00:50He was a good man.
00:52She knew that she was still alive and alive.
00:55But she was always able to be aware of her.
01:00But she's always in the same way.
01:08One day, she said that if she's married to a daughter,
01:12she's still a true partner.
01:14She's also another one that could be a new heir to her.
01:18بادشاہ نے فوراً فیصلہ کر لیا
01:27اور قریبی سلطنت کے شہزادہ فہد کے ساتھ رشتہ تیہ کر دیا
01:31جب انارکلی کو یہ بات معلوم ہوئی
01:34تو اس نے سختی سے انکار کر دیا
01:36اس نے اپنے ابباجان سے کہا
01:37بابا
01:39جان
01:41میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی
01:44اس کا دل اپنی کلا اور خود مختاری کے لیے دھڑک رہا تھا
01:48مگر بادشاہ سخت دل تھا
01:50اس نے کہا کہ سلطنت کے فائدے کے لیے یہ ضروری ہے
01:53انارکلی روتی رہی
01:55لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری
01:57آخر ایک رات
01:59اس نے سوچا کہ اگر وہ اپنی مرضی کے بینہ زندگی گزارے گی
02:02تو بہتر ہے کہ وہ محل سے نکل جائے
02:05رات کے اندھیرے میں جب محل خاموش تھا
02:08اور ابباجان اور رانی سو رہے تھے
02:10انارکلی چپکے سے اپنا گھوڑا لے کر باگ کی طرف نکل گئی
02:14وہ جنگل کی طرف چلی گئی
02:16راستے میں اسے اندھیرہ لگا
02:17ہوا تیز تھی
02:19اور ہر ایک سایہ اس کے دل میں ڈر کا اظہار کر رہا تھا
02:22لیکن آزادی کی امید
02:24اس کے دل میں روشنی بن کر چمکتی رہی
02:26جنگل کے اندر ایک ڈاکوں کا کبیلہ تھا
02:29جب انہوں نے انارکلی کو دیکھا
02:31تو ان کے دل میں لالچ بھر آیا
02:33انہوں نے فیصلہ کیا
02:35کہ وہ انارکلی کو بیچ دیں گے
02:36اور پیسہ کمائیں گے
02:38وہ اسے پکڑ کر شہر لے آئے
02:40اور وہاں ایک خاص رکس کرنے والی عورت
02:42ال رکاسہ کے حوالے کر دیا
02:44شہر میں ال رکاسہ کے نام سے
02:46ایک مشہور محفل لگتی تھی
02:48جہاں اور بھی لڑکیاں کام کرتی تھی
02:50مگر ڈاکو صرف انارکلی کو
02:52ان کے حوالے کر کے پیسہ لینا چاہتے تھے
02:55اب انارکلی ایک ایسے مکان میں رہنے لگی
02:59جہاں اس پر ہمیشہ نگرانی رہتی
03:02وہ چاہے تو بھی کہیں نہیں جا سکتی تھی
03:04ہر روز انارکلی کو محفل میں لے جایا جاتا
03:07وہ رکس کرتی
03:08لوگ اس کی تاریف کرتے
03:10لیکن اس کا دل اندر سے ٹوٹا ہوا تھا
03:13وہ ہر رات اپنی پرانی پینٹنگز
03:15اور اپنے سپنوں کو یاد کر کے چپکے سے روتی
03:17شہر میں ایک امیر آدمی بھی تھا
03:24جو اکثر محفل میں آتا تھا
03:26اس نے انارکلی کو دیکھا
03:27اور اسے پسند کر لیا
03:29وہ چالاک تھا
03:30میٹھے الفاظ لکھ کر خط بھیجتا
03:33لیکن اس کی نیت صاف نہیں تھی
03:35وہ شہزادی انارکلی کو خریدنا چاہتا تھا
03:38ایک دن انارکلی نے سپاہی سے پوچھا
03:40کہ یہ امیر آدمی کیسا ہے
03:42تو سپاہی نے بتایا
03:44کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے
03:45انارکلی سمجھ گئی
03:47کہ وہ صرف دھوکہ دینا چاہتا ہے
03:49اور اس کے دل میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی
03:51انارکلی نے اس سے خط واپس کر دیئے
03:54اسی دوران شہر میں ایک اور شہزادہ آیا
04:03شہزادہ شہزیب
04:05وہ صاف دل نیک نیت اور بہادر تھا
04:07لیکن بہت خاموش ملز آج کا
04:09جب اس نے پہلی بار انارکلی کو دیکھا
04:12اس کی آنکھوں میں ایک کہانی دیکھی
04:14ایک ایسی کہانی جو درد اور خوبصورتی دونوں سے بھری تھی
04:18اس نے محفل میں انارکلی کو غور سے دیکھا
04:21اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کے مسکرانے کے انداز کو محسوس کیا
04:25کچھ دن بعد شہزیب نے سپاہیوں کو بات کرتے سنا
04:29شہزادی انارکلی
04:30کنگ ایڈورڈ کی خوئی ہوئی بیتی ہے
04:32جو محل سے بھاگ کر یہاں آ گئی تھی
04:37یہ سن کر شہزیب کا دل بھر آیا
04:40اس نے سوچا کہ اس ماسوم بیٹی کو بچانا ضروری ہے
04:44اس رات اس نے انارکلی کو ایک خفیہ خط بھیجا
04:47میں شہزادہ شہزیب ہوں
04:49تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا
04:51آج رات باگ میں مجھ سے ملو
04:53میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں
04:55انارکلی پہلے تو گھبرا گئی
04:57مگر پھر امید کی روشنی نے اسے کھینچ لیا
05:00وہ باگ میں گئی جہاں شہزیب اس کا انتظار کر رہا تھا
05:04انارکلی
05:07میں تم سے سچا پیار کرتا ہوں
05:12مجھے تمہارا اصل پتہ چل گیا ہے
05:20اور میں تمہیں اس قید سے آزاد کرواؤں گا
05:23انارکلی رو پڑی اور اس نے ساری بات بتا دی
05:26محل سے بھاگنا
05:27ڈاکوں کے ہاتھ لگنا
05:29اور اس رکس والی زندگی
05:31شہزیب نے کہا
05:32کل جب تم محفیل میں جاؤگی
05:34میں سب کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کروں گا
05:38اگلا دن آیا محفیل لگی
05:49جب انارکلی رکس کرنے لگی
05:52تو شہزیب نے سب کے سامنے کہا
05:54رک جاؤ یہ کوئی عام لڑکی نہیں
05:56یہ بادشاہ ایڈورڈ کی بیٹی شہزادی انارکلی ہے
06:00اور آج میں سب کے سامنے اسے اپنی رانی بنانا چاہتا ہوں
06:04محفیل میں خاموشی جھا گئی
06:06لوگ حیران رہ گئے
06:07انارکلی نے دل سے ہاں کہا
06:10پھر دونوں کی شادی دھوم دھام سے ہوئی
06:13کچھ دن بعد وہ دونوں بادشاہ ایڈورڈ کے پاس واپس گئے
06:21انارکلی نے اپنے ابباجان کے قدم چھو کر کہا
06:24ابباجان مجھے ماف کر دیں
06:27مجھ سے غلطی ہوئی
06:28ابباجان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
06:31انہوں نے بیٹی کو گلے لگا کر کہا
06:33بیٹا غلطی میری تھی
06:35میں نے تمہارا دل نہیں سمجھا
06:37آخر سچ اور محبت کی جیت ہوئی
06:40انارکلی نے اپنی کلا کی دنیا پھر سے شروع کی
06:43اور شہزادہ شہزیب نے اسے پوری آزادی دی
06:46کہ وہ اپنے سپنے پورے کرے
06:48وہ دونوں ہمیشہ خوشی اور محبت سے رہنے لگے
06:51اور ان کی کہانی نے سب کو سکھایا
06:54کہ جب دل صاف ہو
06:56تو تقدیر بھی بدل سکتی ہے
Comments