00:00تصور کریں ایک ایسی سیاسی طاقت کا جو ایک پورے ملک کو جام کر سکتی ہے
00:05اب اگر میں آپ کو بتاؤں کہ یہ طاقت کسی انتخاب سے نہیں بلکہ ایک قاتل کے دفاع سے پیدا ہوئی تھی
00:11ایک قاتل کا دفاع کرنے والی تحریک کیسے ایک ایڈمی طاقت رکھنے والے ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئی
00:18یہ ہے ہماری آج کی کہانی
00:21تحریک لبائک پاکستان یعنی ٹی ایل پی جس نے پاکستانی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بور دیا
00:28اس سب کا آغاز دو ہزار گیارہ میں ایک گولی سے ہوا
00:31جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اپنے محافظ ممتاز قادری نے توہین رسالت قوانین پر تنقید کرنے پر قتل کر دی
00:40ریاست نے قادری کو فاسی دی لیکن مذہبی طبقے کے ایک بڑے حصے نے اسے ایک ہیرو کا درجہ دی
00:46اس عوامی جذبے کو ایک شولہ بیان عالم خادم حسین رزوی نے پہچانا
00:51اور دو ہزار پندرہ میں تحریک لبائک پاکستان کی بنیاد رکھی
00:55اس کا مقصد پلکل واضح تھا ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین کا ہر قیمت پر تحفظ کرنا
01:02تی ایل پی کی اصل طاقت کا مظاہرہ دو ہزار سترہ میں فیضاباد دھرنے میں دیکھنے کو بلا
01:07انتخابی خلف نامے میں ایک چھوٹی سی تبدیلی پر تی ایل پی نے دارالحکومت اسلام آباد کو تین ہفتوں کے لیے مفلوج کر دیا
01:15جب ریاستی اداروں کی کاروائی نکام ہوئی تو فوج نے سالسی کی
01:19اور حکومت نے تی ایل پی کے تمام مطالبات مال لیے
01:23اس ایک واقعے نے یہ ثابت کیا کہ تی ایل پی صرف سڑکوں کی طاقت سے ریاست کو اپنی شرائط پر چھکا سکتی ہے
01:31اس کامیابی نے تی ایل پی کو قومی سیاست کے میدان میں لاکھڑا کر دیا
01:35دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں تی ایل پی نے بائیس لاکھ ووٹ حاصل کیا
01:40اور یہ ووٹ لے کے سب کو حیران بھی کر دیا
01:43اگرچہ وہ قومی نشست نہ جیت سکے لیکن اس نے ملک کی پانچویں بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اپنی جگہ بنا لی
01:50دوہزار بیس میں خادم حسین رزوی کی انتقال کے بعد قیادت ان کے بیٹے ساد رزوی کو ملی
01:56ان کے دور میں بھی دوہزار اکیس میں فرانس محالف پرتشدد مظاہروں کا وہی چکر دہر آیا گیا
02:02جس کے بعد ریاست نے پہلے پارٹی پر پابندی لگائی لیکن پھر مذاکرات کے ذریعے اسے ہٹا لیا
02:08نو اکتوبہ دوہزار پچیس کو ٹیل پی نے لبیگ یا اکسا ملین مارچ کا اعلان کیا
02:13تحریک لبیگ پاکستان کے کارکن گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے کٹھے ہو رہے تھے
02:19ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین کے مظلوموں سے اظہاریں یگجہتی کرنا چاہتے ہیں
02:24ایک مذہبی اور انسانی مقصد کے دہر
02:26لیکن جب وہ مرید کے پہنچے تو انتظامیہ نے اچانک سڑکیں بند کر دی
02:31ہندکیں کھوڑ دی اور رینجر سمیت بھاری پولیس نفری تائنات کر دی گئی
02:36پھر کچھ دیر بعد ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی
02:39لیکن پھر کچھ دیر بعد گولیوں کی بھی آواز ہیں
02:41کئی نوجوان زخمی ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ کچھ جان کی بازی بھی ہار گئے
02:45حکومت کا موقع یہ ہے کہ ٹیل پی کے کارکنے نے پولیس پر حملہ کیا
02:49املاک کو نقصان پہنچایا اور قانون کی خلاورزی بھی کی
02:53مگر ٹیل پی ایک مختلف کہانی سناتی ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے پولیس
02:58والے ہم پر حملہ آور ہوئے سویجل میڈیا پر ہزاروں لوگوں نے
03:02اس واقعے پر افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کیا کئی لوگوں نے
03:07لکھا کہ ہم ٹیل پی کے نظریت سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ظلم سے نہیں
03:11وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ اب نو مئی جیسے ایک دامات ٹیل پی کے
03:16خلاف اٹھائی جائیں گے یعنی سخت جواب دیا جائے گا ریاستی ذرائع
03:20دعویٰ کر رہے ہیں کہ ٹیل پی نے قانون دکازے پورے نہیں کیے اور
03:24ان کی جانب سے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کی گئی اگر حکومت
03:28کی کاروائی بے کابو ہوئی یا ظلم قرار دی گئی تو یہ ریاست اور
03:32مذہبی جماعتوں کا مباین تصادم کو جنم دے سکتی ہے جس کے اثرات
03:36پورے ملک پر ہوں گے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہمیں اپنے کمیٹس
03:40باکس میں ضرور بتائیں ویڈیو پسند آئے تو لائک کریں چینل کو سبسکرائب
03:44کریں جزاک اللہ خیر
Comments