#NawazSharif #MuhammadZubair #shahmehmoodqureshi #fawadchaudhry #asadumar #kotlakhpatjail #PTI #nawazsharif #militarycourtspakistan #civilianscourts #faizhameed #pakarmy #imrankhan #pti #sohailafridi #dgispr #aleemakhan #adialajail #ptiprotest #pmshehbazsharif #fieldmarshalasimmunir #thereporters #arynews
👇🏼
https://www.youtube.com/watch?v=EVzN1fLgaBY&list=PLS19FEYA85DhgCuOL5I0fVBfYA_NjjMaV
Nawaz Sharif Receives Appeal | Govt Efforts to Ease Political Tension? | Muhammad Zubair
How Can Stability Be Achieved in Pakistan? | Hassan Ayub’s Big Reveal
What Must Be Done for Negotiations? | Ata Tarar Statement
“Let Them Protest and Resist, People Won’t Turn Out,” - Hassan Ayub Analysis
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
👇🏼
https://www.youtube.com/watch?v=EVzN1fLgaBY&list=PLS19FEYA85DhgCuOL5I0fVBfYA_NjjMaV
Nawaz Sharif Receives Appeal | Govt Efforts to Ease Political Tension? | Muhammad Zubair
How Can Stability Be Achieved in Pakistan? | Hassan Ayub’s Big Reveal
What Must Be Done for Negotiations? | Ata Tarar Statement
“Let Them Protest and Resist, People Won’t Turn Out,” - Hassan Ayub Analysis
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Category
🗞
NewsTranscript
00:00Thank you very much.
00:30Thank you very much.
01:00Thank you very much.
01:30Thank you very much.
02:00Thank you very much.
02:30Thank you very much.
03:00Thank you very much.
03:30Thank you very much.
09:16parties, which is showing a lot of parties, and they came from all the soups. But beyond
09:22the legal fraternity people, civil society people, media people, so all the student representatives
09:31came from. So, every one of them was a different one. The student representatives
09:36who have had the problems with Pakistan and the future for thinking about it,
09:43so that they have to go. Otherwise, Pakistan's people,
10:13because I have a example of what happened in the past 30-40 years in Pakistan. That
10:20all the countries, which are Cambodia, Vietnam, Bangladesh, India, Malaysia, these are all
10:26our countries. Our countries had double income from our country. Now, we have a lot of
10:33political stability. Political stability. Political stability. Political legitimacy. Political
10:49تقریر پڑھ لیں. جو وہ ساد رفیق کے والد صاحب کے اس پر وہ گئے تھے.
10:54یا آزم طارد. کہ political stability کے بغیر معیشت نہیں ٹھیک ہوتی. اور
10:58political stability آتی ہے political legitimacy سے. اس حکومت کے پاس political
11:03legitimacy نہیں ہے. So, اس کا مطلب یہ ہے کہ we all agree, including PMLN top
11:08leadership, کہ یہاں معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی. اب یہ تو ملک کے ساتھ,
11:13عوام کے ساتھ, 25 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہے. کہ جب سب کو یہ پتا ہو کہ یہ
11:18حال ہے. اور ہم کہیں کہ جی اس system کو accept کر لیں. So, اس میں جو conference
11:22میں لوگ تھے جو بہت aggressive پہ تھے. اس میں سوال پوچھا گیا. اور
11:26میں یہ بتاؤں. workers جو پی ٹی آئی کے وہاں تھے. ان کی طرح سے زیادہ
11:30سخت رویہ تھا. وہ leadership سے question کر رہے تھے. کہ جی آپ یہ
11:34ہر وقت بات چیت کا کیوں بات کرتے ہیں. کیونکہ دوسری طرح سے تو
11:37کچھ بھی نہیں ہوتا. تو جد و جہد کا آغاز کریں. لیکن پھر بھی ایک
11:41patience show کرنا پڑتا ہے. سینئر leadership کو. جو محمود
11:44اچھک سے ہی. اسد کیسر. سلمان. راجہ اور بیریسٹر. گوھر بغیرہ
11:48کی طرف سے آیا ہے. جس سے میں بھی ایک رہی کرتا ہوں کہ اگر آپ
11:52start بھی کر رہے ہیں جد و جہد. It's a process. اس میں بات چیت کا
11:55offer کریں. اگر if they don't come back and accept کہ جی بات چیت کس طرح سے
12:01اور کن بنیادوں پر ہوگی. سارے اسیران کو چھوڑا جائے. یہ accept
12:05کیا جائے کہ وہ political victimization کے نتیجے میں اندر بند ہیں. یہ
12:09accept کیا جائے کہ judicial process کا آپ نے گلہ گھونٹا ہے. آپ
12:12نے ستائیس بھی amendment کر کے. میڈیا کی freedom کو آپ نے
12:17دبا دیا ہے. this country is not being ruled by the civilian leadership. یہ
12:22تو بالکل اکتا ہے. وہ جو civilian بالا دستی. اس لیے نواز شیف
12:26کو بھی appeal کہی ہے. بھائی آپ تو سب سے زیادہ civilian بالا دستی
12:30کے champion تھے. آپ کم سے کم آ کے ہماری بات سنیں. بیٹھیں. اور پھر
12:34اس کا ایک کوئی طریقہ ماردھار کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی. ایک
12:38طریقہ نکال سکتے ہیں. give and take کی بنیاد پر. کہ جی
12:41ٹھیک ہے. ہم agree کرتے ہیں کہ یہ جو ہے آپ کا election
12:45commission. اس کو بلکل ٹھیک کیا جائے. ایسے لوگوں کو لے کے آیا
12:49جائے. and that pays the way towards free, fair and transparent election in the
12:53shortest possible time سے چھ مہینے, آٹھ مہینے, دس مہینے. تاکہ
12:57ملک میں ایسے implosion بھی نہ ہو. اور ملک آگے بھی چلنا
13:01سے یہ بات سمجھا گی. آپ کو آپ کو امید کیا ہے؟ آپ کو لگ رہا ہے
13:05کہ آپ کو آگے سے positive مذبت آپ کو جواب ملے گا یا پھر آپ کو پھر
13:10مضاحمتی تحریک کی طرف جانا پڑے گا؟ میرا personally خیال یہ ہے کہ نہیں
13:16positive جواب نہیں ملے گا. اس کے ظاہر ہے ہم بہت دفعہ بات بھی کر
13:21چکے positive جواب اس لیے نہیں ملے گا کہ ظاہر ہے اس وقت
13:23حکومت میں جو بیٹھے ہوئے ہیں جن کو پتا ہے کہ they will never get
13:27elected again. اور at least اس period میں جب economic crisis اتنا زیادہ
13:32deep ہو چکا ہے. اس background میں جب. میں دوبارہ آپ کے بعد واپس
13:37آتا ہوں. آپ کو امید نہیں ہے کہ مصبت جواب میں لے گا. حسن یوب
13:40لاہور کے اندر خواجہ رفیق صاحب کی جو تریپنوی ان کی شہادت
13:45کے اوپر ایک سیمینار ہوا. خواجہ صاحب رفیق صاحب ان کے جو
13:48بیٹے ہیں. آہ وہ موجود تھے. انہوں نے بھی ایک جو آہ میں یہ
13:52تو نہیں کہوں گا سرپرائزنگ element ہے. انہوں نے بھی محترم
13:55نواز شریف صاحب اپنے پارٹی کی جو قائد ہے ان سے ریکویسٹ کی
13:57کن الفاظ میں کی سنی ہے؟ جی. کردار میاں نواز شریف صاحب کو
14:01ادا کرنا پڑے گا. رول ان کو play کرنا چاہیے. اور رول انہی
14:04کو play کرنا پڑے گا. وہ سب سے بڑے ہیں اس وقت. انہیں آگے آت
14:08بات کرنے پڑے گی. تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے. تاکہ یہ تنہاو کام
14:13ہو. پاکستان کو ایک نئے political contract کی ضرورت ہے. ایک نیا
14:19سیاسی معاہدہ. آزم نظیر تار صاحب لاو منسٹر سینئر میمبر
14:25دو کیابنٹ ہیں. انہوں نے انہوں نے بھی وہاں پہ ایک میساق کے
14:28جمہوریت سیاسی میساق کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا. آج
14:33ہم سب کو پھر بل بیٹھ کے ایک بڑے نیشنل ڈائلوگ کی ضرورت ہے.
14:37پاکستان کو آج ایک سیاسی میساق کی ضرورت ہے. اور یہ میساق صرف
14:43اور صرف وطن عزیز کے لیے ہے. کسی ایک شخص کے لیے نہیں ہے. کسی ایک
14:47ذات کے لیے نہیں ہے. کسی ایک جماعت کے لیے نہیں ہے. کسی ایک گروہ
14:51کے لیے نہیں ہے. ہمیں تنقید کو مصبت انداز بھی لینا چاہیے. اور
14:55برداشت پیدا کرنی چاہیے کہ اپنے مخالف کے ساتھ بھی بیٹھ کے بات
14:58کریں اور اس کی کہیں ہوئی بات جو ہے اس کو بھی تحمل اور برداشت سے
15:02سنیں. شاید اسی طرح سے آگے رستے نکل آئیں. حسن یوب صاحب اگر میں
15:07آپ سے سیدھا سوال کروں کہ آپ کی نظر میں ملک ملک کے اندر سیاسی
15:12استعقام کے لیے کون سے لوازمات ہیں جو ہونے چاہیے. اور جیسے پاکستان
15:17کے اندر سیاسی استعقام پیدا ہو پھر مشہد کے اندر بہتری ہے. حسن یوب
15:20میں بلکل بات کرتا ہوں لیکن پہلے میں تو کرکٹ کی. ایشا کپ کے اندر
15:25جو پاکستان کی تاریخی کامیابی ہے. یقینی طور پر جو ہے یہ بہت
15:30خوشی ہوئی پاکستان کی قوم کو جس طرح سے ان کا استقبال کیا جس طرح
15:35لوگوں نے جو ہے خوشی اور مسورت کا اظہار کیا کہ ربائیتی حریب
15:38کو ون نائنٹی ون کے مارجن سے شکست دی یا نہیں اڑا دیا نا بلکل
15:42ختم کر دیا. تو الحمدللہ جی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ خوشی
15:46اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی اور یہ عزت پاکستان کو جو ہے وہ نصیب
15:48ہوئی. جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ کیا ہو سکتا ہے لیکن
15:52اپنے پوری خبریں ڈسکس کی ہیں لیکن توشہ خانہ ٹو کیس کے اندر
15:56سزا ہوئی ہے سترہ سال کی حمیت کی حملی تھی وہ بات. کیا چیز؟
16:00عمران خان صاحب کو سترہ سال کی صاحب نے باقیوں کی ان کی جو
16:05کٹ ہوا تھا ہمی خانوں کا لیکن آپ نے عمران خان صاحب کو مجھٹا
16:09بیکم کو سترہ سال کی سزا ہوئی ہے جی. وہ تو کہہ رہے ہیں نا کہ
16:11political victimization آپ جی کہہ رہے ہیں کہ. وہ تو پورا
16:14پرائل ہوگا ہے نا تو پرائل کے بعد سترہ سال کی سزا ہوگی یعنی
16:18اب certified جو ہے وہ عدالت نے کر دیا کہ جناب یہ تو آہ قومی
16:23خزانے کو نمسان پہنچا ہے چوری کی گئی ہے یعنی جس طرح وہ certified
16:27چور کہتے تھے محمد نواز شریف صاحب کو اس ٹھیک تو محمد زبیر
16:31صاحب کو یہ بات بہت بری لگتی تھی میں یاد ہے تو آج کہا جا سکتا ہے
16:34کہ عدالت سے certified چور ہے عمران خان صاحب پوچھنے میں. میرے سوال
16:39کا جواب دیتے ہیں اس کے بعد ساتھ میں آپ دے دیتے تھے سارے. وہ میں دیتا
16:42ہوں سارا. آپ لغو صاحب کر دیتے ساتھ میں. جتنا بھی آپ نے لغو
16:45کرنا ہے نا وہ اسے اردن میں کہتے ہیں. اچھا بات یہ ہے کہ جو
16:49stability کی بات کریں اس میں ہم بلکل stability آ سکتی ہے. کہ یہ
16:53hope ختم ہو جائے کہ عمران خان باہر آ رہا ہے. تو پڑکل
16:56stability آ جائے گی. میں اسی جزا بتا رہا ہوں. یہ hope ختم ہو جائے
16:59کہ جناب عدالت سے اس سے یہ کریں کہ جو ان کے cases ہیں جو
17:05appeals ہیں وہ high court سے بھی جو ہے وہ ان کا فیصلہ ہو جائے. جب
17:09وہ باہر آ رہے ہیں یا نہیں آ رہے. اس چیز کا فیصلہ ہو جائے. اس کے
17:11بعد supreme court تک بھی رہ جائیں. اس کے بعد supreme court تک بھی جو
17:13معاملہ ہے رہا وہاں سے clear ہو جائے. ایک دفعہ once for all
17:16یہ decide ہو جائے. یہ بیچ میں linger ہونا ہو. یہ مقدمات ایک دفعہ
17:20تیہ ہو جائیں. تو پھر معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے. وہ محترم قائد
17:23کو آپ کو تاہیات وہ supreme court نے بھی کیا تھا لیکن بعد میں پھر
17:26reverse ہو گیا تھا تو پاکستان کے اندر یہ پھر آپ کو بتائے گئے.
17:28وہ انہوں نے اس طرح کی مسالیں موجود ہیں. وہ انہوں نے
17:3163-1 جی کی. وہ خلافے آئینے کانون سارا معاملہ تھا.
17:35وہ انہوں نے کیا تھا کہ اس کی تشریح کر دی تھی. انہوں نے
17:38کہا جی تاہیات ہے. تو یہ 63-1 جی کا معاملہ نہیں ہے یہ تو ان کی
17:42conviction ہے نا جی. پانچ سال کی. پانچ سال کے لیے جو ہے وہ
17:45disqualified ہیں عمران احمد نازی صاحب. لیکن سزائیں ایک جو ہے وہ
17:49چودہ سال کی ہے دوسری ستنہ سال کی ہے. اب ستنہ سال کی
17:52سزا اگر ان کو سرب کرنی پڑ جائے. تو ستنہ سال تک جو ہے جی
17:55دفعہ decide ہو جائے کہ سزائیں یہ جو ہے حتمیت ہیں جب بیچ میں ختم
17:59ہو سکتی ہیں. تو پھر stability آ جائی کیونکہ آہ فائنل کال دی. آہ انہوں
18:05نے کہا جی کہ 26 نومبر کو بھی آئے. پھر اس کے علاوہ پہلے
18:08ازادی مارچ کی. اتنی مارچز کر چکی ہیں تو political unrest
18:12و 25 مئی سے. یعنی وہ اپریل میں نکل رہے ہیں اور مئی کے اندر
18:16جناب وہ مارچ کر رہے ہیں. ایک مہنہ بھی نہیں ہوا تو ان کو
18:19نکلے ہوئے. ان کو نکلے ہوئے ایک مہنہ نہیں ہوا تھا. تو انہوں
18:22نے جناب جلغار کر دی تھی. استانباد کی اوپر چرہی کر دی تھی.
18:25تو وہ تو بیسکل ان کے مزاج میں ہے نی. ٹکراؤں کی
18:28سیاست کرنا. یعنی تصادم ریاست کے اوپر جو ہے حملہ آور ہو
18:33جانا. تو یہ ان کی خواہش تھی جب وہ leader of the opposition نہیں
18:36تھے. دوزہ چودہ میں. تب بھی وہ prime minister housekeeper پر انہوں نے
18:39حملہ کر دیا تھا. پی ٹی وی پر حملہ کر دیا تھا. پھر نو
18:42مہیں بھی انہوں نے کیا ہے. تو یہ تو political unrest یہ لے کر آ
18:45رہے ہیں نا. پھر ادارے کی اوپر منظم طریقے سے انہوں نے یہ
18:48حملہ کیا. اب فیض عمید صاحب کا بھی ٹرائل ہونا ہے. اگر ان
18:51کا بھی ہونا ہے تو اس ماملے میں ٹیک اپ کریں. مقائے کام کو اس
18:53کو لنگرون نہیں کرنا چاہیے. بہت بہت صحیح. چود
18:56صاحب جو information minister ہیں. عطا عطا صاحب وہ کیا فرما
19:01رہے ہیں کہ یہ شرط پوری ہو جائے. تو پاکستان طریقے
19:05انصاف والوں کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں. ادروائی مذاکرات
19:08کی ضرورت نہیں.
19:09دائلاغ کی ضرورت ہے. مگر سب سے پہلے طریقے انصاف پورے
19:13دنیا کے سامنے معافی مانگیں. یہ معافی مانگیں اور یہ
19:16disassociate کریں اپنے آپ کو. ان اکاؤنٹ سے جو ملک کے باہر سے
19:20operate ہوتے ہیں. تو چلے پھر کوئی ڈائلاغ ہو سکتا ہے. ادروائی
19:24اس سے ڈائلاغ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. یہ بند گلی میں داخل ہو
19:27چکے ہیں.
19:28جو اس اب میں میرا سوال آپ سے سیدھا چھوٹا سا یہ ہے کہ یہ جو
19:32ایک خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے cross the board. جو ہے طریقے
19:37تحفظہ آئین پاکستان نے بھی خواہش کا اظہار کیا ہے. ان کے لیڈر
19:40نے آچکزئی صاحب نے کہ نواز شریف صاحب قدم بڑھائیں آگے
19:43بڑھیں. اس کے ساتھ ساتھ محترم سعاد رفیق صاحب نے لاہور کے
19:47اندر جو کٹھو انہوں نے بھی کہا ہے کہ نواز شریف صاحب قدم
19:49بڑھائیں آگے بڑھیں سب سے بڑھے ہیں. تو محترم نواز شریف صاحب
19:53آپ ان کو پرانا جانتے ہیں. وہ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے
19:58کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ قدم آگے بڑھائیں گے اور معاملہ حل
20:01کریں گے. یہ ان کو چاہیے تھا پہلے دن سے کہ بھئی بیٹھتے ان کے
20:06ساتھ باب کیت کرتے. کوئی ان کے مطالبے مانتے. کوئی آپ کے مطالبے
20:10اگر کوئی جائز ہے وہ منواتے. آپ نے تو آگے سے آگے بڑھتے جا
20:15رہے ہیں. میں زبیر صاحب آپ کی غلط فہمی ہے تو نکال لیں. یہاں
20:19یہ لوگ کسی قسم کا وہ سمجھتے اس سے بہتر استحقام ہو نہیں سکتا.
20:24پتہ نہیں زبیر صاحب کیونکہ اب گورنر نہیں ہے. عمران خواہ
20:28وزیراعظم نہیں ہے. تو ان کو مرود اٹھ رہے ہیں. ورنہ اس سے زیادہ
20:31استحقام پاکستان میں کبھی رہا ہی نہیں ہے. حسن عیوب نے بھی ایک
20:36چیز کو ایکسپٹ کیا. وہی بات جو ساد رفیق کر رہے ہیں. وہی بات جو
20:39آزم تار نے کیا. حکومتی جو ریپیزنٹیٹیوز ہیں اور بڑے سینئر ہیں.
20:44اور وہ کیوں کہہ رہے ہیں. وہ یہ کہہ رہے ہیں. اور حسن عیوب نے بھی
20:47کہا کہ ترقی اس وقت شروع ہوئے گی جب یہ یقین ہو جائے گا لوگوں
20:51کو کہ جی عمران خان باہر میں آ رہے ہیں. اب مسئلہ یہ ہے کہ مجورٹی
20:55اور پاکستان ان سے ایکسپٹ کر رہے ہیں کہ وہ ریلیز ہو جائیں گے. تو ان
21:01کو کیا ان کا دماغ کرش کر کے ان کو یقین دلائے جائے گا کیونکہ انہوں
21:04نے تو کنڈیشن یہ لگائی ہے حسن عیوب نے کہ وہ اس وقت پاکستان آگے
21:09جانا شروع ہوگا. پولٹیکل سٹیبلیٹی آئے گی اور اس کی وجہ سے اکنومک
21:13سٹیبلیٹی آئے گی جب لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ وہ باہر بھی آ رہے ہیں. اب
21:17اب یہ تو بڑا ایک عجیب سا ایک question ہے کہ بھائی یہ لوگوں کو آپ نے
21:24پونے چار سال ایف آئی اے کو پیچھے لگا کے پولیس کو پیچھے لگا کے
21:28مار مار کے لوگوں کو ڈرا ڈرا کے دھمکا دھمکا کے ابھی تک تو آپ نے
21:32چینج نہیں کیا. اور آپ کہہ رہے ہیں کہ جب تک وہ نہیں چینج ہوئیں گے
21:35لوگ پاکستان کے تقریباً پچیس کروڑ عوام جب تک نہیں چینج ہوں گے اور
21:40expect کریں گے. عمران خان باہر آ جائے گا. اس وقت تک پاکستان آگے
21:43نہیں جا سکتا. اس کا مطلب ہے آپ تیار ہیں پاکستان کے عوام کو
21:48دبانے کے لیے. کہ جی وہ دیکھیں نا وہ لوگ بدل نہیں رہے ہیں.
21:51ذہن سازی ان کی ہوئی تھی دوہزار دس میں دوہزار بارہ میں وہ چینج
21:54نہیں ہو رہے ہیں. جب تک وہ چینج نہیں ہوئیں گے ہم ایسی چلنے دیں
21:57گے. چلنے اس لیے دیں گے آپ اشرافیہ ہیں. آپ کا کیا جا رہے ہیں.
22:01پاکستان کے عوام سے پوچھیں. میڈل کلاس سے پوچھیں جن کے 65 فیصد
22:05آپ کی پرچیزنگ پار کم ہوگی ہے. 45 فیصد ان لوگوں سے پوچھیں جو
22:09پاورٹی لائن سے نیچے ہیں. جن کو دوہ کی روٹی نہیں ملتی. وہ
22:13بارہ کروڑ لوگ ہیں. اور آپ بڑے مزے سے حسن ایوب صاحب کہہ رہے ہیں
22:16کہ جی وہ جب بدل جائیں گے نا پھر پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا.
22:20اور یہ جو ترقی کا جو میار ہے. پہلی بات تو یہ ہے. میں نے کل
22:24اپنی سپیچ میں بھی کہا تھا. حسن ایوب صاحب آپ یہ سن لیں. آئی ایم ایف
22:28اور اپنے لوگوں کو جا کے بتا دیں. آئی ایم ایف اگر معیشت کے لیے
22:32اچھی ہوتی تو پاکستان 25 آئی ایم ایف پروگرام لے چکا ہے. ورلڈ
22:37ریکورڈ ہے. تو پاکستان کی تو معیشت سب سے آگے ہونی چاہیی تھی. ابھی میں نے
22:40کہا ہماری سب سے پیچھے ہو گئی ہے. ورلڈ بینک کے اسٹیمنٹ کے
22:44ساب سے افغانستان زیادہ پہتر گروہ کرے گا اس سن. مطلب اس سے
22:48زیادہ کیا کہنا چاہیے شرمناک بات ہو سکتی ہے. انویسمنٹ آپ کی آنی
22:52رہی ہے. فورن ڈیریکٹ انویسمنٹ آپ کی آنے رہی ہے. ایکسپورٹس آپ کی
22:56ساڑھے تین سال کے مقابلے میں ڈاؤن ہیں. گروہ تھا آپ کی تین سال کی
22:59worst ever in پاکستان ایسٹری. کونسی چیز اچھی ہے. پاکستان کے
23:03عوام کے پوچھے نا. ایمپلائیمنٹ ملی ہے. محمد ایوپ صاحب کونسی
23:08چیز اچھی ہے. حسن ایوپ صاحب بریک کے بعد آپ سے کچھ سوالات
23:12کرنا چاہ رہے ہیں. کچھ سن فگر آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہ رہے ہیں.
23:14ناظرین ایک چھوڑی سی بریک اور یہ ایک بڑی دلچسپ گفتگو سوالوں جو
23:18آپ کا سلسہ جاری ہے. ہمارے ساتھ رہی ہے.
23:19محمد زبیر صاحب کا ایک تو یہ کہنا ہے کہ کوشش وہ ضرور
23:27کر رہے ہیں. تحریکی تحفظے آئین پاکستان کے پلات فارم سے
23:31ایک حکومت کو انگیج کیا جائے لیکن وہاں سے کوئی مصبت جواب کیوں
23:34نے کوئی امید نہیں ہے. ساتھ میں پاکستان کی مشہد کے اوپر ان کی
23:38رائے یہ ہے کہ سٹاک ایکسینج کے اندر یہ جو بڑاوت ہے پاکستان کے
23:42فورن ایکسینج ریزرز جو بہتر ہیں پاکستان کے روپے کی جی
23:44اور سٹیبلیٹی ہے. اس کا اثر عام لوگوں کی جو قوتیں خرید ہے اس
23:49کے اوپر کوئی مصبت نہیں پڑھ رہا. لوگوں کے جو حالات ہیں وہ خراب
23:52سے خرابتر ہوتے جا رہے ہیں. حسن اس کے اوپر کوئی کومنٹ کرنا
23:55چاہ رہے ہیں. حسن پلیز گو ہے. میں تو محمد زبیر صاحب کو
23:58کہنا چاہ رہا ہوں کہ یہ کہتے ہیں کہ سب سے مقبول لیڈر ہے. وہ کتنا
24:03مقبول ہے کہ اس کو سترہ سال کی سزا ہوئی تو ملک کے جو ہے کسی
24:06حصے میں کوئی ایسا محصر اتجاج نہیں ہو سکا. نہ نظام زندگی جو
24:10ہے وہ مفلوج ہو سکی. کسی ایک شہر کو چوک کر کے دکھا نہیں
24:13سکے. مقبول اتنا ہے کہ جناب وہ عوامی لیڈر ہے عوام کے دلوں میں
24:18بستا ہے. جناب وہ اڈیالہ جیل کے اندر ہی موجود ہیں اور اڈیالہ
24:21جیل کے باہر بھی اتجاج خاص نہیں ہو سکا. جب ان کو سسائی سنائیں
24:24گی. تو یہ لفاظی بیانیاں تو ایک حد تک بندہ مان سکتا ہے لیکن عملی
24:29طور کی اوپر ہم نے دیکھا ہے کہ کوئی عوام عمران خان صاحب کے لیے
24:33باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے. اور یہ جو مذاکرات کی بات بھی
24:37کر رہے ہیں نا یہ باقی سوئلہ فردید وغیرہ. تو میں آپ کو بتا رہا
24:40ہوں کہ گھوڑا بھی حاضر ہے میدان بھی حاضر ہے. یہ اتجاج مضامت
24:44یہ تمام کی تمام چیزیں یہ کر کے دیکھ لیں. ان کے کہنے پر لوگ نہیں
24:49نکلیں گے. اور نہ ہی نکلنے کو تیار ہیں. نہ ہی لوگ باقی جو
24:53دیگر جماعتیں ہیں مائنس پاکستان تحریکی انتصاف وہ کو چار لوگوں
24:57کو نکال سکتے ہیں. وہ انفرادی حیثیت کے اندر ٹوکن کنٹریبیوٹ
25:01تو ضرور کر سکتے ہیں اس مضامتی تحریک کے اندر. لیکن عملی طور
25:04کے اوپر ان کے پلے کچھ بھی نہیں بچا. اور موجودہ صورتحال کے
25:08اندر آپ مجھے بتائیں محمد زبیر صاحب یہ سترہ سال کی سزائیں
25:12ہوئی ہیں. آپ لاہور کو دیکھ لیں. آپ پشاور کو دیکھ لیں. آپ جناب کراچی
25:17کو دیکھ لیں. آپ کو دیکھ لیں. آپ کا سوال آگیا. کہاں لوگ نکلے ہیں. کسی
25:23سے گلاس تک نہیں توڑ سکے. زلفقار عریب بھٹو کو جب پھانسی دی
25:27تھی. He was the most popular leader. Are you suggesting کہ جنرل زیا
25:30was more popular? لیکن دو ہزار لوگ نہیں نکلے تھے پورے پاکستان
25:33میں. اگر popularity کا یہ میار ہے کہ جی جب ایک ایسی فستائیت ہو اور
25:39اس میں لوگ نکلے نہیں. تو آپ نے کہا دیکھیں وہ تو نکلی نہیں
25:43ہے. جب نواز شیف کو سزائے ہوئی تھی. پہلے 2000 میں hijacking
25:48کیس میں. کتنے لوگ نکلے تھے. جب 2017 میں 15 کیس میں سزا ہوئی
25:52تھی. تو کتنے لوگ. یہ اگر میار ہے. دو ہزار کب وہ 18 میں واپس
25:57آئے تھے. جب جیل وہ اور مریم واپس آئی تھی اور وہ جیل گئے
26:00تھے. کتنے لوگ نکلے تھے. ہم روز جیل جاتے تھے. وہاں کتنے
26:04لوگ آئے ہوتے تھے. ایم این ایس کو اور ایم پی ایس کو کیا کیا
26:06ہے. زبیر صاحب یاد ہے ہمیں. سو سو بندہ تو لے کیا ہے کرو. محترم
26:09خیال صاحب کا جو بیان ہے کہ دیکھیں وہ بیمار ہو گئے. وہ بڑے سکت
26:14بیمار ہیں اور لاہور ان کے باہر روڑ کے اوپر کوئی بندہ ہی
26:16نہیں آ رہا. وہ اب کاشو بھائی صاحب کے ساتھ. خواجہ آسف نے
26:19گلا کیا تھا. ناظرین پاکستان کے اندر great people to fly with کا
26:25نعرہ تو آپ نے سنا ہوگا. یہ جب سے ہم نے ہوش سمالا ہے. ہماری
26:29ظاہر ہے. ہماری سے پہلے کا یہ نعرہ ہے. اور ہمیشہ پاکستان
26:33international airline پاکستان کا جو ہے ماتھے کا جومر پاکستان کی
26:37معیشت کے حوالے سے وہ آپ کو پتا ہے کہ پاکستان کی airline کو
26:41بتایا جاتا تھا. پوری دنیا کے اندر ایک flagship کے طور پر پیش
26:44کیا جاتا تھا. کامیاب ترین airline. اس کے بعد ظاہر ہے پاکستان
26:49کی international airline نے ایمررز کو سیٹ اپ کیا. باقی بھی میڈل
26:52کنٹریز کی ویریس ائرلائنز کو سیٹ اپ کیا. وقت کے بعد ظاہر ہے
26:56معاملہ چینج ہو گئے. پاکستان چینج نہیں ہوا. انٹریشنر
27:00ائرلائنز پوری دنیا کے اندر جتنے بھی ممالک ہیں وہ اب پرائیوٹ
27:04سیکٹر اس کو رن کرتا ہے. ایک کوشش دو ہزار پندرہ میں ہوئی تھی
27:08اور we are lucky enough. اس وقت جس کوشش کے پیچھے جو شخصیت تھی وہ
27:14محترم جو ہے محمد زبیر صاحب بحثیت پرائیوٹیزیشن کے
27:17ہیڈ. انہوں نے لیڈ کیا تھا. ان سے کچھ جانتے ہیں کہ وہ کوشش
27:22ناکام کیوں ہوئی اور اب یہ جو کوشش ہو رہی ہے. it's a good
27:26thing. میری نظر میں as soon as possible یہ کل ہو رہی ہے ساڑھے
27:30تین بجے. اس کو live ٹیلی کاؤس بھی کیا جائے گا اور آئی ہوپ
27:34کے جو مقاصد ہیں اس پرائیوٹ آئیز کرنے کے پاکستان
27:38انٹرنیشنر ائرلائنز کو وہ حاصل ہو جائیں گے. زبیر صاحب یہ کل
27:42ایک بڑا ایونٹ ہو رہا ہے. آج تمام اخبرات کے اندر اگر آپ نے
27:45دیکھا ہوگا ایک اشتہار شپا ہوا ہے. آہ عظمت کی اونچی اڑان
27:49یہ پرائیمسر شباہ شریف صاحب اس کے سامنے کھڑے ہیں. پی اے اے کا
27:53عالمی وقار بحال کرنے کے لیے عظیر اعظم محمد شباہ شریف کا
27:55تاریخ اقدام. پاکستان انٹرنیشنر ائرلائنز پی اے اے کی نجکاری
28:00great people to fly with آگے وہ نعرہ لکھا ہوا ہے اور نیچے وہ
28:02ظاہر ہے کل بتایا ہے کہ 23 دسمبر بروز منگل 2025 کو
28:08تین بج کر تیس منٹ کے اوپر یہ اس کو پرائیوڈائز کیا جائے
28:11گا اور باقی سارا طریقہ کا آج اخبرات کے اندر سارا
28:13ایکسپلین ہے. سو تھوڑا سا واقعہ بتائیے گا اور کل جو ہونے
28:18جا رہی ہے امید یہ کہتے ہیں. پہلے تو میں ایک دس سیکنڈ میں
28:24اتا دوں جو ریزروز ہیں نا فورن ایکچینج ریزروز کی
28:26حسن عیوب کی معلومات کے لیے. ساڑھے پندرہ بلین ہے
28:30سٹیٹ پینک کے. باقی تو کمیشل بینکس کے ہیں. اب ساڑھے
28:32بندرہ بلین میں ساڑھے بارہ بلین دوست موالک کے ہیں اور
28:35تین بلین ہے آئی ایم ایف کے. سو ہمارے دوست موالک
28:39زبیر صاحب ہمیشہ ہماری مدد کرتے رہے. ایک ڈالر بھی
28:42ایڈ کیے گے. اور بھی آ جائیں گے. سو لیٹس نوٹ گو انٹو
28:44جہاں تک دوہزار پندرہ میں جو پرائیوٹائزیشن کا تھا اس
28:49میں بہت اگریسیب لی میاں نواز شریف سب سے زیادہ پرو
28:52پرائیوٹائزیشن تھے اور ان کا مقصد تھا کہ پاکستان کی جو
28:56قومی ادارے ہیں خاص طور پر وہ جو کے لاؤسز میں ہیں اور پاکستان
29:01کے حوام کے اوپر اس کا بوجھ ہے تقریباً ون ٹریلین روپیز سے
29:05زیادہ کے لاؤسز ہوتے ہیں جو قومی یہ ادارے ہیں پی آئی اے سٹیل
29:09میں دوسرے جتنے بھی ہیں دسٹیبیشن کمپنیز تو ان کی رہنمائی میں ہم
29:14نے بہت فاس سپیڈ پر یہ کیا تھا دوہزار پندرہ اکٹوبر میں تین
29:18ہم نے سب سے آگے رکھے تھے ہم نے کیپٹل مارکٹ ٹرانزیکشنز
29:21کر لی تھی ایج پیل یو پیل اے پیل وائرہ کی اور دو تین اور اور
29:25اس سے ہم نے تقریباً ٹو بلین ڈالرز پاکستان کے ریزرز میں لے
29:29کے بھی آئے تھے لیکن جو اصل جو کہانی تھی جو پی آئی اے پاکستان
29:33سٹیل اور فیسکو ڈسٹیبیشن کمپنیز ناؤ ہیں اس میں سے پہلی فیسکو
29:37کرنی تھی تو وہ اکٹوبر دوہزار پندرہ میں سارے تینوں چیزیں فائنل
29:42سٹیج پر تھی جیسے آپ کہہ رہے ہیں نا کہ کل اناؤسمنٹ ہے اب آپ
29:46مجھے بتائیں کہ کل اگر اناؤسمنٹ ہو لفافے آ چکے ہوں بیڈز آ چکی
29:51ہوں اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے کہ جی ہم نہیں کرنے جا
29:55رہے اور یہ میں بالکل میں دس دفعہ یہ ٹی وی پر بھی کہہ
29:58چکے ہوں یہ پی آئی اے کا جو تھا فائنل سٹیج پر سارے آ اپوزیشن
30:03کے رہنما بھی اس وقت کے اپوزیشن پی ٹی آئے اور چھیک رشید اور
30:06دوسرے لوگ کا ساتھو میں نوید کمر بھی آ پیپلز پارٹی کے اپوزیشن
30:10کی نمائندگی کر رہے تھے عساق ڈار میں تھا اور دوسرے لوگ تھے عساق ڈار
30:15کو جب یہ کہا گیا کہ جی ہم نہیں سپورٹ کریں گے آپ کی پرائیوٹائزیشن
30:19کو آپ جو مرضی کر لیں he said okay then we will not پرائیوٹائز and
30:24I was shocked اور بعد میں وہ کہہ رہے تھے کہ اب میں اس کے بتے ان سے
30:27دس دوسرے کام لوں گا میں نے کہا دس دوسرے تو لے لیں گے لیکن خواہر
30:31بات یہ ہے کہ نو سال پہلے اگر وہ پرائیوٹائزیشن ہو جاتی تو
30:35چھے سو بلین کا جو ٹیکہ پاکستان کو نو سال میں لگا ہے جو پاکستان
30:39کے عوام نے بوجھ برداشت کیا وہ کس کے ذمہ ہیں اسی طرح سے پاکستان
30:43سٹیل مل فائنل فائنل میٹنگ ہو رہی ہے اسی طرح سے فیسکو کی
30:48ڈیٹ اناؤنس جیسے آپ کہہ رہے ہیں نا سرینہ میں ڈیٹ اناؤنس ہے
30:52پرسوں بٹس کھلیں گی اور اس وقت فیصلہ کیا گیا ہے پرائیوٹائز
30:57ہاؤس میں بٹوین خواجہ سے وہ ووٹر این پار کے منسٹر تھے اور
31:02عساق ڈار عساق ڈار صاحب کلیم کرتے کہ میرا وہ فیصلہ نہیں
31:05بہرحال جس کا بھی تھا حکومت وقت نے فیصلہ کیا تو میرا نواز شریف
31:09صاحب کے ساتھ آپ کے آپ کے رابطہ ساتھ آپ نے کیوں نہیں ان کو
31:12کنونس کیا اور میرا نواز شریف صاحب بالکل آپ کی بات صحیح ہے
31:16پروپ پرائیوٹائز تھے پرائیوٹائزیشن تھے وہ وائی دنڈ ہی پوٹ اس
31:20فوٹ ڈاؤن کے ہمیں آگے بڑھنا سارا کام ہو گیا ہے اس کے آپ کو
31:24پتہ لاکھوں ڈالر فیس آپ دیتے ہیں کنسلٹنس کو اس کے بعد سارا
31:27پروسس آگے لے کے جاتے ہیں
31:28دس ملین ڈالر دیئے تھے فائننشل ایڈوائزر کو دس ملین ڈالر
31:34دیئے تھے پی آئی اے کے لیے اس وقت پاکستان سٹیل کے لیے
31:38کوئی چھ سات ملین ڈالر دیئے تھے فیسکو کے لیے اسی طرح سے
31:41چھ سات ملین ڈالر وہ پرائیوٹائزیشن کے پاس سارا ریکوڈ ہے
31:44اس کے علاوہ چالیس دوسری کمپنیز تھیں جس کے فائننشل
31:47ایڈوائزز کام کر رہے تھے اور لاسٹ ایج پتے کو پچاس ساٹھ
31:50ستر ملین ڈالر ہم دے چکے تھے اور سارا پروسس اس وقت جا کے
31:54روکا گیا یہ ایک میرے اوپر نائب کا کیس بن سکتا تھا کہ بھائی
31:58آپ نے قومی خزانے سے پیسہ لٹا دی اس کے بعد آپ نے کیا کیا
32:02ہے بٹ میاں نواز شیف بالکل چاہتے تھے and i give him full
32:05credit but between میاں نواز شیف and عصاق دار عصاق دار نے ان کو
32:09کیسے کنونس کیا reverse کرنے کے لیے ایک تو سب سے بڑا
32:12political reason تھا کہ عمران خان کا ایک جو بھی ڈر خوف تھا
32:16کہ جی وہ street پر نکلے ہیں ان عمران خان was anti
32:19privatization وہ steel mil بھی جا رہے تھے پی آئی اے میں بھی
32:22ہٹال ہوئی تھی تو وہ پہنچے تھے تو بات یہ تھی کہ وہ
32:25difficult political decision جو تھا وہ پہلے دن لینا تھا
32:29rather than last moment پر جا کے آپ نے کیا اور اس کی وجہ سے جو
32:34قومی خزانے کو اس کے بعد سے پی آئی اے تو میں ایک example دے
32:37ہوں چھے سو billion ڈا روپے کی جو losses ہیں جو distribution
32:41companies کے losses ہیں وہ تو بتائیں two three four
32:43trillion rupees پچھلے ناؤ سال میں ہو چکے ہوں گے اسی طرح سے
32:46پاکستان steel mil ہے اسی طرح سے دوسری companies جو کہ ہم
32:50آخری moment میں تھے یا midway through تھے وہ ساری کی سارا
32:54process رکھا اس کے بعد جب عمران خان کی حکومت آئی تو
32:57unfortunately انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا privatization
33:00کے لیے یا تو آپ re-structure کر کے اس کو ٹھیک کرتے ہیں
33:02آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عمران خان صاحب نے اس دور کے
33:06اندر قومی مفاد پر اپنے سیاسی مفاد کو ترجیح دی
33:10نہیں میں یہ نہیں کہہ رہا میں یہ نہیں کہہ رہا بات سنیں
33:15پہلے حسن عجو کچھ political parties کا view ہوتا ہے
33:19pro privatization کچھ کا anti یہ یہ ویسی ہے کہ جی آپ نے
33:23trade کرنی ہے کتنی کرنی ہے اگر آپ نے جو anti privatization
33:28ہوتے اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے وہ قومی مفاد کی against ہے پوری
33:31دنیا میں ایسے ہی ہے امریکہ میں جرمنی میں فرانس میں ایک
33:34socialist party ہوتی ہے وہ anti privatization ہوتی ہے جو
33:38capitalist party ہوتی وہ pro privatization ہوتی ہے
33:40بلکہ وہ anti privatization ہے عمران خان اب یہ کہنا چاہتے ہیں
33:42آپ difference of opinion ہوتا ہے اب یہ کہہ رہے ہیں
33:44anti privatization ہے عمران خان جس this is what he said
33:47اس وقت تھے اب نہیں ہیں اب نہیں ہیں اس وقت تھے اس
33:50وقت تھے اس وقت تھے اس وقت تھے اس وقت تھے کیونکہ
33:53سیاسی فائدہ تھا اس طرف اس لیے وہ anti تھے بعد میں جب
33:58گورنمنٹ تھی تو وہ چاہ رہے تھے کہ ٹھیک ہے ملکی مفاد میں
34:01تو کر جاؤ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ قومی مفاد کی اوپر
34:04انہوں نے سیاسی مفاد کو ترجیح دی نہیں نہیں یہ قومی مفاد
34:08یہی بات ہے چلے آپ الفاظ اپنے گمالے نہیں نہیں پلیز اور بھائی
34:12انڈیا میں کانگریس پارٹی اور بی جے پی کا اس بات پر ایک سکنڈ حسن
34:17انڈیا میں for example بی جے پی اور کانگریس کا بالکل
34:21different point of view ہے اور economy میں ہمیشہ different point of view
34:25ہوتے ہیں ایک کہتا ہے کہ زیادہ ٹیکسز لگائیں ایک کہتا ہے
34:28کہ جی یہ جو جتنے لوگ ہیں بڑے امیر لوگ ہیں ان پر ٹیکسز
34:33کم کریں کہ قومی مفاد کہاں سے آ دے it's an economic policy وہ
34:36سمجھتے تھے کہ restructure کر کے improve کر سکتے ہیں ہم سمجھتے تھے
34:40کہ privatization کر کے is the only way forward
34:42that was the difference
34:43اس وقت میں نے
34:45بالکل یہ کہا ہے کہ ہمیں شدید اختلاف ہے یہ جو process
34:49بی آئی کا سارا ہوا ہے لیکن we will not make it an issue
34:53because میرے نزدیک چاہے وہ ایک رپے بھی آئے
34:56قومی خزانے کا جو loss ہے
34:59اس کو immediately
35:00بالکل محمد زبیر صاحب آپ کی رائے
35:01بالکل سامنے آگی یہ جو ناظرین حسن یوب صاحب جو بات کرے
35:05ظاہر ہم کی اپنی ایک رائے
35:06بہت سارے لوگوں کو اس بات کا علم ہے
35:09کہ 2015 کے اندر ابھی جو محمد زبیر صاحب نے بتایا نا
35:12کہ there was a possibility
35:14کیونکہ محمد زبیر صاحب اگر میں آپ سے جان پاؤں
35:17total کتنے million
35:19یا کتنے لاکھ ڈاکھ ڈالر آپ لوگوں نے
35:21consultants کو یا اس time اس process میں لگائے تھے
35:23جو total
35:25جس کا پھر eventually کوئی result نہیں نکلا تھا
35:27اور اس کے بعد پھر حکومت back foot پہ چلی گئی تھی
35:29بقول حضن یوب صاحب کے
35:31کیونکہ مران خان نے اتنا pressure ڈال دیا تھا
35:33کہ اس قومی مفاد کے اوپر
35:34اس وقت کی تگڑی حکومت کو back foot پہ جانا پڑ گیا تھا
35:37total کتنے پیسے لگائے
35:3860-70 million بتایا رہا ہے نا
35:40چالیس پاکستانی
35:43organizations تھیں جس پہ
35:45distribution companies اور یہ سارے
35:47banks اور جو naturalize
35:48ابھی بھی ہیں یا
35:50تھے
35:51پی آئی ایس ڈیل ملے
35:53چالیس organizations کے financial advisors
35:55appoint ہو کے commitment ہو چکی تھی
35:57کہ آپ اتنے جس طرح جو بڑی deals تھی
36:00total amount کتنی ڈالر
36:01یا بارہ ملے
36:03total میرا خیال ہے کہ
36:05پچاس ملین ڈالر سے تو زیادہ ہوں گے
36:06پچاس ملین ڈالر
36:08ناظرین ایک ایک
36:09محمد زبیر صاحب نے بڑی
36:11جو ہے خریب بات کیا ہے
36:13کہ پاکستان کے لیے بڑا زیادہ ہے
36:15کہ ہم نے یہ سفید ہاتھی پالے ہوئے ہیں
36:17ایک ٹریلین روپیہ
36:19ایک خرب جو ہے ہزار بلین روپیہ
36:22ہر سال یہ کھا جاتے ہیں
36:24اور اس کا یہ پیسہ میری جیپ سے
36:26چودگلام سیند صاحب کی جیپ سے
36:28حسن یوب کی ہے جیپ سے
36:29اور آپ لوگ کی جیپ سے یہ ٹیکس دیتے ہیں
36:31اس کی مدبے ان organization کو جاتا ہے
36:33تو کل ایک پیوزیشن ہونے جاری ہے پی آئی
36:36کہ ہم امید کرتے ہیں
36:37کہ اچھے بائرز مل جائیں
36:38اچھی بیٹز آ جائیں
36:39کیونکہ اس سے پہلے ایک کوشش ہوئی تھی
36:41اس میں تو بالکل ہی کوئی قیمت ہی
36:43کسی نے نہیں لگائی تھی
36:44اور کل اچھے کی امید رکھیں
36:46دعا کریں
36:46کہ یہ ایک اچھی شروعات ہو
36:48کیونکہ ان سفید ہاتھیوں سے
36:50ہمیں جان چھڑانی ہے
36:51پاکستان کی معیشہ دست قابل نہیں ہے
36:53کہ ان سفید ہاتھیوں کو پالتی رہے
36:55بریک کی طرف جائیں گے
36:57بریک کے بعد ناظرین
36:58آج لاہور ہائی کورٹ نے
36:59پنجاب حکومت کی ایک بڑی جو
37:03قانون سازی ہے
37:04اس کو اس کے اوپر سٹی آرڈر دے دی ہے
37:06اور یہ وہ قانون سازی ہے
37:08ظاہر ہے جس کو پنجاب حکومت
37:10بڑا ایک پرائیڈلی
37:11بڑے جو ہے
37:12فخری انداز سے پیش کر رہی تھی
37:14کہ اس سے جو پنجاب کے اندر
37:15جو زمینوں کے معاملات ہیں
37:17وہ بڑے جلدی حل ہو رہے تھے
37:18اب کیوں کر چیف جسس پنجاب جو ہیں
37:21ہائی کورٹ لاہور کی
37:22وہ کیوں اس کے خلاف ہیں
37:23ان کے جو رمارکس ہیں
37:24کافی انٹرسٹنگ ہیں
37:25ایک فل کورٹ بینچ بیٹھے گا
37:27اس کے اوپر
37:28فل کورٹ نہیں
37:28فل جو ہے لاجر بینچ بیٹھے گا
37:30اور کیا کچھ ہوا
37:31لاہور کے اندر اس کے اوپر
37:32تفسیر سے بات کرتے ہیں
37:33آفر دوپرے
37:34ناظرین اس سال اکتوبر میں
37:40ایک آرڈینس پنجاب حکومت کی طرف سے
37:42ایشو کیا گیا تھا
37:42اس آرڈیننس کا نام تھا
37:44پنجاب پروپرٹی آرنرشپ آرڈیننس
37:45اس کے اوپر عمل درامت سے
37:48آج چیف جسس صاحبہ
37:50جو ہے نیلم
37:51لاہور ہائی کورٹ
37:52انہوں نے
37:53جو ہے عمل درامت روک دیا ہے
37:55وجہ کیا بنی
37:55وہ آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں
37:57لاہور ہائی کورٹ کی
37:58چیف جسس آلیہ نیلم نے
38:00پنجاب پروپرٹی آرنرشپ
38:01آرڈیننس کے خلاف
38:02آبدہ پروین اور دیگر کی
38:03درخواستوں پر
38:04آج سمات کی
38:05حکومت کو بتائیے
38:07یہ قانون رہا تو جاتی
38:09عمرہ جو ہے
38:10وہ بھی آدھے گھنٹے میں
38:11نکل جائے گا
38:11جیسس آلیہ نیلم صاحبہ
38:13کے ریمارکس
38:14اور یہ ایڈریس
38:15کر رہی تھی
38:16وہاں پہ موجود
38:17چیف سیکرٹی جو تھے
38:18ان کو ایڈریس کر رہی تھی
38:19چیف سیکرٹی صاحب
38:20لگتا ہے آپ نے
38:21یہ قانون نہیں پڑا
38:22سوال کیا انہوں نے
38:23یہ قانون
38:24بنا ہی کیوں
38:25اس کا مقصد کیا ہے
38:26چیف جسس صاحبہ
38:27کا سوال
38:28معاملہ سیول کورٹ
38:29میں زیر سماعت ہو
38:31تو ریونیو آفسر
38:32کیسے قبضہ
38:32دلا سکتا ہے
38:33چیف جس صاحبہ
38:34آپ نے
38:35سیول سیٹ اپ
38:35اور سیول رائٹس
38:37عدالتی سپرمیسی
38:38کو ختم کر دیا ہے
38:39کیا جہاں
38:40جیلی ریجسٹریاں
38:41جیلی دستابیزات
38:42نہیں بنتی
38:42چیف جس صاحبہ
38:43آپ کا بس جالتا
38:45تو آئین کو بھی
38:45موتل کر دیتے
38:47یہ بڑے سخت ریمارکس
38:48جو وہاں پہ
38:49چیف جس صاحبہ
38:49نہ دیئے
38:50آپ یہاں کھڑے ہیں
38:51اور آپ کا گھر
38:51جا رہا ہوگا
38:52یہ سوال کیا انہوں نے
38:53اگر ڈی سی
38:54گھر کا قبضہ
38:55کسی اور کو دے دے
38:56تو آپ کے پاس
38:57اپیل کا کوئی
38:58حق نہیں ہوگا
38:59چیز صاحبہ
39:00آپ کا قانون
39:01یہ کہتا ہے
39:02کہ ہائی کورٹ
39:02معاملے پر
39:03سٹے بھی نہیں کر سکتا
39:05قانون کے مطابق
39:06جس نے شکایت کر دی
39:07وہی درخواست گزار ہوگا
39:09لگتا ہے
39:10کچھ لوگوں کی خواہش ہے
39:11کہ انہیں تمام اختیارات
39:12دے دیے جائیں
39:21فل بینچ
39:21بنانے کی سفارش کر دی
39:23ناظرین آپ کی سمجھ کے لیے
39:25یہ جو آرڈنس آیا تھا
39:26اس کے مطابق
39:27جو ڈیپٹی کمیشنرز
39:28اور اسیسن کمیشنرز کو
39:30یہ اختیارات دے دیا گیا تھا
39:31کہ وہ کمیٹی کی سطح کے اوپر
39:33یہ جو پراپورٹیز کے معاملات ہیں
39:35اس کے اوپر کو فیصلہ کر سکتے ہیں
39:36اور اس کے اوپر
39:38سٹے آرڈر
39:38جو لوکل عدالتیں ہیں
39:40یہ ہائی کورٹس ہیں
39:41وہ نہیں دے سکتی
39:42بقول یہ جو ہمارے سامنے
39:43اطلاعات آئی ہیں
39:44چوہ صاحب آپ کو علم ہے
39:45اس
39:46چونکہ لاہور کے اندر موجود ہیں
39:48پنجاب میں
39:48اس قانون کو لے کے
39:49کافی زیادہ بیعت شڑی ہوئی تھی
39:51کہ بظاہر ہے
39:52اگر حسن یوب کا
39:54یا خاور گنن کا تعلق
39:55ڈی سی کے ساتھ اچھا ہے
39:56اور میں ان سے کوئی کام کروانا چاہتا ہوں
39:58تو وہ
39:59پھر عدالتیں سائیڈ پہ
40:00اور جس طرح
40:01چیف جس صاحب فرما رہی ہیں
40:02چیز صاحب
40:04نہیں بعض اقدامات کے
40:07فوری
40:08اثرات اچھے بھی ہو سکتے ہیں
40:10لیکن
40:10اسلام جو ہے
40:11جس کے ہم مانتے ہیں
40:13وہ یہ
40:15کوئی بھی طریقہ
40:17ہوا کار ہو
40:18جو
40:18سوشلس ڈاکٹرین ہے نا
40:19means are justified
40:21by the end
40:21you achieve
40:22اسلام
40:23جائز ذرائع
40:26کی پہلی پکی شرط رکھتا ہے
40:28یہ نہیں کہ میں
40:28آپ کے
40:29پیسے لوٹ کے
40:30تو غریبوں
40:31کا خراد کر دوں
40:33تو
40:34it doesn't work
40:35with our
40:36Islamic values
40:38and principles
40:39تو یہ تو
40:40بالکل غلط کر رہے ہیں
40:41کبھی اس طرف جاتے ہیں
40:42کبھی اس طرف جاتے ہیں
40:44تو یہ
40:44عدالت نے اگر کچھ کری دیا ہے
40:46تو let's see
40:47ان کے نزدیک کیا ہے
40:48لیکن خواہر میں
40:49اس پر کمنٹ
40:50ضرور کرنا چاہوں گا
40:51یہ جو
40:51بلیز
40:51بتائیے گا
40:52یہ جو
40:52دہور ہائی
40:52دیکھیں
40:55ایک
40:55رحسن ایوب
40:56پیشت
40:57میرے بات سے
40:58اتفاق کریں گے
40:59دیکھیں مریم نواز
41:02کا ایک چیز
41:03جو ہمیں
41:03accept کرنی چاہیے
41:04کہ وہ
41:05ان چیزوں میں
41:06initiative لے لیے ہیں
41:07سب سے پہلے چیز
41:08تو ہوتی ہے
41:08کہ ہمارے
41:09مرانوں کو
41:10پتہ بھی ہے
41:10کہ لوگوں کے
41:11مسائل کیا ہیں
41:11سو اگر صفائی کے
41:13حوالے سے
41:13یا آپ
41:14دوسرے
41:15traffic کے حوالے سے
41:16یا یہ جو
41:17initiative تھا
41:17اس میں بہت
41:19serious
41:19group holes ہیں
41:20legally
41:20اور نہیں کیا جا سکتا
41:22قانون
41:23جس طرح سے پاس
41:23جس طرح سے
41:24چاہ رہے تھے
41:25لیکن یہ بھی
41:26ایک حقیقت ہے
41:27کہ عوام
41:28رول گئی ہے
41:29ہمارا جو
41:30existing judicial
41:31system ہے
41:32اس میں اگر
41:32میرے گھر پر
41:33کوئی قبضہ کر لے
41:34تو میرے واپس لینا
41:35اگلے پندرہ سال
41:36بیس سال
41:36ناممکن ہے
41:37سو ایک تو
41:39سب سے
41:39چیز جو
41:40appreciate کرنے چاہیے
41:41کہ جی
41:42at least انہوں نے
41:43ایک قدم اٹھایا ہے
41:44اور ایک recognize
41:45کیا ہے کہ عوام
41:46کے problems ہیں
41:47کیا society کے problems
41:48کیا ہیں
41:48اب اس کو
41:49کس طرح سے
41:49اس کو fine tune
41:51کیا جا سکتا ہے
41:51کہ یہ تو
41:52سب چاہتے ہیں
41:52کہ جلد انصاف ہو
41:54اور لوگ
41:55سمجھیں یہ
41:56کہ ہمارے
41:56judicial system
41:57میں لوگوں کا
41:58faith ہو
41:58کہ جی
41:59وہ اگر
42:00میرے ساتھ
42:01زیادتی ہوئی ہے
42:01تو میں جا کے
42:02لیکن ایسا بھی
42:03قانون نہیں
42:03بننا چاہیے
42:04کہ جی
42:04میں اگر
42:05دو نمبری
42:05کرنا چاہ رہا ہوں
42:07جو اس قانون کے
42:08تحرم
42:08بلکل آپ کی رائے
42:09سامنے آگئے
42:09کوئی comment
42:10یہ اینیشیٹر تو
42:13اچھا تھا
42:14لیکن ظاہر
42:14اس کی نوک پلک
42:15اور چیف جی صاحب
42:16بنا ہے
42:16اس کے اوپر
42:17فل بینچ
42:17دیکھیں
42:18مجھے
42:18چیف سیکرٹری صاحب
42:19نے پہلے
42:19بتا دیا تھا
42:20کہ اس کا
42:20کیا ہوگا
42:21ایک شادی میں
42:22ملکات ہوئی تھی
42:23جو زائد اختر
42:24زمان صاحب
42:24ہے چیف سیکرٹری
42:25پنجاب
42:25تو انہوں نے
42:26بتا دیا تھا
42:26کہ جی
42:27علیہ نیلم صاحب
42:27جو ہیں
42:28وہ اس سے
42:28اتفاق نہیں
42:29کر رہی
42:29لیکن میں نے
42:30ان کو یہ کہا
42:31تھا کہ
42:31جو اگر کوئی
42:33مناسب
42:34یعنی
42:34تبدیلی کی جا
42:35سکتی ہے
42:36تو کریں
42:36یہ بڑی لوگوں
42:37کی دعائیں
42:38مل رہی ہیں
42:38لوگوں کے
42:39یہاں پر
42:40یہاں پر چیزی ہے
42:41کہ
42:41گیارہ لاکھ روپے
42:42زمین کی قیمت ہے
42:43اور قبضہ پتا
42:44کتنے کا بکھ رہا ہے
42:44پنجاب کے اندر
42:45ساڑھ لاکھ روپے کا قبضہ
42:47گیارہ لاکھ روپے
42:48زمین کی قیمت ہے
42:49اور شیپ کی
42:49ساڑھ لاکھ روپے
42:50قبضہ کی قیمت ہے
42:50یہ چیزیں چل رہی ہیں
42:52ناظرین
42:53آئی ہوپ
42:53آپ کو ہمارا
42:55پروگرم پسند ہوگا
42:55انشاءاللہ
42:56اللہ آپ سے دوبارہ
42:56ملاقات ہوگی
42:57زبیر صاحب بہت شکریہ
42:58وقت دینے کے لئے
42:58اللہ حافظ
Comments