Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
New bill suggested on Child marriage in the sindh provincial assembly

Category

🗞
News
Transcript
00:00موسیقی
00:30موسیقی
01:00موسیقی
01:30موسیقی
02:00اگر انٹینشنلی
02:01بدنیتی پہ
02:02مبلونی طور پر
02:03بچوں کا نکاح کرواتے ہیں
02:05تو ان کو
02:06تین سے پانچ سال تک
02:07قیم اور
02:08دس سال تک
02:09جرمانہ
02:09دونوں سزائیں دی جا سکتی
02:11کیا وجہمات ہیں
02:12کہ ایسے قوانین
02:14میرے خیال میں
02:15ہمیں انہوں نے
02:15سپورٹ کرنا چاہیے
02:16کہ وہ قانون کا
02:17درجہ حاصل کریں
02:18اور ان پر سختی سے
02:19مذرامت بھی ہو
02:20اس لیے
02:21کہ ہم اقصر
02:22اپنے معاشرے میں
02:23والدین کے حقوق
02:30بچے کے بھی بہت سارے حقوق ہیں کیا ہم بچوں کے حقوق پر اتنی بات کرتے ہیں بچوں کے حقوق پر بات ہوگی بچوں کو اپنے حقوق ملیں گے تو وہ اچھے والدین بھی بنیں گے اور پھر ان کے بچے بھی ان کے حقوق کا خیال رکھیں گے یہ ایک پوری چین ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے بچے کے کیا حقوق ہیں بچے کا حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے
02:50اکیقہ کیا جائے اس کا خیال رکھا جائے کھانے پینے میں اس کی صحت کا خیال رکھا جائے اس کا علاج معالجہ کیا جائے تن دھاپنے کے لیے کپڑے فرام کیے جائیں پھر جب وہ تھوڑا سا بڑا ہو تو اس کی دینی دنیاوی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ ایک فعال اور اچھا شہری بن کر معاشرے کے اندر آئے اور اس کے علاوہ اس کو کوئی ہنر یا ملازمت کے مواقع فرام کیے جائیں
03:17اور اس کو کچھ سے کھایا جائے یا اس کی اس میں مدد کی جائے ہر طرح سے اور اسی طرح سے پڑھائی میں بھی جہاں تک وہ پڑھنا چاہتا ہے یا جو بھی سہولتیں اس کو جس حد تک بھی ملنی چاہیے والدین کو اس میں اس پساب دینا چاہیے اور گرمنٹ کو بھی چاہیے کہ اس میں مدد کریں ہر طبقے کی
03:35اب صورتحال کیا پیش آ رہی ہے میرے خیال میں بڑی بدترین صورتحال ہے ہمارے معاشرے کی وہ اس میں اتنی ڈیٹیل میں شہر جانا ضروری نہیں ہے آپ سب اپنے دگر دیکھ رہے ہیں کہ کیا نفسہ نفسی کا عالم ہے
03:48قوت برداشت میں کمی ہو چکی ہے غصہ بہت زیادہ لوگوں کو آ رہا ہے لوگ رشتے نہیں نبھا پا رہے ہیں لوگ ایک دوسرے کو جلدی چھوڑ رہے ہیں کسی رشتے میں پیشنس اور سبر نظر نہیں آ رہا ہے اور مالی مشکلات کا بھی لوگ شکار ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے خطرات بہت سے کچھ ذاتی مسائل ہیں کچھ ملکی مسائل ہیں کچھ معاشرتی مسائل ہیں کچھ معاشرے مسائل ہیں
04:12تو ان شورٹ یہ کہ سائنس نے بھی پروف کیا ہے کہ جو پیوبرٹی کی ایج ہے جو نو آٹھ نو سال سے لے کے جودہ پندرہ سال سولہ سترہ سال تک چلتی ہے جو ہر انسان میں ذاتی طور پر فرق ہوتی ہے
04:25اس میں کسی انسان کے اوپر اتنا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہے جو وہ شاید مرد ہو یا عورت وہ اٹھانے کے قابل نہیں ہے
04:33اچھا ایک بات میں آپ لوگوں سے ریکویسٹ کرنا چاہتی ہوں کہ ہر وقت یہ مرد عورت مرد عورت کی جنگ نہ کرے
04:40مرد اور عورت دونوں کو کچھ باتوں سے تکلیف ہوتی ہے کچھ باتوں سے ان کا رقصان ہوتا ہے کچھ باتوں میں ان میں مسائل پیدا ہوتے ہیں
04:49دونوں ہی کہیں مسائل کا شکار ہیں کہیں پر غلطی کا شکار ہیں اور کہیں صحیح ہیں
04:54تو اس لیے اس کارڈ کو زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے
04:58اس کے اندر آپ دیکھیں کہ پیوبرٹی کی ایج میں جہاں تک میں نے اوبزورف کیا ہے اپنے اردگیرد اپنے پیشے میں اور بچوں کو میں اسی عمر کے بچوں کو پڑھاتی بھی ہوں
05:08اور چھبیس سال کا میرا ایکسپیرینس ہے تو جو پیوبرٹی ہٹ کرتی ہے تو لڑکیوں میں اور لڑکوں میں ہر ایک مزاتی طور پر مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں
05:18وہ کیا ہوتے ہیں کوئی بہت سست ہو جاتا ہے
05:20کوئی سونا چاہتا ہے بہت لمبے لمبے عرصے تک
05:24کوئی شائع ہو جاتا ہے جب جوانی نئی نئی اس کے اوپر آتی ہے تو وہ شائع ہو جاتا ہے
05:29وہ انڈویجولی بیٹھنا چاہتا ہے وہ لوگوں کو فیس نہیں کرنا چاہتا ہے
05:33وہ اپنی جسمانی ساخت کے تبدیل ہونے پر اپنی آواز کے تبدیل ہونے پر
05:39اپنے دوسرے مسائل کو شیئر نہیں کرنا چاہتا ہے
05:42اس کو اس وقت کچھ مورل کچھ ایتھیکل کچھ ایموشنل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے
05:49یہی حال لڑکوں کا بھی ہے اور یہی حال لڑکیوں کا بھی ہے
05:52کوئی غصہ بہت زیادہ کرنے لگتا ہے
05:54کوئی ایریٹیٹ ہو جاتا ہے دوسروں کی نصیحتوں سے
05:57کوئی پڑھنے بہت زیادہ لگ جاتا ہے
05:58کوئی پڑھائی کو چھوڑ لیتا ہے
06:00کوئی کھیلنے لگ جاتا ہے
06:02کوئی کھیلنا نہیں چاہتا ہے
06:03کوئی والدین کی باتوں سے ایریٹیٹ ہوتا ہے
06:05کوئی والدین کے بات کلوز ہو جاتا ہے
06:07تو یہ سب مختلف صورتحال ہیں
06:09انسان ہے
06:10اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک مختلف طرح پر پیدا کیا
06:13تو اس کو ہینڈل کرنا والدین کی ذمہ داری ہے
06:17ان کو اسیس کرنا چاہیے
06:18کہ میرے بچے کو اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے
06:21پیوبرٹی ہٹ کرے
06:28وہ انٹرو ورڈ ہو رہا ہے
06:31یا پھر وہ زیادہ ایکسٹرو ورڈ ہو رہا ہے
06:33وہ کہیں پہ پناہ ڈون رہا ہے
06:35وہ غلط کاموں میں انڈلج ہو گیا ہے
06:37یا تنہائی کا شکار ہو گیا ہے
06:39غم و غصے کی حالت میں ہے
06:41اور یا اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے
06:43اتنے سارے مسائل جو وہ فیس کر رہا ہے
06:46اور اگر ہم اس وقت اس کے اوپر شادی کی ذمہ داری ڈال دیں
06:49جو کہ افسوس کی بات ہے
06:51افسوسناک بات ہے
06:52کہ کئی لوگ اس مسائل کا حل سمجھتے ہیں شادی
06:55تو دو ایسے لوگ جو پیوبرٹی کو ہٹ کر رہے ہیں
06:58اور دونوں اس قسم کے مسائل کا شکار ہیں
07:00کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ شادی کی اتنی بڑی ذمہ داری کو نبھا سکتے ہیں
07:05میرے خیال میں نہیں
07:07شادی ایک ذمہ داری کا نام ہے
07:09سوشل بھی
07:10فائنینشل بھی
07:11ایموشنل بھی
07:13سائکلوجیکل بھی
07:14تو اس کے لیے ضروری ہے
07:16کہ تھوڑی سی سوچ مچیور ہو
07:17آپ کے منٹل کنڈیشن بہتر ہو
07:20آپ پرابلم سالونگ سکلز میں آ سکتے ہو
07:22آپ بڑوں کو ڈیل کر سکتے ہو
07:24آپ چھوٹوں کو ڈیل کر سکتے ہو
07:26آپ کو مرد و عورت کی نفسیاتی مسائل کا کچھ نہ کچھ حد تک اندازہ ہو رہا ہو
07:30آپ کے ساتھ کوئی سپورٹ سسٹم ہو
07:33تو تب ہی یہ ہو سکتا ہے
07:34تو اس کے لیے ہمیں سب کو مل کر سوچنا چاہئے
07:38تاکہ جب ہم اپنے بچوں کی شادیاں کریں
07:40تو بحیثیت خاندان
07:42ہم ان شادیوں کو انجوئے کر سکے
07:44اس میں خوشی
07:45خوشی کا انصر شامل ہو
07:47اور ہمارے لیے وہ وقت ایک بہت خوشی کا وقت ہو
07:50اور اس کے بعد ہمیں ہر وقت یہ پہ کرنا ہو
07:52کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے
07:54تو وہ ناراض ہوں کی آگئی ہے
07:56چار بچوں سمیت آگئی ہے
07:57لڑکا ہے تو وہ ایریٹیٹڈ ہے
07:59اس نے نوکری چھوڑ دی ہے
08:00وہ کاروبار نہیں کر رہا ہے
08:02والدین ہے تو وہ جھگڑ رہے ہیں
08:04اور پتہ نہیں کیا کیا مسائل جو ہیں
08:06وہ پیدا ہو رہے ہیں
08:07تو معاشرے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے
08:09آپ سب بھی اس بارے پہ سوچیں
Be the first to comment
Add your comment

Recommended