- 4 months ago
Category
😹
FunTranscript
00:00سب کچھ چلا گیا
00:12اب رو کیوں رہی ہے کیا ہوا ہے
00:15بیٹا بیٹا تمہاری دادی کا سارا زیور چوری ہو گیا
00:20کیا
00:22اور عمر صاحب
00:24میں اپنی بیٹی کو خود یہاں سے لے کے جاؤں گا
00:28میرا تو یہی گھر ہے نا اور میں یہی رہوں گی
00:34ابریش
00:42اپنی جلدی کیوں آ گئی ہو
00:45تم تو نازو کی طرف گئی تھی
00:47نہیں
00:48وہ مجھے ملی نہیں
00:50آ گئی ہو واپس
00:52نظر نہیں آ رہا آپ کو
00:53او بھائی مجھ پہ کیوں گصہ کر رہی ہو
00:55لڑکا رہی ہو نازو سے
00:58جیسا میں سوچ رہی ہوں
01:06کیا بابا بھی وہی سوچ رہے ہیں
01:11دیکھو مجھے
01:17مجھے یہ سب چیزیں
01:19اچھی نہیں لگتی ہیں
01:21جانتا ہوں جانتا ہوں
01:23ارے انکل
01:25عصت پچائیں اپنی
01:27بڑے بھائیہ تو آپ کو اسی طرح ہر دوسرے دن کال کر کے یہاں بلا لیں گے
01:31بڑے کو یہیں چھوڑ کے جا رہے ہیں
01:36اگر کوئی پیسوں کا معاملہ ہے مجھ سے لے لیں
01:38میں دے دیتی ہوں پیسے
01:41کیسے باب ہیں آپ
01:43اللہ تمہیں معاف کریں
01:51جس کی اتنی پیار کرنے والی اور دعائیں دینے والی بہن ہو
01:55اسے کوئی کیسے نقصان پہ شاہ سے
02:01جی اسلام علیکم
02:02ہیلو اسلام علیکم
02:03بھائی جس نمبر سے آپ کو کال آ رہی ہیں یہ آپ کی کیا لگتے ہیں
02:06بیٹا ہوں میں ان کا
02:08لیکن آپ ان کے نمبر سے مجھے کال کیوں کر رہے ہیں
02:10ابو کھا ہے
02:11بھائی آپ کی ابو روڈ پہ گر کے بے ہوش ہو گئے ہیں
02:14پرمیشن ضروری ہے
02:15جی ڈاکٹر
02:16ہم نے ان کے بیٹے کا انفارم کر دیا
02:18وہ آتے ہی ہوں گئے
02:19چیک
02:24انہیں میجر ہارٹ اٹیک ہوا ہے
02:28مطلب ہے آپ کے باقی لوگوں کو ہم بتا دیتے تو
02:31آپ کے ساتھ
02:34ہو چکی دم کیا
02:35آپ پہلے چیتنے ہمد دکھا چکی ہے نا
02:41اس کی سزا بھی پوری نہیں ہوئی
02:53ہیلو
02:54ہیلو مریم
02:55پریویز بھائی
02:57آپ
02:58اب ابو کسے
03:00مریم
03:02ابو
03:03بچ
03:04ابو
03:06کہو بیٹا کیا کہنا ہے
03:10ابو کو ہارٹ اٹیک آیا
03:12ہاں میں بنا دوں گی
03:14میں اسی پہ خوش ہوں کہ میری بیٹی کو کام کی چیز کھائے
03:18اوہ
03:28مرمہ
03:30مرمہ
03:31مرمہ
03:32مگر اس طرح مطمئن ہو کے بھی تو نا بیٹھ ہے نا
03:36میں کے جاننے کی بات اور کھولا لینے کی
03:39بیگم صاحبہ آپ جانتی ہیں کہ میں کتنے سالوں سے اس گھر میں کام کر رہی ہوں
03:46لیکن میں کچھ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی
03:50سندز بھی اپنے کسی قزن کو پسند کرتی ہے
03:54دبریس کے اس لیت لانے ہوگی
03:55دبریس
03:58گیٹ ریڈی
04:00تمہیں اب ارسل سے ملا ہوگا
04:04پسند آئے تھے تو میں نے لے لیے
04:06سندز کو بہت پسند آئے
04:09اسلام علیکم پیارے ویورز
04:11تو یہ اپیسوڈ بہت انٹرسٹنگ ہے
04:13کیونکہ اس میں جو ہے
04:14تبریس جو ہے شک کرتا ہے سندز پہ
04:16کہ وہ کسی اور کے ساتھ
04:17اور وہاں ارسل جو سندز کو پسند کرتا ہے
04:20وہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے
04:21جب تبریس نے زور سے سندز کو پکڑا ہوتا ہے
04:25تو ارسل کہتا ہے کہ تم اس کو چھوڑے
04:26تم کیوں کون ہوتے ہو
04:30اور جب سندز کا سامنا تبریس سے ہوتا ہے
04:33تو سندز جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
04:35تبریس کے موہ پہ
04:36اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
04:38اور احران ہو جاتے ہیں
04:40کہ سندز نے یہ کیا کر دیا
04:41ابرش گھر واپس جاتی ہے
04:43تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
04:45اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
04:47تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
04:49تو ابرش آگے سے کہتی ہے
04:50نازو بیزی تھی
04:54مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
04:55اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے
04:56اس وجہ سے
04:57نازو سے بعد میں ملنا
04:58ہم آپ کو کول کر دیں گے
05:00تو تم ملنے
05:01تو روحان ہران ہو جاتا
05:03کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم
05:04پھر وہ کہتا ہے
05:05کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں
05:06ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
05:08کیونکہ
05:09ابرش کہہ رہی تھی
05:10کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے
05:11نظام کیسا ہے
05:12کہ وہ اس طرح کوئی مہمان
05:13ان کے گھر گیا
05:14اور انہوں نے اسے ملنے سے
05:16بغیر ہی بھیج دیا
05:17تو وہ کہتا ہے
05:17کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے
05:19کوئی بات نہیں
05:19کبھی کبھی انسان کو
05:21صبر کر لینا چاہیے
05:22اس کے بعد جو ہے
05:23سندس جو ہے
05:25کچن میں ہوتی ہے
05:25تو تبریز آتا ہے
05:26اور اس کے بعد کہتا ہے
05:27کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
05:28ادھر ادھر ادھر دونڈ رہے ہیں
05:29وہ ادھر ہیں
05:31تو سندس آگے سے کہتی ہے
05:32کہ آپ پہلے نا
05:34اپنی اردو ٹھیک کل ہو
05:35تو وہ کہتا ہے
05:36کہ آپ کا جو مرضی کو
05:37آپ کا مگیتر تو میں ہی ہوں
05:39آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی
05:40آخر کا لاش پہ آنا
05:42تو میرے پاس ہی ہے
05:43پھر اس کے بعد جو ہے
05:44نازو
05:44نازو جو ہے
05:46وہ
05:47مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
05:49اور اس کو کہتی ہے
05:49کہ
05:50اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر
05:52کیوں جا رہے
05:52کیونکہ آپ کو پتا ہے
05:54مریم نے کہہ دیا
05:54کہ ابو یہ میرا گھر ہے
05:55میں اسی گھر میں رہوں گی
05:56نازو جو ہے
05:57وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
05:59وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
06:00اب دو دن کی
06:01جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
06:03اس کو آپ ابھی
06:04ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
06:04اتنی آپ میں گہرت ہے
06:06اتنی آپ میں ایگو ہے
06:07کہ آپ ابھی ادھر
06:08چھوڑ کے جا رہے ہیں
06:09تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
06:11جب گھر چلا جاتا ہے
06:12تو فٹوپات پہ جا رہا ہوتا ہے
06:13اور نازو کے یہی ساری باتیں
06:14سوچ رہا ہوتا ہے تو پریشان ہو کر
06:16فوتبات پہ گر جاتا ہے اور جب
06:18اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
06:20وہ اس کو اٹھاتے ہیں اگر اس کو
06:21نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز کو
06:23بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں آپ آجو ہوسپیٹر
06:26ہم اس کو ہوسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ ہوسپیٹر
06:28لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں
06:30کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک
06:32اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز
06:34جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گی اور
06:35اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میری اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے اببو کی آٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنا ہے تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اببو کو سہن تندرستی عطا فرمائے اس
07:05بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے بات ہے یعنی کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہین ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کر رہی ہے پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں کہ ب
07:35اس کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہا تھا پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول آتی ہے تو وہ ک
08:05ہمارے کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے اور اپنے بابوں کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتی ہم نے تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لیے لے آتا ہوں یہ وہ یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باگ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوت
08:35اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو اس نے دو آن صبح ہے تو کس طرح موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں تو اساق اس کو کہتا ہے سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو وہاں جا کر تو پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے میرے اببو کا کیا حال ہو کہ اساق کہتا ہے کہ ابھی تم چپ ہو جاؤ یہ ٹائم نہیں ہے یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سانس پہ جو جمیل اور شاز
09:05اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم چھپ رہو یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو پھر وہاں پہ تبریز آتا ہے وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے سندس کے ل
09:35تو تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آتا ہے کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے اور آپ کے لیے بھی میں لے کے آگئے اور وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے لے جاؤ
09:45شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤ تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لیے
09:48لے کے جاتا ہے پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہاں پہ ان کی
09:51آپس میں بیس ہو جاتی ہے اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس
09:55کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل جو ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ
09:58کتنا گھڑیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو سوشل اکاؤنٹس کی
10:04اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل جو ہے کہتا ہے
10:07سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے تو سندس جو ہے زور سے تپڑ
10:15مارتی ہے تبریز کے موہ پہ اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا
10:18پریشان اور احران ہو جاتے ہیں کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
10:21ابریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
10:25اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی ہو تم تو نازو کے ساتھ
10:28ملنے گئی تھی تو ابریش آگے سے کہتی ہے کہ نازو جو ہے وہ بیزی تھی
10:34مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے
10:36اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے
10:40تو تم ملنے تو روحان ہران ہو جاتا کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم
10:44پھر وہ کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے مسئلے
10:48مسائل ہوتے ہیں کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی کہ پتہ نہیں ان کے گھر
10:50کے نظام کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا اور انہوں
10:54نے اسے ملنے سے بغیر یہ بھی دیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے
10:58اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو
11:01صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو ہے سندس جو ہے کیچن میں ہوتی
11:05ہے تو تبریش آتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
11:08ہم ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں وہ ادھر ادھر ہیں تو سندس آگے سے
11:12کہتی ہے کہ آپ پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے کہ
11:16آپ کا جو مرضی کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی
11:19تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
11:23پھر اس کے بعد جو ہے نازو نازو جو ہے وہ مریم کے فادر کے پاس
11:29جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے
11:33کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا گھر ہے
11:35میں اسی گھر میں روں گی نازو جو ہے وہ مریم کا جینا حرام کرنا
11:39جاتی ہے وہ اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی
11:42بوکی ہے اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں اتنی آپ میں
11:45گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
11:50تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب گھر چلا جاتا ہے تو فوٹوپات
11:52پہ جارہا ہوتا ہے اور نازو کے یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
11:55تو پریشان ہو کر فوٹوپات پہ گر جاتا ہے اور جب اس کو وہاں پہ جو
11:59بلوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں اگر اس کو کول اس کے نمبر سے کول
12:02کرتے ہیں پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم آپ آجو ہوسپیٹل ہم اس
12:07کو ہوسپیٹل لے کے جا رہے ہیں وہ ہوسپیٹل لے کے جاتے ہیں وہاں جا
12:09کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوگا اس کی وجہ سے
12:13اس کی آرٹریز جو ہے وہ بلوک ہو گئے گے اور اس کا ہمیں سرجری کرنی
12:17پڑے گی اور تبریز پھر جب ہوسپیٹل پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری
12:21پر ویس جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے
12:24اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے اببو
12:27کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے
12:31سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا
12:34گو رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اببو کو سینطن درستی عطا فرمائے
12:38اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں
12:41پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے
12:44بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول
12:47کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئی
12:51آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں یعنی کہتے ہیں نازو
12:54تم میری بہت اچھی بہن ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئی
12:57آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی
13:01ہوں تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کر
13:11بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں اس کے
13:15بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل
13:18وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
13:21ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم
13:24چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
13:27پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے
13:30ساتھ لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
13:33مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول آتی ہے
13:36تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر
13:40ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ
13:44دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائک
13:47آ رہی ہوتی ہے اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے
13:49پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے
13:52میں تو آپ کو کہتی ہوں نے تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
13:55بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے
13:58ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لیے لے آتا ہوں
14:01یہ وہ یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باہ کر جاتی
14:04اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم
14:07تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک
14:10ہوئے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں مریم کی بات سن کر کہتا ہے
14:13چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا
14:17بابا کو اس نے دو آن صبح ہیں تو کس طرح موم ہو گئے اور اس کے
14:21ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے تو اسحاق اس کو کہتا ہے
14:23سباحت کو کہ تم گھر کا کہاں رکنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں
14:28پوچھتے ہیں تو وہاں جا کر پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو
14:30پریشانی کوئے جیسے میرے بابا کا کیا ہالو کے اسحاق کہتا ہے
14:33کہ اب بھی تم چپ ہو جاؤ یہ ٹائم نہیں ہے یہ بات کرنے کا
14:38معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسرے سائل پر جو جمیل اور شازی
14:42ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
14:44کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو
14:48نہیں سکتا وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی
14:53کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ تو
14:55بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم چھپ رہو انہی یہ
14:58ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیل پر بھی کام یہ کام نہیں کر سکتی
15:02کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں یہ ساری
15:05وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو پھر تو وہاں پہ تبریز آتا ہے وہ
15:09تبریز گفٹ لے کر آتا ہے سندس کے لیے اور اپنی آنٹی کے
15:12شازیہ بہت اران ہوتی کہتی ہے یہ کس چیز کے لیے گفٹ تو
15:15تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آئیتا ہے کہ سندس کو بہت
15:19پسند آئیں گے اور آپ کے لیے بھی میں لے کر آگیا اور پھر وہ
15:21کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہے وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے
15:25لے جاؤں شازیہ کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ تو پھر وہ سندس کو
15:27دکھانے کے لیے لے کر جاتا ہے پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہاں
15:30پہ ان کی حاپس میں بیس ہو جاتی ہے اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو
15:34سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے کہ یہ
15:39کتنا گھٹیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو سوشل اکاؤنٹس کی
15:44اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل جو ہے کہتا ہے
15:47کہ یہ تو بلکل بھی سندس کے لائک سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
15:54تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے موہ پہ اور اس
15:57وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان اور احران ہو جاتے ہیں کہ سندس
16:01نے یہ کیا کر دیا ابریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان دیکھ کے پر
16:05احران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی ہے تم
16:07تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی تو ابریش آگے سے کہتی ہے کہ نازو
16:12جو ہے وہ بیزی تھی مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا اس نے کہا ہے کہ گھر
16:16میں پروبلم ہے اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا ہم آپ کو کول
16:19کر دیں گے تو تم مل لینا تو روحان ہران ہو جاتا کہتا ہے کون
16:23سی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر
16:27گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی
16:30کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی
16:33مہمان ہو کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیری بھی دیا ہے
16:37تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے
16:39کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے اس کے
16:42بعد جو ہے سندس جو ہے کیچن میں ہوتی ہے تو تبریہ جاتا ہے اور
16:47اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں ادھر ادھر ادھر
16:49ڈونڈ رہے ہیں وہ ادھر ادھر ہیں تو سندس آگے سے کہتی ہے کہ آپ
16:54پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کلو تو وہ کہتا ہے کہ آپ کا جو
16:57مرضی کو آپ کا مگہ اتھر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی تو
16:59میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
17:03پھر اس کے بعد جو ہے نازو نازو جو ہے وہ مریم کے فادر کے پاس
17:09جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں
17:12جارہے کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا
17:15گھر ہے میں اسی گھر میں رہوں گی نازو جو ہے وہ مریم کا جینا
17:19حرام کرنا چاہتی ہے اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو آپ کی
17:22بیٹی بوکی ہے اس کو اب ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں اتنی
17:25آپ میں گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے
17:29جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب گھر چلا جاتا ہے تو
17:32فوٹپاٹ پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو کی یہی ساری باتیں سوچ
17:35رہا ہوتا ہے تو پریشان ہو کر فوٹپاٹ پہ گر جاتا ہے اور جب اس کو
17:38وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں گھر اس کو کول
17:42اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز کو
17:44پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم آپ آجو
17:46ہسپیٹل ہم اس کو ہسپیٹل لے کے جا رہے ہیں
17:48وہ ہسپیٹل لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر
17:49ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ
17:52اٹیک ہوئر اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز
17:54جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گے اور
17:55ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور
17:58تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
18:00تو وہ وہاں پہ سوری پرویز
18:02جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا ہے
18:04کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا
18:05ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتے ہیں کہ تمہارے ابو
18:07کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
18:10ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن
18:12چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو
18:13لیکن تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالی
18:16تمہارے ابو کو سنت اندرستی
18:17عطا فرمائے اس کے بعد جو ہے
18:19نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں
18:21پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی
18:24ہوتی ہے کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات
18:26نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر
18:28لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے
18:29ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
18:31یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں گئے ہیں
18:33کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
18:35تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ
18:38بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
18:39سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
18:42دل میں شک پڑ جاتا ہے
18:44نازو کہ سوری کر رہی ہے پھر وہ بات
18:46کو فوراں کور کرنے کے لئے کہہ دیتی ہے کہ
18:47بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
18:49بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ
18:52کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں
18:54اس کے بعد پرویز کے ابو
18:56کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں
18:57ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے
19:00پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
19:02ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر
19:03ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں
19:05تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ
19:07پھر وہ پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر
19:09ہسپیٹل میں بھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے
19:11پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
19:13مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
19:15اور اس کو کول آتی ہے تو وہ کول
19:17ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ
19:19بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہوئے
19:20وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
19:21وہ تب ہی جو نازو ہے
19:24وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ
19:26بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے
19:27اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
19:29کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
19:31میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتا ہی
19:33مرد تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
19:35بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں
19:37جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے
19:39اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
19:41یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے
19:44اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا ہے
19:46کہ کیا ہوا مریم تو مریم آگے سے بتاتی ہے
19:49کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے
19:50وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
19:52اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے چلو مریم چلیں
19:54دو نازو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے
19:56کہ دیکھا بابا کو اس نے دو آنسو بہائیں
19:59تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
20:00اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں
20:02تو اسحاق اس کو کہتا ہے
20:03سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا
20:06میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
20:08تو وہاں جا کر پرویز کہتا ہے
20:10کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے میرے بابا کا کیا حال ہو گئے
20:13اسحاق کہتا ہے کہ ابھی تم چپ ہو جاؤ
20:15یہ ٹائم نہیں ہے
20:17یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
20:19دوسری سائٹ پر جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں
20:22وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
20:23شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
20:24کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں
20:28ایسا ہو نہیں سکتا
20:29وہ تو اتنے میرے
20:29وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے
20:33اور بحث کرتی ہے
20:34کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
20:35وہ تو بہت زیادہ میرے
20:36تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم چھپ رہو
20:38یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر
20:40یہ کام نہیں کر سکتی
20:42کیونکہ وہ اتنی سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
20:45یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
20:47تو وہ پھر وہاں پہ تبریز آتا ہے
20:49وہ تبریز گفت لے کر آتا ہے سندس کے لیے
20:51اور اپنی آنٹی کے لیے بھی شازیہ بہت احران ہوتی
20:54کہتی یہ کس چیز کے لیے گفت تو
20:56تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آئیتا ہے
20:58کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
20:59اور آپ کے لیے بھی میں لے کر آگیا
21:01وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفت جو ہیں
21:03وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے لے جاؤ
21:05شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤ
21:06تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لیے لے کر جاتا ہے
21:09پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
21:10وہاں پہ ان کی آپس میں بیعث ہو جاتی ہے
21:13اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
21:14جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
21:16اور ارسل جو ہے وہ یہ سوچتا ہے
21:18کہ یہ کتنا گھڑیا آدمی ہے تبریز
21:21کیونکہ تبریز کے جو
21:23سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
21:24وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
21:26اور ارسل جو ہے کہتا ہے
21:27کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک
21:29سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
21:34تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی گئے
21:35تبریز کے موہ پہ
21:36اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
21:38اور احران ہو جاتے ہیں
21:40کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
21:42ابریش گھر واپس جاتی ہے
21:43تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
21:45اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی ہو
21:47تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
21:49تو ابریش آگئے سے کہتی ہے
21:51نازو جو ہے وہ بیزی تھی
21:54مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
21:55اس نے کہا ہے کہ گھر میں پرابلم ہے
21:57اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا
21:59ہم آپ کو کول کر دیں گے
22:00تو روحان ہران ہو جاتا
22:03کہتا ہے کونسی ایسی پرابلم پھر وہ کہتا ہے
22:05کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں
22:07ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں
22:08کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی
22:10کہ پتا نہیں ان کے گھر کے نظام
22:12کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان
22:13ان کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے
22:16سے بغیر یہ بھی دیا ہے
22:17تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتا ہے
22:19کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو
22:21صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو ہے
22:23سندس جو ہے کچن میں ہوتی گیا
22:26تو تبریش آتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے
22:27کہ جن کو ہم ادھر ادھر ادھر ادھر رہے ہیں
22:30وہ ادھر ہیں
22:31تو سندس آگے سے کہتی ہے
22:33کہ آپ پہلے اپنی اردو
22:35ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے
22:36جو مرضی کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں
22:39آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کار
22:41لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
22:43پھر اس کے بعد جو ہے نازو
22:45نازو جو ہے
22:47وہ مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
22:49اور اس کو کہتی ہے کہ
22:50اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے
22:53کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا
22:55ابہ یہ میرا گیر ہے
22:56میں اسی گھر میں روں گی
22:57نازو جو ہے وہ مریم کا
22:58جینا حرام کرنا چاہتی ہے
22:59اس کے ابہ کو کہتی ہے
23:00اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
23:03اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
23:05اتنی آپ میں گی Sensors ہے
23:06اتنی آپ میں ایگو ہے
23:08کہ آپ ابھی ادھر
23:09چھوڑ کے جارہے ہیں
23:10تو یہی باتے وہ سوچتے ہیں
23:11جب گھر چلا جاتا ہے
23:12تو فوتبات میں جا رہا ہوتا ہے
23:13نازو کہ یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے تو پریشان ہو کر فٹبات پہ گر جاتا ہے
23:17اور جب اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں اگر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
23:23پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم آپ آجو ہوسپیٹل ہم اس کو ہوسپیٹل لے کے جا رہے ہیں
23:28وہ ہوسپیٹل لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہو رہا
23:33اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی
23:38اور تبریز پھر جب ہوسپیٹل پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہوسپیٹل پہنچتا ہے
23:43تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میری ابو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے
23:47کہ تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں ہم سرجری کرنے ہیں
23:51تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو
23:55کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ابو کو سینطن درستی عطا فرمائے
23:58اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے
24:03اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
24:06تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
24:12یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں یعنی کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
24:16تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ بہت پریشان لگ رہے ہیں
24:19میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں
24:21تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کہ سوری کر رہی ہے
24:25پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
24:29کہ بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں
24:34اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں
24:40کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں
24:43آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں
24:45تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی کی حالت میں
24:48ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے
24:51پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
24:53مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
24:55اور اس کو کول آتی ہے
24:56تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے
24:57تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہوا ہے
25:00وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
25:02وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم میں
25:05اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائک آ رہی ہوتی ہے
25:07اور اپنے بابا کو کہتا ہے کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے
25:10جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے
25:13میں تو آپ کو کہتا ہی ہم نے تو اس کا بابا کہتا ہے
25:14کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے
25:17کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
25:19مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
25:21یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
25:22تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
25:25اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم
25:27تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے
25:31وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
25:32اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
25:33چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے
25:35اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو
25:38اس نے دو آن صبح ہے تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
25:40اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں
25:42تو اسحاق اس کو کہتا ہے
25:43سباحت کو کہ تم گھر کا کہاں رکھنا میں آتا ہوں
25:47پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
25:48تو وہاں جا کرتا ہے پرویز کہتا ہے
25:50کہ دیکھ لو پریشانی کوئے جیسے
25:51میرے بابا کا کیا حالو کا اسحاق کہتا ہے
25:53کہ اب بھی تم چپ ہو جاؤ
25:55یہ ٹائم نہیں ہے
25:57یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
25:59دوسری سائل پہ جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں
26:02وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
26:03شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
26:04کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں
26:08ایسا ہو نہیں سکتا
26:09وہ تو اتنے امیر ہے
26:10وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے
26:13اور بحث کرتی ہے
26:14کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
26:15وہ تو بہت زیادہ امیر ہے
26:16تو جمیل کہتا ہے
26:17کہ بس تم چھپ رہو
26:18یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہلپر
26:20یہ کام نہیں کر سکتی
26:22کیونکہ وہ اتنے سالوں سے
26:24ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
26:25یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
26:27تو پھر وہاں پہ تبریز آ جاتا ہے
26:29وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے
26:31سندس کے لئے
26:31اور اپنی آنٹی کے شازیہ بہت اران ہوتی
26:34کہتی ہے یہ کس چیز کے لئے گفٹ
26:35تو تبریز کہتا ہے
26:37کہ مجھے پسند آئے تھے
26:38کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
26:39اور آپ کے لئے بھی میں لے کر آگیا
26:41وہ کہتا ہے
26:42ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
26:43وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے لے جاؤ
26:45شازیہ کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ
26:46تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کر جاتا ہے
26:49پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
26:50وہاں پہ ان کی
26:51آپ اس میں بیعت ہو جاتی ہے
26:53اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
26:54جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
26:56اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے
26:58کہ یہ کتنا گھڑیا آدمی ہے تبریز
27:01کیونکہ تبریز کے جو
27:03سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
27:04وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
27:06اور ارسل جو ہے کہتا ہے
27:07کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائے
27:09سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
27:14تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
27:16تبریز کے موہ پہ
27:16اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
27:19اور احران ہو جاتے ہیں
27:20کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
27:22ابریش گھر واپس جاتی ہے
27:24تو روحان دیکھ پہ احران ہو جاتا ہے
27:26اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
27:27تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
27:29تو ابریش آگے سے کہتی ہے
27:31کہ نازو جو ہے وہ بیزی تھی
27:34مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
27:35اس نے کہا ہے کہ گھر میں پرابلم ہے
27:37اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا
27:39ہم آپ کو کول کر دیں گے
27:46کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
27:48کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی
27:50کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
27:52کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا
27:54اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر یہ بھی دیا ہے
27:57تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
27:59کوئی بات نہیں
28:00کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے
28:02اس کے بعد جو ہے
28:03سندس جو ہے کیچن میں ہوتی ہے
28:06تو تبریز آتا ہے
28:07اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
28:09ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں وہ ادھر
28:10ادھر ہیں تو سندہ ساگے سے کہتی ہے
28:13کہ آپ پہلے
28:15اپنی اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے
28:16کہ آپ کا جو مرضی کو آپ کا مگہ اتر
28:18تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی
28:20آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس
28:23ہی ہے پھر اس کے بعد جو ہے نازو
28:25نازو جو ہے
28:27وہ مریم کے فادر کے پاس
28:29جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ
28:30اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں
28:33کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا
28:35کہ ابو یہ میرا گھر ہے میں اسی گھر میں رہوں گی
28:37نازو جو ہے وہ مریم کا جینا
28:39حرام کرنا چاہتی ہے وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
28:40اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بھوکی ہے
28:43اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
28:45اتنی آپ میں گہرت ہے
28:46اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر
28:49چھوڑ کے جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
28:51جب گھر چلا جاتا ہے تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے
28:53اور نازو کی یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
28:55تو پریشان ہو کر فوٹپات پہ گر جاتا ہے
28:57اور جب اس کو
28:59وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں
29:01گھر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
29:03پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں
29:05وہ کہتے ہیں آپ آجو ہسپیٹر
29:06ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں
29:09وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں
29:10کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک
29:12اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز
29:14جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گے اور
29:16ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور
29:18تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
29:20تو وہ وہاں پہ پوچھتا ہے
29:24کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا
29:26ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے ابو
29:27کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
29:30ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے
29:32ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن
29:34تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالی
29:36تمہارے ابو کو سینط درستی عطا فرمائے
29:38اس کے بعد جو ہے نازو
29:40جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے اور وہاں پہ
29:42باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے
29:44کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
29:46تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں
29:48جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے
29:50تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
29:52یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں گئے ہیں
29:54کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
29:56تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ
29:58بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
29:59سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
30:02کے دل میں شک پڑ جاتا ہے
30:04نازو کہ سوری کر رہی ہے پھر وہ بات
30:06کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ
30:08بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
30:10کہ بابی مریم نے جو بھی میرے
30:12ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری
30:14کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے
30:16ابو کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں
30:18ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے
30:20پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
30:22ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم
30:24اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز
30:26انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی
30:28کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا
30:30دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے پھر وہ
30:32اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم جو
30:34کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول
30:36آتی ہے تو وہ کول اٹینٹ کرتی ہے تو
30:38پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ
30:40اٹیک ہو گا ہے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
30:42وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے
30:44روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ
30:46بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے اور
30:48اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
30:49کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
30:52میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتا ہی
30:53میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن
30:56سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی
30:58کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے
31:00اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں یہ وہ یہ باتیں
31:02کہہ رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باہ کر جاتے ہیں
31:04سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے تو
31:06سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز
31:08کے موہ پہ اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا
31:10پریشان اور احران ہو جاتے ہیں
31:12کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
31:14ابرش گھر واپس جاتی ہے تو
31:16روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے
31:18کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
31:19تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
31:21تو ابرش آگے سے کہتی ہے کہ نا
31:24نازو جو ہے وہ بیزی تھی
31:26مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
31:27اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے اس وجہ سے
31:29نازو سے بعد میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے
31:32تو تم ملنے تو
31:33روحان ہران ہو جاتا ہے کہتا ہے
31:35کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے
31:37کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے
31:39مسئلے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ
31:41ابرش کہہ رہی تھی کہ پتا نہیں ان کے گھر کے
31:43نظام کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان
31:45ان کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے
31:48سے بغیر ہی بھی دیا ہے تو وہ
31:49کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
31:51کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو
31:53صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو ہے
31:55سندس جو ہے کچن میں
31:57ہوتی ہے تو تبریز آتا ہے اور اس کے بعد
31:59کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
32:00ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں وہ ادھر
32:02ادھر ہیں تو سندس آگے سے کہتی ہے
32:05کہ آپ پہلے
32:06اپنی اردو ٹھیک کل ہو تو وہ کہتا ہے
32:08کہ آپ کا جو مرضی کو آپ کا مگہ
32:10اتر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی
32:12آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس
32:15ہی ہے پھر اس کے بعد جو ہے نازو
32:17نازو جو ہے
32:18وہ مریم کے فادر
32:20کے پاس جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ
32:22تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر
32:24کیوں جا رہے ہیں کیونکہ آپ کو پتا ہے
32:26مریم نے کہہ دا ہے کہ ابو یہ میرا گھر ہے
32:28میں اسی گھر میں رہوں گی نازو جو ہے
32:30وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
32:31اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو
32:34آپ کی بیٹی بوکی ہے اس کو آپ ابھی
32:36ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں اتنی آپ میں
32:38گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو ہے
32:40کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
32:42تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب گھر چلا جاتا ہے
32:44تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو کی یہی
32:46ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے تو پریشان
32:48ہو کر فوٹپات پہ گر جاتا ہے اور
32:50جب اس کو وہاں پہ جو لوگ
32:52ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں اگر اس کو
32:53اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز کو
32:55پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں آپ آجو
32:58ہسپیٹر ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں
33:00وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر
33:01ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر
33:04ہارٹ اٹیک ہوئر اس کی وجہ سے اس کی آٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
33:07گا اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل
33:11پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو
33:15وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحب
33:18تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے ابو کی آٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
33:22ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم
33:25میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے
33:28ابو کو سینطن درستی عطا فرمائے اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ
33:32لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں اور
33:35سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
33:38تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے
33:41ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے
33:45باتیں ہیں کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بین ہو تو وہ آگے سے
33:48کہتی ہے کہ عمر بھائیہ بہت پریشان لگ رہا ہے میں ہر بات سے آپ کے
33:52سوری کرتی ہوں تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کہ سوری کر
33:57یا پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میں
34:00اس وجہ سے سوری کرتی ہوں کہ بابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس
34:05وجہ سے میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے
34:09ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر
34:13چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم
34:16چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
34:19پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں پھرتا دیواروں کے ساتھ
34:22لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم جو کہ نماز
34:26پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول آتی ہے تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے
34:29تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہو گا وہ ہسپیٹل
34:33ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور
34:37ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے اور اپنے بابا
34:40کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
34:43میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتی ہوں میں تو اس کا بابا
34:46کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کے عادت ہے کہ تمہیں
34:49جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں
34:52تمہارے لئے لے آتا ہوں یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو مریم
34:55جو ہے باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا
34:58ہے کہ کیا ہوا مریم تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو
35:02ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں مریم کی بات
35:05سن کر کہتا ہے چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے اپنی امی کو
35:08کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو اس نے دو آن صبح ہیں تو کس طرح
35:11موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو
35:14اسحاق اس کو کہتا ہے سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا
35:19ہوں پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں تو وہاں جا کرتا ہے تو پرویز
35:21کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے میرے بابا کا کیا حال
35:24انہوں کے اسحاق کہتا ہے کہ اب بھی تم چھپ ہو جاؤ یہ ٹائم
35:28نہیں ہے یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سائل
35:32پہ جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازی
35:35ہیں بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام
35:39کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے میرے وہ جمیل
35:42کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں
35:47کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم
35:49چھپ رہو یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیل پر بھی کام یہ کام
35:54نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے
35:57ہیں یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو پھر تو وہاں پہ تبریز
36:00آ جاتا ہے وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے سندس کے لیے اور اپنی
36:04آنٹی کے لیے بھی شازیہ بہت حران ہوتی کہتی یہ کس چیز کے لیے گفٹ
36:07تو تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آئے تھا کہ سندس کو بھی بہت
36:11پسند آئیں گے اور آپ کے لیے بھی میں لے کے آگیاں اور پھر وہ
36:13کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے
36:17لے جاؤں شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤں تو پھر وہ سندس کو
36:19دکھانے کے لیے لے کے جاتا ہے پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
36:22وہاں پہ ان کی آپس میں بیہرkolبز ہو جاتی ہے اور ارسل بھی
36:26وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل جو ہے وہ یہ
36:30سوچتا ہے کہ یہ کتنا گھٹیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو
36:35سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل جو
36:39ہے کہتا ہے کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک
Be the first to comment