00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:03انسان جتنا اللہ کے قریب تر ہوتا جاتا ہے
00:08اتنا ہی حطرات کے نزدیک تر ہوتا جاتا ہے
00:11اس ازل اور عبد کے روحانی سفر میں
00:14کسر شاہی یعنی عالم لاہود کے دروازے پر پہنچ کر
00:18اور اس دروازے کو پار کرنے کے بعد
00:20اوج روحانی اور منزل مقصود علیین
00:24جیسے رازوں میں چھپے مقامات عطا کیے جاتے ہیں
00:27مگر یہاں اگر صرف ایک غلطی کی جائے
00:30تو تمام مقامات واپس لے لیے جاتے ہیں
00:33اور پھر عالم لاہود کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے
00:37تو وہ ایک غلطی بہت بڑی روحانی برائی کیا ہے
00:41اور کسر شاہی کے دروازہ پر پہنچ کر
00:44دروازہ کھولنے کی شرط اور اندر داہل ہو کر
00:48قیام مستقل کرنے کی شرط کیا ہے
00:50تو بھڑتے ہیں آج کی گفتگو کی طرف
00:53ویڈیو شروع کرنے سے پہلے چینل کو سبسکرائب کریں
00:56کومنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
00:59خدا کی جانب سے
01:02آپ روحانی و باطنی حصیت سے جس حالت پر ہوں
01:06اس کے سوا کسی بلند یا پست حالت کی آرزو نہ کریں
01:10جب آپ شاہی محل یعنی عالم لاہود کے دروازے پر ہوں
01:14تو محل میں داہل ہونے کے ازہود وائشمند اور طلبگار ہرگیس نہ ہوں
01:20یہاں تک کہ حکم شاہی اور عمر ربی سے
01:23اللہ کے فیل حقیقی سے آپ کو جبرن یعنی
01:26بجانی حق زبردستی داہل نہ کیا جائے
01:30جبر سے مراد وہ حکم ہے جو عزلی تحقیدی اور بار بار ہو
01:34یعنی آپ کو آپ کی حوائش سے نہیں
01:36بلکہ آپ کی ہموشی تسلیم و رضا
01:39انکساری ندامت صبر اور سرے ہم تسلیم کرنے پر
01:44بطور عطا نوازہ جائے
01:46اور داہل رحمت کیا جائے
01:48کیونکہ یہ مقام بہت بلند مقام ہے
01:51محض نفس کی ترگیب داہلہ پر یقین اور کنات نہ کریں
01:55ہو سکتا ہے یہ اس بادشاہ حکم الحاکمین
01:57اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہو
02:00لیکن اس وقت تک صبر و تحمل سے کام لیں
02:02جبکہ آپ کو داہل ہونے پر مجبور کر دیا جائے
02:06اور آپ کا داہلہ سرہ سر ازن شاہی کے تحت ہو
02:09جب آپ جبر اور حکم شاہی سے محلے
02:12قرب و جوار حداوندی میں داہل کیا جائیں گے
02:15تو آپ کو بادشاہ اپنے ارادہ
02:17و فیل کے باعث کوئی عذاب نہ کرے گا
02:20آپ کا کہہ رو عذاب تو صرف بندہ کے فقدانِ سبر
02:24اتباعِ حوص اور بے عدبی
02:26اور ترکِ تسلیم و رضا کے باعث ظہور میں آیا کرتا ہے
02:30بس جب آپ کسرِ شاہی میں جبرن داہل کیے جائیں
02:33تو اسے اپنی بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی سمجھیں
02:37اور ہموش سڑنگون اور معدب و فرمان پذیر ہو کر
02:42اس کی بارگاہ میں جا کھڑے ہوں
02:44اور جس حدمت یا تعمیل فرض پر آپ کو میین و معمور کیا جائے
02:49اس کی بجان و دل پیروی کریں
02:52اور ہیل و خجت کو اس میں قطن داہل نہ دیں
02:55اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا
03:01دنیا کے ظاہر مال و اسباب سے جو چیزیں
03:05ہم نے کفار کو دے رکھی ہیں انہیں گھور گھور کر مت دیکھیں
03:08کیونکہ ان اشیاء کا مقصد تو ان کفار کو فتنہ و امتحان میں مبتلا کرنا ہے
03:13اور آپ کے پروردگار کا عطا کردہ ریسک آپ کے لیے بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے
03:20پس کولِ حداوندی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
03:24حفظِ احوال، باطن، صبر و شکر اور اپنی دی ہوئی نعمتوں پر راضی رہنے کی تلقین کی گئی ہے
03:31یعنی ہم نے جو عطیاتِ عظمہ بصورتِ منصبِ نبوت، علمِ راستِ، حکمت و فہمِ دینِ اسلام، توحید و معرفت، جہادِ فی سبیلِ اللہ اور فتوحِ غیبی تفییس کیے ہیں
03:46وہ دنیا کے دیگر مال و جائدات اور سامانِ احش و عشرت سے بہت بہتر ہیں
03:51اور دائمی طور پر یعنی ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والے ہیں
03:55قائم رہنے والے ہیں اور بڑھنے والے ہیں
03:58پس حقِ تعالیٰ شانہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر و رضا مندی اور دیگر فانی و عارضی چیزوں سے
04:05ترک التفات ہی تمام نیکیوں اور برکتوں کی اصل ہیں
04:10تمام اشیاء دنیاوی کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی عزمائش کے لیے پیدا کیا ہے
04:14کوئی بھی چیز یا تو آپ کی قسمت ہے یا کسی غیر کے لیے
04:18یا کسی کے لیے نہیں بلکہ اللہ نے اسے عزمائش کے لیے پیدا کیا ہے
04:22اگر وہ مشیعت الہی میں آپ کا حصہ ہے
04:25تو آپ اسے چاہیں یا نہ چاہیں
04:27وہ آپ کو ضرور ملے گی
04:28اس کی طلب اور جستجو میں آپ کی طرف سے غفلت گستاہی یا سوئے عدب کا اظہار زیبا نہیں
04:35اور اگر وہ چیز کسی اور کی قسمت ہے
04:37تو آپ اسے کیوں عزماتے ہیں
04:39اور اگر وہ حیر و آفیت اور سلامتی کے ساتھ کسی فرد و بشر کی قسمت میں نہیں
04:44اور مخصوص فتنہ و امتحان ہے
04:46تو پھر کوئی بھی صاحبِ عقل و شعور فتنوں اور پریشانیوں میں کیوں مبتلا ہوگا
04:51بس اس حقیقت کو یاد رکھیں
04:55کہ حیر اور سلامتی اور اتمنانِ قلب
04:57حفاظتِ اخوالِ باطن اور تسلیم و رضا میں ہیں
05:01کسرِ شاہی میں داہل ہونے کے بعد
05:04جب آپ بالا ہانے یعنی اوجِ روحانی
05:06اور وہاں سے چھت یعنی منزلِ مقصودِ علیین پر چڑھائے جائیں گے
05:12تو جیسا کہ ہم نے بیان کیا
05:14ہموش سرنگون اور مہدب رہیں
05:17بلکہ ان امور میں پہلے سے زیادتی کریں
05:19جو اللہ کے قرب کا باعث ہیں
05:22کیونکہ اب آپ بادشاہ سے قریب تر
05:24اور حترات کے نزدیک تر ہیں
05:27یہاں پہنچ کر آپ اس سے احوال و مقامات میں
05:30اسے کسی بھی حال یا مقام کی ازہود آرزو نہ کریں
05:33اس لیے کہ یہ نعمت مجودہ کی ناشکری ہوگی
05:36اور ناشکری یہ ناشکر گزارشست کو
05:38دنیا و اقبع میں سلیل و ہوار کرتی ہے
05:41جیسا کہ ہم نے پیش حضین بیان کیا
05:44آپ ذکر و فکر اور عمل سالحہ کی جد و جہد میں مشغول رہیں
05:48تاکہ آپ ایسے مقام بلند پر پہنچائے جائیں
05:51جو دائمی و عبدی ہو
05:53اور یاد رکھیں
05:54کہ وہ مقام ہدا کی ظاہر و باہر آیات و کرامات ہیں
05:58جو بندہ کے کول و فیل سے ظہور میں آتی ہیں
06:01اس مقام سے غفلت و بے اتنائی ہرگز نہ کریں
06:04اس کی حفاظت کریں
06:05اور ثبات و استقلال
06:07مستقیل نظم و زب سے وہاں قائم رہیں
06:10کیونکہ احوال تو علیہ اللہ کے لیے ہیں
06:12اور مقامات عبدال کے لیے ہیں
06:15اے اللہ
06:16ہماری توفیق تیری ہی طرف سے ہے
06:18ہمارا بروسہ تجھ ہی پر ہے
06:20اور ہم تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں
06:23والحمدللہ رب العالمین