00:00اپنے 71 سالہ سال میں باؤ گانگ گروپ نے شاندار ترقی کی ہے
00:05ایک قسم کے آئرن سے آغاز کر کے اب یہ سو سے زیادہ اقسام کے سٹیل بناتا ہے
00:11اور اس کا پہلا ڈیزرٹ بلاسٹ فرنس آج ایک جدید اور خوبصورت سنتی کمپلیکس کی شکل اختیار کر چکا ہے
00:20اداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 کے پہلے چھے مہینوں میں
00:24باؤ گانگ نے 40 سے زیادہ ممالک اور کتوں کو 7 لاکھ ٹن سے زیادہ سٹیل برامت کیا
00:30اس میں سے 90 فیصد سے زیادہ یعنی 6 لاکھ ٹن بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل 30 سے زیادہ ممالک کو بھیجا گیا
00:38یہ سٹیل زیادہ تر انفرسٹرکچر ریل گاڑیوں کے نظام اور طوانائی کی پائپ لائنوں میں استعمال ہوتا ہے
00:45ہیلو دوستو میں لولو ہوں
00:48کیا آپ دنیا کی پہلی فولی آٹومیٹیڈ ہیوی ریلز پروڈکشن لائن دیکھنا چاہتے ہیں
00:53اگر ہاں تو بس ہمارے ساتھ جھوڑے رہیے
00:56چلیے شروع کرتے ہیں
00:58باؤ گانگ کے ریل اینڈ بیم پلانٹ کے سمارٹ کنٹرول سینٹر میں
01:0324 میٹر چوڑی ایک بڑی سکریل لگی ہے
01:06جو 100 میٹر ریل کی تیاری کا پورا عمل دکھاتی ہے
01:09اس میں نظر آتا ہے کہ کس طرح گرم سٹیل رولنگ مل سے نکل کر
01:13کولن ایریا تک پہنچتا ہے
01:16آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کام کرنے والے بہت کم ہیں
01:21اس خودکار کنٹرول روم سے پہلے
01:24ہر پروڈکشن لائن پر 15 لوگ انتہائی گرم
01:27شور والے اور خطرناک ماحول میں کام کرتے تھے
01:302022 میں باؤ گانگ نے پہلی فولی آٹومیٹیڈ
01:34یعنی مکمل خودکار پروڈکشن لائن شروع کی
01:37جس سے کافی افرادی قوت بچ گئی
01:40دسمبر 2024 کے احتتام پر ہم نے انٹیلیجنٹ
01:46سسٹم کی تنصیب اور ازمائش کا عمل مکمل کیا
01:49اور اب یہ چل رہا ہے
01:50یہ دنیا کا پہلا کنٹرول سینٹر ہے
01:53جو خاص طور پر سرد علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
01:57سٹیل ریلز کے میار کے تقاضے بہت سخت ہوتے ہیں
02:00آپ کو یہ تب اندازہ ہوتا ہے جب آپ ہائی سپیڈ ٹرین میں بیٹھتے ہیں
02:04چونکہ ٹرین دو ریلز پر چلتی ہے
02:06اس لیے ان کا بلکل سیدھا ہونا ضروری ہے
02:09معمولی سا فرق جو صفر اشاریہ پانچ میلی میٹر
02:12یعنی اے فور کاغذ کی دو شیٹس کی موٹائی سے زیادہ ہو
02:16ناقابل ایک قبول ہوتا ہے
02:18اور ایسی ریل کو فوراں مسترد کر دیا جاتا ہے
02:21یہ سسٹم سٹیل کاٹنے اور سیدھا کرنے کا عمل خود بخود انجام دیتا ہے
02:28اس میں سمارٹ کولنگ بیڈ پری بینڈنگ
02:30اور سیدھا کرنے کے جدید طریقے اور الگوریثم استعمال کیے گئے ہیں
02:34جو نہ صرف پیداوار کی رفتار بڑھاتے ہیں
02:36بلکہ میار کو بھی بہتر بناتے ہیں
02:38آج اس میدان میں دنیا چین کی مثال دیتی ہے
02:43سو میٹر کی ہائی سپیڈ ریلز نے سفر کا انداز بدل ڈالا ہے
02:48پورانی ٹرینوں میں چلتے وقت جو کڑک کڑک کی آواز آتی تھی
02:51وہ اب ہائی سپیڈ ریل میں سنائی نہیں دیتی
02:54اس کی وجہ یہ ہے کہ ریلز بلکل سیدھی بنائی جاتی ہیں
02:57جو زیادہ رفتار کے لیے ضروری ہے
03:00پہلے سرد علاقوں میں کام کرنا مشکل ہوتا تھا
03:03مختلف کنٹرول سٹیشنز پر مرحلہ وار اور ہاتھ سے آپریشن کیا جاتا
03:07جو سست اور آپریٹر کے تجربے پر بہت زیادہ منحصر ہوتا تھا
03:11اب انٹیگریٹڈ کنٹرول سینٹر میں صرف چار لوگ پورے کولڈ ایریا
03:15یعنی سرد علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں
03:18ان میں تین آپریٹرز اور ایک شخص بیک اپ پر موجود ہوتا ہے
03:21اس انٹیلیجنٹ سسٹم کے فائدے صرف افرادی قوت کم کرنے تک محدود نہیں
03:27مسنوع ذہانت اور انڈرسٹریل انٹرنیٹ آف تنگز کو ملا کر ایسے سمارٹ اسسٹنٹس بنائے گئے ہیں
03:34جیسے انفراریڈ تھرمامیٹر اور ویجول ریکنیشن سسٹم
03:38جو دن رات سٹیل بلٹس پر نظر رکھتے ہیں
03:41لارج سکیل الاغریتھمز پروسس کے پیرامیٹرز کی پیشین گوئی کرتے ہیں
03:46جسے اندازے پر چلنے کے بجائے درست درجہ حرارت پر کنٹرول ممکن ہوتا ہے
03:51اس طرح پیداوار لگاتات اور موثر رہتی ہے
03:54اور ماضی کی طرح ہاتھ سے کان کرنے سے وسائل کے زیعہ کا خاتمہ ہوتا ہے
04:00باؤ گانگ دنیا کی سب سے بڑی ریر ارث کان بائیون ای بو کے واحد کان کنی کے حقوق رکھتا ہے
04:08ہمارے ریر ارث سٹیل میں یہ اناثر شامل ہوتے ہیں
04:12جو اسے عام سٹیل کے مقابلے میں زیادہ لچکدار زیادہ پائیدار
04:16زنگ سے محفوظ اور سرد موسم میں بہتر کارکردگی کا حمل بناتے ہیں
04:20یہی چیز باؤ گانگ کو ایک خاص مسابقتی فائدہ دیتی ہے
04:24یہ کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبوں کے لیے ایک بڑی سپلائر کمپنی ہے
04:29اور اس نے ہنگری سربیا اور چین لاؤس ریلوے جیسے منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے
04:35چین کے انر منگولیا کا شہر باؤ ٹو باؤ گانگ سے گہرا تعلق رکھتا ہے
04:41اور شہر کی کئی سہولیات اسی کمپنی کی مدد کے لیے تعمیر کی گئے
04:45مثال کے طور پر باؤ ٹو کوٹن مل ایک خاص سماجی مقصد کے تحت قائم کی گئی
04:51یعنی باؤ گانگ کے غیر شادشدہ ملازمین کو ممکنہ شریکہ حیات سے ملنے کے مواقع فرام کرنا
04:58کیونکہ ان کے سخت کام کے اوقات اس میں رکاوٹ بنتے تھے
05:03ہم باؤ ٹو کے مشہور تین مقامات میں سے ایک باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ آ گئے ہیں
05:11یہ کبھی ایک انڈسٹریل ایریا تھا جہاں مزدور اور ان کے خاندان اکٹھے رہتے تھے
05:17کچھ سال یہ جگہ سنسان رہی لیکن اب حکومت اسے دوبارہ آباد کرنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے
05:23جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ شام کا مزا لے رہے ہیں
05:27میں بھی اندر جا کر دیکھنے کے لیے پرجوش ہوں ہمارے ساتھ رہیے
05:31باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ وہ جگہ ہے جہاں پہلے باؤ ٹو کوٹن ٹیکسٹائل مل ہوا کرتی تھی
05:38انیس سو اٹھاون میں کائن ہونے والی یہ مل ایک زمانے میں ایشیا کی سب سے بڑی مل تھی
05:44یہاں کا ڈائن اور پرنٹنگ پلانٹ کا پرانا تفریح حصہ آج بھی محفوظ ہے
05:49اور علاقے کی سنتی یمارتوں کی یاد دلاتا ہے
05:53پرانی فیکٹری کو نئے سیرے سے ڈیزائن کر کے عوامی تفریح گہ بنا دیا گیا ہے
05:59باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ پروجیکٹ جو دو ہزار چھہ سو بیس مربع میٹر پر مشتمل ہے
06:04ثقافت اور سماجی مل جول کے لیے ایک متنب دے جگہ ہے
06:08یہاں مقامی چائے کی روایت اور کھانے کو یکجہ کیا گیا ہے
06:12تاکہ پرانے رہائشیوں کو ماضی کی یاد دلائی جا سکے
06:16اور نوجوان نسل کو شہر کے سنتی حرصے سے جوڑا جا سکے
06:20موسیقی
Comments