Skip to playerSkip to main content
Discover the cutting-edge technology that powers China's high-speed trains in this in-depth exploration of advanced steel tracks and innovative engineering. In this video, we delve into the secrets behind the world’s fastest rail systems, examining the materials, design principles, and technological advancements that make these trains a marvel of modern transportation. Learn how China has revolutionized rail travel and what it means for the future of global transport. Join us as we uncover the intricate details that contribute to the efficiency and safety of these high-speed networks. Don't forget to like, share, and subscribe for more insights into the world of technology and innovation.

#HighSpeedTrains #RailTechnology #Innovation #ChinaRail #FutureOfTransport

Follow Us on Facebook: https://www.facebook.com/urdupoint.network/
Follow Us on Twitter: https://twitter.com/DailyUrduPoint
Follow Us on Instagram: https://www.instagram.com/urdupoint_com/
Visit Us on Web: https://www.urdupoint.com/

Category

🗞
News
Transcript
00:00اپنے 71 سالہ سال میں باؤ گانگ گروپ نے شاندار ترقی کی ہے
00:05ایک قسم کے آئرن سے آغاز کر کے اب یہ سو سے زیادہ اقسام کے سٹیل بناتا ہے
00:11اور اس کا پہلا ڈیزرٹ بلاسٹ فرنس آج ایک جدید اور خوبصورت سنتی کمپلیکس کی شکل اختیار کر چکا ہے
00:20اداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 کے پہلے چھے مہینوں میں
00:24باؤ گانگ نے 40 سے زیادہ ممالک اور کتوں کو 7 لاکھ ٹن سے زیادہ سٹیل برامت کیا
00:30اس میں سے 90 فیصد سے زیادہ یعنی 6 لاکھ ٹن بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل 30 سے زیادہ ممالک کو بھیجا گیا
00:38یہ سٹیل زیادہ تر انفرسٹرکچر ریل گاڑیوں کے نظام اور طوانائی کی پائپ لائنوں میں استعمال ہوتا ہے
00:45ہیلو دوستو میں لولو ہوں
00:48کیا آپ دنیا کی پہلی فولی آٹومیٹیڈ ہیوی ریلز پروڈکشن لائن دیکھنا چاہتے ہیں
00:53اگر ہاں تو بس ہمارے ساتھ جھوڑے رہیے
00:56چلیے شروع کرتے ہیں
00:58باؤ گانگ کے ریل اینڈ بیم پلانٹ کے سمارٹ کنٹرول سینٹر میں
01:0324 میٹر چوڑی ایک بڑی سکریل لگی ہے
01:06جو 100 میٹر ریل کی تیاری کا پورا عمل دکھاتی ہے
01:09اس میں نظر آتا ہے کہ کس طرح گرم سٹیل رولنگ مل سے نکل کر
01:13کولن ایریا تک پہنچتا ہے
01:16آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کام کرنے والے بہت کم ہیں
01:21اس خودکار کنٹرول روم سے پہلے
01:24ہر پروڈکشن لائن پر 15 لوگ انتہائی گرم
01:27شور والے اور خطرناک ماحول میں کام کرتے تھے
01:302022 میں باؤ گانگ نے پہلی فولی آٹومیٹیڈ
01:34یعنی مکمل خودکار پروڈکشن لائن شروع کی
01:37جس سے کافی افرادی قوت بچ گئی
01:40دسمبر 2024 کے احتتام پر ہم نے انٹیلیجنٹ
01:46سسٹم کی تنصیب اور ازمائش کا عمل مکمل کیا
01:49اور اب یہ چل رہا ہے
01:50یہ دنیا کا پہلا کنٹرول سینٹر ہے
01:53جو خاص طور پر سرد علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
01:57سٹیل ریلز کے میار کے تقاضے بہت سخت ہوتے ہیں
02:00آپ کو یہ تب اندازہ ہوتا ہے جب آپ ہائی سپیڈ ٹرین میں بیٹھتے ہیں
02:04چونکہ ٹرین دو ریلز پر چلتی ہے
02:06اس لیے ان کا بلکل سیدھا ہونا ضروری ہے
02:09معمولی سا فرق جو صفر اشاریہ پانچ میلی میٹر
02:12یعنی اے فور کاغذ کی دو شیٹس کی موٹائی سے زیادہ ہو
02:16ناقابل ایک قبول ہوتا ہے
02:18اور ایسی ریل کو فوراں مسترد کر دیا جاتا ہے
02:21یہ سسٹم سٹیل کاٹنے اور سیدھا کرنے کا عمل خود بخود انجام دیتا ہے
02:28اس میں سمارٹ کولنگ بیڈ پری بینڈنگ
02:30اور سیدھا کرنے کے جدید طریقے اور الگوریثم استعمال کیے گئے ہیں
02:34جو نہ صرف پیداوار کی رفتار بڑھاتے ہیں
02:36بلکہ میار کو بھی بہتر بناتے ہیں
02:38آج اس میدان میں دنیا چین کی مثال دیتی ہے
02:43سو میٹر کی ہائی سپیڈ ریلز نے سفر کا انداز بدل ڈالا ہے
02:48پورانی ٹرینوں میں چلتے وقت جو کڑک کڑک کی آواز آتی تھی
02:51وہ اب ہائی سپیڈ ریل میں سنائی نہیں دیتی
02:54اس کی وجہ یہ ہے کہ ریلز بلکل سیدھی بنائی جاتی ہیں
02:57جو زیادہ رفتار کے لیے ضروری ہے
03:00پہلے سرد علاقوں میں کام کرنا مشکل ہوتا تھا
03:03مختلف کنٹرول سٹیشنز پر مرحلہ وار اور ہاتھ سے آپریشن کیا جاتا
03:07جو سست اور آپریٹر کے تجربے پر بہت زیادہ منحصر ہوتا تھا
03:11اب انٹیگریٹڈ کنٹرول سینٹر میں صرف چار لوگ پورے کولڈ ایریا
03:15یعنی سرد علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں
03:18ان میں تین آپریٹرز اور ایک شخص بیک اپ پر موجود ہوتا ہے
03:21اس انٹیلیجنٹ سسٹم کے فائدے صرف افرادی قوت کم کرنے تک محدود نہیں
03:27مسنوع ذہانت اور انڈرسٹریل انٹرنیٹ آف تنگز کو ملا کر ایسے سمارٹ اسسٹنٹس بنائے گئے ہیں
03:34جیسے انفراریڈ تھرمامیٹر اور ویجول ریکنیشن سسٹم
03:38جو دن رات سٹیل بلٹس پر نظر رکھتے ہیں
03:41لارج سکیل الاغریتھمز پروسس کے پیرامیٹرز کی پیشین گوئی کرتے ہیں
03:46جسے اندازے پر چلنے کے بجائے درست درجہ حرارت پر کنٹرول ممکن ہوتا ہے
03:51اس طرح پیداوار لگاتات اور موثر رہتی ہے
03:54اور ماضی کی طرح ہاتھ سے کان کرنے سے وسائل کے زیعہ کا خاتمہ ہوتا ہے
04:00باؤ گانگ دنیا کی سب سے بڑی ریر ارث کان بائیون ای بو کے واحد کان کنی کے حقوق رکھتا ہے
04:08ہمارے ریر ارث سٹیل میں یہ اناثر شامل ہوتے ہیں
04:12جو اسے عام سٹیل کے مقابلے میں زیادہ لچکدار زیادہ پائیدار
04:16زنگ سے محفوظ اور سرد موسم میں بہتر کارکردگی کا حمل بناتے ہیں
04:20یہی چیز باؤ گانگ کو ایک خاص مسابقتی فائدہ دیتی ہے
04:24یہ کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبوں کے لیے ایک بڑی سپلائر کمپنی ہے
04:29اور اس نے ہنگری سربیا اور چین لاؤس ریلوے جیسے منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے
04:35چین کے انر منگولیا کا شہر باؤ ٹو باؤ گانگ سے گہرا تعلق رکھتا ہے
04:41اور شہر کی کئی سہولیات اسی کمپنی کی مدد کے لیے تعمیر کی گئے
04:45مثال کے طور پر باؤ ٹو کوٹن مل ایک خاص سماجی مقصد کے تحت قائم کی گئی
04:51یعنی باؤ گانگ کے غیر شادشدہ ملازمین کو ممکنہ شریکہ حیات سے ملنے کے مواقع فرام کرنا
04:58کیونکہ ان کے سخت کام کے اوقات اس میں رکاوٹ بنتے تھے
05:03ہم باؤ ٹو کے مشہور تین مقامات میں سے ایک باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ آ گئے ہیں
05:11یہ کبھی ایک انڈسٹریل ایریا تھا جہاں مزدور اور ان کے خاندان اکٹھے رہتے تھے
05:17کچھ سال یہ جگہ سنسان رہی لیکن اب حکومت اسے دوبارہ آباد کرنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے
05:23جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ شام کا مزا لے رہے ہیں
05:27میں بھی اندر جا کر دیکھنے کے لیے پرجوش ہوں ہمارے ساتھ رہیے
05:31باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ وہ جگہ ہے جہاں پہلے باؤ ٹو کوٹن ٹیکسٹائل مل ہوا کرتی تھی
05:38انیس سو اٹھاون میں کائن ہونے والی یہ مل ایک زمانے میں ایشیا کی سب سے بڑی مل تھی
05:44یہاں کا ڈائن اور پرنٹنگ پلانٹ کا پرانا تفریح حصہ آج بھی محفوظ ہے
05:49اور علاقے کی سنتی یمارتوں کی یاد دلاتا ہے
05:53پرانی فیکٹری کو نئے سیرے سے ڈیزائن کر کے عوامی تفریح گہ بنا دیا گیا ہے
05:59باؤ میان ون نائن فائیو ایڈ پروجیکٹ جو دو ہزار چھہ سو بیس مربع میٹر پر مشتمل ہے
06:04ثقافت اور سماجی مل جول کے لیے ایک متنب دے جگہ ہے
06:08یہاں مقامی چائے کی روایت اور کھانے کو یکجہ کیا گیا ہے
06:12تاکہ پرانے رہائشیوں کو ماضی کی یاد دلائی جا سکے
06:16اور نوجوان نسل کو شہر کے سنتی حرصے سے جوڑا جا سکے
06:20موسیقی
Comments

Recommended