00:00میٹرو بس اور اورنجز ٹرین میں سفر کرنے کے لیے ملنے والا ٹوکن سسٹم ختم کر کے نیا کارڈ سسٹم متعارف کروا دیا گیا
00:08ٹرین ہے فیڈر بسے ہیں چاہے وہ میٹرو بس سب ٹی کیش کارڈ کے ذریعے چلائی جائیں گے اور سٹوڈنٹ کو مفت سفری سہولیات دی جائیں گی
00:17پنجاب میس ٹرانزیسٹ آثورٹی کے جنرل مینجر آپریشن عزیر شاہ سب ہمارے ساتھ موجود ہیں
00:24میٹرو بس اور اورنجز لینڈ ٹرین میں ٹوکن سسٹم کو ختم کر کے ایس سسٹم متعارف کروایا جائے گی
00:29کیا نئی پالسی لائی گئی ہے
00:31دوزہار بارہ میں جب پہلی بار یہ سسٹم ڈیزائن کیا گیا تو ہم نے کلوز لوب سسٹم ڈیزائن کیا
00:39تو اس کلوز لوب سسٹم کے مطابق اس کارڈ کے تحت سفری سہولیات دی گئی
00:44یہ ایک مائی فیر کارڈ ہے یہ اور ٹرکیس سلوشن پر بیسٹ ہے
00:50اس کو منگوانے کے لیے ہمیں ٹرکی سے رابطہ کرنا پڑتا ہے
00:54اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ٹوکن ہے جو لوگ خریدتے ہیں اور پھر وہ کیپچر ہو جاتا ہے سسٹم کے اینڈ پر
00:59اس کو ہم نے دس سال چلایا
01:01ہوا یہ کہ آڈٹ نے اتراز کیا کہ یہ جو ٹرکیس سلوشن ہے
01:06یہ انہیں قبول اس لیے نہیں ہے کہ ہمارا سارا ڈیٹا جو ہے وہ ٹرکی جا رہا نظر آ رہا تھا
01:13اور پھر اس کی سیکیورٹی پہ بھی وہ قائل نہیں تھے
01:16ان کامنٹس کو لیتے ہوئے پھر سر جوڑ کے بیٹھنا پڑا اور ڈیزائن یہ کیا
01:21ہم نے کہ یہ انڈیجنل سلوشن بنانا پڑے گا
01:25اور پاکستان کے اندرون نہیں کوئی سلوشن ہوگا
01:28تو ہم کامیاب ہو جائیں گے
01:29چنانچہ پی اے میں نے پنجاب انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ ایک فریمورک ایگریمنٹ کیا
01:35آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم دوبارہ ڈیزائن کیا
01:38اس آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم میں جب بنوا رہے تھے
01:41تو ایٹ دی سیم ٹائم ہمیں ایک دوسری ضرورت نظر آئی
01:45اور وہ یہ کہ جب بھی ہم ایک نیا سسٹم لانچ کرتے ہیں
01:48تو ہمیں اس کے لیے ایک الگ سے اے ایف سی سسٹم بھی لانا پڑتا تھا
01:53ہمیں کارڈ بھی لانے پڑتے تھے
01:55اور پھر وہ پچھلے سے انٹیگریٹ نہیں ہوتا تھا
01:58اس طرح نے ایک اور ایشو سامنے آیا
02:00وہ یہ کہ جب بھی ہم ایک نیا سسٹم ڈیویلپ کرتے ہیں
02:02تو اس کے ساتھ ایک نیا آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سرویس پروائیڈر آتا ہے
02:07جو اپنی سلوشن لے کے آتا ہے
02:09اور وہ پچھلے سے انٹیگریٹ نہیں ہوتا
02:11یعنی کہ ایک کارڈ دوسرے پہ نہیں چلتا
02:13اس کے بعد اورنج لائن آئی
02:15تو اورنج لائن کا کارڈ اس پہ نہیں چلتا تھا
02:17لاہور میٹرو بس پہ اور وائس ورسا
02:19دونوں کے کارڈ جو تھے وہ ڈیفرنٹ تھے
02:21یہ چیز کو
02:23سمجھتے ہوئے ہم نے یہ سوچا
02:25کہ اگر سسٹم بڑھتے چلے گئے
02:27تو یہ ہمارے لیے ایک نہائیت ہی
02:29پچیدہ مسئلہ بن جائے گا
02:31اس وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا
02:32کہ پنجاب میں ون ٹرانسپورٹ کارڈ لائے جائے
02:35اور اس کارڈ کے تحت
02:37جتنے بھی پنجاب میں ہمارے ماستانے سسٹم ہیں
02:39وہ چلائے جائیں
02:40اوپن لوپ سے ہم چلے گئے ای ای ای ای ای ای ای ای
02:43سے بنتا ہے یورو پے ماستر کارڈ ویزا کارڈ
02:45جب آپ ای ای ای ای ای پے چلے جاتے ہیں
02:47تو اس کے بعد آپ کے نارمل بینک کارڈ
02:50کوئی بھی کسی بھی بینک میں
02:52سامبہ بینک میزان بینک
02:53یہ بی او پی کا کارڈ ہے
02:55کوئی بھی بینک کا کارڈ جو ہے
02:57وہ قابل استعمال ہو جاتا ہے
02:58اور آپ اس کے ساتھ نہ ٹریول کر سکتے ہیں
03:01دوسری چیز یہ ہے کہ ہم نے جو اپنا کارڈ رکھا
03:03ان لوگوں کے لیے جن کے پاس کارڈ نہیں ہے
03:05اس وقت اور ان کو کارڈ کی سہولت
03:08دینی ہے تو اس کے لیے
03:09بینک اور پنجاب نے ٹرانسپورٹ کیش
03:11یعنی کہ ٹی کیش کارڈ متعارف کرا دیا
03:14کسی بھی پرائیوٹ بینک کا کارڈ
03:15ہم لوگ استعمال کر سکے ہیں
03:16کسی کے ذریعے سے بھی پیمنٹ ہو سکتے ہیں
03:19یہ نئے سسٹم جب لانچ ہو جائے گا
03:21انشاءاللہ سپٹیمبر میں
03:23تو کسی بھی بینک کا کارڈ
03:25قابل استعمال ہوگا سفر کے لیے
03:27اور یہی یہ جدت ہے
03:29اس کے علاوہ آپ اپنے فون پہ
03:31ایک والٹ ایپ ڈاؤنلوڈ کریں
03:33جو اس وقت فال ہے
03:34ابھی بھی آپ کر سکتے ہیں
03:35اس کا نام بھی ٹی کیش ہے
03:37آپ وہ اپنے فون پہ سیٹ کریں
03:39اس میں آپ پیسے ڈالیں
03:40اور اس میں سے ایک ٹکٹ جنریٹ کریں
03:42وہ ایک کیو آر کوڈ بنائے گا
03:44وہ کیو آر کوڈ سکین ہو جاتا ہے
03:46اس سے بھی آپ ڈریول کر سکتے ہیں
03:48اچھے یہ جو سسٹم آپ کہہ رہے ہیں
03:50جو متعارف کروایا جائے رہے ہیں
03:51یہ کن کن شہروں میں جو ہے وہ فال کیا جائے
03:53اب ہم نے جس طرح ڈیزائن کیا ہے
03:55یہ سسٹم پی آئی ٹی بی
03:57پرمنینٹلی آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم
04:00ہر شہر میں ہمیں مہیا کرے گا
04:02جتنی بھی بسے آئیں گی
04:03ان میں جو پہلے چیزیں لگی ہوئی ہیں
04:05فیلی ڈیٹرز اور پیمنٹ سسٹم
04:08وہ سارے پی آئی ٹی بی کے سسٹم کے ساتھ
04:11منسلک ہو جائیں گے
04:13چنانچہ آئندہ سے جتنی بھی پنجاب میں
04:16پی ٹی سی کو بھی شامل کیجئے
04:17پی ایم اے اور پی ٹی سی کی جتنی بھی
04:20بسوں کے پروجیکس ہیں
04:21چاہے وہ میٹرو پروجیکس ہیں
04:23چاہے وہ ٹرین ہے
04:24چاہے وہ فیڈر بسے ہیں
04:27وہ سب اسی سسٹم
04:29ٹی کیش کارڈ کے ذریعے چلائی جائیں گے
04:32شاہ صاحب یہ مجھے بتائیے گا
04:33کہ یہ ٹی کیش جو ہے
04:35یہ کن افراد کو سہولت فراہم کرے گا
04:37کیونکہ ہمارے یہاں پر سٹوڈنٹ کارڈ
04:39ایک علیدہ بنتا ہے
04:40تو کیا یہ سٹوڈنٹ کارڈ کو بھی سہولت فراہم کرے گا
04:42یا اس کے لیے ایک الگ کارڈ جو ہے
04:45وہ متعاریف کروایا جائے
04:45ہاں جی
04:46سٹوڈنٹ کے لیے ایک الگ پورٹل
04:49دیزائن کر دی گئی ہے
04:51ٹی کیش کے لیے بھی ایک پورٹل
04:52دیزائن کر دی گئی ہے
04:54اب آپ جب اس پورٹل پہ جائیں گے
04:56اگر آپ سٹوڈنٹ ہیں
04:57تو آپ سٹوڈنٹ ٹی کیش کارڈ کے لیے اپلائی کریں گے
05:00اور اگر آپ نارمل پیسنجر ہیں
05:02تو آپ ٹی کیش کارڈ کے لیے اپلائی کریں گے
05:05یہ دونوں کی الگ الگ پورٹل ہے
05:07سٹوڈنٹ ٹی کیش کارڈ کی ویریفکیشن
05:09سکول ایجوکیشن
05:10یا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کرے گا
05:12اور جب وہ سکول سے ویریفائی ہوگا
05:15تو اس کو ایک ڈیفرنٹ کلر کا کارڈ ملے گا
05:17ہوگا وہ بھی ای ایم وی کارڈ
05:19لیکن اس میں نہ بیلنس زیرو ہوگا
05:21اور سٹوڈنٹ کو مفت سفری سہولیات دی جائیں گی
05:25یہ سفری سہولیات منڈے سے فرائیڈے
05:29صبح چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک
05:32اور سیڈیڈے سنڈے نہیں دی جائیں گی
05:34چھٹیوں میں بھی نہیں دی جائیں گی
05:36گرمیوں کی چھٹیوں میں
05:37سردیوں کی چھٹیوں میں
05:38اور گورمنٹ ہالیڈیز میں یہ سہولت نہیں ہوگی
05:40باقی سب دنوں میں سٹوڈنٹس
05:43رزانہ دو ٹریپز کر سکیں گے
05:45فری آف کارڈ
05:46تو ہماری عام عوام کے لیے بتائیں
05:47کہ عام عوام کو یہ کارڈ کس طرح سے وہ چارج کروائیں گے
05:51اور کتنے چارج ہو سکے گا
05:52کہاں سے چارج کروائے جائے گا یہ کارڈ
05:54کسی بھی شہر میں میٹرو سٹیشن پہ چلے جائیں
05:57پیمنٹ کریں اور اس میں پیسے ایڈ کروا سکتے ہیں
06:00بینک کی برانچ سے کروا سکتے ہیں
06:02اپنی موبائل اپلیکیشن سے کروا سکتے ہیں
06:04ہماری والٹ سے بھی اس کو چارج کر سکتے ہیں
06:07کیش والا پیسنجر بھی جب جائے گا
06:09تو اس کو ایک کیو آر کورڈ پرنٹڈ ٹکٹ ملے گی
06:12وہ ایک کیمرے پر سکین ہوگی اور ٹرن سٹائل گھوم جائے گا
06:15جن کے پاس کارڈ نہیں ہوتے
06:17وہ بھی بغیر کسی تکلیف کے فائدہ اٹھا سکیں
06:32موسیقی
Comments