Skip to playerSkip to main content
Ek purana qila, ek raaz jo kabhi samajh nahi aaya... aur ek larki jo sach jaanne nikli. "Qilay Ka Jin" ek thrilling kahani hai Saira ki, jo andheray ke is raaz ka samna karti hai. Kya woh is jin ka raaz duniya ke samne laa payegi? Ya khud us raaz ka hissa ban jaayegi? Dekhiye is spine-chilling kahani mein suspense, horror aur adventure ka zabardast mel!

Agar aapko horror, mystery aur paranormal kahaniyaan pasand hain, toh yeh video miss na karein!

🔔 Subscribe karein aur bell icon zarur dabayein, taake aapko milti rahe aisi aur kahaniyaan!


#explorepage #QilayKaJin #horrorstory #urdustory #ParanormalKahani #mysterystory #urduhorrorstory #jinkikahani #hauntedfort #SairaAurJin #scarystories #romanurdustory #foryoupage #viralvideo
Transcript
00:00کراچی کے ایک دور دراز علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ہر شخص جانتا تھا کہ رات کے وقت جنگل میں نا جانا بہتر ہوتا ہے
00:08وہاں ایک پرانا قلعہ تھا جسے گاؤں والے جنوں کا ٹھکانا مانتے تھے
00:12مگر ایک رات ایک نوجوان لڑکی سارا جس کا دل جستجو سے بھرا تھا اس قلعہ کا راز جانے کی ٹھان لیتی ہے
00:20سارا نے سنا تھا کہ وہ قلعہ جسے ای شاموں کا قلعہ ہوں کہا جاتا تھا کسی جن کے قبضے میں ہے
00:30ایک رات ہو باہر آتا ہے اور ہر اس شخص کو اپنی لپیک میں لے لیتا ہے جو اس کا راز جانے کی کوشش کرتا ہے
00:35سارا جو کہ ایک محققت تھی اور حقیقت کو بے دھڑک جانچنے میں دلچسپی رکھتی تھی ایک رات چاندنی رات کو اس قلعہ کا رخ کرتی ہے
00:43وہ وہاں پہنچ کر قلعہ کی پرسراریت کا جائزہ لیتی ہے
00:47سارا کی نظر قلعہ کی دہلیس پر رک جاتی ہے جہاں کچھ عجیب نقوش نظر آ رہے تھے جو کسی غیر معمولی قوت کی نشاندے ہی کر رہے تھے
00:56سارا کے اندر ایک خوف تھا مگر اس کا تجسس اس خوف پر غالب آ گیا تھا
01:01جیسے ہی وہ قلعہ کے اندر داخل ہوتی ہے اچانک دروازہ بند ہو جاتا ہے اور باہر کی دنیا سے کر جاتی ہے
01:08قلعہ میں داخل ہوتے ہی سارا کو ایک خوفناک صد ہوا کا سامنا ہوتا ہے
01:12وہ جو قدم رکھتی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہر طرف کوئی سایا اس کا پیچھا کر رہا ہو
01:17سارا جیسے ہی گہرے کمرے میں قدم رکھتی ہے اسے ایک ہنسی کی آواز سنائی دیتی ہے
01:23جو گہری سرسراہت والی آواز میں بدل جاتی ہے
01:28ایک آواز سنائی دیتی ہے یہ آواز ایک جن کی تھی جس کا جسم سرمائی رنگ کا تھا اور آنکھیں جلتی ہوئی سیاہ تھی
01:36وہ جن سارا کے سامنے آتا ہے اور اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے
01:40جن کی آواز غصے سے بھری ہوئی تھی
01:45سارا جو کبھی نہیں ہاری تھی جن سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے
01:50وہ جانتی ہے کہ جن کا راج اس قلعے میں ہے لیکن اس کا ذہن اس حقیقت کو سمجھنے میں جت چکا ہے
01:55کہ اس جن کے پیچھے ایک گہرا راز چھپا ہوا ہے اور وہ اس راز کو بے نقاب کرنا چاہتی ہے
02:01سارا جن سے سوالات کرتی ہے تم کون ہو تم یہاں کیوں ہو
02:05جن ہستا ہے اور کہتا ہے میں وہ ہوں جسے تم انسان سمجھتے ہو لیکن میں ہمیشہ کا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا
02:13اس کے بعد جن سارا کو اپنے ماضی کی ایک خوفناک داستان سناتا ہے
02:17میں وہ جن ہوں جو اس قلعے میں ہزاروں سال سے قید ہوں
02:20اس قلعے کے اندر کی بدلی ہوئی زمین جس پر تم قدم رکھ رہے ہو میرے قدموں کی چھام ہے
02:27یہ میرا قلعہ ہے اور تم یہاں ایک دن میرے شکار بننے کے لیے آئے ہو
02:31سارا جن کی اس بات کا جواب دیتی ہے میں تمہیں اس قلعے سے باہر نکالوں گی
02:37سارا جن کے جال میں پھنس چکی تھی مگر اس کے اندر کا حوصلہ اسے ناکام نہیں ہونے دیتا
02:42وہ جن کے طاقتور صحر سے ازاد ہو کر ایک قدیم کتاب تلاش کرتی ہے
02:47جس میں اس جن کے قید کرنے کا طریقہ بتایا گیا تھا
02:50کتاب میں لکھا تھا کہ جن کو اس قلعے سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ ہے
02:55کہ اس کے جسم میں چھپے ہوئے اے روکہ نشان کو نکالا جائے
02:59سارا کی موجودگی اس جن کے لیے ایک چیلنج بن چکی تھی
03:02جن سارا کو دھکلتا ہے اور وہ واپس قلعے کے قلب تک پہنچ جاتی ہے
03:07جہاں ایک خالی کمرہ تھا
03:09آخرکار سارا جن کے جسم میں روکہ نشان تلاش کر لیتی ہے
03:12اور جن کے قید ہونے کی طاقت کو ختم کر دیتی ہے
03:15جب سارا قلعے سے باہر نکلتی ہے
03:19اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے
03:21اس کے اندر کی حقیقت پسندی اور اس کا تجسس آج بھی برقرار تھا
03:26مگر اس کا دل اب بھی خوف کے سائے سے لڑ رہا تھا
03:29اس رات کے بعد گاؤں والوں نے سنا کہ شاموں کا قلعہ ایک نیراز کے ساتھ اب بھی موجود تھا
03:35اور سارا نے اس جن کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا
03:38کیا وہ جن اب بھی وہاں تھا
03:41کیا وہ سارا کو دوبارہ تلاش کرے گا
03:44آہ وہ حقیقت جو سارا نے معلوم کی تھی ہمیشہ کیلئے چھپ جائے گی
03:48سارا کا دل بے قرار تھا
03:51اس نے سوچا تھا کہ جن کی روکو وہ جس طرح قلعے سے نکال چکی ہے
03:54وہ اب کبھی نہیں لوٹ سکے گا
03:56لیکن جب اس نے قلعے کے دروازے کو بند کیا
03:59اس وقت وہ بے خبر تھی کہ جن کی طاقت کبھی بھی کم نہیں ہوتی
04:03تھوڑی سی دیر کی بات ہوتی ہے کہ وہ پھر سے جاگ اٹھے
04:06کیا وہ جن اب بھی وہاں تھا
04:08جن کا جسم قلعے کے ایک کمرے میں چھپ کر تھا
04:11اور اس کا قید ہونا ایک وقتی امر تھا
04:14سارا کے جانے کے بعد گاؤں والے پھر سے وہ آوازیں سننے لگے
04:18جو پہلے کبھی اس قلعے سے آتی تھی
04:20رات کے وقت جب چاند کی روشنی چھتوں پر پڑتی گاؤں کے لوگ
04:24کہتے کہ انہوں نے قلعے کے قریب ایک سایہ دیکھا ہے
04:26جو انسان سے کہیں زیادہ قدیم اور پرسرار تھا
04:29پہلی بار جب یہ آوازیں سننے والے ایک شخص نے
04:33قلعے کی دیواروں کے اندر جا کر چمکتے ہوئے آنکھوں والے جن کو دیکھا
04:37اس نے بتایا کہ وہ جن وہاں چھپ کر بیٹھا ہوا تھا
04:40اور اس کا چہرہ اتنا دریدہ تھا
04:42کہ خوف کی ایک لہر لوگوں کے دلوں میں دوڑ گئی
04:44جن اب بھی قلعے کے کمرے میں تھا
04:47اور وہ انتظار کر رہا تھا
04:49کہ کوئی ایسا آئے جو اس کی آزادی کے راستے کو دوبارہ کھول سکے
04:52جن کو سارا نے ہمیشہ کیلئے قید کر دیا تھا
04:56مگر اس کا یہ قید مکمل نہیں تھا
04:58جن کی روح ازاد ہونے کے بعد
05:00کبھی مکمل طور پر قید نہیں رہ سکتی
05:02سارا نے جن کے جسم میں چھپے ہوئے گہرے نشانات کو نکال کر
05:07اس کی طاقت کو روک دیا تھا
05:08مگر وہ جانتی تھی کہ جن کبھی بھی واپس آ سکتا ہے
05:11ایک رات سارا نے خواب میں وہ جن دیکھا جو غصے سے لبریز تھا
05:16جن نے اس سے کہا
05:18تم نے مجھے اس قلعے سے نکال دیا تھا
05:20لیکن تمہاری جس تجو کبھی ختم نہیں ہوگی
05:23میں تمہیں دوبارہ پاؤں گا
05:24اور اس بار تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گا
05:27سارا نے اپنے آنکھوں میں خوف اور استراب محسوس کیا
05:31وہ جانتی تھی کہ جن کا انتقام کبھی نہ ختم ہونے والا تھا
05:34اور وہ اس کے پیچھے ہمیشہ پڑا رہ سکتا تھا
05:37اس کی زندگی اب اس جن کے خوف میں ڈوب چکی تھی
05:40اور وہ کبھی بھی یہ نہیں سمجھ پائی
05:42کہ جن کی حقیقت کیوں اتنی طاقتور ہے
05:44سارا نے جن کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھا تھا
05:47وہ گہری سچائی تھی
05:48لیکن اس کے دل میں ہمیشہ یہ سوال تھا
05:52کہ کیا جن کا راز دنیا تک پہنچنا چاہیے
05:54سارا نے اس حقیقت کو دل میں دفن کر دیا
05:58وہ جانتی تھی کہ جن کا راز اگر کسی نے جانا
06:01تو اس کے بعد دنیا کبھی بھی ویسی نہیں رہے گی
06:04اس لیے سارا نے اپنے دل میں ایک قسم کی چپ کہانی رکھی
06:08مگر ایک دن گاؤں کی لوگوں نے پھر سے کہا
06:11کہ قلعے میں جن کی روزندہ ہو چکی ہے
06:13اب وہ اپنے بدلے کی تیاری کر رہا ہے
06:15اور ان لوگوں کی روحوں کو جکڑنے کی کوشش کر رہا ہے
06:18جو وہاں آتے ہیں
06:19سارا نے اس بات کو سنا اور اس کا دل دھڑکنے لگا
06:23اس نے سمجھا کہ جن کا راز کبھی بھی مکمل طور پر چھپ نہیں سکتا
06:28اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے دوبارہ ظاہر ہو جائے گا
06:31سارا کے دل میں اب بھی یہ سوال گونج رہا تھا
06:35کہ کیا جن کا راز کبھی بھی مکمل طور پر دفن ہو پائے گا
06:38لیکن ایک بات وہ جانتی تھی
06:40کہ اس جن کی حقیقت ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گی
06:43اور شاید وہ خود بھی اس کے بدلے کا شکار ہوگی
06:46اور شاید وہ خود بھی مکمل طور پر چھپ نہیں سکتا
Be the first to comment
Add your comment

Recommended