00:00پہاڑوں کے دامن میں ایک قدیم گاؤں تھا جہاں ایک نیک دل کسان رحمت اللہ اپنی تین بیٹیوں زینب، فاطمہ اور عائشہ کے ساتھ رہتا تھا
00:09ان کی ماں برسوں پہلے ایک حادثے میں چل بسی تھی اور رحمت اللہ نے ماں اور باپ دونوں کا فرض نبھایا تھا
00:18وہ اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتا اور ہمیشہ ان کی حفاظت کا خیال رکھتا
00:23یہ گاؤں عام گاؤں جیسا نہیں تھا یہاں رات کے وقت عجیب آوازیں سنائی دیتی سائے حرکت کرتے دکھائی دیتے اور کچھ لوگ پر اسرار طور پر غائب ہو جاتے
00:35رحمت اللہ کی سب سے بڑی بیٹی زینب بہت بہادر تھی اور ہمیشہ ان باتوں کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتی تھی
00:43مگر گاؤں کے بزرگ کہتے کچھ سچائیاں جاننا بہتر نہیں ہوتا
00:48ایک دن گاؤں میں ایک اجنبی شخص حارس آیا وہ کہنے کو تو ایک تاجر تھا مگر اس کے انداز میں کچھ عجیب سی بات تھی
00:57وہ رحمت اللہ کے قریب ہوتا گیا اور اس نے زینب کے لیے رشتہ بھیجا
01:02رحمت اللہ کو یہ رشتہ اچھا لگا کیونکہ حارس بظاہر ایک محذب اور امیر شخص تھا
01:10زینب کو بھی حارس میں کوئی برائی نظر نہ آئی اور یوں ان کی شادی ہو گئی
01:15شادی کے کچھ دن بعد حارس زینب کو اپنے ساتھ شہر لے گیا
01:20مگر جیسے ہی وہ گاؤں سے نکلی عجیب و غریب واقعات شروع ہو گئے
01:26رات کے وقت ان کے کمرے میں دروازے خود بخود کھلنے لگے
01:29زینب کو لگتا کہ کوئی اسے دور سے دیکھ رہا ہے
01:33کبھی کبھی اسے سائے تیزی سے حرکت کرتے نظر آتے مگر جب وہ دیکھتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
01:40ایک دن جب حارس کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا
01:46زینب کو گھر کے تہخانے کا دروازہ نیم وا ملا
01:49اس کے دل میں وسوسے اٹھے
01:51کیونکہ حارس نے اسے کبھی بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تھی
01:55تجسس کے مارے وہ اندر داخل ہو گئی
01:59نیچے جاتے ہی ایک خوفناک منظر اس کا منتظر تھا
02:02تہخانے میں کئی صندوق رکھے تھے
02:05جن میں انسانی ہڈیاں اور پرانے کپڑے موجود تھے
02:09دیواروں پر کسی قدیم زبان میں کچھ تحریریں لکھی تھی
02:13جن میں کسی شیطانی قوت کا ذکر تھا
02:16ایک میز پر زینب کی تصویر رکھی تھی
02:19جس کے گرد سرخ مومبتیاں جل رہی تھی
02:22زینب کے ہاتھ پاؤں کامپنے لگے
02:25وہ فوراں وہاں سے باہر نکلی اور گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا
02:29مگر جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچی
02:32حارس وہاں کھڑا تھا
02:34حارس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی
02:37وہ آہستہ آہستہ زینب کی طرف بڑھا اور بولا
02:40تم نے وہ سب دیکھ لیا
02:42اب تمہیں بھی ان کی طرح انجام بھگتنا ہوگا
02:46زینب پیچھے ہٹی
02:48مگر حارس نے ایک صفاق کہہ کہا لگایا
02:51اور کہا میں جو کچھ کر رہا ہوں
02:53وہ صدیوں پرانی روایت ہے
02:55ہر سو سال بعد
02:56ہمیں ایک خاص لڑکی کو قربان کرنا ہوتا ہے
02:59تاکہ ہمارا خاندان ہمیشہ طاقتور رہے
03:02اور اس بار وہ لڑکی تم ہو
03:05زینب کو احساس ہو گیا
03:08کہ اگر وہ عقل سے کام نہ لے
03:10تو وہ بھی ان بے شمار بدقسمت
03:12لوگوں کی طرح ختم ہو جائے گی
03:14وہ خاموش رہی
03:16مگر آہستہ آہستہ اپنی جیب میں رکھی
03:18چاکو کو مضبوطی سے تھام لیا
03:20جیسے ہی حارس قریب آیا
03:22زینب نے پوری قوت سے
03:24اس کے بازو پر چاکو مار دیا
03:26اور تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی
03:28وہ سڑک پر دوڑتی گئی
03:30مگر حارس اس کے پیچھے تھا
03:32خوش قسمتی سے راستے میں
03:35ایک گاڑی آ رہی تھی
03:37جسے زینب نے ہاتھ دے کر روکا
03:39یہ گاڑی ایک بڑے شخص کی تھی
03:42جو زینب کو پہچانتا تھا
03:44اور فوراں اسے بٹھا لیا
03:46زینب واپس گاؤں پہنچی
03:48اور اپنے والد کو ساری حقیقت بتائی
03:50گاؤں کے لوگ بھی سن کر حیران رہ گئے
03:53مگر بزرگوں نے ایک اور چونکہ دینے والی حقیقت بتائی
03:57یہ کہانی پہلی بار نہیں ہوئی
04:00صدیوں سے گاؤں کی لڑکیاں غائب ہو رہی تھی
04:02مگر کوئی ثبوت نہ ملتا تھا
04:04حارس جیسے لوگ گاؤں کی بیٹیوں کو قربانی کے لیے لے جاتے تھے
04:09گاؤں کے تمام لوگ اکٹھے ہوئے اور پولیس کے ساتھ حارس کے گھر گئے
04:14مگر وہاں پہنچ کر جو دیکھا وہ مزید خوفناک تھا
04:18حارس کا گھر جل کر راک ہو چکا تھا
04:21تہخانے میں صرف جلی ہوئی ہڈیاں اور راک باقی تھی
04:25حارس کہیں نظر نہیں آ رہا تھا
04:27جیسے وہ ہوا میں غائب ہو گیا ہو
04:30رحمت اللہ نے اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنایا
04:33اور انہیں ہمیشہ اپنی حفاظت خود کرنے کی نصیحت کی
04:36مگر زینب کے دل میں ایک سوال ہمیشہ رہا
04:39کیا حارس واقعی مر گیا تھا
04:42یا وہ کسی اور شکل میں واپس آنے والا تھا
04:45اور اس رات جب زینب سونے کے لیے لیٹی
04:48تو اسے کھلکی کے باہر ایک سایاں دکھائی دیا
04:51وہی چمکتی ہوئی آنکھیں جو حارس کی تھی
04:54یہ کہانی سن کر آپ کیا سوچتے ہیں
04:57کیا زینب واقعی محفوظ ہے
04:59آخطرہ ابھی باقی ہے
Comments