رکوع 7 (آیات 51–57) میں بنیادی طور پر ’لعان‘ یعنی بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کے احکام بیان کیے گئے ہیں، جب گواہ موجود نہ ہوں۔ اس میں خاص ترتیب شامل ہے:
1. چار مرتبہ اللہ کی قسم لگا کر مرد کہے گا وہ سچا ہے۔
2. 0-2پانچویں مرتبہ کہے: “اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہو” ۔ 314-0اگر مرد یہ کرے، تو بیوی پر قذف کا قصاص (حد لگانا) رک جاتا ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔
424-0اسی طرح بیوی اگر مرد کی سچائی پر اعتراض کرے، چار قسمیں کھائے اور پانچویں میں کہے: “اگر میرا شوہر سچا ہو تو اللہ کا غضب ہو اس پر”، تو اُس پر بھی بددعاؤں کا نتیجہ ہوتا ہے، اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔
حکمت و مقصد: یہ سخت شرعی سلسلہ جھوٹے الزامات کے خلاف مضبوط روک ہے، تاکہ کسی کی بے-gunaah عزت کو تباہ نہ کیا جائے۔ نعمتِ الہی اور رحمت نہ ہوتی تو انسانوں کے راز بے گھسکے آشکار ہوسکتے تھے، لیکن اللہ نے آسانیاں عطا فرمائیں ۔
---
🔍 مختصر اردو تفسیر – رکن 7:
1. لعان کا طریقہ
بیوی پر ظلم و جھوٹا الزام لگانے سے بچاؤ کے لیے چار قسمیں + پانچویں میں لعنت کی شرط رکھی گئی ہے ۔
2. قصاص سے چھوٹ
اس نظام کے تحت مرد کا سر زد نہیں ہوتا اگر وہ حکم پورا کرے، اور اس سے بیوی پر حدِ قذف (کوڑے) نہیں لگتی بلکہ نکاح ختم ہوتا ہے۔
3. بیوی کی جانب سے رد دعویٰ
اگر عورت بھی ہرجانے والے انداز میں رد کرتی ہے، تو وہ بھی چار قسمیں کھائے، پانچویں میں لعنت کی شرع کو قبول کرے — اور نکاح ٹوٹ جائے۔
4. بتایا گیا حکمت کا مقصد
یہ نظام جھوٹے الزام کے خطرے اور خطرناک نتائج سے بچاؤ کے لیے ہے، تاکہ معاشرے میں عزت نفس برقرار رہے، اور اللہ کی رحمت سے لوگوں کو نجات ملے ۔ 1. عفت و عصمت