Skip to playerSkip to main content
Sniper series episode 63 a story full of thrill and suspense operation in waziristan most deadly operation in waziristan
#sniper
#thrill
#danger
#Waziristan
#Pakistan
#Army

Category

😹
Fun
Transcript
00:00موسیقی
00:30موسیقی
01:00موسیقی
01:30موسیقی
02:00اس بارڈ کے نگرانی کے لیے نگرانی ٹاور بھی قائم کیے گئے ہیں
02:02پہاڑی علاقوں میں سفر کرتے ہوئے سب سے بڑا مسئلہ سمت کا تائین ہوتا ہے
02:06نالوں کے موڑ پہاڑیوں کے بے تردیب پھیلاؤ
02:09درختوں کی بہتات اور ایک جیسے مناظر سے مشرق مغرب کی پہچان ہی ختم ہو جاتی ہے
02:14سمتوں کی پہچان کے لیے رات کے وقت تو ستارے مدد دیتے ہیں
02:17اور دن کے وقت یہ سہولت سورج مہیا کرتا ہے
02:20موسم عبرالود ہونے کی وجہ سے کمپس کو استعمال کر کے سورج اور ستاروں سے بے نیاز ہوا جا سکتا ہے
02:26مگر بدقسمتی سے اس وقت میرے پاس کمپس موجود نہیں تھا
02:29البتہ ایک سنائپر ہونے کے ناتے اتنا تجربہ ضرور تھا
02:32کہ میں کمپس کے بغیر بھی سفر کی سمت کو درست رکھ سکتا
02:35ایک عام آدمی اور آرمی میں سب سے بڑا فرق یہ ہے
02:38کہ سیول لوگ مغرب کی سمت کو اہمیت دیتے ہیں
02:40کیونکہ اس جانب کعبہ شریف بنتا ہے
02:42مگر آرمی میں ساری اہمیت شمال کی ہیں
02:44اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شمال کی سمت کو پہچاننا آسان ہے
02:48شمال کی سمت کی پہچان کے لیے دو چیزیں بہت عام ہیں
02:51پہلی چیز کمپس ہے
02:52مقناطیسی سوئی کو اگر عمودی محور پر اس طرح لٹکایا جائے
02:56کہ وہ افقی وضع میں آزاد گھوم سکے
02:58تو اس کی سمت ہمیشہ شمال کی طرف رہے گی
03:00کمپس مقناطیس کی اسی خاصیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اجاد کیا گیا ہے
03:04کمپس کی سوئی کا رخ ہمیشہ سمت شمال کی جانبی رہتا ہے
03:07دوسری چیز قطبی ستارہ ہے
03:09جو قطب شمالی کے اوپر چمکتا رہتا ہے
03:12اور کبھی بھی اپنی جگہ تبدیل نہیں کرتا
03:14خوش قسمتی سے اس ستارے کی پہچان بہت آسان ہے
03:17کیونکہ کچھ مخصوص چھمکے اس کے گھڑی کی سوئیوں کے مخالف رخ کرتے رہتے ہیں
03:21یہاں یہ بات مند نظر رہے
03:23کہ زمین کی مہوری اور مداری حرکت کی وجہ سے
03:25آسمان بھر کے تمام ستارے حرکت کرتے نظر آتے ہیں
03:28تمام ستارے مشرق سے طلوع ہوتے ہیں
03:30اور مغرب میں جا کر غروب ہوتے ہیں
03:32یہ ستارے چوبیس گھنٹوں میں اپنا چکر مکمل کرتے ہیں
03:35اور مکمل چکر سے کچھ زائد فاصلہ بھی دائے کرتے ہیں
03:38جو پورے چکر کے حصے کے برابر ہوتا ہے
03:40اس طرح جو ستارہ آج رات کے نو بجے آسمان پر جس مقام پر دکھائی دے گا
03:44کل اس مقام پر مقررہ وقت سے چار منٹ پہلے پہنچ جائے گا
03:48اس طرح ہفتے میں آدھا گھنٹہ اور تین ماہ کے بعد
03:50چھ گھنٹے کا فرق پڑتا ہے
03:52شمال کی پہچان کے لیے اور بھی کئی طریقے ہیں
03:54مگر یہ دو اہم طریقے ہیں
03:56بادل آہستہ آہستہ گہرے ہوتے جا رہے تھے
03:58میرے قدموں کی رفتار میں تیزی آ گئی تھی
04:00اس کے ساتھ ہی میری نظر دائیں بائیں کسی مناسب آڑ کی تلاش میں سرگردہ ہوئی
04:04کیونکہ بارش ہونے کی صورت میں مجھے کسی پناہ کی ضرورت پڑتی
04:07ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی
04:09لیکن ہوا کی وجہ سے یہ ہلکی بارش بھی زیادہ محسوس ہو رہی تھی
04:12چند بوندے گرنے کے بعد ان بوندوں نے
04:15یوریا خات کی طرح سفید دانوں کی شکل اختیار کر لی
04:18یہ اس بات کا مذر تھا کہ موسم زیادہ سرد ہو گیا ہے
04:21اور کسی بھی وقت باقاعدہ برف باری ہو سکتی ہے
04:23جن علاقوں میں برف پڑتی ہے
04:25وہاں برف باری کی ابتدا
04:26یوریا خات کی طرح سفید دانوں سے ہوتی ہے
04:29بلکہ جب اپریل مئی میں برف باری ختم ہونے لگتی ہے
04:32تب بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے
04:34یہ سفید دانے زمین پر گرتے ہی پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں
04:37البتہ اصل برف باری جو روئی کے گالوں کی صورت میں پڑتی ہے
04:41وہ اگر کم مقدار میں پڑے تو جلد ہی پگل جاتی ہے
04:44اور زیادہ دیر جاری رہنے کی صورت میں
04:46زمین پر اپنی شکل میں موجود رہتی ہے
04:48اور پھر آہستہ آہستہ تہہ بتہ یہ پہاڑوں کو سفید لباس پہنا دیتی ہے
04:52درجہ حرارت منفی ہونے کی وجہ سے اس کا پگھلنا رک جاتا ہے
04:56اور یہ کئی فٹ تک بلند ہو جاتی ہے
04:58وزیرستان میں یہ زیادہ سے زیادہ چار پانچ فٹ تک ہی پڑتی ہے
05:01البتہ شمالی لاقجات میں یہ کئی جگہوں پر چالیس پچاس فٹ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے
05:07کسی مناسب جگہ کی تلاش سے پہلے ہی ہوا کی شدت میں کمی آنے لگی
05:11اور اس کے ساتھ ہی بارش بھی ایک دم ختم ہو گئی
05:13کشمیر کی طرح اس علاقے کے موسم کبھی کوئی پتہ نہیں چلتا
05:16ایک دم بادلوں کا چھا جانا اور پھر اچانک ہی دھوپ نکلانا روزمرہ کا معمول ہے
05:21ایسی صورتحال قریباً ہر پہاڑی علاقے میں نظر آتی ہیں
05:24اس وقت بھی ایسا ہی ہوا
05:25گہرے بادل دائیں بائے ہوئے اور سورج پوری آب و تاپ سے چمکنے لگا
05:29میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی
05:31بادل مکمل طور پر غائب نہیں ہوئے تھے
05:33یقیناً سورج کے ساتھ ان کی آنکھ مچولی جاری رہتی
05:36میں جس نالے میں چل رہا تھا فرلانگ بھر کے فاصلے پر وہ نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر
05:41ایک سرہ شمال کے جانے مڑ گیا تھا جبکہ دوسرا جنوب کی طرف
05:44خود میرا روخ مغرب کی طرف تھا
05:46سامنے ایک سیدھی پہاڑی تھی جس کی چڑھائی اتنی مشکل تھی
05:49کہ میں اسے اوپر سے عبور کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا
05:52قریب جا کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ جنوب کی سمت
05:55اس پہاڑی کی بلندی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے
05:58میں بھی جنوب کی طرف مڑ کر ترچہ ہی بلندی کی طرف کامزن ہو گیا
06:01تھوڑا تھوڑا بلند ہو کر آخر میں پہاڑی کے اوپر پہنچ ہی گیا
06:05وہاں سے اگلی طرف اترنا آسان تھا
06:07شدید سردی کے باوجود مجھے پسین آ گیا تھا
06:10دوسری جانب تھوڑا سا اترتے ہی مجھے پہاڑی چشمہ نظر آ گیا
06:13جو پانی کی پتلی دھار کی صورت میں نیچے گر رہا تھا
06:16گرمیوں کے موسم میں ان چشموں میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے
06:20سردیوں میں زیادہ تر چشمیں تو منجمد ہو جاتے ہیں
06:22اور جو جاری رہتے ہیں ان میں بھی پانی کی مقدار نہائیت کم ہوتی ہے
06:26پانی کی بوتل کو خالی کر کے میں نے تازہ چشمے کا پانی بھرا
06:29اور کنارے بیٹھ کر کھانا کھانے لگا
06:31دیسی گھی سے بنی ہوئی روٹیاں جن پر چنے کی دال کسالن پڑا تھا
06:35سردی کی وجہ سے روٹیاں اکڑ کر سخت ہو گئی تھی
06:37دائیں بائیں سے خوشک ٹہنیاں جمع کر کے میں نے آگ جلائی
06:40اور روٹیاں آگ پر سینکنے لگا
06:42میرے سفری تھیلے میں ضرورت کا قریباً تمام سامان موجود تھا
06:46پہاڑی علاقے اور جنگلات میں سفر کرتے ہوئے
06:48مقامی لوگوں کے ملنے کا بہت زیادہ اتفاق ہوتا ہے
06:51ایسی جگہوں پر عموماً لوگ اچھے مہمان نواز بھی ہوتے ہیں
06:55مگر ہم سنائپرز پہلے ہی سفر کی ضروریات کا بندوبست کر کے چلتے ہیں
06:59اور ایسے اتفاقات کو کم ہی نظر میں رکھتے ہیں
07:01کھانا کھا کر میں نے ملک پاوڈر سے چائے بنائی
07:04پیالی کو مو لگاتے ہی ایک دم پلوشہ میرے خیالوں میں آگئی
07:07چائے پیکر میں ایک بار پھر آگے جانے کے لیے تیار تھا
07:10اگر راستہ نہ بنا ہو تو عموماً اترائی چڑھائی سے بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے
07:14اس جانب ڈھلان کافی دشوار تھی
07:16اور ایسی ڈھلان میں پاؤں کے ذرا سا غلط پڑ جانے پر
07:19انسان گھنٹوں کا سفر سیکنڈز میں تیہ کر لیتا ہے
07:22مگر جہاں اس کا سفر رکتا ہے وہاں سے آگے جانے کے لیے
07:25اسے لا محالہ کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے
07:28اور جسے کندھیں میسر نہ ہو
07:29اسے بھیڑیوں وغیرہ کی ہی خوراک بننا پڑتا ہے
07:32مجھے نہ تو بھیڑیوں کی خوراک بننے کا شوق تھا
07:34اور نہ پرائے کندھوں پر سفر کرنے کی خواہش
07:37اس لیے سمبل سمبل کر اترنا پڑا
07:39نالے میں اتر کر میرے قدموں میں تھوڑی تیزی آگئی
07:41کے گرنے وغیرہ کا خطرہ ختم ہو گیا تھا
07:43گو پہاڑی نالے بھی بتدریج نیچے اترتے جاتے ہیں
07:46مگر یہ اترائی بہت ہلکی اور خفیف ہوتی ہے
07:49سورج کے نظر آنے کی وجہ سے
07:50میرے لیے سمت کا تائین مشکل نہیں رہا تھا
07:53سپہر تک میں بغیر کسی خاص واقعے کے آگے بڑھتا رہا
07:56اس طوران بادلوں اور سورج کی آنکھ مچولی جاری
07:59مگر بارش نہیں ہوئی تھی
08:00میری نظریں ایک بار پھر کسی مناسب جگہ کی تلاش میں سرگردہ ہو گئیں
08:04جہاں میں رات گزار سکتا
08:06اگر موسم صاف ہوتا تو میں درفتوں میں مچان بنانے کو ترجیح دیتا
08:09مگر بادلوں کی وجہ سے میں کھلے آسمان تلے لیٹنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا
08:13ایک تو یوں بھی سردی کافی زیادہ تھی
08:15جبکہ میرے پاس ہلکا سا سلیپنگ بیگ موجود تھا
08:18جو کسی بیرونی امداد کے بغیر سردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا
08:22بیرونی امداد سے میری مراد آگ کا آلاؤ اور سر پر چھت کی موجودگی تھی
08:26جلد ہی مجھے تنگ دھانے کا ایک چھوٹا سا غار نظر آ گیا
08:30دھانے کے سامنے اگی ہوئی گھنی چھاڑی کی وجہ سے غار کا دھانہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا
08:35میری نظر بھی بس اتفاق نہیں اس پر پڑی تھی
08:37سورج ڈوبنے میں بھی ابھی تک تھوڑی دیر تھی
08:40میں گھنٹا پون گھنٹا اپنا سفر جاری رکھ سکتا تھا
08:43مگر آگے سر چھپانے کے لیے کوئی مناسب تھکانے کا ملنا متعین نہیں تھا
08:47اس لیے میں نے وہی رات گزارنے کا فیصلہ کر لیا
08:49سب سے پہلے میں نے جھاڑیوں سے ٹہنیاں توڑ کر جھاڑو بنایا
08:52اور غار کا فرش صاف کیا
08:54پھر رات کو جلانے کے لیے خوشک لکڑیاں اکٹھی کی
08:57لکڑیاں اکٹھی کر کے میں نے دائیں بائیں
08:59فرلانگ دو فرلانگ کے علاقے میں گھوم کر
09:01پانی کا چشمہ تلاش کرنے کی کوشش کی
09:03مگر مجھے ناکامی ہوئی
09:05زیادہ تگو دو میں نے اس لیے نہیں کی تھی
09:07کہ مجھے بس وہاں رات ہی گزارنا تھی
09:08واپس غار کی جانب آتے ہوئے میری نظر
09:11تین افراد پر پڑی
09:12وہ اچانک ہی جھاڑیوں کے جھنٹ سے نکلے تھے
09:14ایک کے کندے پر کلوز بٹ کی کلیشنکوف لٹکی ہوئی تھی
09:17جبکہ دو خالی ہاتھ تھے
09:19البتہ ان کے پاس پسطول وغیرہ کی موجودگی ممکن ہو سکتی تھی
09:22انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا
09:23قریب پہنچتے ہی میں نے انہیں سلام کہا
09:25سلام کا جواب دیتے ہوئے کلیشنکوف والے نے
09:28مانی خیز لہجے میں پوچھا
09:29کہاں سے آرہے ہو بھائی
09:30میں نے کہا انگور اڈے سے
09:31یہ بتانے میں مجھے کوئی قباہت نظر نہیں آئی تھی
09:34وہ بولا ہم اس علاقے کے لگتے تو نہیں ہو
09:37کہاں کا ارادہ ہے
09:38اس مرتبہ بھی ہتھیار بردار نہیں پوچھا تھا
09:40باقی دو خاموش کھڑے عجیب سی نظروں سے مجھے گھور رہے تھے
09:43یقیناً اس نے میرے لہجے کے فرق سے مجھے پہچانا تھا
09:46وزیرستان کی پشتو پشاور میں بولی جانے والی پشتو سے بلکل مختلف ہے
09:50بلکہ پنجابی کی طرح ہر علاقے کی پشتو کے لہجے اور الفاظ کی ادائیگی میں اچھا خاصا فرق ہے
09:56مجھے پشتو پر تو عبور تھا مگر میں پشاوری لہجے میں بولتا تھا
10:00وزیرستان کے لوگوں کا لہجہ بلکل عجیب سا ہے
10:02اتنا کہ شروع شروع میں ان کی بات میری سمجھ میں نہیں آتی تھی
10:05البتہ چند ماہ کے بعد میری سمجھنے کی علچن تو دور ہو گئی
10:09لیکن ابھی تک ان کا سا لہجہ نہ اپنا سکا تھا
10:11اس معاملے میں پلوشہ بہت دیس تھی
10:13وہ وزیرستان پشاور کرک لکی مروت ہر لہجے کی پشتو بول سکتی تھی
10:18میرے ساتھ رہتے ہوئے وہ اچھی خاصی پنجابی بھی بولنے لگی تھی
10:21مختلف زبانیں سیکھنے کے معاملے میں اس میں خدادات صلاحیت موجود تھی
10:25میں نے تیکھے لہجے میں کہا یقیناً اس علاقے میں بسنے والے تمام پیدائشی یہاں کے نہیں ہے
10:30اس نے اس بات میں سر ہلاتے ہوئے کہا صحیح
10:32یہ کہتے ہوئے اس نے رائفل لینے کے لیے میری جانب ہاتھ بڑھا دیا
10:39ان کی شکلوں سے واضح نظر آ رہا تھا کہ وہ آوارہ گرد قسم کے اچکے تھے
10:43اس علاقے میں مجاہدین بھی دو دو تین تین کی ٹولیوں میں نظر آ جاتے ہیں
10:46مگر ان کے چہروں پر ایک خاص قسم کی نرمی اور پاکیزگی ہوتی ہے
10:50یہ تینوں تو شاید پانچے ماہ سے نہائے بھی نہ ہوں
10:53ایسے لٹیروں کے بارے میں مجھے کمانڈر نصر اللہ پہلے سے مفصل طور پر آگاہ کر چکے تھے
10:57کہ یہ اچک کے ہتھیار دیکھنے کے بہانے لیتے ہیں
11:00اور اسی ہتھیار سے صاحب ہتھیار کا کام تمام کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں
11:04لیکن مجھے ایسے لوگوں سے نمٹنے کا طریقہ آتا تھا
11:07میں خوشدلی سے بولا ہاں یلو
11:08کندے سے کلیشن کوف اتارتے ہوئے میں نے میگزین اتار کر جیب میں ڈالی
11:12اور اس کے ساتھ ہی نیفے میں اڑسا ہوا گلوک بھی ہاتھ میں پکڑ لیا
11:15جیسے بظاہر پسٹول کا جائزہ لینے لگا ہوں
11:18اب وہ خالی کلیشن کوف سے مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے
11:21اور اپنے کندے سے لٹکی ہوئی کلیشن کوف اتارنے کی کوشش میں
11:24وہ پسٹول کی گولی کا نشانہ بن جاتا
11:26میری حکمت عملی دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی چمک ماند پڑ گئی تھی
11:30ایک دفعہ خالی کلیشن کوف کاک کر کے اس نے ٹرگر دبایا
11:33اور پھیکی مسکراہت سے کلیشن کوف واپس میری جانی بڑھا دی
11:37بولا واقعی بہت اچھی رائفل ہے
11:39میں نے کچھ کہے بنا اس کے ہاتھ سے کلیشن کوف لے کر میگزین چڑھائی
11:42اور کلیشن کوف کو کاک کر کے پسٹول نیفے میں اڑس لیا
11:45میں ان کے سامنے نہ تو کوئی ڈر خوف اور کمزوری ظاہر کرنا چاہتا تھا
11:50اور نہ انہیں کوئی ایسا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ مجھ پر وار کر سکے
11:53اتنا تو وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ میں انہیں پہچان چکا ہوں
11:56اور یہاں ان کی دال گلنے والی نہیں
11:58مزید وقت برباد کیے بغیر ہتھیار بردار بولا شکریہ بھائی چلتے ہیں
12:02یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ کیا
12:05اور وہ تمام آگے بڑھ گئے
12:06میں وہیں کھڑا انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا
12:09میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے مرتے ہی وہ وار کر گزریں
12:11ان کے جھاڑیوں کے جھنڈ میں اوچل ہوتے ہی میں غار کی طرف بڑھ گیا
12:15وہ غار تھوڑا بلندی پر تھا
12:17سورج پہاڑوں کے پیچھے غائب ہو چکا تھا
12:19مگر غروب نہیں ہوا تھا
12:20غار تک پہنچنے کے لیے بھی میں نے احتیاط کا مظاہرہ کیا تھا
12:24غار کے دھانے کے سامنے موجود جھاڑی کے اقب میں بیٹھ کر
12:26میں نالے کی طرف دیکھنے لگا
12:28وہاں سے پورا نالہ نظر آ رہا تھا
12:30وہاں بیٹھے ہوئے مجھے چند لمحے ہی گزرے تھے
12:32کہ وہ تینوں محتاط انداز میں
12:34واپس جاتے نظر آئے
12:35خلیشن کے علاوہ انہوں نے میرے پاس گلوک نائنٹین بھی دیکھ لیا تھا
12:39اتنے قیمتی ہتھیاروں کے حصول کے لیے
12:41وہ موزی کچھ بھی کر سکتے تھے
12:42ایسے آوارہ گرد ظالم اور بزدل ہوتے ہیں
12:45سامنے سے کبھی وار نہیں کرتے
12:46ہمیشہ پیٹھ پیچھے اور چھپ کر وار کرتے ہیں
12:49ایسے لوگ ضمیر احساس اور اخلاق نام کے کسی جذبے سے واقع نہیں ہوتے
12:53وہ احتیاط اور تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے
12:56یقیناً وہ یہی سمجھ رہے تھے
12:58کہ میں وہاں سے آگے بڑھ گیا ہوں
12:59میرے ہونٹوں پر زہریلی ہنسینہ مدار ہوئی
13:01میرا غار تک محتاط انداز میں پہنچنا کام آ گیا تھا
13:05ان کے آگے بڑھتے ہی میں غار میں گھز گیا
13:07اب یقیناً وہ کافی دور تک مجھے ڈھونٹتے ہوئے جاتے
13:10یوں بھی وہاں کوئی متعین راستہ تو موجود نہیں تھا
13:13کہ میری تلاش میں انہیں آسانی ہوتی
13:15وہ نالے کا موڑ مڑ کر میری نظروں سے اوجل ہو گئے
13:18شام کا ملگجہ انتھیرہ ہر طرف پھیل گیا تھا
13:21وضو کے لیے پانی تو موجود نہیں تھا
13:23اس لیے میں نے تیمم کر لیا
13:24تیمم بھی اللہ پاک کی نعمت ہے
13:26پانی کی غیر موجودگی میں بھی
13:28بندے کو اللہ پاک کے دربار میں
13:30حاضری کی اجازت مل جاتی ہے
13:32نماز پڑھ کر میں نے اپنی گرم چادر غار کے دھانے پر لٹکا دی
13:35تاکہ آگ جلانے پر
13:37اس کی روشنی دور تک نظر نہ آئے
13:38گو دھانے کے سامنے اچھی خاصی گھنی جھاڑیاں موجود تھی
13:41لیکن پھر بھی میں نے احتیاط کا دامن
13:43ہاتھ سے چھوڑنا مناسب نہ سمجھا
13:45روشنی کو چھپانے کے ساتھ وہ چادر
13:47ہوا وغیرہ کے لیے اچھی خاصی رکاوٹ بنتی
13:49پانی بس اتنا ہی بچا تھا کہ میں
13:51بمشکل ایک پیالی چائے کی بنا سکتا
13:53اور کچھ گھونٹ پی سکتا
13:55آگ کی وجہ سے غار کا ماحول کافی خوشگوار ہو گیا تھا
13:58رات گئے سردی کی وجہ سے
13:59میری آنکھ کھل گئی
14:00آگ کب کی بجی ہوئی تھی
14:02کوئی چنگاری تک نظر نہیں آ رہی تھی
14:04دوبارہ لکڑیوں کو ترتیب دے کر میں نے آگ روشن کر لی
14:06چند لمحوں بعد دوبارہ خوشگوار حددت پھیل گئی
14:09میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہونے لگی
14:11صبح صویر ہی سامان سمیٹ کر میں آگے بڑھ گیا
14:14نومبر کی طویل رات نے میری نیند اور تھکن کا صدباب کر دیا تھا
14:18کلومیٹر بھر بعد ہی مجھے شفاف پانی کا چشمہ نظر آ گیا تھا
14:22خوب سیر ہو کر پانی پی کر
14:24میں نے اپنے پاس موجود دونوں بوتلیں بھر لی
14:26آسمان پر گزشتہ روز کی طرح ہی
14:28بادلوں کے آوارہ جھنڈ مٹرگشت کر رہے تھے
14:31تیز ہوا بادلوں کو بکھیرنے سے زیادہ اکٹھا کرنے پر مائل تھی
14:34ہوا کی کوششیں جلد ہی رنگ لائیں
14:36اور پانی کے قطرے تیز سوئیوں کی طرح میرے گالوں پر پڑنے لگے
14:40میری نظریں کسی پناہ کی تلاش میں گھومنے لگیں
14:42مگر کوئی جائے پناہ دکھائی نہ دی
14:44اس لیے رکھ کر بھیگنے کی بجائے میں نے چلتے ہوئے بھیگنے کو ترجیح دی
14:48رفتہ رفتہ بارش تیز ہونے لگی تھی
14:50اور پھر بارش کے قطروں نے یوریا خات کے دانوں کسی شکل اختیار کر لی
14:54زمین پر چاروں طرف سفیدی نظر آنے لگی
14:56میری چادر کوٹ کپڑے جوتے ٹوپی وغیرہ ہر چیز مکمل طور پر گیلی ہو چکی تھی
15:01تیز ہوا نے سردی کی شدت میں کئی گناہ اضافہ کر دیا تھا
15:04میری متلاشی نظریں مسلسل کسی جائے پناہ کی تگو دو میں تھی
15:08مگر مجھے ناکامی ہو رہی تھی
15:10اگر میں جلد ہی کوئی پناہ تلاش نہ کر پاتا
15:12تو وہ سردی مجھے کوئی جانی نقصان بھی پہنچا سکتی تھی
15:15جس طرح گرمیوں میں ہیٹ سٹروک جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے
15:19اسی طرح سردیوں کا حملہ بھی جان لیوہ ثابت ہو سکتا ہے
15:22جسے فروسٹ بائٹ کہتے ہیں
15:24سردیوں میں سب سے بڑا خطرہ فروسٹ بائٹ کا ہوتا ہے
15:26جس میں ہاتھ پاؤں یا سردی کی شدت سے کالے پڑ جاتے ہیں
15:30اور ان کا علاج کاٹنے کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا
15:32گو فروسٹ بائٹ کا خطرہ زیادہ تر
15:35گلیشئر سیاچن اور کارگل وغیرہ کے جانب ہوتا ہے
15:37مگر بے احتیاطی اور مسلسل سردی کی شدت میں گھرے رہنے کے باعث
15:41وزیرستان میں بھی اس امکان کو رب نہیں کیا جا سکتا
15:44اس کے علاوہ ہائپو تھرمیاں بھی ہو سکتا ہے
15:46ڈی بلوک پر موجود اپنے فوجی بھائیوں سے مجھے یہ خبر پتا چلی تھی
15:50کہ برف میں سفر کرتے ہوئے برفانی بوٹوں کی غیر موجودگی میں
15:54اس یونٹ کے ایک آدمی کو فروسٹ بائٹ ہو گیا تھا
15:57جس کی وجہ سے اس غریب کے پاؤں کا پنجا کٹ گیا تھا
15:59اس وقت میرے ساتھ بھی ویسی ہی صورتحال پیش آ رہی تھی
16:02میرے پاؤں میں پہنے سپورٹ شیوز ماں جرابوں کے بالکل گیلے ہو گئے تھے
16:06سفر شروع کرتے وقت بارش کے امکان کو نظرانداز نہ کرنے کے باوجود
16:10میں انگور اڈے سے چلتے وقت کوئی وارٹر پروف کوٹ یا رین کوٹ ساتھ نہیں رکھ سکا تھا
16:15نتیجے میں مجھے اس قسم کی صورتحال سے واسطہ پڑ گیا تھا
16:19بارش کے سفید دانے ایک ہی تسلسل سے گر رہے تھے
16:22اور پھر ان دانوں نے روئی کے گالوں کی شکل اختیار کر لی
16:24ہوا کی تیزی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا
16:27صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی تھی
16:29اگر ہوا رک جاتی تب بھی سردی کی شدت میں کمی آ جاتی
16:32کیونکہ برف باری ہوتے وقت اگر ہوا نہ چل رہی ہو
16:35تو سردی اتنی زیادہ محسوس نہیں ہوتی
16:37البتہ تیز ہوا سردی میں اضافے کا باعث بنتی ہے
16:40بلیزرڈز یعنی برفانی توفانوں سے دکھاؤ کے حالات بھی ابتر ہو جاتے ہیں
16:45بمشکل چند گز کے فاصلے تک ہی دیکھا جا سکتا ہے
16:47ایسی صورتحال میں کسی غار کا ملنا اور بھی مشکل ہو گیا تھا
16:51اچانک میری نظر پتھر کی ایک بڑی چٹان پر پڑی
16:54جس کے ساتھ گھنی جھاڑیاں بھی موجود تھی
16:56میں اس کے کونے میں دوبک کر بیٹھ گیا
16:58گو اس وقت ہوا کے چلنے کی سمت کا تائیو نہیں کیا جا سکتا تھا
17:01کہ کبھی ہوا مشرق کی جانب سے آتی محسوس ہوتی
17:04کبھی مغرب اور کبھی شمال جنوب کی طرف سے
17:06مگر اس وقت میرے ایک جانب وہ بڑی چٹان تھی
17:09دوسری جانب گھنی جھاڑیاں
17:10اقب میں پہاڑی کی ڈھلان اور سامنے اٹھی ہوئی زمین
17:13سر پر بھی چٹان نے سایا کیا ہوا تھا
17:16ہوا سے جان چھوٹتے ہی چند لمحوں کے لیے
17:18تو مجھے بہت اچھا محسوس ہوا
17:19لیکن رفتہ رفتہ گیلے کپڑے مجھ پر کپ کپی تاری کرنے لگے
17:23اس سردی سے مجھے آگ کی تپشی نجات دے سکتی تھی
17:26مگر ایسی حالت میں آگ کسی کرامت ہی سے جلائی جا سکتی تھی
17:29اور کرامت کا ظہور اللہ پاک کی طرف سے
17:31کسی ولی اللہ کے ہاتھ پر ہوتا ہے
17:33مجھ جیسے گناہگار کو دنیاوی اسباب ہی بروے کار لانے پڑتے ہیں
17:37میرے پاؤں سن ہونے لگے تھے
17:39ٹانگیں کپ کپا رہی تھی اور باقی جسم پر لرزہ تاری تھا
17:42ہاتھ البتہ کچھ بہتر حالت میں تھے
17:44کہ میں نے چمڑے کے دستانے ڈالے ہوئے تھے
17:46مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا
17:47کہ رگوں میں دوڑتے خون کی رفتار میں کمی آنے لگی ہو
17:50وہ عذیت مجھ جیسے سخت جان سنائپر کی برداشت سے باہر ہونے لگی تھی
17:54اچانک میرے دماغ میں پلوشہ کا خیال آیا
17:56کہ کہیں وہ اس دوفان میں نہ پھز گئی ہو
17:58میں دل ہی دل میں اللہ پاک سے اس کی بہتری کی دعا مانگنے لگا
18:02کچھ دیر مزید وہاں گزار کر مجھے لگا
18:04کہ شاید میں وہیں اکڑ کر مر جاؤں گا
18:06مجبوراً ایک بار پھر آڑ سے باہر نکلنا پڑا
18:09چلتے ہوئے کم از کم مرنے کا خطرہ تو نہیں رہتا
18:11زمین پر چھ سات انچ سے زیادہ برف پڑ چکی تھی
18:14اور ابھی تک برف کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے
18:17بعض اوقات تو برف باری تین چار دن
18:20بلکہ ہفتہ ہفتہ مسلسل جاری رہتی ہے
18:22اور ایسا عموماً برف باری کی شروعات میں ہوتا ہے
18:25موسم کی پہلی برف باری پہاڑوں کو سفید کفن پہنا دیتی ہے
18:28اور اس برف باری میں اگر کسی شخص کو سر چھپانے کا ٹھکانہ نہ مل سکے
18:32تو اسے بھی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے
18:34آگ میں جلنے کی طرح سردی میں جمنا بھی انتہائی عذیتناک اور دردناک ہوتا ہے
18:39اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا کہنا کافی ہوگا
18:42کہ جہنم کے عذابوں میں سردی کے عذاب کا بھی ذکر ہوا ہے
18:45پیدل چلتے ہوئے میں دوبارہ ہوا کے عذاب کا شکار تو ہو گیا تھا
18:49مگر بیٹھے رہنے کی حالت میں جو باؤں سن ہو رہے تھے
18:52اور جسم کا خون جمتے ہوئے محسوس ہونے لگا تھا
18:54وہ کیفیت جاتی رہی تھی
18:56میں صبح بغیر ناشتے کے چلا تھا
18:57پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے میں چائے نہ بنا سکا
19:00پانی ملنے کے بعد بھی میں نے چائے کا ارادہ دوپہر کے کھانے تک ماخر کر دیا تھا
19:04اور اب چائے کی طلب کے ساتھ مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی
19:07چائے کا تو موقع نہیں تھا
19:08البتہ بھوک کا سدھ باب ہو سکتا تھا
19:11جھاڑوں کی آڑ لے کر میں نے پشت پر لٹکے
19:13تھیلے سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر
19:14بسکٹ کے دو پیکٹ چبائے
19:16مجھے پانی کی سخت حاجت محسوس ہوئی
19:19میرے پاس موجود بوتل میں پانی اتنا تھنڈا ہو چکا تھا
19:21کہ میں دو تین گھونٹ سے زیادہ نہ پی سکا
19:23سفری تھیلے کو دوبارہ پشت پر لات کر
19:26میں چل پڑا
19:26بسکٹ کھانے کے بعد بدن میں تھوڑی طاقت آ گئی تھی
19:29جس سے میری رفتار میں بھی اضافہ ہو گیا تھا
19:32اب مجھے اس وقت تک چلتے رہنا تھا
19:34جب تک سر چھپانے کی کوئی مناسب جگہ نہ مل جاتی
19:36وزیرستان ایسا علاقہ ہے
19:38جہاں دور تراز کی پہاڑیوں میں
19:40لوگوں نے گھر بنائے ہوئے ہیں
19:41یہ لوگ اکتوبر کے آخر اور نومبر کے
19:44اوائل ہی میں سردی سے بچاؤ کی غرض سے
19:46میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں
19:48جہاں فروری مارچ تک وقت گزار کر
19:50یہ گرمیوں کے آنے سے پہلے واپسی کا رخ کرتے ہیں
19:53البتہ وزیرستان کے بڑے شہروں
19:55اور ایسے دہاتوں کے لوگ
19:56جن کے گھر نسبتاً ہموار جگہوں پر بنے ہوتے ہیں
19:59وہ سردیاں بھی یہی گزارنا پسند کرتے ہیں
20:01وزیرستان سے ملکہ افغانستانی علاقے کے لوگوں کی
20:04بودوباش کا طریقہ کار بھی بلکل یہی ہے
20:06اور اسی وجہ سے اس وقت میرا زیادہ دھیان
20:09کسی ایسے ویران مکان کی تلاش تھا
20:11جو مجھے اس عذیتناک سردی سے چھٹکارہ دلا دیتا
20:14ہوا کی شدت میں ہلکی سی کمی ہوئی
20:16مگر روئی کے گالوں کا حجم زرہ بڑا ہوا
20:18ساتھ ہی برف گرنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو گیا تھا
20:21دھند بھی پہلے سے گہری ہو گئی تھی
20:23میں نالے کی تہہ میں چل رہا تھا
20:25اچانک مجھے خیال آیا کہ دھند کی وجہ سے
20:27بلندی پر بنے ہوئے مکان نظر نہیں آسکتے
20:29اور اس علاقے کے لوگ نالے کی تہہ کی بجائے
20:32دھلان پر مکان بناتے ہیں
20:33یہ خیال آتے ہی میں حمد کر کے
20:35نالے کے دہنی جانب ترچہ ہو کر
20:37دھلان پر چڑنے لگا
20:39برفانی بوٹ وزن میں بھاری ہوتے ہیں
20:41اتنا کہ عام زمین پر انہیں پہن کر چلنا
20:43ایک عذاب ہی ہوتا ہے
20:45دونوں بوٹوں کا وزن پانچ کلو گرام کے بقدر ہوتا ہے
20:47مگر وہ پہن کر برف میں چلنا نہائیت آسان ہوتا ہے
20:51ان کے ساتھ فسلنے کا خطرہ بھی نہائیت کم ہوتا ہے
20:53اور پاؤں سردی کی وجہ سے خراب بھی نہیں ہو پاتے
20:55اس وقت میں نے بہترین کالٹی کے سپورٹس بوٹ پہنے ہوئے تھے
20:59لیکن وہ بوٹ مسلسل ہونے والی بارش
21:01اور برف باری کی وجہ سے گیلے ہو گئے تھے
21:03اور چڑھائی چڑھتے ہوئے میں بار بار فسل رہا تھا
21:06تازہ پڑی ہوئی برف پاؤں کے نیچے سے سرک رہی تھی
21:08مجبوراً مجھے ایک خوشک لکڑی ہاتھ میں پکڑ کر چلتے ہوئے
21:12اس کا سہارہ لینا پڑا
21:13فسلن کی وجہ سے میری رفتار کافی سست ہو گئی تھی
21:15البتہ بلندی میں چڑھنے کی وجہ سے میری مشکت میں اضافہ ہو گیا تھا
21:19جس کی وجہ سے سردی کا احساس تھوڑا کم ہو گیا تھا
21:22سنبل سنبل کر چلنے کے باوجود میرا پاؤں ایک ہموار پتھر پر فسلا
21:26اور میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا
21:28مو کے بل گرتے وقت میں نے بمشکل اپنا چہرہ پتھر سے ٹکرانے سے بچایا تھا
21:32لکڑی میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی
21:34میں لڑکتا ہوا نیچے جانے لگا
21:36پندرہ بیس فٹ نیچے ایک جھاڑی اگر نہ روکتی
21:39تو میں دوبارہ نالے کی تہہ میں پہنچ گیا ہوتا
21:41میری جسمانی حالت بھی ناگفتہ بے تھی
21:43لڑکتے ہوئے مجھے اچھی خاصی چوٹنے لگی تھی
21:45سب سے خطرناک چوٹ جھاڑی میں ٹکنے سے پہلے
21:48ایک بڑے پتھر کے میری کنپٹی پر ٹکرانے سے ہوئی تھی
21:51سر پر گرم اونی ٹوپی کی موجودگی کے باوجود
21:54میرا سر اس زور سے ٹکر آیا تھا
21:56کہ میری آنکھوں میں نیلے پیلے تارے چمکے
21:58اور میری آنکھیں بند ہو گئیں
22:04چینل کو سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکن پر کلک کیجئے
22:07تاکہ آپ کو تمام ویڈیوز فوراں ملتی رہیں
Comments

Recommended