Sniper series episode 52 a story full of thrill and suspense operation in waziristan most deadly operation in waziristan
#sniper
#thrill
#danger
#Waziristan
#Pakistan
#Army
#sniper
#thrill
#danger
#Waziristan
#Pakistan
#Army
Category
😹
FunTranscript
00:00موسیقی
00:30بعد میں سر ہلاتے ہوئے ایک بار پھر نیگرو دوشیزہ کی طرف دیکھا
00:33نا جانے کیوں سے دیکھ کر ایک عجیب سا احساس میرے اندر جاگ رہا تھا
00:36وہ بھی گہری نظروں سے میری جانے متوجہ تھی
00:38وہ اپنا اور اپنے ساتھی کا تعرف کرواتے ہوئے بولا میرا نام البرٹ بروک ہے
00:42اور میری ساتھی کا نام ٹریسی والکر ہے
00:44اس مرتبہ بھی میں نے کچھ لب کھولے بغیر اپنے سر کو خفیف سی حرکت دی
00:48وہ بولا جانتے ہو تم نے ہمارے ایک سنائپر کو قتل کیا ہے
00:51اور ہم اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کیا کرتے
00:53البرٹ بروک نے گویا مجھ پر فرد جرمائد کی تھی
00:56میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا شاید اس کا ثبوت پیش کرنا آسان نہ ہو
01:00وہ بولا ہم سب جانتے ہیں موترم
01:02بیرٹ ایم ون زیرو سیون اور اس کے ساتھ سنائپنگ کے بقیہ سامان کی تمہارے پاس موجود کی
01:07واضح کر رہی ہے کہ تم بیلی وارٹ کر کے قاتل ہو
01:09میں نے تنزیہ لہجے میں کہا پھر تو تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا
01:12کہ میری گولی کا نشانہ بننے سے پہلے وہ کیا کر رہا تھا
01:14میری بات کا جواب دینا آسان نہیں تھا
01:17گلہ کھنکارتے ہوئے اس نے لمحہ بھر توقف کیا
01:19اور پھر مو بگاڑتے ہوئے بولا
01:21اسی وجہ سے تم زندہ بھی نظر آ رہے ہو
01:22ویچہ اس نے ہماری ہدایات کے برق سرحد کے اس طرف آ کر ایک ایسی کاروائی میں حصہ لیا
01:27جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا
01:29اور نتیجے میں اپنی جان گواں بیٹھا
01:31میں نے بھی تنز کیا کسر نفسی ہے تمہاری
01:33ورنہ سرحد پار کر کے زیادہ تر حملوں کے احکام تمہاری جانب سے ہی دیا جاتے ہیں
01:38اور اس کا واضح ثبوت تم دونوں کی جہاں موجود کی ہے
01:40وہ برا مناتے ہوئے بولا جوان
01:42میں تمہارے تنزیہ جملے یا گلے شکوے سننے نہیں آیا
01:45ایک سودہ کرنے آیا ہوں
01:46اگر جان بچانی ہے تو ہمارے لئے کام کرنا پڑے گا
01:49دوسری صورت میں مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ
01:51میں نے بے پرواہی سے کہا
01:52تو کس نے کہا ہے کہ میں مرنے کے لئے تیار نہیں ہوں
01:55وہ بولا سوچ لو
01:56میں نے اتمنان سے کہا فیصلہ کرنے کے بعد سوچنا وقت کا زیادہ کہلاتا ہے
02:00وہ بولا دیکھو جوان
02:01زندگی بہت قیمتی ہے اور یقیناً
02:03اسے یوں ہی ضائع کرنا عقل مندی نہیں
02:05اگر تم جان کی قربانی دے کر
02:07کسی تمغے یا میڈل وغیرہ کی حصول کے چکروں میں ہو
02:09تو کیا تمہارے گھر والے اس تمغے کو چاٹیں گے
02:12تمہاری محدود پینشن اور چند لاکھ رقم کے بل پر
02:15وہ باقی زندگی نہیں گزار سکیں گے
02:16نہ تو تم جیسے گمنام ہیروز کو کوئی یاد کرتا ہے
02:19اور نہ تم جیسوں کی قربانیوں کو سرہا جاتا ہے
02:22وقت سے فائدہ اٹھانا سیکھو
02:23ہمارے ساتھ کام کر کے تمہیں دولت اور پر آسائش زندگی گزارنے کو ملے گی
02:27تم آسانی سے اس لڑکی سے انتقام بھی لے سکتے ہو
02:29جس نے تمہیں گرفتار کروایا ہے
02:31بلکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ دو تین سال ہمارے لیے کام کرو
02:34اس کے بعد تمہیں اور تمہارے کمبے کو گرین کارڈ دلوا دوں گا
02:37بقیہ زندگی اتمنان سے امریکہ میں گزارنا
02:39اس کے بقواس کرنے تک میں اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کا جائزہ لے کر
02:44اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس پر قابو پانا اتنا مشکل نہیں تھا
02:47اسے یرغمال بنا کر میں وہاں سے فرار ہو سکتا تھا
02:50اس لئے جو ہی اس کی زبان رکی میں ایک دم اٹھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھا
02:54یوں کہ اس کی یا سیاہ فام دو شیزہ ٹریسی والکر کے ہتھیار نکالنے سے پہلے اسے چھاپ لوں
02:59مگر اس سے پہلے کہ میں اس کے قریب پہنچتا
03:01بجلی چمکنے کی طرح ٹریسی نے اپنی جگہ سے اچھ لی
03:04اور اس کے پاؤں کی زوردار ٹھوکر میں رچھاتی میں لگی
03:06چونکہ میرا پورا دھیان آلبرٹ بروک کی طرف تھا
03:09اس لئے میں اپنا دفاع صحیح طریقے سے نہ کر سکا
03:11میں کل ہوں کے بل دبیس قالین پر گرا اور کروٹ لیتا ہوا فوراں کھڑا ہو گیا
03:15اتنی دیر میں ٹریسی اپنے دائیں پاؤں پر گھوم چکی تھی
03:19اس کی بائیں ٹانگ خطرناک انداز میں میرے چہرے کی طرف بڑھی
03:22نیچے جھک کر میں نے اس کا وار خطا کیا
03:24اور اس کے ساتھ ہی ایک قدم آگے لیتے ہوئے میرا دائیں ہاتھ گھوم کر مکے کی صورت میں اس کے چہرے کی طرف بڑھا
03:29اپنی چہرے کو ہلکا سا دائیں کرتے ہوئے اس نے میرا وار خطا کیا
03:33اور اس سے پہلے کہ میں دوسرا وار کرتا
03:35اس کی دائیں ٹانگ ہتھوڑے کی طرح میری چھاتی پر لگی
03:37اور میں اڑ کر سوفے پر جا پڑا
03:39نیچے گرتے ہی میں سپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہوا
03:41لیکن اسی لمحے ایلبرٹ کی سرد آواز میری سامات میں گوجی
03:45تمہاری ذرا سی حرکت شاید تمہیں بے حصہ حرکت کر دے
03:48اس کے ہاتھ میں خوفناک شکل کا گیروچٹ مارک تھرٹین ایم ایم نظر آ رہا تھا
03:53میں ایک دم رک گیا
03:54چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ٹریسی کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی تھا
03:58البتہ مجھ پر مرکوز نیلی آنکھوں میں عجب سا اسرار پوشیدہ تھا
04:02جس کی توجی سے میں قاسل تھا
04:04ایک سیاہ فام لڑکی کی نیلی آنکھیں بھی کافی عجیب لگ رہی تھی
04:07مجھے رکتے دیکھ کر ایلبرٹ نے شیشے کی خوبصورت میز پر پڑی گھنٹی بجائی
04:11اور اگلے ہی لمحے دروازہ کھول کر ایک آدمی اندر آ گیا
04:14ایلبرٹ نے آنے والے کے کچھ پوچھنے سے پہلے حکم دیا
04:17محافظوں کو کہو اسے لے جائیں
04:19آنے والا سر ہلاتے ہوئے واپس مڑا جی سر
04:21سنوبر خان نے ان کی خدمت کے لیے ملازم بھی ایسا ہی مہیا کیا تھا
04:24جو انگریزی زبان جانتا تھا
04:26ٹریسی اتمنان پھرے انداز میں مڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی
04:29ایلبرٹ برک پسٹول اپنی گود میں رکھ کر آرام سے بیٹھ رہا
04:33ایک منٹ بعد ہی مجھے لانے والے چاروں محافظ اندر داخل ہوئے
04:36یقیناً وہ وہیں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے
04:38ان کے ساتھ میں اپنے کمرے میں واپس آ گیا
04:41مجھے کمرے میں چھوڑ کر وہ واپس چلے گئے
04:43چار پائی پر بیٹھ کر میں کر رہنے لگا
04:45میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ لڑکی اتنی تیز اور لڑاکہ ہو سکتی ہے
04:48یقیناً ایلبرٹ اسی وجہ سے اتنی بے فکری سے بیٹھا ہوا تھا
04:52میں زیادہ دیر آرام سے نہیں بیٹھ سکا تھا
04:54دروازہ کھول کر دوبارہ چاروں مسلح افراد اندر داخل ہوئے
04:57اور مجھے دوبارہ کمرے سے باہر لے آئے
04:59اس مرتبہ وہ مجھے کمرہ در کمرہ گھوماتے ہوئے ایک اندرونی کمرے میں لے گئے
05:03جہاں انہوں نے اپنے دشمنوں سے نمٹنے کا خاطرخواہ بندوبست کر رکھا تھا
05:07کمرے کی صفائی دیکھتے ہوئے میں نے اندازہ لگایا کہ اس کمرے کا افتتاہ وہ مجھ سے کروا رہے ہیں
05:11چھت میں لگے کنڈوں سے لٹکتی ہوئی زنجیروں میں میرے ہاتھ جکڑ کر وہ باہر نکل گئے
05:16ایلبرٹ پر قابو پانے میں تمہیں کامشاب نہیں ہو سکا تھا
05:18البتہ اس کے نتیجے میں اپنا آرام قربان کر بیٹھا تھا
05:22پندرہ بیس منٹ بعد قدموں کی چاپ اپری آنے والا سنوبرخان تھا
05:26اندر داخل ہوتے ہی اس نے تنزیہ انداز میں کہا اچھے لگ رہے ہو
05:29بے وقوف آدمی وہ حبشن دس آدمیوں سے بھی قابو نہیں آتی
05:33اور تم مکیلے اس سے ٹکرانے چلے تھے
05:34شکر کرو ہڈیاں سلامت ہیں
05:36اس کی تنزیہ بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
05:38اس نے بھی کوئی استفسار نہیں کیا کہ میرے جواب کا انتظار کرتا
05:42اس کی بات جاری رہی
05:43بارحال اب تمہارا کھانا پینا اور آرام تو ہفتہ بھر کے لیے ختم ہو گیا ہے
05:47اور یہ البرٹ صاحب کا حکم ہے مجھ سے خفا نہ ہونے
05:50میں نے کہا میرا خیال ہے ہم دوست نہیں ہیں
05:52وہ بولا ہاں دوست تو نہیں ہیں لیکن تم نے میرے سردار بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے
05:57اور میری تھوڑی بہت ہمدردی کے حقدار تو تم ٹھہرتے ہو
05:59میں استحضائی علیہ جے میں بولا یہ بھی خوب کہیں
06:02گرفتار کروا کر یوں میری ہمدردی سمیٹنا دلچسپی سے خالی نہیں
06:06سنوبر خان نے بگڑتے ہوئے کہا میں نے پہلی ملاقات میں بتایا تھا کہ تمہیں گرفتار کروایا ہے
06:10تمہاری نام نے ہاد محبوب آنے
06:12بلکہ یہاں پر تمہارا سعودہ کیا ہے
06:14یہ کہنا زیادہ مناسب رہے گا
06:16اب خفا ہونا چاہیے اس فاہشہ سے اور تم مجھے تانے دیے جا رہے ہو
06:20میں بغیر کسی لگی لپٹی کے بولا
06:21کیا مجھے تمہارے آدمیوں نے گرفتار نہیں کیا
06:24اور غیر ملکی دہشتگردوں کے ساتھ دے کر
06:26اگر تم اپنے ہموطن کو پکڑ کر
06:28ان کے سامنے پلیٹ میں سجا کر رکھو گے
06:30اور ساتھ میں یہ بھی کہو گے کہ تمہیں قصور وار نہ سمجھا جائے
06:33خاصی واہیات خواہش ہیں
06:34باقی پلوشہ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا
06:36اس کی قباحت اپنی جگہ
06:38مگر اسے بھی ترغیب تو تم نے ہی دینا
06:40وہ بولا پہلی بات یہ ہے زیشانویاں
06:42میں تمہارا ہموطن نہیں ہوں
06:44کیونکہ میں پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتا
06:46دوسرا اس فاہشہ نے خود
06:48البرٹ کا پہلو گرم کرتے ہوئے تمہارا سعودہ کیا تھا
06:50میں کسی طور بھی اس میں ملوث نہیں تھا
06:52اور نہ مجھے تم سے انتقام لینے کی کوئی ضرورت تھی
06:55اگر تمہیں یاد ہو
06:56تو جہانداد خان کے قتل کے بعد
06:58میں نے فوری طور پر جرگہ بلا لیا
07:00تاکہ اس معاملے کو نبتایا جائے
07:02اور جرگہ بلانا بھی میری مجبوری تھا
07:03ورنہ میرے قبیلے کے لوگ احتراز کرنے سے باز نہ آتے
07:06کہ میں نے بدلہ لیے بغیر
07:08معاصرہ کیوں اٹھا لیا
07:09اس کے بعد میں نے تم دونوں کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا تھا
07:12لیکن وہ فاہشہ خود
07:13معافی تلافی کے چکر میں میرے پاس آگئی تھی
07:15تو اتنا تو فرشتہ میں بھی نہیں تھا
07:17کہ میرے پاس آئی ایاشی کی دعوت
07:19ٹھکرا دیتا
07:20اسے معاف تو میں یوں بھی کر چکا تھا
07:22اس کی آمد سے قبیلے کے لوگوں کے سامنے بھی سرخرو ہو گیا
07:25کہ میں نے دشمن سے خاطرخواہ انتقام لے لیا ہے
07:28اور یقینا یہ تو تم جانتے ہی ہوگے
07:30کہ پلوشہ نے اپنے لیے جس انداز کی معافی تجویز کی تھی
07:33یہ قتل سے بھی بڑھ کر ہیں
07:34میرا مطلب ہے کسی شریف لڑکی کے لیے
07:37البتہ اس فاہشہ کے لیے یہ روز مرہ کی بات ہو
07:39سنوبر خان اور اس کے آدمیوں کی قید میں آنے کے بعد
07:42پلوشہ کا جو کردار میرے سامنے کھل کر آ رہا تھا
07:44پہلے میں ایسا فرض بھی نہیں کر سکتا تھا
07:46مگر سنوبر خان کے مو سے اس کے لیے
07:48سوائے فاہشہ کے کوئی لفظ بھی نہیں نکلتا تھا
07:51اور جو کچھ وہ کر چکی تھی
07:52اس کے بعد اس لفظ کے علاوہ
07:53کوئی لفظ اس کے لیے جچتا بھی نہیں تھا
07:56سنوبر خان کی تفصیلی بات سن کر
07:57میں نے خاموشی سے سر چھکا لیا تھا
07:59اس میں تو کوئی شک نہیں تھا
08:00کہ وہاں پر میری موجود کی میں
08:02پلوشہ کا ہی ہاتھ تھا
08:03سنوبر خان کو اس بارے میں متون کرنا نامناسب ہی تھا
08:07یوں بھی مجھے گرفتار کرنے کے بعد
08:08اس نے کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی تھی
08:10اب بھی میں اپنی بےوقوفی یا کمزوری کے باعث
08:13اس سزا کا مستحق ٹھہرا تھا
08:15مجھے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا
08:17میں علام خیل جا رہا ہوں
08:18اب تم جانو اور تمہارے امریکن دشمن
08:20میں تم لوگوں کے بیچ نہیں آؤں گا
08:22اور وہ مڑ کر باہر نکل گیا
08:23مسلسل کھڑا رہنا بھی انسان کے لیے ایک عذاب ہے
08:26اس کے ساتھ سر سے بلند ہونے والے ہاتھ بھی
08:28سونے پر سوہاگہ ثابت ہوتے ہیں
08:30دوپہر سے شام ہوئی اور پھر رات آہستہ آہستہ بیٹنے لگی
08:33صبح ناشتے کے بعد سے میں کچھ کھا بھی نہیں سکا تھا
08:36اس وقت مجھے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی
08:39لیکن اس سے کئی زیادہ بھوک پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت مجھ میں موجود تھی
08:43اسی طرح مسلسل کھڑے رہنے سے میری ٹانگیں شاید تھکن محسوس کر رہی تھی
08:46بازو بھی شل ہوئے جا رہی تھے مگر میرا حوصلہ برقرار تھا
08:49اس درد تکلیف اور عذیت کا سنائپر کے ساتھ بہت پرانا رشتہ ہے
08:54لیکن انسان کتنا بھی سخت جان ہو
08:56مضبوط اور حوصلے والا کیوں نہ ہو
08:58ذہنی عذیت ہمیشہ انسان کو شکست سے ہم کنار کر دیتی ہے
09:01جسمانی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود
09:03پلوشہ کے کردار نے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو سلب کر دیا تھا
09:07اس کا دھوکہ دینا اور بے وفائی کرنا میرے لیے سوہانے روح سہی
09:11مگر اس سے بڑھ کر اس کی بے رہ روی مجھے عذیت پہنچانے کا باعث بنی تھی
09:15اس وقت بھی بھوک پیاس اور تھکن سے زیادہ مجھے اس کی مسئبت ستا رہی تھی
09:19ساری رات یوں ہی کھڑے کھڑے بیٹھ گئی تھی
09:22ایک احسان انہوں نے مجھ پر یہ کیا تھا کہ میری ٹانگیں نہیں جگڑی تھی
09:25اس طرح کم از کم میں اپنے پاؤں کو دو تین فٹ کے دائرے میں حرکت دے سکتا تھا
09:29اگلا دن بھی اسی حالت میں بیٹھ گیا
09:31بس دوپہر کو چار مسلح افراد نے مجھے چند منٹ کے لیے کھول کر
09:35کمرے کے کونے میں بنے بیت الخلا میں چند منٹ جانے کی اجازت دی
09:38بیت الخلا سے باہر نکلنے پر انہوں نے مجھے دوبارہ جکڑ دیا
09:41رات تک میری بھوک پیاس شدت اختیار کر گئی تھی
09:44لیکن البرٹ بروک یقینا میری قوت برداشت توڑنا چاہتا تھا
09:48رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب مجھے دروازے پر ہلکی سی آہٹ سنائی تھی
09:52مسلسل کھڑے کھڑے مجھے کبھی کبھی ہلکی سی اونگ آتی
09:55اور جو ہی جھٹکہ لگنے سے میں گرنے لگتا
09:57مضبوط زنجیریں مجھے نیچے گرنے سے روک لیتی
09:59اور میں جاگ جاتا
10:00کھٹکہ سنتے ہی میں نے آنکھیں کھولی
10:02شاید کسی نئی آزمائش کا وقت تھا
10:04اندر داخل ہونے والا اکیل آدمی تھا
10:06اس کا قد تو چھوٹا تھا
10:08مگر جسم خوب گٹھا ہوا اور مضبوط تھا
10:10گھنی داڑھی اور بڑی بڑی موچوں نے
10:12اس کے چہرے کو ڈھام رکھا تھا
10:14اس کا مشکوک انداز مجھے حیران کر گیا تھا
10:16اندر داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کرنے سے پہلے
10:18ایک بار باہر جھانکا
10:19اور پھر آہستگی سے دروازہ بند کر کے
10:21وہ پیچھے مڑا
10:22اس نے ہاتھ میں پانی کی بوتل اور
10:24اخبار میں لپٹی ہوئی کوئی چیز پکڑ رکھی تھی
10:26ہونٹوں پر انگلی رکھ کر
10:27اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
10:29اور کمرے کے کونے کی طرف بڑھا
10:31جہاں لوہے کی ایک چرخی اور ہینڈل لگا تھا
10:33جس کے ذریعے میرے ہاتھوں میں پڑی زنجیر کو
10:35ڈھیلا یا سخت کیا جا سکتا تھا
10:37اس نے نہایت آہستگی سے چرخی گھما کر
10:40میرے ہاتھوں کو نیچے کیا
10:41ہاتھوں کے نیچے آتے ہی مجھے بہت سکون محسوس ہوا
10:43قریب آ کر اس نے مجھے پانی کی بوتل پکڑائی
10:46وہ ڈیڑھ لیٹر والی بوتل پانی سے بھری ہوئی تھی
10:48بوتل کا ڈکن کھول کر میں آدھی سے زیادہ پی گیا
10:51میرے پانی پیتے ہی اس نے اخبار میں لپٹا کھانا میری طرف بڑھا دیا
10:54دو موٹی روٹیوں کے ساتھ چنے کی دال کسالن
11:07کھانا کھلا کر اس نے مجھے دوبارہ پانی کی بوتل پکڑائی
11:10اور بکیا پانی میدے میں انڈیل کر میں نے خالی بوتل اس کی جانی بڑھا دی
11:14خالی بوتل بغل میں دباتے ہوئے اس نے سرگوشی کی
11:16کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے دوست
11:18میں جان پر کھیل کر تمہیں کھانا دینے آیا ہوں
11:20میں نے کہا آپ کا بہت بہت شکریہ
11:22لیکن اس مہربانی کی وجہ سمجھنے سے قاسر ہوں
11:25اس کے ہونٹوں پر مانی خیز مسکراہت نمدار ہوئی
11:27اگر میں کہوں تمہیں صرف عام کھانے چاہیے
11:29پیڑ گننا بےوقوفی کہلاتا ہے
11:31میں نے کہا ٹھیک کہا
11:32مگر احسان کرنے والے کے بارے میں متجسس ہونا غیر فطری نہیں
11:36وہ بولا وقت آنے پر تمہیں پتہ چل جائے گا
11:38بس یہ یاد رکھنا کہ اس بارے میں
11:40اگر کسی کو بھنک پڑ گئی
11:42تو میرے مرنے کی باری تم سے پہلے آئی
11:43میں نے فلسفیانہ لہجے میں کہا
11:45اپنے خیر خواہ کو مرتے ہوئے کون دیکھ سکتا ہے
11:47میری پیٹ تھپ تھپا کر وہ کونے کی طرف بڑھا شکریہ
11:50چرخی گھما کر وہ میرے ہاتھوں کو پہلی والی حالت ملایا
11:53اور احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
11:56بیٹھے بٹھائے ایک خیر خواہ مجھے مجسر آ گیا تھا
11:59میں اس کی شناخت کے بارے میں سوچوں کے گھوڑے دوڑانے لگا
12:02آخر وہاں ایسا کون تھا جسے میری فکر تھی
12:04کافی دیر کی ذہنی ورزش کے بعد میرے دماغ میں
12:07خوشال خان اور قابل خان محسود کا خیال آیا
12:10جب ہمیں جہانداد خان کے لشکر نے گھیرا ہوا تھا
12:12اس وقت قابل خان نے مجھے جہانداد کے لشکر کی تعداد کے بارے میں
12:16اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا
12:17کہ دشمنوں کے لشکر میں ان کے آدمی بھی موجود ہیں
12:20مجھے کافی حد تک اس بات پر یقین آ گیا
12:22کہ وہ خوشال خان کا ہی آدمی
12:24اس کے علاوہ تو سنوبر خان کے آدمیوں میں
12:26میرے کسی خیر خواہ کا ہونا ناممکن تھا
12:28ایک بار میرے ذہن میں میجر آرنگزیب کا بھی خیال آیا
12:31لیکن پھر میں نے اس خیال کو سختی سے جھٹلا دیا
12:34کیونکہ سنوبر خان کے آدمیوں میں
12:35میجر آرنگزیب کے کسی بندے کی موجود کی کا
12:38مجھے ضرور معلوم ہوتا
12:39اگلی رات وہ دوبارہ میرے لیے کھانا اور پانی لے آیا
12:42اس نے مجھے کھانا پکڑواتے ہوئے کہا
12:44میرا نام سہراب خان ہے
12:45میں نے اپنا اندازہ ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی
12:48میں نے کہا میرا خیال ہے آپ کا تعلق خوشحال خان محسود سے ہے
12:51وہ معنی خیز انداز میں مسکر آیا
12:52بڑی جلدی سمجھ گئے ہوں
12:54بارحال مجھے اس بات کا حکم سردار خوشحال خان نے نہیں دیا
12:57میں نے کہا گویا آپ کے احسان کا وزن میرے اندازے سے کچھ زیادہ ہے
13:00اس نے ان کے ساری بھرے لہجے میں کہا
13:02یہ تو بس موقع ملنے کی بات ہے
13:04اور میں مزید کچھ کہے بغیر کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا
13:07کھانا کھا کر میں نے پانی کی بوتل کو مو لگایا ہی تھا
13:10کہ دروازے کو دھکیلتے ہوئے کمانڈر بہادر خان اندر داخل گوا
13:13اس کے ہمراہ ایک کلیشن کوف پردار شخص بھی موجود تھا
13:16وہ تی کے لہجے میں سہراب کو مخاطب ہوا کیا کر رہے ہو
13:19سہراب خان من منا کر رہے گیا وہ میں میں میں میں
13:22بہادر خان نے کہا بکو
13:23اور اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے غر رایا
13:26مسلح شخص نے سہراب خان پر کلیشن کوف تان لی تھی
13:29وہ بولا اپنی بہن کے خسم کو کس خوشی میں کھلا پلا رہے ہو
13:32تمہارے خیال میں ہم تمام اندھے بہرے ہیں
13:34اور کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا
13:36اس مرتبہ سہراب خان کوئی بھی جواب دیے بغیر خاموش رہا
13:39بہادر خان بولا گل خان
13:41اسے دوسرے کمرے میں لے جا کر بان دو
13:43صبح اس سے تفصیلی بات چیت ہوگی
13:45اور وہ کمرے سے باہر نکل گیا
13:46اس کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ نیند سے اٹھ کر آیا تھا
13:49اور اسی لئے اس نے سہراب خان سے پچھ گچھ کو اگلے دن پر ٹال دیا تھا
13:53اس وقت وہ اپنا آرام خراب نہیں کرنا چا رہا تھا
13:55اگلے دن دوپہر کے وقت وہ سہراب خان کو کمرے میں لے آئے
13:58اس کی حالت کافی ناغفتہ بے تھی
14:00ماتے اور چہرے پر پڑے خون کے دھبے ظاہر کر رہے تھے
14:03کہ وہ اسے اچھے خاصے تشدد کا نشانہ بنا چکے تھے
14:06اسے انہوں نے کمرے کے ایک کونے میں پھینک دیا
14:08اس کے ساتھ میرے ساتھ بھی یہ مہربانی کی
14:11کہ مجھے زمین میں گڑی لوہے کی کرسی پر بیٹھا کر
14:13میرے ہاتھ اقب میں باندھی
14:15مسلسل کھڑے رہنے سے میری ٹانگیں اکڑ گئی تھی
14:17لوہے کی کرسی پر بیٹھنا میرے لیے کسی نیمت سے کم نہیں تھا
14:20ان کے باہر نکلتے ہی میں سہراب خان کی طرف متوجہ ہوا
14:23اور خفیف لہجے میں بولا
14:25آپ کو میری وجہ سے اتنی تکلیف اٹھانا پڑی
14:28وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا
14:29کوئی کسی کی وجہ سے تکلیف نہیں اٹھا تھا
14:32ہر آدمی کو اپنے حصے کی تکلیف بھگتنا پڑتی ہے
14:34میں نے کہا اگر آپ میری مدد نہ کرتے
14:36تو یقیناً انہیں آپ کی اصلیت معلوم نہ ہوتی
14:38وہ بولا چھوڑو اس موضوع کو
14:40مقدر کا لکھا ٹل نہیں سکتا
14:42اور گیا وقت واپس لائے نہیں جا سکتا
14:44میں نے اس سے متفق ہوتے ہوئے کہا
14:46صحیح
14:46ویسے اب ان کا ارادہ کیا ہے
14:48وہ بولا سنوبر خان علام خیل سے
14:50افغانستان چلا گیا ہے
14:51وہ واپس آ کر ہی میری قسمت کا فیصلہ کرے گا
14:53میں نے پوچھا کیا انہیں بتا دیا ہے
14:55کہ تمہارا تعلق خوشال خان محسود سے
14:57اس نے نفی مصر ہلایا نہیں
14:58فی الحال تو نہیں مانا
15:00میں نے پوچھا تو پھر کیا کہا
15:02وہ بولا یہی کہ تم سے کچھ رقم لینے کا وعدہ لے کر
15:04مدد کر رہا تھا
15:05میں نے کہا ٹھیک ہے مجھ سے کچھ پوچھا
15:06تو میں بھی یہی بتاؤں گا
15:08وہ بولا ایک بات پوچھوں
15:09اس نے کراہتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگانے کی کوشش کی
15:11بڑی مشکل سے وہ ایسا کرنے میں کام جاب ہو سکا تھا
15:14میں نے کہا ضرور
15:15بولا تمہیں قید کیوں کیا ہے
15:16میرے ذہن میں تو تمہیں زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں
15:19میں نے کہا سنوبر خان کے مائی باپ چاہ رہے ہیں
15:21کہ میں ان کے لیے کام کروں
15:22وہ فوراں بولا ایسی غلطی کبھی نہ کرنا
15:24میں نے اس بات میں سر ہلایا
15:25میرا بھی یہی خیال ہے
15:26بلکہ اسی کی پاداش میں تو سزا کٹ رہا
15:29وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا
15:30گویا تم نے انکار کر دیا ہے
15:32میں نے کہا لازمی بات ہے
15:33پاک آرمی کا جوان وطن کے خلاف
15:35کوئی کام کرنے سے جان دینا آسان سمجھتا ہے
15:38اس نے کہا ایک بات تو تیہ ہے
15:39مشکل ہے کہ انکار کے بعد وہ تمہیں زندہ چھوڑ دیں
15:42میں نے اس بات میں سر ہلایا جانتا
15:44اس نے کچھ کہنے کے لیے مو کھولا
15:46اگر اور پھر چپ ہو گیا
15:47میں اسے ترغیب دیتے ہوئے بولا
15:49یقیناً تم کچھ کہنا جا رہے تھے
15:51وہ بولا بس اتنا کہ تمہیں مرنا نہیں چاہیے
15:53میں نے کہا ہم مرنا کون چاہتا ہے بھائی
15:56وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا میرا مطلب ہے
15:57تمہیں بچنے کی کوشش کرنی چاہیے
15:59میں نے کہا کیسے
16:00وہ بولا دیکھیں میں یہ نہیں چاہتا
16:02کہ تم امریکیوں کے ساتھ مل جاؤ
16:03لیکن انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا کر
16:06شاید فرار ہونے کا موقع حاصل کر سکو
16:08اس کی بات رد کرنے کے قابل نہیں تھی
16:10مجھے سوچ میں کھویا دیکھ کر
16:11اس نے دوبارہ زبان کھولی
16:13دیکھو تمہارا مرنا تو یقینی ہے
16:14تو کیوں نہ کوشش کر کے مرو
16:16اور ایک بار فرار ہونے میں کامشاب ہو گئے
16:18تو پھر ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا
16:20بس کسی پلوشہ جیسی محبوبہ سے بچ کر رہنا
16:23آخری فکرہ اس نے مسکرا کر کہا تھا
16:25میں نے کہا تم بھی پلوشہ کو جانتے ہو
16:26پلوشہ کا نام آنے پر
16:28نہ جانے کیوں میرے دل میں درد شروع ہو جاتا
16:30وہ بولا اس سے بھلا کون ناواقف ہے
16:32سنوبر خان کے عادے سے زیادہ لشکر کو
16:34تو وہ نواز چکی
16:35اس کی بات سنتے ہی میرے موں میں کڑواہٹ گھل گئی
16:37میں نے خاموشی سے سر چھکا لیا
16:38پلوشہ کا ذکر آتے ہی مجھے یوں لگتا
16:40جیسے میری شریک حیات اس گھناؤنی حرکت میں ملوث رہی ہو
16:43ماہین کی بے رہ روی پر
16:45مجھے اتنی تکلیف اور عذیت نہیں پہنچی تھی
16:47جتنی ذہنی عذیت کا سامنا
16:48مجھے پلوشہ کی بے رہ روی کی وجہ سے کرنا پڑ رہا تھا
16:51اور پھر ہر بار اس کی گراوٹ کا ذکر سنتے ہی
16:54مجھے اپنے دل پر بے پناہ
16:55بوجھ اور ناقابل برداشت
16:57درد کا سامنا کرنا پڑتا
16:59اس وقت سہراب خان کے مو سے یہ سن کر
17:01پلوشہ کی بے رہ روی کے مطالق رہا
17:03سہا شبہ بھی جاتا رہا
17:05میں سوچنے لگا کاش تم نے مجھے کہا ہوتا
17:07کہ تمہیں کتنی رقم چاہیے
17:09صرف ایک بار آزمایا ہو
17:10پندرہ لاکھ تو کوئی رقم نہیں ہے
17:12اس سے دگنی تگنی رقم بھی ادا کر دیتا
17:14تمہیں پسند کی شادی کرنے سے بھی نہ روکتا
17:16کم از کم اس طرح تمہارے کردار پر انگلی تو نہ اٹھائی جاتی
17:19سہراب خان کی آواز سے میں خیالات کی دنیا سے باہر آیا
17:22کن سوچوں میں کھو گئے ہو
17:23میں چونکتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا
17:25ہم کچھ نہیں
17:26وہ بولا برا نہ مانو تو ایک بات پوچھوں
17:28میں نے کہا کسی بات کا برا لگنا تو ایک احساس کے زیر اثر ہوتا ہے
17:32انسان جان بوچھ کر تو غصہ ظاہر نہیں کرتا
17:34البتہ برا لگنے کے بعد جو رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے
17:37وہ انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے
17:39اور میں کوشش کروں گا
17:40کہ آپ کی بات پر کوئی ایسا رد عمل ظاہر نہ کروں
17:42جس سے آپ کی توہین ہو
17:43سہراب خان ممنونیت بھرے لائیزے میں بولا
17:46شکریہ
17:46میں بس یہ پوچھنا چاہ رہا تھا
17:48کہ تم پلوشہ کے جھانسے میں کیسے آگئے
17:50اور جب وہ تمہارے ساتھ غلط تعلق استوار کر سکتی تھی
17:53تو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا کرنے میں
17:55اسے کیا قباہت تھی
17:56میں نے کہا یہ تو معلوم نہیں کہ میں اس کے جھانسے میں کیسے آیا
17:58البتہ میرے ساتھ اس کا تعلق ایک اچھے دوست جیسا تھا
18:02اور پھر ہم نے شادی کا منصوبہ بنایا
18:03اس بارے میں مجھ سے زیادہ وہ پیش پیش تھی
18:06اور پھر یہ واقعہ پیش آ گیا
18:07اس نے اشتیاق بھرے لحظے میں پوچھا
18:09اگر یہاں سے جان چھوڑانے میں کامجاب ہو گئے
18:11تو اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے
18:13میں نے کہا اسے قتل کر دوں گا
18:15اس پر کتے چھوڑ دوں گا
18:16اسے زندہ جلاؤں گا
18:17میرے دماغ نے انتقام کی مختلف شکلیں پیش کی
18:20لیکن دل کسی ایک پر بھی متفق نہیں تھا
18:23مجھے لمبی سوچوں میں کھوئے دیکھ کر وہ مسکر آیا
18:25شاید تم اسے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے
18:27میں نے کہا کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا
18:29اور پھر اسے مار کر مجھے ملے گا کیا
18:31بہتر یہی ہے کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دوں
18:33ایسی دھوکے باز اور مطلبی کو زیادہ دھیل نہیں ملا کرتی
18:37اس نے مانی خیز لہجے میں کہا
18:38گویا وہ اب بھی تمہیں پیاری ہے
18:40میں نے کہا چھوڑو اس موضوع کو
18:42اور آنکھیں بند کر کے کرسی سے ٹیک لگا لی
18:44پتہ نہیں کب سے میں نیند نہیں لے سکا تھا
18:46غیر آرامد کرسی پر بھی مجھے نیند کے چھٹکے لگ رہے تھے
18:49اور میں بیٹھے بیٹھے سو گیا
18:51میں دو تین گھنٹوں سے زیادہ نہیں سو سکا تھا
18:53آنکھ کھلنے کے بعد مجھے کمرے کے منظر میں
18:55کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تھی
18:56سوراب خان دیوار سے ٹیک لگائے انگرہ تھا
18:59اسے مخادب کیے بغیر میں اس کے دیئے ہوئے
19:01مشورے کے بارے میں سوچنے لگا
19:02ان خیالات میں اس سے بہتر مشورہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا
19:05سوراب خان کی آواز مجھے خیالوں کی دنیا سے باہر لائی
19:08جاگ گئے ہو
19:09میں نے اس بات میں سر ہلایا
19:10بولا تو پھر کیا سوچا
19:12میں نے وضاحت چاہی کس بارے میں
19:13وہ مسکر آیا گوروں کو دھوکہ دینے کے بارے میں
19:16میں نے کہا ویسے آپ کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں
19:19وہ بولا شاباش
19:20بس کوشش کرنا کہ انہیں یقین دلا سکو
19:22اس نے میرے فیصلے کو سراحتے ہوئے
19:24مجھے مزید مشورے دینا شروع کر دئیے
19:26سپہر ڈھلے بہادر خان کی میت میں
19:28دو مسلح آدمی اسے وہاں سے لے گئے
19:31جاتے ہوئے سوراب خان کی آنکھوں سے
19:33خوف اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا
19:35کہ اس کا اپنا انجام واضح ہے
19:37سوراب خان کو وہاں لے جانے کی
19:39گھنٹہ ڈیڑھ بعد مجھے بھی پہلے والے کمرے میں لے جایا گیا
19:42شاید میری غلط حرکت کی سزا پوری ہو گئی تھی
19:44رات کو مجھے کھانا بھی دیا گیا
19:46اگلے دن دوپہر کے وقت میں ایک بار پھر
19:48اسی جگہ پر البرٹ بروک کے سامنے موجود تھا
19:51شیاف آم دوشیزہ ٹریسی والکر بھی
19:53چست لباس پہنے وہی بیٹھی تھی
19:55اس کی گہری نیلی آنکھوں میں
19:56عجیب قسم کے اسرار پوشیدہ تھے
19:58البرٹ نے بغیر کسی تمہید کے بات شروع کی
20:01تو کیا سوچا
20:01میں ہانا کیے بغیر خاموش بیٹھ رہا
20:04اس نے نرمی سے پوچھا کیا سوچنے کے لیے مزید وقت چاہیے
20:06میں نے نفی میں سر ہلایا نہیں
20:08اس نے پھر پوچھا پھر
20:09میں نے نفے تلے لہجے میں کہا
20:11مجھے کیا کرنا ہوگا
20:12وہ بولا ہمارے لئے کام کرنا ہوگا
20:14البرٹ نے اس انداز میں جواب دیا
20:16گویا میرا سوال ہی غلط ہے
20:17میں نے وضاحت مانگتے ہوئے کہا
20:18تو وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ کیا کام کرنا ہوگا
20:21وہ اتمنان بھرے لہجے میں بولا
20:22تمہیں ایک ہی کام آتا ہے اور وہی کروانا ہے
20:24میں نے کہا بدلے میں کیا ملے گا
20:26اس نے فخری انداز میں کہا
20:27نئی زندگی
20:28اپنی سابقہ محبوبہ سے بدلہ لینے کا موقع
20:30گرین کارڈ اور امریکن ڈالرز
20:33میرا خیال ہے اتنا کافی ہے
20:34میں نے کہا ٹھیک ہے میں تیار ہوں
20:36میں نے گویا ہار مان لی
20:37وہ بولا شاہ باش
20:38اب کل یا پرسو تیار رہنا
20:40کرنل کالن فیلڈ تم سے خود بات کریں گے
20:42لیکن خیال رہے انہیں یہ معلوم نہ ہو
20:44کہ ہم نے تمہیں زور زبردستی سے
20:46اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کیا ہے
20:48ان کی نظر میں تم خود ہمارے پاس
20:50کام کرنے کی غرض سے آئے ہو
20:51اور میں نے تمہیں کام کرنے کے قابل پاتے ہوئے
20:53ان سے سفارش کی ہے
20:54اس کی بات نے مجھے حیران ہونے پر مجبور کر دیا
20:56میں نے کہا میری سمجھ میں نہیں آیا
20:58وہ برا سا مو بناتے ہوئے بولا
21:00اس میں نہ سمجھانے والی کونسی بات ہے
21:01میں نے کہا میرا خیال ہے
21:02میں خود تو تمہارے پاس نہیں آیا
21:04وہ بولا کہہ تو رہا ہوں
21:05کہ تم نہیں آئے
21:06لیکن میں نے اپنے سینئرز کو یہی بات بتائی ہے
21:08یوں بھی انہیں یہ معلوم نہیں
21:10کہ تم کتنے اچھے سنائی پر ہو
21:11میں نے کہا اگر میں نے کرنل کالن فیل کے سامنے
21:13اصل بات اگل دی
21:14تو یقینا میری جان چھوٹ جائی
21:16اس نے کہا جی
21:17البتہ اس کے بعد میرے پاس چناؤ کا اختیار نہیں رہے گا
21:20میں نے حیرانی سے پوچھا
21:21چناؤ کا اختیار
21:22وہ اتمنان بھرے لہجے میں بولا
21:23فی الحال تو تمہیں قتل کرنے
21:25اور تم سے کام لینے کا اختیار میرے پاس موجود ہیں
21:27اس حرکت کے بعد تم سے کام لینے کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں رہے گا
21:30میں نے مو بناتے ہوئے اس بات میں سر ہلایا
21:32ٹھیک ہے
21:33بولا اور ہاں میری طرف سے اجازت ہے
21:35کہ تم کرنل صاحب سے جتنی رقم منظور کروالو
21:37اتنا معافضہ تمہیں ادا کیا جائے گا
21:39میں نے کہا نہ تو مجھے کسی رقم کی ضرورت ہے
21:41اور نہ گرین کارڈ کی
21:42اپنے وطن کے خلاف کام کرنے پر حاصل ہونے والی دولت
21:45اور امریکن شہریت میرے نزدیک لانت کی مستحق ہیں
21:48لیکن اس وقت کسی قسم کی جذباتی گفتگو میرے چھوٹ پر پانی بھیر دیتی
21:52میں نے البرٹ بروپ کو دھوکے میں رکھنے کے لیے پوچھا
21:55ویسے تم کیا کہتے ہو
21:56کہ کتنی رقم کا مطالبہ کرنا مناسب ہوگا
21:58اس نے کہا تم ایک سنائپر ہو
22:00اور سنائپر کا کام افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے
22:02بس تم فی آدمی اپنا معافضہ
22:04دس پندرہ یا بیس ہزار ڈالر بتا دینا
22:06میں نے حیرانی سے پوچھا
22:07کیا ایک آدمی کو قتل کرنے کے بدلے
22:09کرنل بیس ہزار ڈالر معافضہ دینے پر تیار ہو جائے گا
22:12وہ بولا دینا تو چاہیے
22:13کہ سنائپر کا کام قلیدی افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے
22:16اور کسی بھی اہم آدمی کو قتل کرنے کا معافضہ اتنا تو بنتا ہے
22:20میں نے پوچھا کرنل سے ملاقات کب ہوگی
22:22وہ بولا کل یا پرسوں
22:23میں نے جانے کی اجازت مانگی
22:25کچھ اور کہنا ہے یا میں جا سکتا ہوں
22:26وہ بولا بس آخری بات
22:28ہمیں دھوکہ دینے کے بارے میں سوچنا بھی مت
22:30ورنہ نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے
22:32اور میں اسبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا
22:34ٹریسی والکر ہماری گفتگو کے دوران خاموش بیٹھی
22:37اپنی اسرار بھری چمکدار نیلی آنکھوں سے مجھے گھورتی رہی
22:40سنوبر خان کے کہنے کے مطابق وہ
22:42خالی ہاتھ دس افراد کو بھی
22:44شکست سے دو جار کر سکتی تھی
22:45اس کا کچھ نہ کچھ اندازہ تو خیر مجھے ہو گیا تھا
22:48بلا شبہ اس کے حملوں میں بہت تیزی اور مہارت شامل تھی
22:51وہاں سے باہر نکلتے ہی
22:52چاروں محافظ مجھے اپنے منتظر نظر آئے
22:54ان کے زیر نگرانی چلتا ہوا
22:56میں اپنے کمرے میں پہنچ گیا
22:57میرے حامی بھرنے پر
22:59البرٹ بروک نے کسی قسم کے شک کا اظہار نہیں کیا تھا
23:02کہ اپنی قومی سوچ کے مطابق
23:03ان کے نزدیک ہر پاکستانی بھگاؤ تھا
23:06بدقسمتی سے ان کی سوچ کو
23:08ہمارے نام نہاد غلیز سیاستدان
23:10تقویت دیتے آ رہے ہیں
23:11اور یوں چار پانچ فیصد لوگوں کی گندی سوچ کو
23:13پوری پاکستانی قوم کے کردار پر
23:16منتبق کیا جاتا ہے
Comments