Sniper series episode 50 a story full of thrill and suspense operation in waziristan most deadly operation in waziristan
#sniper
#thrill
#danger
#Waziristan
#Pakistan
#Army
#sniper
#thrill
#danger
#Waziristan
#Pakistan
#Army
Category
😹
FunTranscript
00:00موسیقی
00:30حظریں اب بھی پلوشہ کو دیکھ رہی تھی جبکہ وزیرستان کے پہاڑوں میں چلنے والے کو ایک آنکھ سامنے اور ایک آنکھ زمین پر اکھنا پڑتی ہے
00:37اس اصول کی منافع کا صلح مجھے ایک زبردست ٹھوکر کھا کر موں کے بل گرنے کی صورت میں ملا
00:42ہاتھ پشت پر بندے ہونے کی وجہ سے مجھے اچھی خاصی چوٹ آئی تھی
00:46لیکن اس وقت میری ساری حصوں نے آرزی طور پر کام کرنا چھوڑ دیا تھا
00:50نہ تو مجھے کچھ سنائی دے رہا تھا اور نہ پلوشہ کے علاوہ کچھ نظر آ رہا تھا
00:53جسم میں درد اور تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی
00:56البتہ میرے دل کو کوئی مٹھی میں لے کر مسلسل بھیج رہا تھا
01:00کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا
01:02اوے نیچے دیکھ کر چلو کسی مجنو کی اولاد
01:04دل کے بعد اپنا تھوبڑا بھی نہ توڑوا لینا
01:06اس کی بات پر میرے دائیں بائیں چلنے والوں نے زوردار قیقہ لگایا
01:10وہ مجھے تک کے دیتے ہوئے نالے میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کے قریب لائے
01:13ترمیان میں کھڑی ڈبل کیون کی اقبی نشست پر مجھے دو آدمیوں کے ترمیان بٹھایا گیا
01:18گاڑی کی باڈی میں بھی چار آدمی بیٹھ گئے
01:21باقی دو گاڑیوں میں بھی چھے چھے آدمی بیٹھ گئے تھے
01:23نالے سے نکل کر وہ سڑک پر آئے
01:25ہماری گاڑی درمیان میں تھی
01:27گاڑیاں علام خیل کی بجائے انگور اڈے کی طرف چل پڑی
01:30میری نظریں سڑک پر جانے والی پلوشہ کی متلاشی تھی
01:33وہ سڑک کے دائیں جانب چل رہی تھی
01:35میں نے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا
01:37میرے بائیں جانب بیٹھے آدمی نے مزاہی انداز میں کہا
01:40کمانڈر بہادر خان لڑکا تو رو رہا ہے
01:42بہادر خان ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا
01:45پیچھے دیکھتے ہوئے بولا بیچارے کو چوٹ گہری آئی ہے نا
01:47فکر نہ کرو جلدی بھیل جائے گا
01:49اسی وقت ہماری گاڑی سست روی سے جلتی
01:51پلوشہ کے پاس سے گزرتی چلی گئی
01:53کوشش کے باوجود میں اس کا چہرہ واضح طور پر نہ دیکھ سکا
01:56مجھے اقبی شیشے سے پیچھے جھانگتے دیکھ کر
01:59میرے ساتھ بیٹھے آدمی نے اپنے ہاتھ سے میرا چہرہ سامنے موڑتے ہوئے کہا
02:02آبے کیا نکالتے ہو اس چوکرے سے
02:04تمہیں بیچ کر رقم کھری کر لی ہے پھر بھی دیوانے ہوئے جاتے ہو
02:08تمہارے جیسے بیوقوف کم ہی نظر سے گزرے ہیں
02:10بہادر خان ہستے ہوئے بولا تم بھی خوب ہو کمین خان
02:14وہ لڑکا نہیں لڑکی ہے
02:15میرے بائیں جانے بیٹھا کمین خان حقیقتا اچھل پڑا
02:19کیا کہہ رہے ہو کمانڈر
02:20اتنا بچہ تو میں نہیں ہوں کہ لڑکے لڑکی میں امتیاز نہ کر سکوں
02:23اس مرتبہ میرے دائیں جانے بیٹھے آدمی نے
02:25کمین خان کی تائید میں زبان کھولی
02:27کمین خان صحیح کہہ رہا ہے کمانڈر
02:29بہادر خان نے قیقہ لگاتے ہوئے کہا
02:31بیوقوفو یہی پلوشہ خان وزیر ہیں
02:33اور جسے تم پکڑ کر لے جا رہے ہو
02:35یہ وہ مشہور ایس ایس ہے
02:37جس کے بارے میں تم لوگ اتنے عرصے سے سنتے آ رہے ہو
02:39کمین خان بے یقینی سے بولا کمانڈر
02:41آپ مزاک کر رہے ہو نا
02:42بہادر خان وضاحت کرتے ہوئے بولا بلکل بھی نہیں
02:45بس آپ لوگوں کی بدقسمتی ہے
02:47کہ خوشحال خان محسود سے ہونے والے جرگے میں
02:49آپ لوگ حاضر نہیں تھے
02:51ورنہ ان دونوں کو دیکھ لیتے
02:52کمین خان کو بہادر خان کی بات حضم نہیں ہو رہی تھی
02:55کمانڈر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی
02:57کہ پلوشہ نے اسے پکڑوا کیوں دیا
02:58حالانکہ یہ دونوں تو سردار قبیل خان کے خلاف اکٹھے کام کرتے ہیں
03:02بلکہ میں نے تو یہ بھی سنا ہے
03:03کہ ان دونوں کا کوئی چکر چل رہا ہے
03:05وہ بولا بے وقوف پلوشہ خان وزیر کا
03:07کسی ایک کے ساتھ چکر نہیں ہے
03:09بہت چالو اور چکرباز لڑکی ہے
03:10اس سے پہلے بھی سات آٹھ آشک بھگتا چکی ہے
03:13عمر ضرور کم ہے پر تدریبہ بہت زیادہ ہے
03:16اب اسی بات سے اندازہ لگا لو
03:17کہ محترم ایس ایس صاحب سے جب تک کام تھا
03:20عشق کا ناٹک کھیلتی رہی
03:21جو ہی کام نکل گیا اسے بیچ کھایا
03:23اور میں یقین سے کہتا ہوں
03:25کہ اس نے خود ہی اس کی طرف قدم بڑھائے ہوں گے
03:27اپنی بناوٹی محبت کا یقین دلایا ہوگا
03:29جو ہی یہ محترم اس کے حسن کے جال میں فسا
03:32اس نے پیسے کھرے کرنے میں دیر نہیں لگائی
03:34دوسرا بولا ویسے میرا نہیں خیال
03:36کہ سردار سنوبر خان کو اس آدمی کے لیے
03:38پندرہ لاکھ خرچ کرنے کی ضرورت تھی
03:40اور پندرہ لاکھ بھی سردار قبیل خان کی قاتل لے گئی
03:43بہدر خان نے نفرت بھرے انداز میں
03:45میری جانب اشارہ کیا
03:46سردار قبیل خان اور سردار جہاندات کا قاتل یہ ہے
03:49باقی پلوشہ خان وزیر نے گزشتہ دو روز
03:52سردار سنوبر خان کو رازی کرنے میں گزارے ہیں
03:55بیچاری کو اس زمن میں پوری دو راتیں جاگ کر گزارنا پڑیں
03:58اور یقین کرو میں تو داد دیتا ہوں اس کی حمد کی
04:00کمین خان نے اس بات میں سر علاتے ہوئے کہا
04:03اچھا
04:03تو گویا اسے پلوشہ نے خیر سگالی کے طور پر پکڑوایا ہے
04:06بہدر خان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا
04:08اتنی بھی سادہ نہیں ہے
04:09ایک نمبر کی چار سو بیس ہے
04:11سنوبر خان نے جب ایس ایس کا مطالبہ کیا تھا
04:14اس نے پندرہ لاکھ کی خطیر رقم آنگی تھی
04:17دوسری صورت میں سنوبر خان کے ساتھ
04:18اس کی یوں بھی صلاح ہو گئی تھی
04:19اسے کیا ضرورت پڑی تھی اپنے پرانے عاشق کو پکڑوانے کی
04:22میری دائیں جانی بیٹھے آدمی نے خیال ظاہر کیا
04:25ویسے مجھے جقین نہیں آ رہا
04:26کہ ایسی لڑکی صرف سنوبر خان سے صلاح کرنے ہی پہنچی ہوگی
04:29لازمی بات ہے
04:30اسے اچھی طرح معلوم تھا
04:31کہ سنوبر خان سردار قبیل خان
04:33اور سردار جہادات کے قاتل سے بدلہ لینا چاہے گا
04:36اور ایسی صورت میں وہ اپنے عاشق کی بلی چڑھا دے گی
04:39بہادر خان اور کمین خان اسبات میں سر ہلانے لگے
04:42ہم یہ بات بھی دل کو لگتی ہے
04:44خاموش بیٹھے ڈرائیور نے پہلی بار زبان کولی
04:46میں بات کر سکتا ہوں کمانڈر
04:48بہادر خان کے ساتھ باقی دونوں بھی اس کی جانے متوجہ ہو گئے
04:51کہو دلشاہد خان
04:52وہ بولا سچی بات تو یہ ہے
04:53کہ میں پلوشہ خان وزیر کا پرانا چاہنے والا ہوں
04:56پرانے سے میری مراد یہی کوئی چھ سات ماہ پہلے کی بات ہے
04:59جب یہ مجاہدین کے کیمپ سے باہر نکلی تھی
05:01میں اسے لڑکا ہی سمجھتا تھا
05:03اس وقت یہ سردار قبیل خان کے بارے میں
05:05معلومات حاصل کرنے کے لیے
05:07اس کے ایک قریبی محافظ سحیل خان کو نواز رہی تھی
05:10وہ اس غدار کی پانچوں گھی اور سر کڑا ہی میں تھا
05:13اسے جو کچھ پوچھنا ہوتا تنہائی کی ایک ملاقات کے بدلے اگل والی تھی
05:17ابھی سردار قبیل خان کی شہادت کے وقت
05:19سحیل خان بھی مارا گیا ہے
05:20اسے اپنے کی ایک آچھا بدلہ ملا
05:22خیر وہ پرانی بات ہے
05:24میں ابھی کچھ اور بتانا چاہ رہا تھا
05:26پلوشہ خان کا اصل چکر منور خان نامی ایک جوان سے جل رہا ہے
05:30یقین مانو بہت خوبصورت مرد ہیں
05:32اور یہ حرامزادی اس پر بری طرح سے فریفتا ہے
05:34مگر منور خان کافی سمجھدار اور ہوشیار ہے
05:37اس نے وقتی طور پر پلوشہ سے تعلقات قائم کی رکھے
05:40مگر وہ ہمیشہ کے لیے نہیں پھسنا چاہتا تھا
05:42بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایسی لڑکیوں کو بس وقتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے
05:46اب یہ معترمہ اس پر شادی کے لیے زور دے رہی ہے
05:49جس مامو کے ہاں اس نے پرورش پائی ہے
05:51اس نے اس کے رشتے کے پندرہ لاکھ مانگے ہوئے ہیں
05:53اور منور خان نے صاف طور پر پلوشہ کو بتا دیا ہے
05:56کہ اس کے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہے
05:58تب ہی اس فائشہ کو سنوبر خان سے ملنے کا خیال آیا
06:01اور درمیانی واسطہ میں بنا
06:03دلشاد نے مکرو انداز میں قیقہ لگایا
06:05میں یوں بھی کافی عرصے سے اس سے ملقات کا مطمئنی تھا
06:09اس بہانے چند گھنٹوں کی ملقات میرے حصے میں بھی آ گئی
06:12سردار سنوبر خان نے بھی جرگے کے وقت
06:14اس کی بھولی بھالی اور معصوم صورت دیکھی تھی
06:17میری ذکر کرنے پر ہی وہ پھڑک اٹھا
06:19اور فوراں ملقات کی خواہی ظاہر کر دی
06:21دو راتیں سردار سنوبر خان
06:23اور اس کے ساتھیوں کی خدمت کر کے
06:25موترمان نے اپنے گناہ ماف کروائے
06:27اور اپنے عاشق کو پکڑوا کر پندرہ لاکھ
06:29کھرے کر لیے
06:30یقیناً اب وہ یہ پیسے منور خان کو دے گی
06:32تاکہ وہ اس کی ماں اور مامو کو دے کر
06:35اس کا رشتہ مانگ سکے
06:36لیکن امید یہی ہے کہ منور خان پھر بھی اس سے شادی نہیں کرے گا
06:39یوں بھی اس کے سامنے پلوشہ کا گردار
06:41کھلی کتاب کی طرح ہے
06:42بہادر خان نے دلشاد خان کی گردن پر
06:45ہلکا سے تھپڑ لگایا
06:46اوے تم تو چھپے رستم نکلے
06:48ہمیں بھی ہوا نہیں لگنے دی
06:49دلشاد خان نے قیقہ لگایا
06:51مطلب آپ کا بھی دل تھا
06:53میرے دائیں بائیں بیٹھے دونوں آدمیوں نے اس کا ساتھ دیا
06:55بہادر خان نے بے شرمی سے اعتراف کیا
06:57بات تو کچھ ایسی ہی ہے
06:59دلشاد خان نے بڑے اعتماد سے پوچھا
07:01تو کتنا خرچ کر سکتے ہو
07:02بہادر خان نے برا سمو بنا کر کہا
07:05اب مجھے کیا پتا وہ کتنے پر مانے
07:07دلشاد نے کمانڈر کو تسلی دی
07:08مجھے بھی کوئی اندازہ نہیں ہے
07:10بہرحال میں اس سے مل کر آپ کو بتا دوں گا
07:12پلوشہ کے بارے میں اتنی بگواس سن کر
07:14میرے بدن سے گویا جان نکلتی جا رہی تھی
07:16اس کے معصوم اور بھولے چہرے کے پیچھے
07:18اتنا مکروح اور غلیس چہرہ چھپا ہوا تھا
07:21اس بارے میں تصور کرنا تو درکنار
07:23اگر میری گرفتاری سے پہلے
07:24کوئی ایسی بات کرنے کی کوشش بھی کرتا
07:26تو میں اس کے سر میں ایک گولی اتار دیتا
07:28مگر اب پلوشہ نے میری آنکھوں کے سامنے
07:30ان سے رقم وصول کی تھی
07:31دلشاد کے کہنے کے مطابق پرسوں رات
07:34وہ سنوبر خان کا پہلو گرم کر رہی تھی
07:36اور یہ بات مجھے اس لیے بھی سچ لگی تھی
07:38کہ اس رات کو کافی دیر کوشش کرنے کے بعد
07:40اس سے رابطہ نہیں کر سکی تھی
07:41حالانکہ اس سے دو دن پہلے رات کو
07:44گیارہ بجے تک وہ میری منتظر تھی
07:46گزشتہ رات بھی اس نے مجھے ملنے کے
07:48پیغام کے علاوہ کوئی بات نہ کی تھی
07:50گاڑی انگور انڈے سے ہوتی ہوئی
07:52جنوب کی طرف مڑ گئی
07:53یہ وہی سڑک تھی جو خڑکلے سے ہو کر
07:55قبیل خان کی حویلی کی طرف جاتی تھی
07:57قبیل خان کی اس حویلی کی طرف
07:59جہاں پلوشہ سے میری ملاقات ہوئی تھی
08:01اس سڑک پر جاتے ہوئے مجھے اپنا یار سردار یاد آیا
08:04اور اس کے ساتھ ہی پلوشہ کے ساتھ
08:06ہونے والی لڑائی یاد آگئی
08:07اسے گرفتار کر کے میں نے اس کی خوب پٹائی کی تھی
08:09اور آج اس نے اپنا بدلہ لیا تھا
08:11تباہ شدہ کوٹشری تعمیر ہو چکی تھی
08:14بس رنگ روغن کا تھوڑا بہت کام رہتا تھا
08:17یقیناً قبیل خان کے جان نشین کے بھی
08:18وہی مشاغل تھے جو خود اس کے رہے تھے
08:21یوں بھی اس کے بارے میں کافی کچھ
08:22مجھے اس کے آدمیوں کی زبانی ہی معلوم گوا تھا
08:25حویلی کے ایک کمرے میں لے جا کر
08:27انہوں نے مجھے بند کر دیا
08:28کمرے میں موجود چار پائی اور بستر دیکھ کر
08:30مجھے کافی حیرانی ہوئی تھی
08:31میرے خیال میں سنوبر خان کے ساتھ لے جا کر
08:34انہوں نے مجھے قتل کر دینا تھا
08:36اور پلوشہ سے دھوکہ کھانے کے بعد
08:38مجھے بھی پناہ لینے کے لیے قبر سے بہتر جگہ
08:40کوئی محسوس نہیں ہو رہی تھی
08:42وہ جو میرے تائیں میرے دماغ سے عورت ذات کے بارے میں
08:44پلنے والی غلط سوچوں کو کھرچنے آئی تھی
08:47وہ تو پہلے والیوں سے کئی ہاتھ آگے نکلی
08:49ماہین کے صرف ایک مرد سے غلط تعلقات تھے
08:51اور میری نظر میں معصوم اور غیرت مند پلوشہ
08:54کوئی بھی کام نکالنے کے لیے
08:55اپنے جسم کا دسترخان کسی کے سامنے بھی سر جا سکتی تھی
08:59چاہے وہ کوئی عام مرد ہو چاہے سردار وغیرہ
09:02جنیفر نے وطن کی خادر مجھ سے محبت جتائیں
09:04اور پلوشہ نے پیسے کے حصول کے لیے
09:07اپنی چاہت کا ڈراما رچھایا
09:17امام نے اپنے چہرے پر مختلف قسم کے نقاب چڑھا کر
09:20اپنے اصل کو چھپائے رکھا
09:21یقیناً میں احمق اور بے وقوف تھا
09:24کتنی چالاکی اور کیسی منصوبہ بندی سے اس نے مجھے بسایا تھا
09:27اس کے ساتھ بتائش اب و روز یاد کر کے میری آنکھیں بھیگ گئیں
09:30اس کے لہجے میں کتنی چاہت اور مٹھاس تھی
09:32کیسی بے ساختگی اور برجستگی سی
09:35کیا وہ سب جھوٹ اور دکھاوا تھا
09:37میں نے خود سے سوال کیا
09:38اگر واقعی وہ مطلب پرست اور غرز کا تھندہ کر رہی تھی
09:41اور ویسے وہ اپنے بدن کی رشوت دے کر
09:43ہر کام نکلوانے کی عادی تھی
09:44تو یہ دعوت اس نے مجھے کیوں نہ دی
09:46مجھے کبھی اس کی حرکات میں کوئی سستہ پن کیوں نظر نہ آیا
09:49میرے لیے اس نے اپنے جسم کو دستر خان کیوں نہ بنایا
09:53میرے دماغ نے کئی سوالات کا جواب دینے میں ایک لمحہ نہ لگایا
09:56کیونکہ تم اس کی محبت مدوبے ہوئے تھے اے مق
09:59میرے دل نے کمزور سا احتجاج کیا
10:01تھوڑی دیر پہلے بہادر خان نے بڑی یقین سے کہا تھا
10:04کہ پلوشہ نے خود ہی میری طرف قدم بڑھا کر
10:06اپنی بنابڑی محبت کا یقین دلایا ہوگا
10:08حالانکہ اسے ہماری تعلقات کی شروعات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی
10:12بس پلوشہ کی فطرت کو دیکھتے ہوئے اس نے جو دعویٰ کیا
10:15وہی اصل حقیقت تھی
10:16پلوشہ نے شروع دن سے ہی خود کو میرے قریب کرنا شروع کر دیا تھا
10:29اپنے محبوب کے حصول کے لیے اسے پندرہ لاکھ چاہیے تھے
10:33اور اس رقم کے حصول کے لیے مجھے اس پلوشہ نے مجھے بیج دیا
10:36جو کہتی تھی کہ میں اگر دور گیا تو وہ اپنی جان لے لے گی
10:39اور دور ہونے پر اس نے اپنی جان تو نہیں لی
10:42البتہ مجھے موت کے حوالے کر دیا
10:44بے انتہا درد اور تکلیف برداشت کرنے والے سنائپر کو
10:48ایک بے وفا نے دھوکہ دے کر رولا دیا تھا
10:50استاد محترم راہ و تصور کہا کرتے تھے
10:52کہ سنائپر کا دل لوہا اور احساسات پتھر ہوتے ہیں
10:55اسے بس اپنے مقصد سے غرض ہوتی ہے
10:57نہ اس پر موسم اثر کرتا ہے اور نہ ماحول کی سختی
11:00بھوک اور پیاس اس کے لیے بے مانی ہوتی ہے
11:02تھکنا وہ جانتا نہیں
11:03نیند اس پر قابو نہیں پاسکتی
11:05اور شکست کا لفظ اس نے اپنے لغت سے نکالا ہوتا ہے
11:08کیا میں واقعی سنائپر ہوں
11:10تھکا ہارا شکست خوردہ
11:11جو ایک دھوکے باز کے لیے رو رہا ہے
11:13یقینا میں سنائپر نہیں ہوں
11:15یقینا میں اپنے استادوں کے لیے ندامت اور شرمندگی کا باعث ہوں
11:18بزدل درپوک
11:19ایک سہمہ ہوا شخص
11:21جسے بس عورتوں سے دھوکہ کھانا آتا ہے
11:23دروازے پر ہونے والے کھٹکے کو سن کر
11:25میں نے جلدی جلدی آنکھیں صاف کی
11:27دروازہ کھول کر ایک شخص کھانے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا
11:30ایک مسلح شخص مجھ پر نظر رکھنے کے لیے اس کے ہمراہ تھا
11:33مسلح شخص چوکننا ہو کر دروازے پر کھڑا ہو گیا
11:36اور دوسرا کھانے کے برتن لکڑی کے میس پر رکھ کر خاموشی سے واپس مر گیا
11:40میں نکل آئی پر بندھی
11:41گھڑی پر نظریں دوڑائیں
11:42شام کے ساتھ بج رہے تھے
11:44کمرے میں جلنے والی ٹیوب لائٹ کی روشنی نے
11:46مجھے اندھیرہ ہونے کا پتہ نہیں لگنے دیا تھا
11:48میں صبح کا ناشتہ کر کے ڈی بلوک سے روانہ ہوا تھا
11:51بقیہ دن بغیر کھائے پیئے
11:52اسی ہنکامے کی نظر ہو گیا تھا
11:54اس کے باوجود مجھے ذرا سی بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی
11:57میں کھانے کے برتنوں کو چھوئے بغیر
11:59الٹی سیدھی سوچوں سے
12:00اپنے غم کو بڑھاوا دیتا رہا
12:02گھنٹے ڈیڑھ بعد وہی دو آدمی کھانے کے برتن سمیٹنے آئے
12:06کھانے کو جون کا تون پڑا دیکھ کر
12:08برتن لے جانے والے نے حیرانی سے پوچھا
12:10تم نے کھانا نہیں کھایا
12:11میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی
12:14ایک دو لمحے میری جواب کا انتظار کرنے کے بعد
12:16اس نے کندے اچھکاتے ہوئے میس پر تھرے برتن اٹھا لیے
12:19اور دروازے کی طرف بڑھ گیا
12:20وہ میری زندگی کی بدترین رات تھی
12:23نیند آنے کا تو سوال ہی بیدا نہیں ہوتا تھا
12:25میں جانتا تھا کہ سردار بھی پریشان ہوگا
12:27اور جانے میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا
12:29وہ زیادہ دیر تک میرے غائب ہونے کو چھپا نہیں سکتا تھا
12:32صبح تک تو یقیناً اسے کسی کو بتانا پڑ جاتا
12:35بلکہ اب تو وہ بھی پھنس گیا تھا
12:37میرے غائب ہونے کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تھی
12:40میں آج صبح اس کے ساتھ ڈی بلوک سے
12:42وچہ نہ رائے جانے کا ارادہ سے نکلا تھا
12:43اس کے بعد علام خیل کی طرف کیوں گیا
12:45اس کا جواب یقیناً سردار کے پاس موجود نہیں تھا
12:48اس نے کسی ذمہ دار کو میرے جانے کی فوری اطلاع کیوں نہ دی
12:51میرے غائب ہونے کے بارے میں وہ کوئی جھوٹ بھی نہیں بول سکتا تھا
12:55کیونکہ اس میں میرا ہی نقصان تھا
12:57فوج کی نوکری ایسی نہیں ہوتی
12:58کہ اس میں ذرا سی بھی بے قائدگی کی گنجائش ہو
13:00البتہ اس معاملے کو آرنگزیب صاحب سنبھال سکتے تھے
13:03اب نامعلوم سردار اسے بتاتا بھی تھا یا نہیں
13:06لیکن امید یہی تھی کہ اس کو بتانے کے علاوہ
13:09سردار کے پاس کوئی بھی چارہ نہیں تھا
13:10اگلے روز صبح رات ہی کی طرح
13:12ایک آدمی میرے لیے ناشتہ لے کر آیا
13:14جبکہ ایک مسلح آدمی دروازے پر کھڑا ہو کر
13:17مجھ پر نظر رکھے رہا
13:18ناشتہ لانے والا لکڑی کی میز پر ناشتے کے برطن رکھ کر
13:21واپس بڑ گیا
13:22اس کے جانے کے بعد بھی میں نے ناشتے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تھا
13:25بغیر کچھ کھائے پیئے
13:26مجھے چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا
13:28لیکن اس کے باوجود مجھے بھوک نہیں محسوس ہو رہی تھی
13:31اس وقت میری حالت فانسی کی سزا پانے والے مجرم کسی تھی
13:34میں جانتا تھا کہ سنوبر خان نے جلد ہی آ کر
13:36قبیل خان اور جہاداد خان کی ہلاکت کے بدلے مجھے قتل کرنا ہے
13:40لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت بھوک نہ لگنے کی وجہ سے
13:43جان کا خوف نہیں تھا
13:44ایک پاکستانی فوجی کو بھرتی ہونے کے ساتھ
13:47موت سے ڈرنا چھوڑنا پڑتا ہے
13:48جبکہ ایک سنائپر جس وقت عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے
13:52تو ہر مشن پر جانے سے پہلے وہ خود کو گویا موت کے حوالے کر رہا ہوتا ہے
13:56مجھے بس پلوشہ کا دکھ اندر سے چیرے جا رہا تھا
14:00اس کا دکھ دینا مجھے حضم
14:02اس کا دھوکہ دینا مجھے حضم نہیں ہو رہا تھا
14:04میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
14:05کہ کوئی لڑکی اتنی اچھی اداکاری بھی کر سکتی ہے
14:08آنکھیں بند کرتے ہی اس کی چاہت بھرے جملے
14:10محبت بھری باتیں
14:11میرے لیے پریشانی ظاہر کرنا
14:13شادی کی بات سن کر خوشی کا اظہار کرنا
14:16میری حفاظت کے لیے فکر مت ہونا
14:17یہ تمام باتیں ایسی تھیں جو گویا میرے دل کو شکنجے میں بھیج رہی تھی
14:21ہمیشہ ساتھ نبھانے کے وعدے کرنے والی نے
14:24صرف میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا
14:26بلکہ مجھے بیج دیا تھا
14:27میرا رقیب اتنا خوش قسمت تھا
14:29گھنٹے بر کے بعد وہ ناشتے کے لیے برطن لینے آئے
14:34ناشتے کو ویسے کا ویسہ پڑا دیکھ کر
14:36مجھے کچھ کہے بغیر وہ برطن واپس لے گئے
14:39وہ پورا دن میں نے بغیر کچھ کھائے پیے گزار دیا
14:42اس دوران مجھے تھوڑی نیند آئی
14:44اور پلوشہ تھم سے میرے خوابوں میں آن تھم کی
14:46آنکھیں کھلنے پر وہی قید خانے کی
14:48گھوٹی گھوٹی فضاء
14:49رات کے وقت بھی میرا کھانا کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا
14:52لیکن مجھے کمزوری محسوس ہونے لگی
14:54مجبوراً میں نے چند نوالے لے لیے
14:56اسی طرح تین دن گزارنے کے بعد
14:58میں نے تنگ آ کر کھانا لانے والوں سے
15:00سنوبر خان کے بارے میں پوچھا
15:01سنوبر خان کم آئے گا
15:03برطن اٹھانے والے نے حیرانی بھرے لہجے میں جواب دیا
15:06سردار تو یہی ہے
15:07حیرانی اسے میری بات کرنے پر ہوئی تھی
15:09کیونکہ جب سے میں قید ہوا تھا
15:10پہلی بار میں نے زبان کھولی تھی
15:12میں نے کہا میں اسے ملنا چاہتا ہوں
15:14وہ برطن اٹھا کر باہر نکل گیا
15:15میں اطلاع دیتا ہوں
15:17حیرت انگیز طور پر تھوڑی ہی دیر بعد
15:18بہت سارے قدموں کی چاپ کمرے کی طرف آتی سنائی تھی
15:21جو میرے قید خانے کے سامنے آ کر رکھ گئی
15:23دروازہ کھول کر کرخت شکل
15:25سنوبر خان اپنے چار محافظوں کی
15:27معیت میں اندر داخل ہوا
15:28ایک محافظ نے فوم کی آرام دے کرسی اٹھائی ہوئی تھی
15:31میری چار پائی کے سامنے کرسی رکھ کر
15:34چاروں محافظ میری چار پائی کو گھیر کر کھڑے ہو گئے
15:36سنوبر خان نشست سنبھالتے ہوئے بولا
15:39کہو موطرم سلیم شاہ
15:41زیشان حیدر یا راجو صاحب
15:43اس کے لہجے میں تنز کی بھو
15:44صاف محسوس کی جا سکتی تھی
15:46اس کے راجو کہنے پر میں چونگ گیا تھا
15:48کیونکہ راجو تو صرف پلوشہ کہتی تھی
15:50میں نے کہا تمہیں میرا نام راجو کیسے معلوم
15:52وہ بولی اس دن پلوشہ خان وزیر
15:54نے میرے سامنے ہی تم سے بات کی تھی
15:56سنوبر خان نے اتمنان بھرے لہجے میں کہا
15:58اور مجھے گرفتاری کے دن کمانڈر بہادر خان
16:01اور اس کے ساتھیوں کے موز سے
16:02سنی ہوئی باتوں پر فوراً یقین آ گیا
16:04انہوں نے سنوبر خان کی غیر موجودگی میں
16:07یہی بات کی تھی
16:07بولا آپ نے یوں قید میں رکھنے کا مقصد پوچھ سکتا
16:10اس نے جواب دیا
16:11اپنا قصور معلوم ہونے کے بعد
16:13یہ سوال بے معنی رہ جاتا ہے
16:15میں نے کہا اگر قصور معلوم نہ ہو تو
16:17وہ بولا سردار قبیل خان اور سردار جہانداد
16:20کو قتل کرنے والے کے موز سے
16:21معصومیت بھری گفتگو سنن کر عجیب لگ رہا ہے
16:24میں نے کہا سردار قبیل خان کی قاتل
16:26پلوشہ خان وزیر ہے
16:27جبکہ سردار جہانداد خان کو میں نے اپنے دفاع میں قتل کیا ہے
16:30یقیناً اصولی طور پر میں بے گناہ ہوں
16:40میں نے کہا اس میں تنز کرنے کی کیا بات ہے
16:43وشلام میں ہونے والے جرگے میں
16:45اس بات کی بڑی مفصل انداز میں وضاحت ہو چکی ہے
16:47البتہ اگر اس کے بعد میں نے تمہارے کسی آدمی کو قتل کیا ہو
16:51تو مجھے مورد الزام ٹھہرا سکتے ہو
16:53وہ بولا جرگے میں تو تم نے کافی سارے جھوٹ بولے تھے
16:56میں نے کہا میں نے صرف اپنا فوجی ہونا چھپایا تھا
16:59وہ فلسفیانہ انداز میں بولا
17:01ایک جھوٹ بولنے والے کی باتوں میں
17:03جھوٹ سچ کا امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے
17:05میں نے کہا آپ میرے سچ جھوٹ کو رہنے دیں
17:07بس اتنا بتا دیں کہ جہانداد خان
17:09نے اپنے لشکر کے ذریعے مجھے گھیرے میں نہیں لیا تھا
17:11اور کیا اس وقت میرا فائر کرنا
17:12اپنے دفاع کے لیے نہیں تھا
17:14وہ بولا اس حویلی کی تباہی قبیل خان
17:16اس کے ساتھ موجود بیس کے قریب آدمیوں کا قتل
17:19گاڑیوں کی تباہی
17:20روشن خان، انار گل، شمس خان
17:22انخواہستہ گل وغیرہ کا قتل
17:24ان تمام کو میں کس کھاتے میں ڈالوں
17:26وہ کسی وکیل کی طرح مجھ پر جرا کر رہا تھا
17:28میں نے کہا سردار سنوبر خان
17:30ان فضول باتوں میں پڑھنے کی بجائے
17:31مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ تمہارا ارادہ کیا ہے
17:34اگر بدلہ لینا چاہتے ہو تو کس بات کی دیر ہے
17:36سنوبر خان نے کہکہ لگاتے ہوئے کہا
17:38سمجھو تمہیں عمر قید ہو گئی ہے
17:40اور میرا خیال ہے
17:40فانسی سے عمر قید بہتر ہوتی ہے
17:43میں چند لمحے اس کی آنکھوں میں گھورتا رہا
17:45جن میں میرے لیے ذرا بھر نفرت موجود نہیں تھی
17:47اس کا لہجہ اس کے الفاظ کے ساتھ مل نہیں کھا رہا تھا
17:50میں بغیر لگی لپٹی رکھے بولا
17:52تمہاری لہجے میں نہ تو نفرت موجود ہے
17:54جو مجھے دشمن سمجھتے ہوئے
17:55اصولی طور پر ہونی چاہیے
17:57اور نہ تمہاری قید میں
17:58مجھے کوئی جسمانی عذیت پہنچائی گئی ہے
18:00اس کا صاف مطلب یہی ہے
18:02کہ تمہارا مقصد مجھے قتل کرنا نہیں
18:03اس نے اسبات میں سر ہلایا
18:05ہم میں نے پوچھا تو
18:07وہ بولا تو یہ کہ چند دن آرام کرو
18:09پھر بات چیت ہوگی
18:10میں اس کا جواب جاننے پر مسر رہا
18:12آرام کافی ہو گیا ہے
18:13وہ بولا بے سبری اچھی نہیں ہوتی جوان
18:15اگر تمہیں یہاں کوئی تکلیف ہے
18:17تو بتا سکتے ہو
18:17میں نے کہا قید ہونا بزاتے خود
18:19ایک تکلیف ہی تو ہوتی ہے
18:21وہ مانی خیز لہجے میں بولا
18:22اگر تعاون کیا
18:23تو قید و بند کی تکلیف سے جان چھوٹ جائے گی
18:25میں نے کہا پلوشہ کے مطالعے کے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں
18:28میرے لہجے میں نے جانے کونسی ایسی بات تھی
18:30کہ اس کے ہونٹوں پر مانی خیز مسکراہت نمدار ہوئی
18:32اور وہ نفی مصر ہلاتے ہوئے بولا
18:34نہیں
18:34میں خود ہی بتا دیتا ہوں
18:36میرا ایک ڈرائیور ہے دلشاہت خان
18:37جس دن تم گرفتار ہوئے تھے
18:39اس سے دو دن پہلے وہ پلوشہ خان وزیر کا پیغام لے کر آیا تھا
18:43کہ اگر میں اسے کچھ نہ کہنے کا وعدہ کروں
18:45تو وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے
18:46سیدھی سی بات ہے جوان
18:47میں نے جرگے کے طوران اسے دیکھا ہوا تھا
18:50ایک تو وہ بہت زیادہ خوبصورت ہے
18:52اوپر سے اس نے ہلیا بھی ایسا بنایا ہوا ہے
18:54دلشاہت کی بات پر میں نے فوراں وعدہ کر لیا
18:56کہ میں اسے کچھ نہیں کہوں گا
18:58بس اس نے یہاں آ کر
18:59اپنا قصور ماف کروا لیا
19:01اسی اثناء میں تمہارا ذکر چل نکلا
19:03میرے ایک دوست کو تمہاری ضرورت تھی
19:05بس پلوشہ خان نے تمہیں پکڑوانے کے لیے
19:07پندرہ لاکھ کا مطالبہ کیا
19:09اور میرا دوست مان گیا
19:10باقی کی کہانی تمہیں معلوم ہوگی
19:12اس نے منو ان وہی بات مختصر لفظوں میں دھورائی تھی
19:15جو اس سے پہلے دلشاہت خان اور بہادر خان کی زبانی سن چکا تھا
19:19میں نے پوچھا اتنے پیسوں کا اس نے کیا کرنا ہے
19:21اس نے کندھے اچھکاتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا پتہ نہیں
19:24بس اس نے مطالبہ کیا اور میرے دوست نے رضمندی ظاہر کر دی
19:27میں نے کہا تمہارے دوست کا نام جان سکتا ہوں
19:30وہ بولا دو تین دن تک وہ تمہیں خود شرف ملقات پکشے گا
19:33میں نے کہا ویسے میرا خیال تھا کہ تم نے سردار قبیل خان
19:36اور سردار جہانداد کا بدلہ لینے کے لیے مجھے پکڑا ہے
19:39وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا اس موضوع کو رہنے دو
19:41کسی چیز کی ضرورت ہو تو کھانا لانے والوں سے کہہ دینا
19:44اس کے اٹھنے پر چوکن نے محافظوں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا
19:48اور اس کے باہر جانے کے بعد وہ تمام بھی باہر نکل گئے
19:51اور میں اس کے مذکورہ دوست کے بارے میں سوچنے لگا کہ آخر وہ کون تھا
19:55اور مجھے پکڑوانے کے لیے اس نے اتنی خطی رقم کیوں خرچ کی تھی
19:59لیکن کافی دیر سر کپانے کے باوجود میرا ذہن کوئی اندازہ لگانے میں ناکام رہا
20:03شب روز اسی بے کیفی علچن اور پریشانی میں گزر گئے
20:07سنوبر خان سے ملاقات کے بعد اتنا تو مجھے یقین ہو گیا تھا
20:10کہ اس نے مجھے بدلہ لینے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے پکڑا ہے
20:13سنوبر خان سے ملاقات کے تیسرے دن قریباً گیارہ بجے چار مسلح افراد میرے کمرے میں داخل ہوئے
20:19اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑے
20:20مجھے وہاں آئے ہوئے ہفتہ ہونے کو تھا
20:23اور اس دوران پہلی بار میں اس قید خانے سے باہر نکل رہا تھا
20:26حویلی کی تعمیر میں پرانے نقشے ہی کو سامنے رکھا گیا تھا
20:29اندرونی حویلی میں پہلی کی طرح دو حصوں پر مشتمل تھی
20:32ایک جانب خصوصی مہمانوں کے لیے انیکسی بنائی گئی تھی
20:35جس کی حد بندی اینٹوں کی چھوٹی چھوٹی دیوار سے کی گئی تھی
20:38پہلے جہاں بانس کی لکڑی کی بار لگائی گئی تھی
20:41پلوشہ مجھے پہلی بار اسی انیکسی میں ٹکرائی تھی
20:44اس وقت میں نے اسے لڑکا سمجھا تھا
20:47سخت مقابلے کے بعد کہیں جا کر
20:48میں اس پر قابو پانے میں کامجاب ہو سکا تھا
20:51انیکسی کے دروازے پر جا کر وہ رک گئے تھے
20:54اسی وقت دروازہ کھول کر سنوبر خان باہر نکلا
20:56محافظوں کو وحی ٹھہرنے کا اشارہ کرتے ہوئے
20:59وہ مجھے بولا تم اندر جا سکتے ہو
21:00میں دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا
21:02پہلا کمرہ ڈرائنگ روم کی طرح ہی سجائے گیا تھا
21:05فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا
21:07اور وسط میں آرام دے اور قیمتی سوفے رکھے ہوئے تھے
21:10ایک سوفے پر بیٹھے امریکن گورے کو دیکھ کر
21:13مجھے حیرت ہوئی
21:14اس کے ساتھ ہی پڑے دوسرے سوفے پر کالی جینس پر
21:17سفید کمیز پہنے
21:18ایک سیاہ فام دو شیزہ بیٹھی تھی
21:20اس کے گھنے بال بمشکل کندھوں کو چھو رہے تھے
21:23جبکہ نیلی آنکھیں مجھ پر گڑی تھی
21:24اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں
21:26مجھے نامعلوم سی شناسائی کا احساس ہوا
21:28جس کی توجیہ سے میں قاسر تھا
21:30نبتلے قدم رکھتا ہوا
21:32میں ان کے سامنے جا بیٹھا
21:33مسافہ کرنے یا ہیلو ہائے کرنے کی ضرورت
21:35میں نے محسوس نہیں کی تھی
21:36سنوبر خان بھی باہر ہی رہ گیا تھا
21:39یقیناً امریکن اس کے مائی باب اور آقا تھے
21:42ان کے احکامات کی تعمیل کرنے پر ہی
21:44ایسے غدار سرداروں کو ڈالر ملتے ہیں
21:46جن کے بلبوتے پر یہ پاک آرمی پر بھی بھونگتے ہیں
21:49اور نہت عوام کے خلاف بھی کاروائیاں کرتے ہیں
21:52چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد
21:53مرد گلہ کھنکارتے ہوئے گویا ہوا
21:55تو تم ہو ریجا زیشان ہائیڈر
21:58اس نے میرے نام کی ٹھیک ٹاک مٹی پلیت کی
22:00میں نے کچھ کہے بغیر
22:02اسبات میں سر ہلاتے ہوئے
22:03ایک بار پھر اس سے آفام دوشیزہ کو دیکھا
22:06نہ جانے کیوں اسے دیکھ کر
22:07ایک عجیب سا احساس میرے اندر جاگ رہا تھا
22:10وہ بھی گہری نظروں سے میری جانے متوجہ تھی
22:12وہ اپنا اور اپنے ساتھ ہی کا تعرف کرواتے ہوئے بولا
22:14میرا نام ایلبرٹ بروک ہے
22:16اور میری ساتھ ہی کا نام ٹریسی والکر ہے
22:18اس مرتبہ بھی میں نے کچھ لپ کھولے بغیر
22:20اپنے سر کو خفیف سی حرکتی
22:22ایلبرٹ بروک نے گویا مجھ پر فرد جرم آئد کی
22:25جانتے ہو تم نے ہمارے ایک سنائپر کو قتل کیا ہے
22:27اور ہم اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کیا کرتے
22:30میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
22:32شاید اس کا ثبوت پیش کرنا آسان نہ ہو
22:34وہ بولا ہم سب جانتے ہیں محترم
22:36بیرٹ ایم 107 اور اس کے ساتھ سنائپنگ کا بکیا سامان
22:40تمہارے پاس موجود ہے
22:41اور تم ہی بیلی وات کر کے قاتل ہو
22:43میں نے تنزیہ انداز میں کہا
22:45پھر تو تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا
22:46کہ میری گولی کا نشانہ بننے سے پہلے وہ کیا کر رہا تھا
22:49میری بات کا جواب دینا آسان نہیں تھا
22:52گلہ کھنکارتے ہوئے اس نے لمحہ بھر توقف کیا
22:54اور پھر مو بگاڑتے ہوئے بولا
22:56اسی وجہ سے تم زندہ نظر آ رہے ہو
22:58ویسے اس نے ہماری ہدایات کے برقس
23:00سرحد کے اس طرف آ کر ایک ایسی کاروائی میں حصہ لیا
23:03جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا
23:05اور نتیجے میں اپنی جان گواں بیٹھا
23:07میں نے بھی تنز کیا کسر نفسی ہے تمہاری
23:09ورنہ سرحد پار کر کے زیادہ تر حملوں کے احکام
23:12تمہاری جانب سے ہی دیا جاتے ہیں
23:13اور اس بات کا واضح ثبوت تم دونوں کی جہاں موجود کی ہے
23:16وہ برا مناتے ہوئے بولا
23:18جوان میں تمہارے تنزیہ جملے یا گلے شکوے سننے نہیں آیا
23:21ایک سودا کرنے آیا ہوں
23:23اگر جان بچانی ہے تو ہمارے لیے کام کرنا پڑے گا
23:25دوسری صورت میں مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ
23:27چینل کو سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکن پر کلک کیجئے
23:31تاکہ آپ کو تمام ویڈیوز فوراں ملتی رہیں
Comments