Skip to playerSkip to main content
  • 11 months ago
Aaj ke video mein, hum ‪@aabphilips‬ ki hairat-angez kahani par baat karte hain—ek ex-atheist jis ne apni jawani mein communist parties join ki, aur phir Islam qabool kar liya. Dekhne ka lutf uthayein...


1:24 Dr. Bilal Philips kon hain?
2:06 Islam se pehle unka zindagi iman ke hawale se kaisi thi?
5:41 Usne pehli dafa Islam ke bare mein kaise suna?Kya un ke andar koi tasub tha?
7:56 Musalman honay ke liye kya iqdamat kiye?
9:12 kalma-e-shahadat parhne ke lamha
10:46 Kya uske walidain ne bhi Islam qabool kiya?
16:26 Usne sekro'n Amreeki logon ki madad ki ke woh Islam qabool kar saken.
19:34 Zindagi ka Maqsad kya hai?

Category

😹
Fun
Transcript
00:00I had immunism here.
00:05Communism had a problem with problems and problems.
00:08which was the world.
00:15I had the same problem with Islam.
00:19Until that I had a relationship with Islam.
00:22I had a wrong understanding of that.
00:24In a time, in a deep story,
00:27I have a very big story in my motorcycle.
00:31I will see you again.
00:33This is a way to come to me.
00:35The way I have to come to do it is where I am.
00:37That's what I am going to do.
00:38I am going to go to the next level of point.
00:41I realize I have to come to you again.
00:44When I went back to the other place, I am going to come to the top.
00:48It's a way I don't know.
00:50If I was to come to the other side by now, then I could come to you again.
00:54She was very dead.
00:55I was going to start a song but my voice was not coming out.
01:02I couldn't even hear it.
01:05Everything was done.
01:07When I was finished, I was going to see my voice.
01:12I was going to see my voice.
01:17This is the one who left me.
01:19I was going to see Islam.
01:25asalamu alaykum ڈاکٹر bilal philips آپ نے تشریف لاکر ہمیں عزت بکشی میں اس سوال سے آغاز کرتا ہوں کہ ڈاکٹر bilal philips کون ہیں
01:32الحمدللہ مجھے مدعو کرنے کے لیے آپ کا شکریہ میں جمیکہ میں پیدا ہوا تھا میں نے بائیو کمیسٹری میں ڈگری حاصل کی یہ میری دلچسپی کا مضمون تھا
01:42کینیڈا میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے میں نے کمیونزم اختیار کر لیا اور کمیونسٹ پارٹی کا غیر رسمی رکن بن گیا اور مختلف معاملات میں طلبہ کے مظاہروں میں سرگرم رہا
01:51جب میں ٹورانٹو واپس آیا تو وہاں اسلام سے مطارف ہوا اور میں نے اسلام قبول کر لیا
01:56پھر اس کے بعد میں بازابتہ طور پر اسلام کا مطالعہ کرنے کے لیے سعودی عرب گیا اور میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گلف میں گزارا ہے
02:05ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسے رہی آپ کیا کیدہ رکھتے تھے
02:09میری پرورش ایک عیسائی کے طور پر ہوئی تھی لیکن یہ ایسا تھا جسے وہ کہتے ہیں برائے نام عیسائی
02:15در حقیقت میں عیسائیت کو چھوڑ کر کمیونسٹ نہیں بنا تھا بلکہ میں نے کمیونزم کو اس کے ان تصورات کی وجہ سے اختیار کیا تھا
02:22جن پر وہ قائم تھا اور ایسا کرتے ہوئے میں نے عیسائیت کو چھوڑ دیا تھا
02:27تو یہ کوئی شعوری کوشش نہیں تھی کہ کیا مجھے مسیح یا یسو پر ایمان رکھنا چاہیے اور ان کا مقصد کیا تھا
02:33نہیں یہ صرف ایک حل تھا جو کمیونزم نے پیش کیا
02:36جس انسان کو درپیش مسائل کا جواب تھا
02:39ان مشکلات اور مسائل کا حل تھا
02:41جن کا سامنا پوری دنیا میں انسانیت کر رہی تھی
02:44ان مسائل کو کمیونزم کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا
02:47چنانچہ میں نے کمیونسٹ تحریک میں شمولیت اختیار کر لی
02:50اس نظریہ کی بنیاد پر کینیڈا اور امریکہ میں کچھ وقت کمیونزم میں گزارنے کے بعد
02:56مجھے کچھ خامیاں دیکھنے کو ملی
02:57لوگوں کے واضح بیانات اور عملی پریکٹس سے کچھ خامیاں سامنے آئی
03:02کیپٹلزم کا مقابلہ کرنے میں کمیونزم کی ناکامی کے بعد
03:05آپ جانتے ہی ہیں کہ سرمایہ داری نے اس کو شکست دے دی
03:09تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کچھ تو غلط تھا
03:12اگر یہ صحیح طریقہ ہوتا
03:13تو اسے سب سے آگے ہونا چاہیے تھا
03:20منانچہ پیکج یہ بتاتا ہے کہ ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے گا
03:25اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا
03:28کہ اگر آپ مضبوط ہیں تو آپ کام کریں گے
03:30اور زیادہ کام کریں گے
03:31لیکن آپ کی ضروریات کم ہیں
03:33تھوڑی ہیں
03:34لہٰذا آپ کو صرف آپ کی ضرورت کے مطابق ہی حصہ ملے گا
03:38اور آپ کے بعد جو انسان ہے وہ ایک عمر رسیدہ انسان ہے
03:41اس کی ضروریات زیادہ ہیں
03:43لہٰذا وہ پیداوار میں سے زیادہ حصہ حاصل کرے گا
03:46لیکن اس سے مطالبہ کیا کیا جائے گا
03:48کیونکہ وہ ایک عمر رسیدہ شخص ہے
03:50جو بہت تھوڑا کام کر سکتا ہے
03:52چنانچہ اس سے صرف اتنا ہی کام لیا جائے گا
03:55یہ خوبصورت لگتا ہے
03:57لیکن حقیقت میں انسان فطری طور پر
03:59اپنی کوشش کا بدلہ دیکھنا پسند کرتے ہیں
04:02میں نے محسوس کیا کہ مجھے مزید دیکھنا چاہیے
04:04چنانچہ پھر مذاہب پر غور کرنے کے لیے
04:06میرا ذہن کشادہ ہو گیا
04:08اگر میں نے شروع میں مذہب کو مسترد کیا
04:10تو یہ جہالت کی بنیاد پر تھا
04:12مجھے واقعی مذاہب کے بارے میں علم نہیں تھا
04:15چنانچہ میں نے بدمت اور ہندو مذہب
04:17اور دیگر مذاہب کا متعلیہ شروع کیا
04:19اور جلد ہی میں اس نتیجے پر پہنچا
04:22کہ وہ حقیقت میں قابل عمل نہیں ہیں
04:24انہوں نے دعوے کیے
04:25انہوں نے تصورات پیش کیے
04:27جو بہت عجیب غیر فطری
04:29یا ایسی ہی چیزیں تھی
04:30اس وجہ سے میں مختلف مذاہب پر تحقیق کرتا رہا
04:34مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتا رہا
04:36مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ
04:40یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا
04:42اور ایک وجہ ایک خاص کتاب کا متعلیہ تھی
04:44اسلام دمیس انڈرسٹوڈ ریلیجن
04:46جس میں مصنف نے کمیونزم
04:48کپٹلزم اسلام
04:49عیسائیت
04:50بدمت
04:51اور دیگر مختلف مذاہب کا موازنہ پیش کیا ہے
04:53انہوں نے موازنہ کیا ہے
04:55اور اچھے پوائنٹس کی نشاندہ ہی کی ہے
04:57پھر برے پوائنٹس
04:58منفی پوائنٹس کی نشاندہ ہی کی ہے
05:00تو میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد
05:02جس خلاصے یا نتیجے پر پہنچا
05:04وہ یہ تھا کہ
05:05وہ ساری خوبیاں جو کمیونزم میں تھی
05:07اور بلا شبہ کمیونزم میں خوبیاں تھی
05:09اگرچہ وہ حل نہ بن سکا
05:11لیکن بہرحال اس میں خوبیاں تھی
05:13اس نے کچھ اچھے آئیڈیاز کو ایک جگہ جمع کیا تھا
05:16وہ تمام اچھائیاں اسلام میں پائی جا رہی تھی
05:18اور جو چیزیں کمیونزم میں اچھی نہیں تھی
05:21بری تھی
05:21اسلام ان سے خالی تھا
05:23وہ خامیاں اسلام میں نہیں تھی
05:24تو ایسا لگتا ہے جیسے اسلام نے
05:26ان تمام خوبیوں کو یکجہ کر دیا ہے
05:29جو خوبیاں بھی انسانوں نے
05:30کسی ایک یا دوسرے نظام میں جمع کی
05:33اور ساتھ ہی اس نے تمام خامیوں سے گریز بھی کیا ہے
05:36وہ نقصان دے چیزیں جو
05:38مختلف معاشرے اپناتے ہیں
05:39یا جو مختلف مذاہب میں پائی جاتی ہیں
05:41ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسے رہی
05:44آپ کیا قیدہ رکھتے تھے
05:46آپ نے پہلے بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا
05:48اس تحقیق سے پہلے کیا
05:50آپ کا کبھی مسلمانوں سے واسطہ پڑا تھا
05:52آپ نے کہا کہ آپ ملیشیا میں تھے
05:54وہاں آپ کے ذہن میں کیا تصور تھا
05:56کیا آپ کے اندر کوئی تاثب تھا
05:57کیا مسلمانوں کے بارے میں آپ کی کوئی اچھی رائے تھی
06:00میں نے ملیشیا میں جو دیکھا وہ ثقافتی اسلام تھا
06:03اسلام ایک ثقافت ہے
06:05میری والدہ نے ایک انڈونیشن کو گود لیا
06:07جو مشرقی ملیشیا میں رہ رہا تھا
06:09ریاست سباہ میں
06:10اس کا نام سباہ ہے
06:11اور میری والدہ اور والد دونوں
06:14اسلام سے بطور ایک مذہب واقف تھے
06:16اور میری والدہ خاص طور پر میرے مو بولے بھائی کو
06:19جو ہمارے ساتھ رہتا تھا
06:26اس کے لئے سہری دیار کرتی
06:27اور افتاری کے لئے بھی وہ اس کے لئے کھانا اور مشروبات تیار کرتی تھی
06:31جب ہم سور کا گوشت کھا رہے ہوتے
06:33تو وہ اس کے لئے مچھلی پکاتی
06:35اگر اتوار کو ہم کچھ الکوہل پیتے
06:37روایتی طور پر اتوار کے ڈنر میں پی جاتی تھی
06:40تو اس کے لئے انگور کا جوس ہوتا
06:42تو ہماری والدہ نے اس بات کو یقینی بنایا
06:45کہ اس کے اسلام اور اسلامی عقائد پر
06:47کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے
06:49چنانچہ وہ گھر پر نماز بھی پڑتا تھا
06:51کبھی کبھی میں میرے بھائی اور بہن
06:53ہم اس کے کمرے میں داخل ہوتے
06:55اور ہم اسے زمین پر دیکھتے
06:56کہ اس کا سر نیچے اور پچھلا حصہ اوپر ہوتا
06:59اور ہم حیران ہو کر سوچتے
07:01یہ کیا کر رہا ہے
07:02کیونکہ اس وقت ملیشیا میں دارالحکومت کے اندر
07:05مسلمان اکثر کھلے طور پر
07:07اسلام پر عمل نہیں کرتے تھے
07:08یہ نو آبادیات کا حصہ تھا
07:10برطانوی نو آبادیوں نے
07:12شہر کے مرکزی حصہ میں
07:13مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی تھی
07:16مساجد شہر کی حدود سے
07:17باہر تعمیر کی جاتی تھی
07:19تو میں نے اس وقت تک کبھی
07:21مسجد نہیں دیکھی تھی
07:22اس کا نماز کا طریقہ
07:23بلکل عجیب سا لگتا تھا
07:25گویا ہم کسی کو
07:27یوگا کی مشک کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں
07:29یا کسی ایسے شخص کو دیکھ رہے ہیں
07:31جو کوئی منفرد قسم کی حرکات کر رہا ہے
07:34جو کچھ مذہبی گروہوں کے ساتھ خاص ہیں
07:36تو ہم نے کبھی اسے ایسی چیز کو طور پر نہیں دیکھا
07:39جس کے بارے میں ہم جاننا چاہتے ہوں
07:41البتہ ایک تاجب سے ضرور دیکھا
07:43تو میں نے یہ دیکھا
07:45اور میں سمجھ نہیں سکا
07:46کہ وہ کیا کر رہا ہے
07:47یہاں تک کہ جب میں نے خود اسلام قبول کیا
07:50اور مجھے نماز پڑھنا سکھایا گیا
07:52میں نے کہا
07:53آہ
07:54تو وہ یہ تھی
07:55میرا مو بولا بھائی مسلمان ہے
07:57آئیے آپ کی اسلام قبول کرنے کی کہانے کی طرف لوٹتے ہیں
07:59تو ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد
08:01آخر کار آپ نے مسلمان ہونے کے لئے کیا اقدامات کیے
08:04السلام علیکم بھائیوں اور بہنوں
08:05ہمیں احساس ہوا ہے
08:06کہ ہمارے چینل پر اسی فیصد ناظرین بشمول
08:09اس ویڈیو کے ہمارے سبسکرائبرز نہیں ہیں
08:11جیسا کہ آپ جانتے ہیں
08:12کہ ہم غیر منافع بخش تنظیم ہیں
08:14اور ہماری ویڈیو پر اشتہارات غیر فعال ہیں
08:16توورڈز ایٹرنیٹی صرف ایک یوٹیوب چینل ہی نہیں
08:18بلکہ ایک مدرسہ بھی ہے
08:19یہاں ہم خود کو اور نوجوانوں کو
08:21اسلامی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں
08:23لہٰذا ہمارے اس مطالبے کا واحد مقصد سچائی کو پھیلانا ہے
08:25ہو سکتا ہے
08:26بظاہر یہ چھوٹا عمل لگے
08:27لیکن انشاءاللہ یہ ہمیں لاکھوں لوگوں تک پہنچنے میں مدد کرے گا
08:31آئیے اب لائک اور سبسکرائب بٹن پر کلک کریں
08:33اور ساتھ مل کر توورڈز ایٹرنیٹی کا سفر کریں
08:36آئیے آپ کی اسلام قبول کرنے کی کہانے کی طرف لوٹتے ہیں
08:39تو ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد آخرکار
08:41آپ نے مسلمان ہونے کے لیے کیا اقدامات کیے
08:43یوں اس کا منطقی مطلب نکل آیا
08:46باقی سب کچھ صرف میرے لیے صرف یہ
08:49میں نے اسے ایک ڈسیبلن کی دھنا دیکھا
08:51دن میں پانچ بار نماز ادا کرنا
08:53یہ آپ کی زندگی میں ایک نصم و ضبط پیدا کر دیتا ہے
08:56اپنی زندگی کو منظم کرنا وغیرہ وغیرہ
08:59تو میرا مطلب ہے اس وقت
09:00میں نے دماغ و نوشی ترک کر دی
09:02اور آپ جانتے ہیں میں ایک میزیشن ہوا کرتا تھا
09:05تو میں نے موسیقی چھوڑ دی
09:06تو میری زندگی میں اس مقام پر پہنچ چکا تھا
09:09جہاں میں اسلام قبول کرنے کو تیار تھا
09:11کیا آپ ہمیں اپنے کلمہ شہادت پڑھنے کے لمحے پر لے جا سکتے ہیں
09:15میں کمیونسٹ پارٹی کے لوگوں کے گروپ میں رہ رہا تھا
09:18میں سو رہا تھا
09:19نین کے دوران میں نے خود کو دیکھا کہ
09:22میں ایک بہت بڑے سٹوریج ایریہ
09:24یا اس جیسی کسی جگہ
09:25کسی گراج وغیرہ میں چل رہا ہوں
09:27دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا
09:29جو میرے اندر داخل ہونے کے لیے کافی تھا
09:32لیکن اندر مکمل طور پر اندھیرہ تھا
09:34اور میں آگے سے آگے چلتا جاتا ہوں
09:36اور یہ دیکھنے کے لیے
09:37کہ جس دروازے سے میں اندر داخل ہوا تھا
09:40وہ اب بھی وہی موجود ہے
09:41میں بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا ہوں
09:44تو ایک قسم کا خوف تھا جو مجھے لاحق تھا
09:47کہ یہ دروازہ بند ہو سکتا ہے
09:48چنانچہ میں ایک مخصوص پوائنٹ پر پہنچنے تک چلتا رہتا ہوں
09:52پھر جب میں واپس مڑتا ہوں
09:53تو وہاں بالکل داری کی چھائی ہوتی ہے
09:55جس میں مجھے کچھ نظر نہیں آتا
09:58اور اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ
09:59اگر میں یہاں سے باہر نہ نکلا تو
10:01میں کبھی باہر نہیں آسکوں گا
10:03یہ موت تھی
10:04تو میں نے چلانا شروع کر دیا
10:06اور ان لوگوں کو پکارنا شروع کر دیا
10:08جو میرے ساتھ وہاں رہتے تھے
10:10لیکن میرے گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی
10:12کوئی بھی میری آواز نہیں سن سکتا تھا
10:15کوئی بھی میری مدد کے لیے نہیں آسکتا تھا
10:17آخر کار میں نے خود محسوس کیا
10:19کہ سب کچھ ختم ہو گیا
10:20میں ختم ہو چکا ہوں
10:22اس موقع پر جب میں نے ہار مان لی
10:24اور قبول کر لیا کہ میرے پاس
10:26اس صورتحال سے نکلنے کا
10:27کوئی راستہ نہیں ہے
10:28تو میری آنکھ کھل گئی
10:30اور یہ ایک آخری پوائنٹ تھا
10:31جس نے مجھے خدا کے وجود کا یقین دلایا
10:34کہ یہ خدا ہی تھا جس نے مجھے وہاں سے نکالا
10:36میرے دوست میرے حالات
10:38کچھ بھی نہیں
10:39کوئی بھی میری مدد نہیں کر سکا
10:40تو یہ بالکل آخری پوائنٹ کی طرح تھا
10:43اس کے بعد پھر باقی سب کچھ
10:45بالکل آسان تھا
10:46میں کہانی کو تیزی سے آگے بڑھانا جاتا ہوں
10:48آپ مسلمان ہوگے
10:50اور آپ کی والدہ اسلام کی محافظ
10:52اور آپ کے والد بھی ایک موہد تھے
10:54جیسا کہ آپ نے بتایا
10:55تو کیا بعد میں وہ مسلمان ہوئے
10:57جی ہاں الحمدللہ
10:59ان کی اسلام کے بارے میں کوئی منفی رائے نہیں تھی
11:02کیونکہ ان دونوں نے
11:03اپنے یونیورسٹی کے زمانے میں
11:05مذہبِ عالم کا مضمون پڑھا تھا
11:07اور وہ اسلام اور اس کی تعلیمات سے واقف تھے
11:10اور ان کی رائے تھی کہ یہ ایک اچھا مذہب ہے
11:12اور پھر ہوا یہ کہ یونیورسٹی میں
11:14ان کے بہت سے دوست
11:15شاید ان کے آدھے سے زیادہ دوست
11:22اور وہ بہت اچھے لوگ تھے
11:23اس وجہ سے اسلام کے بارے میں
11:25میرے والدین کا تاثر اچھا تھا
11:27یہاں تک کہ میری والدہ بھی جب وہ
11:29یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں مذہبِ عالم کی تعلیم
11:32حاصل کر رہی تھی تو ان کا پروفیسر
11:34یہودی تھا اور وہ پروفیسر جب بات کرتا
11:36جب وہ گروپ کو دوسرے مذہب کے بارے میں سکھا تھا
11:39تو وہ ہمیشہ اچھے اور برے کی نشاندہ ہی کرتا تھا
11:42لیکن جب اسلام کی بات آئی تو
11:44میری والدہ نے محسوس کیا
11:46کہ وہ صرف بری باتیں ذکر کر رہا تھا
11:48وہ کسی اچھائی کا ذکر نہیں کر رہا تھا
11:50تو وہ لیکچر کے دوران ہی اٹھ کھڑی ہوئی
11:52اور انسٹرکٹر سے سوال کیا
11:54کیا اسلام میں کوئی اچھائی نہیں ہے
11:56تو ہم اسے سیکھ کیوں رہے ہیں
11:57یہ سب بہت برا تھا
11:58تو والدہ نے یہ ذمہ داری اٹھائی
12:00کہ کورس کے لیے تجویز کردہ کتابوں کے علاوہ
12:03دیگر کتابیں تلاش کرنا شروع کر دی
12:05انہوں نے دوسرے مصنفین کو پڑھا
12:07کچھ غیر مسلم مصنف
12:09لیکن وہ اتدال پسند خیالات کے حامل تھے
12:12تو والدہ نے لیکچر ہال میں
12:13سٹوڈنٹس کے درمیان
12:14اسلام کا دفاع کرنا شروع کر دیا
12:16اور بلا شبہ
12:17پروفیسر کو یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی
12:20آپ جانتے ہیں
12:21والدہ کہتی ہیں
12:22اس وجہ سے انہوں نے
12:24اسے صرف بی گریڈ دیا
12:26جبکہ ان کے تمام گریڈز اے تھے
12:28تو کم از کم آپ کو
12:29میری طرف سے ایک گریڈ نہیں ملنے والا
12:32جیسا کہ میں نے کہا
12:33ہم برائے نام حسائی تھے
12:34اس کا مطلب یہ ہے
12:35کہ اتوار کو ہم کلیسیا جاتے تھے
12:38سب بچے
12:38اگرچہ میرے والد کبھی نہیں گئے
12:41وہ بچپن کا دور تھا
12:42ہم اس پر سوال نہیں کر سکتے تھے
12:44کہ والد صاحب خود نہیں جاتے
12:45لیکن ہمیں بھیجتے ہیں
12:46وہ تعقید کرتے تھے
12:48تم لوگ اپنی والدہ کے ساتھ جاؤ
12:49تو ہم ہمیشہ چل جاتے
12:51لیکن وہ کبھی نہیں گئے
12:52بعد میں جب میں نے اسلام قبول کیا
12:54اور میں نے ان سے
12:55اور اپنی والدہ سے
12:56اسلام کے بارے میں بات کی
12:57تو انہوں نے مجھے بتایا کہ
12:59جب وہ تیرہ سال کے تھے
13:01جب وہ سکول میں پڑھتے تھے
13:02اور اس وقت برطانوی سکول میں
13:04وہ لوجک سکھاتے تھے
13:06جب انہوں نے اس آئیت کے بارے میں سوچا
13:08کیونکہ وہ چرچ میں ایک کوئر بوائے تھے
13:10ان کے والد ایک پادری تھے
13:11جب انہوں نے یسو کے خدا ہونے کے بارے میں سوچا
13:14تو یہ لوجکل نہیں لگا
13:15You know this one I can't do so.
13:17Since this time it was always a Christian.
13:19If something is always a God God who grew up and he had said that.
13:22He had to accept this.
13:24And they were to accept this.
13:26And they had to accept it.
13:29And so they were not given in that way.
13:33Because in the church in church I know Jesus is coming to Him.
13:36My Islam is able to accept this.
13:38Then my two of them have made up this year.
13:42Do you ever have 20 years to Islam?
13:46No, I don't have this.
13:47I mean, I have all the way to make them all.
13:50But I know that I had to know that I had every time
13:52I would not have had any of them.
13:54I would say some things that I would say.
13:56They were Muslims across the world.
13:59They were Nigerian, and they were North Nigeria.
14:01They were Muslim in the schools.
14:03Then they were Yemen.
14:04They were Yemen, which is a Muslim country.
14:07They were Saudi Arab.
14:09They were in a Islamic school.
14:11The school was very large, which was 90% of the people who saw their friends,
14:26so they were not going to be able to do that.
14:30They had to be very large, because they had to be very large enough,
14:34and they had to be very large enough.
14:37My dad had to be able to do so,
14:38وہ بنیادی طور پر
14:40یہ وہ وقت تھا جب انہوں نے مجھے بتایا
14:42کہ جب وہ 13 سال کے تھے
14:44میں اس وقت تک اس بارے میں نہیں جانتا تھا
14:46کہ وہ صرف ایک خدا
14:47اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کرتے ہیں
14:50یسو کی نہیں
14:50وہ کسی انسان کی عبادت نہیں کرتے
14:53دوسری طرف میری والدہ
14:55وہ ایک واقعہ کی وجہ سے اس طرف آئیں
14:57اور وہ یہ تھا کہ وہ جدہ میں رہ رہی تھی
14:59جدہ کے ایک انسٹیوٹ میں کام کر رہی تھی
15:01اور جب میں ریاض سے ان سے ملنے آیا
15:04میں ریاض میں ماسٹرز کر رہا تھا
15:06میری والدہ نے مجھے بتایا
15:07کہ انہیں لگتا ہے کہ
15:08گھر میں کچھ ہے جو انہیں دکھائی دیتا تھا
15:11اور ایسا لگتا تھا کہ
15:12کچھ بہت تیزی سے حرکت کر رہا ہے
15:14وہ بالکل واضح نہیں کر سکی
15:16کہ وہ کیا تھا
15:17اور اسے گھر سے بھگانے کے لیے
15:19انہوں نے جو کیا
15:21اس پر اعتقاد رکھنا انتہائی برا تھا
15:23انہوں نے سلیب بنی
15:25بہت سی سلیبیں بنائی
15:26ایک گھر میں داخل ہونے والے دروازے کے اوپر رکھ دی
15:29ایک بیڈروم کے دروازے پر
15:31ایک لیونگ روم میں
15:32لیکن انہوں نے کہا
15:33کہ ایسا کرنے کے بعد بھی وہ چیزیں موجود ہیں
15:36میں نے کہا
15:37ٹھیک ہے مجھے یہاں سورہ بکرا پڑھنے دیں
15:39اسلام ہمیں یہی ذکھاتا ہے
15:41کہ شیطانی اثرات کو گھر سے ختم کرنے کے لیے
15:44سورہ بکرا کی تلاوت کرنی چاہیے
15:46تو میں لیونگ روم میں بیٹھ گیا
15:47اور سورہ بکرا کی تلاوت کی
15:49اور پھر میں ریاض واپس سلا گیا
15:51اور اس کے بارے میں بھول گیا
15:53تو جب والدہ نے اسلام قبول کیا
15:54تو انہوں نے بتایا
15:55جانتے ہو جب تم نے وہاں جا کر قرآن پڑھا
15:58تو والدہ نے کہا
15:59اگلے دن ہی وہ چیز چلی گئی
16:01انہوں نے کہا
16:02اس سے مجھے سمجھ آ گئی
16:03کہ اسلام میں کچھ تو صحیح ہے
16:05یقینی طور پر
16:06اسلام مکمل طور پر درست ہے
16:08تو یہ وہ چیز ہے
16:10جس نے ان پر سب سے زیادہ اثر ڈالا
16:12اور اس طرح انہوں نے اسلام قبول کیا
16:14اس رات جب میں ٹورانٹو میں ان سے ملنے گیا
16:16اور انہوں نے مجھ سے کہا
16:18اپنے والد کو مت بتانا
16:20انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے دو
16:21اور اگلی صبح میرے والد آئے
16:23اور انہوں نے بھی اسلام کا اعلان کر دیا
16:26آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد
16:27آپ تبلیغ میں کافی سرگرم ہو گئے
16:29کیا آپ ہمیں کسی ایسی تبلیغی سرگرمی کے بارے میں بتا سکتے ہیں
16:33جو آپ کبھی نہیں بھول سکتے
16:34شاید میرے تجربے کا سب سے دلچسپ لمحہ
16:38اس دوران تھا جسے سہرا کا دفان کہا جاتا تھا
16:41یہ پہلی خلیجی جنگ کی بات ہے
16:43اس عرصے میں تقریباً پانچ لاکھ امریکی فوجیوں کو
16:46صدام سے لڑنے کے لیے سعودی عرب لائے گیا تھا
16:49تاکہ اسے قویت پر قبضے سے روکا جائے
16:51مجھے ایک سعودی سارچن نے مدو کیا تھا
16:54جو خود جنگ کے دوران اور اس کے بعد
16:56ان فوجیوں کے درمیان تبلیغ کا کام کرتا رہتا تھا
17:04یہ خیال ذہن میں آیا کہ ان امریکی فوجیوں کے درمیان
17:09ایک دعوتی خیمہ قائم کیا جائے
17:11جن فوجیوں کو ملک سے باہر بھیجا جا رہا تھا
17:14اور اس خیمے پر ایک لیبل لگایا جائے
17:16جس پر لکھا ہو سعودی عرب کی ثقافتی معلومات کا خیمہ
17:19ہم نے اس کا نام تبلیغی خیمہ نہیں رکھا
17:22اور وہاں ہمارے پاس میزوں پر بہت سے کتابچے موجود تھے
17:25جن میں سعودی عرب اور جانوروں اور پرندوں
17:28اور سعودی عرب کی چیزوں کے بارے میں معلومات تھی
17:30اور ہم نے ان کے درمیان کچھ پامفلنٹس بھی ملا رکھے تھے
17:34جن میں اسلام کے بارے میں معلومات تھی
17:36اور ہمارے پاس قرآن پاک کے انگریزی ترجمے کی کوپیاں بھی تھی
17:40ان لوگوں کے لیے جو خریدنا چاہیں
17:42اور خیمے میں ہمارے پاس فوجی مرد و خواتین کے گروپاتے تھے
17:45جو ایک وقت میں 150 سے 200 افراد پر مشتمل ہوتے
17:49اور ان کے سامنے بلواسطہ اسلام پیش کیا جاتا
17:52سعودی عرب کی ثقافت کے طور پر
17:54کیونکہ سعودی عرب کی ثقافت کے بارے میں بات کرنے کے لیے
17:57آپ کو لازمی طور پر اسلام کے بارے میں بات کرنی پڑتی ہے
18:01کیونکہ اس کی بنیاد میں یہی چیز ہے
18:03کہ وہاں جو کچھ بھی آپ دیکھ رہے ہیں
18:05اس میں زیادہ تر چیزیں اسلام سے ہی آئیں ہیں
18:07تو یہ پیغام کہ اسلام
18:09لوگوں کی ثقافت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے
18:12ان تک پہنچایا جا رہا تھا
18:14اور آہستہ آہستہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو
18:17مساجد کے وزٹ پر لے جایا جاتا
18:19تاکہ وہ دیکھیں کہ مسجد کے اندر کیا ہوتا ہے
18:21دیکھیں کہ مسلمان کیسے نماز پڑھتے ہیں
18:24اور وہ سوالات کریں
18:25ہم نے خواتین فوجیوں کے لیے
18:27ایسے سعودیوں کے گھر کے وزٹ کا بندوبست کیا
18:29جنہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی تھی
18:32ان کی بیویاں وہاں موجود تھی
18:34وہ بھی وہی سے تعلیم آفتہ تھی
18:36وہ ان کے ساتھ بانچیت کر سکتی تھی
18:38لہٰذا انہیں مسلم خواتین سے ملنے کا موقع ملا
18:41کیونکہ بلا شبہ ان کا خیال تھا
18:42کہ مسلمان خواتین پر ظلم ہوتا ہے
18:45وہ یہ سیاہ لباس پہنے ہوتی ہیں
18:47تو ان کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنے کے عمل میں
18:49جو کچھ بھی وہ پوچھنا چاہتی تھی
18:51وہ پوچھ سکتی تھی
18:52الحمدللہ پانچ ماہ کے عرصے میں
18:55انہیں ملک سے باہر بھیج دیا گیا
18:56اور ان میں سے تین ہزار سے زیادہ لوگوں نے
18:59ہمارے خیمے سے اسلام قبول کیا
19:01ماشاءاللہ
19:02تو یہ میرے لیے حیرت انگیز تھا
19:04میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
19:06یہ ایک بار کا اجتماع نہیں تھا
19:08بلکہ ایک عرصے تک
19:10باقاعدگی سے لوگوں سے ملاقات کرنا
19:12اور پھر ان کی تربیت کرنا
19:14ان کو تیار کرنا
19:15کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو
19:17اسلام قبول کرنے کے
19:18شاید ایک ہفتے یا دو ہفتے دوران
19:20واپس جانا پڑتا
19:21لہٰذا ہماری کوشش تھی
19:23کہ انہیں زیادہ سے زیادہ
19:24معلومات فراہم کر سکیں
19:26اور ان کے امریکہ لوٹ جانے کے بعد
19:28بھی ان سے رابطہ رکھیں
19:29تو یہ آپ کہہ سکتے ہیں
19:31کہ سب سے بڑا دعوتی پروگرام تھا
19:33جس میں میں شامل ہوا
19:34آپ کی زندگی کا مقصد
19:36اسلام لانے سے پہلے کیا تھا
19:37اور اسلام لانے کے بعد کیا ہے
19:39اسلام لانے سے پہلے
19:41کوئی واضح مقصد نہیں تھا
19:42کچھ کام ایسے تھے
19:43جو کرنے پڑتے تھے
19:44اور آپ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے
19:46ان کو کرنے کی کوشش کرتے ہیں
19:48میرا مطلب ہے
19:49مارکس اور اینگلز کی
19:50جتنی کتابیں میں نے پڑھی
19:51مجھے یاد نہیں
19:52کہ میں نے ان میں کچھ بھی ایسا پڑھا ہو
19:54جس میں زندگی کے مقصد کے بارے میں
19:56بات کی گئی ہو
19:57اس میں کہیں بھی یہ چیز نہیں تھی
19:59ایک کمیونسٹ یا ایک ملحد کے طور پر
20:01آپ کا یہ ماننا ہوتا ہے
20:02کہ یہ ایک حادثہ ہے
20:04تو اگر یہ ایک حادثہ ہے
20:05تو حادثات کا کون سا کوئی مقصد ہوتا ہے
20:08حادثات تو ہوتے رہتے ہیں
20:09بس اتنی سی بات ہے
20:11لہٰذا اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں
20:13ہو سکتا ہے کہ بعض مقامات پر
20:15لوگ پوچھ سکتے ہیں
20:16کہ ان سب کا فائدہ کیا ہے
20:18وہ یہ سوال پوچھیں گے
20:19لیکن ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے
20:21ایک مسلمان ہونے کے ناتے
20:22بلا شبہ زندگی کا مقصد
20:24جنت کا حصول بن جاتا ہے
20:26یہ زندگی
20:27عبدی زندگی
20:28جسے ہم جنت کہتے ہیں
20:29اس تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے
20:31تو ہم جنت میں کیسے پہنچیں گے
20:33اللہ تعالیٰ کی عبادات کرنے سے
20:35اور اسی وجہ سے
20:36اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
20:37وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّةُ وَلْإِنسَاِ اللَّا لِيَابُدُونَ
20:40اور میں نے جنوں اور انسانوں کو
20:42اس لیے پیدا کیا ہے
20:43تاکہ وہ میری عبادت کریں
20:45تاکہ وہ جنت میں
20:46ایک بھرپور زندگی حاصل کرسکے
20:48ڈاکٹر بلال فلیپس
20:50آپ کے سنجیدہ اور بصیرت افروز جوابات کے لیے
20:52آپ کا شکریہ
20:53ہمیں آپ سے بہت فائدہ حاصل ہوا
20:56اللہ تعالیٰ دین کے لیے
20:57آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے
20:59آمین آمین
21:01اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی ٹیم کو
21:03زندگی کا مطلب سمجھنے میں
21:04اپنے اردگرد لوگوں کی مدد کرنے پر
21:06بہتر بدلہ عطا فرمائے
Comments

Recommended