Skip to playerSkip to main content
#amazing #tales from #islamic #history

Category

📚
Learning
Transcript
00:00جنات کی اقسام اسلامی تعلیمات کے مطابق
00:03جنات کی اقسام اسلامی کتابوں کے مطابق تفصیلی جائزہ
00:09اسلامی تعلیمات کے مطابق جنات اللہ کی ایک مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی ہے
00:16یہ انسانوں کی طرح عقل و شعور رکھتے ہیں مگر مادی دنیا میں عام عقصے نظر نہیں آتے
00:23قرآن و حدیث میں جنات کا ذکر کئی جگہ آیا ہے اور اسلامی کتابوں میں ان کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں
00:30اسلامی تعلیمات میں جنات کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے
00:37ان کی اقسام ان کی خصوصیات طاقتوں اور رویوں کی لحاظ سے مختلف ہیں
00:44ممن جن وہ جنات جو اسلام قبول کر چکے ہیں اور اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں
00:50کافر جن وہ جنات جو شیطان کے پیروکار ہیں اور انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں
00:57قرآن میں سورت الجن میں ذکر ہے کہ کچھ جنات ایمان لائے اور کچھ نافرمان رہے
01:03اور بے شک ہم میں سے کچھ مسلمان ہیں اور کچھ نافرمان
01:09سورت الجن چودہ
01:13شیعتین شیطان جنات یہ نافرمان اور سرکش جنات ہوتے ہیں
01:17جو اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں اور انسانوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں
01:23افریت یہ شریر اور انتہائی طاقتور جن ہوتے ہیں
01:28جو انسانوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں
01:31قرآن میں حضرت سلمان علیہ السلام کے دربار میں ایک افریت جن کے ذکر کا حوالہ ملتا ہے
01:39ایک زبردست افریت نے کہا میں آپ کے دربار سے اٹھنے سے پہلے سے لے آؤں گا
01:45سورت النمل انتالیس
01:47یہ تقسیم جنات کی ساخت مزاج اور طاقت کے مطابق کی گئی ہے
01:54یہ وہ جنات ہیں جو خالص آگ سے بنے ہیں اور روشنی کی مانند حرکت کر سکتے ہیں
02:00ان کے بارے میں قرآن میں کہا گیا
02:03اور ہم نے جنات کو آگ کے شولے سے پیدا کیا
02:08سورت الحجر ستائیس
02:11یہ جنات بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں
02:15مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں
02:18اور ایک لمحے میں دور دراز علاقوں تک جا سکتے ہیں
02:21یہ جنات سمندروں، دریاؤں اور چھیلوں میں بستے ہیں
02:26اور پانی پر مکمل اختیار رکھتے ہیں
02:29یہ جن زمین کے اندر رہتے ہیں
02:32سرنگوں اور غاروں میں بسیرا کرتے ہیں
02:35اور زیر زمین دولت کی حفاظت کرتے ہیں
02:38یہ عام جنات ہوتے ہیں
02:41جو زیادہ طاقتور میں ہی ہوتے
02:43اور مختلف کاموں میں مصروف رہتے ہیں
02:46یہ بہت زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوتے ہیں
02:50اور انسانی دنیا میں براراست مداخلت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
02:55یہ وہ جنات ہیں
02:57جو اللہ کے احکامات کو قبول نہیں کرتے
03:00اور ہمیشہ فساد میں لگے رہتے ہیں
03:02یہ وہ جنات ہیں
03:05جو حضرت سلمان علیہ السلام کے تابے تھے
03:08اور مختلف تعمیراتی کاموں میں مشغول رہے ہیں
03:11قرآن میں ذکر آیا ہے
03:13کہ یہ جنات محل اور دیگر تعمیرات میں مصروف رہتے تھے
03:17اور ہم نے ان کے لئے جنات کو مسخر کر دیا
03:21جو ان کے حکم سے بڑے بڑے محلات اور دیگر تعمیرات کرتے تھے
03:25یہ تقسیم جنات کے روئیے اور انسانی دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات کے مطابق کی گئی ہے
03:35یہ نیک فطرت جنات ہوتے ہیں جو انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے اور باز اوقات نیک لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں
03:44یہ جنات بد نیتی رکھتے ہیں اور انسانوں کو پریشان کرنے دھکہ دینے آنکسان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں
03:54بعض جنات گھروں میں بسیرہ کر لیتے ہیں اور وہاں رہتے ہیں
03:59اگر ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ نقصان نہیں پہنچاتے
04:04ورنہ وہ گھر کے مکینوں کو پریشان کر سکتے ہیں
04:07یہ وہ جنات ہوتے ہیں جو کسی مخصوص جگہ قبرستان اور ویران مقامات پر قابض ہوتے ہیں
04:15اور وہاں جانے والے انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں
04:19جنات مختلف جگہوں پر رہنے اور اپنی مخصوص سرگرمیوں کی لحاظ سے بھی تقسیم کیے گئے ہیں
04:26یہ قبرستانوں میں رہنے والے جنات ہوتے ہیں اور اکثر وہاں رہنے والے مردوں کی وہوں کو ستاتے ہیں
04:34یہ ویران اور سنسان جگہوں پر رہتے ہیں اور اکثر مسافروں کو پریشان کرتے ہیں
04:41یہ دریا سمندل اور چھیلوں میں بستے ہیں اور پانی کے قریب جانے والے انسانوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
04:50یہ عام گھروں میں رہتے ہیں اور بعض اوقات انسانی گھر والوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں جبکہ کچھ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں
04:59اسلامی تعلیمات کے مطابق جنات ایک حقیقی مخلوق ہے جو انسانوں کی تہنی کو بدونوں تحقے ہوتے ہیں
05:08ان کی مختلف اقسام ہیں جو ان کی طاقت، رہائش، کردار اور اثرات کے مطابق تقسیم کی گئی ہیں
05:17قرآن و حدیث میں جنات کے بارے میں مختلف تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور اسلامی کتابوں میں ان کی مختلف گروہ اور خصوصیات تفصیل سے مذکور ہیں
05:27جنات سے غیر ضروری تعلق اور ان سے مدد طلب کرنا جائز نہیں
05:32شیطان اور نافرمان جنات سے بچنے کیلئے آیت الکرسی، صورت الفلق، صورت الناس اور صورت البقرہ پرنا مفید ہیں
05:44روحانی علوم میں مشغول ہونے سے پہلے کسی مستند عالم سے رہنمائی لینا ضروری ہے
05:49مشہور صوفیہ کرام روحانی رہنمائی کا خلاصہ
05:54صوفیہ کرام کی زندگی اور تعلیمات اسلامی روحانی تاریخ کا ایک عظیم ورثہ ہیں
06:01جو دلوں کو سکون، مرفت اور عشق الہی کا راستہ فراہم کرتے ہیں
06:08حضرت حسن بسوی صحابہ کرام کے زیر سایہ پر وان چلے اور ان کی زندگی زہد و تقو کی زندہ تصویر تھی
06:15ان کی تعلیمات دنیاوی لذتوں کے بجائے آخرت کو ترجیح دینے کا درس دیتی ہیں
06:20ان کا فرصفہ یہ تھا کہ روحانی پاکیزگی کے ذریعے دل کو صاف اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کوشہ رہنا چاہیے
06:32رابیہ بسری عشن الہی کی دلکش علامت ہے
06:35ان کی بیلوس محبت نے تصوف میں عشق کے خالص مفہوم کو جنم دیا
06:40ان کا یہ قول میں اللہ کی عبادت جنت کی لالچہ جہنم کے خوف سے نہیں
06:46بلکہ اس کے عشق میں کرتی ہوں
06:48عشق حقیقی کی انتہا کو سمجھاتا ہے
06:51جنید بغدادی نے تصوف اور شریعت کے درمیان توازن پر زور دیا
06:57ان کے نظریات سکر اور سہود دھاج بھی روحانی بیداری اور صحیح راستے کی رہنمائی کرتے ہیں
07:04حضرت باعزید دفنا فی اللہ اور بقاب اللہ کے تصورات کے علم بردار تھے
07:11ان کی وجد کی حالت میں کہی گئی باتیں روحانی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں
07:16جو عام لوگوں کی لئے قابل فہم نہ تھی
07:19مگر اللہ کی قربت کی گواہی دیتی ہے
07:22غوث العظم اکہلانے والے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قادریہ سلسلے کے بانی تھے
07:29ان کی تعلیمات انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور دلوں کو محبت، صدق اور صدق سے مزین کرنے کی تلخیم کرتی ہیں
07:38ان کی کتابیں، تحریریں آج بھی دلوں کو روشنی عطا کرتی ہیں
07:43امام غزالی نے روحانیت اور عقلیت کے امتظار سے تصوف کو اسلامی فکری دنیا میں نمائی مقام دیا
07:52ان کی کتاب احیاء علوم الدین دل اور روح کو پاکیزگی اور زہد کی طرف لے جانے کا بنیادی زخیرہ ہے
07:59فرید الدین اتار نے اپنی مشہور کتاب منطق الٹیر کے ذریعے روحانی مسافرت و صوفیانہ اوصاف کو اجاگر کیا
08:08ان کی کہانیاں شعور اور مرفت کی رہنمائی کرتی ہیں اور اس راستے کو آسان بناتی ہیں
08:16امن ال بی کا نظریہ وحدت الوجود تصوف کے پیچی دامدر لا زوال پہلوں میں سے ایک ہے جو ذات الہی اور کائنات کی وحدانیت کو مانی بخشتا
08:26ان کی تحریریں جیسا کہ فتوحات میں کیے روحانی بلند پروازی کے لیے مشلن راہ ہیں
08:33مولانا رومی کی تحریریں اور اشار جیسے مسنوی عشق اور مرفت کا نغمہ بندے ہیں
08:41ان کے الفاظ انسان کو باطنی اور ظاہری زندگی میں رب کی جستجو کی اہمیت کا درس دیتے ہیں
08:47ان کے گردشی رخص نے روحانی مسافرت کا ایک نیا انداز دیا
08:52نقش بندی سلسلے کے بانی حضرت بہاودین ذکن خفی کی اہمیت پر زور دیتے تھے
09:00ان کی تعلیمات نے صوفی سلسلے کو دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلائیا اور اسے لازوال بنایا
09:08شیخ احمد سرہندی نے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا جو ابن البی کے وحدت الوجود کا متبادل تھا
09:17ان کا مقصد اسلامی تعلیمات کو مستحکم اور مغل دور کے نظریات کے اثرات سے پاک کرنا تھا
09:23ملا صدرہ نے حکمت اور تصوف کی آمیزشے حکمت متعلیہ کا نظریہ پیش کیا
09:30ان کی روحانی اور فرصفیانہ تعلیمات انسان کی مرفت کو مزید گہرائی فراہم کرتی ہیں
09:38بیسغیر میں اسلاحی تحریک کے بانی شاہ علی اللہ نے اسلام کو ایج جامع اور آسان فہم انداز میں پیش کیا
09:46ان کی تحریریں مسلمانوں کو عقلی اور روحانی ترقی کی طرف مائل کرتی ہیں
09:52اسلام کے روحانی میمہ یہ صوفیہ کرام اسلامی دنیا میں چراغ کی مانند ہیں
09:59ان کی تعلیمات آج بھی دلوں کو سکون روحانی قربت اور اللہ سے محبت کا راستہ دکھاتی ہیں
10:07ان کی زندگیاں اور اصاف ہمارے لئے نہ صرف ایک علمی خزانہ ہیں بلکہ ایک سیدھا راستہ بھی جو اللہ کی مرفت کی طرف لے جاتا ہے
10:16تین کلندر اسلامی تاریخ کی روحانی ہستیاں
10:21تین کلندر اسلامی تاریخ کی روحانی ہستیاں
10:26تین کلندر وہ عظیم صوفی اور درویش بزرگ تھے جنہوں نے فقر، درویشی اور عشن حقیقی کی را اختیار کی
10:36ان کی زندگیاں زہدو تکو، معفنیلہی اور مخلون خدا کی خدمت میں گزرے
10:42یہ اللہ کے وہ خاص بندے تھے جو دنیاوی ظاہری جاؤ حشمت سے بینیاز ہو کر
10:48حق کی تلاش میں سرگردہ رہے اور لاکھوں انسانوں کو روحانی روشنی اتا کی
10:53حضرت لال شہباز کلندر کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا
10:59اور اب ایک ایک سات سات اشاریہ میں ایران کے علاقے مروند میں پیدا ہوئے
11:04آپ کا تعلق ایک سید خاندان سے تھا اور بچپن ہی سے علم و مرفت کی طرف مائل تھے
11:10اپنے ابتدائی تعلیم اسلامی علوم، فقہ، تصوف اور روحانی تعلیمات پر حاصل کی
11:17اپنے ابتدائی جوانی میں ہی دنیاوی وابستگی کو ترک کر دیا
11:22اور مختلف ممالک کا سفر کیا جن میں ایران، عراق، ترکی، افغانستان اور ہندوستان شامل ہے
11:31اپنے صوفیہ اکرام کی مجالس میں شرکت کی اور کئی بلند پایا شیوخ سے روحانی تربیت حاصل کی
11:38اب سندھ کے علاقے سہون شریف میں سکونت بذیر ہوئے اور وحیدین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول ہو گئے
11:47اپنے تصوف کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا
11:58سوفیانہ موسیقی اور دھمال آپ کے ذکر و اذکار میں شامل ہوا جس کے ذریعے لوگوں کو روحانی سکون نصیب ہوتا ہے
12:06حضرت لال شہباز کلندر اپنی کرامات کی وجہ سے بھی مشہور ہیں
12:11دن میں سب سے مشہور واقعہ دریائے سندھ کو اپنے ہاتھ سے روکنے کا ہے
12:16آپ کی تعلیمات محبت، توقع، سبر اور خدمت خلق پر مبنی تھی
12:23آپ کا وسال ایٹ دو سات چار اشاریہ میں ہوا اور آپ کا مزال سہون شریف سندھ پاکستان میں واقع ہے
12:31جہاں ہر سال لاکھوں ظاہرین عقیدت و محبت سے حاضر ہوتے ہیں
12:36حضرت شاہ شمس تبرز ایک ایک آٹھ پانچ اشاریہ میں ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے
12:43آپ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور روحانی کشش کے حامل تھے
12:49آپ کو علم و مرفت میں بے حد دلچسپی تھی
12:52مگر رسمی تعلیم کے بجائے آپ نے باطنی علوم کی طرف زیادہ رجحان رکھا
12:56آپ کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ حضرت مولانا جلال الدین روم سے
13:02آپ کی ملاقات اور ان کی روحانی تربیت ہے
13:05اپنے مولانا روم کو عشق حقیقی کی راپر ڈالا
13:10اور انہیں دنیاوی علم سے بلند کر کے باطنی اسرار سے روشناس کر آیا
13:15مولانا روم کا مشہور تصوف کلام اور مسنوی معنوی
13:20اور درحقیقت حضرت شمس تبرز کی روحانی صحبت کا نتیجہ تھا
13:24آپ کے مطابق عشمی الہی ہی سب سے بڑی حقیقت ہے
13:29اور اس کے بغیر انسان مکمل نہیں ہوتا
13:32آپ نے ظاہری مذہبی رسومات سے زیادہ باطنی صفائی اور قرمی الہی کو اہمیت دی
13:39آپ کا فرمان ہے جو کچھ دیکھنا چاہتے ہو وہ تمہارے اندر ہے
13:45حضرت شمس تبرز ایک دو چار آٹھ اشاریہ میں وسال فرما گئے
13:52آپ کا مزار ملتان پاکستان میں واقع ہے جہاں آپ کے عقیدت مند روحانی سکون کی تلاش میں حاضر ہوتے ہیں
14:00حضرت بو علی شاہ کلندر ایک دو سفر نو اشاریہ میں ہندوستان کے شہر پانی پت میں پیدا ہوئے
14:07آپ کا اصل نام شیخ شرف الدین بو علی شاہ کلندر تھا
14:12آپ ایک عالی علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور آپ نے ابتدائی تعلیم فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر اسلامی علومیں حاصل کی
14:22حضرت بو علی شاہ کلندر نے ظاہری علوم میں کمال حاصل کرنے کے بعد درویشی اور فقر کو اپنا لیا
14:29آپ نے دنیاوی جاؤ حشمت کو ترک کیا اور عشق الہی کی راہ اختیار کی
14:36اپنے زندگی بھر مخلون خدا کی خدمت کی اور اپنے کلام کے ذریعے معافن الہی کے پیغام کو پھیل آیا
14:44حضرت بو علی شاہ کلندر فارسی اور اردو کے بہترین شاعر تھے
14:50آپ کی شاعری میں عشق، فقر، درویشی اور اللہ کی محبت کی گہری جھلک نظر آتی ہے
14:57آپ کی چند مشہور لائنیں درجزیل ہیں
15:01بو علی، بو علی، بو علی شاہ کلندر
15:05حکمت کا دریا، فقر کا سمندر
15:10آپ کا وسال ایک تین دو چار اشاریہ میں ہوا اور آپ کا مزار پانی پت بھارت میں واقع ہے جو روحانی برکات کا مرکز سمجھا جاتا ہے
15:22یہ تینوں کلندر اسلامی تصوف کے عظیم ستون ہیں
15:26ان کی تعلیمات کا خلاصہ درجزیل نکات میں کیا جا سکتا ہے
15:31عشق الہیب اللہ کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت دینا
15:36فقر و درویشی دنیاوی جاؤ حشمت کی بجائے روحانی دولت کو ترجیح دینا
15:43خدمن خلق انسانیت کی خدمت کو اصل عبادت سمجھنا
15:49بھائی چارہ اے ہر مذہب، فرقے اور قوم کے ساتھ محبت اور رواداری رکھنا
15:55باطنی پاکزگی زاہر کی بجائے باطن کو سنوارنے پر توجہ دینا
16:01تین کلندر اسلامی تصوف اور روحانیت میں وہ میان نور ہیں
16:06جو آج بھی لاکھوں دلوں کو روشنی فراہم کر رہے ہیں
16:10ان کی تعلیمات صدیوں پر محیط ہیں
16:13اور دنیا بھر میں عقیدت مند ان کے درباروں پر حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں
16:19حضرت سلمان علیہ السلام اور جنات کی حکمرانی
16:24حضرت سلمان علیہ السلام اور جنات کی حکمرانی
16:29حضرت سلمان علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی اور عظیم بادشاہ تھے
16:35اللہ تعالی نے آپ کو بے شمار موجزات اور نمتوں سے نوازا
16:40دن میں جنات، ہواوں اور جانوروں پر اختیار بھی شامل تھا
16:45آپ کی حکمرانی کا دائرہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات اور دیگر مخلوقات تک پھیلا ہوا تھا
16:51قرآن مجید میں مختلف مقامات پر حضرت سلمان علیہ السلام کے قصے
16:57اور جنات کے ساتھ ان کے تعلقات کا ذکر ملتا ہے
17:00اللہ تعالی نے حضرت سلمان علیہ السلام کو ایک ایسی بادشاہت عطا کی جو کسی اور کو نہیں ملی
17:08اب کتاب جنات، انسان، چرندوپند، ہوائیں اور دیگر مخلوقات تھی
17:15قرآن میں اللہ تعالی فرماتے
17:19اور ہم نے سلمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو ان کے حکم سے نرمی سے چلتی تھی جہاں وہ چاہتے
17:27اور ہم نے ان کے لیے شریر جنات کو مسخر کر دیا جو ان کے حکم سے کام کرتے
17:34اور جو بھی ان میں نافرمانی کرتا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھاتے
17:39حضرت سلمان علیہ السلام نے جنات کو عظیم محلات، مساجد اور دیگر تعمیراتی کاموں کے لیے مقرر کیا تھا
17:53یہ جنات آپ کے حکم سے سمندروں کی تحصیق قیمتی موتی اور خزانے نکالتے تھے
17:59نافرمان جنات کو سخت سزائیں دی جاتی تھی تاکہ وہ آپ کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کریں
18:07جب حضرت سلمان علیہ السلام نے یمن کی ملکہ بلخیس کو اپنے دربار میں بلانے کا فیصلہ کیا
18:15تو اپنے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ کون اس کا تخت ان کے دربار میں لاسکتا ہے
18:20قرآن میں یہ واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے
18:25ایک زبردست جن افریت نے کہا میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا
18:31اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور میں اس کام کے لیے طاقتور اور دیانتدار ہوں
18:37سورت النمل 49
18:39لیکن ایک نیک انسان جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت سلمان علیہ السلام کے ایک وزیر عاصف بن برخیہ تھے نے کہا
18:49میں اسے آپ کے پاس پلک چھپکنے سے پہلے لے آؤں گا
18:55سورت النمل 40
18:57چنانچہ پلک چھپکنے سے پہلے ملکہ بلکیس کا تخت حضرت سلمان علیہ السلام کے سامنے موجود
19:05اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ جنات بڑی طاقتور مخلوق ہیں
19:10مدراللہ کے نیک بندے ان سے بھی زیادہ طاقت رکھتے ہیں
19:14حضرت سلمان علیہ السلام نے جنات سے کئی تعمیراتی کام کروائے
19:20ان کا ذکر قرآن میں آیا ہے
19:22وہ ان کے لئے وہ کچھ بناتے جو وہ چاہتے تھے
19:26جیسے بڑی بڑی امارتیں تصویریں
19:29حوض جیسے بڑے برطن اور جمی ہوئی دے گئے
19:32حضرت سلمان علیہ السلام نے جنات سے بیت المقدس کی تعمیر کروائے
19:40جنات نے بڑی بڑی چٹانے کاٹ کر شاندار امارتیں اور دیواریں بنائے
19:46اللہ تعالیٰ نے حضرت سلمان علیہ السلام کو ایسی موت دی
19:51جو ایک مدت تک کسی کو معلوم نہ ہو سکی
19:54جب آپ وفاق پا گئے تو آپ اپنے اصا چھڑی
19:57کے سہارے کھڑے تھے اور جنات مسلسل کام میں مصروف تھے
20:02کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ آپ زندہ ہیں
20:04قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
20:08پھر جب ہم نے سلمان پر موت کا حکم بھیجا
20:12تو کسی نے ان کی موت کا پتا نہ دیا
20:15سوائے زمین کے کیرے دیمک نے جو ان کے اصا کو کھا رہا تھا
20:20حل جب وہ گر پڑے تو جنات پر ظاہر ہوا
20:23کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے
20:25تو وہ اس زلط کے عذاب میں نہ پڑے رہتے
20:27سورت سب چودہ
20:30اس واقعے سے ثابت ہوا کہ جنات غیب نہیں جانتے
20:35اگر وہ علم غیب رکھتے تو انہیں پہلے ہی
20:39حضرت سلمان علیہ السلام کی وفات کا علم ہو جاتا
20:42اور وہ کام کرنا چھوڑ دیتے
20:44حضرت سلمان علیہ السلام کی بادشاہ تاریخ کی
20:49سب سے طاقتور حکومتوں میں سے ایت تھی
20:51آپ کو اللہ نے جنات، ہواوں اور جانوروں پر اختیار دیا تھا
20:57لیکن آپ ہمیشہ اللہ کے آگے آجزی اختیار کرتے تھے
21:01اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جسے چاہے جو نعمت دے سکتا ہے
21:08غیب کا علم صرف اللہ کو ہے حتاکہ جنات بھی اسے نہیں جانتے
21:13طاقت اور اقتدار انسان کو غرور میں نہیں ڈالنا چاہیے
21:18حضرت سلمان علیہ السلام کی مثال ہمیں آجزی سکھاتی ہے
21:22جنات حقیقی مخلوق ہیں
21:25مگر انسان ان سے افضل ہے
21:28کہ اللہ کے نیک بندے جنات سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں
21:31جیسا کہ حضرت سلمان کے دربار میں ہوا
21:34اہل سند، سنی اسلام کی شاخوں کا تفصیلی جائزہ
21:40اہل سند، سنی اسلام کی مختلف شاخیں یہ تفصیلی جائزہ
21:46اسلام کے دو بڑے فرقے سنی اور شیعہ ہیں
21:51سنی مسلمان دنیا کی مسلم آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہے
21:56اہل سند
21:57نبی اکرم کے صحابہ کرام اور خلافہ راشدیں کو خلافت کے حق دار تسلیم کرتے ہیں
22:03اور ان کی پیروی کو دین اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں
22:07سنی اسلام میں بھی مختلف نظریات اور فقہ کے اختلافات کی بنا پر کئی شاخیں اور مقابل فکر پائے جاتے ہیں
22:15سنی مسلمان بنیادی طور پر چار فقہی مقابل فکر میں تقسیم ہیں
22:21انہیں اہل سند والجماعت کہا جاتا ہے
22:25امام ابو حنفہ
22:27نو نو سات چھ سات اسوی کے پیروکار کہلاتے ہیں
22:31یہ سب سے بڑا سنی فقہی مکتب ہے جو زیادہ تر پاکستان بھارت بنگلہ دیش افغانستان ٹرکی وستی ایشیا اور مشرق یورپ میں پائے جاتا ہے
22:44اکلی استدلال، قیاس اور استحاد پر زیادہ زور دیتا ہے
22:49امام مالک بن انس سات ایک ایک سات نو پانچ اسوی کے پیروکار ہیں
22:56زیادہ تر مغربی افریقہ، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور سودان میں پائے جاتے ہیں
23:07حدیث اور مدینہ منورہ کے عمل کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے
23:11امام محمد بن عدری سل شافے، سات شے سات آٹ دو سفر ایسوی کے پیروکار ہیں
23:19زیادہ تر مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، یمن، شام اور مشرقی افریقہ میں موجود ہیں
23:28قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس کو ایک ساں اہمیت دیتے ہیں
23:35امام احمد بن حنبل سات آٹ سفر آٹ پانچ پانچ اسوی کے پیروکار ہیں
23:43زیادہ تر سعودی عرب، خطر اور کچھ عرب ممالک میں موجود ہیں
23:49حدیث پر سختی سے عمل کرتے ہیں اور استحاد کو محدود رکھتے ہیں
23:55سنی مسلمان فقہ کے علاوہ عقیدہ، کلام کی لحاظ سے بھی مختلف گروہوں میں تقسیم ہیں
24:01جن میں دو بڑے مقادم فقر شامل ہیں
24:04امام ابو الحسن عشر آٹ سات تین نو تین شہیسوی کے نظریات پر مبنی ہیں
24:11زیادہ تر شافی اور مالکی فقہ کے پیروکار اس عقیدہ کو مانتے ہیں
24:18یہ عقیدہ اقل و منطق کو گھیدین کے فہم میں شامل کرتا ہے
24:23امام ابو منصور ماترد آٹھ پانچ تین نو چار چار عیسوی کے نظریات پر مبنی ہیں
24:30زیادہ تر ہنفی فقہ کے پیروکار اس عقیدے پر عمل کرتے ہیں
24:36یہ عقیدہ بھی اقل و منطق کو دین کے فہم میں اہم قرار دیتا ہے
24:41مگر اشریعے سے کچھ اختلافات رکھتا ہے
24:44بہت سے سنی مسلمان تصوف، صوفی ازم کو روحانی ترقی
24:50اور اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ مانتے
24:53سنی سوفی سلسلے درجزیل ہیں
24:56بانی شیخ عبدالقادر جلن 10771166
25:02زیادہ تر پاکستان، بھارت، عراق، ترکی اور افریقہ میں پیروکار موجود ہیں
25:11بانی حضرت خاجہ مہین الدین چشت 11421236
25:18زیادہ تر جنوبی ایشیا، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں مقبول ہے
25:25بانی حضرت بہا الدین نقشبند 13181389
25:32زیادہ تر وستی ایشیا، ترکی، پاکستان اور عرب دنیا میں پیروکار موجود ہیں
25:40بانی شیخ شہاب الدین سہرورد 11451234
25:47زیادہ تر بیسغیر اور عراق میں مقبول ہے
25:52بانی امام احمد رزا خان برلو 18561921
25:58زیادہ تر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں پیروکار موجود ہیں
26:06تصوف اور اولیاء کرام کے وسیلے کو اہمیت دیتے ہیں
26:10بانی دارالعلوم دیوبن 1866، بھارت
26:16زیادہ تر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان میں پیروکار موجود ہیں
26:24حدیث، استحاد اور فقہ حنفی پر زیادہ زور دیتے ہیں
26:30یہ گروہ براہ راست قرآن و حدیث پر عمل کرنے کو ترضی دیتا ہے
26:35اور فقہی مقاطق پر سختی سے عمل نہیں کرتا
26:40زیادہ تر سعودی عرب، بھارت، پاکستان اور مشرق وسطہ میں پیروکار موجود ہیں
26:46سلفی تحریق کا ایک سخت موقف والا گروہ وحابیت بھی کہلاتا ہے
26:52جس کی بنیاد شیخ محمد بن عبدالوحب 17031792 نے رکھی
26:58سنی اسلام ایک وسیع اور متنوے مکون فکر ہے
27:03جو مختلف فقی، عقیدتی اور روحانی شاخوں میں تقسیم ہے
27:08فقی مقابل فکر، حنفی، مالکی، شافی اور حملے
27:16عقیدتی مقابل فکر، اشریع اور ماترے دی
27:20صوفی سلسلے، قادریہ، چشتیا، نقشبندی، سہروردہ
27:27جدید تحریقیں، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور سلفی
27:33یہ تمام دیرو اہل سنت والجماعت کا حصہ ہیں
27:38مگر ان کے نظریات، طریقہ کار اور اسلامی حکام
27:42کی تشریح میں کچھ اختلافات موجود ہیں
27:44حضرت دعوت علیہ السلام اور جالوت کی کہانی
27:49حضرت دعوت علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید اور بائبل
27:55دوموں میں ایک عظیم نبی، بہادر جنجی اور حکمران
27:59کے طور پر ملتا ہے
28:00ان کی زندگی کا سب سے مشہور واقع جالوت، گلائیت
28:05کے ساتھ مرکان
28:06اس مرکے میں اللہ نے ایک نوجوان چروانی یعنی حضرت
28:10دعوت علیہ السلام کو فتاہ تاکی جو بعد میں بنی اسرائی کا
28:14بادشاہ بنی
28:15حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائی پر بار بار آزمائشیں
28:21آئیں کیونکہ انہوں نے کئی دفعہ لاکہ احکامات کو نظر انداز کیا
28:25ان کے گناہوں کی سبب وہ مختلف مشکلات کا شکار ہو گئے دن میں ایک بڑی
28:31آزمائش فلسطین کے طاقت اور بادشاہ جالوت، حلایت کا ظلم
28:36بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے درخواست کی اس کا نام قرآن کریم میں ذکر میں
28:43مدر بائبل کے مطابق انہیں حضرت سمول علیہ السلام کہا جاتا ہے
28:48کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر کریں جو انہیں جالوں سے بچائے
28:52نتیتہ اللہ کے حکم سے تعلوت سال کو بادشاہ بنایا گیا
28:57تعلوت ایک نیک اور بہادر شخص تھے
29:00مدربنی اسرائیل میں کئی لوگوں نے ان کی قیادت کو قبول نہیں کیا
29:05کیونکہ وہ معمولی حیثیت سے تعلق رکھتے تھے
29:08تعلوت نے اللہ کے حکم سے اپنی فوج کو منظم کیا
29:13اور جالوت کے خلاف پیش قدمی کیا
29:16ایک اہم واقعہ دریا کے کنارے پیش آیا
29:19یہاں تعلوت نے اپنی فوج کا انتہار لینے کے لئے کہا
29:22جو اس دریا سے زیادہ پانی پیے گا
29:26وہ ہماری فوج کا حصہ نہیں ہوگا
29:28اور جو صبر کرے گا
29:30وہ صرف ایک چلو پانی لے گا
29:32وہ ہمارے ساتھ میں لے گا
29:34سورت البکرہ دو سو انچاس
29:38زیادہ تر افراد اس آزمائش میں ناکام ہو گئے
29:42جبکہ صرف چند مخلص سپاہیوں نے
29:45صبر اور ایمان کا مظاہرہ کیا
29:47ان میں ایک نوجوان چرواہا
29:50حضرت ڈاؤد علیہ السلام بھی شامل تھے
29:53جب دونوں فوجوں کے درمیان میدان جمع صدایا گیا
29:57تو جالوت کی فوج تعداد اور طاقت میں کہیں زیادہ تھی
30:01جالوت اپنے قد و قامت
30:03دیو حیکن جسم اور جنگی مہارت کے سبب دہشت کی علامت بن چکا تھا
30:08بنی اسرائیل کی فوج خوف اور ہچکچاہت کا شکارت
30:12اسی دوران حضرت ڈاؤد علیہ السلام نے آگے بڑھ کر
30:18تعلوت سے کہا کہ وہ جالوت سے مقابلہ کریں گے
30:21تعلوت نے پہلے تذبذب کا اظہار کیا
30:24مدد حضرت ڈاؤد علیہ السلام کے پختہ ایمان اور اعتماد کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت دے دی
30:31حضرت ڈاؤد علیہ السلام کے پاس کوئی ذرہ طاقت میں ہتھیان نہ
30:36وہ اپنی سادگی اور ایمان کے بل بڑھتے پر میدان میں اُدھے
30:41ان کے پاس صرف ایک غلے، سلیمشات اور چند پتھر دی
30:46جب جنگ کا آغاز ہوا
30:49حضرت ڈاؤد علیہ السلام نے اپنی غلے سے ایک پتھر جالوت کی پیشانی پر پھیکا
30:55اللہ کی مدد سے وہ پتھر اتنی زودار ثابت ہوئی کہ جالوت زمین پر گر گیا
31:00اور موقع پر ہلاک ہو گیا
31:02یہ واقعہ ایک عظیم فتح کا آغاز تھا
31:07جالوت کے گرنے کے بعد بنی اسرائی کی فوج کو میاں خوصلہ ملا
31:11اور انہوں نے دشمن کو عبرتناک شکست ہمی
31:14یہ حضرت ڈاؤد علیہ السلام کی زندگی کا ایسا احمد نمہ تھا
31:19اس نے ان کے عظیم مستقبع کی بنیاد لے
31:22قرآن مجید میں اس واقعے کو استحابیان کیا گیا
31:27اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا
31:31اور اللہ نے انہیں بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا انہیں سے کہا
31:36سورت البکرہ دو سو اکاون
31:40اس تاریخی واقعے کے بعد حضرت ڈاؤد علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں خاص مقام ملا
31:47جب تالوت کا انتقال ہوا تو اللہ نے انہیں بنی اسرائیل کا بادشاہ بنائی
31:52ان کی بادشاہت کئی حوالوں سے نمائی تھی
31:57زبور کا نزول اللہ نے حضرت ڈاؤد علیہ السلام پر زبور منامی کتاب نازل فرمائی جو حکمت اور درست سے بھرپورت
32:06عدل و انصاف حضرت ڈاؤد علیہ السلام ایک عادل حکمران کے طور پر جانے جاتے تھے جو اپنے فیصلوں میں انصاف کو اولین تربی دیتے تھے
32:18لوہے پر قدرت اللہ نے انہیں لوہے کو بغیر کسی آگ کے نرم کرنے کا موجزہ عطا کیا
32:24اس سے وہ ہتھیار اور ذرہیں بناتے ہیں
32:28فنگو سے کہ آپ کو خوبصورت آواز اور کلام میں تاثیر کی نمت ادا کی گئی جو بنی اسرائیل کی روحانی تربیت کا باعث بھی بنی
32:37حضرت ڈاؤد علیہ السلام اور جالوت کی کہانی تاریخی اور روحانی لحاظ سے بے حد ادی
32:45اس واقعہ سے نوجوان نصر کے لیے کئی عبرتناک اور قیمتی سبق مرتے ہیں
32:52ایمان کی طاقت حضرت ڈاؤد علیہ السلام نے اس بات کو ثابت کیا کہ اللہ پر ایمان
32:58اور استقامت ہر کسی کو طاقتور بنا سکتی ہے جاہے حالات کتنے کی مشکل
33:03گردباری اور سب دریا کے آزمائش سے یہ سیکھنے کو ملا کے سب مشکل وقت میں کامیابی کی قریب
33:11حوصلہ اور یقین ظاہری کمزوری یا وسائل کی کمی کبھی رکاوت نہیں بنتی اگر انسان کا یقین مزید ہو
33:21ظلم کی خلاف کھلے ہونا حق ہمیشہ دیتا ہے
33:24جاہے دشمن کتنا ہی بڑا طاقتور کیوں نہ ہو
33:28یہ کہانی ہمیں ہمارے ایمان، کرتا اور صبر و حوصلہ کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کرنے اور زندگی میں کامیاب ہونے کی رحمائی دیتی ہے
Comments

Recommended