Skip to main content
This video contains an analysis of the lesson no. 8 'Hunger and Population Explosion' which was written by Anna Mckenzie. This lesson is included in the English textbook of Intermediate Part II in the colleges of the Punjab, Pakistan.

#StephenLeacock #MyFinancialCareer

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ڈیئر سٹوڈنٹس
00:30دستیاب خوراک سے زیادہ ہو جائے
00:32تو کہت پڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے
00:34انسانی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری ہوئی ہے
00:37یہ مضمون بھی اسی مسئلے کی نشاندہ ہی کرتا ہے
00:40اس میں سب سے پہلے اینا مکنزی
00:42ہمیں ہنگر یعنی بھوک کا صحیح مطلب سمجھاتی ہیں
00:45یہ لکھتی ہیں کہ ہم سب کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسا ضرور ہوا ہوگا
00:49کہ ہم ایک بہت ہی مصروف دن گزارنے کے بعد
00:52جب گھر واپس آئے تو ہمیں بہت بھوک لگی ہوئی تھی
00:55اور کھانا ابھی تیار نہیں تھا
00:57لیکن یہ بھوک زیادہ دیر تک نہیں رہی تھی
00:59کیونکہ ہم نے کھانا تیار ہونے تا کوئی نہ کوئی چیز کھا کر
01:02یعنی بسکٹ یا مکھن کے ساتھ ایک دو سلائسز لے کر
01:06کچھ دیر کے لیے بھوک کی شدت کو کم کر لیا تھا
01:09اور پھر تیار ہونے کے بعد کھانا بھی کھا لیا تھا
01:11کسی مصروفیت کی وجہ سے ایک وقت کا یا ایک پورے دن کا کھانا چھوڑ دینا
01:16اس کو ہم بھوک نہیں کہہ سکتے
01:18کیونکہ ہمارے پاس کھانا گھر میں موجود ہے
01:20جو ہم تھوڑی دیر بعد کھا بھی لیں گے
01:23بھوک کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے
01:26ہم خوراک کی قلت کا شکار ہیں
01:29یہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں ہم ہر وقت پریشان رہتے ہیں
01:33کہ اگلے وقت کا کھانا کہاں سے آئے گا
01:35آئے گا بھی یا نہیں آئے گا
01:37آج دنیا کی بہت بڑی آبادی ایسی ہی بھوک کا شکار ہے
01:40اینا میکنزی لکھتی ہے کہ ایک دفعہ دیگارڈین اخبار کے صحافی آرثر ہوب کرافٹ نے
01:46کینیا میں خوراک فراہم کرنے والے ان مراکز کا دورہ کیا
01:49جن میں غزائی قلت کے شکار بچوں کو رکھا گیا تھا
01:53اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وہ ایسے بچے ہیں جن کی آنکھیں اس طرح دیکھتی ہیں جیسے کہ اندھی ہوں
01:58ان کی ٹانگیں اور بازو ملٹھی کی چھڑیوں کی ماند ہیں جو نہ روتے ہیں اور نہ ہستے ہیں
02:04اور جن کا وزن دو سال کی عمر میں صرف دس پاؤنڈ ہے
02:07یہ بچے جس حالت کا شکار ہیں اصل میں اس حالت کو بھوک کہتے ہیں
02:11اس کے بعد اینا میکنزی تاریخ میں پڑھنے والے کچھ بڑے فیمنز یعنی کہتوں کا تذکرہ کرتی ہیں
02:17آپ لکھتی ہیں کہ کہت روزے اول سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے
02:21قدیم زمانے میں انسانوں کی اکثریت کا دارو مدار شکار پر ہوتا تھا
02:25موسم سرما میں جب شکار کی شدید قلت ہو جاتی تو نوبت فاکوں تک پہنچ جاتی تھی
02:32قدیم ترین کہت جس کا ریکارڈ موجود ہے وہ ایک مصری فیرون کے زمانے میں پڑا
02:36جس کے بارے میں ایک پتھر پر لکھی ہوئی تحریر سے پتا چلتا ہے
02:40اس پر لکھا ہے کہ میرے دور حکومت میں دریائے نیل میں سات سال تک پانی نہیں آیا
02:46غلہ بہت کم ہے اور خوراک کی قلت ہے وہ جو کبھی دوڑا کرتے تھے اب چل بھی نہیں سکتے
02:51غلہ دان ٹوٹ چکے ہیں اور بالکل خالی ہیں ہر چیز ختم ہو چکی ہے
02:56انجیل مقدس میں ہم کہت کے کئی واقعات کے بارے میں پڑھتے ہیں
03:00حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر اور اس کے گرد و نواح میں سات سال تک کہت پڑا رہا
03:06آپ کی بہتر منصوبہ بندی اور خوراک کے پیشگی زخیرہ کر لینے کی وجہ سے
03:11مصر کہت کے اثرات سے محفوظ رہا لیکن اردگرد کے علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ فاقوں سے مر گئے
03:17حضرت یوسف علیہ السلام نے چکے کہت سے قبل اناج کا زخیرہ کرنا لازمی کرا دے دیا تھا
03:23اس لیے مصر بڑی تباہی سے بچ گیا
03:25بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی فلسطین سے اناج لینے کے لیے مصر آئے تھے
03:31حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے لے کر اٹھارہ سو اسوی تک
03:35یورپ میں تین سو پچاس کہت پڑی جن کا ریکارڈ موجود ہے
03:39برطانیہ میں اسی عرصے کے دوران ہر دس سال بعد کم از کم ایک کہت ضرور پڑا
03:44یاد رہے کہ ہم ان کہتوں کی بات کر رہی ہے جن سے ملک کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوتا تھا
03:50مقامی سطح پر پڑنے والے چھوٹے کہتوں کی تعداد تو بہت ہی زیادہ ہے
03:54روبین ہڈ کی کہانیوں میں ہمیں مقامی سطح پر خوراک کی قلت کا تذکرہ ملتا ہے
03:59ان کہانیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ روبین ہڈ غریبوں کو کھلانے کے لیے امیروں کے باغات سے خوراک چوری کرتا ہے
04:06اور شاہی جنگلات سے غیر قانونی طور پر شکار کر کے فاقہ زدہ انسانوں میں تقسیم کر دیتا ہے
04:12اس کے بعد اینا مکنزی لکھتی ہے کہ چین میں ایک صدی کے اندر نوے کہت پڑی
04:17پچانوے لاکھ لوگ تو ایک ہی کہت کا شکار ہو گئی تھی
04:21روس میں انیس سو اکیس بائیس میں پڑھنے والے کہت میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے
04:26انیس سو بیالیس میں بومبے میں جب چاول کی فصل خراب ہوئی تو دس لاکھ کے قریب لوگ بھوک سے مر گئے
04:33انیس سو چونسٹھ پینسٹھ میں انڈیا کے اندر مونسون بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے صدی کا بطرین کہت پڑا
04:40انیس سو انہتر ستر میں بنگال میں پڑھنے والے کہت میں تقریباً ایک کروڑ لوگ لکمہ اجل بنے
04:46اس کے بعد اینا میکنزی کہت کے اسباب پر بات کرتی ہیں
04:50کہت پڑھنے کی دو بڑی وجوہات ہیں
04:52پہلی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات دستیاب خوراک لوگوں کی مجموعی ضرورت سے بہت کم ہو جاتی ہے
04:58عبادی میں مسلسل اضافہ خوراک کی قلت پیدا کر دیتا ہے
05:02اور بہت سے لوگ خوراک سے محروم رہ جاتے ہیں
05:05دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات کسی بیماری کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں
05:10بارشوں کی کمی یا زیادتی بھی فصلوں کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر دی ہے
05:15اب نت نئی پیسٹی سائیڈز یعنی ذریعی عدویات اور فصلوں کو پانی فراہم کرنے کے جدید طریقوں کی بدولت
05:21اس مسئلے کو تو تقریباً حل کر لیا گیا ہے
05:24آج کی فصلیں ماضی کی نسبت زیادہ محفوظ ہیں
05:27لیکن پہلی وجہ ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہے
05:30آبادی میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ابھی بھی کہت کے خطرے کی طرف اشارہ دے رہا ہے
05:35اینہ میکنزی لکھتی ہے کہ آج نہ صرف دنیا خوراک کی کمی کا شکار ہے
05:39بلکہ کھانے والوں کی تعداد بھی روز باروز بڑھ رہی ہے
05:43دنیا کی آبادی اس برف کے گولے کی طرح بڑھ رہی ہے
05:46جو لڑکتے ہوئے نہ صرف جسامت میں بڑھا ہو رہا ہے
05:49بلکہ اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے
05:51پانچ لاکھ سال پہلے دنیا کی آبادی بہت کام تھی
05:55لیکن یہ آہستہ آہستہ بڑھتی رہی
05:57حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یہ بیس سے تیس کروڑ تک ہو گئی
06:00سولہ سو پچاس میں یہ تعداد پچاس کروڑ تک پہنچ گئی
06:04اور اگلے دو سو سال بعد یعنی اٹھارہ سو پچاس میں یہ تعداد دگنی ہو کر ایک عرب تک جا پہنچی
06:10اینہ میکنزی لکھتی ہے کہ اب دنیا کی آبادی تین عرب سے تجاوز کر چکی ہے
06:15اگر یہ اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو اگلے چالیس سالوں میں یہ ایک دفعہ پھر دگنی ہو جائے گی
06:21یاد رہے کہ یہ مضمون کافی پرانا ہے اور یہ آدادوں شمار کموں بیس چالیس سال پہلے گئے ہیں
06:26آج دو ہزار انیس میں دنیا کی آبادی سات عرب سے زیادہ ہو چکی ہے
06:31آبادی میں مسلسل اضافہ انتہائی خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے
06:35آبادی کا ایک بہت بڑا دھماکہ ایک پاپولیشن ایکسپلوشن ہونے والا ہے
06:40خدشہ ہے کہ اگر اس کو نہ رکا گیا تو اگلے دو سو سالوں میں اس زمین پر انسانوں کو صرف کھڑے ہونے کے لیے جگہ مل سکے گی
06:48وہ بیٹھ یا لیٹ نہیں سکیں گی
06:50آبادی میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ برت ریٹ یعنی شرع پیدائش اور ڈیتھ ریٹ یعنی شرع اموات میں پایا جانے والا فرق ہے
06:57ہر سال میں پیدا ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے
07:02مثال کے طور پر برطانیہ میں سال 1963 میں شرع پیدائش اٹھارہ اشاریہ دو فی ہزار تھی
07:09اس کا مطلب ہے کہ اس پورے سال میں ایک ہزار کی آبادی میں اٹھارہ اشاریہ دو بچوں کی پیدائش ہوئی
07:16جبکہ شرع اموات گیارہ اشاریہ چھے فی ہزار رہی
07:19یعنی اسی سال کے دوران ایک ہزار کی آبادی میں سے گیارہ اشاریہ چھے لوگوں کی موت ہوئی
07:25اس طرح جب ہم شرع پیدائش میں سے شرع اموات کو نفی کریں
07:29تو باقی بچنے والی تعداد آبادی میں اضافے کی شرع ہے
07:32یعنی چھے اشاریہ چھے فی ہزار
07:35دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر 31 دسمبر 1962 کو برطانیہ کی آبادی ایک ہزار تھی
07:42تو 31 دسمبر 1963 کو یہ ایک ہزار چھے اشاریہ چھے ہو گئی
07:48ماضی میں شرع اموات بہت زیادہ تھی
07:50بیماریاں اتنی عام تھی کہ بہت سے بچے اپنی زندگی کے بلکل آغاز میں ہی مر جاتے تھے
07:56آج مغرب میں پیدا ہونے والے 20 میں سے 19 بچے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں
08:01یعنی اموات کی شرع بہت زیادہ کم ہو چکی ہے
08:04لیکن ان ملکوں نے پیدائش کی شرع کو بھی کم کر لیا ہے
08:07تاکہ آبادی اب زیادہ تیزی کے ساتھ نہ بڑھتی رہے
08:10ایشیا اور مشرق بائید کے ممالک میں بھی
08:13جدید عدویات کے استعمال اور وبائی امراض پر کابو پا لینے کی وجہ سے
08:18اموات کی شرع بہت کم ہو چکی ہے
08:20مثال کے طور پر سیلون یعنی سری لنکا میں جب ملیریا پر کابو پا لیا گیا
08:25تو صرف دو سالوں میں شرع اموات 33% تک کم ہو گئی
08:29یہ ڈی ڈی ڈی کی دریافت سے ممکن ہوا
08:31جس نے ملیریا پھیلانے والے جراسی موقع خاتمہ کر دیا
08:35ایک اور مثال یوس کی ہے
08:37یہ بیماری حالیہ وقتوں میں بہت ساری اموات کا باعث بری
08:40یہ بیماری چھوٹی چھوٹی سخت پھنسیوں کی شکل میں شروع ہوتی ہے
08:44جو مل کر پھوڑے بن جاتے ہیں
08:46پھر یہ پورے جسم پر پھیل جاتی ہے
08:47اور ناسور بن جاتی ہے
08:49مسلز تباہ ہو جاتے ہیں
08:50اور ہڈیوں کی شکل بگڑ جاتی ہے
08:52پینسلین کی دریافت کے بعد اس بیماری کا علاج بہت آسان ہو گیا
08:56بلکہ صرف ایک یا دو انجیکشنز اب اس بیماری سے بچنے کے لیے کافی ہیں
09:00کئی ملکوں نے اپنی عوام کو یوس سے بچانے کے لیے
09:03بڑے پیمانے پر پروگرامز شروع کیے
09:06جس کی وجہ سے اموات کی شرعہ میں ایک دم بہت زیادہ کمی ہو گئی
09:10شرعہ اموات کم ہوگی تو ظاہر ہے عبادی میں اضافہ ہوگا
09:13لوگوں کے اندر اپنے خاندان کا سائز محدود کرنے کی خواہش پیدا کرنا
09:18سب سے اہم اور مشکل ترین کام ہے
09:20اینا میکنزی لکھتی ہے کہ ایک جوڑے کو دو ہی بچے پیدا کرنے چاہیے
09:25جو ان کی جگہ لے سکیں
09:26اگر ایسے ہوتا ہے تو عبادی ایک جگہ پر رک جائے گی
09:29ہمارے زمانے کے سب سے بڑے پیراڈاکسز یعنی تضادات میں سے ایک یہ بھی ہے
09:34کہ جو ممالک امیر ہیں اور خوشحال ہیں
09:37اور بڑھتی ہوئی عبادی کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں
09:40ان کے ہاں پیدائش کی شرعہ کم ہے
09:42جبکہ وہ غریب اور پسماندہ ممالک
09:44جو موجودہ عبادی کی ضروریات پوری کرنے کے بھی اہل نہیں ہیں
09:48ان کی شرعہ پیدائش بہت زیادہ ہے
09:50اس کے بعد اینا میکنزی پسماندہ ممالک کی خصوصیات پر بات کرتی ہیں
09:55جن میں سب سے نمائیہ غربت ہے
09:57ان ملکوں کے شہر بیکاریوں سے بھرے ہوتے ہیں
09:59اور دیہاتوں میں لوگ بمشکل ہی اپنی دال روٹی پوری کر باتے ہیں
10:03ان ملکوں میں کارخانے نہیں ہوتے
10:05اور یہ بجلی کی کمی کا بھی شکار ہوتے ہیں
10:07ان کے ہاں سڑکیں اور ریل کی پٹڑیاں انتہائی خستہ حال اور ناکافی ہوتی ہیں
10:12ہسپتال، سکول اور کالج بہت کام ہوتے ہیں
10:15زیادہ تر لوگ خاص طور پر عمر سیدھا لوگ لکھ پڑ نہیں سکتے
10:19ہنرمند افراد کے نہ ہونے کی وجہ سے
10:21ان ممالک کی برامدات ہمیشہ خام مال پر مشتمل ہوتی ہیں
10:25یہ سستی خام اشیاں برامت کر کے
10:27تیار شبہ مال مہنگے داموں خرید لیتے ہیں
10:30یہ چیز ان کی معیشت پر بہت برا اثر ڈالتی ہے
10:33امیر اور غریب کے میارے زندگی کے ترمیان فرق یقینی طور پر بڑھ رہا ہے
10:38ماضی میں آبادی نہ صرف قہت اور بیماری کی وجہ سے کم ہوتی تھی
10:42بلکہ جنگیں بھی آبادی کے کم ہونے کی ایک وجہ تھی
10:45آج انسانوں میں مل جل کر امن اور شانتی کے ساتھ رہنے کی سوچ پھیل رہی ہے
10:50سوائے چند انتہا پسند اور متشدد سوچ کے حامل افراد کے
10:55دنیا کی اکثریت امن چاہتی ہے
10:57اگر ہم چاہیں تو جنگ کا وجود بلکل ختم کر سکتے ہیں
11:01لیکن اگر انسانوں کا ایک گروہ غریب تر ہوتا چلا جائے
11:04جو اپنے عزیزوں اکارب کو ہمیشہ دکھ اور بیماری میں مبتلا پائے
11:08اور دوسرا گروہ امیر تر ہوتا چلا جائے گا
11:11تو ہمیں کیسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں
11:13جو غریبوں کو امیروں پر جنگ مسلط کرنے کے لیے اکساتی ہے
11:17اس دنیا کے مستقبل کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک یہ بھی ہے
11:21اس مضمون کے آخر میں اینا مکنزی غریب ملکوں کی پسماندگی کا حل بتاتی ہے
11:26اور وہ ہے پیدائش کی شرعہ کو کم کرنا
11:28لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا
11:31اس دوران ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچائیں
11:36انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دیں
11:38اور دوسرا یہ کہ خاندانوں کو محدود رکھنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کی اوصلہ افضائی کریں
11:44یہی سوچ ہماری دنیا کے مستقبل کو محفوظ اور خوشحال بنا سکتی ہے
11:49تو یہ وہ اہم نکات ہیں جو اینا مکنزی نے اس مضمون میں ڈسکس کیے ہیں
11:54امید ہے آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہوگی
11:56اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھئے
11:58اور اس دنیا کو مزید خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیے
12:03تینکیو سو مچ
Comments

Recommended