اکثر دل میں درد اٹھا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
اکثر تم کو یاد کیا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
جب جب تارے سجنے لگے ہیں آ کر میری آنکھوں میں
اکثر چاند بہت رویا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
اسکا چہرہ جب بھی دیکھا سوچ کہ سونے آنگن میں
اکثر کوئ پھول کھلا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
جب بھی بادل جھرنے بن کر اترے ہیں اس وادی میں
اکثر وہی گیت سنا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
جب بھی یادیں آنے لگی ہیں کرنیں بن کے آنکھوں میں
اکثر کوئ خواب سجا ھے رات کے پچھلے پہروں میں
نیلما ناھید درانی
Comments