Skip to playerSkip to main content
  • 13 years ago
فلمی ناقدین اور ناظرین میں اختلاف کیوں؟
بالی ووڈ کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جن فلموں کو فلم ناقدین سراہتے ہیں انہیں عوام پسند نہیں کرتی اور جنہیں وہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں عوام اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔

فلم ’راؤڈی راٹھور‘ کو ہی لے لیں۔ اس میں اکشے کمار جیسے بڑے اداکار ہیں۔ فلم ناقدین نے اسے ’بکواس‘ فلم کہہ کر رد کر دیا لیکن اسی فلم نے سو کروڑ سے زیادہ کا کاروبار کیا۔ وہیں اکشے کمار کی ہی حالیہ فلم ’سپیشل 26‘ کو ناقدین نے پسند کیا مگر عوام نے اسے زیادہ پسند نہیں کیا۔

یہ سچ ہے کہ ’سپیشل 26‘ نے اچھا بزنس کیا لیکن وہ ’راؤڈي راٹھور‘ جیسی کمائی نہ کر سکی۔ فلموں کا یہی پہلو کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں کی سب سے بڑی ہٹ فلموں پر نظر ڈالیں تو کسی کو بھی ناقدین کی پذیرائی نہیں ملی۔

فلم ’ریڈي‘، ’باڈی گارڈ‘، ’دبنگ ٹو‘، ’ہاؤس فل اور ’ایک تھا ٹائیگر‘ ان تمام فلموں نے سو کروڑ سے زیادہ کا بزنس کیا لیکن ان فلموں کو زیادہ تر فلم ناقدین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گيا۔

دوسری جانب ایسی فلموں کی بھی کمی نہیں ہے جنہیں ناقدین نے سراہا لیکن شائقین نے ان سے آنکھیں پھیر لیں جیسے ’شنگھائی‘، ’فراري کی سواری‘ اور حالیہ ریلیز ’مٹرو کی بجلی کا من ڈولا‘ وغیرہ۔

"جب کوئی فنکار اس دنیا سے چلا جائے گا تو اس کی ان فلموں کا ذکر نہیں ہوگا جنہوں نے سو کروڑ کمائے بلکہ ان فلموں کی بات ہوگی جنہوں نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا"
Comments