دو ہزار بارہ کا سال پاکستانی فلم انڈسٹری کا بدترین سال رہا ہے جس کے دوران تینتالیس بھارتی فلموں کے مقابلے میں صرف چھ پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بن سکیں۔
دو ہزار بارہ کے دوران مجموعی طور پر صرف چھ فلمیں ریلیز ہوئیں جو سب پنجابی زبان میں تھیں جبکہ کوئی اردو فلم مارکیٹ میں نہیں آئی۔ چھ فلموں میں سے سید نور کی شریکا اور اقبال کشمیری کی شیر دل قابل ذکر ہیں مگر یہ دونوں فلمیں بھی اپنی لاگت پوری نہ کر سکیں اور فلمسازوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں سال تینتالیس بھارتی فلمیں بھی امپورٹ پالیسی کے تحت پاکستان میں نمائش کے لئے پیش ہوئیں جنہوں نے سینما گھروں کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ لالی ووڈ کی فلموں کی ناکامی کا بڑاسبب مخصوص چہروں کی سلور سکرین پر حکمرانی ہے اور جب تک نئے چہرے ، نوجوان اداکار اور جدید ٹیکنیکس استعمال نہیں ہوں گی فلم انڈسٹری کا بحران ختم نہیں ہو سکتا۔
Comments