00:00पंजाब के एक खूबसूरत गाओं में सोहनी नाम की एक हुसीन लड़की रहती थी
00:05जिसकी खूबसूरती और मासूमित पूरे अलाके में मशूर थी
00:08उसे मुट्टी के बरतन बनाने और उन पर खूबसूरत नक्ष वनिगार बनाने का बेहद शौक था
00:15एक दिन बुखारा से एक अमीर नोजवान ताजिर इज़त बीग तजारत के सिलसले में उस गाओं में आया
00:22जब उसकी नजर पहली बार सोहनी पर पड़ी तो वो उसकी खूबसूरती और मासूम चहरे का दिवाना होगी
00:29अजरत बीग रोज़ाना सोहनी की दुकान पर आने लगा ताकि उसे देख सके और उससे बात करने का कोई बहाना
00:35मिल जाए
00:37देखते ही देखते इसके दिल में सोहनी के लिए ऐसी महबबत पैदा हुई जिसने उसकी पूरी जिंदगी बदल दी
00:43عزت بیگ نے سوہنی کے قریب رہنے کے لیے
00:47اپنی دولت اور شاہانہ زندگی کو بھی چھوڑ دیا
00:49وہ گاؤں میں بھینسیں چرانے لگا
00:52اور لوگ اسے مہینوال یعنی بھینسوں کا ریکھ والا کہنے لگے
00:56وقت کے ساتھ سوہنی بھی مہینوال کی سچی محبت کو سمجھنے لگی
01:01اور دونوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آگئی
01:04دونوں نے خاموشی سے ایک دوسرے کو اپنا مان لیا
01:08مگر ان کی محبت کی راہ میں ابھی کئی مشکلات باقی تھی
01:12جب سوہنی کے گھر والوں کو اس محبت کا علم ہوا
01:16تو انہوں نے اسے مہینوال سے دور کرنے کا فیصلہ کر لیا
01:19انہوں نے سوہنی کی شادی ایک دوسرے شخص سے کر دی
01:23اور اسے اس کی محبت سے جدہ کر دیا
01:26سوہنی کو ایک ایسے گھر میں بیعہ دیا گیا
01:29جہاں اس کا دل بلکل نہیں لگتا تھا
01:32وہ ظاہری طور پر اپنے نئے گھر میں رہتی تھی
01:35مگر اس کا دل ہر لمحہ دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر
01:39موجود محنوال کے پاس ہوتا تھا
01:42محنوال سوہنی کی جدائی میں دن رات تڑپتا رہا
01:46آخرکار دونوں نے فیصلہ کیا کہ سوہنی ہر رات
01:49دریائے چناب عبور کر کے محنوال سے ملا کرے گی
01:53محنوال دریائے کے دوسرے کنارے اس کا انتظار کرتا
01:56اور سوہنی ایک پکے گھڑے کے سہارے پانی میں اتر جاتی
02:01ہر رات اندھیرہ پھیلتے ہی سوہنی اپنے گھر سے نکلتی
02:05اور ایک مٹی کا گھڑا لے کر دریائے کی طرف روانہ ہو جاتی
02:09تیز لہروں اور گہرے پانی سے لڑتے ہوئے وہ اپنے محبوب تک پہنچتی
02:14کیونکہ اس کے لیے محبت ہر خوف سے بڑی تھی
02:17ایک رات محنوال نے سوہنی کو کھلانے کے لیے
02:20اپنے حصے کا گوشت بھی اسے پیش کیا
02:23کیونکہ وہ خود شدید بھوپ میں تھا
02:26روایت کے مطابق اس قربانی نے دونوں کی محبت کو ایک نئی گہرائی دے دی
02:31مگر سوہنی کی راتوں کی غیر موجودگی پر
02:35اس کی نند کو شک ہونے لگا اور اس نے اس کے راز کا پتہ لگا لی
02:39ایک رات اس نے سوہنی کے محفوظ پکے گھڑے کی جگہ
02:43ایک کچھا گھڑا رکھ دیا
02:44تاکہ اس کا خفیہ سفر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے
02:48ایک رات آسمان پر کالے بادل جھا دیگا
02:51تیز ہوائیں چلنے لگیں اور دریائے چنام کی لہریں بھی پھر اٹھیں
02:56لیکن سوہنی کو اپنے محبوب سے ملنے کی ایسی تڑپ تھی
03:00کہ وہ خطرے سے بے خبر گھڑا اٹھا کر دریائے میں اتر گئے
03:03جب سوہنی دریائے کے بیچ پہنچی
03:06تو کچھا گھڑا پانی سے بھرنے لگا
03:08اور آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگا
03:10سوہنی نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی
03:13مگر تیز لہروں نے
03:15اسے اپنی لپیٹ میں لے گئے
03:17سوہنی نے
03:18ڈھوٹتے ہوئے اپنے محبوب مہنوال کو
03:20مدد کے لیے پکارا
03:22مہنوال اپنے کنارے پر سوہنی کا انتظار کر رہا تھا
03:25مگر وہ معمول کے مطابق
03:27اس تک نہ پہنچی
03:28جب اسے سوہنی کی چیخ سنائی دی
03:30تو وہ بے اختیار دریائے میں کود پڑا
03:33اور اسے بچانے کے لیے تیرنے لگا
03:36مہنوال نے
03:36آخرکار سوہنی کو پانی میں دیکھا
03:39اور پوری طاقت سے اس کی طرف بڑھا
03:41مگر دریائے کی بے رحم
03:43لہروں نے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
03:45اور وہ ایک دوسرے کو
03:47تھامے پانی میں ڈوب گئے
03:50صبح جب دریائے چناب کا پانی
03:52کچھ پرسکون ہوا
03:53تو کنارے پر دونوں کے بے جان جسم ملے
03:56وہ دنیا میں ایک دوسرے کے نہ ہو سکے
03:59مگر موت نے بھی
04:00انہیں ایک دوسرے سے جدہ نہ کیا
04:03کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد
04:05دریائے چناب کی لہروں میں
04:07سوہنی اور مہنوال کی محبت کا قصہ
04:10ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا