00:00سبھی کے خون میں شامل ہے یوں قطرہ قطرہ پاکستان
00:05سبھی سے پوچھ لو جاہے ہے سب کا شجرہ پاکستان
00:10کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو درپیش سفری مشکلات کے حل کے لیے
00:14جماعت اسلامی کی نو ٹاؤن حکومتیں میدان میں آگئیں
00:17ناکارہ ہونے والے نو بس پوائنٹس کی
00:19بسوں کی مرمت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا
00:23جماعت اسلامی کے رہنواؤں نے اس اقدام کو طلبہ کے لیے
00:26توفہ قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فرام کرنے میں ناکام قرار دیا
00:41کراچی یونیورسٹی میں پچاس ہزار طلبہ کے لیے پچیس بس پوائنٹ موجود ہیں
00:45تاہم ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث طلبہ کو عام دورف میں مشکلات کا سامنا ہے
00:49جماعت اسلامی کی نو ٹاؤن حکومتوں نے نو ناکارہ بسوں کی مرمت کرا کے
00:54انہیں دوبارہ قابل استعمال بنایا
00:55اور یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کر دیا
00:58اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منم زفن نے کہا
01:01کہ طلبہ کو ٹرانسپورٹ فرام کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی
01:05لیکن محدود وسائل کے باوجود جماعت اسلامی نے اقدام کیا
01:09رکنے سندھ اسمبلی محمد فاروق بولے
01:11وسائل نہ ہونے کے باوجود بسوں کی مرمت تاریخ ایک کارنامہ ہے
01:14دیکھئے جی جو کوئی نہیں کر سکا جماعت اسلامی کے نو ٹاؤنز نے
01:19الحمدللہ وہ کام کر کے دکھایا ہے اور کراچی کی تاریخ میں
01:25کم از کم معلوم تاریخ میں پہلی مرتبہ
01:28آٹھ پوائنٹس کا کراچی ایورسٹری کو تفہ دیا گیا ہے
01:32ان کو اصل نو بھال کیا گیا ہے اور یہ سارے پوائنٹ وہ ہیں
01:35کہ جو جامعہ کراچی میں ایٹوں پر کھڑے تھے ان پر خرچہ کیا گیا
01:39ان کو بھال کیا گیا تاکہ کراچی ایورسٹری کے طالب علم طلبہ
01:43اور طالبات جو ہے وہ باعزت اور محفوظ جو ہے وہ سفر کر سکیں
01:48اس وقت کراچی ایورسٹری کے اندر پچاس ہزار کے قریب طلبہ
01:52اور طالبات پڑتے ہیں ان کے نئے پچیس پوائنٹ ہے یہ تو صبائی
01:57حکومت کے کرنے کا کام ہے یہ تو جامعہ کراچی کی انتظامیہ
02:00کرنے کا کام ہے کہ اپنے طالب علموں کو باعزت ٹرانسپورٹ دیتی
02:04جو دینے میں ناکام ہوئی الحمدللہ جماعت اسلامی اون کرتی ہے
02:08اپنی ایورسٹری کو اون کرتی ہے اپنے طلبہ کو اون کرتی ہے اور ہم
02:12نے یہ تفہ دیا ہے میں جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمن کو یہاں
02:15کہ امیر کو مبارک بات پیش کرتا ہوں کراچی کے جنہوں نے اس کی
02:19طرف توجہ کی اور یہ مسئلہ جنرل مسئلہ ہے کراچی کا بدقسمت
02:24ہی ہے کہ صبائی حکومت وزیر حالہ صاحب اور منسٹر جو ایورسٹریز
02:28کے ہیں وہ ان کو اس کا پتہ ہی نہیں ہے اس کام کو انہوں نے کرنا
02:34تھا اختیارات ان کے پاس ہیں وفاق سے بجٹ ان کو آتا ہے این ایف سی
02:38کے نام پر لیکن اس نے کام نہیں کیا ٹاؤن چیئرمن نے محدود وسائل
02:42کے ساتھ اس کام کو کیا ہے یہی بسیں سین حکومت تین کروڑ میں بناتی
02:46ہے اور جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمن نے پیتیس لاکھ میں بس
02:50بنائی ہے اور یہ فرق واضح کراچی کے لوگ جماعت اسلامی کو اسی
02:55لئے پسند کرتے ہیں پیپاس پاٹی سے اسی لئے نفرت کرتے ہیں کیونکہ
02:59ہم جماعت اسلامی کے لوگ جب کراچی کے لوگوں کو سرف کر کے دے
03:03رہے ہیں اور ان کے لئے سہولیات پرام کر رہے ہیں ٹاؤن حکومتوں کے
03:06چیئرمنوں نے بتایا کہ کی ایو کی بسوں کی مرمت کے لیے تمام قانونی
03:10تقاضے پورے کیے کراچی یونسٹی کے جو طلبہ تھے اسلامی جمعی
03:14طلبہ کے ہمارے پاس پروپوزر لے کر آئے تھے اور ہم نے اس کو
03:16اپریشیٹ کیا تھا اور یہ ایک طرح کا ویل فیر کا جو ہمارا آہ منڈیٹ
03:22ہے اس کے اندر ہم لوگوں نے جو ہے طلبہ کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے
03:25کراچی یونسٹی کو جو ہے نا ایک بس رینویٹ کر کے اور ری فرمیش
03:28کر کے دینے کا فیصلہ کیا تھا اور الحمدللہ آج جو ہے کام جو
03:31ہے وہ پایہ تکمیل تک پہنچ رہا ہے آج دیکھیں اس شہر کے اندر
03:35ملک کے اندر کوئی ٹھیک کام کرنا مشکل ہے لیکن اگر کریپشن
03:39کرنا ہو لوٹ مار کرنا ہو تباہی اور بربادی پھیلانا ہو تو اس کے
03:43اوپر تو کوئی قدغن جو ہے وہ نہیں لگتی بہرحال ہم تمام چیزوں
03:46کو انڈل کرتے ہیں جو قانونی تقاضے تھے اس کو پورا کیا ہے اور یہ
03:50ظاہر ہے کہ ہم نے جو جس بس کو رینویٹ کیا ہے وہ نیو کراچی کے
03:54ہی بچوں کو جو ہے وہ لے کر یونیسٹی جائے گی اور اسی طرح مختلف
03:57ٹاؤن نے جو بسیں دیئے وہ اپنے اپنے ٹاؤن کے ہی بچوں کو لے
04:01کر جائیں گی تو اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ضرورت تھی اور
04:04یہ آہ سبائی حکومت کو کرنا چاہیے تھا یہ کام اگر سبائی حکومت
04:08نہیں کرتی تو انشاءاللہ ہم اپنے وسائل سے اپنے بچوں کی
04:12سرپنستی کا عمل جاری رکھیں گے گلشن اکبال ٹاؤن کے
04:14حوالے سے میں ضرور یہ کہوں گا کہ کراچی اونیسٹی گلشن
04:17اکبال ٹاؤن میں ہی گلشن اکبال ٹاؤن میں واقع ہے اور گلشن
04:20اکبال ٹاؤن میں کراچی اونیسٹی کے لیے پہلے بھی بہت سے خدمات
04:23انجام دیئے ہیں اور یہ جو بس کا معاملہ ہے اس میں الحمدللہ
04:27ہم نے گلشن کے بچوں کے حوالے سے تمام چیزیں محلوز خاطر
04:31رکھی ہیں اور اس حوالے سے کانسل کی قرارداز سے لے کے اور
04:34تمام جو لاؤس کے اندر چیزیں موجود ہیں اس کے تحت یہ ایک
04:38توفہ ہے کراچی اونیسٹی کے بچوں کے لیے اور کراچی اونیسٹی جو
04:42پاکستان میں کراچی کی پہچان ہے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی
04:45پہچان ہے اس کی خدمت ہم اپنے لیے اعزاد سمجھتے ہوئے اس کے
04:48لیے کوششیں جاری رکھیں گے ہمارے وسائل بہت محدود ہیں
04:51اونیسٹی آپ کو پتا ہے تین سال سے بڑی نہیں ہے تنخواہوں میں
04:54اضافہ اور الحمدلہ ہم تنخواہوں میں بھی اضافہ کر رہے ہیں لیکن
04:57یہ وہ کام ہے جو بنیادی کام ہے جو حکومت سندھ نے کرنے
05:01ہے اب میرے پتا ہے کہ لاؤس ٹائم جو جامعہ کراچی کو پوائنٹ
05:06دیا گیا تھا وہ نحمد اللہ خان صاحب نے دیا تھا اس کے اکیس سال
05:09بعد جماعت اسلامی کے نو ٹاؤنز حالانکہ میئر بھی نہیں ہے نو
05:12ٹاؤنز یہ کام دے رہے ہیں اور یہ آپ کہہ لیں کہ یہ ایک اتنا
05:16بڑا کام ہے کہ لیاقت آباد کے جو بچے ہیں جو جتنی مشکلات میں
05:21جا رہے ہیں اور جو کنوینس جتنی مشکل ہو چکی ہے اس کے لئے اگر
05:24آپ یہ لیاقت آباد میں چلے گا تو لیاقت آباد کے بچے جو ہے اس
05:27سے مستفید ہوں گے اور الحمدللہ جماعت اسلامی جس طرح سے اپنے
05:32ٹاؤنز میں کام کر رہی ہے سکولوں کو بہتری کے لیے کام کر رہی
05:35ہے اسی طرح جو ہے یہ ایک آئی ڈی اے تھا اور میں کہتا ہوں کہ
05:38اگر نیت اچھے کام کرنے کی ہو تو انسان اس طرح کے آئی ڈی ای
05:41ایس دھون سکتا ہے جس سے بچے جو ہے وہ مستفید ہو سکتے
05:44جماعت اسلامی کی طرف سے آج یہ ایک بسوں کا پورا کانوائے
05:47تمام ٹاؤن چیئرمنز کی طرف سے ایک ایک ایک تفاہ ہے بس کا
05:51کراچی ہستی کے لیے اسلامی جب میں طلبہ نے اس کو
05:54الیشیٹ کیا اور جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمنز نے لبیک
06:06پرائیوٹ آرکنیزیشنز میں بھی سی ایس آر ہوتا ہے تو اسی طرح
06:09جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے بھی لبیک آئے جماعت اسلامی کی
06:12خیادت کی کول کو یہ جو بسیں بہت زمانے سے خراب کھڑی بھی
06:16دیں اس کو رینوویٹ کیا ہے بہت اچھا طوفہ ہے بہت چی
06:19کافش ہے اس کو جاری اور ساری رہنا چاہیے اور بھی جامعات
06:23ہے کراچی کی ان کے لیے بھی سنسلہ جاری رہنا چاہیے
06:25کیو کے فی پوائنٹ کی بس مرمت پر تین کڑو روپے کے لگ بگ
06:29آخراجات آئے جس کے لیے ویلفیر کے لیے مختص فنڈ کو استعمال
06:32کیا گیا ملال احمد کے ٹیوب کراچی