00:00my name is much time to have a
00:02ڈمپر ڈسل بسندگر کے village
00:05ڈوار آچک جو وہ سب سے آخر
00:08کے اندر آتا جلال ڈمپر کے
00:10کارنر پر واقعہ سب سے دور
00:11دراز علاقہ ہے تو آج ہمارے
00:14کال سے ہماری انڈین آرمی
00:16نے ایک بہت بڑا کیمپ
00:18آرگنائز کیا سدبابنہ کی
00:20تیت تو یہاں پر جو ہمارے
00:23گریب حربہ لوگ ہیں بہت سے
00:24لوگ جو ہیں یہ اکثر گریب
00:26لوگ رہتے ہیں اس علاقے کے
00:27in order to do the other area. It was difficult to do that.
00:34The facilities that we have here Indian Army has given us.
00:38This is the first time we have medical camp.
00:42There are many facilities like disabled people who have been there.
00:47And that's why our Indian Army has our relationship with
00:53ڈودو بسندگر کا یہ اکثر میٹنسی سے ڈسٹرب رہا پچھلے تیس سالوں سے
00:57تو ہر وقت انڈین آرمی نے ہمیں جو ہے فیسائلٹی دی پچیس ہزار کے
01:03قریب قریب لوگ جو ہیں اس کیمپ کے اندر اس وقت موجود ہے اور وہ
01:08ہر ٹیسٹ ہے ہر پورا انتظام ہماری جو آرمی ہے اس نے پورا
01:13انتظام کیا اور ایڈنسیشن نے چاروں طرف ہمارے یہاں کے جو
01:16عدی کاری یہاں کے تحصیل کے ہمارے اس بسندگر کے جتنے بھی
01:19سرکاری عدی کاری ہیں انہیں پورا انتظام کیا کسی آدمی کو کوئی
01:23کوئی شور شرابہ نے اتنا سائلنٹ ہو کر کے اتنا ہر آدمی کی جہاں
01:27یہاں پر مدد کی جا رہی ہے ہم ان کے لئے بہت بہت دھنے باد ہیں
01:31پوری ایڈنسیشن کے اور انڈین آرمی کے جو ہمارے ہر وقت ہر وقت
01:36ہمارے خیال ہمارا خیال رکھے ہوئے ہیں میں انڈین آرمی کا بہت بہت
01:41شکر گزار ہوں کیونکہ یہاں ملٹینسی بھی تھی اور ہے بھی پہاڑی
01:47لاکہ ہے دور دراز ہے پیدر لوگ آتے ہیں تو پھر بھی انڈین آرمی
01:55والوں نے یہاں بہت اچھا کیمپ رکھا جس میں ہماری ناؤ پنچائتیں
02:00بلاک بسندگر کی بہت سارے لوگ یہاں کٹھے ہوئے یہاں ہر قسم کی
02:05ڈاکٹر ہیں دراصل ہم نے یہ سنسراج آج سے پانچھے برس پہلے شروع کیا تھا
02:09آرمی کے سوجنے سے وہ علاقے کیونکہ کونسٹیچونسی بہت بڑی ہے اور
02:15اس میں کچھ ایک ایسے شیطر ہے جو انسیبیلٹی کی بھی دکت ہے وہاں پہنچنا
02:20مجھل ہے وہاں کئی کئی ایسی جگہ جہاں ڈسپنسری بھی نہیں ہے یا کہیں
02:24ایسا ہے کہ ڈسپنسری ہے تو ڈاکٹر نہیں مختلف اور وہاں سے لوگوں
02:28کے لیے شہر تک آنا چاہے وہ رامنگر ہو چاہے ادھومپور ہو پہنچنا
02:32اتنا آسان نہیں رہتا کیونکہ سڑک کی ویوستہ بھی اتنی سویدہ جنک
02:36نہیں ہے پہاڑی شیطر ہیں سب کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ پہاڑ سے
02:40اوپر نیچے ادھوم تک ہے تو چونکہ آرمی کے پاس حضر قسم کی
02:44ویستہ رہتی ہیں اور ہمارا جو ادھومپور کا سپر سپیشنٹی آرمی
02:49ہسپیٹل ہے مجھے لگتا کہ سمیں پورے جمہو کشمیر میں بہترین
02:53ہیلتھ کیر سرویسز میں سے ایک سینٹر ہے تو ان کے سوجینے سے ہم
02:59نے یہ سلسلہ شروع کیا اسی طرح سے ہم نے ایک کیم پشلی بار
03:02ڈوڈو میں لگایا تھا جو اس کے بغل کا شیطر ہے آج ہم بسندگڑ میں ہیں
03:08اسی طرح ہم بھدروا کے اوپر والے شیطر میں بھی رہے جب گول
03:15جب تھا اس کی کانسیچونسی کا حصہ تو وہاں پر بھی ایک کیمپ
03:20لگا اور ہم یہاں پایا کہ بہت ساری ایسی بیماریاں ہیں جو
03:25پریونٹیبل ہیں لیکن سواستہ سیواؤں کے ابھاؤ کے کارے
03:29یعنی آج بھی دیڑھ دن میں ابھی تک لگ بھگ دو ہزار مریض یہاں
03:34آ چکے ہیں اور شام ڈھلتے ڈھلتے ہو سکتا ڈھائی تین ہزار
03:38جس میں سے لگ وہ چالیس پچاس پرتیشت ہے کیٹریٹ موتیا
03:43اب موتیا ایک ایسا دیسارٹر ہے جو عمر کے ساتھ سب کو ہوتا
03:47ہے پچاس سال کے بعد کم زیادہ عمر میں ہوتا جاتا ہے اور اگر
03:52اس کا صحیح سمیں پر علاج کیا جائے تو یہ بالکل کوئی تکلیف
03:56نہیں دیتا ہے لیکن اگر اس کو ویسے چھوڑ دیا جائے اور گاؤں
03:59میں چکے اویئرنیس کا بھی آبھاؤ رہتا ہے اتنی جانکاریاں
04:02نہیں رہتی تو یہ بڑھتا چلا جائے تو یہ نظر پوری طرح ختم
04:06بھی ہو جاتی ہے یعنی اس کو کہتے ہیں کہ اور اس کی وجہ سے کوئی
04:11ادھا ہو جائے تو وہ ایک سماج میں ایک ایک نامراد سا درش بنتا ہے
04:18اس کا بھی علاج ہو رہا ہے کچھ ہائیجین ریلیٹڈ ہیں تو اس لیے ہم نے
04:23یہ بھی مستا کی کہ ہر کیمپ سے کچھ انواب سے ہمیں سیکھنے کو
04:25ملتا ہے اس کی ایک ریپورڈ بناتے ہیں یا ڈی ایم صاحب بھی ہیں
04:28ہمارے سی ایم صاحب بھی تو کچھ ایک ایسی بیماریوں کو لے کر کے
04:32ہم ایک ریجسٹری تیار کریں ان کو ریفر کرنا ڈیسٹڈ ہاسپیٹل وہ
04:36کر سکے اور سمیں سمیں پر ہمارے ڈیسٹڈ ہاسپیٹل کے ہی
04:39ڈاکٹر یہاں آ کر کے ایسے مریضوں کا ایک سکریننگ کر لیں
04:44تاکہ انہیں سمجھایا جا سکے کہ کہاں جا کر کے وہ کیٹریٹ کا
04:47علاج کروا سکتے ہیں کہاں جا کر کے کان میں اگر ان کو کوئی نقص ہے
04:52تو اس پہ کروا سکتے ہیں اسی طرح بچوں میں کمزور نظر
04:56ریفریکٹری ایررز کے بہت سارے کیسز پائے گئے اور بچہ جو
05:00پڑھائی کر رہا ہے کہ اس کو سمیں پر اس طرح کا چشمہ نہ
05:03لگایا جائے اس کو میڈیکل ایپریسٹنس نہ ملے تو اس کی نظر
05:07اور خراب ہوتی جاتی ہے تو اس انہوں بھاب سے ہمیں سوئیم بھی
05:10سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں کیا کیا یہاں پر اپچار کرنے
05:13میں دل کی گہرائیوں سے دھنیواز کرنا چاہتا ہوں
05:17جیو سینس کی ہمارے جنرل پرتیق شرما اور ان کی ساری کی ساری
05:23تیم کا اور یہاں پر آئے ہوئے آرمی کے ڈاکٹرز آرمی بھڑی کے
05:28کوئر کے ان کے صحیحوں کے میں یہ کیم سمبھنا تھا
05:38موسیقی