Skip to playerSkip to main content
Upload date: 17/01/24

उत्तर प्रदेश ज़िला शामली के गांव एलम में दिनाक 14 जनवरी 2024 को नौजवानों और ग्रामीणों के साथ मिलकर प्रसिद्ध प्रगतिशील कवि शमशेर बहादुर सिंह की जयंती पर 'अमन के राग' के रूप में युवा संवाद किया । इस कार्यक्रम को सामाजिक कार्यकर्ता प्रो. प्रणय कृष्ण ने कवि शमशेर बहादुर सिंह पर अपनी बात रखी। चलचित्र अभियान और नौजवान भारत सभा व जसम संगठनो ने साथ आकर कार्यक्रम में भाग लिया ।

On January 14, 2024, a youth convention was organized in the village of Elam, Shamli district, Uttar Pradesh, to celebrate the birth anniversary of the renowned and progressive poet Shamsher Bahadur Singh under the theme 'Melody of Peace.' Social worker Prof. Pranay Krishna spoke at the event, sharing his thoughts on poet Shamsher Bahadur Singh. The celebration was attended by young people, and villagers, and was jointly organised by ChalChitra Abhiyaan, Bharat Naujawan Sabha, and Jasam.

Crew -Mohd Savez Chauhan, Shakib Yameen Rangrezz, Vishal Stonewall

CCA ground report

Crew -Mohd Savez Chauhan, Shakib Yameen Rangrezz, Vishal Stonewall

Visit our website: www.chalchitraabhiyaan.com

Subscribe to our YouTube Channel: https://www.youtube.com/@ChalChitraAbhiyaan

Follow us on Instagram: https://www.instagram.com/chalchitraabhiyaan

Follow us on Twitter: https://twitter.com/chalchitraabhiyaan

Follow us on Facebook: https://www.facebook.com/ChalChitraAbhiyaan

#westuttarpradesh #literature #progressivepoetry #kavita #kavi #shamsherbahadursingh #shamli #marxism #youth #socialism #naujawan #culture #hindiliterature #hindipoetry #kisanandolan #farmersprotest #farmers #kisanektazindabad #kisanunion #gannakisan #sugarcanefarmers

Category

🗞
News
Transcript
00:00चल चत्र अब्यान की और वीडियोस देखने के लिए सब्सक्राइब करें और बेल आइकॉन को दबाएं
00:30वीडियोस देखने के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब
00:40के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए सब्सक्राइब के लिए
00:53foreign
01:01foreign
01:02foreign
01:20Thank you very much.
01:50Shamsher Bahadur Singh की संबहुत सबसे बड़ी कविता है आकार में लिए और वो एक जमाना है जब दोदो विश्युद्ध
02:01दुनिया जहिल चुकी थी और शांती के पक्ष में विश्युव्याती एक तरह का आंदोलन था कि अब और युद्ध नहीं
02:12चाहिए
02:14मनुष्य के विकास में शांती बहुत जरूरी चीज है
02:24और शम्षेर बहातुर सिंग उन लोगों में से नहीं थे जो युद्धों को सिर्फ समझते थे कि कोई आध्यात्मिक संकट
02:33है
02:33जैसा कि दो विश्युद्धों के बीच में जो हमारे अमेरिकी कवी थे ब्रिटिश कवी थे वो लोग समझते थे कि
02:43ये कोई पश्च्चिम का ध्यात्मिक संकट है
02:47जिसके चलते जो दुनिया की बड़ी बड़ी उपलब्धियां हुई विग्यान के छेत्र में उनका इस्तमाल बम और मिजाइल बनाने के
02:54लिए किया गया
02:56और इस तरह से सारा ग्यान विग्यान मानवता की प्रगती ये सब जो युद्ध की भेट चड़ी है
03:04वह एक तरह का अध्यात्मिक सांस्कितिक संकट है
03:07या आगुनिक होने की प्रक्रिया का दोश है
03:14लेकिन शम्षेर बहादुर सिंग ये जानते थे कि यो युद्ध है
03:19वे पूजी के द्वारा कराए जाते है
03:23इस वकत भी दुनिया में दो जगह को बहुत भीचन युद्ध चल रहे हैं
03:29युक्रेन और रुस के बीच में और दूसरा फिरिस्टीन और युजराइल के बीच में
03:35तो युद्ध अक्सर युद्ध नवाद की ताकते हैं
03:43कबजे के लिए करती हैं
03:44دنیا کو دنیا کے سارے سنسادنوں کے بٹوارے کے لیے اکثر یدھ ہوا
03:49کرتے ہیں مشود اسی لیے ہوئے دیشوں کے بیچ بھی یدھ اگر آپ ان کے
03:53انتر کم میں جائیے تو آخر کار اس بات کے لیے ہوتا ہے کہ اس
03:58دھرتی کا سنسادن کس کے ہاتھ جائے تو یدھ پونجی کی ضرورت ہے
04:07اور اس لیے جو امن کا راہ ہے جو شمشیر گاتے ہیں وہ ایک طرح
04:13سے کہیے کہ منوش ماتر کی ایک تھا جس کے اندر کورب اور پشم
04:19میں کوئی فرق نہ ہو جس میں کی اور شانتی کیسے آ سکتی ہے سمتہ
04:27سے آئے گی شوشن سے مکتی سے آئے گی اور تبھی منوش کا اتحاس
04:33میں آگے کی چرن میں وکاس ہوگا اب ساتھی نے جس قوتہ سے ختم کیا
04:43جو ہندو مسلم تھا وہ سکھ ہندو ہو گیا دیکھو یہ نفرت کا
04:50تقاضہ اور کتنا بڑھ گیا دیکھو ہم اس کے پہلے بھی ملیل کے آخر
04:55رہتے آئے تھے جو اپنے بھی نہیں تھے وہ بھی کب اتنے پر آئے
05:01تھے ہم اپنی سبتہ کے معنی اور مطلب ہی کھو بیٹھے جو تھی اچھائیاں
05:08اتحاس کی ان سب کو دھو بیٹھے طبیعت جیسی بن جاتی ہے پھر بنتی ہی
05:13جاتی ہے جو تن جاتی ہے آپس میں تو پھر تنتی ہی جاتی ہے یہ پورے کے
05:21پورے نفرتوں کے دور میں یدھوں کے دور میں امن کا راہ گانے والے
05:29نفرتوں کے دور میں منوش شپریم کی پرتشتہ کرنے والے قوی شمشیر
05:36ہم سے پہلے کی وقتہ نے ان کی بہت ہی بہت ساری خوبیوں کی اور
05:40اشارہ کیا ان کے شلپ پخش کو لے کر ان کے وچار پخش کو بھی لے
05:44کر تو اب سوال یہ ہے کہ شمشیر بہادر سنگھ کی کچھ کبی تائیں
05:51ایسی ہوں گی جن کو آپ جس میں مگن ہو سکتے ہیں لیکن ان کی
05:57ویاکھیا نہیں کر سکتے جیسے کبھی کبھی بہت سارے چطر ہوتے ہیں
06:01آپ سے کوئی پوچھے کہ یہ چطر جو آپ نے دیکھا اس کا کیا مطلب ہے
06:05تو دراصل آپ مطلب نہیں بتا پائیں گے کیونکہ چطر کی جو بھاشا ہے
06:12وہ آپ کے اوپر ایک پربھاو ڈالتی ہے کچھ رنگ کچھ سنکیت آپ کے
06:18من میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہ اپنی طرح سے آپ کے دماغ کے
06:22اندر کام کرتے ہیں دراصل اس چطر کو دیکھتے ہوئے آپ ایک اور
06:26چطر اپنے دماغ میں بنا لیں تو شمشیر کی بہت ساری قویتہیں ایسی
06:31ہی جیسے ایک چطرکار جو کام برش کے سپروک سے لیتا ہے وہ کبھی
06:39کبھی وہی کام زیادہ تر وہی کام شبدوں سے لیتے ہیں تو اس لیے
06:44بہت سی ان کی قویتہیں ایسی ہوں گی جنہیں آپ پڑھ پر پربھاویت ہوتے ہیں
06:54لیکن آپ دراصل یہ نہیں بتا سکتے اس خاص چھن میں کہ یہ پربھاو
06:59کیسا ہے کیا ہے اور اس کی بیاکتہ نہیں کر سکتے دوسری طرف شمشیر کی
07:04بہت ساری ایسی قویتہیں ہیں جس کو بلکل سامانے لوگ سمجھ سکتے ہیں
07:10تو یہ جو ایک کبھی کی عدویتیتہ اس کے شلق میں تو ہے ہی اس کے
07:17بنائے ہوئے طریقوں میں تو ہے ہی شمشیر جس سمیں رچنا کر رہے ہیں
07:21تو مکتبود نے ہی کہا ہے کہ بھاشا کا استرجس ہوتا ہے جو کسی بھی
07:26سماج کا کبھی کبھی کوئی کبھی اس معاملے میں بھی اپنے کو
07:31اکیلا محسوس کرتا ہے کہ جو بھاشا اس کو بھراست میں ملی ہے وہ
07:35اس کی سمویدنا کو ویکت کرنے کے لیے پریادت نہیں ہے یا اس کے
07:39انبھاؤں کو پرکٹ کرنے کے لیے پریادت نہیں ہے یہ سنکٹ شمشیر
07:45بھی جہلتے ہیں شمشیر کو سنسکت نہیں آتی تھی تو اس کا ان کو
07:50بہت وہ تھا کہ وہ بھی آنی چاہیے تھی مجھے عربی میں پرارتنا
07:56لکھ کے نہیں کروں تو مجھے دوزک میں ڈال لو کہ جب یہ بات وہ
08:00کہتے ہیں تمام طرح کی بھاشائیں ان کی لپیاں ان سب کو وہ
08:07سنکیتوں کی طرح پڑھتے تھے اور سنکیتوں کی طرح استعمال
08:10کرتے تھے بھاشا خود بھی کیا ہے سبتہ کے وطاس کے دوران بھاشائیں
08:15بنی ہیں اور ان بھاشاؤں کی پرس پر جو نکٹتا ہے اس کو شمشیر
08:23بہت دہرائی سے جاننے والے کوئی تھے اتنا ہی نہیں جیسے سنگیت کی
08:28بھی اپنی بھاشا ہے چطر کی بھی اپنی بھاشا ہے ان سب بھاشاؤں میں ان
08:35سب کلاؤں کے اندر سنویدنا جب آتی ہے تو اپنے اپنے طریقے سے آتی
08:39ہے ایک ہی سنویدنا جب شبد میں وقت ہوگی جب چطر میں ہوگی جب
08:43سنگیت میں ہوگی تو اس کا روپ رنگ الگ قسم کا ہوگا شمشیر کی
08:49قوتائیں ایک طرح سے کہیے کی ان سبھی کلاؤں کے کی بھیتری
08:53ایک تا اور ایک دوسرے سے پرس پر بھنتا دونوں کو بہت گہرائی
08:59سے وقت کرتی تو اس لیے ان کی قوتہ کا پاتھک ایک طرح سے کہیے
09:04کی شوتا بھی ہوتا ہے اس کو مون بھی سننا پڑتا ہے جو ان
09:08پنتیوں کے بیچ میں کہیں ہوتا ہے وہ ایک چطر کا بھی درشک ہوتا
09:12ہے اور شبدوں سے یہ کام لینا ہے یعنی ایک رنگ کا کام لینا سر
09:22کا کام لینا یہ شمشیر کی جو قوتہ کی بناوٹ ہے وہ اس کی خاص
09:28خوبصورت چیز ہے شمشیر بہادر سنگھ نے پاکہ
09:37جو قوتائیں لکھیں اور انیک انیک پریوک کیے تو وہ پریوک
09:42کرنے کی ضرورت کسی قلی کو کیوں پڑتی ہے بہت سی سمیدنائیں ہیں
09:46جن کے لیے جو آپ کے پاس پہلے سے موجود بھاشا یا شنپ کے
09:51ڈھاچے ہیں وہ پورے نہیں پڑتے ہیں جیسے فیض صاحب کہتے ہیں ایک کڑا
09:59درد کی جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں ہے درد اتنا کڑا ہے کہ ہم اس کو
10:05ایک کومل گیت میں نہیں ڈھالتا ہی تو قوتائیں جو روپ لیتی ہیں وہ ہماری
10:14بھاوناؤں اور سمیدناؤں کے حساب سے کبھی اس روپ کو اس شنپ کو گھٹتا ہے
10:20شمشیر بہادر سنگھ کے لیے آتمک اور ساماجک یعنی جو پرسنل ہے اور
10:29جو سوشل ہے اس کو جھوڑنے والی کڑی ہے ہسٹوریکل ایتحاسک وہ مانوی
10:37مطلب وہ صرف پرکرتی کا مانوی کران ہی نہیں کرتے اس کا ایتحاسی
10:41کران بھی کرتے اور اس طرح سے ایتحاس چیتنا کے ساتھ قویتہ رچنے کا
10:47ایک زبردست قسم کا پریوک شمشیر بہادر سنگھ نے کیا ہے اور کیوں
10:53مکتبود نے لکھا ہے کہ ویکتی اور سماج میں دونداتمک رشتہ تو ہوتا
11:00ہے لیکن دو وپریت ویرودی چیزیں نہیں ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ
11:05ویکتی سماج کا انوہو کیندر ہے سماج آخر اپنے سارے انوہو جھپراتا
11:11کیسے ہیں وہ ویکتیوں کے مادیم سے وہ انوہو کیندر ہے اس
11:17بات کو شمشیر کی قویتہ جتنے گہرائی سے سمجھتی ہے اتنا کوئی
11:21اور نہیں سمجھتا اور ٹھیک ہے کہ وہ اس طرح سے اتھارت وادی
11:27کبھی نہیں مانے جا سکتے اتھارت وادی کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ
11:30بھئی جسے جسا درش اس نے دیکھا ویسا اس نے اپنے چطر میں یا
11:37اپنی قویتہ میں بنانے کی کوشش کی اور ساتھ میں یہ بھی کہ اس
11:44درش کی بھی وہ آلوچنا کرتا ہے لیکن ایسا کوئی قوی ہو جو دیکھے
11:51گئے یا سنے گئے چیز کو اس طرح سے وقت کرے کہ اس کے اوپر ایک
11:59الک سا درشک جیسے بنا دے یعنی ایک جو یتھارت ہے اس کے لیے کچھی
12:06سامگری کا کام تو کرے گا لیکن یتھارت اب اس طرح سے روح بدل
12:11لے گا کہ آپ کو لگے گا کہ یہ ایک انوٹی سی چیز ہے جس کو ہم دیکھ
12:15رہے ہیں اور یہی سے کعب کی جو ایک طرح کا رومانچ ہوتا ہے وہ پیدا
12:21ہوتا ہے شمشیر کی قویتاؤں کے بارے میں ایک بات ضرور دھیانت میں
12:27رکھنا چاہیے کہ جیسے ہم جب بچے ہوتے ہیں ایک بچہ کوئی
12:31درش جب دیکھتا ہے تو کبھی کبھی وہ پورا درش نہیں دیکھتا بلکہ
12:35ہو سکتا ہے کسی رنگ میں وہ اٹک گیا ہو وہ رنگ اس کی آنکھ میں
12:39اس کی چیتنا میں گھلتا چلا جاتا ہے سموچہ درش ہڑ جاتا ہے اور
12:43تب وہ جو بمب بناتا ہے اس رنگ کو اپنی چیتنا میں وہ انوٹھا
12:48ہوتا ہے بھلے ہی اس کے پاس اب وقت ہی نہیں ہے بچہ چترکار
12:52نہیں ہے یا آپ اگتے ہوئے یا ڈھوکتے ہوئے سورج کو دیکھ
12:56کا جس طرح سے مگن ہو سکتے ہیں اس درش میں اپنے آپ کو کھو
12:59سکتے ہیں اسی طرح شمشیر کی بہت ساری قویتائیں جو درش اور
13:05درشک کے ببھاجن کو مٹا دیتی ہیں سبجیکٹ اور آبجٹ کے
13:09ببھاجن جیسے مٹ جاتے ہیں اس لیے بھی ان کی قویتہ کے اندر
13:13پرویش اگر آپ کرتے ہیں تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اس میں مگن
13:18ہو جائیں اتنے مگن ہو جائیں کہ اس کو باہر سے نہ دیکھ
13:21پائیں آپ اس قویتہ کے انگو کا حصہ ہو جائیں تو ٹھیک ہے انہوں
13:27نے جس کو اتی اتھارت واد کہتے ہیں سریلزم یا پربھاہ واد جو
13:36امپریشنزم اس طرح کے جو کلا آمدولن تھے پرتیک واد سیمبلزم ان
13:45سے بہت سے تک تو لیے پریوک شلپ گت پریوک کے لئے اس طرح پہ لیکن
13:52کتھ جو انہوں نے کہا وہ ایک خاص قسم کا ایتحاسک گوند آتما کو اور
13:59بہت ایک وادی دششگون تھا جو بالکل نئے شلپ میں پوری ہندی
14:04قویتہ میں بیقت ہوتا ہے گجانان مادوں مکتبود اور شمشیر یہ
14:10کہیں وچاردھارہ کے دو ایسے بڑے کمی ہیں جنہوں نے ایک طرح سے
14:14کہیے کہ اس وچاردھارہ سے جو کچھ بھی گرن کیا اس کو کلا میں
14:18روپانترت کرنے میں ساری زندگی لگا دی اور جو کچھ بن کے نکلا
14:23وہ ایک اچھ شکھر ہیں ہماری سموچی کلا یادترہ کی جو کی
14:29ہماری سبتہ نے کی ہے شمشیر بہادر سنگھ کا گاؤں ہے یہ وہ ایک
14:40ایسے پریویش میں انہوں نے ان کی پیدائش ہوئی جو ایک کسانی
14:45پریویش تھا اور یہ یہ جو پورا چھتر ہے وہ اپنے لڑاکوپن کے
14:55لیے اپنے شورے کے لیے جانا جاتا ہے لیکن شمشیر کا وقتب تو
15:00دیکھئے صرف کبھی کے روپ میں ان کا وقتب تو نہیں بلکہ ایک
15:03منفشی کے روپ میں بہت ہی نرم نازک کومل بھاؤں بھاؤں کے
15:07کبھی نہیں بہت ہی نرم نازک مجاز کے آدمی بھی تھے اور دوسروں
15:12کے لیے بہت کش اٹھانا لوگ ان کے گھر چلے جاتے تھے کئی کئی
15:17دن رکے رہتے تھے سب کی سیوہ کرنا سب کے کھانے پینے کا انظام
15:21کرنا اور خود اپنا بلکل خیال نہ رکھنا بے پرواہ رہنا ایسے
15:26تھے شمشیر بہادر سنگ لیکن اس کھیتی کسانی سے کیا ان کے جیسے
15:30اتنے کلا دکش اتنے زبردست شلق والے عدوطی شلق والے اتنی
15:38کومل سنگیدنا والے کبھی کا یہ کیا کسانی جیون سے کوئی
15:44گہرا رشتہ تھا کسان لوٹ رہے ہیں شام ہو گئی ہے اور دھول
15:50میں لپٹا ہوا ہے آسمان یہ کئی بمب ان کے آتے ہیں اس درشتی سے
15:55بھی ان کے کعبی کا گھن کیا جانا چاہیے کہ ان کے جو بہت سارے
15:59اشتدھاتوں کا بدن جن لوگوں نے اشتدھاتوں سے بنی ہوئی مورتیاں
16:04اور مورتکاروں کو دیکھا ہوگا اس سے بنتے ہوئے اس کے سامنے ہی
16:08اس طرح کا بم یا اس طرح کا چتر پرکٹ ہو سکتا ہے تو کاریگری
16:13جو کاریگر لوگ ہیں جو کسان لوگ ہیں جو مجدور لوگ ہیں ان کی
16:18زندگی کے ان کے کون سے ایسے کوشن ہیں جو کبھی کی چیتنا میں اس طرح سے
16:24رش بس گئے ہیں کیونکہ کبھی کبھیتہ میں اچانک آیاتے ہیں بھلے ہی
16:28کسانی جیون پر وہ کبھیتہ نہ لکھ رہے ہیں یہ شام ہے کہ آسمان
16:33کھیت ہے پکے ہوئے اناج کا تو اب جیسے ان کی ایک بہت ہی مہت
16:40کون کبھیتہ ہے بیل اس کی کچھ پانکیاں میں آپ کو پڑھتا ہوں جس سے
16:46آپ سمجھ پائیں گے کہ ان کا اپنے علاقے سے بیل مہاں پر ایک طرح
16:53کا پرتیک ہے شوشت مشدوروں کا دن بھر بیل کی طرح کھٹتے رہتے ہیں
16:59وہ کسی اور کے منافع کے لیے اور خالی چارے کے لیے انت میں چارہ
17:05مل جاتا ہے اس کے لیے دن رات پر اشرم کرتے ہیں اور آخر میں جو
17:10کبھی لکھتا ہے اس کبھیتہ میں کہ یہ ساری دنیا مجھے بیل معلوم
17:15دیتی ہے کیوں بیل جیسی زندگی میں کھٹتے ہوئے لوگ اور یہ ساری
17:21چکا چوند ہے جو بہت بڑے بڑے محل بنے ہوئے ہیں اٹالیا بنی ہوئی
17:27ہیں چوڑی ہوئی سڑکیں ہیں چمکتی ہوئی چیزیں ہیں وہ کس کے خون
17:34پسینل بنی ہوئی ہیں جو محنت کرتا ہے کس نے بنایا ہے اسے لیکن وہ
17:38رہتا کس حالت میں ہے اس کی زندگی کسان سب کا پیٹ بھر رہا ہے
17:45مجدور آپ کے لیے ہوائی اڈوں سے لے کے سڑک سے لے کے کیا کیا
17:47بنا رہا ہے مجدور کی حالت کیا ہے کسان کی حالت کیا ہے بیل
17:52جیسی ہے پر وہ جو بمب یہ تو اس کا کتھ ہے میں وہ بٹھل کالی
18:00کڑی کوب والا بیل ہوں جو اکیلا دھیرے دھیرے چھے میل
18:05کھینچ کر لے جاتے ہوئے ٹھیلے پر اوپر تک لدہ ہوا مار اسٹیشن
18:11سے دور گودام تک چپ چاپ دھیرے دھیرے آنکھیں باہر کو نکلی
18:16ہوئی تیوری چڑھی ہوئی کاندھے جور لگاتے ہوئے سینہ اور چھاتی آگے
18:21کو چھک کر جور لگاتے ہوئے رانے تنی ہوئی گرم پسینے ستر مگر
18:26زور لگاتی ہوئی نتھنے پھولے ہوئے سانس اور دم اپنی زور
18:32آزمائش میں لگے ہوئے اور آگے کھتی سے ہی اور گڑائی سے ہی
18:38سمبندت بہت ساری چتر مالائیں آتی ہیں اس کا بیتانہ تو شمشیر
18:43صرف پرکرتی کی سندرتا یا سوندر ری ماتر کے یا بشد سوندر ری
18:49کے ہی کبھی نہیں ہے وہ شرم کے خون پسینے دھول کی مہک کے بھی
18:58کبھی ہیں اور اس لیے یہ چیز جو ہے وہ ان کو اور بڑا کبھی
19:03بناتی ہیں اس لیے وہ سمویدنا کا جو رینج ہے یعنی کچھ
19:09کبھیوں کے پاس بھاشا کا بڑا بھاری رینج ہوتا ہے وشیوں کا بہت
19:12بڑا رینج ہوتا ہے ایک بہت بڑا رینج سمویدناوں کا شمشیر
19:18کی قویتاؤں ملتا ہے اور سب سے بڑی بات کی اتحاس کی جو چیتنا
19:25ہے اور وہ اتحاس کی چیتنا وہ پرکرتی تک میں وقت کرتا ہے پونجی
19:30بات جو کیا کرتا ہے کہ جو ایک طرح سے پرکرتی وہ نرپیکش سکتا ہے
19:35جس کو وہ ساپیکش بنا کے پیش کرتا ہے یعنی ہم پرکرتی کو چاہیں
19:40تو جیسے جیسے چاہیں ویسے مروڑ سکتے ہیں اپنے فائدے کے لیے
19:44کچھ بھی کر سکتے ہیں باند لگیوں پہ باند باند سکتے ہیں اور جگہ
19:48جگہ سب کو معلوم ہے کہ اس سمیں پریابران میں کیا ہو رہا ہے وہ
19:55شمشیر کی قویتائیں ایک طرح سے جو پرکرتی کی نرپیکش شدتہ و
20:00ضرورت ہے مروڑشی کے جیون میں اس کو بار بار جب چترت کرتے ہیں تو
20:05پونجی کا یہ دعویٰ کی ہمارے نیموں سے پرکرتی بھی چلے گی اس
20:10دعویٰ کا وہ خندن کر رہے ہوتے ہیں اس سکش میں اس طرح پر ان کی
20:14بچاردھارہ کو ان کی قویتہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے ابھی شمشیر
20:18جی پر اتنا کام نہیں ہوا ہے جتنا ہونا چاہیے ان کو مان کو لیا
20:23سبھی نے بہت ہی عدویتی ہے کبھی اپنے اپنے ڈھنگ سے ان کے پریوگوں
20:27کو دیکھتے ہوئے ان کی شلبگت عدویتیتہ کو دیکھتے ہوئے وہ ان کو
20:31کلاوادیوں نے بھی ایک سمیں بہت سراح اور لیکن شمشیر نے خود صرف
20:40اپنے کثن میں نہیں انہوں نے کہا کہ بھئی مارکسواد آکسیجن
20:45جیسے ہی ضروری ہے ویسے ان کی قویتہ کو بھی آکسیجن مارکسواد
20:51سے ملتا تھا سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ان قویتاؤں کو پڑھنے کی
20:56ویسی سجگ درشتی ہے کی نہیں کیونکہ ضروری نہیں ہے شمشیر نے سیدھے
21:04ورگ سنگھرشی قویتائیں نہیں لکھی لیکن historical time منوشی جو
21:09اتحاس کو نرمار کر رہا ہے جو یگوں کی انہوں کی انہوں کی انہوں کی
21:14انہوں کی انہوں کی انہوں کی انہوں کی انہوں کی انہوں کی انہوں کی
21:19اتحاسی کرو اس کے وہ بہت ہی زبردست قوی یدھ ویرودھی مانوتا کے سکھ
21:27شانتی اور سوندر کے بہت ہی بڑے قوی ہیں اور ایسے قوی کی اس لیے ہمیں
21:32بہت ضرورت ہے اور بہت سنجھونے کی ضرورت ہے منوشی کیسے بنتا ہے
21:38ظاہر ہے گھٹناوں سے پرستیتیوں سے اور ان منوشیوں کے ساتھ جو اس کے
21:44سنبند وقصد ہوتے ہیں اسی کے حساب سے ہم پلتے بڑھتے اور ہمارا
21:47سبحہ ورجد کرتے ہیں لیکن منوشی ایک اور طریقے سے بھی پرباوت ہوتے ہیں
21:53بنتے ہیں اپنے بننے کی پرکریاں میں وہ طریقہ ہے سنسکتی کا کلا کا
22:00یعنی اچھی پستکیں پڑھ کر اچھا سنگیت سن کر اچھی کلاکرتی دیکھ کر
22:07آپ کے من کا پریشکار ہوتا ہے آپ کے بیکتوں میں کچھ نیا جو ہوتا ہے
22:12وہ سیدھے پریشکیوں سے نہیں آ رہا ہے پر آپ کے من پر وہ اثر کر رہا ہے
22:18شمشیر بہادر سنگھ وہ پہلے کبھی ہیں ہماری بھاشا کے میرے خیال سے
22:26جنہوں نے اس طرح کے لکھنے کی پریپارٹی بنائی کی امک کلاکرتی کو دیکھتے ہوئے
22:33یعنی وہ کلاکرتی سامنے ہے اور کبیتہ اس کا جو پرباو پڑھ رہا ہے کبی کے اوپر
22:39امک کا سنگیت سنتے ہوئے اب تو بہت ساری ایسی کبیتائیں آ گئی ہیں لیکن شاید شمشیر سے پہلے نہیں
22:45لکھا
22:45یعنی کلا روپوں کا منشی کی سکشم سمویدناوں پر کیا اثر ہوتا ہے
22:50کلا خود میں کتنی مکتگائی نہیں ہوتی ہے اور ضروری نہیں ہے
22:57کہ سنگھرش کے چتروں میں ہی بلکہ ایسے چتروں میں بھی جس کے پیچھے شمشیری کبیتاؤں میں ہوتا یہ ہے
23:05کہ گھٹنائیں اور استھیتیاں اتنی نہیں ہوتی بلکہ ان سے اوبجی سمویدناوں کا ایک
23:13بھاؤ سنسار وہ اپنے کبیتان پرستود کر دیتے ہیں
23:16تو کبھی کبھی آپ کو جن بھی ہوگی کہ یہ جو بھاؤ ویکٹ ہو رہے ہیں وہ کس بہت ایک
23:23پریسطی میں ہو رہے ہیں
23:24وہ اس بہت ایک پریسطی کو کبھی کیوں نہیں ہوتا
23:25ضروری نہیں ہے کہ ہر کبھی ہوتا ہے
23:27یہ کابی کیا لگ لگ شہلیہ ہیں
23:30لیکن جو اس میں پرواہد ہو رہی ہے وہ زندگی کے ایک بہت ہی گہری ضرورت اور باستوکتہ ہے
23:36اور اسی لیے جو لوگ آپ لوگ یہاں پر کسانوں کے بیش میں بھی کام کر رہے ہوں گے
23:42سنسکرتی کا کام اور جس اس طرح کا پریشکار منوشی کو دیتا ہے
23:48جس طرح کی سپنیں وہ دیتا ہے
23:51اچھا منوشی کیسے بنایا جائے ہیں
23:53ایک ودیالہ ہوتا ہے ایک وش ودیالہ ہوتا ہے
23:55ان سب میں جو لوگ مانوکی پڑھتے ہیں اور پڑھاتے ہیں
23:59ان کے پورے کے پورے کام کا آقلن کیسے ہوگا
24:03پریوکشالہ میں آپ نے کچھ بنایا وہ انڈسٹری کام آگیا
24:05تو اس کا آقلن ہو گیا اس کا ویڈو یہ ہے
24:08اتنے پیسے کی چیز اتپادت ہو گئی ہماری کوش سے
24:12لیکن ساہتی کو پڑھانے سے کیا ہوگا اس کا مول لے کیا ہے
24:15ساہتی کا مول لے سنگیت کا مول
24:17کلاؤں کا مول لے منوشی کو بڑھنا ہے
24:19منوشی کی آتما کو بڑھنا ہے
24:22اس طرح کے آتما کے شلپی
24:23جن قویوں کو ہم یاد کرتے ہیں اور ہمیں یاد کرنا چاہیے
24:27ان کے اپنے گاؤں سے لے کر
24:29اس وش وگرام تک
24:32ان کے سپنوں کو سہجنا چاہیے
24:35ان میں
24:36ہمارے شمشیر بہادر سنگھ بھی ہے
24:39اور اچھی بات یہ ہے
24:40کہ وہ ان کا علاقہ ان کو اس طرح سے یاد کر رہا ہے
24:45اور ان کے ہاں جو مون آتا ہے
24:48ان کا مون انوے لوگوں کے مون سے الگ ہے
24:51یہاں اتنا سمیں نہیں ہے کہ میں اس کی بہت بیاکھا کروں
24:54لیکن ایک طرح سے ان کا مون
24:57ایک وقت کی اتحاس کے
25:00آگے اختیار کی گئی خاموشی ہے
25:03جس سمیں جس چھوڑ ہم جانتے ہیں
25:05کہ جو شکتی
25:06ہمیں آپ کو بھی چلا رہی ہے
25:08وہ مانوی اتحاس ہے
25:10ہمارے عطیت جو ساجے عطیت ہیں
25:12اور جو ہمارے ساجے بھوشے بننے والے ہیں
25:14ان کا ایک کن ہے ہمارا برطمان
25:17تو اس شن پر
25:20اتحاس کی اس وراتکہ کا
25:21جب انوہوں ہم کرتے ہیں
25:23اور اپنے کو بہت
25:24اس کا کن کرن
25:26اتحاس کے کن کرن
25:27بن کر جیویت رہنے کی جو آکان شاہ ہے
25:30ان کی
25:31وہ ان کا مون
25:32اسی وراتکہ کے آگے اختیار کی گئی
25:35خاموشی ہے
25:36آتم ویسرجن ہے
25:37آتم سمرپن ہے
25:38کسی امورت سطح کے آگے نہیں
25:40کسی بھگوان کے آگے نہیں
25:41پر اتحاس
25:43جس میں
25:44امرت بھی ہے
25:45اور وش بھی ہے
25:46لیکن اتحاس کو
25:47وہن کرنا پڑتا ہے
25:48اتحاس ہمارے بھیتر سے بولتا ہے
25:51ہم اس سے کبھی بھی چھوٹے ہوئے نہیں ہیں
25:53اس کو شمشیر سمجھتے ہیں
25:55اس لیے جو اتحاس بود
25:58اور جو سپنے
25:59جو چتر
26:01ان کی رشناوں میں پرکشپت ہیں
26:03وہ سب
26:04گہرے روپ سے
26:05اتحاس بدھ ہیں
26:07کیونکہ منوشی خود بھی اتحاس
26:09بدھ ہے
26:12تو
26:15یدھ کے وردھ
26:17کبیتہ کی بعد ان کی کہی گئی
26:20تو نجتہ کو اپنے
26:21ایک طرح سے
26:24ان کا نجھ جو ہے
26:25وہ ہر ایک ہو جانا چاہتا ہے
26:28وہ جو ہیں وہ چاہتے ہیں
26:30کہ ہر جیسے
26:32ہمارے اندر وہ کیا ہے
26:33جو آپ میں بھی ہے
26:34جو آپ میں بھی ہے
26:35جو آپ میں بھی ہے
26:37یہ جو ساماجک
26:38تک تو ہے آپ کے
26:39اپنے
26:40نجی ویکتتوں کا
26:41وہی ان کے ہاں
26:42بہت گہرائی سے آتا ہے
26:45اور
26:45نجتہ کا
26:46اتحاس
26:49بھی ہوتا ہے
26:50آپ کے نجی جیون کا
26:51تین طرح کے
26:52کال ہو سکتے ہیں
26:52ایک انت کال ہے
26:53ایک ہمارا جیون کال ہے
26:55یعنی جب سے ہم پیدا ہوئے
26:56اور جب انت میں مرے
26:57اور ان دونوں کو
26:58بیچ ان کو
26:59ان کو ملانے والا
27:00ان کو جوڑنے والا
27:01کال ہے
27:02اتحاسک کال
27:03ہسٹوریکل ٹائم
27:05جس میں سارا کا سارا
27:06سماج ہے
27:07سارا کا سارا اتحاس ہے
27:09ساری ساری سرشتی ہے
27:11اور اس
27:13بیرات سرشتی
27:14کہ
27:15تمام تر
27:17سوندر کو
27:19قوتہ میں باندھ لے جانے
27:20کی جو خواہش ہے
27:22وہ شمشیر کی
27:23اپنی زند ہے
27:25اپنے
27:25کسی بھی قیمت پہ
27:28ایک منوش بنے رہنے کے زد
27:30اور منوشتہ کو
27:31لگاتار
27:32گاتے رہنے کے زد
27:34یہی شمشیر کی قوتہ ہے
27:35ہم کو
27:36اور بھی وقت ملے گا
27:38اور بھی وقت آؤں کو
27:39ہم سنیں گے
27:40فیلال اتنا ہی
27:41آپ سب کا بہت بہت
27:42دھنے بات
27:50پڑھنے جی نے بہت خوبصورت
27:52بہت بہت بات

Recommended