Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
پلوامہ، جموں و کشمیر (سید عادل مشتاق شاہ) جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے پوری وادی اور صوبہ جموں میں جمعہ کے خطبات کو یکساں (سینٹرلائزڈ) بنانے کی تجویز پر جاری بحث کے درمیان معروف سیاسی رہنما ڈاکٹر طلعت مجید کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر اس مہم کا بنیادی مقصد معاشرے میں اتحاد، باہمی بھائی چارے اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تو یقینی طور پر اس تجویز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طلعت مجید نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ موجودہ دور میں فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلافات کو کم کرنے اور ملتِ اسلامیہ کے مابین اتحاد و اتفاق کی فضا کو سازگار بنانے کے لیے جید علما، ممتاز مذہبی اسکالرز اور ائمہ مساجد کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس خصوص میں انہوں نے مقتدر حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خالصتاً مذہبی اور شرعی معاملات میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت سے سختی سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ مذہبی امور انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس لیے وقف بورڈ کے زیرِ انتظام مساجد سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مسلم پرسنل لا، ائمہ اور تمام مروجہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ معاشرے میں وحدت اور ہم آہنگی کا قیام ایک عظیم مقصد ہے، لیکن اس پورے عمل کے دوران مذہبی روایات کی حساسیت اور تمام مکاتبِ فکر کے متعلقہ فریقین کی آراء کو مناسب اور مساوی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس حساس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے سنجیدہ غور و خوض اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دور رس فیصلے کا واحد اور حقیقی مقصد سماجی تانے بانے کو مضبوط بنانا اور مسلم سماج میں اتحاد و اتفاق کی روح کو بیدار کرنا ہونا چاہیے۔

Category

🗞
News
Transcript
00:00Look, here is the question of the Uniform Jum'ah Khudba.
00:04There are many things that you need to see.
00:06If you are doing this uniform khudba,
00:12then you can see one thing.
00:15If you want to see something like this,
00:21then you need to see one thing.
00:25The third thing is,
00:28you need to see one thing.
00:34These are three things that we need to see.
00:38If we talk about Jum'ah Khudba,
00:41when we read Islam or Islam,
00:44then these things come from State Domain.
00:48Jum'ah Khudba is the domain.
01:02This is the domain of the state.
01:03What is the nature of the state?
01:04What is the nature of the state?
01:06We can see some things that we can see
01:34so that we can see one thing that we can see.
01:38We need to see one thing that we can see.
02:04It's just something that we can see.
02:11I don't want to see one thing that we need to see.
02:11We need to see one thing that we can see.

Recommended