00:00Gاؤں کے آخری کونے پر ایک پرانی حویلی ہے
00:04سنائے وہاں کوئی نہیں رہتا
00:10سورج ڈھلنے کے بعد اس حویلی کے پاس مت جانا
00:16کہتے ہیں پچاس سال پہلے
00:18ایک امیر آدمی یہاں سے غائب ہو گیا تھا
00:24وہاں سے رونے اور زنجیروں کی آوازیں آتی ہیں
00:33میں ان باتوں پر یقین نہیں کرتا
00:39رات کے گیارہ بج کر پینتالیس منٹ ہو رہے تھے
00:49میں رات کے بارہ بجے حویلی کے اندر جاؤں گا
00:57اور اپنا نام دیوار پر لکھ کر آؤں گا
01:04میرے ہاتھ میں ٹارچ اور چوک تھی
01:13میں حویلی کی طرف بڑھ رہا تھا
01:20جیسے ہی دروازہ کھولا
01:29اندر دھول اور مکڑی کے جال تھے
01:38ہوا بہت تھنڈی اور گھٹن والی تھی
01:47جیسے برسوں سے یہاں کوئی سانس نہ لے رہا ہو
01:52میں نے ڈرتے ڈرتے اندر قدم رکھا
02:02سامنے ایک بڑی کھڑکی تھی جو پیپل کی طرف کھولتی تھی
02:16سب ٹھیک لگ رہا ہے
02:19یہ ٹارچ کو کیا ہوا
02:21پلیز بند مت ہو نا
02:27یہ کیا ہوا
02:29ٹارچ کو کیا ہوا
02:33کھڑکی کے باہر کیا ہے
02:44اس کے بال زمین کو چھو رہے تھے
02:51میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
03:00یہ میرا وہم ہے
03:05بس آخری لفظ
03:16میرا نام بھی لکھ دو
03:23میرا خون خوف سے جم گیا
03:29کبھی کبھی سچائی وہ نہیں ہوتی جو دکھائی دیتی ہے
03:33میرے اپنے سائے بھی مجھ سے جدا ہیں
03:38ٹارچ بجھ گئی
03:45صرف چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی
03:51زائد
03:54ہشیار رہو
03:57نہیں یہ کیا ہے
04:01مجھے بھاگنا ہوگا
04:08یہاں کوئی بھی نہیں ہے
04:13یہ دروازہ خود کیسے بند ہوا
04:16کوئی ہے
04:19مجھے باہر نکالو
04:24میں اس اندھیریں سے نہیں ڈرتا
04:26جنجیریں مجھے روک نہیں سکتیں
04:29میری آزادی یقینی ہے
04:32وہ میرے بلکل سامنے کھڑا تھا
04:43اس کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا
04:51یہ سب کیا ہے؟
04:52یہاں خون سے کس نے لکھا ہے؟
04:54موسیقا