Skip to playerSkip to main content
For thousands of years, the Great Pyramids of Egypt have stood as one of the greatest mysteries of the ancient world. But how were these enormous structures actually built without modern cranes, engines, or advanced machinery?

In this video, we travel back more than 4,500 years to explore the incredible story behind the construction of the Great Pyramid of Giza. How were millions of massive limestone blocks quarried, transported, lifted, and precisely placed? What role did ramps, sledges, ropes, manpower, and ancient engineering play? And why does the precision of the pyramid continue to amaze researchers even today?

We will also explore the workers who built these monuments, the mysterious construction techniques used by the ancient Egyptians, the massive stones transported from distant locations, and the ancient technology that made one of humanity's greatest architectural achievements possible.

But perhaps the biggest question is this: Were the pyramids simply enormous tombs, or were they designed with a deeper purpose that we still don't fully understand?

From the engineering of the Great Pyramid to the mysteries surrounding its alignment, chambers, construction methods, and ancient Egyptian civilization, this documentary takes you deep into one of history's most fascinating mysteries.

Watch until the end and decide for yourself: How did the ancient Egyptians really build the pyramids?

👍 If you enjoyed the video, LIKE it and SUBSCRIBE to the channel for more mysterious stories, ancient civilizations, hidden history, archaeology, and unexplained discoveries.

🔔 SUBSCRIBE and turn on notifications so you don't miss the next mystery!

Topics Covered:
* Great Pyramid of Giza
* Ancient Egyptian Civilization
* How the Pyramids Were Built
* Pyramid Construction Techniques
* Ancient Egyptian Engineering
* Limestone & Granite Blocks
* Ancient Ramps & Sledges
* Pyramid Workers
* Mysteries of Ancient Egypt
* 4,500-Year-Old Engineering
* Unsolved Historical Mysteries



#greatpyramid #pyramidsofegypt #ancientegypt #pyramidmystery #egypt #ancientcivilizations #imtinanahmad #pakistan #india #bangladesh

Category

🗞
News
Transcript
00:00دنیا میں ایسی بہت سی پورے سرار جگہ ہیں کہ جہاں پر تاریخ کے عظیم واقعات تو ہوئے لیکن آج
00:07تک ان کے جواب ہمارے سامنے پوری طرح نہیں آسکے
00:11مارڈرن سائنس نے دنیا کے بہت سی مسٹریز کو تو سالف کر دیا لیکن کچھ پزلز آج بھی انسانی سمجھ
00:18کے باہر نظر آتی ہیں
00:20اور ان میں سے ایک ہے ایجپٹ کے تپتے ہوئے سہرہ میں کھڑی گریٹ پیرمیڈ آف گیزہ
00:27ہزاروں سال تک آندھیوں گرد اور بدلتے ہوئی سیولیزیشنز کا سامنا کرنے کے باوجود یہ عظیم امارت آج بھی اپنی
00:36جگہ کھڑی ہے
00:38لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مارڈرن ٹیکنالوجی اور سائنٹیفک ریسرچ آگے بڑھتی رہی ہے
00:45گریٹ پیرمیڈ کی مسٹری سالف ہونے کی بجائے مزید کامپلیکیٹڈ ہوتی جا رہی ہے
00:52آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے جب انسان کے پاس مارڈرن ٹرینز یا ہیوی کنسٹرکشن مشینز تک نہیں
01:01تھی
01:01تو پھر اتنے لاکھوں پتھروں کو اتنی accuracy کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر کیسے کھڑا کیا گیا ہے
01:10اور اگر ancient Egyptians کے پاس اتنی advanced planning تھی تو انہیں اتنی perfect geometry, astronomy اور directions کا علم
01:19کہاں سے ملا؟
01:20کیا گریٹ پیرمیڈ واقعی صرف ایک قبر تھی یا اس کے پیچھے کوئی ایسا مقصد چھپا تھا جسے شاید آج
01:29تک ہم نہیں سمجھ سکے
01:31یا بہت سے لوگ جو اسے قومِ آدھ اور قومِ سمود کے ساتھ جوڑتے ہیں کیا وہ بیانیاں سچ ہیں؟
01:39کہانی کیا ہے؟ آئیے سمجھتے ہیں
01:49تاریخ کے مطابق یہ عظیم امارات تقریباً پچیس سو ساٹھ بیسی میں فیرون مصر کوفو کے دور میں تعمیر ہوئیں
01:58کوفو جو کہ فوتھ ڈائنسٹی کا فیرون تھا اس کے حکومت کے بارے میں تاریخ دان مختلف دعویٰ کرتے ہیں
02:05کوئی اس کو تئیس سال کا کہتا ہے اور کوئی ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ بتاتا ہے
02:10گیزہ کے پلیٹو پر صرف ایک نہیں بلکہ تین عظیم احرامات لائن سے کھڑے ہیں
02:17سب سے پہلا ہے The Great Pyramid of Giza یعنی بادشاہ کوفو کا مقبرہ جو سب سے بڑا اور سب
02:25سے بلند ہے
02:26دوسرا ہے Pyramid of Khafre یعنی کوفو کے بیٹے کا پیرمیڈ اور تیسرا ہے اس کے پوتے کا پیرمیڈ یعنی
02:34Pyramid of Menkore
02:36اس کے اردگرد ایک سو اٹھارہ سے زیادہ احرامات اور بھی ہیں جنہیں کوئین احرامات کہا جاتا ہے اور اس
02:44کے ساتھ پھیلا ہوا ہے
02:45The Great Sphinx
02:47لیکن ان پتھروں کے پہاڑوں کو کھڑا کرنے کا اصل مقصد تھا کیا؟ کیوں ایک بادشاہ نے اپنی پوری ریاست
02:56کی دولت ایک پہاڑ کے اوپر دھیر کر دی؟
02:59قدیم مصریوں کا عقیدہ تھا کہ موت کے بعد زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ روح انڈر ورلڈ میں جاتی ہے
03:07اگر بادشاہ کے جسم کو ممیفائے کر کے اسے محفوظ کر دیا جائے اور اس کے ساتھ دنیا بھر کی
03:13دولت، سونا، ہیرے، جواہرات، کھانا، پینا، کپڑے اور ہتھیار رکھ دیے جائیں
03:19تو جب آخرت میں وہ جاگے گا تو ہمیشہ کے لیے دیوتا بن کر حکومت کرے گا
03:25اسی مقصد کے لیے ان عظیم مقبروں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا
03:30لیکن جب انیسویں صدی میں مارڈرن آرکیولوجس اس پیرامٹ کے اندر داخل ہوئے
03:36تو حیرت انگیز طور پر وہاں کوئی خزانہ نہیں ملا
03:40صرف ایک خالی پتھر کے صندوق ملے
03:43اور یہی سے شروع ہوتی ہے دنیا کی عجیب و غریب کانسپیریسی تھیوریز
03:48کوئی کہتا ہے کہ یہ بجلی بنانے کا انشینٹ پاور پلانٹ تھا
03:53کوئی اسے مندر کی دیوار پر بنی ہوئی تصویروں کو لائٹ بلب سمجھ بیٹھتا ہے
03:58اور کوئی کہتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے اناج کا سٹور ہاؤس تھا
04:03تو کچھ لوگ اس کا credit سیدھا aliens کو دیتے ہیں
04:08جب انسان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی
04:10تو وہ ایسی ہی منگھڑت کہانیاں سنتا ہے اور بناتا ہے
04:14تاکہ اس کو تسلیم مل سکے
04:17حقیقت یہ ہے کہ یہ خزانہ صدیوں پہلے چور ڈاکو لے کر نکل گئے
04:23اور یہ امارات محض ایک بادشاہ کی انہ اور اس کی آخرت کے وہم کا نتیجہ بن کر رہ گئی
04:31great pyramid کوئی alien power plant نہیں
04:34بلکہ فیرونی دور کے اس عقیدے کی اکاسی کرتا ہے
04:38کہ جہاں موت کے بعد حکومت کرنے کا خواب دیکھا جاتا تھا
04:43آپ نے فلموں میں اور پرانی کتابوں میں دیکھا ہوگا
04:46کہ ہزاروں مزدور زنجیروں میں جکڑے ہوئے کوڑے کھاتے ہوئے
04:51ان پتھروں کو کھینچ کر لے جارے ہیں
04:535th century BC کے یونانی ریسرچر
04:56ہیرارڈیٹس نے سب سے پہلے یہ جھوٹی کہانی دنیا کے سامنے پیش کی
05:01لیکن جدید آرکیالوجی نے اس کہانی کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کر دیا ہے
05:08کھدائی کے دوران پیرمیڈز کے قلیب عظیم ورکلز کے ویلیجز ملے
05:13یہ لوگ غلام نہیں بلکہ ہائیلی سکلڈ اور ہائیلی پیڈ کرافٹسمن ہوا کرتے تھے
05:19انہیں ہائی پرٹین خورات، تازہ گوشت، روٹی اور دیسی بیئر میسر تھی
05:25شہر کے عام شہریوں سے بہتر خورات ان مزدوروں کو ملا کرتی تھی
05:30یعنی تقریباً بیس ہزار سے تیس ہزار لوگ روزانہ دس گھنٹے
05:35اس پروجیکٹ پر باقاعدہ اجرت پر کام کیا کرتے تھے
05:42اگر آپ پاکستان سے باہر رہتے ہیں
05:44چاہے بہرین میں، یوکے میں، یورپ میں، امریکہ میں، آسٹریلیا میں
05:49یا پھر کیرادہ میں ہو اور پاکستان میں اپنے گھرواڑوں کو پیسے بھیجنا چاہتے ہیں
05:53تو تاب تاب سن ایک بہترین ملی ٹرانسور کی ایپ ہے
05:57جہاں آپ صرف ایک تاب پر اپنے پیاروں کو پیسے بھیج سکتے ہیں
06:02اور تاب تاب سن کی ایک بڑی خوش خبری کہ اب سے تاب تاب سن بہرین میں بھی آویلیبل ہے
06:08اور اگر آپ بہرین میں رہتے ہیں
06:10تو آپ بغیر ٹرانسور فی کے پاکستان میں اپنے گھرواڑوں کو پیسے بھیج سکتے ہیں
06:15اور بہرین سے پہلی بار تاب تاب سن استعمال کر رہے ہیں
06:19تو میرا پرومو کورڈ امتنان ضرور استعمال کریں
06:22کیونکہ یہ استعمال کرنے سے آپ کو فری بیڈی فائف کا بونس بھی مل سکتا ہے
06:28تاب تاب سن کی خاص بات یہ ہے
06:31کہ یہ ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے اور ریکوائیڈ منیم اماؤنٹ ٹرانسور کرنے کے بعد
06:35آپ کو ٹرانسور چارجز سے بھی فائدہ مل سکتا ہے
06:39تاب تاب سن سے بھیجی ہوئی رکم
06:41آپ کے گھر والوں کو بینک ٹرانسور
06:44کیش پیک اپ
06:45جاز کیش
06:45اور ایزی پیسہ کے ذریعے بھی وصول ہو جاتی ہے
06:48اور وہ بھی بہترین ایکسچینج ریٹس پر
06:52سو اپنے پیسے بچانا شروع کریں
06:54تاب تاب سن ڈاؤنلوڈ کریں
06:57اب ذرا مٹیریل کی تفصیلات دیکھیں
06:59تقریباً پچپن لاکھ ٹن لائم سٹون
07:02یعنی چونہ پتھر
07:03آٹھ ہزار ٹن
07:05ایسفہان گرینائٹ
07:06جو آٹھ سو کلومیٹر دور ایسفہان سے لایا گیا
07:10اور پانچ لاکھ ٹن موٹر استعمال ہوا
07:13اس دور میں سٹیل یا لوہا موجود نہیں تھا
07:17تو مصری صرف کوپر
07:19یعنی تابے کا استعمال کرتے تھے
07:21اور آزار کے لیے اسے استعمال کیا جاتا تھا
07:24سخت پتھر توڑنے کے لیے
07:26وہ ڈیلیرویٹ کا استعمال کرتے تھے
07:28شگافوں میں لکڑی کے کیل ٹھوکے جاتے تھے
07:32پھر ان پر پانی ڈالا جاتا تھا
07:34لکڑی پھولتی تھی
07:35تو لاکھوں ٹن کے پتھر لائن سے ٹوٹ جاتے تھے
07:39اور پھر ان پتھروں کو
07:41دریائیں نیل کے ذریعے
07:42لکڑی کی بڑی کشتیوں پر یہ پتھر لائے گئے
07:45مگر سوکھی ریت پر
07:47ڈھائی ٹن سے اسی ٹن کے پتھر کو گھسیٹنا
07:50یہ ناممکن تھا
07:52یہاں مصریوں نے
07:53فیزکس کے ایک حیرت انگیز فارملے کا استعمال کیا
07:57دوہزار چودہ میں
07:58ایمسٹرڈائم یونیورسٹی کے فیزیسس نے
08:01جہوٹے ہٹیب کے مقبرے کی ایک پینٹنگ پر ریسرچ کی
08:05جہاں ایک شخص
08:06لکڑی کے سلیج کو
08:08آگے ریت پر پانی ڈالتے ہوئے نظر آتا ہے
08:11سائنس نے ثابت کیا
08:13کہ اگر ریت پر دو سے پانچ پیسنٹ پانی ڈال دیا جائے
08:17تو فرکشن آدھی رہ جاتی ہے
08:19یعنی آدھے مزدور
08:21ڈبل وزن آسانی سے کھینچ سکتے تھے
08:25گیلی ریت کے ذرات
08:26آپس میں جڑ کر
08:28فلوسیٹک کیپلری بریج بناتے ہیں
08:30جس سے بھاری سلیجز
08:32سرفیس پر بینا پھسے
08:33آگے سلائٹ کرتے ہیں
08:36زمین پر پتھر گھسیٹنا ایک بات تھی
08:38مگر اسی ٹن کے عظیم گرینائیڈ بلوک کو
08:41سو میٹر کی بلندی پر چڑھانا
08:44یہ کیسے ممکن ہوا
08:45دوہزار پندرہ میں آرکیالوجس کو
08:48ہٹنب کے قریب کانوں میں
08:50چار ہزار پانچ سو سال پرانا
08:52ایک عظیم رامپ سسٹم ملا
08:54ڈھلان کے دونوں طرف
08:56لکڑی کے کھمبوں کے ارد گرد
08:59رسیاں لپیٹ کر
09:00ایک پولی ایفیکٹ بنایا جاتا تھا
09:02جس سے ڈھلان پر بھاری وزن
09:05اوپر چڑھانا آسان ہو جاتا تھا
09:07اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے
09:09لیور سسٹم کا بھی استعمال کیا
09:11جہاں لکڑی کے ڈنڈے پر وزن ڈال کر
09:14پتھر کو سٹیپ با سٹیپ
09:15اگلی سیڑھی پر اٹھا لیا جاتا تھا
09:18لیکن یہاں پر
09:19سائنس ایک بہت بڑی غلطی کرتی ہے
09:22جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں
09:25تاریخ کے مطابق
09:26گریٹ پیرامیڈ
09:27صرف بیس سال میں بنا
09:29اب ذرا بیسک حساب لگا لیں
09:31اس پیرامیڈ میں
09:32کل تئیس لاک پتھر لگائے گئے ہیں
09:35یعنی اگر مزدور
09:36سال کے تین سو پینسٹھ دن
09:38روزانہ دس گھنٹے کام کریں
09:41تب بھی ہر تین منٹ میں
09:43ڈھائی ٹن کے پتھر کو
09:45اپنی جگہ فٹ کرنا پڑے گا
09:47کیا اس دور میں
09:48اتنی تیز رفتاری ممکن تھی
09:51یہاں وہ سوال ہے
09:52جو موڈرن سیول انجنیرز کو بھی
09:55حیرت میں ڈال دیتا ہے
09:57پر یہاں پر ایک چیز آپ نے
09:59یاد رکھنی ہے
10:00کہ جو پیرامیڈ آج آپ دیکھتے
10:02وہ صرف ایک دھانچہ
10:03اور ایک سٹرکچر ہے
10:05ساڑھے چار ہزار سال پہلے
10:07اس پر پالشڈ وائٹ ٹورا
10:09لائم سٹون کی چمکدار تیہ
10:12چڑھی ہوئی تھی
10:13اور سورج کی روشنی میں
10:14یہ سہرہ کے درمیان
10:16کسی ہیرے کی طرح چمکتا تھا
10:18اس کے درمیان جو موڈر لگا ہے
10:21سائنٹس نے اس کی کیمسٹری تو سمجھ لی
10:24مگر آج تک لیبورٹری میں
10:26اس جیسی مضبوطی
10:28دوبارہ نہیں بن سکی
10:29اسی لیے ہزاروں سال کے زلزلے بھی
10:32اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے
10:35موڈر کی کیمیکل کامپوزیشن
10:37اور تین منٹ کے اندر
10:39ایک بلوک اپنی جگہ پر فٹ کرنا
10:42یہ جو ٹائم لائن ہے
10:44یہ آج بھی انسانی تاریخ میں
10:46کسی سیول انجنئرنگ میریکل سے کم نہیں
10:49اب اگر آپ کو یہ لگتا ہے
10:51کہ یہ پتھر کو دھیر کرنے کا کام تھا
10:53اور اس کے علاوہ کچھ نہیں
10:54تو ذرا اس کی جوومیٹری پر غور کریں
10:57گریٹ پیرمیٹ کی چاروں دیواریں
10:59دنیا کی چار بیسک ڈیریکشنز
11:01نورت ساؤت ایسٹ ویسٹ کے ساتھ
11:04بلکل ٹھیک لائن میں ہیں
11:06اس میں غلطی کا جو امکان ہے
11:08وہ ون بائی ففٹینٹ ہیں
11:10یعنی ایک ایسی پرفیکشن
11:12جو آج لیزر اور جی پی ایس کے بغیر
11:15ممکن نہیں
11:16ریسرچرز کے مطابق
11:18انہوں نے آٹم ایکوین آکس کے دن
11:21سورج کا سیدھا سایا
11:23یعنی سورج کے شیڈو کا مشاہدہ کر کے
11:26یہ لا جواب سمت نکالی
11:29انیس سو اناسی میں
11:30راورٹ باول نے
11:31مشہور اورائن کوریلیشن تھیوری پیش کی تھی
11:34جس کے مطابق گیزہ کے تینوں احرامات
11:37آسمان کی اورائن کانسٹیلیشن کے
11:40تین ستاروں کی ترتیب پر بنائے گئے تھے
11:43مصری لوگ ایسٹرانومی میں ماہر تھے
11:46کیونکہ ان کی کھیتی باڑی دریائے نیل کے سیلاب
11:49اور ستاروں کی حرکت پر چلتی تھی
11:52اگرچہ وقت کے ساتھ ستاروں کی جگہ
11:54تھوڑی بدل چکی ہے
11:56مگر یہ ثابت کرتا ہے
11:58کہ قدیم مصری آسمان اور زمین کے درمیان
12:02گہرا رابطہ قائم کرنا چاہتے تھے
12:05اب یہاں پر آپ نے ایک بات نوٹ کرنی ہے
12:07جب انسانی ذہن
12:09کسی مشکل سوال کا جواب نہیں دے پاتا
12:11تو وہ شارٹ کٹس ڈھونٹا ہے
12:13لوگ ایلینز کا نام لیتے
12:15مگر حقیقت یہ ہے
12:16کہ یہ امارتیں انسانی ذہن
12:19بے پناہ محنت
12:20اور ریاستی نظام کا ثبوت ہے
12:23مگر یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے
12:26جو اکثر لوگ پوچھتے ہیں
12:27جب اتنے بھاری پتھر اٹھانا
12:30عام انسان کے بس کی بات نہیں لگتی
12:33تو کیا یہ واقعی
12:34کسی ایسی قوم نے بنائے تھے
12:37جو جسم میں
12:38عام انسان سے کہیں زیادہ
12:40طاقتور اور لمبی تھی
12:42کیا اسلام اس بارے میں
12:44کوئی واضح دلیل دیتا ہے
12:45اب اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے
12:48پہلے اسے سمجھتے ہیں
12:49احرام مصر
12:51کسی جادو یا مخفی قوت کا نتیجہ نہیں تھے
12:54بلکہ قدیم انسان کے جومیٹرکل علم
12:57اور دریائے نیل کے نظام کا
13:00بہترین استعمال کا نتیجہ تھے
13:03اکثر انٹرنیٹ پر
13:04کومن ڈسکشن نے
13:06یہ غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے
13:08کہ شاید یہ پیرمیڈز
13:10قوم آدھ کے جائنٹس نے بنائے تھے
13:12کیونکہ وہ پہاڑوں جیسی قد و قامت رکھتے تھے
13:16لیکن اگر آپ
13:17قرآن مجید کا
13:18اور مستند اسلامی تاریخ کا
13:21مطالعہ کرتے ہیں
13:22تو حقیقت صاف آپ کے سامنے
13:24واضح ہو جاتی ہے
13:25نمبر ایک
13:26قرآن پاک کے مطابق
13:28قوم آدھ احکاف
13:30یعنی یمن اور امان کے درمیان
13:32رب الخالی کے شہر میں آباد تھی
13:35مصر میں نہیں
13:36ان کی عظیم بستی ارن تھی
13:38جسے عظیم ستونوں کا شہر
13:41کہا جاتا تھا
13:42نمبر دو
13:43قرآن تینوں قوموں کو
13:44الگ الگ بیان کرتا ہے
13:46آد یعنی ارم والے
13:48سمود
13:49جنہوں نے وادی میں پہاڑ تراشے
13:51اور فیرون
13:52جو محکون
13:53یعنی پیرمیڈ سٹیکس والے تھے
13:55یعنی قرآن نے
13:57فیرون کو
13:58ذل اعتاد
13:59محکون والے کہا ہے
14:01جو زمین میں گاڑھے گئے
14:03احرامات کی طرف
14:04اشارہ ہے
14:05یعنی یہ امارتیں
14:06مصر کے فیرونی دور کے باکشاہوں
14:08اور ان کے مزدوروں
14:10نے ہی بنائی تھی
14:11احرام مصر کی تعمیر کی کہانی
14:14تو آپ نے سمجھ لی
14:15وہ احرام
14:16کہ جس میں بہت سی
14:17ممیز ڈسکور ہوتی ہیں
14:19وہی ایک ممی کے ساتھ
14:21The Book of the Dead
14:22بھی ڈسکور ہوئی
14:23کہ جس کے اکلٹ میں
14:24اور انٹرنیٹ کی دنیا میں
14:26بہت سی چرچے ہیں
14:28اور وہ کہانی
14:29ابھی باقی ہے

Recommended