- 5 hours ago
Special Documentary On Lady Diana
Category
🗞
NewsTranscript
02:31The entire press pack of the world descended on London.
05:20ڈائینا
05:22ڈائینا اور 32 سالہ چارلز کو کہیں ملی
05:24اور چارلز نے دیکھا کہ یہ معصوم سی لڑکی ہے
05:28ان کے اوپر بہت پریشر تھا
05:30اپنی والدہ ملکہ الیزبت کی طرف سے
05:32اپنے والد پرنس فلب کی طرف سے
05:34کہ آپ شادی کریں کیونکہ آپ ولی عہد ہیں
05:36انہوں نے دیکھا ایک معصوم سی لڑکی ہے
05:39دنیا نہیں دیکھی اس نے
05:40اور اس میں خود اعتمادی نہیں
05:42تو اس کو جس طرح چاہوں گا
05:44ڈھال لوں گا
05:45اور یہ سوچ کے چارلز نے
05:47ڈائینا کو پروپوز کر دیا
05:55ڈائینا نے کسی کو بعد میں کہا
05:57کہ دس بارہ دفعہ کی ملاقات کے بعد
05:59میں نے پرنس چارلز کو ہان کر دی
06:02لیکن دل میں ڈاؤٹ رہا
06:05انہیں معلوم تھا
06:06کہ پرنس چارلز کی ایک دہرینہ دوست
06:08کمیلا پاکر بولز بازو میں ہی ہے
06:10پرنس چارلز ان سے شادی نہ کر سکے
06:12کیونکہ وہ ایک ڈیووسی تھی
06:20آخری وقت تک
06:21ڈائینا کے دل میں ڈاؤٹ رہا
06:23اپنی بہنوں سے ڈھارس لینے کی کوشش کی
06:25کہا میں کروں نہ کروں
06:27انہوں نے کہا اب بہت دیر ہو چکی
06:29اب تمہیں شادی کرنی پڑے گی
06:44کہتی ہیں بعد میں
06:45کہ جس دن میری شادی تھی
06:47مجھے معلوم تھا
06:48کہ میں قربانی کا بکرا بن رہی
06:50آئی وز ای لیمڈ تو دی سلوٹر
06:55بلاخر شادی تو ہو گئی
06:57اور شادی کے فوراں بعد
06:58انہوں نے پرنس چارلز کے ساتھ
07:00اپنی ایک زندگی شروع کر دی
07:01بعد میں پتا چلا کہ
07:03ہنیمون بھی ایک نہایت
07:05افسردہ وقت تھا
07:06کیونکہ پرنس چارلز
07:08کمیلا پاکر بولز
07:09اپنی پرانی دوست کے ساتھ
07:11رابطے میں رہے
07:12اور ڈائینا جا کے
07:13اپنی کیبن میں رویا کرتی تھی
07:23ہر کہانی کے دو پہلو ہوتے ہیں
07:25اور پرنس چارلز کا پس منظر یہ ہے
07:27کہ خرابی تب پیدا ہوئی
07:29جب انہوں نے محسوس کیا
07:31کہ ڈائینا اتنی ڈائمیجڈ ہیں
07:33اتنی ڈپریسٹ ہیں
07:34اتنی دکھی بچی تھی
07:36کہ اس کے ساتھ کچھ ہو نہیں سکتا تھا
07:38انہوں نے کہا
07:39کہ میں نے بڑی کوشش کی
07:40لیکن ان کے اندر جو شکی طبیعت تھی
07:43جو ان کے اندر ایک ڈپریشن تھی
07:44وہ بہت گہری تھی
07:45ڈائینا کا کہنا یہ تھا
07:47کہ مجھے صرف سمپتھی کی ضرورت تھی
07:49مجھے چاہیے تھا کوئی
07:51جو کہ میرے ساتھ
07:52ایک بڑے کا کردار ادا کرتا
07:54جو میری سنتا
07:55جو میری مدد کرتا
08:07جب ڈائینا کو پرنس ویلیم ہونے والے ہوئے
08:10تو ان کی ڈپریشن بہت زیادہ
08:12اکیوٹ ہو گئی
08:13انہوں نے ایک دن خودکشی کرنے کی کوشش کی
08:16اور اپنے آپ کو سیڑیوں سے چلا مارا
08:19نیچے پتا تھا اس کو
08:21کہ وہ حاملہ ہے
08:22لیکن اتنی ڈیسپریٹ تھی
08:24کہ پھر بھی اس نے سویسائیڈ کی کوشش کی
08:43ڈائینا نے ملکہ بڑھانیا اپنی ساس کو
08:46اپنی دکھ پری کہانی سنائی
08:47لیکن ملکہ بڑھانیا کچھ نہ کر سکیں
08:49انہوں نے کہا گزارا کرو
08:52ہم تو جانتے ہیں اس فکرے کو
08:54کتنی بہوں ہیں کتنی بیٹھیوں کو
08:56ہمارے معاشرے میں بھی کہا جاتا ہے
08:58گزارا کرو گزارا کرو
09:04in england it's a boy
09:06seven pounds one ounce
09:08no name yet
09:09but that country is jumping
09:13may we see your son
09:15your royal highness
09:2221 june 1982 کو
09:25princess ڈائینا اور
09:26prince charles کا پہلا بیٹا
09:28prince william پیدا ہوا
09:29اور ڈائینا نے یہ اہد کیا
09:32کہ میں اب نئی زندگی شروع کروں گی
09:34لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہ سکا
09:36prince charles اور ڈائینا کے درمیان
09:39جو خلیج تھا وہ بڑھتا چلا گیا
09:41اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی
09:43کہ ڈائینا کی جو نفسیاتی بیماری تھی
09:45یعنی کہ بولیمیا
09:46اس کا علاج نہ ہو پایا
09:48کیونکہ ڈائینا کسی کو اس کے بارے میں
09:50بتا نہ پائی
09:51صرف چارles کو پتا تھا
09:52اور انہوں نے کسی کو نہیں بتایا
09:54تین ڈائینا کی دعوتی
09:55ہم یا دیوست کچھانے کے بارے میں
10:08the press it grew into this monster
10:17people were wanting to see every intimate private moment
10:22it's an endless life of having to be on best behavior
10:28watching what you say being politically correct
10:31پہلے بیٹے پرنس ویلیم کی پیدائش کے بعد
10:34اور دوسرے بیٹے پرنس ہیری کی پیدائش تک
10:37انیس سو چوراسی دو سالوں میں
10:39ڈائیانا نے پانچ اپنے آپ کے اوپر خودکوشی کے کوششیں کی
10:43اور اس کے بارے میں شاہی خاندان کو معلوم تھا
10:46لیکن پھر بھی کسی نے ڈائیانا کے لیے
10:49علاج کا انتظام نہیں کیا
10:51آخر کار
10:52ڈائیانا کی بیسٹ فرنڈ ایک دن اس کو اپنے گھر لے گئی
10:56اور وہاں جا کے بٹھا کے کہا
10:58کہ ابھی اسی وقت
11:00اس نفسیاتی ڈاکٹر کو فون کرو
11:02اور اپنے لیے اپوائنٹمنٹ لو
11:04اور علاج شروع کرو
11:05نہیں تو میں باہر جا کے پریس کو بتا دوں گی
11:08کہ تم نفسیاتی مریض ہو
11:10اور تم اپنے آپ کو پانچ دفعہ
11:12مارنے کی کوشش کر چکی ہو
11:20ڈائیانا نے ریگولرلی ڈاکٹر کے پاس جانا شروع کیا
11:23ساتھ ساتھ ایکسرسائز بھی کرتی رہی
11:25یہ ایک اچھا دور تھا ڈائیانا کے لیے
11:27اور چارلز اور ڈائیانا کی آپس میں قربت بھی ہو گئی
11:30اسی دوران وہ پھر اپنے دوسرے بچے کی حاملہ ہو گئی
11:341984 میں پرنس ہیری پیدا ہوئے
11:59جیسے ہی ہری پیدا ہوئے
12:01تو ڈائیانا اور پرنس چارلز کے درمیان
12:03پھر وہی خلیج سامنے آ گیا
12:05کیونکہ چارلز کو شوق تھا کہ بیٹی ہو
12:08اور ڈائیانا کہتی تھی جو بھی ہو
12:10بس صحت مند ہو
12:12جس دن ہیری پیدا ہوا
12:14تو پرنس چارلز نے کہا
12:15افسوس کہ یہ بیٹی نہیں
12:17اور ڈائیانا اتنی حساس تھی
12:19کہ اس چیز کو اس نے دل سے لگا لیا
12:21پھر پرنس چارلز نے کہا
12:22اوہو اس کے تو لال بال ہیں
12:24تمہارے خاندان کی طرح
12:26ہمارے خاندان پہ یہ نہیں گیا
12:28اس چیز کو بھی ڈائیانا نے دل پہ لگا لیا
12:30جو اس قسم کا نفسیاتی مریض ہوتا ہے
12:32وہ چھوٹی چھوٹی بات
12:34لے کے بیٹھ جاتا ہے
12:49اور اب
12:50ڈائیانا کی واپسی
12:52ڈائیانا نے یہ فیصلہ کر لیا
12:54کہ وہ لوگ
12:56جنہوں نے میرے ساتھ بے روخی برتائی
12:58جنہوں نے میری ایک نہ سنی یہ
13:00برطانیہ کا شاہ خاندان
13:01اس کو میں دکھاؤں گی
13:03اور دکھایا
13:12ایک صحافی ہیں
13:13جو انکشافات پر ببنی کتابیں لکھتے تھے
13:16اینڈرو موٹن نامی
13:18ڈائیانا کے ایک دوست کے وہ واقف تھے
13:20ڈائیانا نے ان کے ساتھ رابطہ کیا
13:22اور کہا
13:23کہ میں اپنی زبان سے تو نہیں کہہ سکتی
13:25لیکن مجھے آپ سوالات لکھ کے دیں
13:27اور میں آپ کو ایک ریکارڈنگ دوں گی
13:29اس کو آپ transcribe کر کے
13:31ایک بس سلیگ بک بنائیے گا
13:33ڈائیانا کی کہانی
13:34ڈائیانا کی زبانی
13:38an explosive book called
13:40ڈائیانا
13:40her true story
13:41published that june
13:42made scandalous charges
13:44about the prince and princess of wales
13:46the book said diana
13:47had tried to commit suicide
13:49several times
13:50that she'd suffer from bulimia
13:52and that diana and charles
13:54both miserable in their marriage
13:55had both turned to others for love
13:58clearly the prince and princess
14:00were living unhappily ever after
14:02کتاب شائع ہونے کے فوراں بعد
14:05دنیا میں ایک شور برپا ہو گیا
14:06ساری دنیا کو پتا چل گیا
14:08کہ ڈائیانا اور
14:09پرنس چارلز کی زندگی
14:10کتنی کھوکلی ہے
14:11اور برطانوی شاہی خاندان
14:13نے یہ پوری
14:14کھوج لگانے کی کوشش کی
14:15کہ ڈائیانا کا
14:17اس کتاب کے شائع ہونے میں
14:18کتنا حصہ تھا
14:19بار بار ڈائیانا کو پوچھا
14:20ڈائیانا ٹس سے مس نہیں ہوئی
14:22بتایا نہیں
14:23کہ ایکچلی انہوں نے ہی
14:25یہ کتاب شائع کروائی
14:26اور کہتی رہی
14:27میرا تو کوئی تعلق ہی نہیں
14:29مجھے تو پتا ہی نہیں
14:30اور سوچا ہوگا
14:31کہ بچو
14:32جیسی تم کر سکتے ہو
14:34ویسی میں بھی کر سکتی ہوں
14:35تو یہ گیم آن ہو گئی
14:43پرنس چارلز اور ڈائیانا
14:44باہر کی ٹوز پہ گئے
14:45برطانیہ کے اندر بھی
14:47ان کو اکٹھے سفر کرنا پڑا
14:48اور ان کی الیدگی
14:50واضح سے واضح ہوتی چلی گئی
14:51جب تک
14:52ان کی ساس
14:54ملکہ برطانیہ نے ڈائیانا کو
14:55اور چارلز کو بلایا
14:57اپنے پاس اور کہا دیکھو
14:59دنیا کو نظر آ گیا ہے
15:01اور ہم سب کو پتا ہے
15:02کہ تمہارا اب آپس میں گزارا نہیں
15:03بہتر ہے
15:05کہ تم دونوں الہدگی اختیار کر لو
15:07اور پھر وہ دن آیا
15:08جب برٹن کے وزیر آزم
15:10اس وقت جان میجر تھے
15:12انہوں نے پارلیمان میں کھڑے ہو کے کہا
15:27انڈرو موٹن کی کتاب میں بہت سے انکشافات ہیں
15:30ان میں ایک یہ بھی انکشاف ہے
15:32کہ ڈائیانا کے سسرال میں سب سے زیادہ تکلیف دے
15:36ان کی ریلیشنشپ کس کے ساتھ تھی
15:37ڈائیانا کے کیس میں ان کے سسر کے ساتھ ان کی کبھی نہیں بن پائی
15:49اور میں نے سسر کو ایک دفعہ یہاں پر
15:521992 میں پاکستان آنے پر انٹرویو کیا
15:55جو میرا اپنا ایکسپیرینس تھا
15:57پرنس فلپ یعنی کہ ڈیوکو ویڈنبرہ کے ساتھ
16:00اس سے مجھے ظاہر ہوا
16:01کہ ڈائیانا شاید سچی ہی تھی
16:03وہ بہت سختگیر انسان تھے
16:05میں انٹرویو کے لیے آئی
16:07میں سٹوڈیو میں بیٹھی
16:08سب کچھ سیٹ ہوا
16:10اس کے بعد پرنس فلپ کمرے میں آئے
16:11میں نے اٹھ کے پرنس فلپ کو کہا
16:15اسی وقت مجھے ایک چھینک آگئی
16:16میں نے اپنا ہاتھ آگے کیا
16:18اور انہوں نے فوراں کہا
16:19تمہیں چھینک آئی ہے
16:20اس کا مطلب ہے تمہیں فلو ہے
16:21تم مجھے بھی دے دوگی
16:22میرا تو وہیں موڈ آف ہو گیا
16:24میں نے کہا یا عجیب بڑھا ہے
16:26اس سے تو کوئی بات نہیں کرنے کا مزا آنا
16:28خیر انٹرویو کرنا تھا کر دیا
16:30انٹرویو روکھا سوکھا ہو گیا
16:32مجھے اندازہ ہو گیا
16:34اس انٹرویو کے دوران
16:35کہ یہ شخص جو ہے نا
16:37یہ بڑے اکھڑ مزاج آدمی ہے
16:38ڈائینا نے بھی
16:40اپنی انڈرو مورٹن کو
16:41آتھرائز بائیوگریفی میں یہی بتایا
16:43کہ بہت اکھڑ مزاج تھے
16:45اور جب ڈائینا اور چارلز کی
16:46الہدگی ہو رہی تھی
16:47تو پرنس فلپ نے اسرار کیا
16:49کہ ڈائینا کا جو ٹائٹل تھا
16:52یور رائل ہائنس
16:53یعنی کہ بہترین شہزادی
16:55وہ ڈائینا سے واپس لیا جائے گا
16:57طلاق اگر ہوئی تو
16:58اور ڈائینا نے اس موقع پہ
17:00فلپ کو کہا
17:00لیڈی ڈائینا سپنسر
17:02پانچ سو سال پرانے
17:04ورسے کے ساتھ شاہی خاندان میں آئی تھی
17:06اور پرنس فلپ
17:08ڈیوک و ویڈنبرہ
17:08صرف اسی دن بنے
17:10جب ستر سال پہلے
17:11ان کی شہزادی
17:12ایلیزبت سے شادی ہوئی
17:13ہی پہلے
17:15ڈیوک ویڈیوک ویڈیوک
17:20come very gripped very quickly by her causes. She always said to me that she thought of
17:26herself as an outsider, that these people were also outsiders and she had a bond with
17:35them. The idea that Diana was an outsider is, for me, quite hard to reconcile because
17:44she was everything that is the establishment in some ways. But emotionally, she felt that
17:51she was an outsider. And that's what attracted her to a range of organizations where people
17:59were on the wrong side, as it were. She resonated with suffering.
18:36AIDS کے لیے بہت سی تحقیقات کو بھی شروع کروایا
18:39ان کے علاوہ جو جنگ کے لوگ ہوتے تھے
18:42جو جنگوں میں رہتے تھے اور جنگوں کی وجہ سے سفر کرتے تھے
18:46ان کے پاس بھی ڈائینا جاتی تھی
18:55Mines کو ختم کرنے کے لیے ڈائینا نے جد و جہد کی
18:58یہ ساری چیزیں کر کے ڈائینا نے دنیا کو دکھایا
19:02کہ I'm not just a pretty face
19:05ڈائینا نے ہر جد و جہد میں حصہ لیا
19:08جس کی وجہ سے وہ نظر آئی
19:10کہ وہ بالکل متحرک اور توانہ ہو چکی تھی
19:13ساتھ ساتھ ڈائینا نے کہا
19:15کہ اگر میرا میاں اور عورتوں کے ساتھ دوستییں کر سکتا ہے
19:19تو میں بھی کر سکتی ہوں
19:20ڈائینا نے اور دوست بھی بنائے
19:22ڈائینا نے ایک دفعہ پھر اپنا دل کھولا
19:25اور رومانوی زندگی جو تھی وہ اختیار کرنی شروع کر دی
19:35موسیقی
19:36ڈائینا نوحانی موسیقی
19:37ڈائینا کی شباز اپنید
19:40ڈائینا بیٹا جدی
19:42ڈائینا ڈائینا
19:44ڈائینا بیٹا آنڈا
20:00ڈائینا Germany
20:03and in the world.
20:34And one thing that Diana had eaten, was that her family was so happy with her family.
20:42They were so happy with her, so happy with her, so happy with her.
20:46And with her cousins, that Diana had completely eaten.
20:57Vanity Fair interviewed Jemima Khan, a close friend of Diana's and the doctor,
21:02who said Diana was madly in love with Hasna Khan and wanted to marry him, even if that meant living
21:08in Pakistan.
21:48According to the article, Diana loved the normalcy of his life.
21:52A young heart surgeon from Pakistan who worked more than 90 hours a week and lived in a small one
21:58-bedroom apartment.
21:59When Hasna had not done Diana, she did not accept it.
22:04Diana, in 1996, in Lahore came.
22:07She made a statement that I went to the Fundraising of the Memorial Hospital for the Fundraising.
22:12She would say that she would be the one who had created a place where she had married in the
22:17origin of the family.
22:19She was accepted and the woman who had been to the fragment of the Mayans.
22:24She said that she had been given a place that had her own sin as well as something.
22:31She wanted to be the woman who had a good life for her.
22:34तुम एक शहजादी हो, जाओ और अपनी दुनिया में खुश रहो
22:441996 की डायना की लाहौर की ट्रिप पे मेरी प्रिंसेस डायना के साथ मुलाकात हुई
22:49फिर जमाइमा ने डायना के साथ सब की मुलाकात करवाई
22:53मैं भी डायना से मिली, डायना ने गुलाबी रंग की शलवार कमीज पहनी हुई थी
22:58एक हलका सा शिफान का डुपटा गले में डाला हुआ था और बिल्कुल कमफुर्टिबल एट इस थी लाहौर में
23:06तो रस्मी बाते होने शुरू हुई, आप कैसी हैं, आप कैसी हैं, आप क्या करती हैं, आप कहां से पड़ी
23:12लिखी वगएरा
23:12उसके बाद मुझे हैसास हुआ, कि इन्हों ने तो दिल की बात करनी ही नहीं, क्योंके इतने सारे लोग खड़े
23:18हैं
23:19तो मुझे ये भी पता चला, कि ये एक डिवोटिड माँ हैं, ये अपने बच्चों को बहुत शिदत से प्यार
23:25करती हैं, तो सहाफी होने के नाते सच तो निकालना था, और क्या चाबी होती है एक माँ के दिल
23:31को खोलने के लिए, उसकी उलाद का जिक्र, तो मैंने उनको कहा
23:35और मैंने सची बात की, कि आपको मालूम है कि आपका चोटा बेटा हैरी जो है, वो मुझे कितना प्यारा
23:42लगता है क्योंकि इसके लाल बाल है, तो फौरन पिगल गई, और कहने लगी, Oh, you think Harry sweet, isn't
23:50he sweet, isn't he a darling, मैंने का Yes, absolutely, and how can you bear to leave them, कि आप
23:56कैसे छोड़के आ आ जाती हैं, �
23:58How could we get through it?
24:00Then within somewhere I can start a whole
24:0420-25 minutes I can have a slate
24:07In being in my bed
24:07I can go out there
24:11in a sit-in bed
24:13on the chair
24:14He was a father and a child with his own.
24:17I was supposed to say that I had a beautiful place.
24:20He was saying that Islam was very beautiful.
24:21I want to read it!
24:26I wanted to think that I knew that I was a good one.
24:31After, Diana Dr. Hosnath Khan's parents could try to read it.
24:35Then, he tried to make it in his way.
24:37But he wanted to try to stay and stay.
24:40and they wanted to live their own way.
24:42So Diana, without a doubt,
24:45London's hands-on-one
24:46came back to the hospital.
24:57When Diana
24:58was convinced that
25:00Dr. Harsnath Khan
25:01didn't have to be able to
25:03not be able to
25:03get to the hospital.
25:04He told me that
25:06I was jealous of him.
25:08I can see that I can see my friends and then they will be able to see my friends and
25:15then they will be able to see my friends.
25:22In this way, there was another Muslim friend who was named Dodie Al-Fayed.
25:33Dodie Al-Fayed, Muhammad Al-Fayed کا بیٹا جو کہ بہت امیر آدمی تھا ملینئر تھا مصر سے اس کا
25:40تعلق تھا اور لندن کی سب سے مشہور دکان ہیرڈز کا مالک تھا.
25:481997 کا سامر ڈائیانا نے فیصلہ کیا کہ میں Dodie کے بہترین بحری جہاز پر یورپ کے سمندروں میں مناؤں
25:56گی
25:56اور ہمیں دونوں کو دیکھ کے دنیا کی ساری پریس، سارے ٹیلیویزن کرو اور پاپرازی وہاں جمع ہو جائیں گے
26:03اور یہ تصفیریں دنیا بھر میں شائع ہوں گی، دنیا دیکھے گی اور ڈاکٹر حسنات بھی دیکھیں گے
26:22اینڈرو مورٹن کے انکشافات کے بعد ڈائیانا کے بارے میں بات کرنا، آرٹیکل لکھنا، انٹیویو دینا ایک انڈسٹری بن گئی
26:29ڈائیانا کے دوستوں نے، ڈائیانا کے رشتہ داروں نے، یہاں تک کہ ڈائیانا کی بہنوں نے بھی ڈائیانا کے بارے
26:36میں باتیں کی، انٹیویوز دیئے، کتابیں لکھی اور مالا مال ہو گئے
26:41ڈائیانا نے کہا دنیا مجھے بیچائے گی، لیکن ایک شخص مجھے کبھی نہیں بیچے گا، وہ ہے ڈاکٹر حسنات خان
26:48ہمیں بڑے فخر سے کہنا چاہیے کہ حسنات نے وہی کیا جس کی ڈائیانا کو امید تھی، حسنات نے کبھی
26:55ڈائیانا کے بارے میں انٹیویو نہیں دیا
26:57Everybody sells me out, she told a friend the summer of her death.
27:00حسنات is the one person who will never sell me out.
27:07اور اب چلتے ہیں ڈائیانا کی آخری شام کی طرف, 31st August 1997
27:15پیریس ہے, ڈائیانا اور ڈوڈی اپنے یورٹ سے اتر کے پیریس میں آ چکے ہیں
27:19اور ڈوڈی کا اپنا ہوتیل The Ritz وہاں پر مقیم ہے
27:23شام کو دونوں نکلتے ہیں چور دروازے سے ہوتیل کے پیچھے سے
27:28تاکہ پاپراتسی اور صحافیوں کو آوائیڈ کر لیں
27:30اور ایک مسیڈیز میں جا بیٹھتے ہیں
27:32ان کو کیا پتا کہ ڈرائیور نے نشا کیا ہوا ہے
27:35ان کو کیا پتا کہ وہ اتنی تیز گاڑی چلائے گا
27:39کہ اپنے آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور ڈوڈی اور ڈائیانا کو بھی
28:00This is a Newsflash from National 9 News
28:03We interrupt this film to tell you we are getting reports that Diana, Princess of Wales
28:08has been badly injured in a car crash in France
28:11And the news out of Paris on the condition of Princess Diana is not good
28:15She is now officially reported as dead
28:18Who knows what fate will produce
28:20Who knows what circumstances will provoke
28:23Diana اور ڈوڈی کی ہلاکت کے فوراں بعد
28:26محمد الفائر ڈوڈی کے والد نے کئی سنگین الزامات لگائے
28:31ان میں سے ایک یہ تھا
28:32کہ برطانوی شاہی خاندان نے ڈوڈی اور ڈائیانا کو ایکسیڈ کروا کے مروا دیا
28:37لیکن پھر بریٹش گورنمنٹ نے ایک انکویسٹ بنائی
28:42یعنی کہ ایک انکوائری رکھی اور اس انکوائری کا کئی مہینوں کے بعد یہ نتیجہ نکلا
28:46کہ ڈرائیور نے نشا کیا ہوا تھا
28:48اور اس کو بالکل گاڑی نہیں اس وقت چلانی چاہیے تھی
28:51اس نے سپیڈنگ بھی کی اور نشے کی وجہ سے جا کے
28:55ٹنل کی اندر ایک پلر کے اندر گاڑی لگی اور الٹ گئی
28:59اور کریش میں ڈائیانا اور ڈوڈی مر گئے
29:01ڈوڈی تو فوراں ہی ہلاک ہو گیا
29:03لیکن ڈائیانا نے کچھ دیر کے بعد ایک پیریس کی ہسپتال میں دم توڑ دیا
29:16یہ بھیان خبر سن کے بریٹانی خاندان کو چاہیے تھا
29:20کہ فوراں کوئی رد عمل دیتے
29:21اور سمپتھی کا محبت کا کوئی اظہار کرتے
29:24لیکن انہوں نے نہیں کیا
29:25اور انہوں نے کافی دیر لگا دی
29:28یہاں تک کہ بریٹانیہ کے اس وقت کے وزیر آزم
29:30ٹونی بلیر کو کہنا پڑا
29:32کہ she was the people's princess
29:35وہ عوام کی شہزادی تھی
29:37خدارہ اس کو آج مون کر لو
29:40اس کو آج رو لو
29:41تو پھر ملکہ بریٹانیہ باہر نکلی
29:43پھر چارلز باہر نکلے
29:45بچوں کو لے کے باہر آئے
29:47جب تک وہ لندن پہنچے
29:48تو لندن میں اتنے لوگ عشق بار تھے
29:51دنیا بھر میں لوگ عشق بار تھے
29:53اور سارا لندن پھولوں سے سجا ہوا تھا
29:57کہ ڈائیانا کی میت واپس آئے گی
29:59اور ہم ڈائیانا کا ماتم کریں گے
30:02but that's why
30:10what i say to you now
30:12as your queen and as a grandmother
30:15i say from my heart
30:18first i want to pay tribute to diana myself
30:22she was an exceptional and gifted human being
30:26in good times and bad
30:28She never lost her capacity to smile and laugh.
31:25She never lost her face.
31:31She never lost her face.
31:59She never lost her face.
32:32She never lost her face.
32:58She never lost her face.
32:59She never lost her face.
33:06She never lost her face.
Comments